July 22 Nai Baat
رینجرزاختیارات، میعاد اور ایریا میں توسیع چاہتی ہے
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
حکومت سندھ اور رینجرز کے درمیان اختیارات کے معاملہ پر ایک بار پھر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ستمبر 2013 سے جب رینجرز کو مزید اختیارات دیئے گئے ہیں ہر تین ماہ بعد یہ تنازع کھڑا ہوتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نہ صرف رینجرز کو پولیس کے اختیارات کی مدت ختم ہوگئی ہے بلکہ 1989 میں صوبے میں رینجرز کی تعینات کے لئے سول انتظامیہ اور پولیس کی مدد کے لئے طلب ی گئی رینجرز کی میعاد بھی ختم ہوگئی ہے۔ اس وجہ سے رینجرز نے اپنی چوکیاں خالی کردی ہیں۔
رینجرز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس کی مدد کرنے یا آپریشن کو جاری رکھنا بھی نئے احکامات تک بند کردیا ہے۔
تین سال قبل شروع کئے گئے آپریشن کی وجہ سے صوبے میں عمومی اور کراچی شہر میں خصوصی طور پر امن امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ سیاسی معاملات اپنی جگہ پر لیکن سندھ حکومت بھی یہ سمجھتی ہے کہ کراچی کی صورتحال اب مختلف حوالوں سے ایسی بن گئی ہے کہ یہاں رینجرز کے بغیر امن قائم نہیں کر سکتی۔ وفاقی حکومت کا بھی دباﺅ ہے کہ سندھ حکومت ہر حال میں رینجرز کے اختیارات کی مدت میں توسیع کرے۔
مسئلہ صرف رینجرز کی تعینات ، اور اسکوحاصل موجودہ اختیارات میں توسیع کا نہیں۔ حالانکہ اس پر بھی سندھ حکومت کو تحفظات ہیں۔ لیکن رینجرز کا مطالبہ ہے کہ اس کی تعینات ، اختیارات کی مدت میں اور اختیارات کے دائرہ کار اور علاقے میں بھی توسیع کی جائے۔ اس کے بعد حساس صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
ایک طرف منتخب صوبائی حکومت کے اسپیس بچانے کا سوال ہے، دوسری طرف صوبائی دارالحکومت میں قیام امن کا معاملہ ہے۔ جو 1989 سے رینجرز کی موجودگی اور تین سال سے آپریشن اور رینجرز کو حاصل خصوصی اختیارات کے بعد بھی اطمینان اور استحکام کی حد تک قائم نہیں ہو سکا ہے۔ اور وزیرعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے مشورے کے لئے دبئی چلے گئے ہیں۔
گزشتہ سال دسمبر میں رینجرز کے اختیارات کی میعاد بڑھانے کے وقت بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیاں خاصی کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کر کے رینجرز کے اختیارات میں کمی پر زور دیا تھا۔ اور اس کے پولیسنگ کے اختیارات کو دہشتگردوں، بھتہ خوروں، اغوا برائے تاوان، اور مذہبی فرقہ واریت کے جرائم کو ہینڈل کرنے تک محدود کیا تھا۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر رینجرز سہولت کار کے نام پر کسی کی گرفتاری چاہتی ہے تو اس کو وزیراعلیٰ سندھ سے تحریری طور پر پیشگی منظوری لینی پڑے گی۔
اس پر وفاقی وزیر داخلہ نے سخت موقف اختیار کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر سندھ حکومت میعاد میں اضافہ نہیں کرتی تو وفاقی حکومت کے پاس گورنر راج نافذ کرنا اور آئین کی شق 245 کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ وفای وزیر کا یہ بیان دھمکی نما تھا۔
سندھ میں رینجرز کو اختیارات آئین کی شق 147 ، اور انسداد دہشتگردی کی شق1 کے تحت حاصل ہیں جس میں واضح ہے کہ رینجڑز نوٹیفائیڈ علاقے میں یہ اختیارات استعمال کرے گی۔ اس حوالے سے صرف کراچی ہی نوٹیفائیڈ علاقہ ہے۔
سندھ اسمبلی کی قرارداد اپنی جگہ پر رینجزز کا یہ موقف سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی شنوائی کے دوران گزشتہ مارچ میں اس وقت واضح طور پر سامنے آیا۔ جب ڈی جی رینجرز کی جانب سے عدالت عظمیٰ سے یہ استدعا کی گئی کہ رینجرز کو پولیس کی طرح اپنے تھانے قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔ جہاں ایف آئی آر بھی درج کی جا سکی اور مقدمات کی تحقیقات اور تفتیش بھی پولیس سے الگ کی جا سکے۔ حکومت سندھ نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ اس طرح سے متوازی کرمنل جڈیشل سسٹم رائج ہو جائے گا۔اس میں بعض آئین اور قانونی پیچیدگیاں بھی ہیں۔ لہذا معاملے کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
