Tuesday, July 19, 2016

ترکی اور پاکستان میں کوئی مماثلت ہے؟

 ترکی اور پاکستان میں کوئی مماثلت ہے؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

ترک عوام نے فوجی بغاوت کو ناکام بنا کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ملک میں جمہوری نظام کے حامی ہیں اور اپنے ملک کی ترقی جمہوریت کے ذریعے چاہتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ترکی کی مماثلتیں اس وجہ سے بھی تلاش کی جارہی ہیں کہ ملک میں ایک طرف پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیاں گشیدگی بڑھ رہی ہے۔ وقت کے ساتھ بہت سے معاملات میں فیصلہ سازی اور اپلیسی سازی سویلین قوتوں کے ہاتھوں سے نکلتی محسوس ہو رہی ہے مزید برآں گاہے بگاہے میڈیا میں تجزیہ نگار اور اینکر پرسن یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی بھی وقت جمہوری نظام کا بوریا بستر لپیٹ لیا جائے گا۔ اس ضمن میں گزشتہ ہفتہ ایک بہت کم شہرت رکھنے والی ایک جماعت کی جانب سے ملک بھر میں فوج کو آنے کی دعوت کے بڑے بڑے پوسٹر لگائے گئے۔ 

پاکستان اور ترکی کے درمیان مماثلتیں ہیں بھی اور نہیں بھی۔ ترکی ایک مسلم ملک ہے لیکن وہاں کا سیاسی اور سماجی کلچر سیکیولر سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی طرح ترکی بھی ماضی قریب یعنی پانچ عشروں کے دوران چار مارشل لا ایک منتخب ویزراعظم کو پھانسی دینے کی تاریخ رکھتا ہے۔وہاں پر بھی یہ ہوتا رہا کہ ہر مارشل لا کے بعد دوبارہ الیکشن کرائے گئے اور حکومت سویلین ہاتھوں میں دے دی گئی۔ 

یہ پہلا موقعہ ہے کہ ترکی کے عوام اس بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ تعجب کی بات ہے کہ ترکی صدر طیب اردگان ذوالفقار علی بھٹو کی طرح نہ مقبول تھے اور نہ ہی ان کی طرح عالمی طور پر قد کاٹھ تھا۔ جب ضیا نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا تو لوگ اس طرح سے سڑکوں پر نہ آئے تھے۔ اگر کوئی غم و غصہ بھی تھا تو اس کا اظہار ذاتی طور پر یا ذاتی محفلوں میں کیا وہ کوئی اجتماعی اور ٹھوس شکل میں سامنے نہیں آسکا۔ یہی صورتحال نوے کے عشرے میں منتخب حکومتوں کے خاتمے کے دوران ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ بعد میں جب جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تب بھی لوگ سڑکوں پر نہ آئے۔ حالانکہ نواز شریف بھاری مینڈیٹ سے منتخب ہونے والا وزیراعظم تھا اور ان کا تعلق پنجاب ہی تھا جس صوبے کو پاکستان میں اقتدار کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ 

 سیاسی حوالے سے فرق یہ تھا کہ جنرل ضیا اور جنرل مشرف نے جب منتخب حکومتوں کا تختہ الٹا اس وقت سیاسی قوتیں بٹی ہوئی تھی۔ اور مارشل لا کا خیرمقدم کر رہی تھی۔ بلکہ ضیا کے آنے سے پہلے ملک میں پاکستان قومی اتحاد کی تحریک چلی تھی۔ اگرچہ پاکستان قومی اتحاد اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان نئے انتخابات کا معاہدہ ہو چکا تھا لیکن اس کے باوجود جنرل ضیا نے مارشل لا لگا دیا۔
 بہر حال تاریخدانوں کی نظر میں ی طے ہے کہ اگر پس منظر میں پی این اے کی تحریک نہیں ہوتی تو جنرل ضیا مارشل لا نہیں لگا سکتے تھے۔

