Monday, September 26, 2016

الطاف حسین کے خلاف قرارداد کیوں پیش کی گئی؟

الطاف حسین کے خلاف قرارداد کیوں پیش کی گئی؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

جس بات کا خدشہ تھا وہی ہوا۔ 22 اگست کو بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد الطاف حسین کی تقریر اور ایک نجی ٹی وی چینل کے دفتر پر حملے کے بعدپاکستان میں موجود فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم نے لندن اور الطاف حسین سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ لیکن یہ امر ناقابل یقین اور ناقبل عمل لگ رہا تھا کہ الطاف حسین اس فیصلے کو کس طرح سے قبول کریں گے؟ اگرچہ فوری طور پر الطاف حسین کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کے فیصلے کی توثیق کا بیان بھی آیا۔ ایک عرصے تک پارٹی کے اندر اور اس کے حامیوں میں شخصیت پرستی اور آہنی ڈسپلن چل رہا تھا، جو کہ پارٹی کی پالیسی کا بنیادی نقطہ بن گیا تھا۔ ایسے میں علحدگی کوئی عملی اور موثر شکل اختیار کر لے یہ مشکل ہی نہیں لیکن ناممکن نظر آرہا تھا۔



ندیم نصرت نے لندن پہنچ کر جب یہ بیان جاری کیا کی الطاف حسین نے بغیر ایم کیو ایم کچھ نہیں۔ اس کے بعد فارق ستار کی قیادت میں چلنے والی پاکستان میں موجود ایم کیو ایم نے رابطہ کمیٹی پاکستان کے کنوینیئر نصرت ندیم، واسع جلیل، مصطفیٰ عزیزآبادی اورقاسم علی رضا کو پارٹی سے خارج کردیا۔ اس پر ایم کیو ایم کے ناراض رہنما سلیم شہزاد نے ندیم نصرت کو پارٹی میں پیدا ہونے والے حالیہ مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔


تیزی کے ساتھ ایم کیو ایم کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لئے جس تسلسل میں واقعات ہوئے ہیں ان کو سمجھنا ضروری ہے ۔ 22 اگست کو بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف تقریر کی اور ایک نجی ٹی وی چینل کے دفتر پر حملہ ہوا

اسی روز الطاف حسین نے امریکا میں بھی کارکنان سے خطاب کیا تھا، جس میں الطاف حسین نے کہا کہ 'امریکا، اسرائیل ساتھ دے تو داعش، القاعدہ اور طالبان پیدا کرنے والی آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج سے خود لڑنے کے لیے جاؤں گا'۔ بعدازاں پریس کلب پر میڈیا سے گفتگو کے لیے آنے والے ایم کیو ایم رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو رینجرز نے گرفتار کرلیا تھا ،ان رہنماؤں کو اگلے دن رہا کیا گیا۔ دوسری جانب ان واقعات کے بعد رینجرز اور پولیس نے شہر بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر نائن زیرو سمیت متعدد سیکٹرز اور یونٹس بند کرنے کے ساتھ پارٹی ویب سائٹ کو بھی بند کردیا تھا۔


راتوں رات پالیسی میں تبدیلی کے اعلان اور ان کارروائیوں کے باوجود اگلے روز میئر کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے امیدوار وسیم اختر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے۔ 


23 اگست کو دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستارنے متحدہ قومی موومنٹ کی سربراہی سنبھال لی پارٹی کے تمام فیصلے پاکستان میں کرنے کا اعلان کیا، بعدازاں پارٹی کی جانب سے اپنے بانی اور قائد سے قطع تعلقی کا بھی اعلان کردیا گیا اور ترمیم کرکے تحریک کے بانی الطاف حسین کا نام پارٹی کے آئین اور جھنڈے سے بھی نکال دیا گیا۔


