کوٹا سسٹم کی تسلی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
گزشتہ دنوں ڈی جی رینجرز نے سندھ میں کوٹا سسٹم کو میرٹ دشمن قرار دیتے ہوئے اس کو ختم کرنے کوبا قاعدہ طور پرتجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے یہ تجویز صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جس کی صدارت نئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کی ۔ ابتدائی طور پر کوٹا سسٹم دس سال کے لئے لاگو کیا گیا تھا لیکن بعد میں اس میں ہر حکومت اضافہ کرتی رہی۔ بعد میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وضاحت کی کہ کوٹہ سسٹم ختم نہیں کیا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ کا ماننا تھا کوٹہ سسٹم سیاسی معاملہ ہے اس کو سیاسی طور پر ہی حل کیا جائے گا۔ لیکن ایپکس کمیٹی میں اس تجویز کے آنے کے ایک بار پھر ایک متنازع معاملہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے سندھ میں بسنے والی دو بڑی کمیونیز کے درمیان بحث شروع ہو گئی ہے۔ سب سے بڑی دلیل یہ دی جارہی ہے کہ کوٹہ سسٹم سے نااہلیت، امتیاز اور تقسیم میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ صوبے کے حالیہ سیاسی تناظر میں متحدہ اور مہاجروں کو تسلی دینے کے لئے اس طرح کا خیال پیش کیا گیا ہے۔
کوٹا کا مطلب ہے کہ سرکاری ملازمتوں یا بعض تعلیمی اداروں میں اقلیتوں یا پچھڑے ہوئے طبقات کو ترقی میں مدد دینا ہے تاکہ وہ ترقی یافتہ طبقات کے برابر کھڑے ہو سکیں۔ اس بنیاد پرپاکستان میں وفاقی ملازمتوں میں بھی کی جاتی ہے جس میں سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونٹوا، فاٹا اور یہاں تک کہ کشمیر کے لئے بھی آبادی کی بنیاد پر کوٹہ مقرر ہوتا ہے۔ سندھ میں یہ تقسیم مزید شہری اور دیہی بنیادوں پر تقسیم ہو جاتی ہے۔
اس کوٹہ سسٹم کی وجہ سے دیہی علاقوں کی آبادی کو بھی موقعہ ملتا ہے کہ وہ اچھے تعلیمی اداروں میں داخلوں، اسکالرشپوں یا ملازمتوں میں اپنا حصہ لے سکیں۔ یہ ہم سب جانتے ہیں کہ شہروں میں دیہی علاقوں کے مقابلے میں سہولیات اور معیار زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں کے نوجوان دیہی علاقوں سے ہی مقابلہ کرتے ہیں اور شہری علاقوں کے شہری علاقوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن جو کہ شفاف ادارے کے طور پر پہچانی جاتی ہے وہ بھی سی ایس ایس میں بیوروکریسی کے کا انتخاب کوٹہ سسٹم کے تحت ہی کرتی ہے۔
خواتین کو معاشرے کا پسماندہ طبقہ شمار کیا جاتا ہے ان کے لئے نہ صرف ملازمتوں میں بلکہ منتخب ایوانوں میں بھی نشستیں مخصوص ہیں۔ یعنی ان کے لئے بھی کوٹہ سسٹم موجود ہے۔
کوٹہ سسٹم ملازمتوں یا اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئے کسی خاص سماجی گروپ کو تحفظ دینے کا نام ہے۔ وہ اس لئے کہ ماضی میں اس گروہ کے ساتھ سیاسی، انتظامی یا کسی اور وجہ سے ناانصافی ہوئی ہے جس کو درست کرنے کے لئے ترجیحی سلوک کیا جارہا ہے۔ اس ترجیحی سلوک یا عمل کو کسی طور پر بھی امتیازی سلوک کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے کیونکہ کوئی گروہ تاریخ کے کسی مرحلے میں کسی وجہ سے اگر پسماندہ رہ گیا ہے تو یہ ریاست اور قانون کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس گروہ کو آگے لے آنے کے لئے خصوصی اقدامات کرے۔
سندھ کے بڑے شہروں میں جو تعلیمی یا دیگر تعلیم و تربیت کی سہولیات موجود ہین کیا یہ سہولیات سندھ کے دیہی علاقوں میں موجود ہیں۔ کراچی اور حیدرآباد کے اونچے درجے کے اسکولوں میں جو تعلیمی معیار ہے کیا وہ کسی گاؤں میں موجود ہے۔ آپ کس طرح سے بیکن ہاؤس یا سٹی اسکول کے بچے کا مقابلہ نگرپارکر، چھاچھرو کے بچے کے ساتھ کر سکتے ہیں۔
