Jan 29, 2018
آئینی نسخہ ایجاد
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
طاہر القادری تو اب پارلیمانی سیاست کے کھلاڑی نہیں رہے۔ خبر ہے کہ علامہ طاہر القادری نے ماڈل ٹاﺅن واقعہ پر اقدام کے لئے احتجاجی سیاست کو خیرباد کہہ کر قانون کا راستہ اختیار کیا ہے۔ا س ضمن میں انہوں تمام بوجھ چیف جسٹس آف پاکستان پر ڈال دیا ہے کہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں۔ وہ شاید نواز شریف کی جانب سے عدلیہ کے بارے میں جارحانہ رویے کا فائدہ اٹھانا چاہ ر ہے ہے ہیں۔ ویسے بھی 17 اگتس کا لاہور شو کئی حوالوں سے کامیاب نہیں ہوسکا۔ اول یہ کہ جلسے میں بندے کم آئے۔ دوسرے یہ کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے اس کو صرف علامہ کا ہی شو قرار دیا اور اس کو کامیاب کرانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ ان دونوں پارٹیوں نے علامہ سے یکجہتی کا اظہارتو کیا لیکن اپنا پورا وزن ان کے پلڑے میں نہیں ڈالا۔ مزید یہ کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے دور کھڑی رہی۔ عمران خان اور آصف علی زرداری کا طاہر القادری کے کنٹینر تک تو لے آئے لیکن دونوں کے درمیان تلخی ختم نہیں ہوسکی۔
پاکستان میں مختلف نسخے آزمائے جاتے رہے۔ لیکن کوئی بھی نسخہ کارآمد ثابت نہیں ہوا۔ ایوب خان نے مارشل لاء، بنیادی جمہوریتیں آزمائیں۔ جنرل ضیاءنے مارشل لاءاور غیرجماعتی انتخابات کا نسخہ استعمال کیا۔ مشرف نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو ایک طرف رکھ کر تجربہ کیا۔ دلچسپ امر ہے کہ مارشل لاءلگانے والوں کی کیمیا گری میں بلدیاتی انتخابات بھی شامل تھے۔ ان تمام نسخوں میں عوام کی شرکت و شمولیت خال خال ہی رہی۔ جب جمہوریت آئی تو عوام کی سیاسی شرکت تو ہوئی لیکن آئین کی حکمرانی اور اچھی حکمران کا فقدان رہا۔ سیاسی جماعتیں وہ غیر ساسی قتوں کا آلہ کار رہیں۔ یوںملک کو ایک سیاسی اور جمہوری نظام دینے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کا حصہ رہیں۔ نتیجے میں عوام کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔
اب حالات چکھ اور عندیہ دے رہے ہیں نواز شریف کو نااہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا۔ لیکن نواز لیگ کی حکومت قائم ہے۔ بلوچستان میں وزیراعلیٰ تبدیل ہوا لیکن اسمبلی قائم رکھی گئی۔ اور نیا وزیراعلیٰ منتخب کر لیا گیا۔مقتدرہ حلقوں نے ملک کو آئینی نسخے پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔یعنی جمہوریت کا تسلسل بھی جاری رکھا جائے اور منتخب نمائندوں اور ایوانوں پر بھی آئین اور قانون کی رٹ قائم کی جائے۔ فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور اور چیف جسٹس کے بیانات سے لگتا ہے کہ اب مقتدرہ حلقوں میں خاموشی ہے۔آرمی چیف سینیٹ میں گئے ۔چیف جسٹس کا ماننا ہے کہ جمہوریت کے تسلسل اور گڈ گورننس اور آئین کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ جمہوریت کا تسلسل، شفاف احتساب، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ، کرپشن کا خاتمہ اب ایجنڈا پر ہیں۔
نواز شریف اگر سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو احتساب کے پنجے سے باہر نکل آئیں گے۔ ڈرایا جارہا ہے کہ اگر نواز شریف نے سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلی تو وہ عدلیہ اور فوج پر بھی اپنی گرفت مضبوط کر لیں گے۔ اس ضمن میں ججز اور جرنیلوں کے احتساب کے معاملہ زیر بحث رہا ہے اور ابھی تک کہیں ایجنڈے پر ہے۔یہی وجہ ہے کہ عدلیہ اپنے بارے میں عوام میں موجود اپنا امیج بہتر بنانا چاہتی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے عدالتی حوالے سے سرگرمی دکھائی جارہی ہے۔ صرف نواز شریف اپنے حلقہ انتخاب سے رجوع نہیں کر رہے ہیں، بلکہ عدلیہ بھی اپنی صفوں کو بہتر بنانے کی طرف جارہی ہے۔ چیف جسٹس اآف پاکستان چیف جسٹس ثاقب نثار نے مقدمات کے جلد نمٹانے اور جلد انصاف دلانے کے لئے صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور دیگر متعلقین سے ا 15روز میں ٹھوس تجاویز مانگی ہیں۔ تیز رفتار اور سستے انصاف کی فراہمی کے لئے تنازعات کے حل کا متبادل طریقہ متعارف کرایا جارہا ہے۔ لاءاینڈ جسٹس کمیشن جس کا اجلاس گزشتہ جمعرات کو ہوا، ایک ماہ کے اندر اس کا دورباہ اجلاس تھا۔ چیف جسٹس نے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا ہے تاکہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر بننے والی رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔ لاءاینڈ جسٹس کمیشن اور قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کو تیز اور سستے انصاف کی فراہمی کے لئے متحرک کیا جارہا ہے۔ عدلیہ کے اندر خامیوں کو دور کرنے کے علاوہ عدلیہ، حکومت اور پارلیمنٹ پر بھی عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے موجودہ قوانین میں ترامیم پر بھی زور دے گی۔ چیف جسٹس نے حال ہی میں ججوں اور وکلاءسے خطاب کا سلسلہ شروع کیا ہے انہوں نے حال ہی میں ججز کے قواعد کار میں نئی دفعات متعارف کرانے کی جانب بھی اشارہ کیا ۔
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں نواز شریف کا عدلیہ کی طرف جارحانہ رویہ برقرار ہے بلکہ اس میں روز بروز تیزی آتی جارہی ہے۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ” وہ “کہتے ہیں کہ نواز شریف کو پارٹی صدارت سے بھی ہٹا دو، میں پوچھتا ہوں پارلیمنٹ نے قانون بنایا ہے، وہ کس طرح اس قانون کو ختم کر سکتے ہیں؟ اگر مجھے پارٹی صدارت سے ہٹایا تو پھر قوم خود نوٹس لے گی۔ جڑانوالا میں انہوں نے آئین کی شق 62ون ایف کی تشریح کے حوالے سے قائم سپریم کورٹ کے نئے بینچ کی تشکیل پر بے پرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نااہلی ایک دن کےلئے ہو یا عمر بھر کی عوام سے رشتہ کوئی نہیں توڑسکتا۔ تحریک عدل اب رکنے والی نہیں ۔اس تحریک سے سستا اور فوری انصاف یقینی بنائیں گے۔ یعنی عدلیہ کے بارے میں اصلاحات نواز شریف کے ایجنڈا پر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرمجھے پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا توقوم خودنوٹس لے گی ۔ اگلا الیکشن میری نااہلی کے خلاف ریفرنڈم ہوگا۔ نواز شریف نے عوام سے رجوع کرتے ہوئے انتخابی مہم شروع کر دی ہے ۔ ہم ایسا نیا پاکستان بنائیں گے جہاں لوگوں کو باعزت روز گار ملے گا، ر، توانائی کا بحران قصہ پارینہ بنے گا۔پاکستان کے ہر اس شخص کو اپنا گھر اور ذاتی چھت دیں گے ۔یہ وہ نعرہ ہے جس کے تحت ذوالفقار علی بھٹو نے 70 ع کا الیکشن جیتا تھا۔
عدلیہ اور نواز شریف کی سرگرمیوں کے پیش نظر یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اب صورتحال کچھ اس طرح کی بن رہی ہے۔اب صف بندی اس طرح ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان قربت کے امکانات کم ہیں۔ نواز لیگ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی میں ہے اور پیپلزپارٹی کی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ قربت۔ آرائی پر تلی ہوئی ہے ۔ عمران خان اسٹبلشمنٹ کے قریب ہونے کے باوجود آصف علی زرداری کے ساتھ بھی کھڑے ہونے کو تیار نہیں۔ اس ضمن میں علامہ قادری کی کوششیں ثمر نہیں دے سکیں۔ تحریک انصاف سیاسی تنہائی میں چلی گئی ہے۔ ایسا ہی دھچکا علامہ قادری کو پہنچا کہ یہی اب سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر سیاست نہیں ہوسکتی لہٰذ انہوں نے احتجاج کے بجائے قانونی راستے پر جانے کا اعلان کر دیا ہے۔۔ سب سے بڑھ کر تین چیزیں سامنے آئی ہیں۔ ۱) اب ملک میں آئینی نسخہ چلے گا۔ ۲) سینیٹ اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں کوئی شبہ نہیں رہا۔ ۳) فوری انتخابات کے مطالبہ عملا ختم ہو گیا۔ کیونکہ اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔
No comments:
Post a Comment