Thursday, March 29, 2018

میڈیا کا مسئلہ اور صحافت کی آزادی

Feb 1
میڈیا کا مسئلہ اور صحافت کی آزادی
سہیل سانگی 
زینب کیس واقعی رنگ لایا۔ اس نے پاکستان اور اس کے معاشرے کے ہر شعبے، ہر ادارے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ قانون بنانے سے لیکر قانون پر عمل درآمد کرانے تک، میڈیا سے لیکر عدلیہ تک سب ادارے اپنا جائز لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سب ادارے کتنا جائزہ لیکر خود کو ٹھیک کرتے ہیں؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس کیس کی تحقیقات سے متعلق بعض رپورٹس میں ڈس انفارمیشن کی وجہ سے ملک میں ہونے والی تباہی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس معاملے میں حکومت کا کردار سب سے اہم ہے کیونکہ نہ صرف وہ سب معاملات میں ریگولیٹری اتھارٹی ہے بلکہ آخری تجزیہ میں وہی ذمہ دار ہے۔ حکومت نے اس ڈس انفارمیشن کو کیوں نہیں روکا؟ اس میں خود حکومت کا کتنا کردار ہے؟ ایسا موحول کیوں بننے دیا؟ 
پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ لوگوں کی معلومات تک رسائی اگرچہ تاحل ایک سوال ہے لیکن لوگوں کی میڈیا تک رسائی ایک حقیقت بہت بڑی حقیقت ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ صحیح معنوں میں میڈیا کی معلومات تک رسائی نہیں ہے۔ یہ دو سوال اپنی جگہ پر میڈیا بہرحال اختیار و اقتدار بلکہ ریاست کاایک مضبوط اورطاقت ورج ±زبن چکاہے۔اس کا اظہار اقتدار کے ایوانوں کے شہروں سے لیکر چھوٹے شہروں تک ملتا ہے۔ میڈیا ایک طاقت ہے اس کو متعلقہ لوگ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت اورمختلف لابیاں میڈیا کو اپنے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتاہے یہی وجہ ہے کہ میڈیا کوئی متعدد اندرونی خواہ بیرونی مشکلات اوردباﺅکاسامنا ہے۔میڈیا کے ایک طاقت بننے کے بہت سے مثبت پہلو ہیں لیکن اس کے منفی پہلو بھی ہیں۔ میڈیا بطور پیشہ نہ بننے ، تربیت اور تعلیم کی کمی اور پیسے کی ہوس نے اس امر کو جنم دیا کہ ریٹنگ، جعلی خبریں معمول بن گئی ہیں۔ پیشہ ورانہ اقدار اور صحافتی آداب ناپید ہو گئے ہیں۔ صورتحال یہ بھی ہے کہصحافت میں اتنے تربیت یافتہ لوگ ہی نہیں جتنے چینلز ہیں۔ نتیجے میں کئی چینلز میں یہ صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ سات روز تک 24 گھنٹے کا معیاری مواد دے سکیں۔ 
میڈیا کو صنعت یا کارپوریٹ سیکٹر کے طور پر تو لیا جاتا ہے لیکن اس کے دو پہلوﺅں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ایک یہ کہ میڈیا صرف صنعت نہیں یہ ایک پروفیشن ہے، جس کے اپنے لوازمات، آداب اور ضوابط ہیں۔ دوئم یہ کہ یہ کونسا کارپوریٹ سیکٹر ہے جو خود تو کما رہا ہے لیکن ملازمین تنخوہاوں و دیگر سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔ معاملہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا ہو گیا ہے۔ 
 میڈیا کی بنیادی ذمہ داری حقیقی معلومات کی فراہمی ہے اور حقائق پر مبنی خبریں دیناہے۔ لہٰذاسچائی صحافت کی بنیادہے۔ لیکن ہم جو صورتحال ہمیں درپیش ہے وہ ہے میڈیا کی جانب سے ایجنڈا سازی ۔ حالانکہ ایجنڈا سازی میڈیا کا کام نہیں۔ 
میڈیا میں کام کرنے والوے اور اس کا قریب سے مشاہدہ کرنے والے جانتے ہیں کہ ریٹنگ میڈیا کا اہم مقصد بن گیا۔ لہٰذا اینکرز اور ڈائریکٹرنیوزاور پروگرامنگ مستقل دباﺅ میں رہتے ہیں۔ صھافت کی کتابوں کواہ عملی طور پر دنیا بھر میں بزنیس یعنی اشتہارات لے آناکسی صحافی کاکام نہیں ہے۔ ا ±ن کا کام ٰحقائق پرمبنی خبریں جمع کرنا اور پیش کرنا ہے۔یہی اصول اینکرپرسن پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ ایک اینکرکاکام حقائق پر مبنی مواد پر مشتمل پروگرام کرناہے۔ مارکیٹنگ یا اشتہار ان کا کام نہیں۔ اور نہ ہی ان کی اس طرح کی تربیت ہے۔لیکن سوئی ریٹنگ پر اٹک جانے کی وجہ سے ’ سامعین کومنفی‘ اور غلط معلومات پر مبنی خبروں اور شوز برداشت کرنے پڑتے ہیںاوران کے اثرات بھی بھگتنے پڑتے ہیں۔ لہٰذا صورتحال یہ بن گئی ہے کہ خبرویں جمع کرنے یا اینکر پرسن کے طور پر یا تو غیر صحافی لوگ آگئے ہیں یا پھر یہ کام کرنے والوں سے یہ کام لیا جارہا ہے۔ یہاں سے ایک غیر پیشہ ورانہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ جس نے معاشرے اور ملک کے تمام شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایک مرتبی اگر یہ دباﺅ ختم ہو جاتا تو پھر خبروں کو مسالہ لگانے اور ان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا کام ختم ہو جائے گا۔ 
 دنیا بھر میڈیا کے ادارے اور صحافی اپنے قاری اور سامعین بڑھانے کے لئے کوشان رہتے ہیں لیکن وہ صحافتی اصول اور آداب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ 
صحافت ایک پروفیشن کے طور پر ختم ہو جانے کے بعد پاکستان میں میڈیا صحافیوں کے ہاتھ میں نہیں۔ اگرچہ یورپ اور دیگر ممالک میں میڈیا صنعت ہے لیکن وہاں اسی پروفیشنل حیثیت بھی مسلمہ ہے۔ غیر پیشہ ورانہ صورتحال کی وجہ سے نیوز اور ویوز ( خبر اور موقف) میں تمیز ختم ہو گئی ہے۔ ہم سیاتدانوں کی ٹاک شوز میں پگڑیاں اچھالتے ہیں اور اسی کو میڈیا کی آزادی قرا دیتے ہیں اور عام لوں کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ میڈیا آزاد ہے۔ 
ایسے ماحول کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے میڈیا سچ اور حقائق عوام تک پہنچا سکے۔ لیکن جب حکومت خود ہی غلط بیانی اور ”ڈس انفرمیشن “ کی مرتکب ہو تو پھر کیا کیا جائے؟ 
 فنڈ نگ کے حوالے سے پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کے پاس کڑی چھان بین سے گزر رہا ہے۔ عالمی ینک نے حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے اعدادوشمار کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ چند سال پہلے وزیر خزانہ کی ترقی کے اعداد وشامر غلط دینے پر پکڑ ہوئی۔ اکثر اوقات یہ امر بھی سمانے آیا ہے کہ حکومت اور اس کے نمائندے کہتے کچھ ہیں اور دراصل ہوتا ہے اور ہے یا نتیجہ کچھ اور نکلتا ہے۔ 
مارشل لاﺅں اور غیر جمہوری رویوں کی وجہ سے پاکستان ایک طویل مدت تک سنسرشپ، پریس ایڈوائس اور معلومات کی عام فراہمی سے متعلق دیگر قدغنوں سے گزرا ہے۔دیکھا جائے تو اپکستان میں سنسرشپ کے دور کے خاتمے کو قبول نہیں کیا۔ جمہوریت اور اچھی حکمرانی کے لئے شفافیت کو بہترین حکمت عملی کے طور پر قبول نہیں کیا ۔ ہامری حکومتیں اور اسٹبلشمنٹ خبروں کو منینیج کرنے اور خفیہ رکھنے کی عادی رہی ہے۔ اس کا یہ شوق ابھی تک جاری ہے۔ ہم اوپن نیس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ 
سچی بات تو یہ ہے کہ عملا لوگوں کو حقیقی معنوں میں معلومات تک رسائی حاصل نہیں۔ معلومات تک رسائی کے قوانین صحیح نہیں اور اگر کچھ بنے ہوئے ہیں تو ان پر عمل درآمد کا مکینزم کمزور ہونے کی وجہ سے عمل درآمد خال خال ہے۔ پنجاب حکومت معلومات تک رسائی سے متعلق کمیشن سے اتنا نالاں ہوا کہ اس نے اس کمیشن کی دوبارہ تشکیل ہی نہیں دیا۔ 
ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کو معلومات سے محروم رکھنا حکومت کے اہم فارئض میں شامل ہو گیا ہے۔ حالیہ دور حکومت میں ایک وزیر کو اس وجہ سے ہٹایا گیا کہ وہ ایک خبر کی اشاعت کو روک نہیں سکا تھا۔ انفرمیشن کو کنٹرول کرنے اور ڈس انفرمیشن کے لئے صرف روایتی قوانین کا استعمال ہی نہیں ہوتا، بلکہ بعض صحافیوں کو براہ راست یا بلواسطہ طور پر خرید نے کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ لفافہ جرنلزم اس کی ایک شکل ہے۔ جو ضیاءدور میں عروج پر رہی۔ لیکن بعد میں کوئی جمہوری حکومت بھی اسکو ختم نہ کرسکی۔ جب غلط خبروں پر اتنی سرمایہ کاری کی جاتی ہو، ریٹنگ کا معالہ بھی سامنے ہو ایسے میں سچی خبر ایک نایاب چیز بن جاتی ہے۔ ان سب چیزوں کو کنٹرول کئے بغیر صحافیوں صحیح راہ پر لیا جاسکتا۔ 
صحافیوں کی معلومات تک رسائی اور اس کے اظہار کے حق کا احترام کیا جائے ۔ ان پر اعتماد کیا جائے کہ وہ اپنے ضابطہ اخلاق پر عمل کریں۔ باہر سے دیا ہوا ضابطہ اخلاق عملی طور پر نہیں چل سکتا۔ جسٹس ناصر اسلم زاہد کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمدحکومت اور ٹی وی چینل مالکان کی مدد کر سکتی ہے۔ اب یہ یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ڈس انفرمیشن کے نظام کو دفنا دیا جائے۔ کیونکہ سچ اور حقائق جانے بغیر لوگ اپنا جمہوری حق کا استعمال بھی نہیں کر سکتے۔ 

No comments:

Post a Comment