Friday, July 29, 2016

سانحہ مئی 12 کی فائل پھر کھلتی ہے

July 29
   نئی بات 

سانحہ مئی 12 کی فائل پھر کھلتی ہے

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔۔ سہیل سانگی 

 کراچی میئر کے لئے متحدہ قومی موومنٹ کے نامزد میئر وسیم اختر کی گرفتاری ڈا کٹر عاصم کے اعترافی بیان کی روشنی میں ہوئی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وسیم اختر، عبدالقادر پٹیل، کنور نوید، مصطفیٰ کمال اور دیگر سیاسی رہنماﺅں کے کہنے پر ان دہشتگردوں کا وہ اپنے ہسپتال میں علاج کرتے تھے جو رینجرز یا پولیس کے مقابلے میں زخمی ہوتے تھے۔ لیکن دوران تفتیش ان پر 12 مئی کے واقعہ میں ملوث قرار دے کر اس سانحہ سے متعلق سات مقدمات میں گرفتاری دکھائی گئی ہے۔ 

12 مئی 2007 کا واقعہ تب رونما ہوا تھا جب چیف جسٹس چوہدری افتخار محمد کو جنرل پرویز مشرف نے ہٹا دیا تھا ۔ صدر مشرف کے اس غیر آئینی اور غیر قانونی حکم کے خلاف ملک بھر میں وکلاء، سیاسی جماعتیں اور دانشوران احتجاج کر رہے تھے۔ 
جسٹس چوہدری افتخار محمد اس تحریک کے دوران ملک کے اہم شہروں کا دورہ کر ہے تھے۔ وہ کراچی بار ایسوسی ایشن کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے اسلام آباد ے کراچی آرہے تھے۔ 

ارباب غلام رحیم صوبائی وزیراعلیٰ تھے اور متحدہ کے وسیم اختر وزیر داخلہ تھے۔ جو کہ صوبے خواہ کراچی میں امن و امان کے لئے ذمہ دار تھے۔ صوبائی حکومت کی بھرپور کوشش تھی کہ جسٹس چوہدری کراچی ایئر پورٹ سے نکل کر شہر میں داخل نہ ہو سکیں۔ جہاں بڑی تعداد میں وکلاءاور دیگر لوگ ان کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھے۔ 
جسٹس چوہدری کے استقبال کرنے کے لئے آنے والوں کو جگہ جگہ پر مسلح افراد نے روکا، سرکاری مشنری نے شہر کی سڑکیں کٹینرز رکھ کر سیل کردی ۔ 

میڈیا کے مطابق ایسا لگ رہا تھا کہ صوبائی دارلحکومت کو یرغمال بنا دیا گیا ہے۔ اس روز پیپلزپارٹی، اے این پی، اور دیگر جماعتیں جو چیف جسٹس کی حمایت کر رہی تھیں ان کی مشرف کی حامی متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں سے مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں۔

شہر میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ پولیس اس موقعہ پر خاموش تماشائی بنی رہی۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس روز پولیس کو ہدایات دی گئی تھی کہ وہ اپنے ساتھ نہ کوئی اسلح رکھیں اور نہ ہی کوئی مداخلت کریں۔ اس واقعہ کے دوران میڈیا کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اور گرو مندر کے علاقے میں ایک ٹی وی چینل کی ہیڈ آفس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اپوزیشن جماعتیں اور میڈیا اس واقعہ کے لئے ایم کوی ایم کو ذمہ دار ٹہراتی رہیں تاہم ایم کیو ایم اس کی تردید کرتی رہی۔ 

اس سانحہ میں مجموعی طور پر 45 افراد مارے گئے جن میں سے عوامی نیشنل پارٹی کے 15 اور پاکستان پیپلزپارٹی کے 14 کارکنان بتائے جاتے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

اس واقعہ کو اب تقریبا دس سال ہو نے والے ہیں۔ وکلائ، سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر حلقوں سے مطالبے باوجود نہ کوئی عدالتی تحقیقات کی گئی اور نہ ہی انتظامی سطح پر صو بائی یا وفاقی حکومت نے تحقیقات کی۔ اور اس ضمن میں کبھی کوئی گرفتاری بھی عمل میں نہیں آئی۔جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی تحقیقات کے مطابق چیف جسٹس کو کراچی شہر میں ہر صورت میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ سرکاری سطح پر کیا تھا۔ 

وزیراعلیٰ اراب غلام رحیم نے اس واقعہ کے بعد بتایا کہ صوبائی حکومت نے یہ اقدامات اس لئے کئے تھے کہ جسٹس چوہدری کے استقبال وغیرہ کی پیشگی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ 

گزشتہ سال فروری میں دہشتگردوں کی تلاش میں محمود آباد کے علاقے میں رینجرز نے چھاپہ مار کر چار افراد کو گرفتار کیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے عبدالرفیق کائیں نامی ایک ملزم سانحہ 12 مئی میں بھی مطلوب ہے۔ 

 2008 سے پیپلزپارٹی حکومت رہی لیکن اس نے بھی اس واقعہ کو نہیں چھیڑا۔ البتہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے رواں سال کی بجٹ تقریر کے دوران یہ اعتراف کیا کہ حکومت کو معلوم ہے کہ سانحہ 12 مئی کس نے کرایا اور کون کون لوگ ملوث ہیں۔ اگرچہ اس تقریر سے پہلے اور نہ ہی بعد میں سندھ حکومت نے اس ضمن میں کوئی کارروائی کی۔ 

 متحدہ کے رہنما وسیم اختر کی حالیہ گرفتاری اور انہیں مزید ریمانڈ کے لئے عدالت میں پیش کرنے کے موقعہ پر ان کو 12 مئی کے واقعہ میں ملوث قرار دیا ۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی میڈیا کو بتائی گئی کہ انہوں نے اس سانحہ میں ملوث ہونے کا مبینہ طوراعتراف کیا ہے۔ اس اعترافی بیان میں انہوں نے مبیہ طور یہ بھی کہا ہے کہ یہ کارروائی پارٹی کے قائد کی ہدایت پر کی تھی۔ 
پولیس کا دعوا ہے کہ انہوں نے اپنے اقبالی بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ غیر فعال چیف جسٹس کی ریلیوں کو روکنے کے لئے یونٹ اور سیکٹر انچارجوں کی ڈیوٹیاں لگائی گئی تھیں۔

 پولیس تحویل میں دینے کے لئے مزید ریمانڈ لینے کی کوشش کی گئی لیکن انسداد دہشتگردی کی عدالت نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ متحدہ نے سرکاری طور پر وسیم اختر کے کسی ایسے اعترافی بیان دینے کی تردید کی ہے۔
گزشتہ ماہ کے تیسرے ہفتے میں انسداد دہشتگردی عدالت نے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی اور ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستوں میں عدالت میں حاضری سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔ 

 وسیم اختر سے منسوب اعترافی بیان میں کتنی سچائی ہے اس بارے میں اس مرحلہ پر چھ نہیں کہا جاسکتا۔ صرف اس بیان کی قانونی حیثیت بھی ہوتی ہے اور سچائی کے طور پر مانا جاتا ہے۔ وسیم اختر کا یہ بیان کسی بھی عدالت یا میجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ نہیں ہوا ہے۔

 12 مئی کے واقعہ کا جب بھی ذکر نکلتا ہے تو اس کے ساتھ وسیم اختر کا نام بھی آتا ہے کیونکہ وہ اس وقت صوبائی وزیر داخلا تھے۔ راتوں رات کس طرح روڈوں پر ٹینکر آگئے، سڑکیں بلاک ہو گئیں۔؟ پولیس نے کسی مرحلے پر بھی پر تشدد واقعات کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ان سوالات کے جوابات گزشتہ نو سال کے دوران حالانکہ کئہ مرتبہ مختلف حلقوں سے پوطھے گئے لیکن کسی بھی حکومت نے ان کا جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ پاکستان کی تاریخ کے طاقتور ترین سمجھے جانے والے چیف جسٹس چوہدری افتخار محمد نے اپنی بحالی کے بعد نہ اس بات کا نوٹس لیا اور نہ ہی اس سے متعلقہ دائر کی گئی چھوٹی موٹی درخواستوں کی شنوائی کی۔ 

وہ کونسی مفاہمت تھی جس کی وجہ سے تمام ذمہ داران کی جانب سے یہ معاملہ سرد خانے میں پڑا رہا؟ 

 یہ ہماری ستم ظریفی ہے کہ خواہ کتنا بڑا سانحہ یا واقعہ ہو صرف تب اٹھایا جاتا ہے جب وہ سیاسی مفادات کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اور اگر ان مفادات کو فائدہ نہیں دیتا تو داخل دفتر کیا جاتا ہے۔ 

 یہ واقعہ جنرل مشرف کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ لیکن جتنا بڑا واقعہ ہوا اور جس طرح سے ہوا، اس کے متعلقہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی آشیرواد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ 

اگرچہ وسیم اختر کا بیان کسی جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم کی تفتیش کے دوران نہیں آیا ہے یہ ڈی ایس پی اور انسپیکٹرز کی لیول کے افسران کی تفتیشی ٹیم کے دوران سامنے آیا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تشکیل دی جارہی ہے جس میں پولیس کے علاوہ خفیہ اداروں اور رینجرز کے نمائندے بھی شامل ہونگے۔

 اگر بات اتنی لمبی اور گہری چلی جاتی ہے تو اس میں ریٹائرڈ جنرل مشرف، سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم اور چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، پولیس چیف اور دیگر اعلیٰ افسران شامل بھی ہو سکتے ہیں اور ان سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔
 ضرورت اس بات کی ہے سیاسی مصلحتوں اور مفاہمتوں سے ہٹ کر ایک مرتبہ اس مکمل طور پر اس واقعہ کی تفتیش و تحقیقات غیر جانبدارانہ طور پر ہو جانی چاہئے ۔ اور نامعلومیت سے معلومات تک اور نامعلوم افراد سے معلوم افراد تک بات کھول کر عوام کے سامنے رکھی جائے۔ 

http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/29-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx


Thursday, July 28, 2016

پارٹی قیادت اپروچ تبدیل کرے

Nai Baat July 26, 2016


نئی بات

سندھ میں کاسمیٹک تبدیلی

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 
بالآخر پیپلزپارٹی نے سندھ میں ویزراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ جہاں تین سال رواں مدت اور پانچ سال گزشتہ دور کی مدت کل آٹھ سال عہدہ رکھنے والے سید قائم شاہ کو وزارت اعلیٰ سے الگ کیا جارہا ہے۔ اور ان کی جگہ پر جن شخصیات کے نام لئے جارہے ہیں ان میں صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ کا نام بھاری ہے۔ سید مراد علی شاہ سابق وزیراعلیٰ سید عبداللہ شاہ کے بیٹے ہیں۔ ان کو سید لابی اور بلاول بھٹو دونوں کی حمایت حاصل ہے۔ سندھ کے اقتداری ایوان میں سید لابی اپنا اثر رکھتی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب پارٹی نے سید مراد علی شاہ کا نام فائنل کیا تو انہوں نے دبئی میں موجود پیر پاگارا سے ملاقات کی اور ”آشیرواد“ لی۔

