Thursday, September 1, 2016

بیٹوں کی حکمرانی اور سندھ میں کارکنوں کی گھٹتی ہوئی اہمیت


بیٹوں کی حکمرانی اور سندھ میں کارکنوں کی گھٹتی ہوئی اہمیت  
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
Aug-30-2016
پاکستان میں خاندانی سیاست نئی بات نہیں۔ آج بھی قومی خواہ صوبائی اسمبلیوں میں موجود اکثریت جدی پشتی ایوان اقتدار میں رہی ہے۔ یہ سیاسی مظہر ویسے تو ایشیا کے بعض دیگر ممالک میں بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن وہاں صرف ایک دو خاندان کا قصہ ہوتا ہے۔ اگر پاکستان پر نظر ڈالی جائے تو بلدیاتی اداروں سے لیکر قومی اسمبلی اور سنیٹ تک مخصوص خاندان چھائے ہوئے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ملک میں کبھی کبھار انتخابات بھی ہوتے رہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہوری عمل میں وقفے وقفے سے مداخلت ہوتی رہی۔ اور نیا سیاسی نظام اور نئی سیاسی مساواتیں قائم ہوتی رہیں۔ نتیجے میں سیاسی نظام اور جمہوریت نچلے طبقے اور عام آدمی تک نہیں پہنچ سکا۔ 

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نوجوان اور باصلاحیت لگتے ہیں ۔لیکن ان کو اسمبلی کی نشست اور وزارت اعلیٰ کا عہدہ اس وجہ سے دیا گیا ہے کہ وہ سابق وزیراعلیٰ عبداللہ شاہ مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ مراد علی شاہ کا سیاسی سفر صرف تنا ہے کہ انہوں نے 2002 میں سیاست شروع کی اور 2016 میں وہ وزارت اعلیٰ کے عہدے پر پہنچ گئے۔ نہ کبھی سیاسی جلسہ جلوس کیا اور نہ ہی کوئی دوسری عوامی سطح کی سرگرمی۔ جبکہ سندھ میں کئی رہنما ایسے موجود ہیں جنہوں نے پیپلزپارٹی کے ساتھ اپنی عمریں گزار دیں۔ نہ ان کی وفاداری پر شک کیا جاسکتا ہے اور نہ ان کی صلاحیتوں پر۔

پیپلزپارٹی میں اعلیٰ سطح پر یہ مظہر پہلے ہی موجود تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے بعد انہوں نے پارٹی کی کمان سنبھالی۔ مرتضیٰ بھٹو جب تک زندہ تھے ان کا محترمہ کے ساتھ سیاسی وراثت پر جھگڑا چلتا رہا۔ جس کو میر مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ میڈم برقرار کھے ہوئے ہے۔ سیاست کوئی جاگیر نہیں کہ وراثت میں ملے۔ یہ رتبہ تو عوام سے ہی ملتا ہے، اور اس کے لئے عوام سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اور ایک مکمل سیاسی پروگرام اور منشور دینا پڑتا ہے۔ 

مخدوم خاندان، جتوئی خاندان، ٹھٹہ کے شیرازی، گھوٹکی اور شکارپور کے مہر، اور آغا، پہلے سے ہی موجود تھے۔ لیکن وہ لوگ صرف اپنی اسمبلی کی نشستیں ہی اپنی دوسری نسل کو منتقل کر پاتے تھے۔ حالیہ سندھ کابینہ، بلدیاتی انتخابات اور پارٹی عہدیدران کی نامزدگی نے اس پر مہر ثبت کردی ہے۔ 

سیاست میں وراثت بنیادی طور پر جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ اس میں سیاسی یا اجتماعی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات حاوی ہو جاتے ہیں۔ اور ایسی جماعتوں کی سیاست ذاتی مفادات کے گرد ہی گھومتی ہے۔ یہ ایک ایسا مکینزم ہے جس میں عوام اورکارکن مائنس ہو جاتے ہیں۔ ان کی عدم موجودگی صرف اہم عہدوں اور اسمبلی اراکین میں ہی باقی نہیں رہتی بلکہ سیاسی ایجنڈا اور جن مقاصد کے لئے جدوجہد کی جارہی ہے وہاں سے بھی غائب ہو جاتی ہے۔ پچاس، ساٹھ اور ستر کے عشرے میں کسان، مزدور اور طلباء کا نعرہ مقبول تھا۔ آج کیس بھی سیاسی جماعت یا سیاسی گروپ کے پاس ان طبقات کی کوئی اہمیت نہیں۔ نہ ان کے حقوق کی بات کی جاتی ہے اور نہ ہی ان کے ھلے کے قوانین اور اسکیمیں بنائی جاتی ہیں۔ 

