دہشت زدہ کراچی اور لسانی سیاست
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
کراچی کی جب بھی تعریف پڑہنے کو ملے گی تو وہ تین طرح کی ہیں،: ’’ روشنیوں کا شہر‘‘، ’’ عروس البلاد‘‘ اور’’ غریب پرور شہر‘‘۔ لیکن اگر اس کا سماجی اور نفسیاتی جائزہ لیا جائے تو یہ ان لوگوں یا نسلوں کا بھی شہر ہے جو المیہ، دہشت اور احساس محرومی لیے اس شہر میں آباد ہوئے ہیں۔
اس شہر میں ہر کمیونٹی کا فرد خود کو مظلوم اور باقی کو ظالم سمجھتا ہے۔ ہر ایک کو شکایات ہیں۔ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ اس کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ زمینی حقائق بھی یہی بتاتے ہیں کہ اربانائزیشن کا فائدہ صرف اونچے طبقے کو ملا ہے باقی طبقوں کے حصے میں بچی کھچی سہولیات آئی ہیں۔
جس تیزی کے ساتھ ملک کے اکثر علاقوں میں محنت مزدوری اور روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں ہر ایک کی نگاہ اس شہر پر ہے جس کی وجہ سے شہر کی آبادی بڑھ رہی ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ تین سال میں یہ دنیا کا ساتویں بڑے شہر کے طور پر ابھرے گا۔
بندرگاہ ، محل وقوع اور اپنی مخصوص آب و ہوا کی وجہ سے یہ شہر برطانوی دور سے ہی معاشی حب کے طور پر ابھر رہا تھا۔
شہر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کی تقریبا 93 فیصدآبادی گزشتہ ساٹھ سال کے دوران مختلف ادوار میں ہجرت کر کے آئی ہے۔ ایک ہجرت وہ ہے جو ان لوگوں پر مسلط کردی گئی تھی۔ جیسے برصغیر کا بٹوارا، جنوبی وزیر ستان، سوات اور فاٹا میں آپریشن اس کے علاوہ قدرتی آفات ہیں۔ دوسری ہجرت وہ ہے جس کو معاشی ہجرت کہا جاتا ہے یعنی روزگار یا کاروبار کے لئے آکر بسنا۔ کراچی نے ان دونوں قسم کی ہجرتوں کو بھگتا ہے لیکن اس میں اکثریت متاثرین کی ہے جو صدمے درد و تکلیف کے ساتھ یہاں پہنچے ہیں۔
قیام پاکستان کے وقت کراچی کی کل آبادی ساڑھے چار لاکھ تھی اور اس میں مقامی سندھی آبادی 61 فی صد تھی۔ اس میں سے ہندو تاجر اور مڈل کلاس آبادی انڈیا چلی گئی اور اس کے بدلے میں اس شہر کو ایک ہی جھٹکے میں چھ لاکھ افراد کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ اگرچہ نہرو لیاقت علی خان معاہدے کے تحت 1951 میں سرکاری سطح پر یہ سلسلہ رک گیا گیا، لیکن غیر سرکاری اور غیر قانونی طریقے سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا۔
کراچی میں آبادی کی دوسری یلغار ون یونٹ بننے کے بعد ہوئی۔ جب صوبہ سندھ کو مغربی پاکستان کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس دور میں پنجاب، خیبر پختونخوا اور کشمیر سے بندرگاہ اور بڑھتے ہوئے شہر کی وجہ سے آکر لوگ یہاں بڑے پیمانے پر بسنے شروع ہوئے۔ اس کا پنجاب کو ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ بے زمین کسان کی طرف سے زرعی اصلاحات کے لئے دباؤ کم کرنے میں مدد ملی۔ ایوب ان کے صنعت کاری کے دور میں اس میں مزید اضافہ ہوا۔
ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد سندھی آبادی نے ایک بار پھر واپس کراچی آنا شروع کیا لیکن ان کی تعداد انہتائی کم تھی جن میں سے زیادہ تر سیاست دان اور اسمبلی ممبران تھے جبکہ دوسری تعداد سرکاری ملازمین کی تھی۔
بنگلہ دیش بننے کے بعد مشرقی پاکستان سے محصورین پاکستان کے نام پر بہاریوں کو لاکھوں کی تعداد میں پاکستان لیا گیا لیکن کچھ ہی عرصے میں ان کا رخ کراچی کی طرف تھا، ان بہاریوں کی آمد کا سلسلہ بھی ایک بڑے عرصے تک جاری رہا جو بنگلادیش حکومت کی طرف سے قائم کیمپوں میں رہائش پزیر ہیں اور مخلتف مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔
جنرل ضیا الحق کے دور میں پاکستان جب افغانستان میں پراکسی جنگ لڑ رہا تھا تو لاکھوں کی تعداد میں افغان پناہ گزین موجودہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان سے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے لیکن بعد میں آہستہ آہستہ کراچی تک پہنچ گئے جن کی تعداد اب لاکھوں میں ہے، یہاں ان کی دوسری نسل بڑھ کر جوان ہو چکی ہے۔
برما میں ارکانی مسلمانوں اور مقامی آبادی میں کشیدگی کے بعد برمی مسلمان بھی بنگلادیش سے ہوتے ہوئے انڈیا اور رجستھان سے ہوکر سندھ کی حدود میں داخل ہوئے اور ان کی منزل بھی کراچی ہی ٹہری ۔ موجودہ وقت ان کی مچھر کالونی، ریڑھی اور ارکان آباد میں آبادیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔
2005 میں کشمیر، خیبر پختونخو اور فاٹا میں زلزلہ کے متاثرین کو بھی کراچی نے اپنی گود میں جگہ دی۔ اس طرح سے وزیرستان، سوات اور فاٹا کے دیگر علاقوں میں جب آپریشن شروع ہوا تو وہاں کے متاثرین نے بھی کراچی کا رخ کیا باوجود اس کے کہ سندھ کی قومپرست جماعتوں نے اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا لیکن اس کا کوئی زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
سندھ میں 2010 اور اس کے بعد 2011 کے سیلاب متاثرین بھی ہزاروں کی تعداد میں کراچی پہنچے جو یہاں کیمپوں میں کئی ماہ پڑے رہے بعد میں اکثریت تو واپس چلی گئی لیکن چند سو نے وہاں جاکر زمیندار کی حکمرانی قبول کرنے کے بجائے یہاں محنت مزدوری کو ترجیح دی۔
موجودہ وقت سرائیکی بیلٹ میں معاشی ابتری کی وجہ سے چھوٹے موٹے کام کرنے کے لئے سرائیکی لوگو یہاں کا رخ کر رہے ہیں، مرد رکشاء ، ٹیکسی چلاکر یا کسی حجام کی دکان پر کام کرتے ہیں جبکہ خواتین گھروں میں صفائی کا کام کر رہی ہیں۔
کراچی میں آبادی کا تناسب زبان اور علاقے سے حوالے سے بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ اس ڈیموگرافک تبدیلی کو ایم کیو ایم مختلف طریقوں سے روکے ہوئے تھی اور اس کی مزاحمت کرتی رہی کیونکہ کراچی اب صرف اردو بولنے والوں کا شہر نہیں رہا تھا بلکہ اب اس میں دیگر قومیتیں
بھی شامل ہوچکی ہیں، جو اپنا سیاسی، سماجی، اور انتظامی حصہ لینے کی بات کر رہی تھیں اور اسی بنیاد پر شہر میں سیاست نے ایک نئی شکل اختیار کیا۔
ایم کیو ایم کی سیاست اور عسکریت کے مقابلے کے لیے ایک زمانے میں ملک غلام سرور اعوان نے پنجابی پختون اتحاد قائم کیا، گزشتہ چند برسوں سے پٹھانوں نے مزاحمت شروع کی ، 2008 کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی پٹھانوں کی نمائندہ تنظیم طور پر ابھری۔ اسی طرح لیاری میں امن کمیٹی سامنے آئی جس کی بھی مسلح جھڑپیں ہوئیں۔
کراچی میں لسانی تقسیم اس حد پہنچ گئی کہ پیپلزپارٹی اسمبلی میں اکثریت رکھنے کے باوجود مجبور ہو گئی کہ صوبائی حکومت میں پٹھانوں کو حصہ دے۔ لیکن بعد میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس میں اے این پی کی جگہ پر عمران خان کی تحریک انصاف آگئی۔