 مراد علی شاہ کا نام اچانک سامنے نہیں آیا۔ان کا نام 2008 کے انتخابات کے بعد مسلسل لسٹ پر رہا ہے۔ لیکن سید قائم علی شاہ کا سیاسی تجربہ، بھٹو دور سے پارٹی سے وابستہ رہنے کی وجہ سے پارٹی کے اندر نچلی سطح پر ان براہ راست جان پہچان اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مرادعلی شاہ کے پاس دہری شہریت رکھنے کا معاملہ تھا۔

 ان کی دہری شہریت کا معاملہ طے ہونے کے بعد سندھ میں جب بھی سیاسی یا انتظامی بحران آیا تو سید قائم علی شاہ کو وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کی تجاویز سامنے آتی رہی۔ تھر میں قحط کے سوال پر کم از کم تین مرتبہ ان کو ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ قحط کی معاملے پرصورتحال یہاں تک جا پہنچی کہ سید قائم علی شاہ کو سندھ کے بااثر مخدوم خاندان کے دو افراد کو وزیر بحالیات مخدوم جمیل الزماں اور ڈی سی او تھر مخدوم عقیل الزماں کو معطل کرنا پڑا۔ اس سے پارٹی میں بحران پیدا ہو گیا۔ اور پارٹی کے وائیس چیئرمین مخدوم امین فہیم جو اس وقت بقید حیات تھے ان کو کھلے عام اپنی ناراضگی کا اعلان اور اظہار کرنا پڑا۔تب خود وزیراعلیٰ کو یہ بیان دینا پڑا کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔

 بعد میں آصف زرادری بیچ میں آئے ، اور سید قائم علی شاہ مخدوم صاحب کے پاس پہنچ گئے اور یوں معافی تلافی ہوگئی۔ لیکن مخدوم خاندان کی یہ ناراضگی عملی طور پر آج تک ختم نہیں ہو سکی ہے۔ اسی طرح تھر میں قحط کا مسئلہ اور ہاں ایسے اقدامات کرنا جو پائدار ترقی کا سب بنیں ان کا بھی آغاز نہیں ہو سکا ہے۔ 

حکومت گزشتہ تین سال سے تھر میں بعض امدادی کاررویاں تو کر رہی ہے لیکن باضابطہ قحط کا اعلان نہیں کر رہی ہے۔شاید اس لئے کہ ایسا کرنے سے منطقی امر یہ بنے گا کی قحط 2013 سے موجود ہے جس کے لئے بروقت اقدامات نہیں کئے گئے۔ یوں بات واپس مخدوم خاندان کے خلاف چلی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہاپنی ہی قائم کردہ آٹھ کمیٹیوں اور کمیشنوں کی رپورٹس اور ان کی سفارشات کے باوجود تھر کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ اسی طرح سے سیلاب، صوبے میں خسرے کی بیماری پھیلنے کے موقعہ پر قائم علی شاہ سخت دباﺅ میں رہے۔

 2012-13 میں صوبے کے تعلیم، صحت، بلدیات، پولیس، اطلاعات سمیت مختلف محکموں میں ہزاروں میں بھرتیاں کی گئیں۔ جن میں سے بیشتر بھرتیاں بعد میں غیر قانونی قرار پائیں۔یا بعض کا معاملہ ابھی تک عدلیہ یا تحقیقات کے مرحلوں میں لٹکا ہوا ہے۔ یہ بھرتیاں اور تقرر و تبادلے مبینہ طور پر پیسوں کے عوض یا سیاسی سفارشوں پر کی گئیں۔ یہی صورتحال مختلف چھوٹے بڑے ترقیاتی منصوبوں ، بدلیاتی اداروں کو ماہانہ باقاعدگی سے ملنے والی رقومات کے حوالے سے بنی۔ اور بڑے پیمانے پر کرپشن کے الزامات سامنے آئے۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ کو اکثر بھرتیوں کا پتہ ہی نہیں تھا۔ ”صوبے میں ہر جگہ پر کرپشن ہے“ کی بحث عام ہوگئی۔ 

قائم علی شاہ کو نئی مدت کے شروع ہوتے ہی بہت بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ وفاق نے کراچی میں آپریشن کا فیصلہ کر لیا تھا۔
 وزیراعظم نواز شریف بعض اہم وفاقی کابینہ کے اراکین اور عسکری اداروں کے ساتھ کراچی پہنچے اور سندھ حکومت سے آپریشن کرنے پر آمادہ کر لیا۔ بظاہر قائم علی شاہ کو آپریشن کا کپتان بنایا گیا لیکن عملاآپریشن شروع ہوتے ہی ان کی حکومت کی صوبے میں رٹ کمزور ہونا شروع ہوئی۔ 

صورتحال اس وقت گمبھیرہوئی جب اس کرپشن کا رینجرز ، نیب، ایف آئی اے نے نوٹس لیا۔ اور وائیٹ کالر جرائم کو دہشتگردی سے جوڑ کر سرکاری دفاترپر چھاپے مارنے اور گرفتاریوں کی کارروائیاں شروع کیں۔ نتیجے میں ایک درجن سے زائد اعلیٰ افسران یا تو بیرون ملک چلے گئے یا انہوں نے ہائی کورٹ سے ضمانتیں کرالیں۔ 
ایک ماہ کے لگ بھگ ایسا بھی گزرا کہ سندھ حکومت کی معمول کی کارگزاری معطل رہی۔ سندھ حکومت کے بعض وزراءنے ان کارروائیوں کو سندھ پر وفاقی حکومت کے حملہ کے مترادف قرار دیا۔

 آصف علی زرادری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم، عذیر بلوچ اور بعض افسران کی گرفتاری، شرجیل میمن سمیت چار وزراءکی گرفتاری کے خطرے نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ۔ سید قائم علی شاہ کی حکومت بیانات دیتی رہی، لیکن عملا ان کاررائیوں کو روکنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔

 پیپلزپارٹی نے وزیراعظم نواز شریف پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی۔ لیکن انہوں نے کوئی مدد کرنے سے بے بسی اور معذرت کا اظہار کردیا۔ یہاں سے پیپلزپارتی نے وفاق میں نواز حکومت کی کھل کر مخالفت کا سلسلہ شروع کیا۔ یہاں تک کہ دھرنے لگانے والے عمران خان کے ساتھ جا کر کھڑی ہوئی۔ اس حکمت عملی نے پیپلزپارٹی کو فائدہ پہنچایا۔ کیونکہ وزیراعظم نواز شریف پنامالیکس کی وجہ سے سخت دباﺅ میں آگئے تھے۔ 

 پیپلزپارٹی انتظار میں تھی کہ رینجرز کے پولیسنگ کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ سامنے آئے۔ گزشتہ سال دسمبر میں یہ موقعہ آ ہی گیا اور سندھ حکومت نے اختیارات میں توسیع کے بجائے معاملہ کو اسمبلی میں لے گئی اور ایک قراداد کے ذریعے رینجرز کے اختیارات کم کرنے کی سفارش کی اور بعض یقین دہانیاں حاصل کرنے کے بعد اختیارات کی مدت میں توسیع کردی۔ 

رواں ماہ کی 19 تاریخ کو صورتحال مزید پیچدہ ہوگئی۔ کیونکہ صرف رینجرز کو آپریشن کے بعد دیئے گئے اختیارات میں توسیع کی مدت ہی نہیں بلکہ نوے کے عشرے میں سول انتظامیہ کی مدد کے لئے طلب کردہ رینجرز کی صوبے میں تعینات کی مدت بھی ختم ہو رہی تھی۔ لہٰذا یہ تنازع شدید ہو گیا۔

بعض وفاقی اداروں کی جانب سے صوبائی کابینہ کے ایک بااثر رکن وزیرداخلہ سہیل انورسیال کی تبدیلی ایک عرصے سے تقاضا کیا جارہا تھا۔ رینجرز نے اختیارات ختم ہونے سے دو چار روز پہلے ان کے قریبی ساتھیوں میں ہاتھ ڈالا۔ اور لاڑکانہ میں ان کے رہائشگاہ کا محاصرہ کیا۔یوں رینجرز اور سندھ حکومت دونوں آمنے سامنے آگئیں۔ اور سندھ میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا معاملہ آخری موڑ پر پہنچ گیا۔ 

 تعلیم، امن و مان، تقرر تبادلوں کے معاملات سپریم کورٹ تک گئے۔ تعجب کی بات ہے کہ کراچی میں امن و امان کی بدترین صورتحال رہی، 2010 اور 2011 کے سیلاب ، تھر میں قحط، تعلیم کی تباہی اور ہر محکمے میں کرپشن، غلط بھرتیوں نے گورننس کے سوال میں اتنی شدت پیدا کردی تھی کہ ہر چیز ” ٹاک آف دی ٹاﺅن“ بن گئی تھی۔ لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت کچھ تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ اس میں سائیں قائم علی شاہ کا قصور کم اور قیادت کی براہ راست مداخلت اور ہر چیز کی اعلیٰ سطح پر فیصلہ سازی ہو رہی تھی ، ایم پی ایز کو بجائے وزیراعلیٰ ڈیل کرتے پارٹی کی قیادت ہی دیکھ رہی تھی۔

 وزراءاور ایم پی ایز کے قریبی رشتہ داروں یا فیورٹ افسران کی اہم عہدوں پر فائز اچھی خاصی موجودگی ہے، جن کو نہ کوئی وزیر اور یہاں تک کہ خود وزیراعلیٰ بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ معاملات نہ سید قائم علی شاہ کے بس میں تھے نہ اختیار میں۔ 

ان سب چیزوں کے باوجود پیپلزپارٹی نے تب تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے جب خود اس کو سر پر پڑی ہے۔ اس سے پہلے وہ کسی طور پر تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ یہ درست ہے کہ قائم علی شاہ حکومت نے قانون سازی سب سے زیادہ کی۔ لیکن اصل معاملہ نئے خواہ پرانے قوانین پر عمل درآمد کا ہے۔ جس سے گورننس اور کارکردگی ناپی جاسکتی ہے۔ ان معاملات میں چیزیں صرف کے برابر رہیں۔ 
پنجاب اور دیگر صوبوں میں 2013 کے انتخابات میں واژ ہو انے کے بعد پیپلزپارٹی کے لئے موقعہ تھا کہ سندھ میں اپنی حکومت کی موجودگی میں کارکردگی دکھاتی۔ اور اس کے ذریعے ملک بھر میں ساکھ بناتی۔ لیکن پارٹی کے لئے یہ سبق ناکافی تھا۔ وہ نہیں سیکھ پائی۔ صورتحال یہاں تک چلی گئی کشمیر بلاول بھٹو زرادری کی قیادت میں پارٹی نے پہلا الیکشن لڑا اور ہار گئی۔ پیپلزپارٹی کے پاس کارکردگی کے حوالے سے لوگوں کو دینے یا دکھانے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ 

