Sunday, April 29, 2018

واٹر پالیسی: 1991کے معاہدے کی تنسیخ ہے یا تسلسل؟

Water policy and 1991 water accord 
پانی کا تنازع اور قومی واٹر پالیسی 
واٹر پالیسی: 1991کے معاہدے کی تنسیخ ہے یا تسلسل؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
 وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت منعقدہ مشترکہ مفادات کی قومی کونسل نے واٹر چارٹر کے نام سے قومی پالیسی کی منظوری دیدی ہے۔ طویل عرصے تک زیر بحث اس چارٹر پر چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ نے دستخط کر دیئے ہیں۔۔ دریاءکے آخری سرے پر ہونے کی وجہ سے پانی سے متعلق چھوٹا سا فیصلہ بھی سندھ کے لئے اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ سندھ کی شکایات کو مختصرا یوں بیان کیا جاسکتا ہے: جو معاہدے کئے جاتے ہیں ان پر عمل نہیں ہوتا۔ سمندری پانی کی مداخلت لاکھوں ایکڑ زمین زیر آب آجاتی ہے۔اس کے لئے ڈاﺅن اسٹریم کوٹری پانی نہیں دیا جاتا۔ پنجاب پانی کی کمی کی صورت میں اس خسارے میں حصیدار نہیں بنتا۔ سندھ کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے صوبے میں ماحولیاتی اور معاشی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق میثاق میں سندھ کی بعض اہم مختلف تجاویز منظور کی گئی ہیں ۔پالیسی میں 1991 کے پانی کے معاہدے پر روح کے ساتھ عمل کرنا، سمندر کے پانی کے چڑھاﺅ کو روکنا، اور آخری سرے پر موجود زمینوں کی ماحولیاتی اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے بعد ہی کوئی نیا پانی کا ذخیرہ تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ اس پالیسی میں اتفاق رائے سے بڑے ڈیم تعمیر کرنے کا نقطہ بھی شامل ہے۔ 
زندگی خواہ انسانی ہو یا جانوروں کی یا دیگر حشرات اور پیڑ پودوں کی پانی اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔پپانی صرف پینے اور صحت صفائی کے لئے ہی نہیں بلکہ غلہ اور خوراک پیدا کرنے کے لئے بھی چاہئے۔ پانی کی قلت ملک میں غربت کا بھی تعین کرتی ہے۔ پاکستان میں بارشوں، دریاﺅں کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کے ذخائر ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے بعد پاکستان کو صرف دو دریاﺅں یعنی جہلم اور چناب کا پانی میسر ہے، جبکہ راوی، ستلج اور بیاس کا پانی انڈیا کی مرضی پر ہے۔ صورتحال کچھ ایسی ہے کہ 5 ہزار گلیشر رکھنے ولا شمالی علاقہ جات سے لیکر جنوب کے سخت سخت صحرا تک کوئی بھی اس بحران اور پانی کی شدید قلت سے نہیں بچ سکے گا۔ 
پاکستان کی معیشت خاص طور پر زراعت ایسی ہے جس کو بہت سارا پانی چاہئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پانی کے بحران کی زد میں موجود ملکوں میں پاکستان کا ساتواں نمبر ہے۔ آج کل پاکستان میں 153 ملین فٹ دریائی پانی اور 24 ملین ایکڑ فٹ زیر زمین پانی موجود ہے۔ سال 2025 میں پاسکتان میں 33 ملین ایکڑ فٹ پانی کی قلت کا سامنا پڑے گا۔ 
 سندھ کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ ترقی کی راہ میں خواہمخواہ رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ عملایہ تاثر غلط ہے ۔سندھ نے ہمیشہ ملک کی ترقی کے لے قربانیاں دی ہیں۔ روینیو سے لیکر معدنی وسائل تک سندھ ہی سب سے بڑا حصہ دیتا ہے۔ اصولی بات ہے کہ جو معاہدے کئے گئے ہیں ان پر عمل درآمد کیا جائے۔ اگر وفاق 1991 کے پانی کے معاہدے پر عمل درآمد کراتا کیا سندھ میں پانی کے حوالے سے اتنے خدشات پیدا ہوتے؟ اس معاہدے میں ڈاﺅن اسٹریم کوٹری مقررہ مقدار میں پانی دینے کی شق شامل تھی۔ سندھ مطالبہ کرتا رہا، لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس کے برعکس پنجاب پانی کی شدید قلت کے دوران بھی اپنی مرضی سے پانی لیتا رہا ہے۔ اور ان کینال میں بھی پانی لیتا رہا جو صرف سیلاب کے موسم میں بہائے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ نے حالیہ واٹر پالیسی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور اپنی تجاویز رکھیں۔ 
یہ درست ہے کہ پانی کی وجہ سے پاکستان کے افغانستان اور انڈیا کے ساتھ تنازعات ہیں جن پر بات چیت چل رہی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تنازعات اندرونی طور پر ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ امن کے مطابق پانی کی قلت، قحط، سیلاب اور مقامی سطح پر پانی کی بد انتظامی کی وجہ سے ملک خواہ مکٹلف علاقوں کے درمیان کشیدگی بعض صورتوں میں تنازعات کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ان تنازعات میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے لہٰذا ان معاملات کو سیاسی، معاشی اور ماحولیاتی نقطہ نظر سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ 
پاکستان میں 3.2 کی شرح سے آبادی مین اضافہ وہ رہا ہے۔ آج ہم 200 ملین افراد کی پانی کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔ اگر آبادی میں اضافے کی یہی شرح رہی، 2025 میں ملک کی آبادی دگنی ہو جائے گی۔عالمی حرارت اور سوسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے زیر زمین پانی کا استعمال مسائل میں مزید اضافہ کرے گا۔ ملک 1990 کے عشرے میں پانی کی کمی کے لائین میں تھا، جو 2005 میں پانی کی شدید قلت کے نقطہ پر پہنچ گیا ہے۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ سندھ کے علاقے تھر میں کول کے استعمال کے چکر میں کول کمپنی لاکھوں ملین ایکڑ فٹ پانی رن آف کچھ میں بہا رہی ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسی جگہ پر ہو رہا ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے، اور یہ علاقہ ہر دوسرے تیسرے سال قحط سالی کا شکار ہوتا ہے۔ 
 چاروں صوبوں کی رضامندی سے اب پانی کا نیا میثاق بن گیا ہے ۔لیکن شکوک و شبہات تاحال موجود ہیں۔ اس موقع پر یہ یاد دلانا لازم ہے جن کے بغیر پانی کا تنازع ختم نہیں ہو سکتا۔ سب سے اہم امر کئے گئے معاہدے پر عمل درآمد ہے۔ اس کا حترام ہے۔ جو بھی تحریری معاہدہ ہو اس پر عمل درآمد لازمی ہے۔ 
 اگرچہ میثاق کی مکمل تفصیلات ابھی آنا باقی ہیں ، تاہم حالیہ میثاق میں سندھ کی مقبول رائے عامہ کے برعکس بڑے ڈیموں کا نقطہ بھی شامل ہے۔ سندھ 1991 کے معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کے وعدے کی وجہ سے راضی ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندر کے پانی کو روکنے کے لئے بھی پانی دیا جائے گا۔ اور ماحولیات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ اگر یہ تمام وعدے پورے ہوتے ہیں 1991 کے معاہدے کے مطابق ڈاﺅن اسٹریم کوٹری پانی چھوڑا جاتا ہے،پانی کا کوئی بھی ذخیرہ تمام صوبوں کی رضامندی کے بعد تعمیر کیا جاتا ہے تو اس میں کوئی خرابی نہیں۔ یہاں دو سوالات موجود ہیں پہلا یہ کہ کیا یہ میثاق 1991 کے معاہدے کی تنسیخ ہے یا اس کا تسلسل؟ دوئم یہ ہ میثاق کا بھی 1991 کے معاہدے جیسا ہی حشر ہوتا ہے یا واقعی دل و جان سے اس پر عمل ہوگا؟ یاد رہے کہ سندھ کا پانی کی تقسیم کے بارے میں پہلے ہی اعتماد ٹوٹا ہوا ہے۔ 
 پا کستان کے آبی وسائل پرتحقیق کے ادارے کاکہنا ہے کہ زیر زمین پانی کے ذخائر کا ختم ہونا ملک کے بڑے شہروں میں پانی کے بحران میں شدت پیدا کرے گا۔اور قحط جیسی صورتحال بن سکتی ہے۔ صورتحال کو جنگی بنیادوں پر نہ نمٹا گیا تو پاکستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ پانی کی شدیدقلت کا شکار ہو جائے گا۔پانی کی تقسیم کے مکینزم میں کرپشن اور بدانتظامی ہے۔ سندھ اور پنجاب میں پانی کی باری پر جھگڑے، ان کے نتیجے میں قتل اور مقدمہ بازی ، سیاسی اثر کا استعمال عام سی بات ہیں۔ہاں تک کہ بعض صورتوں میں کینالوں اور شاخوں پر رینجرز کو بھی تعینات کیا جاتا رہا ہے۔ معاشی اثرات کی وجہ سے آبادی میں جھگڑے بڑھ رہے ہیں۔ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے سیاسی اثرات بھی ہیں۔ اس ضمن میں کالا باغ ڈیم کے خلاف سندھ اور خیبر پختونخوا میں تحریکیں حال ہی کی بات ہیں۔اس کے علاقہ صوبائی سطح پر پانی کی فراہمی حکمران سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ 
پانی کی قلت ملک میں سلامتی کے معاملات کھڑے کر دیئے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کا معیشت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ لوگ پانی کے حصول کے لئے لڑ رہے ہیں۔ ملک کے تین صوبے بڑے صوبے پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ اکثریتی اور سیاسی طور پر طاقتور صوبے پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ ان کے حصے کا پانی لے جاتا ہے۔ بلوچستان کوسندھ سے شکایت ہے کہ وہ اس کے حصے کا پانی نہیں دیتا۔ بعض لوگ دہشتگردی کو ملک کا سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں لیکن پانی کی قلت اس سے بھی بڑا مسئلہ بننے جارہی ہے۔ 

واٹر پالیسی: 1991کے معاہدے کی تنسیخ ہے یا تسلسل؟


http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/58473/Sohail-Sangi/Pani-Ka-Tanaza-Aur-Qaumi-Water-Policy.aspx


http://politics92.com/singlecolumn/58473/Sohail-Sangi/Pani-Ka-Tanaza-Aur-Qaumi-Water-Policy.aspx

http://politics92.com/singlecolumn/58473/Sohail-Sangi/Pani-Ka-Tanaza-Aur-Qaumi-Water-Policy.aspx

