Wednesday, March 28, 2018

پیپلزپارٹی کی سیاست اور سندھ

Dec  14
پیپلزپارٹی کی سیاست اور سندھ
 میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ میں پیپلزپارٹی اور اس کی صوبائی حکومت کو نئی صورتحال کا سامنا ہے۔ اس مرتبہ کرپشن کے مقدمات یا وفاق سے تصادم یا اسٹبلشمنٹ سے براہ راست تنازع نہیں بلکہ بعض سیاسی محرکات کا سامنا ہے ۔ وہ ہیں چھوٹے بڑے شہروں میں پینے کے پانی اور نکاسی آب کی صورتحال اور دوسری ہے گنے کا بحران۔ جس نے دیہی معیشت کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ ایک معاملے کا تعلق صوبے کی دیہی آبادی سے ہے اور دوسرے کا تعلق گزشتہ دو سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت اس کے بعض عہدیداروں اور افسران کے خلاف کرپشن کی تحقیقات چلتی رہی اور اس کرپشن کی کہانیاں میڈیامیں آتی رہی۔ بعض معاملات عدالتوں تک بھی پہنچے۔ لیکن اب ان سب معاملات میں فی الحال س خاموشی ہے۔
اس سے پہلے سندھ میں رینجرز کے اختیارات، رینجرز اور ایف آئی اہلکاروں کے کی جانب سے صوبائی محکموں پر چھاپے پڑتے رہے۔ سندھ حکومت احتجاج کرتی رہی۔پیپلزپارٹی ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن کے خلاف بعض مقدمات کی وجہ سے گزشتہ کئی ماہ تک دباﺅ میں تھی ۔سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کی پونے چھ ارب روپے مالیت کی اشتہاری مہم میں کرپشن کا کیس عدلیہ کی حدود سے ”ڈرامائی“ گرفتاری ہوئی۔ گزشتہ دنوں ڈاکٹر عاصم ضمانت پر رہا ہو گئے۔ اور پارٹی عہدے سے استعیفیٰ دینے کے بعد بیرون ملک چلے گئے۔ تین ماہ تک حکومت سندھ اور اے ڈی خواجہ کے درمیان انتظامی و عدالتی جنگ چلتی رہی۔
 بینظیر بھٹو ہاﺅسنگ اسکیم میں میگا کرپشن کی گئی۔ اس اسکیم کے تحت دو مرحلوں میںہر سال چھ ہزار بے گھر افراد کو گھر تعمیر کر نے تھے۔ معاملہ کا وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لیا پھر بات آئی گئی ہو گئی۔ سیاسی اور حکومتی معاملات کے ساتھ ساتھ پارٹی قیادت کے کاروباری معاملات پر بھی چیک رکھا گیا۔ ایک پاور پلانٹ کو گیس کی سپلائی کا معاملہ اٹھا، پھر پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے تین کاروباری پارٹنر پراسرار طور پر لاپتہ ہوئے۔ جنہیں چند ہفتے بعد رہا کیا گیا۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی سندھ کے مطابق ہیپٹائٹس پروگرام، خیرپور سرکٹ ہاﺅس اور اسلام کوٹ ایئر پورٹ کی تعمیر سمیت 240 انکوائریز محکمہ انسداد رشوت ستانی کے پاس ہیں۔ ان الزامات میں 904 افسران ملوث بتائے جاتے ہیں۔
 محکمہ تعلیم اور بلدیات میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ سید قائم علی شاہ کے وزارت اعلیٰ کے دور سے چل رہا تھا۔ یہ معاملہ نئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ حتمی طور پر نمٹا نہ سکے۔ تھر میں پینے کے پانی سے متعلق آر او پلانٹس میں بھی مبینہ کرپشن کی شکایات کی محکمہ جاتی تحقیقات ہوئی تاہم پارٹی کے بعض بااثر افراد کے بیچ میں آنے کی وجہ کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ سندھ میں کرپشن کے بیانیئے کا چرچہ رہا۔ لیکن ٹھوس شکل میں تاحال کوئی چیز سامنے نہیں آئی۔ 
مردم شماری کے عبوری نتائج کے سندھ حکومت کو ایک اور موقعہ فراہم کیا۔صوبائی حکومت خواہ قوم پرست سیاسی جماعتوں کے تحفظات سامنے آگئے۔ لہٰذا صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف جو بیانیہ چل رہا تھا اس میں تبدیلی آئی، اور سیاسی لڑائی کا رخ وفاق اور پنجاب کی طرف ہو گیا۔ 
پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے ساتھ ذرا جارحانہ رویہ اختیار رکھا۔ خاص طور پر صوبے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ، وفاق سے مالیات میں حصہ بطور مطالبے کے مانگا۔ صوبائی اسمبلی نے وفاقی ادارے نیب کے متوازی ادارہ بنانے کا قانون منظور کیا۔ جس میں صوبائی معاملات میں تحقیقات کا اختیار وفاق سے لے لیا گیا تھا۔ لیکن یہ ب معاملہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ لیکن اس سے یہ ضرور ہوا کہ وفاقی ادارے نیب نے ’جارحانہ انداز“ میں سندھ میں کارروائیاں روک دیں۔ 
سینکڑوں ایسے افسران اور اہلکار ہیں جنہوں نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کیا۔ لہٰذاکرپشن کے ذریعے کمائی کے کچھ حصے کی نیب کو ”رضاکارانہ“ ادا کرنے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ کرپشن کرکے ” یوں رضاکارانہ ادائگی“ کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پرعدالت نے برہمی کا بھی اظہار کیا تھا۔ نیب کو کرپشن کے ذریعے ہڑپ کی گئی رقم کی”رضاکارانہ طور“ پرواپسی اور عدلیہ کے نوٹس لینے نے پریشانی پیدا کردی۔ لیکن اس کے باجود پانچ سو کے لگ بھگ افسران مختلف اہلکار و افسران اپنے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ عزیر بلوچ کے اعترافات ایک بار پھر سامنے آئے ۔ اسٹبلشمنٹ ایک وقت میںپیپلزپارٹی یا نواز لیگ کسی ایک پر ہاتھ ڈال سکتی تھی۔ کچھ حالا ایسے پیدا ہوئے، کچھ پارٹی نے اپنے کارڈز ٹھیک کھیلے۔ لہٰذا جب نواز لیگ کے خلاف معاملات چل رہے تھے، پیپلزپارٹی کے خلاف مواد کٹھا کیا گیااور تیاری کی جارہی تھی لیکن کارروائی نہیں کی گئی۔ اب حالات بدل گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ جو الزامات اور تحقیقات ہوئی وہ کسی اور وقت کے لئے اٹھا کے رکھ دی گئی ہے۔ 
 یہ تو تھے الزامات ، مقدمات، تحقیقات کے معاملے۔ لیکن دو اہم معاملات نے سر اٹھایا ہے جس سے پیپلزپارٹی آسانی سے خود کوبری نہیں کر سکتی۔ گنے کی قیمتوں پر کاشتکاروں اور شگرملز کے درمیان تنازع تیز ہو گیا ہے۔ گنے کی خریدری اکتوبر سے شروع ہونی تھی، اس کی تاحال ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد بھی قیمتیں مقرر نہیں کی گئی ہیں۔ نتیجے میں پوری دیہی معیشت تعطل کا شکار ہے۔ صوبے کی دیہی آبادی عموما پیپلزپارٹی کی ووٹر ہے۔ گنے کے بحران کی وجہ سے پارٹی پر منفی اثرات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 
 صوبے میں پینے کے پانی اور صفائی اور ڈرینیج کے ناقص انتظاما ت کا معاملہ جو سپریم کورٹ کے پاس زیر سماعت ہے۔ جہاں عدالتی حکم پر وزیراعلیٰ سندھ بھی حاضر ہو چکے ہیں۔ عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس اقبال کلہوڑو پر مشتمل مسلسل نگرانی کے لئے کمیشن تشکیل دے دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے اور اس کمیشن کی رپورٹ نے سندھ حکومت کو بہت ہی دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا۔یہ معاملہ صوبے کے چھوٹے بڑے شہروں اور رائے عامہ بنانے والے حلقوں میں پیپلزپارٹی کے خلاف ایک بیانیہ اور دلیل کے طور سامنے آیا۔ اس بیانیہ سے صوبائی حکومت جان نہیں چھڑاپارہی تھی۔ یہ سوال ات اٹھائے جارہے ہیں کہ چلیں کرپشن کے الزامات کو مخالفین کی پروپیگنڈہ کہہ کر مسترد کردیں۔ لیکن عوام کو حقیقی معنوں میں کیا ملا۔ ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں اپوزیشن جماعتیں کرپشن کے معاملات اٹھائیں لیکن اس نعرے کو سندھ میں شاید اتنی مقبولیت نہ مل سکے۔ اس کے بجائے عوام کو کیا ملا اور کیا نہیں ملا یہ نعرہ زیادہ مقبولیت حا صل کرسکتا ہے۔ 



No comments:

Post a Comment