فاروق ستار کی اعلان کردہ 23 اگست کی پالیسی چلانے میں مشکل پیش آرہی تھی۔ اس مقصد کے لئے دیگر سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم کی مدد کو پہنچیں۔ اور انہوں نے سندھ اسمبلی نے قرار داد منظور کرلی کہ الطاف حسین غدار ہے ان کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت مقدمہ چلایا جائے ۔ اس قرارداد کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے لندن سیکریٹریٹ کے کنوینئر ندیم نصرت نے متحدہ کے تنظیمی ڈھانچے اور تمام شعبہ جات کو تحلیل کرنے کا اعلان کردیا۔ اور کہا ہے کہ تمام اراکین اسمبلی اپنی نشستوں سے مستعفی ہوکر ازسرنو انتخاب لڑیں۔ 

فاروق ستار کا کہنا ہے کہ کوئی پارٹی اسمبلی رکن استعیفا نہیں دے گا۔ 

ندیم نصرت کے مذکورہ بیان کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ لندن سے چاہے کوئی بھی بیان آئے اس سے فرق نہیں پڑتا، 'ایم کیو ایم کا کوئی رکن پارلیمنٹ مستعفی نہیں ہوگا'۔


بانی ایم کیو ایم کے خلاف سندھ اسمبلی کی قرارداد میں گذشتہ ماہ 22 اگست کو کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے کارکنوں سے ان کے خطاب اور بعد میں الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مخالف نعرے لگوانے کا خصوصی حوالہ ہے۔ 



سندھ اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی قراداد کی ایم کیو ایم نے نہ صرف اس قرارداد کی حمایت کی بلکہ سب سے پہلے ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے یہ قرار داد پیش کی ۔ فنکشنل لیگ کی ایم پی اے مہتاب اکبر راشدی نے ٹھیک کہا کہ یہ کوئی آسان بات نہیں کہ کوئی اپنے لیڈر کے خلاف قرارداد پیش کرے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیو ایم سمیت سب جماعتوں نے یہ قراداد کیوں پیش کی۔ 


الطاف حسین کے پاکستان مخالف بیان پر حکومت بانی ایم کیو ایم کے خلاف برطانیہ سے عوام کو تشدد پر اکسانے اور بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف قومی اسمبلی میں بھی متفقہ قرارداد منظور ہو چکی ہے، ایوان میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بھی اس قرار داد کی حمایت کی گئی تھی۔



سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جن کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہی ہے جنہیں کزشتہ دنوں ایس پی راؤ انور نے گرفتار کیا تھا اور چند گھنٹوں بعد وزیراعلیٰ کی مداخلت پر رہا کردیا گیا تھا۔ انہوں نے ٹھیک کہا کہ 22 اگست کی رات قیامت سے کم نہیں تھی، اسے رات ہی ہم لندن سے قطع تعلق کا اعلان کرنا چاہتے تھے۔ مذمت، معذرت اور شرمندگی کا اظہار کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ایم کیو ایم کا ہر کارکن مجرم ہے، ایم کیو ایم رہنما کے مطابق اس واقعے کے بعد ان کے پاس ملک بدر ہونے، پارٹی بدلنے اور واقعے کی ذمہ داری لے کر معاملات حل کرنے کے سارے آپشن تھے، لیکن ہم نے پارٹی نہیں بدلی اور نہ ہی ملک سے باہر گئے۔ پارٹی بدلنے کا آپشن آج بھی ہے۔ ہم نے انگاروں پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ لاتعلق ہو چکے ہیں یقین دلانے کا فارمولا ہمارے پس نہیں ۔ پارٹی بدل لوں تو پاکستانیت کا سرٹیفکیٹ مل جائے گا۔ پارٹی کا نام بدل دیا، بانی کا نام منشور سے نکال دیا۔ اسی طرح کا بیان ایک روز پہلے فاروق ستار نے بھی دیا تھا کہ ہمارا ڈی این اے کرالیں ہم پاکستانی ہیں۔ 


