Monday, December 26, 2016

زرداری کی واپسی کے کیا اثرات مرتب ہونگے

زرداری کی واپسی کے کیا اثرات مرتب ہونگے 

Daily Nai Baat Published :  23-December-2016 




http://www.urducolumnsonline.com/suhail-sangi-columns/246072/zardari-key-wapsi-kay-kya-asraat-mratub-houn-gay

بالآخر وزیر اعلیٰ کا تاثر تو تبدیل ہوا

بالآخر وزیر اعلیٰ کا تاثر تو تبدیل ہوا - سہیل سانگی 


Daily Nai Baat  |   Published : 29-October-2016 





http://www.urducolumnsonline.com/suhail-sangi-columns/241757/bil-aakhair-wazir-e-aala-ka-tasar-tou-tabdeel-houa 

http://akhbaar.pk/akhbari_column?view=view_column&akhbaari_column_id=1948

عشرت العباد- میدان سیاست میں دوبارہ آنا چاہتے ہیں

عشرت العباد- میدان سیاست میں دوبارہ آنا چاہتے ہیں 


Daily Nai Baat  |   Published : 25-October-2016 





http://www.urducolumnsonline.com/suhail-sangi-columns/241438/eshrat-al-ebaad-medan-e-siyasat-mein-dubara-aana-chahtay-hein

سندھ میں بھرتیاں ایک بار پھر کمیٹیوں کے حوالے

سندھ میں بھرتیاں ایک بار پھر کمیٹیوں کے حوالے 


Daily Nai Baat  |   Published : 22-October-2016 




http://www.urducolumnsonline.com/suhail-sangi-columns/241194/sindh-mein-bhartiyan-aik-bar-pher-commityun-ka-hawalay

سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوریت کی ضرورت

اب سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوریت کی ضرورت ہے 

 Daily Nai Baat  |   Published : 21-October-2016 




http://www.urducolumnsonline.com/suhail-sangi-columns/241111/abb-siyasi-jamatoon-kay-andar-bhi-jumhoriat-key-zaroorat-hay

گڑھی خدا بخش سے اسلام آباد تک

گڑھی خدا بخش سے اسلام آباد تک 

Daily Nai Baat  |   Published : 18-October-2016 



Key words: Bilawal Bhutto, Garhi Khuda Bux, PPP, 

http://www.urducolumnsonline.com/suhail-sangi-columns/240859/garhi-khoda-bakhash-say-islamabad-takk

بد عنوانی روکنے کے اقدامات اوپر کی سطح پر ہونے چاہیئں

بد عنوانی روکنے کے اقدامات اوپر کی سطح پر ہونے چاہیئں

Daily Nai Baat  |   Published : 14-October-2016 



Key words:

عمران خان ،نواز شریف

عمران خان ،نواز شریف

Daily Nai Baat  |   Published : 11-October-2016 







http://akhbaar.pk/akhbari_column?view=view_column&akhbaari_column_id=1870

سندھ میں پیپلز پارٹی ثقافتی محاذ پر سرگرم

سندھ میں پیپلز پارٹی ثقافتی محاذ پر سرگرم  

Daily Nai Baat  |   Published : 07-October-2016 





سندھ حکومت پولیسنگ کے اختیارات


نئی بات ۴۔ اگست

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

اگرچہ سندھ حکومت نے رینجرز کے قیام اور اس کے اختیارات می میعاد میں اضافہ کی منظوری دے دی ہے۔ لیکن وفاق اور سندھ کے درمیان ہونے والی بیان بازی سے ظاہر ہے کہ یہ اشو دونوں فریقین کی اطمینان کی حد تک حل نہیں ہوا ہے۔ وفاقی حکومت کہتی ہے کہ سندھ حکومت نے اینجرز کے اختیارات سے متعلق بھیجی گئی سمری اس نے رد کردی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی سمری نہیں بھیجی تھی۔ بلکہ وفاقی وزارت داخلا کو خط لکھا تھا۔ وفاقی وزارت داخلا کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے اس خط میں بعض متضاد چیزیں ہیں جن کا قانونی ماہرین جائزہ لے رہے ہیں۔ 

سندھ حکومت نے رینجرز کے پولیسنگ کے اختیارات میں تین ماہ کی منظوری دی ہے جو 18 ستمبر کو ختم ہو جائیں گے۔ سندھ حکومت کو رینجرز کے اختیارات کے اس اجازت نامے میں وہی شرائط شامل ہیں جو گزشتہ مرتبہ سند اسمبلی کی منظور کردہ قرار داد میں تھی۔ البتہ سندھ حکومت نے اس مرتبہ جو وفاقی حکومت کو خط لکھا ہے جس کو وفاقی وزارت داخلا سمری قرار دے رہی ہے اور اسے مسترد کر چکی ہے اس میں صوبائی حکومت نے 15 شرائط رکھی ہیں۔ ان شرائط میں رینجرز کے سرکاری دفاتر پر چھاپے اجازت سے مشروط کئے گئے ہیں ۔شاہراہوں پر گشت اور چوکیاں کے قیام سے منع کیا گیا ہے۔ 
 رینجرز کے رول کو بطور آزاد اور اپنی مرضی سے کارروائی کرنے کے مددگار فورس کے رکھا گیا ہے۔ رینجرز شاہراہوں پر گشت اس وقت کر سکے گی جب فساد یا ہنگامہ آرائی کی صورتحال ہوگی۔ اور اس صورتحال میں بھی آئی جی سندھ پولیس کی گزارش پر مشترکہ آپریشن کیا جائے گا۔ 

 یہ تمام صورتحال ایسی ہے جس پر وزیر داخلا چوہدری نثار علی خان کا ردعمل حسب معمول موجود ہے۔ یہ حسن کمال ہے کہ اس معاملے پر نہ وزیراعظم کا موقف سامنے آیا ہے اور نہ ہی اتنے بڑے معاملے کو کابینہ کے اجلاس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ تمام فیصلے، تمام موقف وزیر داخلا کی طرف سے آر ہے ہیں۔

 وزیر داخلا جب موقف کاا ظہار کرتے ہیں تو وہ ملک میں موجود قانون، آئین، منتخب حکومت اور سیاسی نظام کا بھی خیال نہیں کرتے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ معاملے کی سنجیدگی اور حساسیت کے پیش نظر اس پر کابینہ بھی غور کرتی، اس کو قومی اسمبلی اور سنیٹ میں بھی زیر بحث لایا جاتا۔ کیونکہ صورتحال کسی ایک فرد یا ایک وزیر کی سمجھ ، فہم و فراست سے زیادہ سنگین اور اہم ہے۔ وزیر موصوف کو پتہ ہونا چاہئے کہ ملک میں نہ ایمرجنسی نافذ ہے اور نہ ہی آئین معطل ہے۔ وہ بار بار دوسرے آپشنز کی بات کرتے ہیں تو وہ دوسرے کون سے آپشنز ہیں؟ کیا وہ املک میں یا صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ چاہتے ہیں۔ 
چوہدری صاحب کے ان” کوششوں“ کی وجہ سے سندھ میں سویلین اسپیس مزید کم ہوگا۔ سندھ میں اس طرح کا بحران اگر مزید گہرا اور پیچیدہ ہوتا ہے تو اس کے نتائج وفاق میں موجود منتخب حکومت پر پڑنا ناگزیر ہو جائیں گے۔ 

 یہ امر قابل ذکر ہے کہ رینجرز کی تعینات صرف انتظامی معاملہ نہیں جس طرح اس کو پیش کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہاتنا ہی قانونی، آئینی اور سیاسی معاملہ بھی ہے۔ ملک کا آئین وفاقیت پر مبنی ہے جہاں منتخب صوبائی حکومتیں موجود ہیں جنہیں اپنے دائرہ کار میں کام کرنے کا مکمل اختیار ہے۔ منتخب پارلیمنٹ کی موجودگی میں ان کو وزارت داخلا کی منشاءپر چلانا سیاسی خواہ قانونی اور آئینی طور پر صحیح نہیں۔ 

 یہ درست ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت پر کرپشن اور نااہلی کے الزامات ہیں۔ لیکن ا ن الزمات کی تحقیقات اور روک تھام کے لئے 

