رضا ربانی بطور چہئرمین سینیٹ کیوں قبول نہیں؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری جو دراصل پارٹی کے فیصلے خود کرتے ہیں ان کو رضا ربانی بطور چیرمین قبول نہیں۔زرداری صاھب کو فرحت اللہ بابر بی بطور پارٹی کے ترجمان اب قبول نہیں انہیں سینیٹ میں گزشتہ روز کی تقریر کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رضا ربانی اور زرداری صاحب کے درمیان اختلافات کی کہانی پرانی ہے۔ بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ وہ پارٹی اجلاسوں اور جلسوں میں نہیں آتے تھے۔ میاں رضا ربانی نے و ¿مریکی صدر ٹرم پ کو ٹوئٹ کے کر کے جواب دیا تھا ۔ بلاول ہاﺅس سے وضاحت جاری کرنی پڑی تھی۔ لیکن اندرونی ذرائع بتاتے ہین کہ اور بھی کئی مواقع پر رضا رابنی کی لائن پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے مختلف رہی۔ وہ جمہوری اداروں اور جمہوری تسلسل کے حق میں رہے۔ یوں یہ اختلافات بڑھتے گئے۔ صورتحال یہ آکر بنی کہ زرداری نے رضا ربانی کو اس مرتبہ سینیٹ کا ٹکٹ بھی دینے سے انکار کردیا تھا۔ بعد میں سید خورشید شاہ اور بلاول بھٹو کی مداخلت پر انہیں پارٹی ٹکٹ دے دی گئی۔ رضا ربانی پارٹی کے پرانے کارکن ہیں۔ ان کاترقی پسندی اور روشن خیالی کے نظریات سے تعلق ہے۔ ان کے کنٹری بیوشن میں اٹھارویں ترمیم کے علاوہ پاکستان میں مشرف دور کے بعد جمہوری عمل کو جاری رکھنے اور ڈی ریل نہ ہونے دینے میں بہت اہم رول ہے۔ وہ ہمیشہ صوبائی حقوق کے حامی رہے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کا یہ نقطہ نظر رہا ہے کہ جہموری عمل جاری رہے گا، اتنے منتخب ایوان مضبوط ہونگے۔
سینیٹ کے انتخابات ملک کے ایک ایسے سیاسی کلچر کو سامنے لائے ہیں جس سے ندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں کیا ہونے جارہا ہے۔ اس بری طرح سے اور اس بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ ہوئی کہ لوگوں کا اعتماد منتخب اداروں سے اٹھ جائے۔
یہ درست ہے کہ اراکین اسمبلی کی خرید وفروخت کا کاروبار صرف سینیٹ کے انتخابابت تک ہی محدود نہیں۔ یہ کاروبار حکومتیں بنانے اور پارٹی ٹکٹ دینے کے وقت بھہو ¿ی ہوتا ہے جب بااثر شخصیات اس شرط پر بڑی پارٹیوں میں شمولیت کری ہیں کہ انہیں وزیر یا مشیر بنایا جائے گا۔ یہ سودے بازی الیکشن سے پہلے کی ہے۔ بعد میں یہ سودے بازی اور کاروبار کسی ایک پارٹی کے اکثریت حاصل نہ کرنے کی صورت میں بھی ہوتی ہے۔ ان دو صورتوں کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ بہر حال ہارس ٹریڈنگ اپکستان کی ہر الیکشن کا خاصہ ہے۔
اب ووٹ کے بیچنے کا کام کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ جب اسمبلی اراکین بک رہے ہوں تو کرپشن کے خلاف واویلا فضول سی بات لگتیہے۔ وہ لوگ جو حکومت اور ریاست میں اختیار رکھتے ہیں۔ چاہے کوئی بھی پارٹی ووٹ خرید کرے اس رقم کی ادائیگی بلاآخر عوام سے ہونی ہے۔ کوئی شخص ی پارٹی ذاتی طور پر اتنے پیسے کیوں خرچ کرے گی۔ یعنی رقومات اور عہدے پر کشش بن جانتے ہیں کہ اس چمک کی کوئی مزاحمت نہیں کر سکتا۔ حالیہ سینیٹ کے انتخابات میں ایم پی ایز کی قیمت اس وجہ سے بھی بڑھی کہ عام انتخابات میں چند ماہ باقی ہیں اور اراکین اسمبلی کو یقین نہیں کہ وہ کہ نئے ا انتخابات میں جیت بھی پائیں گے یا نہیں؟ دوسری وجہ سینیٹ کے چیئرمین کا عدہ ہے۔ یہ عہدہ ملک کے حالیہ بحران کی وجہ سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر حکمران جماعت کسی طور پر یہ عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آئندہ وقت میں اس کو بعض اہم قوانین اور آئینی ترامیم منظور کرانے میں سہولت ہوگی۔ اگر عام حالات ہوتے تو اس طرح ایم پی ایز کی اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ نہ ہوتا۔
ملک کی دو بڑی پارٹیوں نے جو امیدوار نامزدکئے ہیں اس سے ان کی طرز حکمرانی اور ویزن کا پتہ چلتا ہے ۔ سیاسی رہنماﺅں کو یہ بات ماننی پڑے گی کہ کسی اور شعبے کے مقابلے میں ان کی صفوں میں کرپشن زیادہ ہے۔ اس میں یہ بات مزید اضافہ کردیتی ہے کہ وہ عوام کے اعتماد کو دھوکہ دے رہے ہیں۔اس صورتحال میں چاہے نعرے کچھ بھی لگائیں۔ لیکن عملا اس سے سیاسیدانوںہاتھوں ہی سویلین حکمرانی اور جمہوریت کا بیانیہ کمزور ہوتا ہے۔
پیپلزپارٹی ملک کی بڑی نظریاتی اور جمہوری پارٹی ہونے کا دعوا کرتی ہے۔ اس میں اب صورتحال یہ بن رہی ہے کہ اصول پسند اور نظریاتی لوگ اقلیت میں تبدیل ہو چکے ہیں اکثریت ان لوگوں کی سامنے آرہی ہے جو کاروباری ہیں ۔ جن کا پارٹی کے نظریے، اصول پسندی ، جمہوری اداروں اور جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ مفادات کے پیش نظر قتدار کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور بزینس کمپنیوں میں کوئی فرق نہیں نظر آرہا۔ پیپلزپارٹی تھر کی دلت لڑکی کرشنا کولہی کو سینیٹ کی ٹکٹ دے کر ملک خواہ عالمی میڈیا یں واہ واہ تو وصول کرنا چاہتی ہے لیکن رضارابنی کو چیئرمین سینیٹ بنا کر ملکی اداے اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانا نہیں چاہتی۔ کرشنا کولہی کو سینیٹ کی تخٹ دینا اچھا لگتا ہے لیک وہ اس ایوان میں کیا رول دا کرے گی اس کا اندازہ کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔ ہاں یہ بھی عجیب بات ہے کہ کرشنا کے قبیلے خواہ اس طرح کے دیگر پچھڑے ہوئے طبقات کے نجی جیلوں میں بند کرنے والے بھی اس پارٹی میں بیٹھے ہیں۔
گزشتہ مرتبہ راضا رابنی کو چیئرمین بنانے کی تجویز عوامی نشنل پارٹی نے دی تھی۔ لیکن تب حالات مختلف تھے پیپلزپارٹی نے اتحادی ہونے کے ناطے ان کی یہ تجویز قبول بھی کر لی تھی۔ اس مرتبہ چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے یعنی حاصل بزنجو، ڈاکٹر عبدالملاک، اے این پی، محمود خان اچکزئی نے بھی یہ تجویز دی ہے کہ رضا ربانی کو سینیٹ کا چیئرمین منتخب کیا جائے۔ یہ تجویز صرف نواز شریف کی نہیں۔
اس تمام منظر میں دو چیزیں ابھر کر سمنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ دن بدن مضبوط آواز کمزور کی جارہی ہے اور اور کو مزید پیچھے دھکیلا جارہا ہے۔ کہ دوسرا یہ آنے والے وقتوں میں سنینٹ کمزور ہو۔ اور اس کی وہ حیثیت ہو جو ضیا اور مشرف کے زمانے میں تھے۔ یعنی سینیٹ کا ہ کردار نہ رہے جو وہ صرف اس ایوان کو ہی نہیں بلکہ قومی سمبلی کو بھی مظبوط کر رہا تھا۔
No comments:
Post a Comment