Thursday, October 12, 2017

آوازیں، آہٹیں اور بھول بھلیاں


آوازیں، آہٹیں اور بھول بھلیاں 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سینیٹ نے قرارداد منظور کی ہے کہ جو شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں وہ پارٹی کا عہدہ رکھنے کا بھی اہل نہیں ہو سکتا۔ سینیٹ اجلاس میں یہ قرارداد پیپلزپارٹی کے سنیٹ میں قائد اعتزاز احسن کی جانب سے قرارداد پیش کی گئی، جواب میں قائد ایوان نواز لیگ کے رہنما راجا ظفرالحق کا کہنا تھا کہ کسی شخص کے پارٹی سربراہ بننے سے متعلق بل اسی ایوان سے منظور ہوچکا ہے، اب اسی قانون کے خلاف قرارداد لانا مناسب نہیں۔ 

حکمران جماعت نواز لیگ نے پچھلے دنوں اچانک سنیٹ سے یہ بل منظور کرالیا تھا کہ نااہل قرار دیئے جانے والا شخص بھی پارٹی کا عہدیدار ہو سکتا۔ ہے۔ بعد میں یہ بل قومی اسمبلی نے بھی پاس کیا۔ صدر ممنون حسین نے دستخط کر دیئے۔ جب یہ بل قانون بن چکا تو نواز لیگ نے پارٹی کے کونسل اجلاس میں نواز شریف کو دوبارہ پارٹی کا صدر منتخب کر لیا۔ سنیٹ نے یہ قرارداد منظور کر کے گزشتہ دنوں اس موضوع پرایوان بالا سے منظور کئے گئے بل کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

نواز لیگ نے سیاسی جماعتوں کے قانون میں ترمیم اس امر کے بعد کرائی جب عسکری حلقوں سے یہ بات میڈیا میں عام کی گئی کہ عسکری قوتیں آئین کی پاسداری چاہتی ہیں اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرتی ہیں۔ یعنی گیم ایک فریم ورک میں رہتے ہوئی کھیلی جارہی ہے۔ لیکن اس ترمیم نے صورتحال کو ایک بار پھر تبدیل کردیا۔ جو حلقے خاص طور پر عمران خان اور انکے سیاست کے حامی اس بات پر خوش تھے کہ اب نواز شریف اور ان کا خاندان حکومت، پارٹی اور سیاست سے باہر ہے ان کو ایک نئی ت تشویشمیں ڈال دیا۔ 

بات جب واپس ایک فریم ورک میں آنے لگی تو صرف نواز شریف ہی نہیں، بلکہ پیپلزپارٹی کی بھی ہمت بندھی۔ کیونکہ فریم ورک اور سسٹم میں یہ دو ہی جماعتیں حیثیت رکھتی ہیں۔ آصف علی زرداری کی خیبر پختونخوا میں اور بلاول بھٹو کی سندھ میں سرگرمیاں اس سلسلے کی کڑی کے طور پر لی جارہی ہیں۔ 

 فریم ورک میں آنے کے بعد متعلقہ اداروں اور خاص طور پر پارلیمنٹ کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اب سیاست کا دائرہ سڑکوں سے واپس منتخب ایوان میں آگیا ہے جہاں پیپلزپارٹی نے آگے بڑھ کر یہ قرارداد منظور رکرالی۔یہ ضررور ہے کہ عدلیہ کا رول ابھی تک اپنی جگہ پر ہے جہاں نواز شریف اور ان کے خاندان، اسحاق ڈار ، عمران خان، جہانگیر ترین اور دیگر کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں۔ کچھ آوازیں اور بھی آرہی ہیں۔ بعض لوگوں کو کچھ ا آہٹیں بھی محسوس ہو رہی ہیں۔ ان آوازوں کا لب و لباب یہ ہے کہ ایک بار پھر معاملہ فریم ورک سے باہر نکلے۔ اس مقصد کے لئے اندرونی و بیرونی خطرات کے ذکر کے ساتھ ساتھ اب ملکی معیشت کا بھی حوالہ سامنے آیا ہے جس پر آرمی چیف جنرل قمر جاید باجوہ نے کراچی میں تاجروں اور صنعتکاروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ 

ماضی میں جب کوئی آرمی چیف یا جنرل تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتا ہے تو اس کو سیاسی حکومت کے اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ تجربہ اور دلیل اپنی جگہ پر، اس میں ایک مثبت پہلو تلاش کیا جاسکتا ہے کہ ہماری عسکری قیادت معاشی حالات سے آگاہ ہے۔