کراچی کی سیاست اور شہباز شریف

Shahbaz Sharif and politics of Karachi
کراچی کی سیاست اور شہباز شریف 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
حصول اقتدار کے لئے کراچی اہم بنتا نظر آرہا ہے۔ کثیر لسانی سندھ کے دارالحکومت اس شہر میں مختلف زبانوں علاقوں، اور نسل کے لوگ ہی آباد نہیں۔ بلکہ مختلف مکاتب فکر، مذاہب ، سیاسی خیالات کے لوگ ایک ہی شہر میں بہت بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ پاکستان کے کسی اور شہر یا علاقے میں یہ کثیر رنگی موجود نہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران تحریک انصاف اور جماعت اسلامی خاص طور پر سرگرم رہیں۔ لیکن وہ کوئی زیادہ حصہ نہیں نکال پائیں۔ کراچی جو پچاس اور ساٹھ کے عشرے میں سیاسی فکر کے حوالے سے ترقی پسند اور روشن خیال سوچ کے ساتھ کھڑا تھا، مزدور اور طلباءتحریکیں اس شہر کی پہچان تھی۔ یہ تحریکیں مقبول رائے عامہ خواہ دانش و فکر کے طور پر تو تھی ہی لیکن اقتدار کے ایوانوں پر بھی اثر انداز ہو رہی تھیں۔ اس نے 70 ءکے انتخابات میں اپنا مذہبی رنگ دکھایا۔ اور یہاں سے مولانا شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اسلامی جیتی۔ پیپلزپارٹی کے حصے میں کچھ آیا، لیکن انتخابی نتائج پرزیادہ تر چھاپ دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر رکھنے والی ان دو مذہبی جماعتوں کی تھی۔ 70کا عشرہ اس کشمکش میں گزرا کہ شہر میں مذہبی سیاست حاوی ہو یا ترقی پسند، لبرل سوچ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں جمیعت علمائے پاکستان اور جماعت اسلامی کی قیادت میں اس شہر نے سرگرم کردار ادا کیا۔ ضیا دور میں شہر میں لسانی سیاست زور پکڑتی گئی جس کا بیج 70 کے عشرے میں بویا گیا تھا۔ پہلے یہ لسانی سیاست مہاجر سیاست کے طور پر سامنے آئی۔ آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، اور پھر ایم کیو ایم کی شکل میں سامنے آئی۔ پنجابی لسانی سیاست پنجابی پختون اتحاد کے نام سے ملک اعوان نے کرنے کی کوشش کی۔ پنجابی لسانیت کا کھلا اظہار 88 ءکے انتخابات کے بعد مدھم پڑ گیا۔ بعد میں پشتون اور سندھی عنصر بھی شامل ہوئے۔ پشتون لسانی کا کھلا اور بھرپور اظہار مشرف دور میں رہا۔ اس تمام عرصے میں گاہے بگاہے ان کسانی گروہوں کے درمیان مسلح تصادم بھی ہوتے رہے۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں جانیں ضایع ہوئی۔ لسانی سیاست مروج ہونے کے بعد اس میٹروپولیٹن شہر میں مذہبی خواہ ترقی پسند فکر اور سیاست نے بڑی حد تک ہلکی پڑگئی۔ ضیاءالحق نے روایتی مذہبی سیاسی جماعتوں کی جگہ پر مختلف مکاتب فکر میںنئے مذہبی گروپ پیدا کئے۔ تاکہ پاکستان کا یہ بڑا شہر مذہبی بیانیئے سے باہر نہ جاسکے۔ اور اس شہر کا کنٹرول اسلام آباد سے ہو سکے۔ مشرف دور میں کراچی میں جہادی عنصر کا ظہور ہوا۔ ایک مذہبی مکتب فکر رکھنے والے دوسری فکر کی مساجد پر قبضے کرنے لگے۔ 
 ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن اور اس کے اندر گروہ بندیوں نے ایک نئی صورتحال پیدا کردی۔اور ہر فکر اور سیاست کے لوگ اپنی جگہ بنانا چاہ رہے ہیں۔ یہ صورتحال نئی صف بندی کا تقاضا کر رہی ہے۔ مذہبی جمتاعوں کے محاذ کامتحدہ مجلس عمل کی شکل میں دوبارہ وجود سامنے آیا ہے۔ متوازی اور متصادم فکر رکھنے والی مذہبی جماعتیں ایک ساتھ ہیں۔ یہ اتحاد اپنی نوئیت میں اگرچہ نیا نہیں۔ ذولفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی پی این اے کی تحریک میں بریلوی خواہ دیوبندی مکاتب فکر کی سیاسی جماعتیں جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام، اور جمیعت علمائے پاکستان وغیرہ ایک ساتھ تھیں۔ بعد میں مشرف دور میں بھی ان جماعتوں کا ساتھ رہا۔اب کراچی میں لبیک یا رسول اللہ بھی سرگرم ہو گئی۔ ماضی میں بریلوی مکتب فکر کا بڑا مرکز کراچی رہا ہے جس کی قیادت مولانا شاہ احمد نورانی کرتے تھے۔ اس فکر اور تنظیم نے احمدیوں کے خالف مہم، خواہ پی این اے کی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا۔ مولانا شاہ احمد نورانی کے انتقال کے بعد اور سیاست میں مسلح اور جہادی عنصر آنے کے بعد بریلوی فکر کا مرکز کراچی سے پنجاب منتقل ہو گیا۔ ایم کیو ایم کے اندر پہلی دراڑ حقیقی کی شکل میں پڑی تھی۔ دوسرئی دراڑ تب پڑی جب ایک گروپ نے سنی تحریک کے نام سے اپنی شناخت کرائی۔ یہ دراصل بریلوی کتب فکر کے لوگ تھے۔ لیکن سنی تحریک سیاسی طور پر اپنی جگہ نہیں بنا پائی۔ کراچی میں اس مکتب فکر کے حوالے سے خال موجود تھا، جس کو پنجاب میں قائم ہونے والی لبیک یا رسول اللہ جماعت آکر بھرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اس جماعت نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عوام میں اپنے وجود کا بھرپور اظہار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے کام کا آغاز فلاح عامہ کے کاموں سے کیا۔ میڈیکل کیمپ لگائے اور دیگر 250 سے زائد کیمپ منعقد کئے۔ کراچی میں تاجر برادری میں سوچ کی جڑیں رکھنے کی وجہ سے بریلوی مکتب فکر کے پاس مالی وسائل بھی ہیں اور ووٹ بھی۔ وہ ماضی میں اس کا مظاہرہ بھی کر چکے ہیں۔ لیکن یہ جماعت نواز لیگ مخالف ہونے کے باوجود مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کا حصہ نہیں۔لہٰذا کراچی میں یہ جماعت ایم ایم اے کے متوازی اور مخالف کھڑی نظر آتی ہے۔ جس کا اظہار انتخابات میں ہوگا۔ 
 کراچی کی سیاست خواہ کچھ بھی ہو لسانی بنتی جارہی ہے۔اکثرسندھی اور بلوچ آبادی پیپلزپارٹی کو ووٹ دینے جارہی ہے۔ اردو بولنے والوں کا ووٹ بڑی حد تک تقسیم ہوگا لیکن یہ تقسیم آپس میں ہی ہوگی۔ یہاں بسنے والے پنجابی نواز لیگ کو وٹ دیں گے۔ پختون ووٹ عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمٰن کی جے یو آئی میں تقسیم ہوگا۔ بلدیاتی انتخابات میں پنجابی اور ہزارہ بیلٹ سے تعلق رکھنے والی آبادی نے نواز لیگ کو ووٹ کیا تھا۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات اور 2013 کے عام انتخابات کے رجحانات مختلف رہے۔ 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے کراچی سے مجموعی طور پر آٹھ لاکھ کے لگ بھگ ووٹ لئے تھے۔ لیکن بلدیاتی انتخابات میں اس کا یہ ووٹ سامنے نہیں آیا۔ 
نواز لیگ کے صدرشہباز شریف نے ایک ہفتے میں کراچی شہر کا دوسرا دورہ کیا۔ پورے سندھ کے بجائے ان کا زور صرف اس کے دارلحکومت کراچی پر ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم بہادرآباد کے خالد مقبول صدیقی اور اس کے ساتھیوں، عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید سے ملاقاتیں کیں۔ اور لیاری میں پارٹی ورکرز کنوینشن سے خطاب کیا۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ کراچی والے بنی گالہ اور بلاول ہاﺅس کے دھوکے میں نہ آئیں۔ یہ دونوں ہم نوالہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی کو نظر نہیں آتا۔ کراچی کی اگر ترقی چاہتے ہو تو نواز لیگ کو ووٹ دیں۔ شہباز شریف کے یہ دو جملے ”ہمیںکراچی میں اپنی طاقت کا اندازہ ہے، سب مل کر ساتھ چلیں “ معنی خیز ہیں۔ ایم کیوایم جو خود گروپوں میں بٹی ہوئی ہے۔لیکن ماضی میں اس نے کسی اور جماعت سے انتخابی اتحاد نہیں کیا، اور اب بھی نہیں کرے گی۔ ایسے میں شہباز شریف کی ایم کیو ایم کے رہنماﺅں سے ملاقات کرکے وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ نواز لیگ ایم کیو ایم کے خلاف نہیں۔نواز لیگ کی کوشش ہے کہ پختون اور پنجابی ووٹ ایک جگہ پر جمع ہو۔ شہباز شریف کی حالیہ کوشش اس کی ایک کڑی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے شہباز شریف کی کراچی کی سیاست میں انٹری کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔اور کراچی کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پرانے شکاریوں سے بچیں۔
 سندھ میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف جلسے کر رہی ہیں، ایسے میں نواز لیگ سندھ کے منظر نامے سے غائب تھی۔ لہٰذا سندھ میں نواز لیگ کو سرگرمی دکھانی ضروری تھی۔ لیکن اس سرگرمی میں دو نقص ہیں، ایک یہ کہ صرف کراچی تک محدود ہے، دوسری یہ کہ سرگرمی نواز شریف کے بجائے شہباز شریف کے ذریعے کی جارہی ہے، جن کا سندھ میں امیج سافٹ نہیں بلکہ ہارڈ ہے۔

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/58397/Sohail-Sangi/Karachi-Ki-Siyasat-Aur-Shahbaz-Sharif.aspx