کیا پیپلزپارٹی سندھ میں واقعی کچھ تبدیل کرنا چاہ رہی ہے؟ موجودہ صورتحال میں مشکل لگتا ہے کہ صرف وزیراعلیٰ تبدیل کرنے کچھ تبدیل ہوگا۔ سائیں قائم علی شاہ کی ایک طرح سے قربانی دی جارہی ہے کہ ان کی وجہ سے بہت ساری چیزیں نہیں ہو سکیں۔ اور ان کے کھاتے میں سب ” برائیاں“ لکھنے کی کوشش کرے۔ 

سچ تو یہ ہے کہ چاچا قائم علی شاہ جو کچھ کر رہے تھے، یا جو کچھ نہ بھی کر رہے تھے وہ پارٹی قیادت کی ہدایات اور منظور ی کے تحت ہی کر رہے تھے۔ سید مراد علی شاہ سندھ کابینہ کے اہم رکن رہے ہیں جو اس سے پہلے بھی مختلف فیصلوں پر اثرنداز ہوتے رہے ہیں۔ نئی کابینہ میں سوائے قلمدانوں کی تبدیلی کے ایک آدھ کو چھور کر وہی وزراءشامل ہونگے جو پہلے بھی موجود تھے۔ پارٹی قیادت کی اپروچ اور صوبے میں موجود حقائق کو تسلیم کرنے اور وزیراعلیٰ کو 
بااختیار بنائے بغیر یہ کاسمیٹک تبدیلی ہوگی۔ 
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/26-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg 


























































http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/26-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg

رینجرزاختیارات، میعاد اور ایریا میں توسیع چاہتی ہے


July 22 Nai Baat
رینجرزاختیارات، میعاد اور ایریا میں توسیع چاہتی ہے

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

حکومت سندھ اور رینجرز کے درمیان اختیارات کے معاملہ پر ایک بار پھر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ستمبر 2013 سے جب رینجرز کو مزید اختیارات دیئے گئے ہیں ہر تین ماہ بعد یہ تنازع کھڑا ہوتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نہ صرف رینجرز کو پولیس کے اختیارات کی مدت ختم ہوگئی ہے بلکہ 1989 میں صوبے میں رینجرز کی تعینات کے لئے سول انتظامیہ اور پولیس کی مدد کے لئے طلب ی گئی رینجرز کی میعاد بھی ختم ہوگئی ہے۔ اس وجہ سے رینجرز نے اپنی چوکیاں خالی کردی ہیں۔
رینجرز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس کی مدد کرنے یا آپریشن کو جاری رکھنا بھی نئے احکامات تک بند کردیا ہے۔ 

 تین سال قبل شروع کئے گئے آپریشن کی وجہ سے صوبے میں عمومی اور کراچی شہر میں خصوصی طور پر امن امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ سیاسی معاملات اپنی جگہ پر لیکن سندھ حکومت بھی یہ سمجھتی ہے کہ کراچی کی صورتحال اب مختلف حوالوں سے ایسی بن گئی ہے کہ یہاں رینجرز کے بغیر امن قائم نہیں کر سکتی۔ وفاقی حکومت کا بھی دباﺅ ہے کہ سندھ حکومت ہر حال میں رینجرز کے اختیارات کی مدت میں توسیع کرے۔ 

مسئلہ صرف رینجرز کی تعینات ، اور اسکوحاصل موجودہ اختیارات میں توسیع کا نہیں۔ حالانکہ اس پر بھی سندھ حکومت کو تحفظات ہیں۔ لیکن رینجرز کا مطالبہ ہے کہ اس کی تعینات ، اختیارات کی مدت میں اور اختیارات کے دائرہ کار اور علاقے میں بھی توسیع کی جائے۔ اس کے بعد حساس صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

ایک طرف منتخب صوبائی حکومت کے اسپیس بچانے کا سوال ہے، دوسری طرف صوبائی دارالحکومت میں قیام امن کا معاملہ ہے۔ جو 1989 سے رینجرز کی موجودگی اور تین سال سے آپریشن اور رینجرز کو حاصل خصوصی اختیارات کے بعد بھی اطمینان اور استحکام کی حد تک قائم نہیں ہو سکا ہے۔ اور وزیرعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے مشورے کے لئے دبئی چلے گئے ہیں۔ 

 گزشتہ سال دسمبر میں رینجرز کے اختیارات کی میعاد بڑھانے کے وقت بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیاں خاصی کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کر کے رینجرز کے اختیارات میں کمی پر زور دیا تھا۔ اور اس کے پولیسنگ کے اختیارات کو دہشتگردوں، بھتہ خوروں، اغوا برائے تاوان، اور مذہبی فرقہ واریت کے جرائم کو ہینڈل کرنے تک محدود کیا تھا۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر رینجرز سہولت کار کے نام پر کسی کی گرفتاری چاہتی ہے تو اس کو وزیراعلیٰ سندھ سے تحریری طور پر پیشگی منظوری لینی پڑے گی۔

 اس پر وفاقی وزیر داخلہ نے سخت موقف اختیار کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر سندھ حکومت میعاد میں اضافہ نہیں کرتی تو وفاقی حکومت کے پاس گورنر راج نافذ کرنا اور آئین کی شق 245 کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ وفای وزیر کا یہ بیان دھمکی نما تھا۔ 

سندھ میں رینجرز کو اختیارات آئین کی شق 147 ، اور انسداد دہشتگردی کی شق1 کے تحت حاصل ہیں جس میں واضح ہے کہ رینجڑز نوٹیفائیڈ علاقے میں یہ اختیارات استعمال کرے گی۔ اس حوالے سے صرف کراچی ہی نوٹیفائیڈ علاقہ ہے۔ 

سندھ اسمبلی کی قرارداد اپنی جگہ پر رینجزز کا یہ موقف سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی شنوائی کے دوران گزشتہ مارچ میں اس وقت واضح طور پر سامنے آیا۔ جب ڈی جی رینجرز کی جانب سے عدالت عظمیٰ سے یہ استدعا کی گئی کہ رینجرز کو پولیس کی طرح اپنے تھانے قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔ جہاں ایف آئی آر بھی درج کی جا سکی اور مقدمات کی تحقیقات اور تفتیش بھی پولیس سے الگ کی جا سکے۔ حکومت سندھ نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ اس طرح سے متوازی کرمنل جڈیشل سسٹم رائج ہو جائے گا۔اس میں بعض آئین اور قانونی پیچیدگیاں بھی ہیں۔ لہذا معاملے کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 

سندھ حکومت کے مطابق رینجرز نے جو معاملات اٹھائے ہیں وہ اپیکس کمیٹی میں حل کئے جا سکتے ہیں۔ اور یہ بھی واضح کیا کہ انسداد دہشتگردی کے قانون میں پیرا ملٹری فورس کی مدد جاری رکھنے کے لئے کوئی میعاد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ 

رینجرز نے اپنے داخل کئے گئے بیان میں صوبائی حکومت پر سخت تنقید کی تھی کہ وہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور مالی اعانت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ لہٰذا رینجرز کو اپنے الک تھانے اور مقدمات کی پراسیکیوشن کرنے کے اختیارات دیئے جائیں۔ رینجرز کا کہنا تھا کہ پولیس کی تفتیش میں کئی خامیاں ہیں۔ اگر رینجرز کو یہ اختیارات دیئے جائیں گے تو وہ مقدمہ درج کرنے، ان کی تفتیش کرنے کے بعد چالان معمول کے مطابق عام عدالتوں یا انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں پیش کرے گی۔ رینجرز نے حکومت کی پولیس افسران کی تقرر اور تبادلے کی پالیسی پر بھی تنقید کی ۔ جس کی وجہ سے پولیس کی کراکردگی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے رینجرز کے اختیارات سالانہ بنیاد پر توسیع کی جائے۔ 

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ رینجرز صوبے کے دوسرے اضلاع میں بھی ٹارگیٹیٹ آپریشن کرنا چاہتی ہے ۔ پیپلزپارٹی اس کی مخالف ہے اور چاہتی ہے کہ رینجرز اس آپریشن کو کراچی تک محدود رکھے۔ 

 اس طرح کی صورتحال تب بنی تھی جب رینجرز نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر صوباء محکموں کے دفاتر پر چھاپے مارے تھے ۔ جس کو سندھ کابینہ کے اراکی ے سندھ حکومت پر چھاپے قرار دیا تھا۔ بعد میں سندھ حکومت دو باتوں کی یقین دہانی پر رینجرز کے اختیارات میں توسیع پر راضی ہو گئی تھی ۔ ایک یہ کہ صوبائی حکومت کے دفاتر پر رینجرز چھاپے صوبائی حکومت کو پیشگی اطلاع کے بغیر نہیں مارے گی۔ دو م یہ کہ اندرون سندھ رینجرز آپریشن نہیں کرے گی۔ یہ کام پولیس بدستور سرنجام دے سکتی ہے ۔ 

 لیکن یہ معاہدہ نہیں چل سکا ۔ حالیہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب ر رینجرز نے صوبائی وزیر داخلہ کے قریبی ساتھی کی گرفتاری کے لئے لاڑکانہ میں چھاپہ مارا۔ اور وزیرداخلہ کے گھر کا گھیراﺅ کیا۔ صوبائی مشیر برائے اطلاعات مولابخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ کے واقع کو رینجرز سندھ بھر میں آپریشن کے لئے بنیاد نہیں بنا سکتی۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ رینجرز آپریشن کا دائرہ صوبے بھر تک بڑھانا چاہتی ہے۔ لیکن پولیس اس صورتحال کو ٹھیک سے دیکھ رہی ہے۔ 

وزیراعلیٰ سندھ نے ڈی جی رینجرز کے اس بات کو جھٹلایا کہ وہ کراچی کے ساتھ باقی سندھ بھر میں بھی آپریشن کر سکتی ہے۔ سید قائم علی شاہ کا یہ بیان امن و مان کے بارے میں صوبائی اختیار کو بچانے کی ایک کوشش ہے جس کو رینجرز بڑی حد تک تجاوز کر چکی ہے۔ 

 رینجرز کو عام لوگوں کی رائے میں جواز موجود ہے۔ جبکہ وہ اپنے قدم دہشتگردوں کے خلاف آپریشن سے بڑھا کر وائیٹ کالر جرائم تک پھیلا چکی ہے۔ حالیہ تنازع کے تسلسل میںوفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے صوبائی حکومت کو خط لکھا ہے کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی جائے۔ 

