انتخابات کا نقشہ
میرے دل میرے مسافر
سہیل سانگی
سابق وزیر اعظم نواز شریف اب خود کہ ہ رہے ہیں کہ انہیں اڈیالہ جیل بھیجنے کی تیاریاں ہو چکی ہیں۔ یعنی میاں نواز شریف احتساب عدالت سے سزا کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں ۔ایک اور منتخب وزیراعظم کو سزا ہونے جارہی ہے۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں پاکستان کی تاریخ ایک اور دلچسپ بات رقم ہونے جارہا ہے۔ جنہوں نے آئین توڑا، اقتدار پر قبضہ کیا، ان کو سزا نہیں ملی۔ کیا سزا صرف نواز شریف کو ملے گی؟ مریم نواز باہر رہتی ہیں تو نواز شریف کی سیاسی قوت کو مدد ملے گی لہٰذا مریم نواز کو بھی جیل بھیجنا ضروری قرار دیا جارہا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کی سخت آبزرویشنز کے بعد احتساب عدالت کے جج کا مختلف فیصلہ دینا مشکل لگتا ہے۔ ویسے بھی احتساب عدالتین سزا ہی دیتی ہیں ۔اگر نواز شریف کو سزا ہوتی بھی ہے تو یہ ایک وقتی عمل ہوگا۔ کیونکہ سزا کے خلاف اپیل ہوگی اور ضمانت بھی ہو سکتی ہے۔
سیاستدانوں کیلئے جیل جانا عجیب بات نہیں لیکن نواز شریف کا مقدمہ مختلف انداز کا ہے۔ آج صورتحال کچھ مختلف ہے۔ آگے چل کر صورتحال تبدیل ہوگی۔ مختلف اہم عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ان عہدوں سے ہٹیں گے، تو خود جے آئی ٹی کے بارے میں بعض قانونی نکات بھی سامنے اٹھیں گے۔ جے آئی ٹی کے تین اراکین نواز شریف کے سیاسی مخالف ہیں۔ اس بات کے بھی ثبوت موجود ہیں کہ جے آئی ٹی لابنگ کے ذریعے بنائی گئی۔ بعض واٹس اپ پیغامات کا بھی ذکر ہوتا رہا۔
جہاں تک نواز شریف کے سیاسی موقف کا متعلق ہے انہیں سزا ملے یا قید، وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں۔اس موقف کو بھلے کبھی نظریاتی کبھی اصولی کا نام دیں، اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ ان جیل جانے ہیں سے ان کی سیاست کو قوت ملے گی۔
سیاست میں گزشتہ چند ماہ سے رونما ہونے والے واقعات کے بعد انتخابات کا شفاف اور بامقصد ہو نا ناممکن سا لگ رہا ہے۔ بلوچستان اور سینیٹ میں اراکین اسمبلی کی خرید فروخت نے پورے سیاسی نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس میں سیاسی جماعتیں غیر اہم ہو کر رہ گئی ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہ ہونا، پارٹی کے اندر فیصلہ سازی اور تنظیم سازی کے عمل وغیرہ کے حوالے سے اگرچہ بعض سوالات موجود ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتوں کی یہ شکل بھی ایک طویل جدوجہد کے بعد بنی ہے اور انہوں نے خود کو بطور جماعت تسلیم کرایا۔ تعجب کی بات ہے کہ سیاست اور ارکین اسمبلی کے اسٹاک مارکیٹ میں اتنا ابڑا بزنیس ہوا لیکن ہمارے ادارے اور عدلیہ نے اس کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔
مضبوط جماعتی سیاسی نظام ہی جمہوریت کے فروغ و استحکام کا باعث بنتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو شکست و ریخت کا ہدف سیاسی نظام اور جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں سابق سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے بھی اس صورتحال کے مضمرات اور نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔
ملک میں کرپشن کا بیانیہ مضبوط ہوا تھا۔ ایک ماحول بنا تھا کہ کرپشن چاہے معاشرے کے کسی بھی شعبے میں اسکو صاف کیا جائے گا۔ لیکن معاملہ ایک خاندان سے آگے نہیں جاسکا۔ اور یہ بھی کہ اب حکمران پارٹی کو توڑنے اور اس کو انتخابات جیتنے سے دور رکھنے کی بات کی جارہی ہے۔
