Feb 15
لودھراں کے نتائج کے اثرات و اسباق
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
لودھراں کے ضمنی انتخاب میں نے پی ٹی آئی کے امیدوار کی ہار کے ساتھ بعض دیگر نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ چار سال سے ملک میں احتجاجی اور دھرنوں کی سیاست کرنے والی جماعت کے اہم ترین رکن قومی اسمبلی جہانگیر ترین کی عدلیہ سے نااہلی کے بعد پی ٹی آئی نے ان کے بیٹے علی ترین کو ضمنی انتخاب میں ٹکٹ دی۔ لیکن وہ زیر عتاب نواز لیگ کے امیدوار اقبال شاہ کے ہاتھوں ہار گئے۔ انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات اور بعد میں اپناما اسکینڈل پر مسلسل احتجاج کیا جاتا رہا۔ بعد میں عدلیہ میاں نواز شریف کو عدلیہ نے نااہل قرار دے کر ہٹادیا۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کو اب بھی احتساب مقدمے کا سامنا ہے۔ جبکہ پارٹی کے اندر بھی گروہ بندی بھی سامنے آئی ہے۔
ان تمام حالات و واقعات سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ عمران خان نے ملک کے بڑے اور فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرنے والے صوبے میں اکثریت اور مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ ضمنی الیکشن کے نتائج کچھ اور بتاتے ہیں، وہ یہ کہ تمام واقعات نے پنجاب میں نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ کردیا ہے۔
عموما ضمنی انتخابات سیاسی میدان میں کسی بڑی تبدیلی کا اشاریہ نہیں مانے جاتے۔ لیکن لودھراں کا معاملہ ملک میں موجود صورتحال کی وجہ سے اہم ہے اس کے نتائج ایک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دیکھا جائے ، حالیہ اسمبلیوں کی آئینی مدت کے دوران یہ پہلی بار نہیں ہوا۔اس مدت میں جتنے ضمنی الیکشن ہوئے ان میں پی ٹی آئی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ۔پشاور کی نشست اے این پی نے چھین لی۔میانوالی کا حلقہ نواز لیگ نے چھین لیا۔جھنگ ،نارووال اور چکوال کی میں صوبائی نشستیں بھی نواز لیگ نے جیت لیں۔ یہی صورتحال ایبٹ آباد کی صوبائی نشست پر نظر آئی۔ لاہور کے حلقہ این اے 120 پر بڑی زور آزمائی ہوئی۔ لیکن کلثوم نواز جیت گئیں۔
اس سے تجزیہ نگار یہی نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ عمران خان کا بیانیہ ہار رہا ہے اور نواز شریف کا بیانیہ جیت رہا ہے۔
ایک بحران ملک کے اندر ہے، دوسرا بحران نواز لیگ کی پارٹی کے اندر بھی ہے۔ ایسے میں نواز لیگ کی جیت کے کئی پہلو اور کئی معنی ہیں۔ ان کے مطالع سے ملکی صورتحال کو سمجھنے اور آنے والے وقت میں کیا ہونے جارہا ہے اس کا اندازیو ¿ہ کرنے میں مددملتی ہے۔ پہلے نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی مہم کے دوران بڑے بڑے جلسوں اور ان کے سخت موقف کے بعد ضمنی ناتخاب نے یہ دکھایا کہ تمام الزامات، عدالتی فیصلوں، یہاں تک کہ سیاسی و غیرسیاسی حلقوں کے شدید دباﺅ کے باوجود نواز لیگ نہیں ہار سکی۔ بلکہ اس کی مقبولیت بڑھی ہے۔ ورنہ لودھراں کی نشست پر جہاگیر ترین گزشتہ مرتبہ چالیس ہزار ووٹوں کی اکثریت سے جیتے تھے۔ لیکن اس مرتبہ ان کے بیٹے تقریبا 27 ہزار ووٹوں سے ہار گئے۔ دوسری چیز یہ بھی سامنے آئی کہ پیپلزپارٹی تمام تر کوششوں اور زرداری صاحب کی کارگری کے باوجود اپنے گراف میں اضافہ نہیں کر سکی۔ بلکہ پہلے کے مقابلے میں مزید کم آئی ہے۔ پیپلزپارٹی کو ان اتخابات میں تیسری پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔ اتنی بڑی پارٹی کو اتنے کم ووٹ پڑنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پنجاب کا سیاسی موڈ تبدیل نہیں ہوا ہے۔ پنجاب اپنی لیڈرشپ نہ عمران خان کو اور نہ پیپلزپارٹی کو دینے کے لئے تیار ہے۔
لودھران کی ضمنی الیکشن میں نہ نواز شریف اور نہ ہی شہباز یا مریم اور حمزہ شریف نے مہم چلائی۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور دیگر رہنما ﺅں نے حلقہ کا دورہ کیا۔ نواز شریف کے پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہونے والے جلسوں کا عکس اس مہم پر پڑتا رہا۔ جہاں پر وہ یہ کہتے رہے کہ انہیں نااہل قرار دینا غلط ہے۔ یہ فیصلے اور قدامات عوام کی رائے اور منتخب نمائندوں کے خلاف ہیں۔ ان کے اور انکی پارٹی کے خلاف جو عدلیہ میں یا اس سے باہر ہو رہا ہے، وہ سب کچھ اس طرح سے نہیں ہے جس طرح سے پیش کیا جارہا ہے۔ یوں نواز شریف کے بڑے بڑے جلسے ہوئے اور لوگوں نے ان کی پارٹی کو ووٹ بھی ڈالے۔ اس سے تجزیہ نگار یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ پنجاب نواز شریف کے موقف کو صحیح سمجھتا ہے اور ان پر لگائے جاتے والے الزامات اور کے خلاف اقدامات کو غلط سمجھتا ہے۔ اس کی یہ بھی معنی نکلتی ہیں کہ پنجاب ابھی تک نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہے۔
