Sunday, April 29, 2018

سندھ میں سیاسی متبادل کی سنجیدہ کوشش

Serious effort of alternative in Sindh 
 میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
بھٹو اس صدی کا بڑا سیاستدان تھا۔ انہوں نے پاکستان خواہ سندھ کے درمیانی طبقے کو متحرک کر کے ملک میں سیاسی ، سماجی اور معاشی تبدیلی لے آئے۔ گزشتہ عشرے تک آج ملک مجموعی طور پر دو حصوں میں بٹا رہا ایک وہ جو بھٹو کے حامی تھے دوسرے وہ جو بھٹو کے مخالف تھے۔بھٹو کا سایہ اتنا بڑا تھا کہ اسٹبلشمنٹ ایک عرصے تک اس سائے سے لڑتی رہی۔ اس کے لئے مختلف نسخہ ہائے آزمائے۔ پہلے سیاست پر بندش رہی، پھر غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے ۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی مخالف جماعتوں اور گروہوں کو اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر جمع کیا گیا۔ اس عمل کو مسلسل جاری رکھا گیا۔ اس دوران ملکی معیشت میں نئے طبقات اور معاشی پرتیں وجود میں آئی۔ ان کی مدد سے اسلامی جمہوری اتحاد کے بجائے ایک پارٹی میں تبدیل کیا گیا۔ اور وہ تھی پاکستان مسلم لیگ۔ آگے چل کر مسلم لیگ مزید حصوں میں بٹ گئی۔ ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں مسلم لیگ بنانے سے کام چل گیا لیکن باقی چھوٹے صوبوں میں مختلف حکمت عملی اختایر کی گئی۔ خیبرپختونخو میں مذہبی جماعتوں کو مضبوط کیا گیا۔ سندھ میں لسانی بنیاد پر تقسیم کی گئی، اور شہری اور دیہی کی بنیاد پر سیاست کو بانٹ دیا گیا۔ 
 سندھ میں قوم پرستوں کو پیپلزپارٹی کے مد مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن قوم پرست صوبے میں موجود مضبوط سوچ کے باوجوداقتدار کے ایوانوں میں اپنی جگہ نہیں بنا سکے۔ قوم پرستوں کی اس ناکامی کے ایک سے زائد اسباب ہیں۔ پیرپاگارا ، وڈیروں کے گروہوں کو ایم کیو ایم کے ساتھ ملا کر حکومتیں بنائی جاتی رہیں لیکن کوئی سیاسی متبادل سامنے نہیں آیا۔ کوئی نظریہ تھا اور نہ کوئی قدآور شخصیت کو اقتدار کے لئے جنگ کرنے والے گرہوں کو اپنی چھتری کے نیچے لے سکے۔ وفاقی سطح پر پیپلزپارٹی کا متبدال نواز لیگ بنتی رہی۔ چونکہ نواز لیگ سندھ سے ووٹ لیئے بغیر حکومت بنا سکتی تھی۔ لہٰذا اس جماعت نے سندھ پر توجہ نہیں دی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سندھ میں صورتحال یہ رہی کہ کبھی بھی کسی سیاسی جماعت نے سنجیدگی کے ساتھ نہ کام کیا اور نہ ہی تنظیم کاری کی۔ نواز لیگ اس حد تک سندھ کو توجہ دیتی تھی کہ چار چھ نشستیں حاصل کرلے تاکہ وہ ملکی سطح کی نمائندہ جماعت کی دعوا کر سکے۔ باقی ضرورت پڑنے پر شہری علاقوں سے ایم کیو ایم کاپیر پاگارا سے اتحاد کر کے باقی وڈیروں کو ملا کر صوبے میں پیپلزپارٹی کے بغیر سیٹ اپ بناتی رہی۔ پیر پاگارا نے کبھی بھی بطور سیاسی پارٹی یا سیاسی لیڈر کے عوام سے رجوع کرنے یا تنظیم کاری کاکام نہیں کیا۔ ان کی جماعت سیاسی جماعت کے بجائے روحانی جماعت کے طور پر رہی۔اگرچہ ملک بھر میں گزشتہ تین عشروں تک دو ہی جماعتیں رہی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے ہوم گراﺅنڈ کی وجہ سے اسکی اجارہ داری مضبوط ہوتی گئی۔ پلیجو کی عوامی تحریک اور قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی نے پارلیمانی سیاست کی کوشش کی۔ لیکن وہ بھی کوئی زیادہ جگہ نہیں حاصل کر پائی۔ اسی طرح جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ اقتداری سیاست کے لئے مختلف اتحاوں میں شامل ہوتے رہے۔ تاہم کوئی زیادہ پزیرائی حاصل نہ کر سکے۔ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ سندھ میں شدید قوم پرستانہ رجحانات کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ کو یہ جماعتیں زیادہ قابل قبول نہیں تھی۔ لیکن بلوچستان کا تجربہ اس دلیل کی حمایت نہیں کرتا۔ وہاں مشہور بلوچ قوم پرست لیڈروں یعنی خیر بخش مری، عطائاللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو اور اکبر بگٹی کے بیٹے وقت بوقت حکومت میں رہے۔ اسی طرح سے بلوچستان کے متوسط طبقے کی نمائندہ جماعتیں ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی بلوچ نیشنل موومنٹ، اور بعد میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی نیشنل پارٹی بھی حکومت میں رہی۔ 
محترمہ بینظیر بھٹو کی موجودگی میں متبادل یا مقابلے کی سیاسی جماعت بنانا مشکل تھا۔ ان کی شخصیت، پالیسیاں ، حکمت عملی اور پارٹی کیڈر خواہ عام لوگوں سے رابطے کچھ ایسے تھے کہ سندھ سے نئی قیادت کا ٹ اٹھنا ناممکن لگ رہا تھا۔ محترمہ کے قتل کے بعد ایک نئی پیپلزپارٹی وجود میں آئی۔ کچھ پالیسیوں کی وجہ سے اور باقی پارٹی کی حکمت عملی کی وجہ سے پیپلزپارٹی کا نیا تشخص ابھرا۔ ایک طرح سے پیپلزپارٹی کی قیادت نے بھی عملی طور پر پارٹی کے اندر اس طرح کی حکمت عملی اختیار کی کہ اب لوگ پارٹی کو ذوالفقار علی بھٹو یا بینظیر بھٹو کے بجائے آصف علی زرداری اور دوسرے رہنماﺅں کی وجہ سے پہچانیں۔ آصف علی زرداری کی قیادت میں نئی پیپلزپارٹی سامنے آئی ، ایک مرتبہ پھر محسوس ہوا کہ جگہ موجود ہے۔ لیکن کوئی پارٹی موجود نہیں تھی۔ 
 اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حقوق اور صوبائی خود مختاری کو آئینی اور قانونی تحفظ مل گیا۔ گزشتہ تین عشروں سے قوم پرست گروپوں کی مثبت کارکردگی کی وجہ سے سندھ میں قوم پرست سیاست کرنے کے لئے جگہ کم ہو گئی۔ اس اثناءمیں اس حساس صوبے میںمعاشی خواہ سماجی او سیاسی طور پر نئے طبقات وجود میں ئے۔ نئے تضادات ابھرے۔ پیپلزپارٹی اپنی پالیسیوں اور کلوزڈ کلب کے طور پر رہتے ہوئے ان نئے طبقات کو اپنے اندر سمو نہیں پارہی تھی۔ اور نہ ہی ان کے معاشی اور سیاسی ضروریات کو ایڈریس کر پارہی تھی۔ 
 سندھ میں گزشتہ دو عشروں کے دوران گورننس ، بنیادی سہولیات کے اشوز زیادہ ابھر کر سامنے آئے۔ ایک عرصے سے یہ بات محسوس کی جارہی تھی اور مختلف حلقوں میں مختلف سطحوں پر کہی بھی جارہی تھی کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کا کوئی متبادل نہیں۔ اب ایک ایسی سیاسی جماعت کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جو اول یہ کہ نئے طبقات کے امنگوں اور سیاسی ضروریات کو پورا کرے، دوسرا یہ کہ وہ اپنے جوہر میں زیادہ قوم پرستانہ نہ ہو، تیسرا یہ کہ گورننس کے اشو کو صحیح طور پر ایڈریس کرے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ پر ہے کہ وفاق پرست یا وہ جماعتیں جن کا ہوم گراﺅنڈ کوئی دوسرا صوبہ ہو، سندھ کو سمجھ ہی نہیں پارہے تھے ۔ سندھ ان کی نہ ترجیحات میں شامل تھا۔ اور نہ سندھ کے عوام ان کو قبول کرنے کے لئے تیار تھے۔ 