سندھ حکومت کے مطابق رینجرز نے جو معاملات اٹھائے ہیں وہ اپیکس کمیٹی میں حل کئے جا سکتے ہیں۔ اور یہ بھی واضح کیا کہ انسداد دہشتگردی کے قانون میں پیرا ملٹری فورس کی مدد جاری رکھنے کے لئے کوئی میعاد مقرر نہیں کی گئی ہے۔
رینجرز نے اپنے داخل کئے گئے بیان میں صوبائی حکومت پر سخت تنقید کی تھی کہ وہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور مالی اعانت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ لہٰذا رینجرز کو اپنے الک تھانے اور مقدمات کی پراسیکیوشن کرنے کے اختیارات دیئے جائیں۔ رینجرز کا کہنا تھا کہ پولیس کی تفتیش میں کئی خامیاں ہیں۔ اگر رینجرز کو یہ اختیارات دیئے جائیں گے تو وہ مقدمہ درج کرنے، ان کی تفتیش کرنے کے بعد چالان معمول کے مطابق عام عدالتوں یا انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں پیش کرے گی۔ رینجرز نے حکومت کی پولیس افسران کی تقرر اور تبادلے کی پالیسی پر بھی تنقید کی ۔ جس کی وجہ سے پولیس کی کراکردگی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے رینجرز کے اختیارات سالانہ بنیاد پر توسیع کی جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ رینجرز صوبے کے دوسرے اضلاع میں بھی ٹارگیٹیٹ آپریشن کرنا چاہتی ہے ۔ پیپلزپارٹی اس کی مخالف ہے اور چاہتی ہے کہ رینجرز اس آپریشن کو کراچی تک محدود رکھے۔
اس طرح کی صورتحال تب بنی تھی جب رینجرز نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر صوباء محکموں کے دفاتر پر چھاپے مارے تھے ۔ جس کو سندھ کابینہ کے اراکی ے سندھ حکومت پر چھاپے قرار دیا تھا۔ بعد میں سندھ حکومت دو باتوں کی یقین دہانی پر رینجرز کے اختیارات میں توسیع پر راضی ہو گئی تھی ۔ ایک یہ کہ صوبائی حکومت کے دفاتر پر رینجرز چھاپے صوبائی حکومت کو پیشگی اطلاع کے بغیر نہیں مارے گی۔ دو م یہ کہ اندرون سندھ رینجرز آپریشن نہیں کرے گی۔ یہ کام پولیس بدستور سرنجام دے سکتی ہے ۔
لیکن یہ معاہدہ نہیں چل سکا ۔ حالیہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب ر رینجرز نے صوبائی وزیر داخلہ کے قریبی ساتھی کی گرفتاری کے لئے لاڑکانہ میں چھاپہ مارا۔ اور وزیرداخلہ کے گھر کا گھیراﺅ کیا۔ صوبائی مشیر برائے اطلاعات مولابخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ کے واقع کو رینجرز سندھ بھر میں آپریشن کے لئے بنیاد نہیں بنا سکتی۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ رینجرز آپریشن کا دائرہ صوبے بھر تک بڑھانا چاہتی ہے۔ لیکن پولیس اس صورتحال کو ٹھیک سے دیکھ رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ڈی جی رینجرز کے اس بات کو جھٹلایا کہ وہ کراچی کے ساتھ باقی سندھ بھر میں بھی آپریشن کر سکتی ہے۔ سید قائم علی شاہ کا یہ بیان امن و مان کے بارے میں صوبائی اختیار کو بچانے کی ایک کوشش ہے جس کو رینجرز بڑی حد تک تجاوز کر چکی ہے۔
رینجرز کو عام لوگوں کی رائے میں جواز موجود ہے۔ جبکہ وہ اپنے قدم دہشتگردوں کے خلاف آپریشن سے بڑھا کر وائیٹ کالر جرائم تک پھیلا چکی ہے۔ حالیہ تنازع کے تسلسل میںوفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے صوبائی حکومت کو خط لکھا ہے کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی جائے۔
انہوں نے ایک دلچسپ نکشاف کیا ہے کہ امن و مان وفاق اور صوبے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کی یہ بات آئین سے متصادم ہے جس میں امن و مان صوبائی دائرہ اختیار ہے۔ اور کوئی وفاقی ادارہ صوبے کی درخواست پر اس کی مدد کے لئے آسکتا ہے۔
سندھ حکومت اپنی کارکردگی، خاص طور پر پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ جس کی وجہ سے اپنا اسپیس رینجرز کے ہاتھوں کھو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وائیٹ کالر جرائم سمیت اسکو وہ تمام جواز ختم کرنے ہونگے جس کی وجہ سے اس کو اپنا دائرہ اختیار کسی اور ادارے کو دینا پڑ رہا ہے یا جس کی وجہ سے کسی اور ادارے کے عمل کو عوام میں قبولیت کا جواز ملتا ہے۔
No comments:
Post a Comment