نئے مالیاتی ایوارڈ کی طرف پیشقدمی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی جائزہ کمیٹی کے لاہور میں منعقدہ اجلاس گز میں فیصؒ ہ کیا گیا ہے کہ نیا مالیاتی ایوارڈ دسمبر تک دے دیا جائے گا۔ سندھ ایک عرصے سے نیا ایوارڈ نہ دینے پر شکایت کرتا رہا ہے ۔ لیکن اس اجلاس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا نے ہی نیا ایوارڈ جلد لانے کے لئے آواز اٹھائی۔ خیبر پختونخوا کا یہ موقف تھا کہ مدت مکمل ہونے کے باوجود پرانا ایوارڈ جاری رکھنا افسوسناک ہے جس پر ہمیں تحفظات ہیں۔
پنجاب کی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ پنجاب کی پہلی ترجیح یہاں پر معاشی ترقی کی شرح میں اضافہ کرنا ہے جو کہ 2010 کے مالیاتی ایوارڈ کے بعد بہتر ہوئی ہے۔ لیکن یہ ایوارڈ 2014 تک تھا، اس کے بعد صوبے نئے ایوارڈ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لہٰذا نیا این ایف سی ایوارڈ صوبوں کی ضرورت ہے۔
جولائی سے دسمبر 2015 تک کی مالیاتی کمیشن یاوارڈ پر عمل درآمد کے حوالے سے جائزے کی منظوری دی گئی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی صوبے نے وفاقی محکموں، اور مجموعی وصولیوں سے متعلق اعداد وشمار پر اعتراض نہیں کیا۔ ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق 2015 کے دوران وصولیوں کا حجم 1448.79 ارب روپے تھا جبکہ قابل تقسیم محاصل 1415.17 ارب روپے تھا جس میں سے پنجاب کو 51.74 فیصد، سندھ کو 24.55فی صد، خیبر پختونخوا کو 14.62 جبکہ بلوچستان کو 9.09 فیصد دیا گیا۔ اس کے علاوہ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے خیبر پختونخوا کو 14.2 ارب روپے اور بلوچستان کو 5.47 فیصد اضافی فنڈز مہیا کئے گئے۔ پنجاب سمیت تمام صوبوں نے 2010 میں بلوچستان کو اپنے حصے سے ایک فیصد دیا تھا جو کہ اب واپس لیا جارہا ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ کراچی میں وفاق کے فیصلے کے تحت گزشتہ ڈھائی سال سے دہشتگردی کے خلاف آپریشن چل رہا ہے۔ لیکن لیکن اس ضمن میں سندھ کو کوئی اضافی رقم میا نہیں کی گئی۔ جبکہ آپریشن شروع کرت وقت وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ اس آپریشن کے اخراجات کی نصف رقم وفاق ادا کرے گا۔ اس کے بعد گاہے بگاہے سندھ حکومت وفاق کو وعدے کے مطابق نصف اخراجات ادا کرنے کی یادہانی کراتی رہی بلکہ مطالبہ بھی کرتی رہی۔ لیکن وفاق نے مالی حوالے سے سندھ کو کوئی اضافی رقم مہیا نہیں کی۔ اور نہ ہی وزیر اعلیٰ سندھ جو کہ سید قائم علی شاہ کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے، انہوں نے منگل کے روز منعقدہ لاہور کے اس اجلاس میں سندھ کا یہ مطالبہ اور وفاق کا وعدہ اجلاس میں رکھا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ قومالیاتی ایوارڈ کے تحت جو فنڈز منظور ہیں ان میں سے کم رقومات نہیں ملتی بلکہ وصولیاں کم ہوتی ہیں اس کے مطابق حصہ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون میں فنڈز کی منتقلی کا معاملہ باقی ہے۔ اس کا حساب کتاب اکتوبر میں کیا جائے گا۔ لیکن انہوں نے سندھ کی ان بقایاجات کے اعدادوشمار بتانے سے گریز کیا۔ پنجاب کی وزیر خزانہ ڈکٹر عائشہ پاشا نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ رقومات کی منتقلیوں کے حوالے سے کسی کے اعتراضات سامنے نہیں آئے۔
نئے مالیاتی ایوارڈ کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ صوبوں پر مشتمل پانچ ورکنگ گروپس تشکیل دئے گئے ہیں۔ انہیں سندھ کی ٹیکسیشن اسٹرکچر، خیبر پختونخوا کے اخراجات اور پنجاب کی وصولیوں کا تخمینہ لگانے کاکام دیا گیا ہے۔ سبسڈی کا شعبہ وفاق کے پاس ہے جبکہ صوبے اپنا کام مکمل کر چکے ہیں۔