انہوں نے ایک دلچسپ نکشاف کیا ہے کہ امن و مان وفاق اور صوبے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کی یہ بات آئین سے متصادم ہے جس میں امن و مان صوبائی دائرہ اختیار ہے۔ اور کوئی وفاقی ادارہ صوبے کی درخواست پر اس کی مدد کے لئے آسکتا ہے۔ 

سندھ حکومت اپنی کارکردگی، خاص طور پر پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ جس کی وجہ سے اپنا اسپیس رینجرز کے ہاتھوں کھو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وائیٹ کالر جرائم سمیت اسکو وہ تمام جواز ختم کرنے ہونگے جس کی وجہ سے اس کو اپنا دائرہ اختیار کسی اور ادارے کو دینا پڑ رہا ہے یا جس کی وجہ سے کسی اور ادارے کے عمل کو عوام میں قبولیت کا جواز ملتا ہے۔

Tuesday, July 19, 2016

ترکی اور پاکستان میں کوئی مماثلت ہے؟

 ترکی اور پاکستان میں کوئی مماثلت ہے؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

ترک عوام نے فوجی بغاوت کو ناکام بنا کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ملک میں جمہوری نظام کے حامی ہیں اور اپنے ملک کی ترقی جمہوریت کے ذریعے چاہتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ترکی کی مماثلتیں اس وجہ سے بھی تلاش کی جارہی ہیں کہ ملک میں ایک طرف پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیاں گشیدگی بڑھ رہی ہے۔ وقت کے ساتھ بہت سے معاملات میں فیصلہ سازی اور اپلیسی سازی سویلین قوتوں کے ہاتھوں سے نکلتی محسوس ہو رہی ہے مزید برآں گاہے بگاہے میڈیا میں تجزیہ نگار اور اینکر پرسن یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی بھی وقت جمہوری نظام کا بوریا بستر لپیٹ لیا جائے گا۔ اس ضمن میں گزشتہ ہفتہ ایک بہت کم شہرت رکھنے والی ایک جماعت کی جانب سے ملک بھر میں فوج کو آنے کی دعوت کے بڑے بڑے پوسٹر لگائے گئے۔ 

پاکستان اور ترکی کے درمیان مماثلتیں ہیں بھی اور نہیں بھی۔ ترکی ایک مسلم ملک ہے لیکن وہاں کا سیاسی اور سماجی کلچر سیکیولر سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی طرح ترکی بھی ماضی قریب یعنی پانچ عشروں کے دوران چار مارشل لا ایک منتخب ویزراعظم کو پھانسی دینے کی تاریخ رکھتا ہے۔وہاں پر بھی یہ ہوتا رہا کہ ہر مارشل لا کے بعد دوبارہ الیکشن کرائے گئے اور حکومت سویلین ہاتھوں میں دے دی گئی۔ 

یہ پہلا موقعہ ہے کہ ترکی کے عوام اس بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ تعجب کی بات ہے کہ ترکی صدر طیب اردگان ذوالفقار علی بھٹو کی طرح نہ مقبول تھے اور نہ ہی ان کی طرح عالمی طور پر قد کاٹھ تھا۔ جب ضیا نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا تو لوگ اس طرح سے سڑکوں پر نہ آئے تھے۔ اگر کوئی غم و غصہ بھی تھا تو اس کا اظہار ذاتی طور پر یا ذاتی محفلوں میں کیا وہ کوئی اجتماعی اور ٹھوس شکل میں سامنے نہیں آسکا۔ یہی صورتحال نوے کے عشرے میں منتخب حکومتوں کے خاتمے کے دوران ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ بعد میں جب جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تب بھی لوگ سڑکوں پر نہ آئے۔ حالانکہ نواز شریف بھاری مینڈیٹ سے منتخب ہونے والا وزیراعظم تھا اور ان کا تعلق پنجاب ہی تھا جس صوبے کو پاکستان میں اقتدار کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ 

 سیاسی حوالے سے فرق یہ تھا کہ جنرل ضیا اور جنرل مشرف نے جب منتخب حکومتوں کا تختہ الٹا اس وقت سیاسی قوتیں بٹی ہوئی تھی۔ اور مارشل لا کا خیرمقدم کر رہی تھی۔ بلکہ ضیا کے آنے سے پہلے ملک میں پاکستان قومی اتحاد کی تحریک چلی تھی۔ اگرچہ پاکستان قومی اتحاد اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان نئے انتخابات کا معاہدہ ہو چکا تھا لیکن اس کے باوجود جنرل ضیا نے مارشل لا لگا دیا۔
 بہر حال تاریخدانوں کی نظر میں ی طے ہے کہ اگر پس منظر میں پی این اے کی تحریک نہیں ہوتی تو جنرل ضیا مارشل لا نہیں لگا سکتے تھے۔

 جنرل مشرف کے مارشل لا کی صورتحال قدرے مختلف تھی، نواز شریف کے خلاف کوئی منظم ا بڑی تحریک تو نہیں چل رہی تھی لیکن سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت میں تھیں۔ اور انہوں نے مشرف مارشل لا کی کھل کر مذمت یا مخالفت نہیں کی۔

 ترکی میں صورتحال یہ بنی کہ اپوزیشن کی جماعتوں نے یک آواز ہو کر فوجی بغاوت یامارشل لا کی مذمت کی اور تمام تر اختلافات کے باوجود جہموریت اور صدر اردگان کی حمایت کی۔ یعنی تمام سیاسی جماعتیں اگر جمہوریت کے حق میں کٹھی نہیں ہوتی تو عوام اس طرح سڑکوں پر آکر بغاوت کا اظہار نہ کرتے۔ اس صورتحال کو کسی حد تک عمران خان کو پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کے وقت کی صورتحال سے موازنہ کیا جاسکتا ہے جب پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی قوتوں نے نظام کو بچانے کے حق میں اپنا موقف اختیار کیا تھا۔ 

 طیب اردگان اپنے ملک میں بہت زیادہ مقبول رہنما بھی نہیں ہے۔ ان پر بھی کرپشن اور خراب حکمرانی کے شاید اتنے ہی الزامات نکل آئیں جتنے نواز شریف یا پیپلزپارٹی پر عائد کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو نواز حکومت کی طرھ کچھ زیادہ نیں دیا ہے۔ بلکہ ان پر تو یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے مخالفین کو اور ان کی آواز کو دبانے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ کم از کم نواز شریف حکومت پر سیاسی انتقام یا اظہار رائے کی آزادی کو روکنے کا الزام نہیں۔ کرپشن، خراب حکمرانی، عوام کو کچھ نہ دینے اور سیاسی انتقام کے الزامات کے باوجود بھی تمام ترکی کے عوام کی مجموعی رائے یہ بنی کہ جمہوری تسلسل کو جاری رکھنا چاہئے۔ اس کا اظہار مخالف سیاسی جماعتوں نے اپنے موقف کے ذریعے اور عوام نے سڑکوں پر آکر کیا۔ 

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ چند سال پہلے جب پاکستان میں بہت بڑا سیلاب آیا تو ترک صدر اردگان کی اہلیہ نے اپنا ہار بطور ت عطیہ پاکستان کو دیا تھا کہ اس سے سیلاب متاثرین کی امداد کی جائے۔ پاکستان کے حکمران جماعتوں کے اہل خانہ کی جانب سے کبھی بھی نہ اپنے ملک اور نہ ہی پڑوسی یا دوست ملک کے عوام کی اس طرح مصیبت کی صورت میں ذاتی طور پر مدد کی ہے۔ 

ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی کی دو اور وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں فوج کی اعلیٰ قیادت شامل نہیں تھی، بلکہ بعض سنیئر اور بعض درمیانی رینک کے افسران کی جانب سے کوشش کی گئی تھی۔ جوپوری صورتحال اور اہم مقامات کو کنٹرول نہیں کر سکے۔ انہوں نے سرکاری ٹی وی چینل پر تو قبضہ کر کے اعلان کردیا لیکن نجی چینلز، انٹرنیٹ، موبائیل فون سروس کو بند نہ کر سکے۔ مطلب فنی طور پر باغی گروپ اہل ہی نہیں تھا۔ ان کے ذریعے صدر کی عوام تک رسائی ہو گئی اور انہوں نے اس بغاوت کے خلاف سڑکوں پر آنے کی اپیل کی۔ 

ترکی میں موجود نجی ٹی وی سی این این ترک جو کہ ایک ترک کمپنی کی شراکت سے چلا رہا ہے وہاں تک بعض فوجی افسران پہنچے بھی اور کہا کہ وہ انپی نشریات بند کردیں۔ لیکن عملے نے انہیں بتایا کہ بند کرنا تیکنکی طور ان کے بس میں ہی نہیں۔ نتیجے میں اس ٹی وی کا خالی اسٹوڈیو تین گھنٹے تک آن ایئر ہی رہا، اور جیسے ہی چینل کی انتظامیہ نے واپس چینل کا کنٹرول سنبھالا تو بغاوت کے خلاف خبرٰن نشر کرنا شروع کردیں۔ 

 بض تجزیہ نگار ترکی کے اس واقعہ کو اس طرح بیان کر رہے ہیں کہ یہ پورا طیب اردگان کا رچایا ہواڈرامہ تھا۔ بغاوت تو واقعی ہو رہی تھی لیکن اس بغاوت کو صرف اس حد تک رکھا کہ اس کو کنٹرول کیا جائے اور بعد میں اس کی آڑ میں فوج، عدلیہ وغیرہ میں سے اپنے مخالفین کو نکال کر ایک اپنی اور سویلین آمریت قائم کی جائے۔ 

لیکن سازش کی اس تھیوری پر تجزیہ نگار متفق نہیں۔ ہاں اس بات پر ضرور متفق ہیں کہ اس ناکام بغاوت کو اردگان اب اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے اور سویلین آمریت مسلط کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اردگان کو جو موقعہ ملا ہے اور عوام نے جس بہادری اور خلوص کا مظاہرہ کیا ہے اردگان اس کو یوں کھو بیٹھیں گے؟ جوعوام ٹینکوں کے سامنے آسکتا ہے وہ ان کی حکومت کے خلاف بھی اسی طرح سے کھڑا ہوسکتا ہے۔ ایسے میںاگر اردگان نے صرف فوج پر انحصار کیا تو کود فوج اس کو دوبارہ نکال کر باہر پھینک دے گی۔ 

پاکستان میں نہیں لگتا کہ فوجی قیادت اس طرح کی مہم جوئی یں دلچسپی رکھتی ہے۔ ”اب تو آجاﺅ“ یا عمران خان جیسے رہنماﺅں کے ایسے بیانات کہ” فوج اقتدار میں آئے گی تو عوام مٹھائیاں بانٹیں گے“ اس کے باوجود اس بات کا کم امکان ہے۔ اس کی دو چار بڑی وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ اٹھارویں آئینی ترمیم نے (جس پر حالانکہ مکمل عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے) اس مرکزیت کو ختم کردیا ہے، اب کسی ایسے اقدام کی راہ اتنی آسان نہیں رہی۔ 

