Thursday, July 14, 2016

سیاسی رودالیاں اورایدھی

Nai Baat July 12

سیاسی رودالیاں اورایدھی 
ایدھی کا الٹا سلام

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 

پاکستانی معاشرے میں سیاست ہو یا معیشت یا کوئی اور شعبہ کرداروں کا قحط الرجال ہے۔ اس کی اگر بنیادیں تلاش کی جائیں تو وہ ریاست کی پالیسیوں اور حکمت عملیوں تک جا کر ختم ہونگی۔ یہ ریاستی نظام اور طرز حکمرانی ہی ہے جس نے اس طرح کی صورتحال پیدا کی ہے۔ انسانیت کا علمبردار عبالستار ایدھی کے آخری سفر میں لاکھوں لوگوں کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اگر کوئی خلوص دل سے اور بے لوث خدمت کرتا ہے تو لوگ اس کو اسی طرح سے چاہتے ہیں۔ اور دلی طور پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ 

نیشنل اسٹیڈیم تک لاکھوں لوگوں کو نہ کرایے پر لیا گیا تھا اور نہی وہ دوسروں کے کرایہ کی بسوں میں آئے تھے۔ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کے جلسے کو کامیاب کرنے کے لئے جس طرح کیا جاتا ہے۔ یہ سب لوگ اپنے کرایے پر اور دل سے چل کر آئے تھے۔ ایدھی زندہ رہتے ہوئے بھی ایک چلتا پھرتا پیغام تھا اور مرنے کے بعد بھی پیغام رہا کہ خلوص دل سے غریبوں ، بے بس اور لاچار، اور لاوارث لوگوں کی مدد کروگے تو تاریخ بن جاﺅ گے۔ 

ایدھی کی آخری رسومات کو سرکاری اعزاز بھی حاصل ہوا، جس میں آرمی چیف، وفاقی وزرائ، صوبائی وزراءاعلیٰ اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اگر یہ سرکاری شخصیات شرکت نہیں بھی کرتے تب بھی ایدھی بڑا آدمی تھا۔ ایدھی کو توپوں کی سلامی دے کر زمین داخل کر دیا گیا۔ 

اس عظیم شخص کے بچھڑنے پر ہر دل سوگوار ہے۔ ہر شخص تعزیت کرنا چاہتا ہے لیکن تعزیت وصول کرنے والا کوئی نہیں۔ شاید ایدھی خاندان بھی جو ان کے تمام نیک کاموں میں ان کے ساتھ شریک رہا وہ بھی اتنے سارے لوگوں کی تعزیتیں وصول کرنے کے لئے خود کو چھوٹا سمجھ رہا تھا۔ 

اس موقع پر کئی سیاسی رودالیاں بھی میدان میں ہیں گلیسرین کے آنسو میڈیا کی کیمراﺅں مکی فلیش لائٹوں پر چمک رہے ہیں۔ راجستھان کی پرای ظقافت میں صرف پیشہ ور گانے والے ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ پیشہ ور رونے والی عورتیں بھی ہوتی تھیں جنہیں رودالیاں کہا جاتا تھا۔ جن کا پیشہ ہی یہ ہوتا تھا کہ کسی کے مرنے پر جا کر روئیں۔ اور اس رونے کو یادگار بنائیں۔ ایک عرصے تک وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے آبائی شہر خیرپور میں بھی رودالیوں کا محلہ ہوتا تھا۔ 
بعض حضرات نے عوام کے ٹیکس کے پیشے سے اشتہار چھپوا کر عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ بھی ایدھی صاحب کے مرنے پر ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ اس دوران ایدھی صاحب کے کئے نشان امتیاز کا بھی اعلان ہو گیا۔ ۔

 جن سرکاری حکام نے ایدھی کی تدفین میں شرکت کی، اگر وہ اپنے سرکاری عہدے پر نہ ہوتے تو کرتے میں سوچ رہا ہوں کہ ان میں سے کتنے حضرات شرکت کرتے؟ شاید پانچ فیصد بھی نہیں۔ انہوں نے یہ شرکت سرکاری فرض سمجھ کر کی۔ بطور ڈیوٹی کے کی۔ چلو یہ بھی اچھی بات ہے کہ انہوں نے یہ ڈیوٹی تو ادا کی۔ ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر ہمارے حکومتی اور ریاستی ادارے اپنی اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر دیتے رہتے تو ایدھی کو 88 سال کی عمر میں بھی اس طرح سے بے بسوں ، بیکسوں اور لاچاروں کے لئے جنون میں مبتلا ہو کر بھاگ دوڑ نہیں کرنی پڑتی۔ ایدھی کو ان تمام معاملات میں اس وجہ سے ”مداخلت“ کرنی پڑی کہ ہمارے ادارے ہماری حکومتیں، ہمارا نظام اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا تھا۔ وہ ذمہ داری جو ہر شہری کے حوالے سے ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ وہ ذمہ داری جس میں ملک کے آئین میں حکومت اور ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ 

ملک کے ایک بڑے حصے میں خاص طور پر سندھ میں جہاں کہیں بھی دکھی انسانیت کی صدا اٹھتی تھی، تو ایدھی کی ایمبولینس کا سائرن گونجنے لگتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ایک شخص کی محنت لھن اور خلوص کی وجہ سے تین ا یئر ایمبولنس، دو ہزار سے زائد ایمبولنس، سینکڑوں دواخانے، بے سہارا اور یتیم بچوں اور عورتوں کے لئے پناہ گاہیں، یہاں تک کہ لاوارث لاشوں کے لئے سرد خانے اور قبرستان بھی ایدھی نے قائم کر لئے۔ 

ہماری سرکاری مشنری وہ کسی صوبے کی ہو یا وفاق کی، انہوں نے کیا بنایا؟ جو ایمبولینسز ملیں یا خریدی گئیں ایک دو سال کے اندر وہ کھٹارا گاڑیوں میں تبدیل ہوگئیں۔ کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ڈسپینسریاں اور ہسپتالیں نان فنکشنل، ڈاکٹر اور دوسرا عملہ غائب۔ ادویات کی قلت۔ مطلب کس کسی کمی نااہلی ، کوتاہی اور لاپروائی کو شمار کیا جائے۔ جب ایک اکیلا آدمی اتنا بڑا نیٹ ورک چلا سکتا ہے تو منتخب نمائندوں وزراءاور افسران کی فوج ظفر موج یہ فریضہ سر انجام کیوں نہیں دے سکتی؟ صرف دو ہی چیزیں ہیں جو پورے آئیڈیا اور اس پر عمل درآمد کو تبدیل کر دیتی ہیں۔

 اول یہ کہ ادارے کا سربراہ کتنا ایماندار ہے ، سچا ہے؟ ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ سرکاری شعبے میں پروجیکٹ بنائے ہی اسی لئے جاتے ہیں کہ اس میں کس کو کتنا پیسہ ملے گا؟ کرپشن، میرٹ کو اکھاڑ کر ایک طرف پھینک دینا ہمارا خاصا رہا ہے۔ اگرہماری حکومتوں کے سربراہان یا مختلف اداروں کی قیادت کرنے والے حضرات سچے ہوتے تو یقیننا زمینی حقائق کچھ اور ہوتے۔ 

 دوسری اہم بات خدمت کا جذبہ ہے۔ ایدھی میں خدمت کا جذبہ تھا۔ ویسے لغت میں سیاست کی معنی بھی خدمت کرنے کی ہی ملتی ہیں۔ لیکن عملا ہمارے ہاں اس کی معنی اختیارات حاصل کرنا ہے وہ چاہے تنے ہی آئینی ، قانونی یا اخلاقی طور پر غلط طریقے سے حاصل ہوں، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اختیار اور اقتدارحاصل کرنے کے بعد ان کو ناجائز اور ذاتی مفاد میں استعمال کرنا ہے۔

 ایدھی جو کچھ کر رہے تھے وہ ایک بہت بڑی اچھائی، خلوص اور سچائی تھی۔ لیکن اس طرح سے ان کا فرض نہیں تھا۔ فرض ریاست اور اس کے اداروں کا تھا۔ ان اداروں کی کرپشن ،خراب حکمرانی ، ذاتی مفاد نے یہ ذمہ داری فقیر منش ایدھی کے ناتوان کندھوں پر ڈال دی۔ اور اس نے یہ ذمہ داری تمام تر خطرات، دھمکیوں، نامسائد حالات کے باوجود نبھائی۔ جس کی وجہ سے ہمارے حکمران مجبور ہو گئے کہ وہ ان کو آخری سلام پیش کرنے کے لئے آئیں۔ 

 ایدھی کو قائد کے مزار کے پاس تدفین کا بھی آئیڈیا بعض لوگوں کی طرف سے پیش کیا گیا۔ کاش ایسا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا؟ مزار پر حاضری دینے والے ملکی خواہ غیر ملکی آکر اس سے کیا سبق لیتے؟ ہمارے بچے جو وائد کی مزار دیکھنے جاتے ہیں وہ کتنا بڑا سبق سیکھتے۔ لیکن ایدھی کی وصیت آڑے آگئی۔ انہوں نے سپر ہائی وے پر واقع ایدھی ولیج میں اپنے لئے کوئی بیس سال پہلے اپنی قبر بنوا لی تھی۔ شاید یہ وہ وقت تھا جب ان کوقتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ تعجب کی بات ہے کہ ہماری حکومتیں اور ادارے جو آج ایدھی کو آخری سلام پیش کرنے آئے تھے وہ ان دھمکیوں کی ضمن میں ایدھی کی کوئی مدد نہ کر سکے تھے۔ 

 نہیں معلوم کہ ایدھی کے انتقال اور اس کو جتنی عوام نے پذیرائی دی اس سے ہمارے سیاستدانوں اور سیاسی رودالیوں نے کیا سبق سیکھا؟ اب شاید کوئی ایدھی پیدا نہیں ہوگا جو حکمرانی کے چھوڑے ہوئے loop holes کو پورا کرے۔ اس لئے حکمرانوں کی طرف سے جو آخری سلام پیش کیا گیا اس کا اظہار عملی شکل میں ہونا چاہئے، یعنی جو صورتحال پیدا ہوتی تھی جو کام ایدھی کرتا تھا حکومت اتنی ہی ایمانداری، غیر جانبداری، خلوص اور تندہی کے ساتھ کرے۔ اپنی ناکامیوں غلطیوں، خامیوں، ناہلیوں کو درست کرے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ممکن ہے کہ جو آخری سلام انہوں نے پیش کیا ہے، ایدھی صاحب قبر سے الٹا سلام پیش کرتے رہیں۔

























http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/12-07-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg 
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx

No comments:

Post a Comment