کراچی کی سیاست اور شہباز شریف

http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/karachi-ki-siyasat-aur-shahbaz-sharif

http://politics92.com/singlecolumn/58397/Sohail-Sangi/Karachi-Ki-Siyasat-Aur-Shahbaz-Sharif.aspx

اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کے اشارے

اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کے اشارے 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اٹھارویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کبنیٹ ڈویزن نے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو وزارتیں ختم ہوئی ہیں وہ بوقت ضرورت بحال کی جاسکتی ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو مزید اختیارات ملے۔ جس کے نتیجے میں سندھ میں قوم پرست تحریک کمزور ہوئی۔ بلوچستان میں بعض دیگر معاملات کے باوجود سیاسی حوالے یہی صورتحال وہاں بھی نظر آتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بلوچستان سیاسی طور پر خصوصی توجہ مانگتا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہاں پر یہ اقدامات کرنے کے بجائے سیاسی عمل کو روک دیا گیا ہے۔ 
 اس آئینی تریم کو ختم کرنے کی پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور ترمیم کو ترتیب دینے والے سابق چیئرمین سینیٹ رضا رابانی نے مخالفت کی ہے۔اس موضوع پر اگرچہ نواز لیگ تاحال خاموش ہے۔ تاہم رضا ربانی کا ماننا ہے کہ یہ ترمیم ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی۔ بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم اور ساتواں قومی مالیاتی ایوارڈ ملک کو بچانے اور 1971 کے بعد جو کچھ بچ گیا ہے اسکو مضبوط کرنے کے لئے بہترین ہے، ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کے انتظامات 1971میں نہیں تھے جس کی وجہ سے بنگال کا سانحہ درپیش آیا۔ 
 قومی اسمبلی نے یہ ترمیم 8 اپریل 2010 کو قومی اسمبلی نے منظور کی تھی جسے سینیٹ نے 15 اپریل کو پاس کیا۔ اس ترمیم نے پاکستان میںنیم صدارتی نظام کی جگہ پر مکمل پارلیمانی طرز حکومت قائم کیا جس کے بعد صدر یک طرفہ طور پر منتخب حکومت نہیں توڑ سکتا۔ اس ترمیم کے ذریعے پختونخوا صوبے کو نام ملا۔ جنرل پریوز مشرف نے آئینی اور سیاسی نظام کو جنرل ضیاءکے نظام میں تبدل کر دیا تھا وہ واپس سویلین اور منتخب اداروں کے پاس آگیا۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن کو موثر کردار دیا گیا۔ چھوٹ صوبے جنہیں ہمیشہ وفاق سے شکایت رہتی تھی ان کی شکایا ت کا بڑی حد تک ازالہ کیا گیا۔ پاکستان کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اس ترمیم کو پیپلزپارٹی کے دور حکومت بہت بڑا کارنامہ قرار دیتے رہے ہیں۔ جس میں نواز لیگ نے بھی اپنا رول ادا کیا۔ ایک لحاظ سے اگر اس ترمیم پر عمل ہو جائے یہ ترمیم ملک کے نظام کی مکمل کایا پلٹ ہے۔ 
اٹھارویں ترمیم ایک وسیع ترمیم ہے۔ ضخامت کے لحاظ سے آئین کا ایک تہائی حصہ ہے۔ جس کے تحت 17 وزارتیں، اور ڈویزن ختم کی گئی۔ وفاق اور صوبوں کی مشترکہ لسٹ جو کنکرنٹ لسٹ کے طور پر پہچانی جاتی ہے اس کو بھی ختم کردیا گیا۔ 61 ملازمین فالتو قرار دے کر صوبوں کو دیئے گئے، اور اسی طرح سے وزارتوں ، اختیارات، ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اربوں روپے بھی صوبوں کو منتقل کئے گئے۔ اس ترمیم کا مرکزی نقطہ اختیارات کے ارتکاز کو ختم کرنا یا اختیارات کی صوبوں کو منتقلی ہے۔ سابق چیئرمین رضا ربانی کی سربراہی میں 26 رکنی پارلیمانی کمیٹی نے طویل اور تفصیلی بحث اور غور غوص کے بعد اس ترمیم کو دو بڑی پارٹیوں یعنی پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کے سربراہوں کے سمانے رکھا، ان کی منظوری کے بعد یہ ترمی متفقہ طور پر پارلیمنٹ سے منظور کردی گئی۔ اس ترمیم پر کلی طور پر کبھی بھی عمل نہیں ہوا۔ ایک بے اختیار کمیٹی عمل درآمد کے لئے بنائی گئی لیکن وہ صحیح طور پر ترمیم پر عمل درآمد نہیں کراسکی۔ اس ترمیم پر کلی عمل کی راہ میں وفاقی بیوروکریسی بھی رکاوٹ رہی ہے۔ رضا ربانی نے اس ترمیم کی منظوری کے دو سال بعد خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کہ رتمیم کو ختم کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ باوجود اس کے کہ صحیح طور پر عمل کرنا ابھی باقی تھا لیکن ترمیم کے فوائد بھی ہوئے۔ ایک تصویر کچھ اس طرح ابھر کر سامنے آ ئی کہ زیادہ وسائل رکھنے والا اور بہتر حکمرانی والا صوبہ پنجاب ترقی کرنے لگا۔ دوسرے صوبے اس کے لئے تیہار ہی نہیں تھے۔ اس ترمیم پر دلی طور پر نہ صرف عمل نہیں کیا گیا بلکہ عوام میں قبولیت کے لئے بھی کچھ نہیں کیا گیا۔ 
 اس ترمیم کی حساسیت کا اداروں کوتب پتہ چلا جب پتہ چلا کہ مختلف کرمنل قوانین ینعی کرمنل کوڈ، کرمنل پروسیجر ور قانون شہادت بھی صوبائی اختیار میں چلے گئے ہیں۔ یعنی ملک میں بیک وقت ایک ہی محکمے یا اسم کے لئے پانچ قانون ہیں۔ دنیا بھر میں اس طرح کئی ممالک میں ہے۔ خود امریکہ جو دنیا کا طاقتور اور بڑی جمہوریت سمجھا جاتا ہے وہاں بھی 52 ریاستوں میں مختلف قوانین ہیں۔ جب تک ارتکاز اختیار عملی طور پر ختم کرنے کا بندوبست ہو تب تک معاملات مشترکہ مفادات کی کونسل کے حوالے رہے۔تاہم یہ کونسل اپنا بھرپور رول ادا نہ کر سکی۔ پیپلزپارٹی نے ترمیم کے بعد اس آسرے پر رہی کہ بعض ضروری اقدامات نواز لیگ کرے گی۔ لیکن یہ اقدامات نواز لیگ کا ایجنڈا نہ بن سکے۔ اور بعد میں وہ سیاسی اور آئینی بحران کی لپیٹ میں آگئی۔ جس کی وجہ سے اس اہم معاملے پر توجہ نہیں دے سکی۔ 
 اس ترمیم کے پیچھے دراصل بڑے صوبے کے تسلط کا خوف تھا۔ یہی کہ وفاق زیادہ مداخلت نہ کر سکے۔ یہ ایک رکاوٹ تھی جو کہ پنجاب اور مارشل کو روک سکتی تھی۔ لہٰذا اس ترمیم میں سولین اختیار کی بالادستی اور جمہوریت کا تسلسل پیچدہ نقطہ تھا۔ 
 آئینی طوروفاق سے مالی معاملات لے لئے گئے۔ صوبوں کو زیادہ ذمہ داریاں دی گئیں۔ لیکن مجموعی طور پر یہ اختیارات اور ذمہ د اریاں استعمال نہیں ہو سکی۔ سندھ کے ٹیکس کی وصولی کو بہتر کیا، پنجاب نے تعلیم پر زور دیا۔ خیبر پختوخوا نے قانون سازی کے میدان میں کچھ کیا۔ اس ترمیم کو صحیح طور پر عمل نہیں کیا جاسکا اس کی ذمہ د اری سیاستدانوں پر آتی ہے۔ وہی اس ترمیم کو عملا کمزور کرتے رہے۔ ۔ صوبوں میں صلاحیت نہیں کہ وہا س پر عمل کر سکیں۔ 
 ملک میں جمہوریت کا کارواں تو چلتا رہا لیکن اس کو درپیش خطرات ختم نہیں ہوئے۔ عسکری حلقے یہ تاثر یہ درست دے رہے ہیں کہ ہ دور ختم ہو گیا کہ اب براہ راست فوج اقتدار میں آئے۔ لیکن سیاسی نظام کو کنٹرول میں رکھنے اور ٹیلرڈ ڈیموکریسی دینے کی کوششیں ابھی جگہ پر ہو رہی ہیں۔ ایک نہ ختم ہونا والا بحران ملک کو لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ جس سے سولین کی اتھارٹی مزید کمزور ہورہی ہے اور غیر سویلین ونگ کا کنٹرول سیاست اور انتظام کاری پر مضبوط ہو رہا ہے۔ منتخب ایوان اور حکومت کو فری ہینڈ نہیں۔ سیاست دانوں میں عدم اعتماد کی صورتحال ہے آپس میں بھی اور اس حوالے سے بھی کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے؟ انتخابات وقت پر ہونگے کہ نہیں ہونگے؟ عسکری حلقوں کا طویل سایہ موجود ہے عدلیہ کے ساتھ گہرا رابطہ ہے یہ دونوں چیزیں ملک کے آئندہ سیٹ پا پر اثر انداز ہونگی۔ اس وقت بھی ملک کے قانون نافذ کرنے والے اور تفتیشی ادارے عسکری حلقے کے ماتحت ہیں۔ 
 عسکری حلقوں کے حوالے سے یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ اٹھارویں ترمیم نے ملک کو خصوصا معاشی پالیسیوں کے حوالے سے کنفیڈریشن بنا دیا ہے۔ میگا پروجیکٹس موٹر وے، میٹرو بس بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام پر ہیسے ضایع کئے جارہے ہیں۔ اس طرح کا تصور ملک میں نیا نہیں۔ ماضی میں جنرل ملک کے معاشی و سیاسی مسائل حل کرنے کے نام پر اقتدار میں آئے۔ لیکن پانچ دس سال کے بعد جب اقتدار چھوڑا تو مسائل جوں کے توں رہے۔ بلکہ مزید پیچیدہ ہوئے۔ 
یہ ترمیم پارلیمنٹ نے متفقہ طور پرمنظور کی تھی۔ اس کے بارے میں اس طرح کی رائے تعجب خیز ہے۔ عملی طور اس ترمیم نے فیڈریشن کو مضبوط کیا ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان کشیدگی کو ختم کیا ہے۔ وحدانی طرز حکومت اور اختیارات کے ارتکاز کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوئے بلکہ پیچیدہ بھی ہوئے۔اس ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ اور یہ کوشش آئینی نہیں ہوگی۔ اس معاملے پر عسکری اور سویلین ایک دوسرے سے دور کھڑے ہیں۔ سینیٹ اور اس ایوان بالا کے چیئرمن کے انٹکابات سے طے ہو گیا کہ نواز شریف اور نواز لیگ کو آئندہ سیاسی منظر نامے میں جگہ نہیں ملے۔ وزیراعظم شہاد خاقان عباسی کا سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے ھوالے سے ایک مزید بات سامنے آئی ہے کہ حکمران جماعت عدلیہ اور عسکری حلقوں کے سیٹ اپ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ سویلین اور عسکری حلقوں کے درمیان دوری کسی طور پر بھی فائدیمند نہیں اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ 
نیا ڈاکٹرائن ملک کے مسائل کا نہ فوری حل ہے اور نہ ہی طویل مدت کے بعد۔ معیشت قومی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔ لیکن جمہوری عمل بھی ضروری ہے جو ملکی سلامتی اور معاشی ترقی کے لئے از حد ضروری ہوتا ہے۔ اس جمہوری عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کو فلٹر لگانے کے چلتے رہنے دیا جائے۔ 


نواز لیگ سندھ کے سنجیدہ نہیں؟

PMLN not serious in Sindh 
نواز لیگ سندھ کے سنجیدہ نہیں؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
ملکی سیاست میں بدلاﺅ کے اثرات دوسرے صوبوں میں بھی پہنچنا شرو ع ہو گئے ہیں۔ پنجاب کے بعد ملک کا دوسرا بڑا صوبہ سندھ گزشتہ دو ہفتے سے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ملک گیر کہلانے والی سیاسی جماعتوں اب سندھ میں پہنچ رہی ہیں۔ صوبے میں تین اہم پیش رفت ہوئی ہیں۔ چوہدری پرویز الاہی گزشتہ دنوں یہاں پر تھے۔ انہوں نے پیر پاگارا سے ملاقات کی۔ اور آئندہ انتخابات میں مشترکہ امیدوار کھڑے کرنے کا علان کیا۔ سندھ میں جب بھی پیپلزپارٹی کے بغیر جو اتحاد یا حکومت بنتی ہے پیر پاگارا اس کا اہم جز رہے ہیں۔ تاہم اکثر اوقات سندھ کے مخصوص حالات کے پیش نظر اس فارمولے میں تھوڑا بہت قوم پرستی کا ذائقہ ڈالا جاتا رہا ہے۔ یہ سلسلہ ستر کی دہائی یعنی بھٹو دور سے چلا آرہا ہے۔ نو ستاروں والی پی این اے کی تحریک میں بھی ایسا ہوا۔ اس کے بعد جنرل ضیا نے بھی اسی فارمولے پر عمل کیا، اور غیر جماعتی انتخابات کے بعد پیر پاگارا کے تجویز کردہ شخص محمد خان جونیجو کو ویراعظم منتخب کیا۔ یہ فارمولا نوے کے عشرے میں جب پیپلزپارٹی اور نواز لیگ آمنے سامنے تھیں، نواز شریف نے کم از کم تین مرتبہ بھی آزمایا، جنرل مشرف نے بلدیاتی خواہ عام انتخابات میں اسی نسخے سے استفادہ کیا۔ 2008 اور 2013 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر پیپلزپارٹی کی مخالفت میں نواز شریف نے سندھ میں اسی مسالے کا چورن بیچنے کی کوشش کی۔ اب پہلی مرتبہ یہ نسخہ بیک وقت پیپلزپارٹی اور نواز شریف کے خلاف آزمایا جائے گا۔ 2013 کے انتخابات کے موقع پر نواز شریف کی آشیر واد سے پیر پاگارا کی چھتری میں قائم ہونے والے اس اتحاد نے بظاہر کوئی کامیابی حاصل نہیں کی ماسوائے اس کے کہ وہ پیپلزپارٹی کو سندھ میں ہی مصروف رکھے اور وہ پنجاب میں توجھ نہ دے پائے۔اگرچہ اس اتحاد میںقوم پرست اور بعض ”دانشور“ بھی شامل تھے، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود دس جماعتی اتحاد تمام حلقوں پر امیدوار بھی کھڑے نہیں کر پایا تھا۔ 2013 کے اس اتحاد کے لئے دو اور باتیں اہم رہی۔ ایک یہ کہ بڑے پیر پاگار ا کے انتقال کے بعد خاندان میں روحانی جماعت اور سیاسی قیادت کے حوالے سے اختلافات ابھر کر سامنے آئے۔ روحانی قیادت پیر صبغت اللہ شاہ کے پاس تھی اور سیاسی قیادت ان کے بھائی پیر صدرالدین شاہ کے پاس تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ان اختافات کی وجہ سے پیر پاگارا نے انتخابات میں اپنا بھرپور رول ادا نہیں کیا۔ بعد میں ایک اور بھی دلیل سامنے آئی جو پیر پاگارا کی جانب سے ہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اپنے وعدے سے مکر گئے تھے۔ جس کی وجہ سے انہوں فعال کردار ادا نہیں کیا۔ 
چند روز قبل پیر پاگارا لاہور میںچوہدری پرویز الاہی اور چوہدری شجاعت سے ملاقات کر چکے ہیں۔ چوہدری برادران کی پیر پاگارا کے ساتھ یہ ملاقاتیں اشارہ ہیں کہ اگر ملک میں غیر مقبول سیٹ اپ بننے کی صورت میں یہ” بڑے لوگ“ اقتدار پرستوں کے لئے کام کے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ اورنواز شریف کے درمیان جاری محاذ آرائی میں نواز لیگ کا ساتھ دینا ان کے لئے سود مند نہیں ہوگا۔ اور نیا سیٹ اپ غیر جماعتی اور آزاد امیدواروں کا بننے جارہا ہے ایسے میں یہ نسخہ نئی پیکنگ کے ساتھ مارکیٹ کیا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف ملک میں تیسرے بڑے سیاسی دھارے کے طور پر ابھر آئی ہے۔ انتخابات کے چوہدری بردران اور پیر پاگارا کا اتحاد اور عمران خان ایک دوسرے کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ 
 ایک اور اہم پیش رفت شہباز شریف کا دورہ سندھ ہے۔ نواز لیگ پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھالیکن انہوں نے یہ دورہ صرف صوبائی داالحکومت یعنی کراچی تک محدود رکھا۔ اور پریس کانفرنس کر کے چلے گئے۔ نواز لیگ نے گزشتہ پندرہ سال کے دوران سندھ میں پارٹی کی تنظیمی صورتحال پر کوئی توجہ نہیںدی۔ وہ خود کو بعض دیگر گروہوں کے ساتھ مل کر پیپلزپارٹی کے خلاف پریشر گروپ کے طور پر رہی ہے۔ پارٹی قیادت کا رویہ ہی ہے کہ جو پارٹی میں رہیں وہ بھلی رہیں ، جو جارہے ہیں وہ بھلے جائیں۔ کبھی کسی کو پارٹی میں لانے کی یا رکنیت سازی کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ جو پارٹی میں تھے ان کے ساتھ بھی کوئی اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ نتیجے میں پارٹی کے کراچی سے رکن قومی اسمبلی اور مملکتی وزیر عبدالحکیم بلوچ ، پارٹی کے صوبائی صدر اسماعیل راہو برسہا برس تک ساتھ رہے، اور عرفان مروت پارٹی چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں چلے گئے۔ ٹھٹہ کے شیرازی برادران، ارباب غلام رحیم، غلام مرتضیٰ جتوئی سمیت دیگر شکایت رہی کہ پارٹی ان کی دیکھ بھال نہیں کی ، اہمیت نہیں دے رہی، حال احوال بھی نہیں پوچھتی۔ پارٹی میں اتنے بڑے خلاءکے باوجود نواز لیگ کے نئے سربراہ شہباز شریف نے تاحال کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ پارٹی کی عدم موجودگی میں یہ خلاءچوہدری برادران اور عمران خان کے لئے کھلا ہوا ہے ۔ 
 نواز لیگ بھی دیگر ملک گیر سطح کی سیاست کرنے والی پارٹیوں کی طرح کراچی کو فوکس کر رہی ہے۔ نواز لیگ باقی سندھ کو چھوڑ کر صرف کراچی پر فوکس کیوں کر رہی ؟ سندھ میں شہباز شریف کی پہچان نواز لیگ کے لیڈر کے طور پر نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی رہی ہے۔ کراچی ایم کیو ایم اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والے گروپوں میں میں بٹا ہوا ہے۔ ہر گروپ زیادہ ” مہاجر پرست“ بننے یا اسٹبلشمنٹ کے قریب ہونے کی کوشش کے ساتھ دعوا بھی کر رہا ہے۔ وہ نواز شریف کا ساتھ تب تک نہیں دیں گے جب تک اسٹبلشمنٹ نہیں چاہے گی۔ فی الحال اسٹبلشمنٹ نواز شریف اور نواز لیگ سے جھگڑے کے موڈ میں ہے۔ نواز لیگ کی حکمت عملی یہ ہے کہ میٹروپولیٹین شہر ترقیاتی منصوبوں کو بنیاد بنا کرسیاست میں اپنا حصہ نکالنا چاہتی ہے۔اس کے علاوہ کراچی میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کے ووٹ اور سیاسی حمایت پر بھی اس کو یقین ہے۔ ماضی میں بلدیاتی انتخابات میں ان غیر ملکیوں نے کونسلرز اور یونین کونسل ناظمین کی نشستیں جیتنے کے بعد نواز لیگ کی حمایت کی تھی اور پارٹی میں شمولیت کی تھی۔ اس مرتبہ نواز لیگ حکومت نے قومی شناختی کارڈ بنا کر دینے والے ادارے نادرا کو نئی پالیسی دی ہے جس کے تحت پاکستان میں مقیم تمام لوگوں کو بغیر تحقیقات اور ثبوتوں کے شناختی کارڈ جاری کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ اس مقصد کے لئے کراچی میں تین منزلہ چار میگا سینٹرز قائم کر دیئے گئے ہیں جہ جو چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔ اور ہر شفٹ میں 32سے زیادہ کونٹر کام کر رہے ہیں۔ دراصل تمام قانونی اور آئینی تقاضوں کو ایک طرف رکھ کر لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو پاکسانی شہریت دی جارہی ہے جو کہ ملک کی معاشی صورتحال اور سیاسی، ثقافتی و سماجی طور پر منقسم ملک میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرے گا۔ 80 کے عشرے میں جنرل ضیاء اپنے سیاسی مفادات کے لئےا فغان پناہ گزینوں کو پاکستان لے آئے اور یہاں آباد کیا، اس کے اثرات سے پاکستان تاحال نہیں کل پایا ہے۔ اس طرح کی پالیسیاں کس طرح قومی مفادات کے منافی ہوتی ہیں، وقت نے ثابت کردیا ہے کہ اس پر دو رائے نہیں۔ ابھی نواز لیگ یہی کام کر رہی ہے۔ نو از لیگ حکومت کے اس عمل کے خلاف اگرچہ سندھ کی قوم پرست گروپوں کو تحفظات ہیں اور وہ اس پر احتجاج بھی کر چکے ہیں۔ لیکن تاحال نواز لیگ کی وفاقی حکومت اسی پر کاربند ہے۔ لگتا ہے کہ نواز لیگ نے سندھ کے قوم پرستوں کے بجائے تارکین وطن کو اپنا فطری اتحادی سمجھ لیا ہے۔ یہ نقطہ مستقبل میں نواز لیگ اور قوم پرستوںکو ایک دوسرے سے دور کرے گا۔ نواز لیگ کے پاس سندھ کے لئے ٹھوس پالیسی نظر نہیں آتی۔ اور نہ ہی وہ سندھ کے لئے زیادہ سنجہدہ ہے۔