نئے ایوارڈ کے لئے صوبائی خزانہ سیکریٹریوں کا اجلاس 5 ستمبر کو لاہور میں ہوگا جس میں دسمبر تک مالی وسائل کی از سرنو تقسیم ک پر مفاہمت کی بات چیت کی جائے گی۔ ب نئے ایوارڈ کی جب تیاری کی جارہی ہے اس وقت بعض اہم نکات سامنے رکھنا از حد ضروری ہیں۔
۱)
ملکی وسائل کی تقسیم پر چھوٹے صوبوں کو ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ انہیں آئین میں مقرر کئے گئے حصے کے مطابق نہیں ملتا۔
۲)
ایک شکایت یہ بھی ہے کہ ملک میں گزشتہ اٹھارہ سال سے مردم شماری نہیں ہو سکی ہے۔ چونکہ وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہو رہی ہے جس سے پتہ چلے کہ کس صوبے کا کتنا حصہ ہے؟
۳)
سندھ اور بلوچستان اس امر پر گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل زور دیتے رہے ہیں کہ مالیاتی وسائل کی تقسیم صرف آبادی کی بنیاد پر نہ ہو، بلکہ ہر صوبے سے وصول ہونے والے محاصل اور وہاں پیدا ہونے والے وسائل ک اس کے ساتھ ساتھ صوبے کی پسماندگی کی صورتحال کو بھی بنیاد بنایا جائے۔
۴)
قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس بھی وقت پر نہیں ہوتے۔ جو کہ مالی وسائل کی تقسیم کے مسلسل جائزے کے لئے ضروری ہیں۔
۵)
صوبوں کو وفاق سے فنڈز کے اجراء میں تاخیر کی بھی شکایات ہیں۔ ان تحفظات کی وجہ سے صوبوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔
31 دسمبر تک کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ نیاا یوارڈ کیسا ہوگا اس کے لئے اگرچہ پانچ ورکنگ گروپ تشکیل دئے گئے ہیں۔ لیکن اس کا اشارہ پنجاب کی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ پاشا کی صحافیوں سے بات چیت سے بھی ملتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وسائل کی تقسیم ( قومی مالیاتی ایوارڈ) ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ پنجاب کی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے یہ موقف اختیار کیا کہ مالیاتی ایوارڈ ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔
’’ ضرورت‘‘ ایک مبہم اصطلاح ہے۔ ہر صوبے کی اپنے طور پر ضروریات ہوتی ہیں اور وہ ان کی ترجیحات اپنے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کا تعین کیسے ہوگا کہ ایک صوبے کی ایک ضرورت دوسرے صوبے سے بڑھ کر کیسے ہوگی۔ خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب ملک کے چاروں صوبوں میں ترقی کی سطح اور رفتار مختلف ہے۔
اگر ان کی مراد مختلف صوبوں کی ضروریات کا آ پس میں موازنہ ہے تو اس صورت میں بلوچستان اور سندھ کو اولیت حاصل ہو جائے گی۔ ظاہر ہے کہ ان کی مراد یہ نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اس کے ساتھ انہوں یہ بھی کہا ہے کہ ’’پنجاب دس کروڑ آبادی کا صوبہ ہے اس لحاظ سے یہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ ساٹھ فیصد نواجوانوں پر مشتمل ہے۔‘‘ یعنی وہ ضروریات کو آبادی سے منسلک کرنا چہا رہی ہیں اور وسائل کی تقسیم کو پرانے فارمولاآبادی کی بنیاد پر پر لیکر جانا چاہ رہی ہیں۔ جس پر دیگر صوبوں کو شدید تحفظات رہے ہیں۔
ان کی یہ بات درست ہے کہ صوبوں سے ہونے والی وصولیوں کا حصہ وفاق کو جاتا ہے جبکہ خدمات کی تمام تر ذمہ داری صوبوں پر ہے۔ یعنی وہ وفاق کے مقابلے می مجموعی طور پر صوبوں کا حصہ بڑھانے کی بات کر رہی ہیں۔ اس پر یقیننا باقی صوبے بھی متفق ہو سکتے ہیں۔