ہمارے آئینی اور قانونی نظا م میں جواب اور ادارے موجود ہیں۔ جن کو سرگرم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کام کو سیکیورٹی اداروں کے ذریعے نہیں کرایا جاسکتا۔ اسی طرح سے یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک جمہوری نظام میں سیکیورٹی اداروں کو کیا، اور کس حد تک اختیارات ہیں اس کا حق عوام اور اس کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے۔ صوبوں کی کارکردگی خواہ کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو، اس کو ٹھیک کرنے کے لئے سیاسی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاسی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے پیپلزپارٹی کی خراب کارکردگی اور خراب حکمرانی الگ معاملہ ہیں جب کہ وفاق یا وفاقی وزیر داخلا اس معاملے میں اپنی مرضی چلائے یہ الگ معاملہ ہے۔ 

 اس بات کو سمجھنے کے لئے چند سوالات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہیں:
۱) اگر قومی مالیاتی ایوارڈ میں ملنے والی رقم سندھ کے حکمران ہضم کر جاتے ہیں تو کیا ہم سندھ کا جائز حصہ لینے کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں؟ یا وفاق کی جانب سے سندھ کو یہ حصہ نہ دیا جائے؟
 ۲)سندھ میں پانی کی تقسیم منصفانہ نہیں کیونکہ بااثر افراد چھوٹے اور آخری سرے کے کاشتکاروں کا حصہ بھی پی جاتے ہیں تو کیا وفاق یا پنجاب سے پانی کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ نہ کریں؟ 
۳) اگر سندھ کی حکومت کرپٹ ہے تو کیا ہم سندھ کے آئینی حقوق سے دستبردار ہو اجائیں؟ 
۴)کیا خراب حکمرانی کے الزام میں لوگوں کو اپنے منتخب نمائندوں کے زریعے حکومت کرنے کا حق چھین لیا جائے؟ اگر یہی نطق لاگو کی اجتی ہے تو پھر یہ ”الزامات“ وفاقی حکومت پر بھی لگائے جا سکتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ سندھ میں آج جو بدامنی کی صورتحال کے لئے پولیس ذمہ دار ہے، جس کو سیاسی بنایا گیا۔ لیکن اب یہ باتیں بھی ہونے لگی ہیں کہ وفاقی ادارے اس حساس صوبے میں بدامنی کو روکنے میں کتنے سنجیدہ رہے ہیں۔ سندھ کے بااثر وڈیرے راتوں رات انتے طاقتور اور بااثر نہیں ہوئے ہیں۔ ان کا اثر ماضی میں ایک سے زائد مرتبہ عوام نے اپنی رائے کے اظہار کے ذریعے توڑنے کا اعلان کر چکے تھے۔ جام صادق علی اور مظفر شاہ کو بطور وزیراعلیٰ کس نے سندھ کے عوام پر مسلط کیا؟ 

سندھ میں وہ دور بھی رہا جب ایک سیاسی کارکن کی حیثیت بڑے سے بڑے وڈیرے سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ مارشل لاﺅں کے زمانے میں بند کمروں میں یہ فیصلے ہوتے رہے کہ کون وزیر بنے گا، کون ایم پی اے، یا کونسلز بنے گا۔ ان فیصلوں نے سندھ کے سیاسی نظام، عوام کے حقیقی نمائندوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں۔ سیاست اور سیاسی کارکنوں کو پیچھے دھکیلا۔ 

 ملک کے شمالی علاقہ جات میں آپریشن ہوا جس کے اچھے نتائج نکلے۔ اسی طرح بلوچستان بھی مسلسل آپریشن کی زد میں ہے۔ بدامنی دہشتگردی ، مذہبی انتہا پسندی کے واقعات اور کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں پنجاب میں بھی ہو رہے ہیں۔ وہاںآپریشن نہیں کیا جاتا۔ 

 اندرون سندھ وہ صورتحال نہیں جو کراچی میں ہے۔ اگر ہر چھوٹے بڑے کام کے لئے رینجرز یا کسی وفاقی ادارے کو بلایا جاتا رہا تو تمام سویلین ادارے اور محکمے عضو معطل بن کر رہ جاےئیں گے۔ ان کی تنخواہیں اور دیگر سہولیات کے اختیارات عوام پر بوجہ بن جائیں گے۔ مزید یہ کہ ان کاموں کے لئے جن وفاقی اداروں کی خدمات حاصؒ کی جائیں گی ان کو بھی اضافی رقومات ادا کرنی پڑیں گی۔ مزید بآں یہ کہ وفاقی ادارے جس مقصد کے لئے بنائے گئے ہیں ان سے اگر مستقل طور اس طرح کے کام لئے جاتے رہے تو وہ مقصد پورا کس طرح سے ہو پائے گا جس کے لئے یہ ادارے بنائے گئے ہیں۔ 

ضرورت اس بات کی ہے کہ معاملے کو مزید پیچیدہ بنانے کے بجائے اس کا مستقل بنیادوں پر حل تلاش کیا جائے۔ وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ معاملہ نوٹس لے۔ صوبائی اداروں کو مضبوط اور موثر بنایا جائے۔ اب جب سندھ میں نئے وزیراعلیٰ ّیا ہے اور انہوں نے اچھے عزم کا اظہار کیا ہے تو انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقعہ دیا جائے۔ اور ان کی مدد کی جائے کہ وہ صوبائی اداروں کو مضبوط بنا سکیں۔ 
نئی بات ۴۔ اگست

Saturday, October 15, 2016

’ بی بی ہم شرمندہ ہیں کہ تیرے قاتل ابھی زندہ ہیں‘‘

Daily Nai Baat 24 -12-2012


’ بی بی ہم شرمندہ ہیں کہ تیرے قاتل ابھی زندہ ہیں‘‘

میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم سہیل سانگی


پیپلز پارٹی اقتدار کے پانچ سال مکمل کرنے والی ہے۔ مگر تاحال بینظیر بھٹو کے قاتل نہ گرفتار کر سکی ہے اور نہ ہی تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لا سکی ہے۔ کارکنوں کا یہ نعرہ سچا ثابت ہو رہا ہے کہ’ ’ بی بی ہم شرمندہ ہیں کہ تیرے قاتل ابھی زندہ ہیں‘‘ ۔ 

ابھی صرف اتنا ہی ہوا ہے کہ مشرف کو مفرور قرار دیا گیا ہے بینظیر بھٹو کے لابیئسٹ مارک سیگل کو عدالت میں بیان قملبند کرانے کے لیے طلب کیا ہے،۔جن کو بینظیر بھٹو نے بذریعہ ای میل آگاہ کیا تھا کہ ان زندنگی خطرے میں ہے۔یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ مارک سیگل بیان قملبند کرانے آتے ہیں یا نہیں۔

امریکی سیکریٹری خارجہ رائیس کونڈی جن کا بینظیر بھٹو کو وطن لانے میں اہم کردار تھا اور انہوں نے منصب چھوڑنے کے بعد اپنی کتاب میں بینظیر بھٹو کے حوالے سے بعض انکشافات بھی کئے ہیں انہیں نہ اقوام متحدہ کی کمیشن اپنا بیان دیا اور انہین نہ ہی عدالت میں لب کیا گیا ۔ اسی طرح افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بینظیر بھٹو کو قاتلانہ حملوں سے آگاہ کیا تھا، ان کا بھی نہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن میں بیان نہیں ریکارڈ کیا گیا۔ 

حکومت نہ مقامی اور نہ ہی عالمی سازش کو بے نقاب کرسکی ہے۔اب جو شواہد سامنے آرہے ہیں وہ باتاتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے قتل میں بھی ملکی اور عالمی دونوں عناصر شامل تھے۔ مگر یہ سازش بھی تاحال منکشف نہیں ہو سکی ہے۔ 
حکومت اور امریکہ دونوں بیت اللہ محسود کو بینظیر کے قتل کا ذمہ دار ٹہرا رہے تھے۔ مگربعد میں امریکہ ہی 
نے ڈرون حملے میں محسود کو ہلاک کردیا۔ یاد رہے کہ لیاقت علی خان اور صدر کنینڈی کے قاتلوں کو بھی موقعے پر ہی قتل کردیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کی قرارداد منظور کی تھی مگر تاحال اس منتخب ایوان کو
 بھی تحقیقاتی رپورٹ سے آاگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس اشو پر سندھ اسمبلی کی بھی قرارداد تھی۔ مگر سندھ کے منتخب ایوان کو بھی باقاعدہ رپورٹ سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ بلکہ اراکین اسمبلی کو الگ سے میٹنگ کرکے رحمان ملک نے بریف بعض اسمبلی کو نہیں بتایا گیا۔ سندھ اسمبلی میں بھی صرف اراکین کو بتایا گیا۔ 