اگرچہ بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی قیادت سنبھالتے وقت ، یہ معاملہ کم از کم تین مرتبہ ہوا ہے۔ انہوں نے کارکنوں کو آگے لے آنے کا وعدہ کیا تھا۔ پارٹی کو از سرنو منظم کرنے کی بات کی تھی۔ کارکنوں کی شکایات دور کرنے کی بات کی تھی۔ لیکن ان کا یہ عزم، عمل اور حقیقت میں تبدیل نہیں ہو سکا۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں کارکن عوام اور پارٹی کے درمیان کی اہم کڑی ہوتا ہے۔ جس کے بغیر نہ پارٹی عوام تک رسائی کر سکتی ہے اور نہ عوام پارٹی تک۔ کارکن ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں، اچھے اور سچے کارکنوں کے ذریعے ہی پارٹی خود کو ہر جگہ موجود سمجھتی ہے۔ یہ کارکن جگہ جگہ پر پارٹی قیادت اور اس کی پالیسیوں کی تشریح، وضاحت، اور دفاع کرتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے پارٹی اور قیادت کی امیج بلڈنگ ہوتی ہے۔ اگر اس پل یا کڑی کو ہٹا دیا جائے تو سیاسی جماعتی اور عوام کے درمیان رابطہ ممکن نہیں۔

بیٹوں کو اختیار و اقتدار میں متعارف کرانے کا معاملہ بلدیاتی انتخابات میں بھی جاری رہا۔ جہاں کارکنان اسی طرح سے نظر انداز کئے گئے۔ صوبے کے مختلف اضلاع اور تحصیلوں میں جن لوگوں کو بلدیاتی اداروں کے سربراہ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے وہ کسی ایم این اے یا ایم پی اے کے بیٹے یا بھتیجے ہیں۔ اس کے بعد پارٹی کے عہدیداران کے انتخاب کا مرحلہ تھا۔ یہاں بھی اس بات کو یقنینی بنایا گیا کہ اسمبلی اراکین کے خاندان سے باہر عہدے نہ جائیں۔ ا س صورتحال میں پارٹی میں نئے آنے والوں ، عام لوگوں یا نوجوانوں کے لئے راستے مسدود ہوتے جارہے ہیں۔ ایک مخصوص گروہ پارٹی میں ہر سطح پر حاوی ہوتا جارہا ہے۔ اگر بعض مقامات پر لوکل سطح پر وڈیروں کے اختلافات وغیرہ ہیں ، وہاں ان مخالف گرپوں کو کسی نہ کسی سطح پر اکموڈیٹ کر کے عام آدمی کا راستہ بند کیا جارہا ہے۔ 

سندھ میں بڑے پیمانے پر متوسط طبقہ پیدا ہوا ہے۔ وہ نہ صرف معاشی طور پر بلکہ سیاسی اور سماجی طور پر اپنے لئے جگہ چاہتا ہے۔ لیکن اس کو بطور طبقے کے جگہ نہیں مل رہی۔ فردا فردا کسی بااثر شخصیت کے ذریعے بڑی مشکل سے اپنے لئے جگہ حاصل کر پاتا ہے۔یوں وقتی طور پر اپنے بعض ذاتی مفادات تو حاصل کر پا رہا ہے۔ لیکن اجتماعی طور پر نہ وہ سیاسی کردار ادا کر پا رہا ہے اور نہ ہی سماجی رتبہ۔ 

جس طرح سے ایک زمانے میں سندھ میں سیاسی کارکن یا کسی شاعر ادیب کو معاشرے کے تمام حصے بمع حکمران جماعت اور وڈیروں اور اراکین اسمبلی کے عزت و احترام سے لیتے تھے اس طرح سے اب انہیں نہیں لیا جارہا ہے۔ مجموعی طور پر سندھ میں سیاسی کارکن کا کردار بہت کم ہو گیا ہے اس کی جگہ ایک مرتبہ پھر وڈیرے اور بااثر شخصیات نے لے لی ہے۔ 
عبداللہ شاہ کے بیٹے سندھ میں حکمرانی کر رہے ہیں اور پارٹی میں بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ
2018 کی انتخابی مہم نواز لیگ کی جانب سے مریم نواز اور پیپلزپارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری چالئیں گے۔ لیکن 2023 کے انتخابات میں مریم نواز اور بلاول بھٹو زرادری کے درمیان براہ راست مقابل ہوگا۔ 


http://akhbaar.pk/akhbari_column.php?view=view_column&akhbaari_column_id=340 

http://www.bathak.com/column/column-sohail-saangi-aug-30-2016-86024

No comments:

Post a Comment