الطاف حسین اور اس کے ساتھی جو اب لندن میں جمع ہیں وہ پاکستان میں موجود ایم کیوایم کی پالیسیوں کو نہ
صرف غلط سمجھتے ہیں بلکہ اب اس کا توڑ کرنے کے لئے میدان میں اتر آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چند ارکان تحریک بچانے کے نام پر وہ اقدامات کررہے ہیں جو تحریک کے مفاد میں نہیں، ایم کیو ایم ایک ہی ہے اور ایک ہی رہے گی، ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ندیم نصرت کا یہ بھی موقف ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز استعفیٰ دے کر دوبارہ الیکشن لڑیں اور متحدہ کے جو ارکان پارلیمنٹ استعفے نہیں دیتے پارٹی کے کارکنان اور ہمدرد ان سے تعلق ختم کردیں۔


الطاف حسین کی سالگرہ کے موقعہ پر کراچی اور حیدرآباد میں بعض مقامات پر الطاف حسین کی حمایت میں وال چاکنگ نظر آئی۔ کراچی میں گزشتہ دنوں ایسے بینرز بھی لگائے گئے تھے جن میں صرف الطاف حسین کو ہی قائد قرار دیا گیا تھا،ان بینرز پر 'جو قائدِ تحریک کا غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے' بھی تحریر تھا، ان بینرز کے دو روز بعد کراچی کی شاہراہوں پر بلند مقامات پر بھی چند بینرز دیکھے گئے جن پر ’جوملک کا غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے‘ تحریر تھا۔


ان تمام فیصلوں کی توثیق متحدہ کے بانی نے کردی ہے۔اور تمام اختیارات ندیم نصرت کو تفویض کردئیے گئے ہیں۔لہٰذاب بظاہر ندیم نصرت بمقابلہ فاروق ستار ہیں۔ فاروق ستار مسلسل یہ کہہ رہپے ہیں کہ ہمارا لندن سے کوئی تعلق نہیں، ہم نے پہلے ہی لندن سے قطع تعلق کررکھا ہے، جو پالیسی اور فیصلے ہم نے 23 اگست کو طے کیے تھے اسی کے مطابق کام کرتے رہے گے۔


ایم کیو ایم کے اندر دھڑے بندی اگرچہ پرانی ہے، جہاں مختلف ادوار میں بغاوت نے سر اٹھایا یا دھڑوں کے درمیان لابنگ اورسیاسی لڑائیوں کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی جسمانی لڑائیاں بھی ہوتی رہی۔


موجودہ صورتحال نے ایم کیو ایم کے حامی ووٹرز کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ فاروق ستار، اظہارالحق اور سید سردار احمد اب جو ایم کیو ایم کی سیاست کرنا چاہ رہے ہیں ان کو پاکستان کے مختلف اداروں، اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔اس کا اظہار خود سندھ اسمبلی کی قرارداد بھی ہے۔ اس حمایت کے بغیر وہ اتنا بڑا اقدام اٹھا بھی نہیں سکتے تھے۔ پاکستان ایم کیو ایم لسانی بنیادوں سے ہٹ کر اورسندھ کی تقسیم کے نعرے سے دستبردار ہوکر سیاست کرکے خود کو الطاف حسین کی حکمت عملی اور اثر سے نکال سکتی ہے۔ 


یہ فرمائش تمام سیاسی جماعتوں اور بعض اداروں کی بھی ہے۔اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اپنے حامیوں میں مقبولیت برقرار رکھ سکتی ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ ایم کیو ایم کی نئی حکمت عملی کے بعد کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نعرے اور لسانی سیاست کے لئے اسپیس موجود ہو جو الطاف حسین کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سوال اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے لئے بھی اہم ہے۔ وہ اس چیلینج کا کیا اور کس طرح حل نکالتی ہیں

روزنامہ نئی بات .... ستمبر

Key words: MQM, ALtaf Hussain, Nadeem Nusrat, Farooq Sattar, Khawaja Izhar, Sindh Assembly, Saleem Shazad, MQM division,

No comments:

Post a Comment