 جنرل مشرف کے مارشل لا کی صورتحال قدرے مختلف تھی، نواز شریف کے خلاف کوئی منظم ا بڑی تحریک تو نہیں چل رہی تھی لیکن سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت میں تھیں۔ اور انہوں نے مشرف مارشل لا کی کھل کر مذمت یا مخالفت نہیں کی۔

 ترکی میں صورتحال یہ بنی کہ اپوزیشن کی جماعتوں نے یک آواز ہو کر فوجی بغاوت یامارشل لا کی مذمت کی اور تمام تر اختلافات کے باوجود جہموریت اور صدر اردگان کی حمایت کی۔ یعنی تمام سیاسی جماعتیں اگر جمہوریت کے حق میں کٹھی نہیں ہوتی تو عوام اس طرح سڑکوں پر آکر بغاوت کا اظہار نہ کرتے۔ اس صورتحال کو کسی حد تک عمران خان کو پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کے وقت کی صورتحال سے موازنہ کیا جاسکتا ہے جب پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی قوتوں نے نظام کو بچانے کے حق میں اپنا موقف اختیار کیا تھا۔ 

 طیب اردگان اپنے ملک میں بہت زیادہ مقبول رہنما بھی نہیں ہے۔ ان پر بھی کرپشن اور خراب حکمرانی کے شاید اتنے ہی الزامات نکل آئیں جتنے نواز شریف یا پیپلزپارٹی پر عائد کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو نواز حکومت کی طرھ کچھ زیادہ نیں دیا ہے۔ بلکہ ان پر تو یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے مخالفین کو اور ان کی آواز کو دبانے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ کم از کم نواز شریف حکومت پر سیاسی انتقام یا اظہار رائے کی آزادی کو روکنے کا الزام نہیں۔ کرپشن، خراب حکمرانی، عوام کو کچھ نہ دینے اور سیاسی انتقام کے الزامات کے باوجود بھی تمام ترکی کے عوام کی مجموعی رائے یہ بنی کہ جمہوری تسلسل کو جاری رکھنا چاہئے۔ اس کا اظہار مخالف سیاسی جماعتوں نے اپنے موقف کے ذریعے اور عوام نے سڑکوں پر آکر کیا۔ 

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ چند سال پہلے جب پاکستان میں بہت بڑا سیلاب آیا تو ترک صدر اردگان کی اہلیہ نے اپنا ہار بطور ت عطیہ پاکستان کو دیا تھا کہ اس سے سیلاب متاثرین کی امداد کی جائے۔ پاکستان کے حکمران جماعتوں کے اہل خانہ کی جانب سے کبھی بھی نہ اپنے ملک اور نہ ہی پڑوسی یا دوست ملک کے عوام کی اس طرح مصیبت کی صورت میں ذاتی طور پر مدد کی ہے۔ 

ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی کی دو اور وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں فوج کی اعلیٰ قیادت شامل نہیں تھی، بلکہ بعض سنیئر اور بعض درمیانی رینک کے افسران کی جانب سے کوشش کی گئی تھی۔ جوپوری صورتحال اور اہم مقامات کو کنٹرول نہیں کر سکے۔ انہوں نے سرکاری ٹی وی چینل پر تو قبضہ کر کے اعلان کردیا لیکن نجی چینلز، انٹرنیٹ، موبائیل فون سروس کو بند نہ کر سکے۔ مطلب فنی طور پر باغی گروپ اہل ہی نہیں تھا۔ ان کے ذریعے صدر کی عوام تک رسائی ہو گئی اور انہوں نے اس بغاوت کے خلاف سڑکوں پر آنے کی اپیل کی۔ 

ترکی میں موجود نجی ٹی وی سی این این ترک جو کہ ایک ترک کمپنی کی شراکت سے چلا رہا ہے وہاں تک بعض فوجی افسران پہنچے بھی اور کہا کہ وہ انپی نشریات بند کردیں۔ لیکن عملے نے انہیں بتایا کہ بند کرنا تیکنکی طور ان کے بس میں ہی نہیں۔ نتیجے میں اس ٹی وی کا خالی اسٹوڈیو تین گھنٹے تک آن ایئر ہی رہا، اور جیسے ہی چینل کی انتظامیہ نے واپس چینل کا کنٹرول سنبھالا تو بغاوت کے خلاف خبرٰن نشر کرنا شروع کردیں۔ 