چارٹر آف ڈیموکریسی پر اگر ٹھیک سے عمل نہیں بھی ہوا ہے تب بھی اس کے بنیادی تصور نے سیاسی قوتوں کے دماغ کھول دیئے ہیں۔ اور وہ کسی ایسی صورتحال میں جانا یا پھنسنا نہیں چاہیں گی جہاں سے واپسی نہ ہو سکے، یا جہاں سے وہ خود نہ نکل سکیں۔ 

عدلیہ جو ماضی میں مارشل لا کی حامی بن جاتی تھی اس کا نقطہ نظر بھی تبدیل ہوا ہے۔ اس سے بڑھ کر میڈیا ہے جس کا بہت بڑا پھیلاﺅ ہوا ہے۔ 

میڈیا سے اہل دانش و فکر کو یقیننا بہت ساری شکایات ہیں کہ وہ جمہوری حقوق کے لئے اس طرح سے موقف نہیں لے رہا جو عوام چاہتے
 ہیں یا عوام کے حق میں ہے۔ بلکہ اس حوالے سے تنقید میں بڑا وزن بھی ہے۔ لیکن اس کے باوجود میڈیا اس مسابقتی مرحلے میں اپنے بقا کے لئے اپنا رول ادا کرے گا۔ اس سے بڑھ کر عوام ہیں جن کی سیاست اورجمہوری عمل میں شرکت دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ اس کا اندازہ گزشتہ تین انتخابات میں کاسٹ ہونے والے ووٹروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ عمران خان کے دھرنوں کے خواہ کتنے ہی منفی اثرات سیاسی نظام پر مرتب ہوئے ہوں، لیکن ایک بات عوام کو سکھائی ہے کہ اب سیاسی جنگ اس طرح بھی لڑی جاسکتی ہے۔ 


http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/19-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg 
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx 



Monday, July 18, 2016

Poster politics - Afwah gardi

Nai Baat July 15

افواہ گردی

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
 ہم صرف شدید دہشتگردی ہی نہیں بلکہ افواہ گردی کی بھی لپیٹ میں ہیں۔ جیسے 
ایک دشتگردی کا واقعہ پوری حکومت اور اداروں کو ہلا دیتا ہے اسی طرح سے ایک افواہ پوری قوم اور سیاست کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہ ملک میں کتنی غیر یقینی صورتحال ہے؟ یہ افواہ سازی فوری طور پر سیاسی عدم استحاکم میں اضافہ کردیتی ہے۔ حکومت اور اس کے کے ادارے کتنے فعال اورمتحرک ہیں۔ 

افواہ سازی اور اس کا پھیلاﺅ ہمیشہ کسی ایک خاص حلقے کو فائدہ دیتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ایسے حلقے ہر ملک کی طرح ہمارے پس بھی موجود ہونگے۔

 سوال یہ ہے کہ ہم ان افواہوں کا موثر جواب کیوں نہیں دے پاتے؟ سب سے بڑی ذمہ داری ملک کے محکمہ اطلاعات و نشریات پر ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کی افواہ سازی کا موثر اور ٹھوس جواب دے۔ لیکن کبھی کبھی لگتا ہے کہ جس طرح سے وزارت خارجہ اپنی اہمیت کھو بیٹھی ہے یا اس کا کوئی رول نہی اسی طرح سے محکمہ اطلاعات و نشریات کا بھی رول نظر نہیںآتا۔ آج کے دور میں افواہ سازی کو پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ میڈیا ہی بنتا ہے۔ 

 اس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں کہ میڈیا پر پابندی لگائی جائے۔ لیکن کم از کم میڈیاسے متعلق حکومت کی کوئی پالیسی ہونی چاہئے۔ اور میڈیا میں حکومت کی موثر نمائندگی اور موقف موجود ہونا چاہئے۔ یہ سب چیزیں عملا نظر نہیں آتی۔ گھسے پٹے سیاسی بیانات جاری ہوتے ہیں۔ جو عموما سیاستدانوں کے خالف ہوتے ہیں۔ حکومت کی تمام میڈیا حکمت عملی رد عمل کی یعنی reactive ہے، وہ proactive نہیں ہے۔ نتیجے یں میڈیا کے محاذ پر حکموت ہمیشہ دفاعی پوزیشن پر نظر آتی ہے۔ 

ملکی سیاست پاناما لیکس، عمران خان کی تیسری شادی، قندیل بلوچ اور مولانا حماد کے اسکینڈل، جنرل راحیل شریف اپنے اعلان کے مطابق واقعی ریٹائر ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ کے گرد گھوم رہی ہے۔ پاناما لیکس کی تحقیقات ہونی ہے تو کر کے اس کو نمٹاﺅ۔ 
عمران خان کو شادی  کرنے ہے تو وہ کر لے۔ یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ جس کو وہ رحم خان سے دوسری شادی کے موقعہ پر پر بھی سیاسی بنا رہا تھا۔ اور اب ایک بار پھر تیسری شادی کا اعلان کر کے اس معاملے کو سیاست میں گھسیٹ رہا ہے۔ 

یہ سب نان اشوز ہیں۔ جن کا ملک اور گرد نواح کیں موجود اشوز سے کوئی تعلق نہیں۔ ان نان اشوز کو اشو بنا کر ان کے پیچھے میڈیا اور ہمارے ادارے عوام کو گھما رہے ہیں۔ 

 گزشتہ ہفتے پراسرا رنوعیت کے پوسٹرایک ہی رات نیں ملک بھر میں لگ گئے۔ جن میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو توسیع دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ملک میں مارشل لا نافذ کرکے ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کریں۔ یہ پوسٹر ایک پنجاب کی گمنام سیاسی جماعت” مو آن پاکستان “ کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔ 

یہ جماعت تین سال سے الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے۔ اور اس کے سربراہ کا تعلق فیصل آباد سے بتایا جاتا ہے۔ جو پنجاب میں تعلیمی ادروں کی ایک چین چلاتے ہیں۔ جس بڑے پیمانے پر ایک ہی دن میں پوسٹر لاگئے گئے ہیں وہ اس جماعت کی تنظیمی خواہ دیگر صلاحیتوں سے زیادہ ہے۔ اس جامعت نے رواں سال فروری میں بھی اسی طرح کے پوسٹر لگائے تھے۔ اور جنرل راحیل شریف سے اپیل کی تھی کہ ملک میں دہشتگردی اور کرپشن کے خاتمے کے لئے انہیں اس عہدے پر مزید مدت کے لئے برقرار رہنا چاہئے۔ 

ان پوسٹرز نے اس وجہ سے بھی ہلکہ مچادیا ہے کہ ایک طرف پاناما لیکس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک طویل ہو گیا ہے۔ اور دونوں فریق بعض نکات پر متفقہ نہیں ہو رہے ہیں۔ 

پہلے عمران خان اور بعد میں پیپلزپارٹی اس معاملے پر سڑکوں پر آنے اور کٹنیر
 لگانے کی بات کر رہی ہے۔ وزیرعظم لندن میں ہارٹ سرجری کے بعد واپس تو آگئے ہیں لیکن وہ بھی کوئی موثر سرگرمی یا فیصلہ سازی نہیں کر سکے ہیں۔ 

الیکشن کمیشن ادھوری ہے جس کے چار اراکین کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد نئے اراکین کی نامزدگی نہیں ہو سکی ہے۔ یہ معاملہ بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔ اب اے این پی نے اس پروسیس سے علحدگی کا علان کردیا ہے۔ 

ان پوسٹرز کی حقیقت کیا ہے؟ اس کے پیچھے کون ہے؟ یہ معاملہ وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ہمارے وفاقی وزیر داخلا چوہدری نثار علی خان صوبائی خود مختاری میں مداخلت سے لیکر ملک کی خارجہ پالیسی تک سب پر اپنا تفصیلی موقف بیان کرتے ہیں لیکن خود ان کی وزارت کے ذمہ جو کام ہے اس میں ایک ہفتے بعد بھی آگاہ نہیں کر سکے ہیں۔ 

پیپلزپارٹی اور اپوزیشن کا خیال ہے کہ یہ پوسٹر لگانا خود حکومت چال ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعے حکومت اپوزیشن کو ڈرانا چاہ رہی ہے کہ اگر حکومت کے خلاف تحریک چلانے جاﺅ گے تو مارشل لا لگ جائے گا۔ آرمی کے میڈیا سے تعلق رکھنے والے ادارے آئی ایس پی آر نے اس پوسٹر بازی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن یہ پوسٹر اتارنے کے لئے نہ حکومتی ادارہ ار نہ ہی کوئی ریاستی ادارہ سامنے آیا ہے۔ اور نہ اس ضمن میں کوئی تحقیقات شروع کی گئی ہے نہ کارروائی۔ 

اگر اس معاملے میں حکومت کوئی سازش کی تھیوری تلاش کر رہی ہے، اس کا جوا بھی خود حکومت کو دینا چاہئے کہ آخر اس طرح کے حالات کیونکر پیدا ہوئے ہیں کہ سازشیں ہو رہی ہیں؟ ملک میں موجود سیاسی کشیدگی کسی مثبت اور منطقی نیتجے پر لا کر حل کیوں نہیں کیا جاتا؟ اگر حکومت اور اپوزیشن مل کر سیاسی بحران کا حل کرتی ہیں تو کسی اور کی مداخلت کے بارے میں کوئی بات بھی نہیں کر سکے گا اور کوئی کرے گا بھی تو اس پر عوام یقین ہی نہیں کریں گے۔

دراصل یہ غیر یقینی صورتحال ہی ہے جو اس طرح کی افواہ گردی کو پروان چڑھاتی ہے۔ اس ضمن میں حکمران جماعت نواز لیگ کو بھی اپنی صفوں کو درست کرنے کی ضرارت ہے۔ اور اسکو ایک سیاسی جماعت اور سیاسی ادرے کی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ 

 یہ پہلا موقعہ نہیں کہ کسی فوجی سربراہ کی حمایت میں بعض حلقے نکل آئے ہوں۔ ہم سب کو یاد ہو گا کہ ضیا حمایت تحریک بھی بنی تھی ، اس کے بعد مشرف حمایت تحریک بھی بنی تھی۔ یہ درست ہے کہ بعض حلقے اس تاڑ میں ہوتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح سے جمہوریت کو نقصان پہنچائیں اور خود کو اسٹبلشمنٹ کے قریب لانا چاہتے ہیں۔

 چلو وہ دونوں صاحبان اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتے تھے ، ملازمت میں توسیع کرنا چاہتے تھے۔ اور ان کے براہ راست اقتدار میں آنے یا رہنے کے عزائم تھے۔ لیکن جنرل راحیل شیرف تو اپنی ملازمت کی مدت پوری کرنے سے چھ ماہ پہلے اعلان کر چکے ہیں کہ انہیں کوئی توسیع نہیں چاہئے۔ 

 مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پر فوج کا نام استعمال ہو رہا ہے۔ اور اس کے سربراہ کا کا بھی نام استعمال ہو رہا ہے۔ جب جنرل راحیل شریف جنوری میں یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ تیس نومبر کو رٹائر ہو جائیں گے۔ اس کے بعد اس م پر کوئی افواہ گردی نہیں ہونی چاہئے۔ .وہ اپنے اعلان کے مطابق اگر عہدہ چھوڑ دیتے ہیں تو وہ واحد جنرل ہونگے جو گزشتہ دو عشروں میں ایسا کریں گے۔ 

جنرل شریف جن کی آپریشن عضب کی قیادت کرنے پر تعریف کی جاتی ہے۔ اس نے پاک آرمی کی قیادت کے دوران اپنی اس بات کو سچا ثابت کیا ہے کہ جو بات وہ کرتے ہیں اس پر کھڑے رہتے ہیں۔ ایسے میں اس قسم کے پوسٹرز ان کے کردار، اور جس ادارے کی وہ سربراہی کر رہے ہیں اس کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ 

الیکشن کمیشن اگرچہ نان فنکشنل ہے لیکن اس کے سمانے بھی یہ ایک مضبوط کیس ہے کیونکہ کوئی بھی جماعت جو ملک کے آئین کو ایک طرف رکھنے کی بات کرے اس کو رجسٹر نہیں کا جاسکتا۔ حکومت کو بھی اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہئے کہ ملک کے جمہوری نظام کو دھچکا پہنچانے کے پیچھے کون لوگ ہیں۔ ان کو عوام کے سامنے لے آئے۔ 


http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/15-07-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx







Thursday, July 14, 2016

سیاسی رودالیاں اورایدھی

Nai Baat July 12

سیاسی رودالیاں اورایدھی 
ایدھی کا الٹا سلام

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 

پاکستانی معاشرے میں سیاست ہو یا معیشت یا کوئی اور شعبہ کرداروں کا قحط الرجال ہے۔ اس کی اگر بنیادیں تلاش کی جائیں تو وہ ریاست کی پالیسیوں اور حکمت عملیوں تک جا کر ختم ہونگی۔ یہ ریاستی نظام اور طرز حکمرانی ہی ہے جس نے اس طرح کی صورتحال پیدا کی ہے۔ انسانیت کا علمبردار عبالستار ایدھی کے آخری سفر میں لاکھوں لوگوں کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اگر کوئی خلوص دل سے اور بے لوث خدمت کرتا ہے تو لوگ اس کو اسی طرح سے چاہتے ہیں۔ اور دلی طور پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ 

نیشنل اسٹیڈیم تک لاکھوں لوگوں کو نہ کرایے پر لیا گیا تھا اور نہی وہ دوسروں کے کرایہ کی بسوں میں آئے تھے۔ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کے جلسے کو کامیاب کرنے کے لئے جس طرح کیا جاتا ہے۔ یہ سب لوگ اپنے کرایے پر اور دل سے چل کر آئے تھے۔ ایدھی زندہ رہتے ہوئے بھی ایک چلتا پھرتا پیغام تھا اور مرنے کے بعد بھی پیغام رہا کہ خلوص دل سے غریبوں ، بے بس اور لاچار، اور لاوارث لوگوں کی مدد کروگے تو تاریخ بن جاﺅ گے۔ 

ایدھی کی آخری رسومات کو سرکاری اعزاز بھی حاصل ہوا، جس میں آرمی چیف، وفاقی وزرائ، صوبائی وزراءاعلیٰ اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اگر یہ سرکاری شخصیات شرکت نہیں بھی کرتے تب بھی ایدھی بڑا آدمی تھا۔ ایدھی کو توپوں کی سلامی دے کر زمین داخل کر دیا گیا۔ 

اس عظیم شخص کے بچھڑنے پر ہر دل سوگوار ہے۔ ہر شخص تعزیت کرنا چاہتا ہے لیکن تعزیت وصول کرنے والا کوئی نہیں۔ شاید ایدھی خاندان بھی جو ان کے تمام نیک کاموں میں ان کے ساتھ شریک رہا وہ بھی اتنے سارے لوگوں کی تعزیتیں وصول کرنے کے لئے خود کو چھوٹا سمجھ رہا تھا۔ 

اس موقع پر کئی سیاسی رودالیاں بھی میدان میں ہیں گلیسرین کے آنسو میڈیا کی کیمراﺅں مکی فلیش لائٹوں پر چمک رہے ہیں۔ راجستھان کی پرای ظقافت میں صرف پیشہ ور گانے والے ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ پیشہ ور رونے والی عورتیں بھی ہوتی تھیں جنہیں رودالیاں کہا جاتا تھا۔ جن کا پیشہ ہی یہ ہوتا تھا کہ کسی کے مرنے پر جا کر روئیں۔ اور اس رونے کو یادگار بنائیں۔ ایک عرصے تک وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے آبائی شہر خیرپور میں بھی رودالیوں کا محلہ ہوتا تھا۔ 
بعض حضرات نے عوام کے ٹیکس کے پیشے سے اشتہار چھپوا کر عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ بھی ایدھی صاحب کے مرنے پر ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ اس دوران ایدھی صاحب کے کئے نشان امتیاز کا بھی اعلان ہو گیا۔ ۔

 جن سرکاری حکام نے ایدھی کی تدفین میں شرکت کی، اگر وہ اپنے سرکاری عہدے پر نہ ہوتے تو کرتے میں سوچ رہا ہوں کہ ان میں سے کتنے حضرات شرکت کرتے؟ شاید پانچ فیصد بھی نہیں۔ انہوں نے یہ شرکت سرکاری فرض سمجھ کر کی۔ بطور ڈیوٹی کے کی۔ چلو یہ بھی اچھی بات ہے کہ انہوں نے یہ ڈیوٹی تو ادا کی۔ ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر ہمارے حکومتی اور ریاستی ادارے اپنی اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر دیتے رہتے تو ایدھی کو 88 سال کی عمر میں بھی اس طرح سے بے بسوں ، بیکسوں اور لاچاروں کے لئے جنون میں مبتلا ہو کر بھاگ دوڑ نہیں کرنی پڑتی۔ ایدھی کو ان تمام معاملات میں اس وجہ سے ”مداخلت“ کرنی پڑی کہ ہمارے ادارے ہماری حکومتیں، ہمارا نظام اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا تھا۔ وہ ذمہ داری جو ہر شہری کے حوالے سے ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ وہ ذمہ داری جس میں ملک کے آئین میں حکومت اور ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ 

ملک کے ایک بڑے حصے میں خاص طور پر سندھ میں جہاں کہیں بھی دکھی انسانیت کی صدا اٹھتی تھی، تو ایدھی کی ایمبولینس کا سائرن گونجنے لگتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ایک شخص کی محنت لھن اور خلوص کی وجہ سے تین ا یئر ایمبولنس، دو ہزار سے زائد ایمبولنس، سینکڑوں دواخانے، بے سہارا اور یتیم بچوں اور عورتوں کے لئے پناہ گاہیں، یہاں تک کہ لاوارث لاشوں کے لئے سرد خانے اور قبرستان بھی ایدھی نے قائم کر لئے۔ 

ہماری سرکاری مشنری وہ کسی صوبے کی ہو یا وفاق کی، انہوں نے کیا بنایا؟ جو ایمبولینسز ملیں یا خریدی گئیں ایک دو سال کے اندر وہ کھٹارا گاڑیوں میں تبدیل ہوگئیں۔ کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ڈسپینسریاں اور ہسپتالیں نان فنکشنل، ڈاکٹر اور دوسرا عملہ غائب۔ ادویات کی قلت۔ مطلب کس کسی کمی نااہلی ، کوتاہی اور لاپروائی کو شمار کیا جائے۔ جب ایک اکیلا آدمی اتنا بڑا نیٹ ورک چلا سکتا ہے تو منتخب نمائندوں وزراءاور افسران کی فوج ظفر موج یہ فریضہ سر انجام کیوں نہیں دے سکتی؟ صرف دو ہی چیزیں ہیں جو پورے آئیڈیا اور اس پر عمل درآمد کو تبدیل کر دیتی ہیں۔

 اول یہ کہ ادارے کا سربراہ کتنا ایماندار ہے ، سچا ہے؟ ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ سرکاری شعبے میں پروجیکٹ بنائے ہی اسی لئے جاتے ہیں کہ اس میں کس کو کتنا پیسہ ملے گا؟ کرپشن، میرٹ کو اکھاڑ کر ایک طرف پھینک دینا ہمارا خاصا رہا ہے۔ اگرہماری حکومتوں کے سربراہان یا مختلف اداروں کی قیادت کرنے والے حضرات سچے ہوتے تو یقیننا زمینی حقائق کچھ اور ہوتے۔ 

 دوسری اہم بات خدمت کا جذبہ ہے۔ ایدھی میں خدمت کا جذبہ تھا۔ ویسے لغت میں سیاست کی معنی بھی خدمت کرنے کی ہی ملتی ہیں۔ لیکن عملا ہمارے ہاں اس کی معنی اختیارات حاصل کرنا ہے وہ چاہے تنے ہی آئینی ، قانونی یا اخلاقی طور پر غلط طریقے سے حاصل ہوں، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اختیار اور اقتدارحاصل کرنے کے بعد ان کو ناجائز اور ذاتی مفاد میں استعمال کرنا ہے۔

 ایدھی جو کچھ کر رہے تھے وہ ایک بہت بڑی اچھائی، خلوص اور سچائی تھی۔ لیکن اس طرح سے ان کا فرض نہیں تھا۔ فرض ریاست اور اس کے اداروں کا تھا۔ ان اداروں کی کرپشن ،خراب حکمرانی ، ذاتی مفاد نے یہ ذمہ داری فقیر منش ایدھی کے ناتوان کندھوں پر ڈال دی۔ اور اس نے یہ ذمہ داری تمام تر خطرات، دھمکیوں، نامسائد حالات کے باوجود نبھائی۔ جس کی وجہ سے ہمارے حکمران مجبور ہو گئے کہ وہ ان کو آخری سلام پیش کرنے کے لئے آئیں۔ 

 ایدھی کو قائد کے مزار کے پاس تدفین کا بھی آئیڈیا بعض لوگوں کی طرف سے پیش کیا گیا۔ کاش ایسا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا؟ مزار پر حاضری دینے والے ملکی خواہ غیر ملکی آکر اس سے کیا سبق لیتے؟ ہمارے بچے جو وائد کی مزار دیکھنے جاتے ہیں وہ کتنا بڑا سبق سیکھتے۔ لیکن ایدھی کی وصیت آڑے آگئی۔ انہوں نے سپر ہائی وے پر واقع ایدھی ولیج میں اپنے لئے کوئی بیس سال پہلے اپنی قبر بنوا لی تھی۔ شاید یہ وہ وقت تھا جب ان کوقتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ تعجب کی بات ہے کہ ہماری حکومتیں اور ادارے جو آج ایدھی کو آخری سلام پیش کرنے آئے تھے وہ ان دھمکیوں کی ضمن میں ایدھی کی کوئی مدد نہ کر سکے تھے۔ 