سندھ تیل اور گیس جو توانائی کے نہایت ہی اہم عنصر ہیں ان کا ستر فیصد حصہ پیدا کرتا ہے۔ یہی صورتحال بلوچستان کی ہے جہاں گیس کے ذخئر کے علاوہ تانبے اور دیگر قیمتی دھات اور معدینات موجود ہیں جن کے ذریعے قومی آمدنی یہ صوبہ اپنا بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ صوبے اور وہاں کے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ وسائل ان کی زمین سے نکل رہے ہیں لیکن ان وسائل میں سے ان کے حصے میں کچھ نہیں آتا۔ ایسے میں مزید احساس محرومی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ پسمانگی میں تو اافہ کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیاسی بے چینی کو بھی جنم دیتی ہے۔
نئے مالیاتی ایوارڈ کی تیاری کے موقعہ پر سندھ کے لوگ یقیننا یہ بھی چاہیں گے کہ سندھ خواہ وفاقی حکومت اور دیگتر صوبے ان حقئق کو بھی تسلیم کریں گے تو خاطر میں لائیں گے کہ سندھ صرف ملک کے دیگر صوبوں کے لاکھوں افراد کا ہی نہیں بلکہلاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن کا بھی بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ یوں کروڑوں افراد کے روزگار سے لیکر بنیادی ضروریات اور سہولیات کے حوالے سے اس صوبے پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔ اس حوالے سے بھی سندھ کو اضافی رقومات دینا ضروری ہوجاتا ہے۔
نیا مالیاتی ایوارڈ دینے کے لئے صوبوں کی مشاورت بہت ضروری ہے۔ اس لئے صوبوں کے تحفظات دور کرتے ہوئے، منصفانی مالیاتی تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ تاکہ ملک کے تمام علاقوں کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہو سکیں۔
یکم ستمبر 2016
روزنامہ نئی بات
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی جائزہ کمیٹی کے لاہور میں منعقدہ اجلاس گز میں فیصؒ ہ کیا گیا ہے کہ نیا مالیاتی ایوارڈ دسمبر تک دے دیا جائے گا۔ سندھ ایک عرصے سے نیا ایوارڈ نہ دینے پر شکایت کرتا رہا ہے ۔ لیکن اس اجلاس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا نے ہی نیا ایوارڈ جلد لانے کے لئے آواز اٹھائی۔ خیبر پختونخوا کا یہ موقف تھا کہ مدت مکمل ہونے کے باوجود پرانا ایوارڈ جاری رکھنا افسوسناک ہے جس پر ہمیں تحفظات ہیں۔
پنجاب کی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ پنجاب کی پہلی ترجیح یہاں پر معاشی ترقی کی شرح میں اضافہ کرنا ہے جو کہ 2010 کے مالیاتی ایوارڈ کے بعد بہتر ہوئی ہے۔ لیکن یہ ایوارڈ 2014 تک تھا، اس کے بعد صوبے نئے ایوارڈ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لہٰذا نیا این ایف سی ایوارڈ صوبوں کی ضرورت ہے۔
جولائی سے دسمبر 2015 تک کی مالیاتی کمیشن یاوارڈ پر عمل درآمد کے حوالے سے جائزے کی منظوری دی گئی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی صوبے نے وفاقی محکموں، اور مجموعی وصولیوں سے متعلق اعداد وشمار پر اعتراض نہیں کیا۔ ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق 2015 کے دوران وصولیوں کا حجم 1448.79 ارب روپے تھا جبکہ قابل تقسیم محاصل 1415.17 ارب روپے تھا جس میں سے پنجاب کو 51.74 فیصد، سندھ کو 24.55فی صد، خیبر پختونخوا کو 14.62 جبکہ بلوچستان کو 9.09 فیصد دیا گیا۔ اس کے علاوہ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے خیبر پختونخوا کو 14.2 ارب روپے اور بلوچستان کو 5.47 فیصد اضافی فنڈز مہیا کئے گئے۔ پنجاب سمیت تمام صوبوں نے 2010 میں بلوچستان کو اپنے حصے سے ایک فیصد دیا تھا جو کہ اب واپس لیا جارہا ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ کراچی میں وفاق کے فیصلے کے تحت گزشتہ ڈھائی سال سے دہشتگردی کے خلاف آپریشن چل رہا ہے۔ لیکن لیکن اس ضمن میں سندھ کو کوئی اضافی رقم میا نہیں کی گئی۔ جبکہ آپریشن شروع کرت وقت وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ اس آپریشن کے اخراجات کی نصف رقم وفاق ادا کرے گا۔ اس کے بعد گاہے بگاہے سندھ حکومت وفاق کو وعدے کے مطابق نصف اخراجات ادا کرنے کی یادہانی کراتی رہی بلکہ مطالبہ بھی کرتی رہی۔ لیکن وفاق نے مالی حوالے سے سندھ کو کوئی اضافی رقم مہیا نہیں کی۔ اور نہ ہی وزیر اعلیٰ سندھ جو کہ سید قائم علی شاہ کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے، انہوں نے منگل کے روز منعقدہ لاہور کے اس اجلاس میں سندھ کا یہ مطالبہ اور وفاق کا وعدہ اجلاس میں رکھا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ قومالیاتی ایوارڈ کے تحت جو فنڈز منظور ہیں ان میں سے کم رقومات نہیں ملتی بلکہ وصولیاں کم ہوتی ہیں اس کے مطابق حصہ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون میں فنڈز کی منتقلی کا معاملہ باقی ہے۔ اس کا حساب کتاب اکتوبر میں کیا جائے گا۔ لیکن انہوں نے سندھ کی ان بقایاجات کے اعدادوشمار بتانے سے گریز کیا۔ پنجاب کی وزیر خزانہ ڈکٹر عائشہ پاشا نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ رقومات کی منتقلیوں کے حوالے سے کسی کے اعتراضات سامنے نہیں آئے۔
نئے مالیاتی ایوارڈ کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ صوبوں پر مشتمل پانچ ورکنگ گروپس تشکیل دئے گئے ہیں۔ انہیں سندھ کی ٹیکسیشن اسٹرکچر، خیبر پختونخوا کے اخراجات اور پنجاب کی وصولیوں کا تخمینہ لگانے کاکام دیا گیا ہے۔ سبسڈی کا شعبہ وفاق کے پاس ہے جبکہ صوبے اپنا کام مکمل کر چکے ہیں۔
نئے ایوارڈ کے لئے صوبائی خزانہ سیکریٹریوں کا اجلاس 5 ستمبر کو لاہور میں ہوگا جس میں دسمبر تک مالی وسائل کی از سرنو تقسیم ک پر مفاہمت کی بات چیت کی جائے گی۔ ب نئے ایوارڈ کی جب تیاری کی جارہی ہے اس وقت بعض اہم نکات سامنے رکھنا از حد ضروری ہیں۔
۱)
ملکی وسائل کی تقسیم پر چھوٹے صوبوں کو ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ انہیں آئین میں مقرر کئے گئے حصے کے مطابق نہیں ملتا۔
۲)
ایک شکایت یہ بھی ہے کہ ملک میں گزشتہ اٹھارہ سال سے مردم شماری نہیں ہو سکی ہے۔ چونکہ وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہو رہی ہے جس سے پتہ چلے کہ کس صوبے کا کتنا حصہ ہے؟
۳)
سندھ اور بلوچستان اس امر پر گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل زور دیتے رہے ہیں کہ مالیاتی وسائل کی تقسیم صرف آبادی کی بنیاد پر نہ ہو، بلکہ ہر صوبے سے وصول ہونے والے محاصل اور وہاں پیدا ہونے والے وسائل ک اس کے ساتھ ساتھ صوبے کی پسماندگی کی صورتحال کو بھی بنیاد بنایا جائے۔
۴)
قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس بھی وقت پر نہیں ہوتے۔ جو کہ مالی وسائل کی تقسیم کے مسلسل جائزے کے لئے ضروری ہیں۔
۵)
صوبوں کو وفاق سے فنڈز کے اجراء میں تاخیر کی بھی شکایات ہیں۔ ان تحفظات کی وجہ سے صوبوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔
31 دسمبر تک کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ نیاا یوارڈ کیسا ہوگا اس کے لئے اگرچہ پانچ ورکنگ گروپ تشکیل دئے گئے ہیں۔ لیکن اس کا اشارہ پنجاب کی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ پاشا کی صحافیوں سے بات چیت سے بھی ملتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وسائل کی تقسیم ( قومی مالیاتی ایوارڈ) ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ پنجاب کی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے یہ موقف اختیار کیا کہ مالیاتی ایوارڈ ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔
’’ ضرورت‘‘ ایک مبہم اصطلاح ہے۔ ہر صوبے کی اپنے طور پر ضروریات ہوتی ہیں اور وہ ان کی ترجیحات اپنے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کا تعین کیسے ہوگا کہ ایک صوبے کی ایک ضرورت دوسرے صوبے سے بڑھ کر کیسے ہوگی۔ خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب ملک کے چاروں صوبوں میں ترقی کی سطح اور رفتار مختلف ہے۔
اگر ان کی مراد مختلف صوبوں کی ضروریات کا آ پس میں موازنہ ہے تو اس صورت میں بلوچستان اور سندھ کو اولیت حاصل ہو جائے گی۔ ظاہر ہے کہ ان کی مراد یہ نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اس کے ساتھ انہوں یہ بھی کہا ہے کہ ’’پنجاب دس کروڑ آبادی کا صوبہ ہے اس لحاظ سے یہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ ساٹھ فیصد نواجوانوں پر مشتمل ہے۔‘‘ یعنی وہ ضروریات کو آبادی سے منسلک کرنا چہا رہی ہیں اور وسائل کی تقسیم کو پرانے فارمولاآبادی کی بنیاد پر پر لیکر جانا چاہ رہی ہیں۔ جس پر دیگر صوبوں کو شدید تحفظات رہے ہیں۔
ان کی یہ بات درست ہے کہ صوبوں سے ہونے والی وصولیوں کا حصہ وفاق کو جاتا ہے جبکہ خدمات کی تمام تر ذمہ داری صوبوں پر ہے۔ یعنی وہ وفاق کے مقابلے می مجموعی طور پر صوبوں کا حصہ بڑھانے کی بات کر رہی ہیں۔ اس پر یقیننا باقی صوبے بھی متفق ہو سکتے ہیں۔
سندھ تیل اور گیس جو توانائی کے نہایت ہی اہم عنصر ہیں ان کا ستر فیصد حصہ پیدا کرتا ہے۔ یہی صورتحال بلوچستان کی ہے جہاں گیس کے ذخئر کے علاوہ تانبے اور دیگر قیمتی دھات اور معدینات موجود ہیں جن کے ذریعے قومی آمدنی یہ صوبہ اپنا بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ صوبے اور وہاں کے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ وسائل ان کی زمین سے نکل رہے ہیں لیکن ان وسائل میں سے ان کے حصے میں کچھ نہیں آتا۔ ایسے میں مزید احساس محرومی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ پسمانگی میں تو اافہ کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیاسی بے چینی کو بھی جنم دیتی ہے۔
نئے مالیاتی ایوارڈ کی تیاری کے موقعہ پر سندھ کے لوگ یقیننا یہ بھی چاہیں گے کہ سندھ خواہ وفاقی حکومت اور دیگتر صوبے ان حقئق کو بھی تسلیم کریں گے تو خاطر میں لائیں گے کہ سندھ صرف ملک کے دیگر صوبوں کے لاکھوں افراد کا ہی نہیں بلکہلاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن کا بھی بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ یوں کروڑوں افراد کے روزگار سے لیکر بنیادی ضروریات اور سہولیات کے حوالے سے اس صوبے پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔ اس حوالے سے بھی سندھ کو اضافی رقومات دینا ضروری ہوجاتا ہے۔
نیا مالیاتی ایوارڈ دینے کے لئے صوبوں کی مشاورت بہت ضروری ہے۔ اس لئے صوبوں کے تحفظات دور کرتے ہوئے، منصفانی مالیاتی تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ تاکہ ملک کے تمام علاقوں کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہو سکیں۔
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/02-09-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx
روزنامہ نئی بات




No comments:
Post a Comment