کیا ان حالات میں بے نظیر بھٹو کا قتل کا سانحہ ناگزیر تھا یا بعض حلقوں کی لاپروائی یا ظالمانہ روش کی وجہ سے ہوا۔اب اس کی ذمہ داری نہ امریکی حکام لے رہے ہیں اور نہ ہی مشرف۔

بلاشبہہ وہ وطن واپسی اور اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالنے کی خواہان تھیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ مرنا ہی چاہتی تھیں۔امریکی اداروں اور اہلکاروں کے حوالے سے وہاں کے اخبارات کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ محترمہ پر امریکی سیکریٹری خارجہ کونڈی رائیس نے دباؤ ڈالا کہ وہ واپس وطن جائیں۔اور صدر مشرف ان کی حمایت کر سکتے ہیں ان کا موقف بے نظیر کے تجزیہ کے بر عکس تھا۔

امریکی صحافی روبن رائیٹ اور گلین کیسلر نے 27 دسمبر کو لکھا کہ بینظیر کی وطن واپسی کو آخری شکل وطن کے لیے روانگی سے ایک ہفتہ پہلے کونڈی لیزا سے فون پر بات کے دوران دی گئی تھی۔یہ فون کا ل ایک سال سے زائد عرصے تک جاری خفیہ ڈپلومیسی کا نتیجہ تھی۔ اور اس ڈپلومیسی کو اس وقت سامنیلایا گیا جب امریکہ نے یہ فیصلہ کیا پاکستان کی طاقتورسیاسی خاندان کی فرد واشنگٹن کے اتحادی اس ملک کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بیل آؤٹ کر سکتی ہے۔یہ بے نظیر بھٹو کے لیے ڈرامائی تبدیلی تھی۔

مارک سیگل واشنگٹن میں بینظیر کے لیے لابنگ کر رہے تھے، اور پردے کے پیچھے جاری ڈپلومیسی سے آگاہ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ یہ سمجھنے لگا کہ بینظیر بھٹو استحکام کے لیے خطرہ نہیں بلکہ وہ واحد راستہ ہیں جس کے ذریعے استحکام کی اور مشرف کو اقتدار میں رکھنے کی ضمانت مل سکتی ہے۔

نیوزویک کے مضامین سے پتہ چلے گا کہ رائیس کونڈی بینظیر اور مشرف ٹیم کو مثالی سمجھتی تھی۔ اور کنڈی نے بے نظیر بھٹو کو راضی کیا کہ وہ واپس پاکستان جائیں اور مشرف کے ساتھ ٹیم بنائے۔ مگر جب وہ وطن پہنچی تو مشرف کا عمل، بے نظیر کی چھٹی حس اور زمینی حقائق یہ تھے کہ یہ سب بش انتظامیہ کی خام خیالی تھی اور رائیس کے اقدامات دیوانے کا خواب تھے۔
رائیس اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ڈیل میں ان افواہوں کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہونے لگیں کہ مشرف صدارتی اتخابات کے بعد وردی اتارینگے۔اور وہ آرمی چیف کا عہدہ رکھنے کا ساتھ ساتھ صدرارتی اتنخاب لڑینگے۔بینظیر نے مجھے بتایا کہ جنرل مشرف ایسا نہیں کرینگے۔ اور یہ بھی کہا کہ میں یہ سمجھونگی کہ امریکی حکومت بیچ میں ضامن ہے۔

رائیس کے مطابق ڈیل کا 4 اکتوبر کو اعلان کیا گیا۔ جب 18 اکتوبر کو بینظیر بھٹو وطن لوٹیں تو ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور انکے استقبالی جلوس میں دو دھماکے ہوئے۔ان کی تو جان بچ گئی مگر 140 افراد ہلاک ہوگئے۔رائیس کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر ڈک چینی مشرف کے حق میں تھے۔ 

دو صحافیوں رائیٹ اور کیسلراپنی رپورٹ میں سی آئی اے اور قومی سلامی کونسل کے ایک اہلکار بروس ریڈلکے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ستمبر میں ڈپٹی سیکریٹری امور خارجہ جان نیگروپونٹے اسلام آباد کا دورہ کیا۔انہوں نے مشرف کو پیغام دیا کہ’’ بنیادی دی طور پر ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر چاہتے ہیں کہ حکومت پر جمہوری لبادہ ہو، اور ہم سمجھتے ہیں اس کے لیے بینظیر کا چہرا نہایت ہی موزوں ہے۔ ‘‘

مشرف بینظیر کو ناپسند کرتے تھے وہ ہچکچارہے تھے اایسا کرنے سے ان کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے۔ سی آئی اے اہلکارریڈل کے مطابق مشرف کے سامنے دوؤپشن تھے : بینظیر یا نواز شریف ۔ مشرف نے ان میں کم نقصان دہ آپشن منتخب کیا۔

جان ریڈؒ کے مطابق خارجہ پالیسی کے کئی کہنہ مشق ماہرین کو اس امریکی پلان کے بارے میں شبہ تھا۔امریکی انتظامیہ، وزارت خارجہ اور محکمہ دفاع میں کئی لوگ تھے جن کا خیال تھا کہ اس آئیڈیا میں آغاز سے ہی برائی ہے۔ کیونکہ یہ دونوں لیڈوں کے ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے امکانات صفر ہیں۔

ڈیل کے حصے کے طور پر پیپلز پارٹی نے مان لیا کہ وہ مشرف کے تیسری مدت کے لیے صدر کے انتخابات پر احتجاج نہیں کرے گی ۔ اس کے بدلے مشرف بینظیر کے خلاف کرپشن کے الزامات واپس لے لیں گے۔ مگر بینظیر نے واشنگٹن سے ایک ضمانت مانگی کہ مشرف آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائیں گے جس کے نتیجے میں سویلین حکومت وجود میں آئے گی۔

سیگل کے مطابق رائیس اس ڈیل کو آخری شکل دینے میں مصروف تھی بینظیر بھٹو کودبئی میں فون کرکے بتایا کہ واشنگٹن اس پروسیس پر عمل ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے ۔ ایک ہفتے بعد یعنی 18 اکتوبر کو بینظیر واپس وطن آئیں۔اس کے دس ہفتے بعد انہیں قتل کردیا گیا۔

حکمت عملی کے طور پر رائیس کا آئیڈیا یہ تھا علامتی قسم کے انتخابات کرکے دنیا کو دکھائیں گے کہ پاکستان میں جمہوریت آگئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کونڈی اپنے اس آئیڈیا پر مصر تھیں کہ مشرفاس کھیل میں پہل کرے گا اور اس کے بعد وہ ان تمام سگنلز کو نظرانداز کرے گا جو اس کے عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ دراصل مشرف بے نظیر بھٹو کے ساتھ چلنا نہیں چاہ رہا تھا۔ اس لئے وہ ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔

28 دسمبر کو مائیکل ہرش نیوزویک میں لکھا کہ رائیس کے زور بھرنے پر بینظیر بھٹو انتخابات میں حصہ لینے پر راضی ہوئیں اس شرط کے ساتھ کہ وہ بینظیر بھٹو کو تیسرے مرتبہ وزیراعظم بننے کی اجازت دیں گے۔ مگر مشرف نے اس قانون کو تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔بلکہ ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کردیا ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اس فیصلے کی فوری طور پر صدر بش مذمت نہ کر سکے۔اور نہ ہی امریکیوں نے معاہدے کے دوسری پوائنٹ پر زوردیا جو بینظیر بھٹوکی تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے سے متعلق تھی۔ امریکیوں نے اس معاملے کو لٹکا ہوا چھوڑا۔ پی پی کے ذرائع کے مطابق امریکی اپنے وعدے سے مکر گئے۔

اس رپورٹ کے مطابق کونڈی نے ایک مرتبہ پھر بینظیر کو حفاظت کی یقین دہانی کرائی اور مشرف کو اپنا وعدہ ایفا کرنے کے لیے سرگرم ہوگئیں کہ بینظیر کی حفاظت ضروری ہے۔ وطن پہنچنے کے بعد بینظیر نے رائیس کو آگاہ کیا کہ وہ خطرے میں ہیں ۔ان کی وطن واپسی پر استقبالی جلوس میں ان پر خودکش بمبار نے قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
نیوزویک نے لکھا کہ سانحہ کارساز کے بعد بینظیر نے مشرف پر سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کا الزام لگایا ۔ واشنگٹن میں انتظامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ رائیس نے ذاتی طور پر مشرف پر زور دیا کہ وہ بینظیر کو کم از کم ایسی سیکیورٹی فراہم کریں جو ان کے وزیراعظم کو حاصل ہے۔

ایک مرتبہ پاکستان پہنچنے کے بعدوہ واپس نہیں جاسکتی تھیں۔انہوں نیاپنی سیاسی مہم شروع کردی۔ اگرچہ اکتوبر کے وسط میں انہیں پتہ چل گیا تھا وہ موت کے جال میں ہے۔ اس طرح کے اشارے ہر طرف سے مل رہے تھے۔

بینظیر بھٹو نے27دسمبر کو مارک سیگل کو ای میل بھیجی گئی جس میں انہوں نے اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے شکایت کی تھی۔ انہوں لکھا کہ’’مجھے محسوس کرایا جا رہا ہے کہ میں غیر محفوظ ہوں مجھے نجی کاریں، یا کاروں سیاہ شیشے استعمال کرنے ، جیمرز فراہم کرنے یا چار پولیس گاڑیاں فراہم کرنے سے روکا جا رہا ہے۔‘‘۔اس سے زیادہ وہ کیا لکھتیں۔

امریکی صحافی لکھتے ہیں کہ محکمہ خارجہ کی یہ ناہلی تھی کہ وہ بینظیر بھٹو کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ اس بات کو تحقیقات میں کیوں نہیں لایا جا رہا ہے؟ کونڈی اور ان کی ٹیم کی بڑی دلچسپی تھی کہ وہ القاعدہ یا دوسرے ایسے دہشتگردوں پر الزام عائد کریں تاکہ انتظامیہ کے اس فیصلے سے توجہ ہٹا سکیں کہ انہوں نے بینظیر کو بھیڑیوں کے نرغے میں ڈال دیا ہے۔

بہرحال ہر مرتبہ بینظیر بھٹو اور ان کے مشیر امریکی انتظامیہ کو سیکیورٹی بڑھانے کے لیے کہتے رہے۔امریکیوں نے بینظیر کو مشورہ دیا کہ وہ پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کریں۔مگر بینظیر اور ان کے شوہر آصف زرداری اس تجویز کو رد کرتے رہے۔کیونکہ انہیں شبہ تھاکہ پاکستان کی اچھے سے اچھی سیکیورٹی ایجنسی میں بھی دہشتگرد گھسے ہوئے ہو سکتے ہیں۔

یہ واقعات بتاتے ہیں کہ کس طرح سے امریکی وزارت خارجہ قتل کے واقع کے لیے مقتولہ کو ہی ذمہ دار ٹہراتی رہی۔تعجب کی بات ہے کہ رائیس کونڈی اور اسکی ٹیم مشرف پراپنا اثر استعمال کرنے میں ناکام ہو رہی تھی اور پرائیویٹ فرم کی خدمات کے لیے زور دے رہی تھی۔
مشرف بینظیر بھٹو کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا جو کہ آئندہ انتخابات میں ان کی پارٹنر قرار دی جارہی تھی۔ جب کراچی سانحہ میں 136جیالے ہلاک ہوئے تو نیویارک ٹائیمز نے رپورٹ دی کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بینظیر کوملک چھوڑنے سے روک دیا ہے۔

اس طرح سے بینظیر بھٹوامریکی سیکریٹری رائیس کونڈی کے وعدے اور امریکہ کی یقین دہانیوں کی بھینٹ چڑھ گئیں۔اگر امریکہ واقعی بینظیر کی سیکیورٹی چاہتا تھا اور مشرف کو بھی ہرحال میں بچانا اور اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا تو اس سے بینظیر کی سیکیورٹی کیوں نہ حاصل کر سکے۔ اور بیت اللہ محسود یا کسی اور دہشتگرد کا نشانہ بنی۔
یہ بڑے اہم سوال ہیں۔جن کے جواب میں ہی قتل کا سراغ موجود ہے۔ موجودہ پی پی حکومت ابھی تک ملکی وعالمی سازش کو بے نقاب کرنے میں ناکام رہی ہے یا کترا رہی ہے۔ اس کے باوجود اسی بنیاد پر ووٹ کی طلبگار ضرور ہے۔ 

24 -12-2012

بینظیر بھٹو کی برسی کے موقعہ پر خصوصی تحریر۔ ’’روزنامہ نئی بات‘‘ میں شایع شدہ

Saturday, October 1, 2016

مودی کی پالیسی سے خطے میں انتہا پسندی بڑھنے کا خطرہ

مودی کی پالیسی سے خطے میں انتہا پسندی بڑھنے کا خطرہ


میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

خطے میں موثر دو ممالک امریکہ اور چین نے پاکستان اور بھارت پر آپس میں کشیدگی ختم کرنے اور معاملات پرامن اور مذاکرات کے ذرریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ تاہم بھارتی وزیر اعظم نے مودی جارحانہ رویہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں رواں سال نومبر میں مجوزہ سارک سربراہی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے ۔ اب سارک کانفرنس کا رواں سال انعقاد ممکن نظر نہیں آتا۔ 



پاکستان اور بھارت کے درمیان بلواسطہ جنگ اور کشیدگی گزشتہ چند دہائیوں سے جاری ہے ۔ لیکن اس میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب انڈیا نے کھلے عام بلوچستان کے معاملے میں مداخلت کا اعلان کیا۔ بھارت کے اس اعلان سے بلوچستان کے عوام یا وہاں کی قوم پرست تحریک کا بھلا ہونے کے بجائے نقصان ہی پہنچا۔ بلکہ اس بھارتی رویے سے پاکستان میں موجود جہادی قوتوں کی حامی لابی کو تقویت ملے گی۔ جو کہ خطے میں قیام امن کے لئے نہایت ہی خطرناک ہوگا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اب پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ علاقائی بن چکا ہے۔ 



لگتا ہے کہ معاملہ ایک مرتبہ پھر ایک اور پراکسی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان پراکسی جنگ لڑنے کی پہلے بھی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ امریکہ کے ساتھ خصوصی تعلقات اور پھر امریکہ کی جانب سے افغانستان میں بھارت کو خصوصی رول دینے کے بعد ان تینوں ممالک کے حکمت عملی کے تعلقات قائم ہو چکے ہیں۔ بھارت ان تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کابل میں موجود حکومت کے ذریعے پاکستان کو گھیرے میں لانے اور دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جو یقیننا پاکستان کے لئے باعث تشویش ہے۔ پاکستان ایک عرصے سے شکایت کرتا رہا ہے کہ بھارت پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کے لئے افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے۔ مودی کے حالیہ بیانات نے پاکستان کے اس موقف کو مضبوط کیا ہے۔ افغانستان کوپاکستان کے خلاف استعمال کرنا خود امریکہ اور اسکے دیگر حلیف مغربی ممالک کے لئے بھی باعث تشویش ہونا چاہئے۔ اس طرح کے اقدامات سے افغانستان میں عدم استحکام بڑھے گا۔ اور وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان پراکسی جنگ کا میدان بن جائے گا۔ کای ایسے میں افغان بحران کا پرامن اور قابل قبول حل تلاش کیا جاسکتا ہے؟ 



پاکستان کو عالمی طور پر اکیلا کرنے کے اعلان کے بعدبھارت نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ سندھ طاس پانی کا معاہد منسوخ کر دے گا۔ پاکستان کا پانی بند کر کے مودی برصغیر میں غربت کے خلاف کس طرح سے مشترکہ جنگ لڑنا چاہتے ہے؟ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگوں اور مختلف تضادات کے بعد بھی برقرار رہا۔ یہ پہلا موقعہ ہے بھارتی وزیر اعظم نے اس معاہدے کی تنسیخ کی بات کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان عالمی بینک کے توسط سے ہوا تھا۔ ایک عالمی معاہدے کو منسوخ کرنا اتنا آسان نہیں۔ لیکن اس طرح کے بیانات سے اس معاہدے کو متنازع بنایا جارہا ہے جس کے اثرات آنے والے وقتوں میں پڑنا ناگزیر ہیں۔ 
پانی کا معاملہ اتنا حساس ہے کہ معاہدے کی ایک معمولی خلاف ورزی دونوں ملکوں کو فوجی تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ 
یہ سمجھنا اہم ہے کہ مودی نے یہ اشو کیوں کھڑا کیا؟ کیا کل کو انہیں اس پوزیشن سے نیچے آنے میں دقت نہیں ہوگی؟ بھارت کے اکثریتی عوام مودی کی اس پالیسی کے خلاف ہیں۔ ایک عالمی ادارے کے سروے کے مطابقاگرچہ انڈیا میں پاکستان مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے تاہم پچاس فیصد لوگ مودی کی پالیسیوں کو ٹھیک نہیں سمجھتے۔ مودی نے اس انتہاپسندانہ موقف کے نقصانات کا ازالہ کر لے گا۔ کیونکہ انڈیا عالمی طور پر اس وقت بہتر پوزیشن میں ہے۔ اس کی معیشت میں بہتری وغیرہ کو خاص طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔ کیا وہ پاکستان کے ساتھ تصادم اور کشیدگی کے اس طرح کے موقف اور اقدامات کے بعد عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور حیثیت کو برقرار رکھ پائے گا؟ 



مودی کہتے ہیں کہ انڈیا پاکستان کو دہشتگردی ایکسپورٹ کرنے کے نام پرقابل نفرت ملک بنا کر دنیا میں اکیلا کر دے گا۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہماری غلط پالیسیوں اور اور نااہلی کی وجہ سے ملک کے اندر دہشتگرد گروپ سرگرم ہیں۔ جس کے نقصانات ہم اندرونی خواہ بیرونی طور پر اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں اس حوالے سے عالمی طور پر شدید شک و شبہات ہیں، جنہیں ہم تاحل دور نہیں کر سکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اختیار اور فیصلہ سازی کے ایک سے زائد مراکز ہیں لہٰذا پاکستان اپنی مربوط خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی بنا نہیں سکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی حوالے سے گزشتہ چند برسوں میں ملک کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ لیکن اپنی جغرافیائی محل وقع کی وجہ سے دنیا کے لئے ابھی بھی اہم ملک ہے۔ 



پاکستان کو الٹے سیدھے اقدامات کے ذریعے غیر مستحکم کرنے کی کوشش کے نہ صرف خطے پر بلکہ خود انڈیا پر بھی منفی اثرات ہونگے۔ پاکستان کو غربت بیروزگاری، اور ناخواندگی کا بھاشن دینے کے ایک روز بعد بھارتی وزیراعظم نے 360 درجے کی ڈگری کا موقف لیا ہے۔ اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں معیشت کی بنیاد زراعت ہو، اور جہاں زندہ رھنے کا بنیادی ذریعہ بھی یہ ہو وہاں کس طرح سے ایک اتنے بڑے ملک کا وزیراعظم ایک غیرانسانی عمل کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ حکم صادر کر دیا کہ بھارت ان تین مغربی دریاؤں پر بجلی گھر تعمیر کرے جن کا پانی معاہدے کے تحت پاکستان کے لئے مخصوص ہے۔ وہ ایسا کر کے ممکن ہے کہ انڈٰا کے بعض انتہا پسندوں کو خوش کر لیں لیکن خطے کو مزید غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ وہ اس کوشش یں دونوں ملکوں کے درمیان ایک اور تنازع کھڑا کر رہے ہیں۔ 



پاکستان کے پالیسی سازوں کو محتاط اور دانشمندانہ ردعمل دینا چاہئے۔پاکستان کی جانب سے جذباتی اور ہراسگی کا ردعمل صورتحال کو مزید خراب کرے گا۔ پاکستان پانی کے ماہرین کی اور عالمی ثالثوں کی مضبوط ٹیم بنائے اور عالمی بینک کو بھی بیچ میں لے آئے۔ تاکہ بھارتی تحرک پر جلد اور موثر جواب دیا جاسکے۔ کرشنا گنگا اور بلگیار کی ثالثی سے سبق ملتا ہے کہ کمزور پالیسی، لیڈرشپ کے فیصلہ سازی میں عدم بلوغت، اور دنیا میں کیس کو کمزور طریقے سے رکھنے کی وجہ سے پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑا۔ ضرورت اس مار کی ہے کہ پاکستان خود کو سفارتی اور قانونی حوالے مضبوط کرے۔ 



معاملہ خطے میں بالادستی کا ہے۔ اپنے مفادات کو جارحانہ سفارتکاری کے ذریعے بچانے کا ہے۔ معاملہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو اپنا ہمنوا بنا کر اقتصادی میدان میں آگے بڑھنے کا ہے۔ 
پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کشیدگی کا باعث ہے۔ جنرل ضیا سے لیکر جنرل مشرف تک اور بعد میں میاں نواز شریف تک جب بھی دونوں ممالک کے سربراہوں کی ملاقاتیں ہوئی یہ طے پایا گیا کہ کشمیر کے معاملے کا تصفیہ پرامن اور بات چیت کے ذریعے سے کیا جائے گا۔ لیکن ابھی اچانک بھارتی وزیراعظم کے موقف میں تبدیلی آگئی ہے۔ اور چند ہفتے قبل کشمیر میں بھارتی فورسز نے جو مظالم کئے اور ایسی گیس کا استعمال کیا گیا جس سے مظاہرین کے آنکھوں کا نور ختم ہو گیا۔ ابھی تک کوئی ایسا فارمولا نہیں پیش کیا جاسکا ہے جو بیک وقت پاکستان، بھارت کو کشمیریوں تینوں کے لئے قابل قبول ہو۔ ممبئی واقعہ سے پہلے بھارت کشمیر کے معاملے کو اولیت دیتا رہا۔ لیکن اس کے بعد وہ دہشتگردی کو نمبر و قرار دیتا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دکھتی رگ بلوچستان پر بھی ہاتھ رکھا۔ 
جس طرح کشمیر میں حال ہی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی اس کو بڑے پیمانے پرعالمی سطح پر اٹھایا جاتا تو بھات خاصی مشکل میں پڑ سکتا تھا۔ بھارت کو کشمیر کے واقعہ سے توجہ ہٹانے کے لئے کوئی بہانہ چاہئے تھا۔ جس سے دہشتگردی دوبارہ فوکس میں آئے۔ اڑی واقعہ نے اسے یہ موقعہ فراہم کیا۔ اڑی واقعہ کے بارے میں کئی شبہات اور تحفظات ہیں۔ 
سوال یہ ہے کہ مودی کی اس ضارحانہ پالیسی اور سفارت کاری سے فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ ظاہر ہے کہ خطے میں انتہا پسندانہ سوچ بڑھے گی۔ نقصان خطے کے امن اور یہاں کے لوگوں کا ہوگا۔ 

Monday, September 26, 2016

شکارپور: پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے لئے ٹیسٹ کیس



پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے لئے ٹیسٹ کیس
Daily Nai Baat  |   Published : 27-September-2016
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 

قبائلی اور مذہبی فرقہ واریت اور دہشتگردی کے مسلسل واقعات کے طور پر پہچان رکھنے والے اندرون سندھ کے ضلع شکارپور میں ضمنی انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ پی ایس 11 پر انتخابات آئندہ ماہ کی 20 تاریخ کو ہونگے۔ 


سابق بیوروکریٹ امتیاز شیخ نے 2013 کے عام انتخابات میں فنکشنل لیگ کے ٹکٹ پر پیپلزپارٹی کے امیدوار آغا تیمورکو شکست دیکر یہ نشست جیتی تھی۔ وہ تین سال تک اسمبلی میں پیپلزپارٹی مخالفت کرتے رہے۔ بلدیاتی انتخابات خاص طور پر بلدیاتی اداروں کے سربراہان کے انتخاب کے موقع پر سندھ میں جوڑ توڑ شروع ہوا ۔ جس نے نئی سیاسی صورتحال پیدا کردی تھی۔ اسی تسلسل میں گزشتہ دنوں لندن میں فنکشنل لیگ کے رہنما امتیاز شیخ نے آصف علی زرداری اور میڈم فریال تالپور سے ملاقات کے بعد انہوں نے فنکشنل لیگ کو خیرباد کہہ کر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اور صوبائی اسمبلی کی نشست سے بھی استعیفیٰ دے دیا۔ 


آئندہ ماہ اس نشست پرضمنی انتخاب ہونے جارہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے امتیاز شیخ امیدوار ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں جے یو آئی کے ناصر محمود سومرو ہیں، جوو جے یو آئی کے رہنما مقتول خالد محمود سومرو کے بیٹے ہیں۔ ماضی میں جب بھی ضمنی انتخابات ہوتے ہیں اس حلقے میں حکمراں جماعت کی جانب سے بلا مقابل امیدوار لانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہو رہا۔

شکارپور جو کبھی سندھ کا پیرس کہلاتا تھا اب اس کا پروفائیل تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک درجن سے زائد قبائلی جھگڑے قبائلی جھگڑے گزشتہ دو عشروں سے چل رہے ہیں۔ جنہیں حل کرنے میں حکومت اور اور اس کے ادارے ناکام رہے ہیں۔ قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے کئی برسوں تک کچھ علاقے ایک دوسرے قبیلوں کے لئے ’’ نو گو ایریا‘‘ رہے ہیں۔ڈاکوؤں کی مشہور آماجگاہ شاہ بیلو فایسٹ بھی اس ضلع میں واقع ہے۔ اس علاقے میں ماضی میں ناٹو کے باربردار ٹینکروں پر بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ 


2010 کے بعدشکارپور کم از کم نصف درجن واقعات برداشت کر چکا ہے۔ پیر حاجن شاہ پر حملے سے کچھ عرصہ پہلے شکارپور میں اس طرح کے حملوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا۔ رواں سال عیدالاضحیٰ کے روز خانپور میں رونما ہونے والے واقعہ نے اس ضلع میں دہشتگردی کے واقعات کی فہرست میں اضافہ کردیا۔ شکارپور میں محرم الحرام میں دہشتگردی کی کارروایاں ہوتی رہیں۔ اور حاجن شاہ پر حملہ ہوا، یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس علاقے میں دہشت گردی کی ترتبیت حاصل کرنے والے، دہشتگردوں کے سہولت کار اور ہمدرد ضرور موجود ہیں۔ مختلف اداروں کی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشتگرد اس علاقہ میں کوئٹہ، مکران اور شہدادکوٹ بلوچستان کے راستے سے آتے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ بلوچستان کے چپے چپے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے موجودگی کے بعد بھی دہشتگرد بلوچستان سے لمبا روٹ طے کر کے شکارپور پہنچ جاتے ہیں۔


خانپور میں رونما ہونے والے حالیہ واقعہ کی تحقیقات کے مکمل نتائج اور تفصیلات آنا ابھی باقی ہیں۔ لیکن ایک
 دہشتگرد کے زندہ گرفتاری نے تفتیش و تحقیقات کو آسان ضرور بنا دیا ہے۔ 

اس واقعہ کے بعد یہ سوال اٹھایا جارہا تھا کہ وہ کونسے عناصر ہیں جو شکارپور کا تشخص تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ حملے کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم نے قبول کی تھی۔ حملہ آور سوات سے تعلق رکھنے والا تھا۔شکارپور میں دہشتگردی کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان میں شیعہ آبادی کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان واقعات کے حوالے سے یہ بات قابل غور ہے کہ عقیدے کے اعتبار سے نفرت کی آگ بھڑکانے سے مقامی آبادی میں سے زیادہ حصہ اور فائدہ کس کا ہے؟ شکارپور کے منتخب نمائندوں اور سیاستدانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان دہشتگردی کے واقعات کے پیچھے کونسے محرکات ہیں؟ کس کے یہاں پر کیا مفادات ہیں یا کونسے حلقے کے مفادات ٹکراؤ میں آتے ہیں۔بلاول بھٹو زرادری کی ان ضمنی انتخابات میں اتنی دلچسپی اچھی بات ہے، لیکن نہیں معلوم کہ انہیں اس پس منظر کا کتنا ادارک ہے۔ یہ ضمنی انتخابات اس وجہ بھی اہم ہیں تو بآسانی اس امر کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ 


ان انتخابات کے دو اور پہلو بھی ہیں۔ میں پیپلزپارٹی کے آغا تیمور پارٹی کے نامزد امیدوار امتیاز شیخ کی حمایت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ امتیاز شیخ نے 2013 کے عام انتخابات میں یہ نشست جیتی تھی لیکن اس سے پہلے اس نشست پر آغا تیمور اور ان کے والد آغا طارق پیپلزپارٹی کے امیدوار کے طور پر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ 


جام صادق اور مظفر شاہ کے وزارت اعلیٰ کے ادوار میں بطور پرنسپل سیکریٹری ٹو چیف منسٹر سفید سیاہ کے مالک امتیاز شیخ نے پہلی مرتبہ 2002 کے عام انتخابات میں حصہ لیا تھا، اس وقت ان کے مقابلے میں آغا تیمور کے والد آغا طارق پیپلزپارٹی کے امیدوار تھے۔ اور انتخابات جیت گئے تھے۔ بعد میں کشمور میں سلیم جان مزاری کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخابات جیت کر وہ اسمبلی میں پہنچے۔ انہیں وزیر روینیو بنایا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے ساتھ اختلافات کے بعد انہیں وزارت سے ہٹادیا گیا۔ وہ مسلسل زیر عتاب رہے۔ 


بعد میں 2013 میں انہوں نے فنکشنل لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ فنکشنل لیگ اور نواز لیگ کے درمیان مفاہمت کی وجہ سے انہیں وزیر اعظم کا خصوصی معاون مقرر کیا گیا۔ ان دونوں کے اختلافات کی وجہ سے وہ سینڈوچ بنتے رہے۔ اس حلقے میں ایک لاکھ پینتیس ہزار ووٹ ہیں جبکہ امتیاز شیخ نے 2013 کے انتخابات میں 35010 ووٹ اور ان کے حریف آغا تیمور نے چوبیس ہزار 249 ووٹ حاصل کئے تھے۔

آغا تیمور اپنے والد آغا طارق کے انتقال کے بعد صوبائی ا سمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ہاؤسنگ کے صوبائی وزیر بھی رہے۔ ان کے دادا آغا غلام نبی پٹھان پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے رکن صوبائی اسمبلی اور سنیٹر بھی رہے ہیں ۔


پیپلزپارٹی اپنے لئے یہ نشست اہم سمجھتی ہے۔یہاں تک کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری امتیاز شیخ کو ساتھ لیکرآغا تیمور کے پاس سلطان کوٹ پہنچے۔جہاں انہوں نے امتیاز شیخ اور آغا تیمور کے درمیان اختلافات ختم کرانے کی کوشش کی۔ آغا تیمور کو یقین دلایا گیا کہ آئندہ عام انتخابات میں اس نشست پر وہ پارٹی کے امیدوار ہونگے۔ لہٰذا ضمنی انتخابات میں وہ امتیاز شیخ کی مدد کریں۔ بعد میں بلاول بھٹو انہیں اپنے ساتھ امتیاز شیخ کی شکارپور میں رہائش گاہ پر منعقدہ عشائیہ میں بھی لے آئے ۔ 


ان اعلیٰ سطحی کوششوں کے باوجود یہ تاثر ختم نہیں ہو سکا ہے کہ آغا تیمور اور امتیاز شیخ کے درمیان مخالفت ختم ہو گئی ہے۔ لہٰذا یہ ناممکن سی بات لگ رہی ہے کہ آغا تیمور امتیاز شیخ کی حمایت کریں۔ امتیاز شیخ کی پیپلزپارٹی میں شمولیت اور اب انتخابات کی وجہ سے کئی بااثر شخصیات کو ڈر ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے کہیں اپنا مقام نہ بنا لے۔ امتیاز شیخ کو صرف مخالف امیدوار سے ہی مقابلہ نہیں بلکہ پارٹی کے اندرونی حلقوں سے بھی مخالفت کا خطرہ ہے۔ 


نیشنل ایکشن پلان کے باوجود سندھ کے شمالی علاقے میں مذہبی انتہاپسندی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔رہڑکی میں دو ہندونوجوانوں کو قتل کیا جبکہ نفرت آمیز پوسٹرز اور وال چاکنگ موجود ہیں۔ ایک کالعدم تنظیم نے نام بدل کر سکھر، خیپور، ٹنڈوالہ یار میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا۔ اور کچھ نشستوں پر کامیابی بی حاصل کرلی۔ یعنی کالعدم تنظیم اپنے اثر کو ووٹ بینک میں تبدیل کر رہی ہے۔


ملک کے بعض دیگر حصوں کی طرح شکارپور میں میں بھی مذہب اور فرقے کے نام پر نکالی گئی لکیریں بہت گہری ہیں۔ یہ مشکل ہے کہ ایک فرقہ دوسرے کو ووٹ دے۔ وہ بھی شکارپور جیسے بہت سارے حوالوں بٹے ہوئے ضلع میں۔ سابق ایم این اے ڈاکٹر ابراہیم جتوئی اہل تشیع ہیں۔ وہ، ان کے بھائی اور برادری کے لوگ مختلف وقتوں میں دہشگرد حملوں کی زد میں آتے رہے ہیں۔ شکارپور خانپو رکے قومی اسمبلی اور خانپور کے صوبائی حلقے پر ان کا اور ان کے بھائی عابد جتوئی کا پیپلزپارٹی سے مقابلہ ہوتا رہا ہے۔ اس علاقے میں جے یو آئی بھی موجود ہے جو کبھی اپنے امیدوار کھڑے کرتی رہی ہے تو کبھی پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہے۔ اب پیپلزپارٹی کے خلاف روایتی حریف موجود نہیں تو جے یو آئی کے امیدوار میدان میں آگئے ہیں۔ 


جے یو آئی پارٹی کی حکمت عملی کے حوالے سے شکارپور کو اہم سمجھتی ہے۔ ممکن ہے کہ جتوئی برادران اور جے یو آئی مل کر پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائیم دیں خاص طور پر جب خود پیپلزپارٹی کاایک گروپ امتیاز شیخ کی نامزدگی پر خوش نہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم جتوئی پر دو مرتبہ خود کش حملوں میں کالعدم تنظیموں کے ملوث ہونے کے بعد جے یو آئی اور جتوئی برادران کے درمیان اور بھی فاصلے رہے ہیں۔ لیکن ان ضمنی انتخابات نے جے یو آئی اور جتوئی برادران کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ جے یو آئی امیدوار ناصر محمود سومرو کی ڈاکٹر ابراہیم جتوئی سے ملاقات کے بعد وہ جے یو آئی کے ناصر محمود کی کھلی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ 


جتوئی گروپ اور جے یو آئی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد آئندہ عام انخابات میں بھی برقرار رہے گا۔ اس سے پہلے مختلف انتخابات میں جے یو آئی اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ اگر آئندہ انتخابات میں جے یو آئی کا اتحاد شکارپور کے


جتوئی برادران کے ساتھ برقرار رہتا ہے تو جے یو آئی صوبے میں دیگر مقامات پر بھی پیپلزپارٹی مخالف لابی
 کی حمایت پر اتر آئے گی۔ یہ پہلا مواقعہ ہوگا کہ سندھ میں کوئی مذہبی جماعت اہم پارٹی کے طور پرسیاست کھیلنے لگے گی۔ 



روزنامہ نئی بات 27 ستمبر 
---------------

Key words: #Daily Nai Baat#, #Sohail Sangi#, #Urdu column#, #JUI#, #PPP#, #Bilawal Bhutto#, #Imtiaz Shaikh#, #Shikarpur#, #Dr Ibrahim Jatoi#, #Khanpur incident#, #Nato tankers#, #Agha Taimour Khan Pathan#, #Asif Zardari@, #Faryal Talpur#
-----------
Nai Baat
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/27-09-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg 

http://www.urducolumnsonline.com/suhail-sangi-columns/239509/peoples-party-aur-jui-kay-leye-test-case



الطاف حسین کے خلاف قرارداد کیوں پیش کی گئی؟

الطاف حسین کے خلاف قرارداد کیوں پیش کی گئی؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

جس بات کا خدشہ تھا وہی ہوا۔ 22 اگست کو بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد الطاف حسین کی تقریر اور ایک نجی ٹی وی چینل کے دفتر پر حملے کے بعدپاکستان میں موجود فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم نے لندن اور الطاف حسین سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ لیکن یہ امر ناقابل یقین اور ناقبل عمل لگ رہا تھا کہ الطاف حسین اس فیصلے کو کس طرح سے قبول کریں گے؟ اگرچہ فوری طور پر الطاف حسین کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کے فیصلے کی توثیق کا بیان بھی آیا۔ ایک عرصے تک پارٹی کے اندر اور اس کے حامیوں میں شخصیت پرستی اور آہنی ڈسپلن چل رہا تھا، جو کہ پارٹی کی پالیسی کا بنیادی نقطہ بن گیا تھا۔ ایسے میں علحدگی کوئی عملی اور موثر شکل اختیار کر لے یہ مشکل ہی نہیں لیکن ناممکن نظر آرہا تھا۔



ندیم نصرت نے لندن پہنچ کر جب یہ بیان جاری کیا کی الطاف حسین نے بغیر ایم کیو ایم کچھ نہیں۔ اس کے بعد فارق ستار کی قیادت میں چلنے والی پاکستان میں موجود ایم کیو ایم نے رابطہ کمیٹی پاکستان کے کنوینیئر نصرت ندیم، واسع جلیل، مصطفیٰ عزیزآبادی اورقاسم علی رضا کو پارٹی سے خارج کردیا۔ اس پر ایم کیو ایم کے ناراض رہنما سلیم شہزاد نے ندیم نصرت کو پارٹی میں پیدا ہونے والے حالیہ مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔


تیزی کے ساتھ ایم کیو ایم کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لئے جس تسلسل میں واقعات ہوئے ہیں ان کو سمجھنا ضروری ہے ۔ 22 اگست کو بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف تقریر کی اور ایک نجی ٹی وی چینل کے دفتر پر حملہ ہوا

اسی روز الطاف حسین نے امریکا میں بھی کارکنان سے خطاب کیا تھا، جس میں الطاف حسین نے کہا کہ 'امریکا، اسرائیل ساتھ دے تو داعش، القاعدہ اور طالبان پیدا کرنے والی آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج سے خود لڑنے کے لیے جاؤں گا'۔ بعدازاں پریس کلب پر میڈیا سے گفتگو کے لیے آنے والے ایم کیو ایم رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو رینجرز نے گرفتار کرلیا تھا ،ان رہنماؤں کو اگلے دن رہا کیا گیا۔ دوسری جانب ان واقعات کے بعد رینجرز اور پولیس نے شہر بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر نائن زیرو سمیت متعدد سیکٹرز اور یونٹس بند کرنے کے ساتھ پارٹی ویب سائٹ کو بھی بند کردیا تھا۔


راتوں رات پالیسی میں تبدیلی کے اعلان اور ان کارروائیوں کے باوجود اگلے روز میئر کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے امیدوار وسیم اختر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے۔ 


23 اگست کو دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستارنے متحدہ قومی موومنٹ کی سربراہی سنبھال لی پارٹی کے تمام فیصلے پاکستان میں کرنے کا اعلان کیا، بعدازاں پارٹی کی جانب سے اپنے بانی اور قائد سے قطع تعلقی کا بھی اعلان کردیا گیا اور ترمیم کرکے تحریک کے بانی الطاف حسین کا نام پارٹی کے آئین اور جھنڈے سے بھی نکال دیا گیا۔


