کیا آ پریشن سسٹم کا ایک حصہ بن گیا ہے؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اب یہ معمول بن گیا ہے کہ جب کراچی میںکوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہوتا ہے تووفاق سے سیاسی اور فوجی قیادت سندھ کے دارلحکومت پہنچتی ہے۔ ایک نہیں دو واقعات ایک ساتھ ہوئے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے اویس شاہ کا اغوا اور اور معروف قوال امجد صابری کا قتل۔دونوں واقعات سے حکومت، ، آپریشن کرنے والوں اور عوام کے لئے صدمے سے کم نہ تھے۔ اس مرتبہ وزیراعظم بغرض علاج ملک میں موجود نہیں تھے۔ لہٰذا وفاق کی جانب سے چوہدری نثار علی ہی تھے۔ مختلف ادارون کی بریفنگ کے بعد سخت اقدامات اور آپریشن تیز تر کرنے کے لئے کچھ فیصلے کئے جاتے ہیں۔ کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں مقدمات درج ہوتے ہیں۔ کراچی کے امن کو بگاڑنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی گروپ پر ڈال دی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آپریشن ہمارے سسٹم کا ایک حصہ بن گیا ہے۔
یہ درست ہے کہ آج کا کراچی کئی حوالوں سے محفوظ ہے۔ اب وہ صورتحال نہیں جو چند برس پہلے تھی۔ لیکن پھر بھی یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتاکہ یہ سکون کب تک چلے گا۔ سیاسی تشدد کے واقعات میں نمایاں طور پر کمی آئی ہے۔ کراچی جتنا بڑا اورجس طرح کی آبادی کا شہر ہے وہاں وقفے کے ساتھ کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے جو انتظامیہ کے لئے صدمے کا باعث بنتا ہے۔
ریاست کی رٹ کے لئے صرف فوج ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں ہوتے۔ اس کے ایک سویلین، سیاسی اور فکری پہلو بھی ہوتے ہیں۔ریاست انہی دو پہلو کے ذریعے عام طور پر اپنی رٹ قائم کرتی ہے اور بحالت مجبوری پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ا پنی ذمہ داری نبھانے کے لئے طلب کرتی ہے۔ اصل میں کراچی میں ریاست اپنے نفیس انداز میں وجود نہیں رکھتی جو کراچی میںمعیاری امن قائم کر سکے۔
چیف جسٹس کے بیٹے کے اغوا اور اور معروف قوال کے قتل نے ذمہ دار حکام کی اتھارٹی کو چیلینج کیا ۔امجد صابری قوال کے قتل سے کراچی اور ملک بھر میں ان لوگوں میں خوف بٹھانا چاہ رہے ہیں جو ان روایات کی پیروکارہیںجس کی امجد صابری تمثیل تھے۔ چیف جسٹس کے بیٹے کے اغوا سے اعلیٰ عدلیہ کو شدت پسند گرپوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں مزید محتاط برتنے کا پیغام ہے۔ ان دونوں واقعات سے ریاست اور معاشرے پر وار ہیں ۔
سیاسی اور عسکری قیادت مل بیٹھی۔ بعد میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے میڈیا کو بریفنگ دی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کراچی کو ایک مرتبہ پھر نئے انداز سے دیکھنے کے لئے حکومت منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ کراچی میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سندھ میں بیس ہزار جوان اور دوہزار ریٹائرڈ فوجی پولیس میں بھرتی کئے جائیں گے۔ پولیس میں بھرتی کے لئے فوج نہ صرف مدد کرے گی بلکہ اس بھرتی کے عمل کا اہم حصہ ہوگی۔
اجلاس کے فیصلے کے مطابق رینجرز کے اختیارات میں اضافہ کر کے آپریشن تیز کیا جائے گا۔
ملک کے لئے دہشتگردی ایک ایسا عذاب بن گئی ہے کہ اس ک خاتمے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔ لیکن پھر بھی انسانیت کے دشمن کہیں نہ کہیں سے نکل آتے ہیں اور واقعہ رونما کر کے صورتحال کو بدل دیتے ہیں۔ قیام امن و امان میں پولیس کا کردار اہم ہوتا ہے اس میں اتنی قوت ہونی چاہئے کہ وہ امن قائم کر سکے۔ لیکن کراچی میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی موجود ہے اور وہ بھی تمام اختیارات کے ساتھ۔ لیکن جب سوالات اٹھائے جاتے ہیں تو صرف پولیس کے بارے میں ہی اٹھائے جاتے ہیں۔