کوٹہ سسٹم کے بارے میں ایک غلط تاثر یہ بھی پھیلایا گیا ہے کہ اس سے صرف سندھی بولنے والوں کو فائدہ ہے۔ جبکہ اندروں سندھ کے چھوٹے شہروں میں جو جہ ڈومیسائل کے حوالے سے دیہی کوٹہ میں آتے ہیں ان کو یا پھر پنجابی سیٹلرز جو دیہی علاقوں میں رہتے ہیں ان کو بھی اتنا ہی فائدہ ہے۔ یہاں اس امر کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ صوبے میں جو بھی میونسپل علاقے ہیں وہ شہری علاقے کہلاتے ہیں، وہاں کے نوجوانوں کے ساتھ کوٹہ سسٹم کے حوالے سے وہی سلوک کیا جاتا ہے جو کہ حیدرآباد یا کراچی کے نوجوان کے ساتھ۔ حالانکہ اندرون سندھ کے شہروں میں اکثر آبادی سندھی بولنے والوں کی ہے۔
پڑوسی ملک انڈیا میں بھی کوٹہ سسٹم موجود ہے۔ سرکاری ملازمتوں اور کالیجوں میں تقریبا پچاس فیصد نشستیں ان لوگوں کے لئے مخصوص ہوتی ہیں جن کا تعلق پسماندہ علاقوں یا قابئل سے ہوتا ہے۔ یہ انسانی حقوق اور سب کو برار کے حقوق دینے کے زمرے میں آتا ہے۔
کوٹہ سسٹم اگرچہ گورنر سندھ جنرل رخمان گل نے ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد مارشل لاء کے زمانے میں رائج کیا تھا لیکن اس کو 1973 کے آئین میں باقاعدہ آئینی شکل دے دی گئی۔ وہ آئین جس کو متفقہ آئین کہا جاتا ہے۔
یہ درست ہے کہ ابتدائی طور پر دس سال کی مدت مقرر کی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب تک ہمارے دیہی علاقے معاشی، تعلیمی اور دیگر سہولیات کے حوالے سے شہری علاقوں کے برابر آسکے ہیں؟
کوٹہ سسٹم کی تاریخ پرانی ہے۔ مختلف ممالک میں خواہ وہ ترقی یافتہ زمرے میں کیوں نہ آتے ہوں، پسماندہ کمیونٹیز کو تحفظ دینے کے لئے کسی نہ کسی شکل میں کوٹہ سسٹم موجود ہے۔ برصغیر میں پہلی مربتہ 1901 میں مہارشٹرا ریاست میں پسماندہ جاتیوں کے لئے کوٹہ سسٹم رائج کیا گیا تھا۔ انڈیا میں 1954 میں مرکزی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ پسماندی جاتیوں اور قبائل کے لئے 20 فیصد نشستیں پسماندہ جاتیوں یا قبائل کے لئے مخصوص کی جائیں۔ بعد میں سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ مخصوص نشستوں کی تعداد کسی طور پر 50 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ حکومت کسی بھی خاص علاقہ یاآبادی کو ترقی کی سطح پر لانے کے لئے خصوصی قوانین بنا سکتی ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل برآمدات کے حوالے سے یورپی ممالک سے کوٹہ حاصؒ کرتا ہے اور اس کا فائدہ بھی اٹھاتا ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ رینجرز جو سندھ میں جرائم کے خاتمے کے مینڈیٹ کے ساتھ آئی تھی وہ کوٹہ سسٹم جیسے حساس معاملات کو بھی دیکھنے لگی ہے۔ جیسے یہ معاملہ نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہو۔ اگر آج رینجرز اس سیاسی معالے کو اٹھارہی ہے اور اپنے خاص انداز سے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے ایسے میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کسی بھی وقت کالاباغ ڈیم کے لئے بھی رینجرز یا کوئی اور عسکری ادارہ اعلان کر سکتا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی معاملہ ہے اس کو سیاسی طور پر ہی حل ہونا چاہئے۔ یعنی جب تک صوبوں میں اتفاق رائے نہ ہو تب تک اس کی تعمیر نہ کی جائے۔
اس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ پاکستان اور خاص کر صوبہ سندھ ایک کثیرانواع صوبہ ہے۔
جس کی ز مینی حقائق دوسرے صوبوں سے مختلف ہیں۔ ان زمینی حقائق کو مانے بغیرسیاسی معاملات کے حوالے سے اگر کوئی اقدام انتظامی طور پر اٹھایا جاتا ہے تو وہ صوبے کی ہم آہنگی کو مزید خراب کرنے کا باعث بنے گا۔

No comments:
Post a Comment