Thursday, September 22, 2016

عمران خان کے لئے جگہ کہاں سے لائیں؟



عمران خان کے لئے جگہ کہاں سے لائیں؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی



اگرچہ عمران خان نے کی تاریخ میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے ۔اب احتجاج 24 ستمبر کے بجائے 30 ستمبر کو ہوگا۔لیکن احتجاج کا مقام رائیونڈ ہی رہے گا۔ یہ عمران خان کی سولو فلائیٹ ہے کیونکہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے۔ 



علامہ قادری عمران خان کے سیاسی کزن بنے تھے انہوں نے رائیونڈ کے احتجاج سے خود کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ایسا کر کے پیپلزپارٹی کے موقف کی حمایت کی ہے وزیراعظم میاں نواز شریف کی رائیونڈ میں واقع رہائش گاہ جاتی امراٗ کا گھیراؤ نہ کیا جائے۔ علامہ کا کہنا ہے کہ ہم اپنے دشمن کے گھروں پر حملہ کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ تحریک انصاف نے پہلے وزیراعظم کے رائیونڈ میں واقع گھر پر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ عمران خان نے ہم خیال سیاسی جماعتوں کی خواہش پر جاتی امراؤ پر دھرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ لیکن انہیں باقی پارٹیوں سے مثبت جواب نہیں ملا۔نواز لیگ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے دھرنے کی ناکامی کے بعدعمران خان ذاتیات پر اترآئے ہیں۔ 



تعجب کی بات ہے کہ لندن میں برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ 10 داؤننگ اسٹریٹ کے سامنے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہاں مظاہرے پرامن ہوتے ہیں کوئی تشدد کا پہلو اس میں شامل نہیں ہوتا۔ اگر اس طرح کی رویات یہاں بھی قائم کی گئی ہوتی تو ہمارے ہاں پر اس طرح کے اظہار سے شاید ہی کوئی منع کرتا۔ 



وزیراعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ کے اجلاس کی وجہ سے ملک سے باہر ہیں اور رائیونڈ شو وہ وزیراعظم کی موجودگی میں ہی کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اب عمران خان نے اپنے احتجاج کی نئی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔ تاریخ میں تبدیلی اس وجہ سے بھی کرنی پڑی کہ تحریک انصاف نے آخری وقت تک کوشش کی کہ دوسری اپوزیشن جماعتیں احتجاج میں ان کا ساتھ دیں۔ 



عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے درمیان اس امر پر اختلافات ہیں کہ علامہ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ کو اولیت دینا چاہتے ہیں اور قصاص تھریک چلانا چاہتے ہیں جبکہ عمران خان پانامالیکس کے حوالے سے تحریک چلانا چاہتی ہے۔ اس سے قبل دونوں جماعتوں نے 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف اسلام آباد میں دھرنے دیئے تھے۔ 



رائیونڈ شو کے لئے عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ سب سے بڑا شو ہوگا۔ لیکن اس سے قبل پنجاب کے سیاسی ماحول میں گرما گرمی پیدا ہوگئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کہیں کوئی پر تشدد واقعہ نہ رونما ہو جائے۔ تحریک انصاف کے مجوزہ جلسے کے پیش نظر میاں نواز شریف کے حامیوں نے جانثاران نواز شریف کے نام سے فورس بنائی ہے تاکہ تحریک انصاف کے کارکنوں کو جسمانی طور پرجاتی امراؤ میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔پولیس بھلے انہیں آنے کی اجازت دے لیکن ہم انہیں نہیں آنے دیں گے۔ اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے۔ تاہم حکمران جماعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے ایسی کوئی لائن نہیں ہے۔ 



اس ڈندا بردار گروپ نے گزشتہ روز لاہور اور گجرانوالہ میں مظاہرے بھی کئے۔ بعض ایسے جانثاروں کے بیانات بھی شایع ہوئے ہیں کہ عمران خان رائیونڈ آنے کا خیال ذہن سے ہی نکال دیں۔ بلکہ ایک نے اس حد تک کہا کہ جاتی امراؤ کی طرف بڑھنے والوں کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ شاید اسی کے جواب میں عمران خان نے اتوار کے روز کارکنوں کے کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رائیونڈ کسی کے باپ کی ملکیت نہیں۔ اگر خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا ہے تو خطرناک صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ عمران خان کہتے ہیں کہ اگر کچھ ہوا تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب براہ راست اس کے ذمہ دار ہونگے۔ 