فاروق ستار کی اعلان کردہ 23 اگست کی پالیسی چلانے میں مشکل پیش آرہی تھی۔ اس مقصد کے لئے دیگر سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم کی مدد کو پہنچیں۔ اور انہوں نے سندھ اسمبلی نے قرار داد منظور کرلی کہ الطاف حسین غدار ہے ان کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت مقدمہ چلایا جائے ۔ اس قرارداد کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے لندن سیکریٹریٹ کے کنوینئر ندیم نصرت نے متحدہ کے تنظیمی ڈھانچے اور تمام شعبہ جات کو تحلیل کرنے کا اعلان کردیا۔ اور کہا ہے کہ تمام اراکین اسمبلی اپنی نشستوں سے مستعفی ہوکر ازسرنو انتخاب لڑیں۔ 

فاروق ستار کا کہنا ہے کہ کوئی پارٹی اسمبلی رکن استعیفا نہیں دے گا۔ 

ندیم نصرت کے مذکورہ بیان کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ لندن سے چاہے کوئی بھی بیان آئے اس سے فرق نہیں پڑتا، 'ایم کیو ایم کا کوئی رکن پارلیمنٹ مستعفی نہیں ہوگا'۔


بانی ایم کیو ایم کے خلاف سندھ اسمبلی کی قرارداد میں گذشتہ ماہ 22 اگست کو کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے کارکنوں سے ان کے خطاب اور بعد میں الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مخالف نعرے لگوانے کا خصوصی حوالہ ہے۔ 



سندھ اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی قراداد کی ایم کیو ایم نے نہ صرف اس قرارداد کی حمایت کی بلکہ سب سے پہلے ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے یہ قرار داد پیش کی ۔ فنکشنل لیگ کی ایم پی اے مہتاب اکبر راشدی نے ٹھیک کہا کہ یہ کوئی آسان بات نہیں کہ کوئی اپنے لیڈر کے خلاف قرارداد پیش کرے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیو ایم سمیت سب جماعتوں نے یہ قراداد کیوں پیش کی۔ 


الطاف حسین کے پاکستان مخالف بیان پر حکومت بانی ایم کیو ایم کے خلاف برطانیہ سے عوام کو تشدد پر اکسانے اور بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف قومی اسمبلی میں بھی متفقہ قرارداد منظور ہو چکی ہے، ایوان میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بھی اس قرار داد کی حمایت کی گئی تھی۔



سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جن کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہی ہے جنہیں کزشتہ دنوں ایس پی راؤ انور نے گرفتار کیا تھا اور چند گھنٹوں بعد وزیراعلیٰ کی مداخلت پر رہا کردیا گیا تھا۔ انہوں نے ٹھیک کہا کہ 22 اگست کی رات قیامت سے کم نہیں تھی، اسے رات ہی ہم لندن سے قطع تعلق کا اعلان کرنا چاہتے تھے۔ مذمت، معذرت اور شرمندگی کا اظہار کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ایم کیو ایم کا ہر کارکن مجرم ہے، ایم کیو ایم رہنما کے مطابق اس واقعے کے بعد ان کے پاس ملک بدر ہونے، پارٹی بدلنے اور واقعے کی ذمہ داری لے کر معاملات حل کرنے کے سارے آپشن تھے، لیکن ہم نے پارٹی نہیں بدلی اور نہ ہی ملک سے باہر گئے۔ پارٹی بدلنے کا آپشن آج بھی ہے۔ ہم نے انگاروں پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ لاتعلق ہو چکے ہیں یقین دلانے کا فارمولا ہمارے پس نہیں ۔ پارٹی بدل لوں تو پاکستانیت کا سرٹیفکیٹ مل جائے گا۔ پارٹی کا نام بدل دیا، بانی کا نام منشور سے نکال دیا۔ اسی طرح کا بیان ایک روز پہلے فاروق ستار نے بھی دیا تھا کہ ہمارا ڈی این اے کرالیں ہم پاکستانی ہیں۔ 


الطاف حسین اور اس کے ساتھی جو اب لندن میں جمع ہیں وہ پاکستان میں موجود ایم کیوایم کی پالیسیوں کو نہ
صرف غلط سمجھتے ہیں بلکہ اب اس کا توڑ کرنے کے لئے میدان میں اتر آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چند ارکان تحریک بچانے کے نام پر وہ اقدامات کررہے ہیں جو تحریک کے مفاد میں نہیں، ایم کیو ایم ایک ہی ہے اور ایک ہی رہے گی، ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ندیم نصرت کا یہ بھی موقف ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز استعفیٰ دے کر دوبارہ الیکشن لڑیں اور متحدہ کے جو ارکان پارلیمنٹ استعفے نہیں دیتے پارٹی کے کارکنان اور ہمدرد ان سے تعلق ختم کردیں۔


الطاف حسین کی سالگرہ کے موقعہ پر کراچی اور حیدرآباد میں بعض مقامات پر الطاف حسین کی حمایت میں وال چاکنگ نظر آئی۔ کراچی میں گزشتہ دنوں ایسے بینرز بھی لگائے گئے تھے جن میں صرف الطاف حسین کو ہی قائد قرار دیا گیا تھا،ان بینرز پر 'جو قائدِ تحریک کا غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے' بھی تحریر تھا، ان بینرز کے دو روز بعد کراچی کی شاہراہوں پر بلند مقامات پر بھی چند بینرز دیکھے گئے جن پر ’جوملک کا غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے‘ تحریر تھا۔


ان تمام فیصلوں کی توثیق متحدہ کے بانی نے کردی ہے۔اور تمام اختیارات ندیم نصرت کو تفویض کردئیے گئے ہیں۔لہٰذاب بظاہر ندیم نصرت بمقابلہ فاروق ستار ہیں۔ فاروق ستار مسلسل یہ کہہ رہپے ہیں کہ ہمارا لندن سے کوئی تعلق نہیں، ہم نے پہلے ہی لندن سے قطع تعلق کررکھا ہے، جو پالیسی اور فیصلے ہم نے 23 اگست کو طے کیے تھے اسی کے مطابق کام کرتے رہے گے۔


ایم کیو ایم کے اندر دھڑے بندی اگرچہ پرانی ہے، جہاں مختلف ادوار میں بغاوت نے سر اٹھایا یا دھڑوں کے درمیان لابنگ اورسیاسی لڑائیوں کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی جسمانی لڑائیاں بھی ہوتی رہی۔


موجودہ صورتحال نے ایم کیو ایم کے حامی ووٹرز کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ فاروق ستار، اظہارالحق اور سید سردار احمد اب جو ایم کیو ایم کی سیاست کرنا چاہ رہے ہیں ان کو پاکستان کے مختلف اداروں، اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔اس کا اظہار خود سندھ اسمبلی کی قرارداد بھی ہے۔ اس حمایت کے بغیر وہ اتنا بڑا اقدام اٹھا بھی نہیں سکتے تھے۔ پاکستان ایم کیو ایم لسانی بنیادوں سے ہٹ کر اورسندھ کی تقسیم کے نعرے سے دستبردار ہوکر سیاست کرکے خود کو الطاف حسین کی حکمت عملی اور اثر سے نکال سکتی ہے۔ 


یہ فرمائش تمام سیاسی جماعتوں اور بعض اداروں کی بھی ہے۔اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اپنے حامیوں میں مقبولیت برقرار رکھ سکتی ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ ایم کیو ایم کی نئی حکمت عملی کے بعد کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نعرے اور لسانی سیاست کے لئے اسپیس موجود ہو جو الطاف حسین کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سوال اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے لئے بھی اہم ہے۔ وہ اس چیلینج کا کیا اور کس طرح حل نکالتی ہیں

روزنامہ نئی بات .... ستمبر

Key words: MQM, ALtaf Hussain, Nadeem Nusrat, Farooq Sattar, Khawaja Izhar, Sindh Assembly, Saleem Shazad, MQM division,