کراچی کے موجودہ حالات میں آرمی کے خدمات کو ایک حد تک کارآمد قرا ردیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رینجرز، آپریشن یا عسکری اداروں کی مدد پر مستقل طور پر انحصار مستقل حل نہیں۔ کیونکہ ان اداروں کے اپنے فرائض ہیں اور طریقہ کار بھی اپنا ہی ہوتا ہے۔ سیاسی مقاصد کو ایک طرف رکھ کر میرٹ کی بنیاد پر بھرتی جرائم کو روکنے اور ان کے خاتمے کے لئے بنیادی نقطہ ہے۔
کراچی جیسے شہر میں مزید پولیس نفری بھی ضروری ہے۔ یہ اہم ہے کہ بھرتی ہونے والوں کا تعلق اسی صوبے سے ہو۔ شہر جو پہلے ہی لسانی آگ میں جھلستا رہا ہے اس میں وہ مزیدپیچیدگی سے گریز کرنا چاہئے۔
آئین کے مطابق امن و امان صوبائی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا صوبائی حکومت کو ہی چاہئے کہ وہ اس ذمہ د اری کو نبھائے۔ یہی وجہ ہے کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ صوبائی دائرہ اختیار رہا اور سندھ حکومت سے ہی کہا جاتا رہا کہ وہ ان اختیارات کی میعاد میں توسیع کرے۔ کیا ا من و مان کا معاملہ وفاقی حکومت اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو باقی صوبوں میں ایسا کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟
گاڑیوں کی رجسٹریشن بھی صوبائی معاملہ ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ یہ ذمہ داری بھی وفاق اپنے ہاتھوں میں لے رہا ہے۔ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے جس کے سیاسی، انتظامی اور قانونی پہلو بھی ہیں۔ اسلام آباد میں بیٹھ کر وفاقی حکومت کوایسا کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے آئین کی متعلقہ شقوں کا بھی جائزہ لینا چاہئے تھا۔ وہ کسی ایک اجلاس یا وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس کے ذریعے صوبے سے چھینا نہیں جاسکتا۔ آج کل کمپیوٹر کا دور ہے۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن کو شفاف بنانااب اتنا مشکل کام نہیں رہا۔ وفاقی حکومت بھی یہ کام آئی ٹی ٹیکنولاجی کے ذریعے کرے گی۔ اگر یہ کیا جاتا ہے تو پھر سندھ حکومت کے پاس کیا رہ جاتا ہے؟
تعجب کی بات ہے کہ وفاقی حکومت کے طلب کردہ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر داخلہ اپنے موقف کا دفاع نہیں کر سکے۔
پولیس کی خراب کارکردگی کی وجہ سے حرف صوبائی حکومت پر ہی آتا ہے۔صوبائی حکومت اور پولیس کو اپنے سوچ اور ذہن کے ساتھ کراچی میں جرائم کی صورتحال کو حل کرے۔ سندھ حکومت کی موجودہ صورتحال میں ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ وہ اپنی خراب حکمرانی، نااہلی اور عدم توجہگی کے باعث مسلسل ایسے خلاءچھوڑ رہی ہے کہ وفاقی ادارے آکر اسے بھرتے ہیں۔
منگل کے روز بلاول بھٹو زرادری نے امجد صابری قوال کی تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جس طرح کا رویہ سندھ حکومت کے بارے میں رکھا اس سے یہی ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے سندھ حکومت کے بارے میں برہمی کا ہی اظہار کیا ہے۔ اب صوبائی حکومت اور حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی آنکھ کھل جانی چاہئے کہ اس کی خراب حکمرانی کی وجہ سے صوبائی اور سویلین اداروں کے اختیارات کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔ وفاق کی مداخلت بڑھ رہی ہے۔
یہ درست ہے کہ صوبائی حکومت نے وفاقی اداروں کے لئے خود ہی جگہ پیدا کی ہے۔ کہ وہ اس کےمعاملات میں دخل اندازی کریں۔ بھرتی کا عمل بھی اسی کی ذمہ داری ہونی چاہئے جس کو وہ ایمانداری اور اہلیت کے ساتھ پورا کرے۔ لہٰذا حکومت اپنی توانائی کسی اور رخ میں ضایع کرنے کے محکمہ پولیس کو مضبوط بنائے۔ اور اپنی اور پولیس کی ساکھ کو بہتر بنائے۔
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/01-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx

No comments:
Post a Comment