عمران خان نے رواں ماہ کے شروع میں رائیونڈ میں دھرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے مخالفت اور تحفظات کے اظہار کے بعد انہیں دھرنے کے بجائے جلسہ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں اپوزیشن جماعتوں سے مثبت رد عمل نہیں مل سکا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر خورشید شاہ نے کہا تھا کہ کسی رہنما کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج یا دھرنے کے وہ مخالف ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانا ان کاحق ہے۔ 



رواں سال جب پاناما لیکس کا معاملہ آیات و پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک پیج پر تھیں۔ اور دونوں نے متعدد باراس امر کا اظہار کیا کہ وہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔ تب اگر یہ دونوں جماعتیں سڑکوں پر نکل آتی تو معاملہ تازہ تازہ تھا، اور حکمران جماعت کو خصی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا۔ لیکن پیپلزپارٹی معاملے کو لپیٹ کر قومی اسمبلی کے اندر لے آئی اور عملی طور پر اس نے تحریک انصاف کو سڑکوں پر آنے روک دیا۔



یہ امر باعث حیرت ہے کہ اس پوری اقتدار کی جنگ میں باقی صوبے حساب میں ہی نہیں ہیں۔ لڑائی صرف پنجاب تک محدود کیوں ہے؟ اس کو ملک کے دوسرے حصوں تک کیوں نہیں پھیلایا جا رہا؟ نواز شریف اور عمران خان دونوں سندھ یا بلوچستان کسی غیر ملکی مہمان کی طرح کرتے ہیں۔ 



ملک میں پائی جانے والی صورتحال بتاتی ہے کہ انتخابی حوالے سے نواز شریف آج بھی اس پوزیشن میں ہیں جس میں وہ پانچ سال پہلے تھے۔ 2017 نواز شریف کے لئے کارکردگی کے حوالے سے آخری ہوگا۔ اور اسی سال میں انتخابات کا بخار چڑھنا شروع ہو جائے گا۔ 2013 میں نواز شریف کے ہاتھوں سے انتخابات نکل رہے تھے تھے۔ پیپلزپارٹی کمزور ہو چکی تھی۔ عمران خان غیر منظم تھے۔ پانچ سال بعد بھی یہی صورتحال ہے فرق یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے بقول ایک تجزیہ نگار کے خود سوزی کر لی ہے۔ پنجاب میں اس کی بحالی نہیں ہو سکی۔ اس نے پانامالیکس کے حوالے سے نواز لیگ کی ضمانت کرادی ہے۔ جو موجود نظام کے حامی ہیں وہ نواز لیگ کے ساتھ ہیں، کیونکہ نواز لیگ صوبے خواہ وفاق میں حکمران جماعت ہے۔ جو مخالفین ہیں وہ عمران خان کے ساتھ ہیں۔ سندھ میں حکمرانی کو بہتر نہ بنا سکی، کشمیر کے انتخابات ہار گئی۔ 



نواز شریف کے لئے آئندہ انتخابات تک دو اہم مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ آرمی چیف کی نامزدگی۔ جو کہ نومبر میں چارج لیں گے۔ نواز شریف اس پالیسی پر چل رہے ہیں کہ عسکری حلقوں کوخارجہ پالیسی یا سیکیورٹی کی چوائس میں اتنا دو جتنا وہ چاہتے ہیں۔ تاکہ وہ خوش ہو کر بیٹھ جائیں۔ وہ نئے آرمی چیف کے لئے بھی یہی رویہ رکھیں گے۔ ایسا کرنا نواز شریف کے لئے 2018 کے انتخابات میں بھی سہولت پیدا کردے گا۔ ایسے میں نیا آنے والا کوئی اور قدم اٹھانے کے بجائے انتظار کرے گا کہّ ئندہ انتخابات میں کون جیت کر آتا ہے۔ .



مسئلہ یہ بھی ہے کہ نواز شریف نے خود کو خطے کی صورتحال سے خود کو منسلک کر دیا ہے۔ خاص طور پر چین سے بڑھتی ہوئی قربت، اور مغرب سے جوڑنے رکھنا۔ ایسے میں عمران خان کے لئے بہت ہی کم آپشن نکلتا ہے کہ وہ 2013 کے انتخابات میں وزیراعظم نہیں بن سکے، لیکن 2018 کے انتخابات میں اپنے لئے جگہ نکال پائیں۔ حالات سے لگتا ہے کہ عملی اور منطقی طور پر کپتان خان کے لئے 2018 میں بھی موقعہ ملنے کی کم امید ہے۔ 

کیا عمران خان اکیلے نواز شریف کی حکومت کا کے لئے مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں؟ یا کوئی بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں؟ موجودہ صورتحال میں یہ ممکن نظر نہیں آتا۔ 

No comments:

Post a Comment