 نہیں معلوم کہ ایدھی کے انتقال اور اس کو جتنی عوام نے پذیرائی دی اس سے ہمارے سیاستدانوں اور سیاسی رودالیوں نے کیا سبق سیکھا؟ اب شاید کوئی ایدھی پیدا نہیں ہوگا جو حکمرانی کے چھوڑے ہوئے loop holes کو پورا کرے۔ اس لئے حکمرانوں کی طرف سے جو آخری سلام پیش کیا گیا اس کا اظہار عملی شکل میں ہونا چاہئے، یعنی جو صورتحال پیدا ہوتی تھی جو کام ایدھی کرتا تھا حکومت اتنی ہی ایمانداری، غیر جانبداری، خلوص اور تندہی کے ساتھ کرے۔ اپنی ناکامیوں غلطیوں، خامیوں، ناہلیوں کو درست کرے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ممکن ہے کہ جو آخری سلام انہوں نے پیش کیا ہے، ایدھی صاحب قبر سے الٹا سلام پیش کرتے رہیں۔

























http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/12-07-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg 
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx

Tuesday, July 5, 2016

Nawaz Sharif's wait and watch policy

 راحیل شریف کی تبدیلی کے انتظار میں   

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
 مختلف سیاسی جماعتوں کی جاری سرگرمیوں سے لگتا ہے کہ عید کے بعد سیاست کا درجہ حرارت بڑھ جائے گا۔ پیپلزپارٹی اوعمران خان نے وزیراعظم کی نااہلی کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی دونوں جماعتوں نے تحریک چلانے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔ نواز لیگ نے جوابا عمران خان کے خلاف درخواست دائر کی ہوئی ہے۔ 

 نہیں لگتا کہ وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کو کوئی خطرہ ہے۔ لیکن بعض مسائل پیچیدہ ضرور ہیں جو صورتحال کو تبدیل کر سکتے ہیں ۔ ملک بھر میں ہر طرح کی سیاست ہو رہی ہے۔ لیکن پاناما لیکس کا دھماکہ ہونے کے تین ماہ بعد بھی وہ اپنی پوزیشن پرکھڑے ہیں۔ 

جب عمران خان نے سڑکوں پر جانے کی دھمکی دی تو پیپلزپارٹی اس کو گھیر گھار کے واپس پارلیمنٹ میں لے آئی۔ سڑکوں کی سیاست سے معاملہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے ہاتھوں سے نکل جاتا۔ ایسے میں مدد کے لئے علامہ قادری بھی پہنچے۔ لیکن وہ شاید رمضان المبارک کے اختتام یا کسی اور اشارے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن ان کا رول یہی طے ہے کہ کسی طرح سے معاملہ سڑکوں پر طے ہو۔ 

یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب عمران خان اور علامہ طاہر القادری دھرنوں اور مارچ کی بات کرتے ہیں تو ملک بھر کے عوام کو نہ اس میں شریک کرتے ہیں اور نہ ہی ملک بھر میں احتجاج کی اپیل کرتے ہیں۔ وہ ایک خاص حصے کو شامل کر کے ایک خاص علاقے کو سیاسی طور پر متحرک کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی انہوں نے کیا تھا۔ تحریک کے وسعت، گہرائی اور شمولیت میں وہ بات نہیں جو ایوب خان کے خلاف عوامی ابھار میں تھی یا جو ایم آر ڈی کی تحریک میں تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں ایم آر ڈی کو صرف سندھ تک محدود کردیا گیا تھا۔ اس طرح کی تحریک چلانے کے حق میں نہ عمران کان ہیں اور نہ پیپلزپارٹی ۔ اور نہ ہی اسٹبلشمنٹ انہیں ایسا کرنے کی اجازت دے گی۔

 اصل میں اس وقت جھگڑا خود حکمران طبقے میں ہے۔ حکمران طبقہ اس جھگڑے میں عوام کو شریک نہیں کرنا چاہتا۔ نالکی اس طرح کا معاملہ لگ رہا ہے کہ اٹھارویں صدی سے پہلے جس طرح سے بادشاہ دوسرے ملک پر لشکر کشی کر کے بادشاہ کو ہٹا دیتے تھے اور خود حاکم ہونے کا اعلان کرتے تھے۔ ان لڑائیوں میں عوام کی نہ شرکت ہوتی تھی اور نہ انہیں فریق بنایا جاتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ عوام کو ان جنگوں جا خمیازہ ٹیکس، لوٹ مار وغیرہ کی صورت میں بھگتنا پڑتا تھا۔ اب بھی عوام کو دور رکھ کر احتجاج کیا جاتا ہے۔ 

 ملک تین میں سے دو بڑی پارٹیاں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نواز شریف کو ہٹانے کے لئے الیکشن کمیشن میں درخواستیں دے کر ” قانونی طریقہ“ اختیار کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے عدلیہ کو گھسیٹنے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ پاناما لیکس کی تحقیقات کرے۔ لیکن عدلیہ کے پہلے مرحلے میں یہ کہہ کر معذرت کرلی کی یہ کا حکومت کا ہے۔ عدلیہ موجودہ حالات میں فریق نہیں بننا چاہ رہی تھی۔ بعد میں حکومت اور اپوزیشن نے مل کرپارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ٹی او آرز بنانے کی کوشش کی۔ جو کہ تاحال نہیں بن سکے ہیں۔ 

اب تیسرے راﺅنڈ میں الیکشن کمیشن کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن ممبران کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد عملی طور پر غیر موثر ہے۔ الیکشن کمیشن کے اراکین کا تقرر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مل کر کرنا ہے۔ جس کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ لیکن تاحال اس کمیٹی کی سفارشات کو آخری شکل نہیں دی جا سکی ہے۔ خیال ہے کہ یہ کام وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد ہی ممکن ہے۔ 

وزیراعظم کی وطن واپسی عید پر بھی ہو سکتی ہے اور اس میں مزید کچھ وقت بھی درکار ہو سکتا ہے۔ ایسے میں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ یقیناا چاہیں گی کہ معاملے کو طول دیا جائے تاوقتیکہ وزیراعظم کی وطن واپسی ہو۔ 

الیکشن کمیشن کے اراکین کاخواہ اپوزیشن اور حکومت دونوں کی مشترکہ رائے سے ہونا ہے لیکن ایسے میں ہمیشہ اپر ہینڈ حکومت کا ہی ہوتا ہے۔یعنی اکثریت ایسے اراکین کی ہوگی جنہیں وزیراعظم ہی مقرر کریںگے۔ کیونکہ پارلیمانی کمیٹی میں سے پچاس فیصد اراکین حکمران جماعت نواز لیگ سے ہیں۔ لہٰذا اس بات کا بہت ہی کم امکان ہے کہ ایسے اراکین کمیشن میں آجائیں گے جو نواز لیگ کے خلاف پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی دائر کردہ پٹیشنوں کا فیصلہ نواز شریف کےخلاف دے دیں۔ یا یہ کہ نیا الیکشن کمیشن آتے ہی ہاتھ دھو کر وزیراعظم نواز شریف کے پیچھے پڑ جائے۔ 

ایک آپشن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نیا الیکشن کمیشن اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے چکھ اقدامات کرے، تاکہ الیکشن کمیشن کی ساکھ بھی برقرار رہے۔ اس صورت میں مریم نواز شریف کے خلاف کوئی اقدام ہو سکتا ہے۔ یہ اس لئے بھی ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم کی ملک سے غیر حاضری کے دنوں میں مریم نے خاصے معاملات سنبھالے ہوئے تھے۔ اور اس نے بہت اچھے طریقے سے اپنے والد کی وزارت عظمیٰ کا دفاع کیا۔ 

مریم نواز کی ناتجربیکاری اپنی جگہ پر لیکن اسحاق ڈار ان کے استاد اور گائیڈ کے طور پر رہے۔ ایسے میں تحریک انصاف کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ مریم کی غلطیوں کا فائدہ اٹھائے یا ان غلطیوں کو کٹھا کر کے پھر کوئی سیاسی دھماکا کرے۔ حال ہی میں مریم نواز اور عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ کے درمیاں گاڑیوں کے تصادم پر اشو کھڑا کیا گیا تھا جس پر بالآخر ڈاکٹر عظمیٰ کو معافی لینی پڑی۔ شاید عمران خان نے زیادہ جلد بازی کر لی تھی۔ اس سے یہ بات عیاں ہو گئی کہ مریم نواز کی سرگرمیاں دراصل عمران خان کو مشکل پڑ رہی ہیں۔ 

میاں نواز شریف وطن واپس آکر خاموش بیٹھیں گے یا بطور پارٹی سربراہ اور وزیراعظم کے اپنے عہدوں پر رہیں گے؟ وہ اس ضمن میں آصف زرادری کے نقش قدم پر بھی چل سکتے ہیں۔ یعنی فیلڈ میں مریم نواز کو اسی طرح کام کرنے دیں جس طرح آصف علی زرداری نے بلاول بھٹو زرداری کو اجازت دی ہوئی ہے۔ لیکن فیصلہ سازی اپنے پاس ہی رکھی ہے۔ 
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس طرح سے میڈم فریال تالپور پارٹی کو سنبھالے ہوئے ہیں یہ رول یہاں پر اسحاق ڈار کو دیا جائے۔ یہ ایک آپشن ہے۔ 

لیکن خیال رہے کہ یہ نواز لیگ ہے پیپلزپارٹی نہیں۔ پیپلزپارٹی بطور وراثت چل رہی ہے۔ نواز لیگ میں ابھی بھی بہت سارے گروپ موجود ہیں اور وہ نہ بطور پارٹی اور نہ ہی بطور وراثت کے ابھر کرآئی ہے۔ یہ سب گروپ مریم نواز کی لیڈرشپ کو کیوں قبول کر لیں گے؟ اور اگر یہ ذمہ داری شہباز شریف کو دی جاتی ہے تو بھی اسکو چوہدری نثار علی خان اور دیگر حضرات مشکل سے ہضم کر پائیں گے۔ ایسے میں خود نواز لیگ کو بطور پارٹی کے برقرار رکھنا ایک مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ توڑ پھوڑ شروع ہوئی تو پھر اس کے ملبے کو سمیٹنے کے لئے پیپلزپارٹی اور عمران کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ 