حالیہ بلدیاتی انتخابات کا اگر لسانی حوالے سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کراچی میں لسانی صورتحال اور اس کی طاقت کی کیا صو رتحال ہے۔ ایم کیو ایم پہلے نمبر پر ہے جبکہ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر۔ کئی برسوں کے بعد پہلی مرتبہ پنجابی ووٹر نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ نتیجے میں نواز لیگ تیسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری۔
اس مرتبہ پٹھان ووٹ جو پہلے متحد ہو کر کبھی جے یو آئی کو تو کبھی اے این پی کو کامیاب کراتا تھا۔ اس مرتبہ چار سے زائد ٹکڑیوں میں بٹ گیا۔ اس بٹوارہ پی ٹی آئی، اے این پی، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے درمیان مقابلہ ہوا۔
کراچی میں بنیادی یا شہری سہولیات کی شدید کمی نے احساس محرومی کو اور بڑھا دیا ہے۔ 1988 کے بعد مسلسل کسی نہ کسی شکل میں اقتدار میں رہنے والی جماعت ایم کیو ایم نے شہر ی نمائندگی کا دعویٰ تو کیا لیکن پورے شہر کے بجائے صرف اپنے حلقہ انتخاب تک شہری سہولیات کو محدود رکھا۔ صورتحال یہ ہے کہ کراچی واٹر بورڈ کی شہر کے صرف پچاس فیصد علاقے میں لائنیں ہیں۔ بالفاظ دیگرے ایک کروڑ کراچی کی آبادی کو واٹر بورڈ پانی مہیا نہیں کر رہا۔ کئی بستیوں میں پانی کی باقاعدہ دکانیں ہیں۔ جہاں پر ٹینکر مافیا ہی پانی مہیا کرتی ہے۔ دلچسپ امر ہے کہ ٹینکر مافیا کراچی واٹر بورڈ سے پندرہ روپے فی گیلن پانی خرید کرتی ہے اور شہریوں کو پانچ روپے کلو کے حساب سے پانی دیتی ہے۔
ڈیموگرافی کی اس بڑی تبدیلی کو ایم کیو ایم دل سے تسلیم نہیں کرتی۔ اس وجہ سے وہ علاقے جو ایم کیو ایم کا حلقہ انتخاب نہیں وہاں پر تعلیم، صحت، پینے کے پانی، سیوریج وغیرہ کی بھی سہولت موجود نہیں۔ اگرچہ ان بستیوں میں سرکاری اسکول، ہسپتالیں موجود ہیں لیکن وہاں پر مقرر عملے کا تعلق اس آبادی سے نہیں لہٰذا یہاں نہ اسکول چلتا ہے اور نہ ہسپتال۔ یوں مدرسوں یا پرائیویٹ اسکولوں کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ ایم کیو ایم کا زور توڑنے کی کوشش کرتی ہے لیکن مہاجر سیاست کو واپس اسی بیانیہ اور نعرے میں ہی رکھ رہی ہے۔ آفاق احمد ایم کیو ایم حقیقی بناتے ہیں تو وہ بھی مہاجر کاز کی بات کرتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال اگر پاک سرزمین پارٹی بناتے ہیں تو ان کا بھی
بیانیہ وہی ہے۔ سندھ یا پاکستان کا بیانیہ یا نعرہ تو چھوڑیئے یہ لوگ کراچی یا اس کے تمام باسیوں کے بجائے صرف مہاجر کا ہی نعرہ لگاتے ہیں۔
سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایپکس کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں غیر مقامی تارکین کو رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں دیگر صوبوں کے لوگ بھی شامل ہیں، میشر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کا دعویٰ ہے کہ آئین میں ایسی پابندی نہیں ہے اور دنیا کے دیگر ممالک میں ریاستیں دیگر ریاست سے آنے والے لوگوں کو روکتی رہی ہے۔
یہاں یہ بات بھی باعث دلچسپ ہے کہ این ایف سی اور پانی کی تقسیم میں بھی سندھ حکومت کا موقف رہا ہے کہ دیگر صوبوں اپنے حصے میں سے کراچی کو پانی اور مالی امداد دیں کیونکہ ان صوبوں کی ایک بڑی تعداد یہاں رہتی ہے لیکن کوئی مسئلے حل کتنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس شہر میں ہر کوئی اپنے سیاسی مفادات تو حاصل کرتی ہے لیکن پے بیک نہیں کرتا۔
روزنامہ نئی بات
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/06-09-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg


No comments:
Post a Comment