ایک مضبوط سیاسی نظام میں جب انتخابات قریب ہوتے ہیں تو پارٹیوں میں شمولیت کے اعلانات ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا سیاسی نظام ایسا ہو چکا ہے جس میں انتخابات کے موقع پر اراکین اسمبلی پارٹیاں چھوڑ رہے ہیں۔ وہ نواز لیگ سے اور پنجاب میں جہاں اس پارٹی کیووٹ حاصل کرنے کی قوت میں حالیہ واقعات کے بعد اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ خیال پکٹة کردیا گیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں آزاد ہی اہم ہونگے، ان کی ہی مارکیٹ ہوگی۔ بلوچستان اور سینیٹ کی طرح ان کے ذریعے وفاق اور پنجاب میں نواز لیگ کو حکومت بنانے سے روکا جائے گا۔
نواز شریف سمجھتے ہیں کہ الیکشن لڑنے کیلئے سب کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں لیکن کچھ کیلئے کھلا میدان تو کسی کو بند گلی میں دھکیلا جارہا ہے، یہ قبل از انتخابات دھاندلی ہے، ہم غیر شفاف الیکشن کی طرف جارہے ہیں جن کے نتائج کو کوئی قبول نہیں کریگا۔ پنجاب میں بننے والے نئی گروپوں کے بعد یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ اس بڑے صوبے میں خود تحریک انصاف کو بھی واضح اکثریت نہیں مل رہی ہے یا لوگ اس طرف نہیں جارہے ہیں۔ لہٰذا چھوٹے گروپوں والا فارمولا ہی اپنایا جارہا ہے۔ آئندہ انتخابا ت کا تجزیہ اس طرح سے کیا جارہا ہے۔ بلوچستان کی 16،فاٹا کی 12اور شہری سندھ کی 21نشستیں ملا کرتقریباً 50کا گروپ بنتا ہے۔ یہ وہ گروپ براہ راست اسٹبلشمنٹ کے زیر اثر ہے۔ یہاں پر کئے گئے آپریشن سیاسی معنوں میں بھی آپریشن ثابت ہوئے۔ پیپلزپارٹی کے پاس دیہی سندھ کی 36 نشستیں ہیں۔ جب پیپلزپارٹی وفاق میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تو ان نشستوں کو کسی اور امیدوار کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا میں سیاست کا رخ سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر متعین ہو چکا ہے۔ اس کو آئندہ ناتخابات میں مزید مضبوط کرنے کے لئے متحدہ مجلس عمل کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ سب سے زیادہ مشکل پنجاب ہے جہاں قومی اسمبلی کی 141نشستیں ہیں۔ اصل لڑائی اس میدان میں ہے۔ گزشتہ ہفتے پنجاب میں ایک اور سیاسی مظہر سامنے آیا ہے۔ پنجاب میں یہ مظہر غیر متوقع نہیں تھا۔ اس کا انتظار تھا کہ کون سے علاقے سے اور کونسے بیانیے کے ساتھ یہ مظہر سامنے آتا ہے۔ نواز مسلم لیگ کے دس ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے پارٹی چھوڑنے ، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے اتحاد بنانے اور عام انتخابات آزاد حیثیت میں لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ ان ارکان نے ماضی میں کبھی جنوبی پنجاب صوبے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔اب یہ شک یقین میں تبدیل ہو گیا ہے کہ آئندہ الیکشن بھی انجینئرڈ ہوں گے۔ان دس اراکین اسمبلی کی وفاداری تبدیل ہونے کو پنجاب میں پہلا تحرک قرار دیا جارہا ہے کہ وہاں کس طرح کی جوڑ توڑ ہوگی۔ پیر پاگارا اور چوہدری شجاعت حسین نے وسیع تر محاذ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نواز لیگ کی عمارت گرنے جارہی ہے، وہ اس ملبے سے جو کچھ اٹھا سکتے ہیں اٹھا لیں۔
ایک تجزیہ نگار کے مطابق پنجاب میں ن لیگ کی نشستیں آدھی رہ جائیں۔ باقی 70نشستیں مختلف گرپوں اور سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔ ان میں سے 35نشستیں کے لگ بھگ نشستیں 2013 کےا نتخابات میں تحریک انصاف نے جیتی تھی۔ ممکن ہے کہ اب یہ تعداد پچاس ساٹھ تک ہو جائے۔ ساٹھ نشستوں کے ساتھ تحریک انصاف حکومت نہیں بنا سکے گی۔ ایک معلق پارلیمنٹ سامنے آئے گی۔ نواز لیگ کی حکمت عملی یہ ہوگی کہ وہ پنجاب سے ایک سو تک نشستیں جیت پائے۔ تاکہ اسکو نظر انداز نہیں کیا جا سکے۔
ایسے میں آزاد امیدوار تیار ہونگے جس کو تمام جماعتیں ووٹ دے سکیں۔ لیکن یہ سب کچھ بہت ہی زیادہ انجنیئرڈ ہو گا۔ جو کہ حقیقی معنوں میں عوام کے کسی بھی طبقے یا حصے کا نمائندہ نہیں ہوگا۔ اس طرح کے تجربات ماضی میں ایوب خان، مشرف اور ضیاءالحق کر چکے ہیں۔ ایسا کوئی حل دیرپا نہیں ہوتا۔
No comments:
Post a Comment