Sunday, May 17, 2020

صوبوں کی دوریاں نہ بڑھائیں Pushing the provinces away


 صوبوں کی دوریاں  نہ بڑھائیں  
میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی 
تحریک انصاف کی حکومت نے  صوبوں اور مرکز کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لئے گیارہ رکنی قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔  صدر نے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ کو اجلاس کی صدارت کرنے کا مجا ز ٹہرایاہے۔ جبکہ آئین کے مطابق مشیرکمیشن کے اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتا۔ مالیاتی کمیشن ایک ایسے موقع پر تشکیل دیا گیا ہے جب اٹھارویں ترمیم اور اس کے تحت صوبوں کو دیئے گئے اختیارات کا معاملہ پر شد ومد سے زیر بحث ہے۔ مضبوط مرکز کی بات کی جارہی ہے۔ کمیشن کی تشکیل کے لئے جاری کردہ صدر کے حکم نامے میں مالیاتی کمیشن کو اضافی ایجنڈا دیا گیا ہے جبکہ اس کا آئینی فریضہ اتنا ہی ہے کہ وہ مرکز  اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کرے۔ صدارتی حکم میں کہا گیاہے کہ صوبے دفاعی اخراجات، سرکاری اداروں کے نقصانات اور سبسڈی یا قر ضوں کی ادائیگی اور وف میں بھی حصہ دیں۔وفاق یہ بھی چاہتا ہے کہ آداز کشمیر، گلگت بلتستان اور سابق فاٹا کے علاقوں کے لئے اخراجات میں بھی ہاتھ بٹائیں۔ 
آئین کے مطابق صوبوں کو قابل تقسیم پول سے ساڑھے ستاون فیصد سے کم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ حصہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ مین طے کیا گیا تھا۔لیکن وفاق نے آئینی حدود پھلانگ کر نیا ایجنڈا مالیاتی کمیشن کے سامنے رکھا ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ صوبوں کا حصہ کم کرنے کی کوشش کی جارہی۔اس سے پہلے اپریل 2015  میں این ایف سی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا کس میں ردو بدل کیا جاتا رہا۔ لیکن کوئی نیا ایوارڈ نہیں دیا جا سکا۔ تاہم اس پورے عرصے میں مختلف حلقوں سے یہ آوازیں آتی رہی۔ ساتواں ایوارڈ 2010  سے لاگو ہے۔ جو پانچ سال کے لئے تھا۔یہ ایوارڈ تیس جون 2015 کو ختم ہوگیا۔  چونکہ ایوارڈ کو آئینی تحفظ حاصل ہے جس کے مطابق صوبوں کا حصہ کم نہیں کیا جاسکتا۔ 2015 میں نواز لیگ کے دورمیں وفاق نے تقسیم سے پہلے کے فنڈ  یعنی مجموعی ملکی آمدن میں سے سات فیصد حصہ وفاق کودینے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن اس مطالبے کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کردیا گیا۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل اور اختیارات کا معاملہ قیام پاکستان  کے فورا بعد سے جاری ہے۔ اس جھگڑے کو سلجھانے کی کم اور الجھانے کی زیادہ کوششیں کی جاتی رہیں۔ اس کوشش میں ون یونٹ کا تجربہ ناکام ہوا۔ اور بعد میں ملک دو لخت ہو گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مضبوط مرکز کی کوششیں وفاق کو مضبوط نہیں کمزور کرتی رہیں۔
اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ دونوں ایک دوسرے کے بغیر وجود نہیں رکھ سکتے۔ ترمیم کے نتیجے میں متعدد وزارتیں اور محکمے صوبوں کو منتقل کردیئے گئے۔ این ایف سی ایوارڈ  کے ذریعے ان منتقل شدہ وزارتوں  کے لئے قابل تقسیم پول سے رقم مختص کرنے کے ساتھ ساتھ صوبوں کو اپنا ٹیکس بیس بڑھانے کا اختیار دیا گیا۔ اس طرح سے صوبوں کو سروسز ٹیکس اور  سی وی ٹی ٹیکس کا حق تسلیم کیا گیا تاکہ وہ اپنی نئی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔ اس ترمیم کے ذریعے قدرتی وسائل، بندرگاہوں، بجلی، پانی کے وسائل  مردم شماری  میں بھی صوبوں کی بالادستی تسلیم کی گئی تھی۔ یہ وہ اصول ہیں جو دنیا بھر میں اپنائے جاچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اختیارات کی صوبوں کو منتقلی سے وفاق مضبوط ہوا ہے۔ 
  اس کے نتیجے میں صوبوں کی آمدن میں اضافہ ہوا اور وہ صوبے کی مجموعی ترقی اور شہریوں کے لئے زیادہ رقم رکھنے کی پوزیشن میں آگئے۔صوبوں کی وفاق گزیری بھی کم ہوئی۔ 
اٹھارویں ترمیم  اور ساتویں مالیاتی ایوارڈ  کے تحت طے کئے گئے فارمولے کے مخالفین کی دلیل ہے کہ صوبوں کا مالی وسائل میں حصہ بڑھانے سے وفاقی حکومت کا خسارہ بڑھا ہے۔ لیکن یہ دلیل اور جواز حقائق پر مبنی نہیں۔  اصل وجہ یہ ہے کہ وفاقی مجموعی پیداوار اور ٹیکس کا تناسب بڑھانے میں ناکام رہاہے۔ یہ تناسب دس فیصد سے بڑھا کر پندرہ فیصد کرنا تھا۔وفاق  دیگر اضافی اخراجات بھی کر رہا ہے۔ مثلا  صوبو ں کو منتقل کئے گئے محکموں  کے ڈھانچے کو برقرار رکھے ہو ہیں۔ متوازی محکمے یا وزارتیں قائم کئے ہوئے ہے۔ جن پر خوامخواہ اضافی اخراجات کئے جارہے ہیں۔ اس کے پیچھے مرکز کے سیاسی عزائم ہیں۔یہ بھی حقیقت سرکاری تجارتی و کاروباری اداروں کا خسارہ کم کرنے میں ناکام رہی۔ 
نئے مالیاتی کمیشن کے سامنے کئی سوالات ہیں۔ سب سے بڑا یہ کہ مشیر خزانہ کمیشن کے اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتے۔ حکومت سندھ نے اس ضمن میں وفاقی حکومت کو خط لکھ  اس قانونی سقم کی طرف توجہ دلائی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو  ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت نیا این ایف سی تشکیل دیا جائے۔وزیانہوں نے خط میں لکھا ہے کہ مشیر خزانہ کو این ایف سی میں شامل کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔اور یہ کہ مشیر خزانہ قومی مالیاتی کمیشن کی صدارت نہیں کرسکتے جبکہ وفاقی سیکرٹری خزانہ کی کمیشن میں شمولیت بھی درست نہیں۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ این ایف سی کے لیے ارکان کی نامزدگی آئین میں درج طریقہ کار کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن میں نامزدگی وزرائے اعلیٰ کی مشاورت سے ہونی چاہیے۔

