July 29
نئی بات
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/29-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx
نئی بات
سانحہ مئی 12 کی فائل پھر کھلتی ہے
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔۔ سہیل سانگی
کراچی میئر کے لئے متحدہ قومی موومنٹ کے نامزد میئر وسیم اختر کی گرفتاری ڈا کٹر عاصم کے اعترافی بیان کی روشنی میں ہوئی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وسیم اختر، عبدالقادر پٹیل، کنور نوید، مصطفیٰ کمال اور دیگر سیاسی رہنماﺅں کے کہنے پر ان دہشتگردوں کا وہ اپنے ہسپتال میں علاج کرتے تھے جو رینجرز یا پولیس کے مقابلے میں زخمی ہوتے تھے۔ لیکن دوران تفتیش ان پر 12 مئی کے واقعہ میں ملوث قرار دے کر اس سانحہ سے متعلق سات مقدمات میں گرفتاری دکھائی گئی ہے۔
12 مئی 2007 کا واقعہ تب رونما ہوا تھا جب چیف جسٹس چوہدری افتخار محمد کو جنرل پرویز مشرف نے ہٹا دیا تھا ۔ صدر مشرف کے اس غیر آئینی اور غیر قانونی حکم کے خلاف ملک بھر میں وکلاء، سیاسی جماعتیں اور دانشوران احتجاج کر رہے تھے۔
جسٹس چوہدری افتخار محمد اس تحریک کے دوران ملک کے اہم شہروں کا دورہ کر ہے تھے۔ وہ کراچی بار ایسوسی ایشن کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے اسلام آباد ے کراچی آرہے تھے۔
ارباب غلام رحیم صوبائی وزیراعلیٰ تھے اور متحدہ کے وسیم اختر وزیر داخلہ تھے۔ جو کہ صوبے خواہ کراچی میں امن و امان کے لئے ذمہ دار تھے۔ صوبائی حکومت کی بھرپور کوشش تھی کہ جسٹس چوہدری کراچی ایئر پورٹ سے نکل کر شہر میں داخل نہ ہو سکیں۔ جہاں بڑی تعداد میں وکلاءاور دیگر لوگ ان کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھے۔
جسٹس چوہدری کے استقبال کرنے کے لئے آنے والوں کو جگہ جگہ پر مسلح افراد نے روکا، سرکاری مشنری نے شہر کی سڑکیں کٹینرز رکھ کر سیل کردی ۔
میڈیا کے مطابق ایسا لگ رہا تھا کہ صوبائی دارلحکومت کو یرغمال بنا دیا گیا ہے۔ اس روز پیپلزپارٹی، اے این پی، اور دیگر جماعتیں جو چیف جسٹس کی حمایت کر رہی تھیں ان کی مشرف کی حامی متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں سے مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں۔
شہر میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ پولیس اس موقعہ پر خاموش تماشائی بنی رہی۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس روز پولیس کو ہدایات دی گئی تھی کہ وہ اپنے ساتھ نہ کوئی اسلح رکھیں اور نہ ہی کوئی مداخلت کریں۔ اس واقعہ کے دوران میڈیا کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اور گرو مندر کے علاقے میں ایک ٹی وی چینل کی ہیڈ آفس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اپوزیشن جماعتیں اور میڈیا اس واقعہ کے لئے ایم کوی ایم کو ذمہ دار ٹہراتی رہیں تاہم ایم کیو ایم اس کی تردید کرتی رہی۔
اس سانحہ میں مجموعی طور پر 45 افراد مارے گئے جن میں سے عوامی نیشنل پارٹی کے 15 اور پاکستان پیپلزپارٹی کے 14 کارکنان بتائے جاتے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
اس واقعہ کو اب تقریبا دس سال ہو نے والے ہیں۔ وکلائ، سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر حلقوں سے مطالبے باوجود نہ کوئی عدالتی تحقیقات کی گئی اور نہ ہی انتظامی سطح پر صو بائی یا وفاقی حکومت نے تحقیقات کی۔ اور اس ضمن میں کبھی کوئی گرفتاری بھی عمل میں نہیں آئی۔جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی تحقیقات کے مطابق چیف جسٹس کو کراچی شہر میں ہر صورت میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ سرکاری سطح پر کیا تھا۔
وزیراعلیٰ اراب غلام رحیم نے اس واقعہ کے بعد بتایا کہ صوبائی حکومت نے یہ اقدامات اس لئے کئے تھے کہ جسٹس چوہدری کے استقبال وغیرہ کی پیشگی اجازت نہیں لی گئی تھی۔
گزشتہ سال فروری میں دہشتگردوں کی تلاش میں محمود آباد کے علاقے میں رینجرز نے چھاپہ مار کر چار افراد کو گرفتار کیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے عبدالرفیق کائیں نامی ایک ملزم سانحہ 12 مئی میں بھی مطلوب ہے۔
2008 سے پیپلزپارٹی حکومت رہی لیکن اس نے بھی اس واقعہ کو نہیں چھیڑا۔ البتہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے رواں سال کی بجٹ تقریر کے دوران یہ اعتراف کیا کہ حکومت کو معلوم ہے کہ سانحہ 12 مئی کس نے کرایا اور کون کون لوگ ملوث ہیں۔ اگرچہ اس تقریر سے پہلے اور نہ ہی بعد میں سندھ حکومت نے اس ضمن میں کوئی کارروائی کی۔