 بض تجزیہ نگار ترکی کے اس واقعہ کو اس طرح بیان کر رہے ہیں کہ یہ پورا طیب اردگان کا رچایا ہواڈرامہ تھا۔ بغاوت تو واقعی ہو رہی تھی لیکن اس بغاوت کو صرف اس حد تک رکھا کہ اس کو کنٹرول کیا جائے اور بعد میں اس کی آڑ میں فوج، عدلیہ وغیرہ میں سے اپنے مخالفین کو نکال کر ایک اپنی اور سویلین آمریت قائم کی جائے۔ 

لیکن سازش کی اس تھیوری پر تجزیہ نگار متفق نہیں۔ ہاں اس بات پر ضرور متفق ہیں کہ اس ناکام بغاوت کو اردگان اب اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے اور سویلین آمریت مسلط کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اردگان کو جو موقعہ ملا ہے اور عوام نے جس بہادری اور خلوص کا مظاہرہ کیا ہے اردگان اس کو یوں کھو بیٹھیں گے؟ جوعوام ٹینکوں کے سامنے آسکتا ہے وہ ان کی حکومت کے خلاف بھی اسی طرح سے کھڑا ہوسکتا ہے۔ ایسے میںاگر اردگان نے صرف فوج پر انحصار کیا تو کود فوج اس کو دوبارہ نکال کر باہر پھینک دے گی۔ 

پاکستان میں نہیں لگتا کہ فوجی قیادت اس طرح کی مہم جوئی یں دلچسپی رکھتی ہے۔ ”اب تو آجاﺅ“ یا عمران خان جیسے رہنماﺅں کے ایسے بیانات کہ” فوج اقتدار میں آئے گی تو عوام مٹھائیاں بانٹیں گے“ اس کے باوجود اس بات کا کم امکان ہے۔ اس کی دو چار بڑی وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ اٹھارویں آئینی ترمیم نے (جس پر حالانکہ مکمل عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے) اس مرکزیت کو ختم کردیا ہے، اب کسی ایسے اقدام کی راہ اتنی آسان نہیں رہی۔ 

چارٹر آف ڈیموکریسی پر اگر ٹھیک سے عمل نہیں بھی ہوا ہے تب بھی اس کے بنیادی تصور نے سیاسی قوتوں کے دماغ کھول دیئے ہیں۔ اور وہ کسی ایسی صورتحال میں جانا یا پھنسنا نہیں چاہیں گی جہاں سے واپسی نہ ہو سکے، یا جہاں سے وہ خود نہ نکل سکیں۔ 

عدلیہ جو ماضی میں مارشل لا کی حامی بن جاتی تھی اس کا نقطہ نظر بھی تبدیل ہوا ہے۔ اس سے بڑھ کر میڈیا ہے جس کا بہت بڑا پھیلاﺅ ہوا ہے۔ 

میڈیا سے اہل دانش و فکر کو یقیننا بہت ساری شکایات ہیں کہ وہ جمہوری حقوق کے لئے اس طرح سے موقف نہیں لے رہا جو عوام چاہتے
 ہیں یا عوام کے حق میں ہے۔ بلکہ اس حوالے سے تنقید میں بڑا وزن بھی ہے۔ لیکن اس کے باوجود میڈیا اس مسابقتی مرحلے میں اپنے بقا کے لئے اپنا رول ادا کرے گا۔ اس سے بڑھ کر عوام ہیں جن کی سیاست اورجمہوری عمل میں شرکت دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ اس کا اندازہ گزشتہ تین انتخابات میں کاسٹ ہونے والے ووٹروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ عمران خان کے دھرنوں کے خواہ کتنے ہی منفی اثرات سیاسی نظام پر مرتب ہوئے ہوں، لیکن ایک بات عوام کو سکھائی ہے کہ اب سیاسی جنگ اس طرح بھی لڑی جاسکتی ہے۔ 


http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/19-07-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg 
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx 



No comments:

Post a Comment