بڑا سوال یہ ہے کہ دو ہزار سترہ کی مردم شماری کا نوٹفکیشن تاحال جاری نہیں ہوا ہے۔ ہر صوبے کے لئے این ایف سی ایوارڈ کو جانچنے کا پیمانہ مختلف ہے۔ جیسے خیبر پختونخوا میں  پچاس لاکھ کی آبادی شامل ہوئی ہے۔یعنی این ایف سی مردم شماری کے نتائج کی توثیق کرے. لیکن اس سے پہلے مردم شماری کے نتائج کی مشترکہ مفادات کی کونسل سے منظوری  لازم ہے۔  
ساتویں ایوارڈ کے تحت  چاروں صوبوں کو  قابل تقسیم پول میں سے ساڑھے ستاون فیصد ملنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، کیپٹل  ویلیو ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی میں سے بھی حصہ ملنا ہے۔  اس  ترکیب  کے تحت  پنجاب کا 51.74  فیصد، سندھ کا 24.55  فیصد،  خیبرپختونخوا کا 14.62 فیصد، اور بلوچستان کا 9.09 فیصد حصہ بنتا ہے۔
 اطلاعات ہیں کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان عمودی تقسیم کے تناسب کو تبدیل کئے بغیر وفاق نے صوبوں کے لئے فیڈرل ڈیویزبل پول (ایف ڈی پی) میں ان کے حصوں سے 15 فیصد کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے نتیجے میں مرکز کا موجودہ حصہ 42.5 فیصد اور صوبوں کے 57.5 فیصد کے موکودہ تناسب میں بڑی تبدیلی واقع ہو جائے گی جس کے تحت وفاق کا حصہ 60 فیصد اور صوبوں کا 40 فیصد رہ جا ئے گا۔وفاق کا اخراجات کی چار بڑی مدات قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اور سلامتی سے متعلق اخراجات، ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے نقصانات اور آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان میں این ایف سی ایوارڈ میں طے شدہ حوالہ شرائط پر عمل درآمد شامل ہیں۔
ٓٓمیڈیا میں نواز حکومت  کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ 18 ویں ترمیم میں تبدیلیوں کی ضرورت نہیں کیونکہ مرکز اور صوبے دفاعی اخراجات کے مسئلے کو این ایف سی ایوارڈ میں کچھ ترمیم کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔سنیئر نائب صدر ن لیگ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ صوبوں سے اختیارات واپس لیے گئے تو سیاست چھوڑ دوں گا۔
عمران خان حکومت کے اس منصوبے کے نتیجے میں ایک پنڈورا باکس کھل جائے گا۔این ایف سی ایوارڈ کو تبدیل کرنے کے لئے صوبے تیار نہیں۔سندھ میں سخت مخالفت موجود ہے۔ رواں سال جنوری میں خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس ہوئی تھی جس میں صوبے کو مزید فنڈ دینے اور این ایف سی ایوارڈ پر عمل درآمد کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں حکمران جماعت تحریک انصاف بھی شریک ہوئی تھی۔ممکن ہے کہ ون یونٹ کی طرح مقتدرہ حلقے اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو تبدیل  
کرادیں لیکن اس سے ملک کا کوئی بھلا نہیں ہوگا بلکہ صوبوں کی مرکز سے دوری میں اضافہ ہوگا۔
--------------------------------------------------------- 
 تحریک انصاف کی وفاقی حکومت مالیاتی وسائل کی تقسیم کے موجودہ فارمولے میں کوئی بہت بڑی تبدیلی لانا چاہتی ہے۔
 اپنی تشکیل کے فوراً بعد ہی دسواں قومی مالیاتی کمیشن متنازع ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ کر کمیشن کی تشکیل کو آئین کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے مشیرِ خزانہ کو کمیشن کا رکن بنانے اور ان کی صدارت میں کمیشن کا اجلاس ہونے پر اعتراض کیا ہے۔ 
وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی سیکرٹری خزانہ کو ماہرِ معیشت کی حیثیت سے کمیشن کا رکن بنانے پر بھی اعتراض کیا ہے۔ 
 وزیراعلیٰ سندھ اپنے خط میں یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے اخراجات وفاقی حکومت اپنے حصے سے ادا کرتی ہے۔ اگر اب حکومتوں کو زیادہ وسائل فراہم کرنا ہیں تو وفاقی حکومت اپنے حصے سے فراہم کرے، یعنی صوبے اپنے حصے کی رقم دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
 وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی باور کرا دیا کہ کسی اور مدد کے لیے صوبوں کے حصے سے کٹوتی پر سندھ کبھی بھی تیار نہیں ہوگا۔ دوسری طرف کمیشن کی تشکیل کو بلوچستان ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کر دیا گیا ہے۔ 
 کمیشن میں بلوچستان کے نمائندے کے طور پر جاوید جبار کی تقرری پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاوید جبار ادیب اور لکھاری ہیں، ان کا معیشت سے کیا تعلق؟ 
ابھی سے نظر آ رہا ہے کہ کمیشن اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ نہیں کر پائے گا۔ 

تحریک انصاف حکومت کمیشن سے جو کام لینا چاہے گی، جو کام لینے کے لیے بعض حلقوں کے مطابق اس پر دباو? ہوگا، وہ کام ہو سکے گا یا نہیں۔ 

 مخصوص حلقہ مسلسل یہ دلائل دے رہا ہے کہ صوبوں کو زیادہ مالیاتی وسائل دے دیے گئے ہیں اور صوبے ان وسائل کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ وفاق کے پاس بہت کم وسائل ہیں، جس کی وجہ سے ملک بہت سے مسائل کا شکار ہو گیا ہے۔ نہ صرف بڑے قومی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالیاتی گنجائش نہیں ہے بلکہ سیکورٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات سے نمٹنے کے لیے بھی وسائل نہیں ہیں۔ 
مارکیٹ میں یہ تجویز بھی گردش کر رہی ہے کہ قابل تقسیم پول (Divisible Pool) میں دفاعی اخراجات کو الگ کر دیا جائے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو چاروں صوبوں کی طرح الگ الگ حصہ دیا جائے۔ اس طرح قابل تقسیم پول میں سے دفاعی اخراجات الگ کرنے سے باقی جو رقم بچے، وہ وفاقی اور صوبوں میں تقسیم کے لیے نیا فارمولا بنایا جائے۔ صوبوں کے حصے میں سے پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو نئے فارمولے کے تحت رقوم تقسیم کی جائیں۔
اگر تحریک انصاف ان تجاویز پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے بہت زیادہ سیاسی مزاحمت کا سامنا

-----------------------------------------------------------

Do not increase the distances between the provinces
Sohail Sangi
The PTI government set up an 11-member National Finance Commission to distribute resources between the provinces and the center. The President has authorized the Advisor to the Prime Minister on Finance to preside over the meeting of NFC. However, according to the constitution, the advisor cannot chair the meeting of the commission. The Finance Commission has been set up at a time when the issue of the 18th Amendment and the powers given to the provinces under it are being hotly debated. There is talk of a strong center.

The President's order for the formation of the Commission has given the Finance Commission an additional agenda while its constitutional duty is to distribute financial resources between the Center and the provinces. The presidential order said that the provinces should also contribute to the defense expenditure, losses of government institutions and repayment of subsidies or loans and the WF. ۔
Part 7 was decided in the NFC Awards. But the federation has crossed the constitutional line and put a new agenda before the Finance Commission. This is not the first time that an attempt has been made to reduce the share of provinces. Earlier, an NFC commission was formed in April 2015 in which changes were made. But no new awards could be given. However, throughout this period, these voices kept coming from different circles. The seventh award has been in force since 2010. Which was for five years. This award ended on June 30, 2015. Since the award has constitutional protection, the share of the provinces cannot be reduced. In 2015, during the Nawaz League era, the federation had demanded that the pre-partition fund, ie 7% of the total national income, be given to the federation. 
-----------------------------------------------------------