ایسے ماحول میں علی قاضی نے” تبدیلی پسند پارٹی “ کے نام سے ایک نئی پارٹی کا آغاز کیا ہے۔ اتوار کے روز حیدرآباد میں انہوں نے سیاسی شو کا مظاہرہ کیا۔ یہ شو کسی بڑی پارٹی کے شو سے کسی طور پر بھی کم نہ تھا۔ 
علی قاضی بناید طور پر صحافی ہیں۔ ان کے حصے میںسندھی کی دو اہم میڈیا روزنامہ کاوش اور پہلے سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این کامیابی سے چلانا پہلے سے موجود ہے۔ یہ دونوں میڈیا سندھ میں بہت مقبول ہیں۔ وہ قاضی محمد اکبر کے بیٹے ہیں۔ جو قیام پاکستان سے لیکر ستر کے عشرے تک سندھ کی سیات میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ بعد میں یہ خاندان سیاست سے دور رہا اور خود وک میڈیا تک محدود رکھا۔ 
گزشتہ پانچ سال سے علی قاضی اس کوشش میں رہے کہ سندھ میں وکئی سیاسی متبادل بنے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے سندھ کے مختلف گاﺅں اور شہروں میں مشاورتی اجلاس اور جلسے کئے۔ چند برس پہلے انہوں نے بھٹ شاہ میں بھی بہت بڑا جلسہ منعقد کیا تھا۔ لیکن پارٹی کا اعلان نہیں کیا۔ بھٹ شاہ کے جلسے کے بعد ان کے دوستوں اور دیگر حلقوں کی جانب سے انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ باقاعدہ سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کریں۔ ان کا خبار اور ٹی وی چینل خبروں، بنیادی شہری سہولیات، اور انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ 
وہ کہتے ہیں کہ سندھ میں سیاست کے نئے باب کا آغاز ہوگیا ہے، ”تبدیلی پسند پارٹی“ سندھ میں دیگر جماعتوں کا متبادل ہے، آئندہ الیکشن میں سندھ کے ہر حلقہ سے امیدوار کھڑے کریں گے۔حیدر آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علی قاضی نے کہا کہ پہلے لوگ کہتے تھے کہ ان کے پاس متبادل نہیں لیکن اب متبادل جماعت آگئی ہے، پانچ ماہ قبل الیکشن کمیشن میں تبدیلی پسند پارٹی رجسٹرڈ ہوچکی ہے، یہ جلسہ نئے سندھ کا تعارف ہے۔علی قاضی نے کہا کہ لوگ دلوں سے خوف نکال دیں، الیکشن والے دن تبدیلی کے جذبے سے پولنگ اسٹیشن جائیں اور سندھ کے لوگوں کو بے وقوف سمجھنے والے بے وقوفوں کو مستردکردیں۔“ اپنے اس موقف کی وجہ سے ان تمام سیاسی جماعتوں اور گروہوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ رہیں گے، جو سندھ کی سیات میں اپنے اقتدار اور تسلط کا پنجہ مضبوط رکھنا چاہتے ہیں اور موقع مہل پر وفارادیاں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ 
کسی میڈیا پرسن کا یوں سیاسی جماعت بنانا پاکستان میں پہلا تجربہ ہے۔ دیکھیں سندھ کے عوام اور سندھ میں کوئی متبادل کے خواہان کے پاس علی قاضی کو کتنی قبولیت اور پزیرائی ملتی ہے؟

Sindh Main Siyasi Mutbadil Ki Sanjeeda Koshish By Sohail Sangi (Dated: 10 April 2018)


Nayi Baat, 10 April 2018
http://www.awaztoday.pk/urducolumns/columnist/928/1/Sohail-Sangi.aspx

http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/sindh-main-siyasi-mutbadil-ki-sanjeeda-koshish

No comments:

Post a Comment