Tuesday, July 5, 2016

Nawaz Sharif's wait and watch policy

 راحیل شریف کی تبدیلی کے انتظار میں   

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
 مختلف سیاسی جماعتوں کی جاری سرگرمیوں سے لگتا ہے کہ عید کے بعد سیاست کا درجہ حرارت بڑھ جائے گا۔ پیپلزپارٹی اوعمران خان نے وزیراعظم کی نااہلی کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی دونوں جماعتوں نے تحریک چلانے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔ نواز لیگ نے جوابا عمران خان کے خلاف درخواست دائر کی ہوئی ہے۔ 

 نہیں لگتا کہ وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کو کوئی خطرہ ہے۔ لیکن بعض مسائل پیچیدہ ضرور ہیں جو صورتحال کو تبدیل کر سکتے ہیں ۔ ملک بھر میں ہر طرح کی سیاست ہو رہی ہے۔ لیکن پاناما لیکس کا دھماکہ ہونے کے تین ماہ بعد بھی وہ اپنی پوزیشن پرکھڑے ہیں۔ 

جب عمران خان نے سڑکوں پر جانے کی دھمکی دی تو پیپلزپارٹی اس کو گھیر گھار کے واپس پارلیمنٹ میں لے آئی۔ سڑکوں کی سیاست سے معاملہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے ہاتھوں سے نکل جاتا۔ ایسے میں مدد کے لئے علامہ قادری بھی پہنچے۔ لیکن وہ شاید رمضان المبارک کے اختتام یا کسی اور اشارے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن ان کا رول یہی طے ہے کہ کسی طرح سے معاملہ سڑکوں پر طے ہو۔ 

یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب عمران خان اور علامہ طاہر القادری دھرنوں اور مارچ کی بات کرتے ہیں تو ملک بھر کے عوام کو نہ اس میں شریک کرتے ہیں اور نہ ہی ملک بھر میں احتجاج کی اپیل کرتے ہیں۔ وہ ایک خاص حصے کو شامل کر کے ایک خاص علاقے کو سیاسی طور پر متحرک کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی انہوں نے کیا تھا۔ تحریک کے وسعت، گہرائی اور شمولیت میں وہ بات نہیں جو ایوب خان کے خلاف عوامی ابھار میں تھی یا جو ایم آر ڈی کی تحریک میں تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں ایم آر ڈی کو صرف سندھ تک محدود کردیا گیا تھا۔ اس طرح کی تحریک چلانے کے حق میں نہ عمران کان ہیں اور نہ پیپلزپارٹی ۔ اور نہ ہی اسٹبلشمنٹ انہیں ایسا کرنے کی اجازت دے گی۔

 اصل میں اس وقت جھگڑا خود حکمران طبقے میں ہے۔ حکمران طبقہ اس جھگڑے میں عوام کو شریک نہیں کرنا چاہتا۔ نالکی اس طرح کا معاملہ لگ رہا ہے کہ اٹھارویں صدی سے پہلے جس طرح سے بادشاہ دوسرے ملک پر لشکر کشی کر کے بادشاہ کو ہٹا دیتے تھے اور خود حاکم ہونے کا اعلان کرتے تھے۔ ان لڑائیوں میں عوام کی نہ شرکت ہوتی تھی اور نہ انہیں فریق بنایا جاتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ عوام کو ان جنگوں جا خمیازہ ٹیکس، لوٹ مار وغیرہ کی صورت میں بھگتنا پڑتا تھا۔ اب بھی عوام کو دور رکھ کر احتجاج کیا جاتا ہے۔ 

 ملک تین میں سے دو بڑی پارٹیاں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نواز شریف کو ہٹانے کے لئے الیکشن کمیشن میں درخواستیں دے کر ” قانونی طریقہ“ اختیار کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے عدلیہ کو گھسیٹنے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ پاناما لیکس کی تحقیقات کرے۔ لیکن عدلیہ کے پہلے مرحلے میں یہ کہہ کر معذرت کرلی کی یہ کا حکومت کا ہے۔ عدلیہ موجودہ حالات میں فریق نہیں بننا چاہ رہی تھی۔ بعد میں حکومت اور اپوزیشن نے مل کرپارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ٹی او آرز بنانے کی کوشش کی۔ جو کہ تاحال نہیں بن سکے ہیں۔ 

اب تیسرے راﺅنڈ میں الیکشن کمیشن کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن ممبران کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد عملی طور پر غیر موثر ہے۔ الیکشن کمیشن کے اراکین کا تقرر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مل کر کرنا ہے۔ جس کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ لیکن تاحال اس کمیٹی کی سفارشات کو آخری شکل نہیں دی جا سکی ہے۔ خیال ہے کہ یہ کام وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد ہی ممکن ہے۔ 

وزیراعظم کی وطن واپسی عید پر بھی ہو سکتی ہے اور اس میں مزید کچھ وقت بھی درکار ہو سکتا ہے۔ ایسے میں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ یقیناا چاہیں گی کہ معاملے کو طول دیا جائے تاوقتیکہ وزیراعظم کی وطن واپسی ہو۔ 

الیکشن کمیشن کے اراکین کاخواہ اپوزیشن اور حکومت دونوں کی مشترکہ رائے سے ہونا ہے لیکن ایسے میں ہمیشہ اپر ہینڈ حکومت کا ہی ہوتا ہے۔یعنی اکثریت ایسے اراکین کی ہوگی جنہیں وزیراعظم ہی مقرر کریںگے۔ کیونکہ پارلیمانی کمیٹی میں سے پچاس فیصد اراکین حکمران جماعت نواز لیگ سے ہیں۔ لہٰذا اس بات کا بہت ہی کم امکان ہے کہ ایسے اراکین کمیشن میں آجائیں گے جو نواز لیگ کے خلاف پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی دائر کردہ پٹیشنوں کا فیصلہ نواز شریف کےخلاف دے دیں۔ یا یہ کہ نیا الیکشن کمیشن آتے ہی ہاتھ دھو کر وزیراعظم نواز شریف کے پیچھے پڑ جائے۔ 

ایک آپشن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نیا الیکشن کمیشن اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے چکھ اقدامات کرے، تاکہ الیکشن کمیشن کی ساکھ بھی برقرار رہے۔ اس صورت میں مریم نواز شریف کے خلاف کوئی اقدام ہو سکتا ہے۔ یہ اس لئے بھی ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم کی ملک سے غیر حاضری کے دنوں میں مریم نے خاصے معاملات سنبھالے ہوئے تھے۔ اور اس نے بہت اچھے طریقے سے اپنے والد کی وزارت عظمیٰ کا دفاع کیا۔ 

مریم نواز کی ناتجربیکاری اپنی جگہ پر لیکن اسحاق ڈار ان کے استاد اور گائیڈ کے طور پر رہے۔ ایسے میں تحریک انصاف کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ مریم کی غلطیوں کا فائدہ اٹھائے یا ان غلطیوں کو کٹھا کر کے پھر کوئی سیاسی دھماکا کرے۔ حال ہی میں مریم نواز اور عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ کے درمیاں گاڑیوں کے تصادم پر اشو کھڑا کیا گیا تھا جس پر بالآخر ڈاکٹر عظمیٰ کو معافی لینی پڑی۔ شاید عمران خان نے زیادہ جلد بازی کر لی تھی۔ اس سے یہ بات عیاں ہو گئی کہ مریم نواز کی سرگرمیاں دراصل عمران خان کو مشکل پڑ رہی ہیں۔ 

میاں نواز شریف وطن واپس آکر خاموش بیٹھیں گے یا بطور پارٹی سربراہ اور وزیراعظم کے اپنے عہدوں پر رہیں گے؟ وہ اس ضمن میں آصف زرادری کے نقش قدم پر بھی چل سکتے ہیں۔ یعنی فیلڈ میں مریم نواز کو اسی طرح کام کرنے دیں جس طرح آصف علی زرداری نے بلاول بھٹو زرداری کو اجازت دی ہوئی ہے۔ لیکن فیصلہ سازی اپنے پاس ہی رکھی ہے۔ 
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس طرح سے میڈم فریال تالپور پارٹی کو سنبھالے ہوئے ہیں یہ رول یہاں پر اسحاق ڈار کو دیا جائے۔ یہ ایک آپشن ہے۔ 

لیکن خیال رہے کہ یہ نواز لیگ ہے پیپلزپارٹی نہیں۔ پیپلزپارٹی بطور وراثت چل رہی ہے۔ نواز لیگ میں ابھی بھی بہت سارے گروپ موجود ہیں اور وہ نہ بطور پارٹی اور نہ ہی بطور وراثت کے ابھر کرآئی ہے۔ یہ سب گروپ مریم نواز کی لیڈرشپ کو کیوں قبول کر لیں گے؟ اور اگر یہ ذمہ داری شہباز شریف کو دی جاتی ہے تو بھی اسکو چوہدری نثار علی خان اور دیگر حضرات مشکل سے ہضم کر پائیں گے۔ ایسے میں خود نواز لیگ کو بطور پارٹی کے برقرار رکھنا ایک مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ توڑ پھوڑ شروع ہوئی تو پھر اس کے ملبے کو سمیٹنے کے لئے پیپلزپارٹی اور عمران کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ 

سندھ میں پیپلزپارٹی کی کارکردگی نے پنجاب میں ا سکے پروفائل کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی بھرپور کوشش ہے کہ آج کے بحران میں وہ اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ وہ لابنگ اور سنیٹ خواہ قومی اسمبلی میں انپی موجودگی اور پوزیشن کی حد تک تو ایسا کر پا رہی ہے لیکن عوامی سطح پر کچھ کرنے کے لئے یا عوام کو کچھ آفر کرنے کے لئے اس کے پاس کچھ زیادہ چیزین نہیں۔

 نواز شریف اور زراداری کے درمیان اچھے تعلقات کے باوجود یہ بھی زمینی حقائق ہیں کہ جب اسلام آباد میں نواز لیگ پر پریشر بڑھتا ہے تو اس کو بچانے کے لئے پیپلزپارٹی بے بس ہوتی ہے۔ یہی صورتحال نواز لیگ کے ساتھ ہے کہ جب سندھ میں پیشر بڑھتا ہے تو تمام خواہشات کے باوجود وہ پیپلزپارٹی کی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔

 پیپلزپارٹی اب بھی پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ اور مقبولیت بحال کرنے کے لئے ہاتھ پاﺅں مار رہی ہے۔ خاص طور پر اعتزااحسن اور دیگر کارکنان نے اپنا سب کچھ داﺅ پر لگا دیا ہے۔ جبکہ پارٹی کے روایتی رہنما یوسف رضا گیلانی وغیرہ نواز لیگ کے خلاف کسی بڑی تحریک چلانے یا اس کے لئے مزید مشکلات پیدا کرنے کے حق میں نہیں۔ 

عمران خان کی پوری گیم نواز لیگ کو پنجاب سے اکھاڑنا ہے۔ اس گیم کو کسی طور پر آئندہ تین ماہ میں تبدیل ہو نا ہے۔ نوا ز شریف ابھی کوئی move نہیں کرنا چاہتے، وہ راحیل شریف کی تبدیلی کے انتظار میں ہیں۔ 

روزنامہ نئی بات ۵ جولائی 


http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/05-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx 






No comments:

Post a Comment