متحدہ کے رہنما وسیم اختر کی حالیہ گرفتاری اور انہیں مزید ریمانڈ کے لئے عدالت میں پیش کرنے کے موقعہ پر ان کو 12 مئی کے واقعہ میں ملوث قرار دیا ۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی میڈیا کو بتائی گئی کہ انہوں نے اس سانحہ میں ملوث ہونے کا مبینہ طوراعتراف کیا ہے۔ اس اعترافی بیان میں انہوں نے مبیہ طور یہ بھی کہا ہے کہ یہ کارروائی پارٹی کے قائد کی ہدایت پر کی تھی۔
پولیس کا دعوا ہے کہ انہوں نے اپنے اقبالی بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ غیر فعال چیف جسٹس کی ریلیوں کو روکنے کے لئے یونٹ اور سیکٹر انچارجوں کی ڈیوٹیاں لگائی گئی تھیں۔
پولیس تحویل میں دینے کے لئے مزید ریمانڈ لینے کی کوشش کی گئی لیکن انسداد دہشتگردی کی عدالت نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ متحدہ نے سرکاری طور پر وسیم اختر کے کسی ایسے اعترافی بیان دینے کی تردید کی ہے۔
گزشتہ ماہ کے تیسرے ہفتے میں انسداد دہشتگردی عدالت نے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی اور ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستوں میں عدالت میں حاضری سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔
وسیم اختر سے منسوب اعترافی بیان میں کتنی سچائی ہے اس بارے میں اس مرحلہ پر چھ نہیں کہا جاسکتا۔ صرف اس بیان کی قانونی حیثیت بھی ہوتی ہے اور سچائی کے طور پر مانا جاتا ہے۔ وسیم اختر کا یہ بیان کسی بھی عدالت یا میجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ نہیں ہوا ہے۔
12 مئی کے واقعہ کا جب بھی ذکر نکلتا ہے تو اس کے ساتھ وسیم اختر کا نام بھی آتا ہے کیونکہ وہ اس وقت صوبائی وزیر داخلا تھے۔ راتوں رات کس طرح روڈوں پر ٹینکر آگئے، سڑکیں بلاک ہو گئیں۔؟ پولیس نے کسی مرحلے پر بھی پر تشدد واقعات کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ان سوالات کے جوابات گزشتہ نو سال کے دوران حالانکہ کئہ مرتبہ مختلف حلقوں سے پوطھے گئے لیکن کسی بھی حکومت نے ان کا جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ پاکستان کی تاریخ کے طاقتور ترین سمجھے جانے والے چیف جسٹس چوہدری افتخار محمد نے اپنی بحالی کے بعد نہ اس بات کا نوٹس لیا اور نہ ہی اس سے متعلقہ دائر کی گئی چھوٹی موٹی درخواستوں کی شنوائی کی۔
وہ کونسی مفاہمت تھی جس کی وجہ سے تمام ذمہ داران کی جانب سے یہ معاملہ سرد خانے میں پڑا رہا؟
یہ ہماری ستم ظریفی ہے کہ خواہ کتنا بڑا سانحہ یا واقعہ ہو صرف تب اٹھایا جاتا ہے جب وہ سیاسی مفادات کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اور اگر ان مفادات کو فائدہ نہیں دیتا تو داخل دفتر کیا جاتا ہے۔
یہ واقعہ جنرل مشرف کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ لیکن جتنا بڑا واقعہ ہوا اور جس طرح سے ہوا، اس کے متعلقہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی آشیرواد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
اگرچہ وسیم اختر کا بیان کسی جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم کی تفتیش کے دوران نہیں آیا ہے یہ ڈی ایس پی اور انسپیکٹرز کی لیول کے افسران کی تفتیشی ٹیم کے دوران سامنے آیا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تشکیل دی جارہی ہے جس میں پولیس کے علاوہ خفیہ اداروں اور رینجرز کے نمائندے بھی شامل ہونگے۔
اگر بات اتنی لمبی اور گہری چلی جاتی ہے تو اس میں ریٹائرڈ جنرل مشرف، سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم اور چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، پولیس چیف اور دیگر اعلیٰ افسران شامل بھی ہو سکتے ہیں اور ان سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے سیاسی مصلحتوں اور مفاہمتوں سے ہٹ کر ایک مرتبہ اس مکمل طور پر اس واقعہ کی تفتیش و تحقیقات غیر جانبدارانہ طور پر ہو جانی چاہئے ۔ اور نامعلومیت سے معلومات تک اور نامعلوم افراد سے معلوم افراد تک بات کھول کر عوام کے سامنے رکھی جائے۔
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/29-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx