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/58238/Sohail-Sangi/Nawaz-League-Sindh-Ke-Hawalay-Se-Sangeda-Nahi.aspx

http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/nawaz-league-sindh-ke-hawalay-se-sangeda-nahi
نواز لیگ سندھ کے سنجیدہ نہیں؟

سیاسی جماعتوں کی شکست و ریخت


میرے دل میرے مسافر 
سہیل سانگی
سابق وزیر اعظم نواز شریف اب خود کہ ہ رہے ہیں کہ انہیں اڈیالہ جیل بھیجنے کی تیاریاں ہو چکی ہیں۔ یعنی میاں نواز شریف احتساب عدالت سے سزا کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں ۔ایک اور منتخب وزیراعظم کو سزا ہونے جارہی ہے۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں پاکستان کی تاریخ ایک اور دلچسپ بات رقم ہونے جارہا ہے۔ جنہوں نے آئین توڑا، اقتدار پر قبضہ کیا، ان کو سزا نہیں ملی۔ کیا سزا صرف نواز شریف کو ملے گی؟ مریم نواز باہر رہتی ہیں تو نواز شریف کی سیاسی قوت کو مدد ملے گی لہٰذا مریم نواز کو بھی جیل بھیجنا ضروری قرار دیا جارہا ہے۔ 
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کی سخت آبزرویشنز کے بعد احتساب عدالت کے جج کا مختلف فیصلہ دینا مشکل لگتا ہے۔ ویسے بھی احتساب عدالتین سزا ہی دیتی ہیں ۔اگر نواز شریف کو سزا ہوتی بھی ہے تو یہ ایک وقتی عمل ہوگا۔ کیونکہ سزا کے خلاف اپیل ہوگی اور ضمانت بھی ہو سکتی ہے۔ 
 سیاستدانوں کیلئے جیل جانا عجیب بات نہیں لیکن نواز شریف کا مقدمہ مختلف انداز کا ہے۔ آج صورتحال کچھ مختلف ہے۔ آگے چل کر صورتحال تبدیل ہوگی۔ مختلف اہم عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ان عہدوں سے ہٹیں گے، تو خود جے آئی ٹی کے بارے میں بعض قانونی نکات بھی سامنے اٹھیں گے۔ جے آئی ٹی کے تین اراکین نواز شریف کے سیاسی مخالف ہیں۔ اس بات کے بھی ثبوت موجود ہیں کہ جے آئی ٹی لابنگ کے ذریعے بنائی گئی۔ بعض واٹس اپ پیغامات کا بھی ذکر ہوتا رہا۔ 
 جہاں تک نواز شریف کے سیاسی موقف کا متعلق ہے انہیں سزا ملے یا قید، وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں۔اس موقف کو بھلے کبھی نظریاتی کبھی اصولی کا نام دیں، اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ ان جیل جانے ہیں سے ان کی سیاست کو قوت ملے گی۔
 سیاست میں گزشتہ چند ماہ سے رونما ہونے والے واقعات کے بعد انتخابات کا شفاف اور بامقصد ہو نا ناممکن سا لگ رہا ہے۔ بلوچستان اور سینیٹ میں اراکین اسمبلی کی خرید فروخت نے پورے سیاسی نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس میں سیاسی جماعتیں غیر اہم ہو کر رہ گئی ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہ ہونا، پارٹی کے اندر فیصلہ سازی اور تنظیم سازی کے عمل وغیرہ کے حوالے سے اگرچہ بعض سوالات موجود ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتوں کی یہ شکل بھی ایک طویل جدوجہد کے بعد بنی ہے اور انہوں نے خود کو بطور جماعت تسلیم کرایا۔ تعجب کی بات ہے کہ سیاست اور ارکین اسمبلی کے اسٹاک مارکیٹ میں اتنا ابڑا بزنیس ہوا لیکن ہمارے ادارے اور عدلیہ نے اس کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔ 
مضبوط جماعتی سیاسی نظام ہی جمہوریت کے فروغ و استحکام کا باعث بنتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو شکست و ریخت کا ہدف سیاسی نظام اور جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں سابق سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے بھی اس صورتحال کے مضمرات اور نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔ 
 ملک میں کرپشن کا بیانیہ مضبوط ہوا تھا۔ ایک ماحول بنا تھا کہ کرپشن چاہے معاشرے کے کسی بھی شعبے میں اسکو صاف کیا جائے گا۔ لیکن معاملہ ایک خاندان سے آگے نہیں جاسکا۔ اور یہ بھی کہ اب حکمران پارٹی کو توڑنے اور اس کو انتخابات جیتنے سے دور رکھنے کی بات کی جارہی ہے۔ 
ایک مضبوط سیاسی نظام میں جب انتخابات قریب ہوتے ہیں تو پارٹیوں میں شمولیت کے اعلانات ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا سیاسی نظام ایسا ہو چکا ہے جس میں انتخابات کے موقع پر اراکین اسمبلی پارٹیاں چھوڑ رہے ہیں۔ وہ نواز لیگ سے اور پنجاب میں جہاں اس پارٹی کیووٹ حاصل کرنے کی قوت میں حالیہ واقعات کے بعد اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ خیال پکٹة کردیا گیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں آزاد ہی اہم ہونگے، ان کی ہی مارکیٹ ہوگی۔ بلوچستان اور سینیٹ کی طرح ان کے ذریعے وفاق اور پنجاب میں نواز لیگ کو حکومت بنانے سے روکا جائے گا۔
 نواز شریف سمجھتے ہیں کہ الیکشن لڑنے کیلئے سب کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں لیکن کچھ کیلئے کھلا میدان تو کسی کو بند گلی میں دھکیلا جارہا ہے، یہ قبل از انتخابات دھاندلی ہے، ہم غیر شفاف الیکشن کی طرف جارہے ہیں جن کے نتائج کو کوئی قبول نہیں کریگا۔ پنجاب میں بننے والے نئی گروپوں کے بعد یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ اس بڑے صوبے میں خود تحریک انصاف کو بھی واضح اکثریت نہیں مل رہی ہے یا لوگ اس طرف نہیں جارہے ہیں۔ لہٰذا چھوٹے گروپوں والا فارمولا ہی اپنایا جارہا ہے۔ آئندہ انتخابا ت کا تجزیہ اس طرح سے کیا جارہا ہے۔ بلوچستان کی 16،فاٹا کی 12اور شہری سندھ کی 21نشستیں ملا کرتقریباً 50کا گروپ بنتا ہے۔ یہ وہ گروپ براہ راست اسٹبلشمنٹ کے زیر اثر ہے۔ یہاں پر کئے گئے آپریشن سیاسی معنوں میں بھی آپریشن ثابت ہوئے۔ پیپلزپارٹی کے پاس دیہی سندھ کی 36 نشستیں ہیں۔ جب پیپلزپارٹی وفاق میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تو ان نشستوں کو کسی اور امیدوار کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا میں سیاست کا رخ سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر متعین ہو چکا ہے۔ اس کو آئندہ ناتخابات میں مزید مضبوط کرنے کے لئے متحدہ مجلس عمل کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ سب سے زیادہ مشکل پنجاب ہے جہاں قومی اسمبلی کی 141نشستیں ہیں۔ اصل لڑائی اس میدان میں ہے۔ گزشتہ ہفتے پنجاب میں ایک اور سیاسی مظہر سامنے آیا ہے۔ پنجاب میں یہ مظہر غیر متوقع نہیں تھا۔ اس کا انتظار تھا کہ کون سے علاقے سے اور کونسے بیانیے کے ساتھ یہ مظہر سامنے آتا ہے۔ نواز مسلم لیگ کے دس ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے پارٹی چھوڑنے ، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے اتحاد بنانے اور عام انتخابات آزاد حیثیت میں لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ ان ارکان نے ماضی میں کبھی جنوبی پنجاب صوبے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔اب یہ شک یقین میں تبدیل ہو گیا ہے کہ آئندہ الیکشن بھی انجینئرڈ ہوں گے۔ان دس اراکین اسمبلی کی وفاداری تبدیل ہونے کو پنجاب میں پہلا تحرک قرار دیا جارہا ہے کہ وہاں کس طرح کی جوڑ توڑ ہوگی۔ پیر پاگارا اور چوہدری شجاعت حسین نے وسیع تر محاذ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نواز لیگ کی عمارت گرنے جارہی ہے، وہ اس ملبے سے جو کچھ اٹھا سکتے ہیں اٹھا لیں۔ 
ایک تجزیہ نگار کے مطابق پنجاب میں ن لیگ کی نشستیں آدھی رہ جائیں۔ باقی 70نشستیں مختلف گرپوں اور سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔ ان میں سے 35نشستیں کے لگ بھگ نشستیں 2013 کےا نتخابات میں تحریک انصاف نے جیتی تھی۔ ممکن ہے کہ اب یہ تعداد پچاس ساٹھ تک ہو جائے۔ ساٹھ نشستوں کے ساتھ تحریک انصاف حکومت نہیں بنا سکے گی۔ ایک معلق پارلیمنٹ سامنے آئے گی۔ نواز لیگ کی حکمت عملی یہ ہوگی کہ وہ پنجاب سے ایک سو تک نشستیں جیت پائے۔ تاکہ اسکو نظر انداز نہیں کیا جا سکے۔ 
 ایسے میں آزاد امیدوار تیار ہونگے جس کو تمام جماعتیں ووٹ دے سکیں۔ لیکن یہ سب کچھ بہت ہی زیادہ انجنیئرڈ ہو گا۔ جو کہ حقیقی معنوں میں عوام کے کسی بھی طبقے یا حصے کا نمائندہ نہیں ہوگا۔ اس طرح کے تجربات ماضی میں ایوب خان، مشرف اور ضیاءالحق کر چکے ہیں۔ ایسا کوئی حل دیرپا نہیں ہوتا۔ 
http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/jamaton-ki-shikast-o-rekht-jamhoriyat-ke-liye-nuksan-de

سیاسی جماعتوں کی شکست و ریخت



سندھ میں سیاسی متبادل کی سنجیدہ کوشش

Serious effort of alternative in Sindh 
 میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
بھٹو اس صدی کا بڑا سیاستدان تھا۔ انہوں نے پاکستان خواہ سندھ کے درمیانی طبقے کو متحرک کر کے ملک میں سیاسی ، سماجی اور معاشی تبدیلی لے آئے۔ گزشتہ عشرے تک آج ملک مجموعی طور پر دو حصوں میں بٹا رہا ایک وہ جو بھٹو کے حامی تھے دوسرے وہ جو بھٹو کے مخالف تھے۔بھٹو کا سایہ اتنا بڑا تھا کہ اسٹبلشمنٹ ایک عرصے تک اس سائے سے لڑتی رہی۔ اس کے لئے مختلف نسخہ ہائے آزمائے۔ پہلے سیاست پر بندش رہی، پھر غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے ۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی مخالف جماعتوں اور گروہوں کو اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر جمع کیا گیا۔ اس عمل کو مسلسل جاری رکھا گیا۔ اس دوران ملکی معیشت میں نئے طبقات اور معاشی پرتیں وجود میں آئی۔ ان کی مدد سے اسلامی جمہوری اتحاد کے بجائے ایک پارٹی میں تبدیل کیا گیا۔ اور وہ تھی پاکستان مسلم لیگ۔ آگے چل کر مسلم لیگ مزید حصوں میں بٹ گئی۔ ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں مسلم لیگ بنانے سے کام چل گیا لیکن باقی چھوٹے صوبوں میں مختلف حکمت عملی اختایر کی گئی۔ خیبرپختونخو میں مذہبی جماعتوں کو مضبوط کیا گیا۔ سندھ میں لسانی بنیاد پر تقسیم کی گئی، اور شہری اور دیہی کی بنیاد پر سیاست کو بانٹ دیا گیا۔ 
 سندھ میں قوم پرستوں کو پیپلزپارٹی کے مد مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن قوم پرست صوبے میں موجود مضبوط سوچ کے باوجوداقتدار کے ایوانوں میں اپنی جگہ نہیں بنا سکے۔ قوم پرستوں کی اس ناکامی کے ایک سے زائد اسباب ہیں۔ پیرپاگارا ، وڈیروں کے گروہوں کو ایم کیو ایم کے ساتھ ملا کر حکومتیں بنائی جاتی رہیں لیکن کوئی سیاسی متبادل سامنے نہیں آیا۔ کوئی نظریہ تھا اور نہ کوئی قدآور شخصیت کو اقتدار کے لئے جنگ کرنے والے گرہوں کو اپنی چھتری کے نیچے لے سکے۔ وفاقی سطح پر پیپلزپارٹی کا متبدال نواز لیگ بنتی رہی۔ چونکہ نواز لیگ سندھ سے ووٹ لیئے بغیر حکومت بنا سکتی تھی۔ لہٰذا اس جماعت نے سندھ پر توجہ نہیں دی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سندھ میں صورتحال یہ رہی کہ کبھی بھی کسی سیاسی جماعت نے سنجیدگی کے ساتھ نہ کام کیا اور نہ ہی تنظیم کاری کی۔ نواز لیگ اس حد تک سندھ کو توجہ دیتی تھی کہ چار چھ نشستیں حاصل کرلے تاکہ وہ ملکی سطح کی نمائندہ جماعت کی دعوا کر سکے۔ باقی ضرورت پڑنے پر شہری علاقوں سے ایم کیو ایم کاپیر پاگارا سے اتحاد کر کے باقی وڈیروں کو ملا کر صوبے میں پیپلزپارٹی کے بغیر سیٹ اپ بناتی رہی۔ پیر پاگارا نے کبھی بھی بطور سیاسی پارٹی یا سیاسی لیڈر کے عوام سے رجوع کرنے یا تنظیم کاری کاکام نہیں کیا۔ ان کی جماعت سیاسی جماعت کے بجائے روحانی جماعت کے طور پر رہی۔اگرچہ ملک بھر میں گزشتہ تین عشروں تک دو ہی جماعتیں رہی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے ہوم گراﺅنڈ کی وجہ سے اسکی اجارہ داری مضبوط ہوتی گئی۔ پلیجو کی عوامی تحریک اور قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی نے پارلیمانی سیاست کی کوشش کی۔ لیکن وہ بھی کوئی زیادہ جگہ نہیں حاصل کر پائی۔ اسی طرح جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ اقتداری سیاست کے لئے مختلف اتحاوں میں شامل ہوتے رہے۔ تاہم کوئی زیادہ پزیرائی حاصل نہ کر سکے۔ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ سندھ میں شدید قوم پرستانہ رجحانات کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ کو یہ جماعتیں زیادہ قابل قبول نہیں تھی۔ لیکن بلوچستان کا تجربہ اس دلیل کی حمایت نہیں کرتا۔ وہاں مشہور بلوچ قوم پرست لیڈروں یعنی خیر بخش مری، عطائاللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو اور اکبر بگٹی کے بیٹے وقت بوقت حکومت میں رہے۔ اسی طرح سے بلوچستان کے متوسط طبقے کی نمائندہ جماعتیں ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی بلوچ نیشنل موومنٹ، اور بعد میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی نیشنل پارٹی بھی حکومت میں رہی۔ 
محترمہ بینظیر بھٹو کی موجودگی میں متبادل یا مقابلے کی سیاسی جماعت بنانا مشکل تھا۔ ان کی شخصیت، پالیسیاں ، حکمت عملی اور پارٹی کیڈر خواہ عام لوگوں سے رابطے کچھ ایسے تھے کہ سندھ سے نئی قیادت کا ٹ اٹھنا ناممکن لگ رہا تھا۔ محترمہ کے قتل کے بعد ایک نئی پیپلزپارٹی وجود میں آئی۔ کچھ پالیسیوں کی وجہ سے اور باقی پارٹی کی حکمت عملی کی وجہ سے پیپلزپارٹی کا نیا تشخص ابھرا۔ ایک طرح سے پیپلزپارٹی کی قیادت نے بھی عملی طور پر پارٹی کے اندر اس طرح کی حکمت عملی اختیار کی کہ اب لوگ پارٹی کو ذوالفقار علی بھٹو یا بینظیر بھٹو کے بجائے آصف علی زرداری اور دوسرے رہنماﺅں کی وجہ سے پہچانیں۔ آصف علی زرداری کی قیادت میں نئی پیپلزپارٹی سامنے آئی ، ایک مرتبہ پھر محسوس ہوا کہ جگہ موجود ہے۔ لیکن کوئی پارٹی موجود نہیں تھی۔ 
 اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حقوق اور صوبائی خود مختاری کو آئینی اور قانونی تحفظ مل گیا۔ گزشتہ تین عشروں سے قوم پرست گروپوں کی مثبت کارکردگی کی وجہ سے سندھ میں قوم پرست سیاست کرنے کے لئے جگہ کم ہو گئی۔ اس اثناءمیں اس حساس صوبے میںمعاشی خواہ سماجی او سیاسی طور پر نئے طبقات وجود میں ئے۔ نئے تضادات ابھرے۔ پیپلزپارٹی اپنی پالیسیوں اور کلوزڈ کلب کے طور پر رہتے ہوئے ان نئے طبقات کو اپنے اندر سمو نہیں پارہی تھی۔ اور نہ ہی ان کے معاشی اور سیاسی ضروریات کو ایڈریس کر پارہی تھی۔ 
 سندھ میں گزشتہ دو عشروں کے دوران گورننس ، بنیادی سہولیات کے اشوز زیادہ ابھر کر سامنے آئے۔ ایک عرصے سے یہ بات محسوس کی جارہی تھی اور مختلف حلقوں میں مختلف سطحوں پر کہی بھی جارہی تھی کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کا کوئی متبادل نہیں۔ اب ایک ایسی سیاسی جماعت کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جو اول یہ کہ نئے طبقات کے امنگوں اور سیاسی ضروریات کو پورا کرے، دوسرا یہ کہ وہ اپنے جوہر میں زیادہ قوم پرستانہ نہ ہو، تیسرا یہ کہ گورننس کے اشو کو صحیح طور پر ایڈریس کرے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ پر ہے کہ وفاق پرست یا وہ جماعتیں جن کا ہوم گراﺅنڈ کوئی دوسرا صوبہ ہو، سندھ کو سمجھ ہی نہیں پارہے تھے ۔ سندھ ان کی نہ ترجیحات میں شامل تھا۔ اور نہ سندھ کے عوام ان کو قبول کرنے کے لئے تیار تھے۔ 
ایسے ماحول میں علی قاضی نے” تبدیلی پسند پارٹی “ کے نام سے ایک نئی پارٹی کا آغاز کیا ہے۔ اتوار کے روز حیدرآباد میں انہوں نے سیاسی شو کا مظاہرہ کیا۔ یہ شو کسی بڑی پارٹی کے شو سے کسی طور پر بھی کم نہ تھا۔ 
علی قاضی بناید طور پر صحافی ہیں۔ ان کے حصے میںسندھی کی دو اہم میڈیا روزنامہ کاوش اور پہلے سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این کامیابی سے چلانا پہلے سے موجود ہے۔ یہ دونوں میڈیا سندھ میں بہت مقبول ہیں۔ وہ قاضی محمد اکبر کے بیٹے ہیں۔ جو قیام پاکستان سے لیکر ستر کے عشرے تک سندھ کی سیات میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ بعد میں یہ خاندان سیاست سے دور رہا اور خود وک میڈیا تک محدود رکھا۔ 
گزشتہ پانچ سال سے علی قاضی اس کوشش میں رہے کہ سندھ میں وکئی سیاسی متبادل بنے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے سندھ کے مختلف گاﺅں اور شہروں میں مشاورتی اجلاس اور جلسے کئے۔ چند برس پہلے انہوں نے بھٹ شاہ میں بھی بہت بڑا جلسہ منعقد کیا تھا۔ لیکن پارٹی کا اعلان نہیں کیا۔ بھٹ شاہ کے جلسے کے بعد ان کے دوستوں اور دیگر حلقوں کی جانب سے انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ باقاعدہ سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کریں۔ ان کا خبار اور ٹی وی چینل خبروں، بنیادی شہری سہولیات، اور انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ 
وہ کہتے ہیں کہ سندھ میں سیاست کے نئے باب کا آغاز ہوگیا ہے، ”تبدیلی پسند پارٹی“ سندھ میں دیگر جماعتوں کا متبادل ہے، آئندہ الیکشن میں سندھ کے ہر حلقہ سے امیدوار کھڑے کریں گے۔حیدر آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علی قاضی نے کہا کہ پہلے لوگ کہتے تھے کہ ان کے پاس متبادل نہیں لیکن اب متبادل جماعت آگئی ہے، پانچ ماہ قبل الیکشن کمیشن میں تبدیلی پسند پارٹی رجسٹرڈ ہوچکی ہے، یہ جلسہ نئے سندھ کا تعارف ہے۔علی قاضی نے کہا کہ لوگ دلوں سے خوف نکال دیں، الیکشن والے دن تبدیلی کے جذبے سے پولنگ اسٹیشن جائیں اور سندھ کے لوگوں کو بے وقوف سمجھنے والے بے وقوفوں کو مستردکردیں۔“ اپنے اس موقف کی وجہ سے ان تمام سیاسی جماعتوں اور گروہوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ رہیں گے، جو سندھ کی سیات میں اپنے اقتدار اور تسلط کا پنجہ مضبوط رکھنا چاہتے ہیں اور موقع مہل پر وفارادیاں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ 
کسی میڈیا پرسن کا یوں سیاسی جماعت بنانا پاکستان میں پہلا تجربہ ہے۔ دیکھیں سندھ کے عوام اور سندھ میں کوئی متبادل کے خواہان کے پاس علی قاضی کو کتنی قبولیت اور پزیرائی ملتی ہے؟

Sindh Main Siyasi Mutbadil Ki Sanjeeda Koshish By Sohail Sangi (Dated: 10 April 2018)


Nayi Baat, 10 April 2018
http://www.awaztoday.pk/urducolumns/columnist/928/1/Sohail-Sangi.aspx

http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/sindh-main-siyasi-mutbadil-ki-sanjeeda-koshish

انتخابات کا نقشہ

 انتخابات کا نقشہ 

میرے دل میرے مسافر 
سہیل سانگی
سابق وزیر اعظم نواز شریف اب خود کہ ہ رہے ہیں کہ انہیں اڈیالہ جیل بھیجنے کی تیاریاں ہو چکی ہیں۔ یعنی میاں نواز شریف احتساب عدالت سے سزا کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں ۔ایک اور منتخب وزیراعظم کو سزا ہونے جارہی ہے۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں پاکستان کی تاریخ ایک اور دلچسپ بات رقم ہونے جارہا ہے۔ جنہوں نے آئین توڑا، اقتدار پر قبضہ کیا، ان کو سزا نہیں ملی۔ کیا سزا صرف نواز شریف کو ملے گی؟ مریم نواز باہر رہتی ہیں تو نواز شریف کی سیاسی قوت کو مدد ملے گی لہٰذا مریم نواز کو بھی جیل بھیجنا ضروری قرار دیا جارہا ہے۔ 
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کی سخت آبزرویشنز کے بعد احتساب عدالت کے جج کا مختلف فیصلہ دینا مشکل لگتا ہے۔ ویسے بھی احتساب عدالتین سزا ہی دیتی ہیں ۔اگر نواز شریف کو سزا ہوتی بھی ہے تو یہ ایک وقتی عمل ہوگا۔ کیونکہ سزا کے خلاف اپیل ہوگی اور ضمانت بھی ہو سکتی ہے۔ 
 سیاستدانوں کیلئے جیل جانا عجیب بات نہیں لیکن نواز شریف کا مقدمہ مختلف انداز کا ہے۔ آج صورتحال کچھ مختلف ہے۔ آگے چل کر صورتحال تبدیل ہوگی۔ مختلف اہم عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ان عہدوں سے ہٹیں گے، تو خود جے آئی ٹی کے بارے میں بعض قانونی نکات بھی سامنے اٹھیں گے۔ جے آئی ٹی کے تین اراکین نواز شریف کے سیاسی مخالف ہیں۔ اس بات کے بھی ثبوت موجود ہیں کہ جے آئی ٹی لابنگ کے ذریعے بنائی گئی۔ بعض واٹس اپ پیغامات کا بھی ذکر ہوتا رہا۔ 
 جہاں تک نواز شریف کے سیاسی موقف کا متعلق ہے انہیں سزا ملے یا قید، وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں۔اس موقف کو بھلے کبھی نظریاتی کبھی اصولی کا نام دیں، اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ ان جیل جانے ہیں سے ان کی سیاست کو قوت ملے گی۔
 سیاست میں گزشتہ چند ماہ سے رونما ہونے والے واقعات کے بعد انتخابات کا شفاف اور بامقصد ہو نا ناممکن سا لگ رہا ہے۔ بلوچستان اور سینیٹ میں اراکین اسمبلی کی خرید فروخت نے پورے سیاسی نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس میں سیاسی جماعتیں غیر اہم ہو کر رہ گئی ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہ ہونا، پارٹی کے اندر فیصلہ سازی اور تنظیم سازی کے عمل وغیرہ کے حوالے سے اگرچہ بعض سوالات موجود ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتوں کی یہ شکل بھی ایک طویل جدوجہد کے بعد بنی ہے اور انہوں نے خود کو بطور جماعت تسلیم کرایا۔ تعجب کی بات ہے کہ سیاست اور ارکین اسمبلی کے اسٹاک مارکیٹ میں اتنا ابڑا بزنیس ہوا لیکن ہمارے ادارے اور عدلیہ نے اس کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔ 
مضبوط جماعتی سیاسی نظام ہی جمہوریت کے فروغ و استحکام کا باعث بنتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو شکست و ریخت کا ہدف سیاسی نظام اور جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں سابق سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے بھی اس صورتحال کے مضمرات اور نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔ 
 ملک میں کرپشن کا بیانیہ مضبوط ہوا تھا۔ ایک ماحول بنا تھا کہ کرپشن چاہے معاشرے کے کسی بھی شعبے میں اسکو صاف کیا جائے گا۔ لیکن معاملہ ایک خاندان سے آگے نہیں جاسکا۔ اور یہ بھی کہ اب حکمران پارٹی کو توڑنے اور اس کو انتخابات جیتنے سے دور رکھنے کی بات کی جارہی ہے۔ 
ایک مضبوط سیاسی نظام میں جب انتخابات قریب ہوتے ہیں تو پارٹیوں میں شمولیت کے اعلانات ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا سیاسی نظام ایسا ہو چکا ہے جس میں انتخابات کے موقع پر اراکین اسمبلی پارٹیاں چھوڑ رہے ہیں۔ وہ نواز لیگ سے اور پنجاب میں جہاں اس پارٹی کیووٹ حاصل کرنے کی قوت میں حالیہ واقعات کے بعد اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ خیال پکٹة کردیا گیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں آزاد ہی اہم ہونگے، ان کی ہی مارکیٹ ہوگی۔ بلوچستان اور سینیٹ کی طرح ان کے ذریعے وفاق اور پنجاب میں نواز لیگ کو حکومت بنانے سے روکا جائے گا۔
 نواز شریف سمجھتے ہیں کہ الیکشن لڑنے کیلئے سب کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں لیکن کچھ کیلئے کھلا میدان تو کسی کو بند گلی میں دھکیلا جارہا ہے، یہ قبل از انتخابات دھاندلی ہے، ہم غیر شفاف الیکشن کی طرف جارہے ہیں جن کے نتائج کو کوئی قبول نہیں کریگا۔ پنجاب میں بننے والے نئی گروپوں کے بعد یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ اس بڑے صوبے میں خود تحریک انصاف کو بھی واضح اکثریت نہیں مل رہی ہے یا لوگ اس طرف نہیں جارہے ہیں۔ لہٰذا چھوٹے گروپوں والا فارمولا ہی اپنایا جارہا ہے۔ آئندہ انتخابا ت کا تجزیہ اس طرح سے کیا جارہا ہے۔ بلوچستان کی 16،فاٹا کی 12اور شہری سندھ کی 21نشستیں ملا کرتقریباً 50کا گروپ بنتا ہے۔ یہ وہ گروپ براہ راست اسٹبلشمنٹ کے زیر اثر ہے۔ یہاں پر کئے گئے آپریشن سیاسی معنوں میں بھی آپریشن ثابت ہوئے۔ پیپلزپارٹی کے پاس دیہی سندھ کی 36 نشستیں ہیں۔ جب پیپلزپارٹی وفاق میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تو ان نشستوں کو کسی اور امیدوار کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا میں سیاست کا رخ سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر متعین ہو چکا ہے۔ اس کو آئندہ ناتخابات میں مزید مضبوط کرنے کے لئے متحدہ مجلس عمل کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ سب سے زیادہ مشکل پنجاب ہے جہاں قومی اسمبلی کی 141نشستیں ہیں۔ اصل لڑائی اس میدان میں ہے۔ گزشتہ ہفتے پنجاب میں ایک اور سیاسی مظہر سامنے آیا ہے۔ پنجاب میں یہ مظہر غیر متوقع نہیں تھا۔ اس کا انتظار تھا کہ کون سے علاقے سے اور کونسے بیانیے کے ساتھ یہ مظہر سامنے آتا ہے۔ نواز مسلم لیگ کے دس ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے پارٹی چھوڑنے ، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے اتحاد بنانے اور عام انتخابات آزاد حیثیت میں لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ ان ارکان نے ماضی میں کبھی جنوبی پنجاب صوبے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔اب یہ شک یقین میں تبدیل ہو گیا ہے کہ آئندہ الیکشن بھی انجینئرڈ ہوں گے۔ان دس اراکین اسمبلی کی وفاداری تبدیل ہونے کو پنجاب میں پہلا تحرک قرار دیا جارہا ہے کہ وہاں کس طرح کی جوڑ توڑ ہوگی۔ پیر پاگارا اور چوہدری شجاعت حسین نے وسیع تر محاذ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نواز لیگ کی عمارت گرنے جارہی ہے، وہ اس ملبے سے جو کچھ اٹھا سکتے ہیں اٹھا لیں۔ 
ایک تجزیہ نگار کے مطابق پنجاب میں ن لیگ کی نشستیں آدھی رہ جائیں۔ باقی 70نشستیں مختلف گرپوں اور سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔ ان میں سے 35نشستیں کے لگ بھگ نشستیں 2013 کےا نتخابات میں تحریک انصاف نے جیتی تھی۔ ممکن ہے کہ اب یہ تعداد پچاس ساٹھ تک ہو جائے۔ ساٹھ نشستوں کے ساتھ تحریک انصاف حکومت نہیں بنا سکے گی۔ ایک معلق پارلیمنٹ سامنے آئے گی۔ نواز لیگ کی حکمت عملی یہ ہوگی کہ وہ پنجاب سے ایک سو تک نشستیں جیت پائے۔ تاکہ اسکو نظر انداز نہیں کیا جا سکے۔ 
 ایسے میں آزاد امیدوار تیار ہونگے جس کو تمام جماعتیں ووٹ دے سکیں۔ لیکن یہ سب کچھ بہت ہی زیادہ انجنیئرڈ ہو گا۔ جو کہ حقیقی معنوں میں عوام کے کسی بھی طبقے یا حصے کا نمائندہ نہیں ہوگا۔ اس طرح کے تجربات ماضی میں ایوب خان، مشرف اور ضیاءالحق کر چکے ہیں۔ ایسا کوئی حل دیرپا نہیں ہوتا۔ 




Thursday, April 12, 2018

نئی حکمت عملی: زرداری نے بات کھول دی

April 5, 2018
 نئی حکمت عملی: زرداری نے بات کھول دی 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اب نقشہ واضح ہوتا ہو نظر آتا ہے کہ ملکی سیاست کا منظر کیا بننے جارہا ہے؟ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری جو کہ انتخابات میں حصہ لینے والی پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے چیئرمین بھی ہیںوہ اب یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں وہ نواز لیگ کو حکومت میں نہیں آنے دیں گے۔ انہوں اس ضمن میں بلوچستان میں زہری حکومت کے خامتے کے بعد عبالقدوس بزنجو حکومت کے قیام اور سینیٹ کے انتخابات کا اس طرح سے حوالہ دیا۔ جس میں وہ کہتے ہیں کہ اس فارمولے کو ّئندہ انتخابات کے لئے بھی آزمایا جائے گا۔ میاں صاحب سے اب صلح نہیں ہوگی،ان سے جنگ جاری رہے گی۔جب وہ ختم ہوجائیں گے تو پھر بات کرنے پر غور کیا جائے گا۔ ان کے پاس نواز لیگ کے خلاف اس طرح کا رویہ رکھنے کی جسٹیفکیشن یہ ہے کہ چونکہ نواز شریف نے ان کے ساتھ ایسا کیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ جب چاہیں نوازلیگ کی حکومت گراسکتے ہیں۔ اس مرتبہ زرداری صاحب ایک قدم اور آگے بڑھے ہیں کہپنجاب کی وزارت اعلی بھی نواز شریف کو نہیں لینے دیں گے،آپ کا وزیراعلیٰ بھی لیں گے ،ہم جلدپنجاب میں نکلیں گے اورتخت رائیونڈہلائیں گے۔ ہم کسی کے ساتھ مل کربھی حکومت بنائیں مگر آپ سے نہیں ملیں گے۔
 آصف علی زرداری کا ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقعہ پر یہ خطاب ان تمام باتوں کو واضح کر رہا ہے کہ جو عام طور پر تجزیوں اور تبصروں میں کی جارہی تھیں۔ یاجن کا تاثر مل رہا تھا۔ انتخابات میں ہنگ پارلیمنٹ آئے گی یعنی کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی اور پنجاب میں نواز لیگ آئے گی۔وفاق میں پیپلزپارٹی, نواز لیگ اور تحریک انصاف بڑی پارٹیاں ہونگی۔ تحریک انصاف نواز لیگ کے ساتھ حکومت میں نہیں بیٹھ سکتی۔ لہٰذا دو ہی آپشن باقی رہتے ہیں ایک یہ کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی حکومت بنائیں ، جس کے لئے آصف علی زرداری نے اب واضح طور پر انکار کردیا ہے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی حکومت بنا ئیں۔ 
 سیاسی مارکیٹ میں یہ بات عام تھی اور لوگوں نے ذہنی طور پر اس کو قبول بھی کر لیا تھا کہ چاہے نواز لیگ کو وفاق میں حکومت نہ ملے لیکن پنجاب میں اس کی ہی حکومت بنے گی۔ اب زرداری صاحب یہ فارمولہ دے رہے ہیں کہ پنجاب میں بھی نواز شریف کو آنے نہیں دیں گے۔ وہ نواز شریف کے ساتھ لمبی جنگ لڑنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میاں صاحب اب ایک لمبی جنگ کے لئے تیار رہیں ۔ زرداری صاحب کے اس فارمولے کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب میں چاہے کوئی اور حکومت بنا لے، لیک نواز لیگ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب میں نیا سیٹ اپ بلوچستان جیسا بننے جارہا ہے۔یعنی وہی نسخہ جو بعد میں سینیٹ کے انتخابات میں آزمایا گیا۔ نسخہ یہ ہے کہ ” نہ تیر انہ میراِ ‘ ‘ یعنی کوئی تیسرا وزیراعلیٰ بن جائے۔ جس کو باقی دو بڑی جماعتیں یعنی پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ووٹ کریں۔ 
یہ سب کیسے ہوگا؟ اس صورتحال کا عندیہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی بدھ کے روز صحافیوں سے بات چیت سے بھی ملتا ہے۔ انہوں نے اس خطرے کا اشارہ دیا ہے کہ ممکن ہے کہ حلقہ بندیوں کی آڑ میں انتخابات ملتوی کردیئے جائیں۔ انہوں نے سیاسی چائنا کٹنگ میں نیب کے رول کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے نیب کا دباﺅ سیاست دانوں پر ڈالا جائے گا۔وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران متعدد اراکین اسمبلی نے وفاداریا ں تبدیل کی ہیں۔ جس میں زرداری اور عمران خان ملوث ہیں۔ نواز شریف کو طویل مدت کے نگراں سیٹ اپ کا بھی خطرہ ہے۔ جس کا وہ اظہار کر چکے ہیں۔ 
نواز شریف اور نواز لیگ کے موقف میں عدلیہ کے بارے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ بلکہ پارٹی، اس کی ھکومت اور میاں نواز شریف کا موقف یک جیسا ہی ہے۔ اس اعادہ ایک بر پھر میاں نواز شریف نے ان الفاظ میںکیا ہے: چیف جسٹس سمجھتے ہیں کہ وہ اکیلے انتظامیہ اور پالیمنٹ کے مالکی معاملات چلا لیں گے۔ پہلے وہ لاکھوں التوا میں مقدمات تو نمٹالیں۔ وہ ا پنے مقدمے کے بارے میں کوئی زیادہ پرامید ہیں۔ لہٰذا وہ اب اس کو سیاسی بنا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمارے مقدمے کی کارروائی لائیو ٹی پر دکھائی جائے۔ تاکہ لوگ دیکھ سکیں کی مقدمے میں کیا ہو رہا ہے۔ میاں صاحب کے مقدمے کے بارے میں وزیراعظم کچھ یوں کہتے ہیں کہ: میں برملا کہتا ہوں کہ مجھے کوئی توقع نہیں کہ اس نیب عدالت سے نواز شریف کو انصاف ملے گا۔ عدلیہ پنے موقف پر قائم ہے سپریم کورٹ میں نیشنل مینجمنٹ کالج لاہور کے 60رکنی وفد کی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے ملاقات، چیف جسٹس نے آئین 1973کے تحت بتایا کہ ریاست اور اس کے تینوں ستون مقننہ ، عدلیہ ، انتظامیہ کس طرح فنکشن کرتے ہیںاور وہ کس طرح ایک دوسرے سے مربوط ہیں، ریاست کی مجموعی مشینری اجتماعی طورپر محنت ، ایمانداری، آزادی سے کس طریقہ کار کے تحت اپنی اپنی حدود میں آئین کے تحت فرائض سرانجام دیتی ہے،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں وہ آئین پر عمل درآمد کرواتی ہے، سپریم کورٹ ملک کی سنیئر بیورو کریسی کے ساتھ مل کر شہریوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو ممکن بناتی ہے۔
ایک خیال یہ بھی ہے کہ نواز شریف اب اکیلے ہو گئے ہیں۔ اس ضمن میں شہباز شریف کا چیف آف آرمی اسٹاف کے لئے تعریفی کلمات کا خاص طور پر حوالہ دیا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اآئندہ انتخابات اور اس کے بعد وہ پالیسی اپنانے جارہے ہیں جو بلوچستان اور سینیٹ میں اختیار کی گئی تھی۔ یعنی چھوٹی پارٹیوں، گروپوں اور چھوٹے صوبوں کو ساتھ ملا کر نواز لیگ کے خلاف کھڑا کرنا۔ اس ضمن میں اسٹبلشمنٹ اہم رول ادا کر سکتی ہے۔ اس رول کو روکنے کے لئے شہباز شریف کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کے لئے سویلین اور فوج کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ 
 اسی طرح وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کوشاں ہیں کہ نواز لیگ پارٹی میں موجود تمام لہجوں اور رنگوں کو برقرار رکھ سکیں۔ یہاں تک کہ وہ چوہدری نثار علی خان کے لئے بھی پر امید ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چوہدری نثار پارٹی چھوڑ کر کہاں جائیں گے ، شکوے اپنوں سے ہوتے ہیں۔ وہ پر امید ہیں کہ جلد ہی دور ہو جائیں گے۔ شاہد خاقان عباسی کا یہ کہنا ذرداری کی حکمت عملی کا توڑ نکالنے کی طرف اشارہ ہے۔ جو نسخہ بلوچستان میں آزمایا گیا، اب یہ نسخہ پنجاب میں آزمانے کی کوشش کی جائے گی۔ اور ملک کے اس بڑے صوبے میں چھوٹے گروپ تلاش کئے جائیں گے اور ان کی مدد لی جائے گی۔