سندھ میں پیپلزپارٹی کی کارکردگی نے پنجاب میں ا سکے پروفائل کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی بھرپور کوشش ہے کہ آج کے بحران میں وہ اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ وہ لابنگ اور سنیٹ خواہ قومی اسمبلی میں انپی موجودگی اور پوزیشن کی حد تک تو ایسا کر پا رہی ہے لیکن عوامی سطح پر کچھ کرنے کے لئے یا عوام کو کچھ آفر کرنے کے لئے اس کے پاس کچھ زیادہ چیزین نہیں۔

 نواز شریف اور زراداری کے درمیان اچھے تعلقات کے باوجود یہ بھی زمینی حقائق ہیں کہ جب اسلام آباد میں نواز لیگ پر پریشر بڑھتا ہے تو اس کو بچانے کے لئے پیپلزپارٹی بے بس ہوتی ہے۔ یہی صورتحال نواز لیگ کے ساتھ ہے کہ جب سندھ میں پیشر بڑھتا ہے تو تمام خواہشات کے باوجود وہ پیپلزپارٹی کی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔

 پیپلزپارٹی اب بھی پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ اور مقبولیت بحال کرنے کے لئے ہاتھ پاﺅں مار رہی ہے۔ خاص طور پر اعتزااحسن اور دیگر کارکنان نے اپنا سب کچھ داﺅ پر لگا دیا ہے۔ جبکہ پارٹی کے روایتی رہنما یوسف رضا گیلانی وغیرہ نواز لیگ کے خلاف کسی بڑی تحریک چلانے یا اس کے لئے مزید مشکلات پیدا کرنے کے حق میں نہیں۔ 

عمران خان کی پوری گیم نواز لیگ کو پنجاب سے اکھاڑنا ہے۔ اس گیم کو کسی طور پر آئندہ تین ماہ میں تبدیل ہو نا ہے۔ نوا ز شریف ابھی کوئی move نہیں کرنا چاہتے، وہ راحیل شریف کی تبدیلی کے انتظار میں ہیں۔ 

روزنامہ نئی بات ۵ جولائی 


http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/05-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx 






Friday, July 1, 2016

AUr humary muntkhbi Numaeendy





































http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/10-06-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx 

کیا آ پریشن سسٹم کا ایک حصہ بن چکا ہے؟


 کیا آ پریشن سسٹم کا ایک حصہ بن گیا ہے؟

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

اب یہ معمول بن گیا ہے کہ جب کراچی میںکوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہوتا ہے تووفاق سے سیاسی اور فوجی قیادت سندھ کے دارلحکومت پہنچتی ہے۔ ایک نہیں دو واقعات ایک ساتھ ہوئے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے اویس شاہ کا اغوا اور اور معروف قوال امجد صابری کا قتل۔دونوں واقعات سے حکومت، ، آپریشن کرنے والوں اور عوام کے لئے صدمے سے کم نہ تھے۔ اس مرتبہ وزیراعظم بغرض علاج ملک میں موجود نہیں تھے۔ لہٰذا وفاق کی جانب سے چوہدری نثار علی ہی تھے۔ مختلف ادارون کی بریفنگ کے بعد سخت اقدامات اور آپریشن تیز تر کرنے کے لئے کچھ فیصلے کئے جاتے ہیں۔ کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں مقدمات درج ہوتے ہیں۔ کراچی کے امن کو بگاڑنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی گروپ پر ڈال دی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آپریشن ہمارے سسٹم کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ 

یہ درست ہے کہ آج کا کراچی کئی حوالوں سے محفوظ ہے۔ اب وہ صورتحال نہیں جو چند برس پہلے تھی۔ لیکن پھر بھی یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتاکہ یہ سکون کب تک چلے گا۔ سیاسی تشدد کے واقعات میں نمایاں طور پر کمی آئی ہے۔ کراچی جتنا بڑا اورجس طرح کی آبادی کا شہر ہے وہاں وقفے کے ساتھ کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے جو انتظامیہ کے لئے صدمے کا باعث بنتا ہے۔

ریاست کی رٹ کے لئے صرف فوج ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں ہوتے۔ اس کے ایک سویلین، سیاسی اور فکری پہلو بھی ہوتے ہیں۔ریاست انہی دو پہلو کے ذریعے عام طور پر اپنی رٹ قائم کرتی ہے اور بحالت مجبوری پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ا پنی ذمہ داری نبھانے کے لئے طلب کرتی ہے۔ اصل میں کراچی میں ریاست اپنے نفیس انداز میں وجود نہیں رکھتی جو کراچی میںمعیاری امن قائم کر سکے۔ 

چیف جسٹس کے بیٹے کے اغوا اور اور معروف قوال کے قتل نے ذمہ دار حکام کی اتھارٹی کو چیلینج کیا ۔امجد صابری قوال کے قتل سے کراچی اور ملک بھر میں ان لوگوں میں خوف بٹھانا چاہ رہے ہیں جو ان روایات کی پیروکارہیںجس کی امجد صابری تمثیل تھے۔ چیف جسٹس کے بیٹے کے اغوا سے اعلیٰ عدلیہ کو شدت پسند گرپوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں مزید محتاط برتنے کا پیغام ہے۔ ان دونوں واقعات سے ریاست اور معاشرے پر وار ہیں ۔ 

 سیاسی اور عسکری قیادت مل بیٹھی۔ بعد میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے میڈیا کو بریفنگ دی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کراچی کو ایک مرتبہ پھر نئے انداز سے دیکھنے کے لئے حکومت منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ کراچی میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سندھ میں بیس ہزار جوان اور دوہزار ریٹائرڈ فوجی پولیس میں بھرتی کئے جائیں گے۔ پولیس میں بھرتی کے لئے فوج نہ صرف مدد کرے گی بلکہ اس بھرتی کے عمل کا اہم حصہ ہوگی۔
اجلاس کے فیصلے کے مطابق رینجرز کے اختیارات میں اضافہ کر کے آپریشن تیز کیا جائے گا۔ 

 ملک کے لئے دہشتگردی ایک ایسا عذاب بن گئی ہے کہ اس ک خاتمے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔ لیکن پھر بھی انسانیت کے دشمن کہیں نہ کہیں سے نکل آتے ہیں اور واقعہ رونما کر کے صورتحال کو بدل دیتے ہیں۔ قیام امن و امان میں پولیس کا کردار اہم ہوتا ہے اس میں اتنی قوت ہونی چاہئے کہ وہ امن قائم کر سکے۔ لیکن کراچی میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی موجود ہے اور وہ بھی تمام اختیارات کے ساتھ۔ لیکن جب سوالات اٹھائے جاتے ہیں تو صرف پولیس کے بارے میں ہی اٹھائے جاتے ہیں۔ 

کراچی کے موجودہ حالات میں آرمی کے خدمات کو ایک حد تک کارآمد قرا ردیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رینجرز، آپریشن یا عسکری اداروں کی مدد پر مستقل طور پر انحصار مستقل حل نہیں۔ کیونکہ ان اداروں کے اپنے فرائض ہیں اور طریقہ کار بھی اپنا ہی ہوتا ہے۔ سیاسی مقاصد کو ایک طرف رکھ کر میرٹ کی بنیاد پر بھرتی جرائم کو روکنے اور ان کے خاتمے کے لئے بنیادی نقطہ ہے۔

 کراچی جیسے شہر میں مزید پولیس نفری بھی ضروری ہے۔ یہ اہم ہے کہ بھرتی ہونے والوں کا تعلق اسی صوبے سے ہو۔ شہر جو پہلے ہی لسانی آگ میں جھلستا رہا ہے اس میں وہ مزیدپیچیدگی سے گریز کرنا چاہئے۔ 

آئین کے مطابق امن و امان صوبائی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا صوبائی حکومت کو ہی چاہئے کہ وہ اس ذمہ د اری کو نبھائے۔ یہی وجہ ہے کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ صوبائی دائرہ اختیار رہا اور سندھ حکومت سے ہی کہا جاتا رہا کہ وہ ان اختیارات کی میعاد میں توسیع کرے۔ کیا ا من و مان کا معاملہ وفاقی حکومت اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو باقی صوبوں میں ایسا کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟ 

گاڑیوں کی رجسٹریشن بھی صوبائی معاملہ ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ یہ ذمہ داری بھی وفاق اپنے ہاتھوں میں لے رہا ہے۔ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے جس کے سیاسی، انتظامی اور قانونی پہلو بھی ہیں۔ اسلام آباد میں بیٹھ کر وفاقی حکومت کوایسا کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے آئین کی متعلقہ شقوں کا بھی جائزہ لینا چاہئے تھا۔ وہ کسی ایک اجلاس یا وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس کے ذریعے صوبے سے چھینا نہیں جاسکتا۔ آج کل کمپیوٹر کا دور ہے۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن کو شفاف بنانااب اتنا مشکل کام نہیں رہا۔ وفاقی حکومت بھی یہ کام آئی ٹی ٹیکنولاجی کے ذریعے کرے گی۔ اگر یہ کیا جاتا ہے تو پھر سندھ حکومت کے پاس کیا رہ جاتا ہے؟ 

 تعجب کی بات ہے کہ وفاقی حکومت کے طلب کردہ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر داخلہ اپنے موقف کا دفاع نہیں کر سکے۔
پولیس کی خراب کارکردگی کی وجہ سے حرف صوبائی حکومت پر ہی آتا ہے۔صوبائی حکومت اور پولیس کو اپنے سوچ اور ذہن کے ساتھ کراچی میں جرائم کی صورتحال کو حل کرے۔ سندھ حکومت کی موجودہ صورتحال میں ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ وہ اپنی خراب حکمرانی، نااہلی اور عدم توجہگی کے باعث مسلسل ایسے خلاءچھوڑ رہی ہے کہ وفاقی ادارے آکر اسے بھرتے ہیں۔ 

منگل کے روز بلاول بھٹو زرادری نے امجد صابری قوال کی تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جس طرح کا رویہ سندھ حکومت کے بارے میں رکھا اس سے یہی ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے سندھ حکومت کے بارے میں برہمی کا ہی اظہار کیا ہے۔ اب صوبائی حکومت اور حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی آنکھ کھل جانی چاہئے کہ اس کی خراب حکمرانی کی وجہ سے صوبائی اور سویلین اداروں کے اختیارات کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔ وفاق کی مداخلت بڑھ رہی ہے۔

 یہ درست ہے کہ صوبائی حکومت نے وفاقی اداروں کے لئے خود ہی جگہ پیدا کی ہے۔ کہ وہ اس کےمعاملات میں دخل اندازی کریں۔ بھرتی کا عمل بھی اسی کی ذمہ داری ہونی چاہئے جس کو وہ ایمانداری اور اہلیت کے ساتھ پورا کرے۔ لہٰذا حکومت اپنی توانائی کسی اور رخ میں ضایع کرنے کے محکمہ پولیس کو مضبوط بنائے۔ اور اپنی اور پولیس کی ساکھ کو بہتر بنائے۔

http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/01-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg 
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx