Monday, July 18, 2016

Poster politics - Afwah gardi

Nai Baat July 15

افواہ گردی

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
 ہم صرف شدید دہشتگردی ہی نہیں بلکہ افواہ گردی کی بھی لپیٹ میں ہیں۔ جیسے 
ایک دشتگردی کا واقعہ پوری حکومت اور اداروں کو ہلا دیتا ہے اسی طرح سے ایک افواہ پوری قوم اور سیاست کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہ ملک میں کتنی غیر یقینی صورتحال ہے؟ یہ افواہ سازی فوری طور پر سیاسی عدم استحاکم میں اضافہ کردیتی ہے۔ حکومت اور اس کے کے ادارے کتنے فعال اورمتحرک ہیں۔ 

افواہ سازی اور اس کا پھیلاﺅ ہمیشہ کسی ایک خاص حلقے کو فائدہ دیتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ایسے حلقے ہر ملک کی طرح ہمارے پس بھی موجود ہونگے۔

 سوال یہ ہے کہ ہم ان افواہوں کا موثر جواب کیوں نہیں دے پاتے؟ سب سے بڑی ذمہ داری ملک کے محکمہ اطلاعات و نشریات پر ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کی افواہ سازی کا موثر اور ٹھوس جواب دے۔ لیکن کبھی کبھی لگتا ہے کہ جس طرح سے وزارت خارجہ اپنی اہمیت کھو بیٹھی ہے یا اس کا کوئی رول نہی اسی طرح سے محکمہ اطلاعات و نشریات کا بھی رول نظر نہیںآتا۔ آج کے دور میں افواہ سازی کو پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ میڈیا ہی بنتا ہے۔ 

 اس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں کہ میڈیا پر پابندی لگائی جائے۔ لیکن کم از کم میڈیاسے متعلق حکومت کی کوئی پالیسی ہونی چاہئے۔ اور میڈیا میں حکومت کی موثر نمائندگی اور موقف موجود ہونا چاہئے۔ یہ سب چیزیں عملا نظر نہیں آتی۔ گھسے پٹے سیاسی بیانات جاری ہوتے ہیں۔ جو عموما سیاستدانوں کے خالف ہوتے ہیں۔ حکومت کی تمام میڈیا حکمت عملی رد عمل کی یعنی reactive ہے، وہ proactive نہیں ہے۔ نتیجے یں میڈیا کے محاذ پر حکموت ہمیشہ دفاعی پوزیشن پر نظر آتی ہے۔ 

ملکی سیاست پاناما لیکس، عمران خان کی تیسری شادی، قندیل بلوچ اور مولانا حماد کے اسکینڈل، جنرل راحیل شریف اپنے اعلان کے مطابق واقعی ریٹائر ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ کے گرد گھوم رہی ہے۔ پاناما لیکس کی تحقیقات ہونی ہے تو کر کے اس کو نمٹاﺅ۔ 
عمران خان کو شادی  کرنے ہے تو وہ کر لے۔ یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ جس کو وہ رحم خان سے دوسری شادی کے موقعہ پر پر بھی سیاسی بنا رہا تھا۔ اور اب ایک بار پھر تیسری شادی کا اعلان کر کے اس معاملے کو سیاست میں گھسیٹ رہا ہے۔ 

یہ سب نان اشوز ہیں۔ جن کا ملک اور گرد نواح کیں موجود اشوز سے کوئی تعلق نہیں۔ ان نان اشوز کو اشو بنا کر ان کے پیچھے میڈیا اور ہمارے ادارے عوام کو گھما رہے ہیں۔ 

 گزشتہ ہفتے پراسرا رنوعیت کے پوسٹرایک ہی رات نیں ملک بھر میں لگ گئے۔ جن میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو توسیع دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ملک میں مارشل لا نافذ کرکے ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کریں۔ یہ پوسٹر ایک پنجاب کی گمنام سیاسی جماعت” مو آن پاکستان “ کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔ 

یہ جماعت تین سال سے الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے۔ اور اس کے سربراہ کا تعلق فیصل آباد سے بتایا جاتا ہے۔ جو پنجاب میں تعلیمی ادروں کی ایک چین چلاتے ہیں۔ جس بڑے پیمانے پر ایک ہی دن میں پوسٹر لاگئے گئے ہیں وہ اس جماعت کی تنظیمی خواہ دیگر صلاحیتوں سے زیادہ ہے۔ اس جامعت نے رواں سال فروری میں بھی اسی طرح کے پوسٹر لگائے تھے۔ اور جنرل راحیل شریف سے اپیل کی تھی کہ ملک میں دہشتگردی اور کرپشن کے خاتمے کے لئے انہیں اس عہدے پر مزید مدت کے لئے برقرار رہنا چاہئے۔ 

ان پوسٹرز نے اس وجہ سے بھی ہلکہ مچادیا ہے کہ ایک طرف پاناما لیکس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک طویل ہو گیا ہے۔ اور دونوں فریق بعض نکات پر متفقہ نہیں ہو رہے ہیں۔ 

پہلے عمران خان اور بعد میں پیپلزپارٹی اس معاملے پر سڑکوں پر آنے اور کٹنیر
 لگانے کی بات کر رہی ہے۔ وزیرعظم لندن میں ہارٹ سرجری کے بعد واپس تو آگئے ہیں لیکن وہ بھی کوئی موثر سرگرمی یا فیصلہ سازی نہیں کر سکے ہیں۔ 

الیکشن کمیشن ادھوری ہے جس کے چار اراکین کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد نئے اراکین کی نامزدگی نہیں ہو سکی ہے۔ یہ معاملہ بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔ اب اے این پی نے اس پروسیس سے علحدگی کا علان کردیا ہے۔ 

ان پوسٹرز کی حقیقت کیا ہے؟ اس کے پیچھے کون ہے؟ یہ معاملہ وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ہمارے وفاقی وزیر داخلا چوہدری نثار علی خان صوبائی خود مختاری میں مداخلت سے لیکر ملک کی خارجہ پالیسی تک سب پر اپنا تفصیلی موقف بیان کرتے ہیں لیکن خود ان کی وزارت کے ذمہ جو کام ہے اس میں ایک ہفتے بعد بھی آگاہ نہیں کر سکے ہیں۔ 

پیپلزپارٹی اور اپوزیشن کا خیال ہے کہ یہ پوسٹر لگانا خود حکومت چال ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعے حکومت اپوزیشن کو ڈرانا چاہ رہی ہے کہ اگر حکومت کے خلاف تحریک چلانے جاﺅ گے تو مارشل لا لگ جائے گا۔ آرمی کے میڈیا سے تعلق رکھنے والے ادارے آئی ایس پی آر نے اس پوسٹر بازی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن یہ پوسٹر اتارنے کے لئے نہ حکومتی ادارہ ار نہ ہی کوئی ریاستی ادارہ سامنے آیا ہے۔ اور نہ اس ضمن میں کوئی تحقیقات شروع کی گئی ہے نہ کارروائی۔ 

اگر اس معاملے میں حکومت کوئی سازش کی تھیوری تلاش کر رہی ہے، اس کا جوا بھی خود حکومت کو دینا چاہئے کہ آخر اس طرح کے حالات کیونکر پیدا ہوئے ہیں کہ سازشیں ہو رہی ہیں؟ ملک میں موجود سیاسی کشیدگی کسی مثبت اور منطقی نیتجے پر لا کر حل کیوں نہیں کیا جاتا؟ اگر حکومت اور اپوزیشن مل کر سیاسی بحران کا حل کرتی ہیں تو کسی اور کی مداخلت کے بارے میں کوئی بات بھی نہیں کر سکے گا اور کوئی کرے گا بھی تو اس پر عوام یقین ہی نہیں کریں گے۔

دراصل یہ غیر یقینی صورتحال ہی ہے جو اس طرح کی افواہ گردی کو پروان چڑھاتی ہے۔ اس ضمن میں حکمران جماعت نواز لیگ کو بھی اپنی صفوں کو درست کرنے کی ضرارت ہے۔ اور اسکو ایک سیاسی جماعت اور سیاسی ادرے کی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ 

 یہ پہلا موقعہ نہیں کہ کسی فوجی سربراہ کی حمایت میں بعض حلقے نکل آئے ہوں۔ ہم سب کو یاد ہو گا کہ ضیا حمایت تحریک بھی بنی تھی ، اس کے بعد مشرف حمایت تحریک بھی بنی تھی۔ یہ درست ہے کہ بعض حلقے اس تاڑ میں ہوتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح سے جمہوریت کو نقصان پہنچائیں اور خود کو اسٹبلشمنٹ کے قریب لانا چاہتے ہیں۔

 چلو وہ دونوں صاحبان اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتے تھے ، ملازمت میں توسیع کرنا چاہتے تھے۔ اور ان کے براہ راست اقتدار میں آنے یا رہنے کے عزائم تھے۔ لیکن جنرل راحیل شیرف تو اپنی ملازمت کی مدت پوری کرنے سے چھ ماہ پہلے اعلان کر چکے ہیں کہ انہیں کوئی توسیع نہیں چاہئے۔ 

 مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پر فوج کا نام استعمال ہو رہا ہے۔ اور اس کے سربراہ کا کا بھی نام استعمال ہو رہا ہے۔ جب جنرل راحیل شریف جنوری میں یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ تیس نومبر کو رٹائر ہو جائیں گے۔ اس کے بعد اس م پر کوئی افواہ گردی نہیں ہونی چاہئے۔ .وہ اپنے اعلان کے مطابق اگر عہدہ چھوڑ دیتے ہیں تو وہ واحد جنرل ہونگے جو گزشتہ دو عشروں میں ایسا کریں گے۔ 

جنرل شریف جن کی آپریشن عضب کی قیادت کرنے پر تعریف کی جاتی ہے۔ اس نے پاک آرمی کی قیادت کے دوران اپنی اس بات کو سچا ثابت کیا ہے کہ جو بات وہ کرتے ہیں اس پر کھڑے رہتے ہیں۔ ایسے میں اس قسم کے پوسٹرز ان کے کردار، اور جس ادارے کی وہ سربراہی کر رہے ہیں اس کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ 

الیکشن کمیشن اگرچہ نان فنکشنل ہے لیکن اس کے سمانے بھی یہ ایک مضبوط کیس ہے کیونکہ کوئی بھی جماعت جو ملک کے آئین کو ایک طرف رکھنے کی بات کرے اس کو رجسٹر نہیں کا جاسکتا۔ حکومت کو بھی اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہئے کہ ملک کے جمہوری نظام کو دھچکا پہنچانے کے پیچھے کون لوگ ہیں۔ ان کو عوام کے سامنے لے آئے۔ 


http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/15-07-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx







No comments:

Post a Comment