Water policy and 1991 water accord
پانی کا تنازع اور قومی واٹر پالیسی
واٹر پالیسی: 1991کے معاہدے کی تنسیخ ہے یا تسلسل؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت منعقدہ مشترکہ مفادات کی قومی کونسل نے واٹر چارٹر کے نام سے قومی پالیسی کی منظوری دیدی ہے۔ طویل عرصے تک زیر بحث اس چارٹر پر چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ نے دستخط کر دیئے ہیں۔۔ دریاءکے آخری سرے پر ہونے کی وجہ سے پانی سے متعلق چھوٹا سا فیصلہ بھی سندھ کے لئے اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ سندھ کی شکایات کو مختصرا یوں بیان کیا جاسکتا ہے: جو معاہدے کئے جاتے ہیں ان پر عمل نہیں ہوتا۔ سمندری پانی کی مداخلت لاکھوں ایکڑ زمین زیر آب آجاتی ہے۔اس کے لئے ڈاﺅن اسٹریم کوٹری پانی نہیں دیا جاتا۔ پنجاب پانی کی کمی کی صورت میں اس خسارے میں حصیدار نہیں بنتا۔ سندھ کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے صوبے میں ماحولیاتی اور معاشی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق میثاق میں سندھ کی بعض اہم مختلف تجاویز منظور کی گئی ہیں ۔پالیسی میں 1991 کے پانی کے معاہدے پر روح کے ساتھ عمل کرنا، سمندر کے پانی کے چڑھاﺅ کو روکنا، اور آخری سرے پر موجود زمینوں کی ماحولیاتی اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے بعد ہی کوئی نیا پانی کا ذخیرہ تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ اس پالیسی میں اتفاق رائے سے بڑے ڈیم تعمیر کرنے کا نقطہ بھی شامل ہے۔
زندگی خواہ انسانی ہو یا جانوروں کی یا دیگر حشرات اور پیڑ پودوں کی پانی اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔پپانی صرف پینے اور صحت صفائی کے لئے ہی نہیں بلکہ غلہ اور خوراک پیدا کرنے کے لئے بھی چاہئے۔ پانی کی قلت ملک میں غربت کا بھی تعین کرتی ہے۔ پاکستان میں بارشوں، دریاﺅں کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کے ذخائر ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے بعد پاکستان کو صرف دو دریاﺅں یعنی جہلم اور چناب کا پانی میسر ہے، جبکہ راوی، ستلج اور بیاس کا پانی انڈیا کی مرضی پر ہے۔ صورتحال کچھ ایسی ہے کہ 5 ہزار گلیشر رکھنے ولا شمالی علاقہ جات سے لیکر جنوب کے سخت سخت صحرا تک کوئی بھی اس بحران اور پانی کی شدید قلت سے نہیں بچ سکے گا۔
پاکستان کی معیشت خاص طور پر زراعت ایسی ہے جس کو بہت سارا پانی چاہئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پانی کے بحران کی زد میں موجود ملکوں میں پاکستان کا ساتواں نمبر ہے۔ آج کل پاکستان میں 153 ملین فٹ دریائی پانی اور 24 ملین ایکڑ فٹ زیر زمین پانی موجود ہے۔ سال 2025 میں پاسکتان میں 33 ملین ایکڑ فٹ پانی کی قلت کا سامنا پڑے گا۔
سندھ کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ ترقی کی راہ میں خواہمخواہ رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ عملایہ تاثر غلط ہے ۔سندھ نے ہمیشہ ملک کی ترقی کے لے قربانیاں دی ہیں۔ روینیو سے لیکر معدنی وسائل تک سندھ ہی سب سے بڑا حصہ دیتا ہے۔ اصولی بات ہے کہ جو معاہدے کئے گئے ہیں ان پر عمل درآمد کیا جائے۔ اگر وفاق 1991 کے پانی کے معاہدے پر عمل درآمد کراتا کیا سندھ میں پانی کے حوالے سے اتنے خدشات پیدا ہوتے؟ اس معاہدے میں ڈاﺅن اسٹریم کوٹری مقررہ مقدار میں پانی دینے کی شق شامل تھی۔ سندھ مطالبہ کرتا رہا، لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس کے برعکس پنجاب پانی کی شدید قلت کے دوران بھی اپنی مرضی سے پانی لیتا رہا ہے۔ اور ان کینال میں بھی پانی لیتا رہا جو صرف سیلاب کے موسم میں بہائے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ نے حالیہ واٹر پالیسی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور اپنی تجاویز رکھیں۔
یہ درست ہے کہ پانی کی وجہ سے پاکستان کے افغانستان اور انڈیا کے ساتھ تنازعات ہیں جن پر بات چیت چل رہی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تنازعات اندرونی طور پر ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ امن کے مطابق پانی کی قلت، قحط، سیلاب اور مقامی سطح پر پانی کی بد انتظامی کی وجہ سے ملک خواہ مکٹلف علاقوں کے درمیان کشیدگی بعض صورتوں میں تنازعات کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ان تنازعات میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے لہٰذا ان معاملات کو سیاسی، معاشی اور ماحولیاتی نقطہ نظر سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں 3.2 کی شرح سے آبادی مین اضافہ وہ رہا ہے۔ آج ہم 200 ملین افراد کی پانی کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔ اگر آبادی میں اضافے کی یہی شرح رہی، 2025 میں ملک کی آبادی دگنی ہو جائے گی۔عالمی حرارت اور سوسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے زیر زمین پانی کا استعمال مسائل میں مزید اضافہ کرے گا۔ ملک 1990 کے عشرے میں پانی کی کمی کے لائین میں تھا، جو 2005 میں پانی کی شدید قلت کے نقطہ پر پہنچ گیا ہے۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ سندھ کے علاقے تھر میں کول کے استعمال کے چکر میں کول کمپنی لاکھوں ملین ایکڑ فٹ پانی رن آف کچھ میں بہا رہی ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسی جگہ پر ہو رہا ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے، اور یہ علاقہ ہر دوسرے تیسرے سال قحط سالی کا شکار ہوتا ہے۔
چاروں صوبوں کی رضامندی سے اب پانی کا نیا میثاق بن گیا ہے ۔لیکن شکوک و شبہات تاحال موجود ہیں۔ اس موقع پر یہ یاد دلانا لازم ہے جن کے بغیر پانی کا تنازع ختم نہیں ہو سکتا۔ سب سے اہم امر کئے گئے معاہدے پر عمل درآمد ہے۔ اس کا حترام ہے۔ جو بھی تحریری معاہدہ ہو اس پر عمل درآمد لازمی ہے۔
اگرچہ میثاق کی مکمل تفصیلات ابھی آنا باقی ہیں ، تاہم حالیہ میثاق میں سندھ کی مقبول رائے عامہ کے برعکس بڑے ڈیموں کا نقطہ بھی شامل ہے۔ سندھ 1991 کے معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کے وعدے کی وجہ سے راضی ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندر کے پانی کو روکنے کے لئے بھی پانی دیا جائے گا۔ اور ماحولیات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ اگر یہ تمام وعدے پورے ہوتے ہیں 1991 کے معاہدے کے مطابق ڈاﺅن اسٹریم کوٹری پانی چھوڑا جاتا ہے،پانی کا کوئی بھی ذخیرہ تمام صوبوں کی رضامندی کے بعد تعمیر کیا جاتا ہے تو اس میں کوئی خرابی نہیں۔ یہاں دو سوالات موجود ہیں پہلا یہ کہ کیا یہ میثاق 1991 کے معاہدے کی تنسیخ ہے یا اس کا تسلسل؟ دوئم یہ ہ میثاق کا بھی 1991 کے معاہدے جیسا ہی حشر ہوتا ہے یا واقعی دل و جان سے اس پر عمل ہوگا؟ یاد رہے کہ سندھ کا پانی کی تقسیم کے بارے میں پہلے ہی اعتماد ٹوٹا ہوا ہے۔
پا کستان کے آبی وسائل پرتحقیق کے ادارے کاکہنا ہے کہ زیر زمین پانی کے ذخائر کا ختم ہونا ملک کے بڑے شہروں میں پانی کے بحران میں شدت پیدا کرے گا۔اور قحط جیسی صورتحال بن سکتی ہے۔ صورتحال کو جنگی بنیادوں پر نہ نمٹا گیا تو پاکستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ پانی کی شدیدقلت کا شکار ہو جائے گا۔پانی کی تقسیم کے مکینزم میں کرپشن اور بدانتظامی ہے۔ سندھ اور پنجاب میں پانی کی باری پر جھگڑے، ان کے نتیجے میں قتل اور مقدمہ بازی ، سیاسی اثر کا استعمال عام سی بات ہیں۔ہاں تک کہ بعض صورتوں میں کینالوں اور شاخوں پر رینجرز کو بھی تعینات کیا جاتا رہا ہے۔ معاشی اثرات کی وجہ سے آبادی میں جھگڑے بڑھ رہے ہیں۔ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے سیاسی اثرات بھی ہیں۔ اس ضمن میں کالا باغ ڈیم کے خلاف سندھ اور خیبر پختونخوا میں تحریکیں حال ہی کی بات ہیں۔اس کے علاقہ صوبائی سطح پر پانی کی فراہمی حکمران سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
پانی کی قلت ملک میں سلامتی کے معاملات کھڑے کر دیئے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کا معیشت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ لوگ پانی کے حصول کے لئے لڑ رہے ہیں۔ ملک کے تین صوبے بڑے صوبے پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ اکثریتی اور سیاسی طور پر طاقتور صوبے پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ ان کے حصے کا پانی لے جاتا ہے۔ بلوچستان کوسندھ سے شکایت ہے کہ وہ اس کے حصے کا پانی نہیں دیتا۔ بعض لوگ دہشتگردی کو ملک کا سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں لیکن پانی کی قلت اس سے بھی بڑا مسئلہ بننے جارہی ہے۔
واٹر پالیسی: 1991کے معاہدے کی تنسیخ ہے یا تسلسل؟
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/58473/Sohail-Sangi/Pani-Ka-Tanaza-Aur-Qaumi-Water-Policy.aspx
واٹر پالیسی: 1991کے معاہدے کی تنسیخ ہے یا تسلسل؟
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/58473/Sohail-Sangi/Pani-Ka-Tanaza-Aur-Qaumi-Water-Policy.aspx
http://politics92.com/singlecolumn/58473/Sohail-Sangi/Pani-Ka-Tanaza-Aur-Qaumi-Water-Policy.aspx
http://politics92.com/singlecolumn/58473/Sohail-Sangi/Pani-Ka-Tanaza-Aur-Qaumi-Water-Policy.aspx