منردجہ بالا ایک صورتحال ہے۔ دوسری صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف احتساب کے مقدمات، توہین عدالت ، نااہلی کی مدت کا تعین کرنے کےاور نااہل قرار دیئے جانے والا شخص پارٹی کا سربراہ ہو سکتا ہے کہ نہیں جیسے اہم معاملات عدالت میں زیر سماعت ہیں ۔ یہ تمام معاملات آخری مرحلے میں ہیں۔ اس کا اندازہ چیف جسٹس کے تازہ ریمارکس سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگرفیصلہ نوازشریف کیخلاف آیاتوان کی طرف سے جاری کئے گئے سینیٹ ٹکٹوں کاکیابنے گا؟ نواز شریف کے قریبی حلقے بتاتے ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سزا لگنے میں باقی چند ہفتوں کا فاصلہ ہے۔ تجزیہ نگار اور خود نواز شریف بھی سمجھتے ہیں کہ عدلیہ میں انہیں کوئی رلیف یا سہولت ملنے کی امید نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عدالت میں نااہلی کی مدت کی درخواست میں فریق بننے سے انکار کردیا ہے۔
حالیہ ضمنی انتخابات ایسے موقع پر منعقد ہوئے ہیں جب مذہبی کارڈ نواز شریف اور ان کی پارٹی کی حکومت کے خلاف بھرپور طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔ اگرچہ پارٹی اور شہباز شریف کے بعض موقعوں پر مصلحت پنسدی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن صوبے میں مذہبی سیاست کا رنگ برقرار رہا۔ لیکن یہ مذہبی رنگ نواز شریف کے خلاف ووٹ میں تبدیل نہیں ہو سکا۔ یہ نئی بات لگتی ہے۔ کیونکہ ماضی میں مذہبی ووٹ نواز شریف کی انتخابی جیت میں ایک اہم جز رہا ہے اور اب بھی یہی سمجھا جارہا تھا کہ اگر نواز شریف اس ووٹ سے دور ہو جاتے ہیں یا یہ ووٹ ان سے الگ ہو جاتا ہے تو ان کی پارٹی کی جیت مشکوک ہو جائے گی۔اس مرتبہ ان دو میں سے کوئی ایک صورت ہو سکتی ہے کہ انہوں نے شاید ایسے ووٹ کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا ہے جو مذہبی رنگ کا نہیں تھا، اور یہ بھی کہ مذہبی ووٹ ان سے دور نہیں جاسکا۔
عملی طور پر عدالتی فیصلے اور ان کے خالف کئے گئے اقدامات نواز شریف کی مقبولیت کو کم نہیں کر سکتے ہیں۔ بلکہ اس مقبولیت میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔ اگر عدالتوں میں زیر سماعت باقی معاملات بھی ان کے خلاف جاتے ہیں تو حالیہ اتھمیٹکس کے مطابق عوام میں ان کی مقبولیت کو نہ صرف کم نہیں کریں گے بلکہ اضافے کا باعث بنیں گے۔
نواز لیگ اور اس کی حکومت کے حوالے سے ایک اور واقعہ بھی سمانے آیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ اگر راجا ظفرالھق کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کی گئی تو وزیر اعظم شہاد خاقان عباسی اور دیگر متعلقہ وزراءکو توہین عدالت کے نوٹس جاری کئے جائیں گے۔ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی نشاندہی کے بعد بعض مذہبی جماعتوں نے گزشتہ نومبر میں فیض آباد چوک پر دھرنا دیا تھا۔ یہ دھرنا وزیر قانون زاہد ھامد کے استعیفا کے بعد ختم ہوا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے مطابق حلف نامے میں ترمیم حساس مذہبی معاملہ ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر توہین عدالت کے نوٹس جاری ہوئے تو وزیراعظم اور کم از کم تین اہم وزراءجو نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں وہ اس کی زد میں آئیں گے۔ اس میں دو اہم شخصیات وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور راجا ظفرالحق بھی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی اور راجا ظفرالحق میاں نواز شریف کے اعتماد کے ساتھی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی ان کی جگہ پر وزیراعظم ہیں اور خیال ہے کہ آئندہ وقت میں نواز شریف کی غیر موجودگی میں وہی وزیراعظم رہیں گے۔ جبکہ پارٹی کی صدارت اور وزیراعظم کے لئے شہباز شریف نام آگے بڑھایا جاتا رہا ہے۔ لیکن مریم نواز شریف کے سیاسی میدان میں متحرک کردار اور نواز شریف کی جانب سے محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کرنے کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف کو سزا لگنے یا ان کی طویل مدت کی نااہلی اور پارٹی عہدہ نہ رہنے کی صورت میں شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لئے شاہد کاقان عباسی اور پارٹی کی صدارت کے لئے راجا ظفرالحق جیسے مضبوط امیدوار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ عدالتی فیصلے کب سامنے آتے ہیں اور پارٹی کے اندر کیس یاست میں جو بل پڑا ہے اسکو پارٹی قیادت کس طرح سے سلجھاتی ہے۔
No comments:
Post a Comment