 ان آوازوں اور دیگر مظہرات کی منطق ، محرکات اور اسباب پر نظر دالنے کی ضرورت ہے۔ اٹھارہ سال پہلے 12 اکتوبر کو نواز لیگ کی منتخب حکومت کو برطرف کیا گیا تھا۔ اسی طرح سے چالیس سال پہلے پیپلزپارٹی کی حکومت کو برطرف کر کے مارشل لاء نافذ کیا گیا تھا۔دراصل یہ ایک قومی المیہ تھا۔یہ سیاسی جماعتوں کے سیاسی ویژن کی ناکامی تھی یا خود غرضی کہ وہ آئینی نظام سے انحراف کو ان پارٹیوں نے وقت کی حکمران پارٹی پر حملہ سمجھا کہ اس کو اقتدار چھینا گیا ہے۔ 

سیاسی جماعتیں یہ سمجھنے میں ناکام رہیں کہ مارشل لاءکی وجہ سے وہ بساط ہی لپیٹی جارہی ہے جس پر سیاست ہوتی تھی جو حقیقی معنوں میں ان کی بقا کا میدان تھا۔ 

پیپلزپارٹی پارلیمنٹ کے ذریعے اپنی جگہ تلاش کر رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی نئے انتخابات کا مطالبہ رکدیا ہے۔ جس پر مختلف حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔علم سیاسیات کی روءسے کسی بھی وقت انتخابات کا مطالبہ کرا ہر جماعت کا حق ہے، چاہے وہ کتنا منطقی ہو لامنطقی۔ اس کے مضمرات کیا نکلتے ہوں۔ اس بات کا تعین ہر جماعت کی سیاسی دوراندیشی سے کیا جاسکے گا۔ 

جب یہ مطالبہ کیا جارہا ہے، ہمیں سوچنا چاہئے کہ کیا ہم اس نقطے پر پہنچ گئے ہیں جہاں نئے انتخابات کے آخری واحد آپشن کی طرف جائیں؟ پاکستان میں جمہوری عمل اور پارلیمنٹ ابھی اپنے بلوغت کو نہیں پہنچ پائے ہیں۔ بلکہ ان کا بچپن کا دور چل رہا ہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ کے موثر طور پر کام نہ کرنے، سیاسی جماعتوں کی بلوغیت اور ویژن عدم موجودگی، پارلیمانی نظام حکومت کے لئے گزشتہ برسوں سے ایک مسئلہ رہے ہیں۔ 

ماضی قریب میں ہم گاہے بگاہے اس تجربے سے گزرے ہیں جہاں بحرانوں پر بحران جنم لیتے رہے ہیں۔ حقیقی معنوں میں گاڑی وہیں پھنسی رہی۔ 

اگر تمام تعصبات کو  ایک طرف رکھ کر بات کی جائے تو متذکرہ بالا مسائل 2008 میں بھی تھے، مگر اس سال کے انتخابات ان مسائل کوحل نہ کر سکے۔ مسائل کی صورتحال 2013 کے انتخاب کے موقع پر بھی اسی طرح کی تھی۔انتخابات لیکن مسائل جوں کے توں رہے۔ اب کیا ضمانت ہے کہ قبل از وقت کے انتخابات مسائل حل کریںدیں گے؟ 

نئے انتخابات یا نگراں حکومت کے پیچھے مقاصد کیا ہیں؟ اچھی انتظام کاری کی خواہش یا یہ ڈر کہ مخالف مضبوط ہو جائے گا؟ ہم سجھتے ہیں کہ انتخابات کا مطالبہ کرنے والوں کو پہلے ان مسائل کی طرف جانا چاہئے، اور اس کے بعد اس طرح کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ 

 پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکومت اور آج کی صورتحال کی دو مشہابتیں ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرادیا گیا تو حکمران جماعت نواز لیگ نے نیا وزیراعظم منتخب کرلیا۔ جو کہ اس کا قانونی حق تھا۔ جب پیپلزپارٹی کے یوسف رضا گیلانی کو ہٹایا گیا تھا تب بھی اس ”اصول“ کو تسلیم کیا گیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے جانشین سے بھی طاقتور ریاستی ادارے خوش نہیں تھے۔ لیکن جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے نہیں اترسکی۔ کیونکہ قومی اسمبلی اور منتخب اداروں کو آئینی مدت پوری کرانا لازمی ٹہر گیا تھا۔ آج بھی منتخب اداروں کو برقرار رکھنا ضروری ٹہرا ہوا ہے۔ 

تبدیلی کے بعد دیگر آپشن بھی سیاست کے اسٹاک مارکیٹ میں اتارے گئے ہیں۔ اور غیر ضروری نظریہ ضرورت کو ضروری بنانانے کی خواہش ظاہر کی جارہی ہے جب آئین میں کسی بحران یا مسئلہ کا حل نہ ہو تو انتہائی قدم اٹھانا جائز ہے۔ یہ کوئی عوامی یا جمہوری سوچ نہیں۔ اس کے پرشاخے کہیں اور جا ملتے ہیں۔ 

جب ملک میں منتخب پارلیمنٹ موجود ہو، ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا آئین میںحل موجود نہ ہو۔ رہی باتنئے انتخابات کی تو آخری آپشن کے طور پر عوام سے رجوع کرنا یعنی نئے انتخابات کرانا ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں پہلے پارلیمنٹ کو تو آزمائیں۔ 

فوج کا ٹیک اوور کوئی مذاق نہیں۔ حالات کو درست کرنے کے لئے حالات کو درست کرنے کے دعووں اور مشرف کی بڑہکیوں پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔ غیرجاندارانہ تجزیہ ہی ہے کہ انہوں نے منتخب حکومت سے اقتدار چھین کر کچھ بھی اچھا نہیں کیا تھا۔ کسی کو اس ضمن میں کوئی خوش فہمی ہے تو بھلے اس کے فائد و نقصانات کا موازنہ کرے۔ دو منٹ کے لئے ّآئین کی شق 6 کو بھی ایک طرف رکھ لیں۔ لیکن یہ ذہن میں رکھیں کہ آرمی کی جانب سے آئین کی پاسداری کے عہد کو دہرنا قابل تحسین ہے۔ آرمی کو بطور ادارہ لینا چاہئے۔ 

 جب جمہوریت عبوری مراحل سے گزر رہی ہو۔ ایسے میں آرمی کیونکر سویلین کے اختیار اپنے ذمے لے ؟ ، خاص طور پر ایسے میں جب سرحدوں پر خطرات کی بات کی جارہی ہو۔ 
 اگر خداناخواستہ جنگ کی صورت بنتی ہے تو جنگ کو صرف میدان جنگ میں نہیں لڑی جاتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی حکومت کے حاصلات دراصل انحطاط آمدن کے اصول کے تحت ہوتے ہیں۔ یعنی پہلے چند ماہ اچھے اور اس کے بعد ان میں مسلسل کمی واقع ہونا شروع ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی بلوغت سیاسی و جمہوری عمل کے تسلسل سے مشروط ہوتی ہیں اور جمہوری عمل پارلیمانی نظام سے ہی مشروط ہے۔ 

ملک کو درپیش مسائل پہلے سے موجود حل اور فریم ورک کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک ملکی اور عام لوگوں کو درپیش مسائل کا تعلق ہے حکمران کو سمجھنا چاہئے کہ ماضی کی اصلاحات زمینی اصلاحات، معاشی اور انتظامی اصلاحات اس لئے کامیاب نہیں ہو سکے کیونکہ عوام نے اس کی own نہیں کیا۔ اب وہ دور نہیں کہ انقلاب یا تبدیلی کسی انتظامی حکمنامے کے ذریعے ہو۔ اس بات کی اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ملک میںحقیقی انقلاب کے لئے نہ کوئی موثر تنظیم موجود ہو اور نہ ہی کسی پارٹی کے پاس سنجیدہ ایجنڈ ہ ہو۔ 

سرسری طور پریہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس آج جو جمہوریت ہے اس کا بعض معنوں میں دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ طے ہے کہ یہ واحد راستہ ہے جو لوگوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔ باقی سب بھول بھلیاں ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان کا دورہ سندھ اور جتوئی فیملی


وزیراعظم شاہد خاقان کا دورہ سندھ میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی


وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ ہفتے سندھ کا دورہ کیا۔ سرکاری پروگرام کے مطابق انہیں کندھ کوٹ میں گیس پلانٹ کا افتتاح کرنا تھا، لیکن ان کی سندھ آمد کی سیاسی اہمیت اس وقت بڑھ گئی جب انہوں نے وزیر مملکت برائے صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی کی دعوت قبول کی اور ان کے گاؤں نیو جتوئی جاکر ایک جلسے سے خطاب کیا۔ غلام مرتضیٰ جتوئی سابق نگراں وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے بڑے بیٹے اور والد کی بنائی ہوئی نیشنل پیپلزپارٹی کے سربراہ ہیں۔



غلام مصطفیٰ جتوئی سندھ کے بااثر جاگیرداروں میں شمار ہوتے تھے۔ اور ان کی پیپلزپارٹی میں موجودگی کی وجہ سے سندھ کے زمیندار اور جاگیردار پیپلزپارٹی میں اپنی نمائندگی سمجھتے تھے اور اس کے ساتھ جڑے رہتے تھے۔ 

یہ صورتحال ایم آرڈی کی تحریک کے بعد تبدیل ہوگئی۔  جب جتوئی صاحب نے سندھ کے لوگوں کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کی۔انہوں نے نیشنل پیپلزپارٹی کے نام سے الگ پارٹی بنائی۔ لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت نے ان کے توڑ کے طور پر ہالہ کہ مخدوم فیملی کو آگے لے آئی۔ 1988 کے عام انتخابات میں بڑے جتوئی انتخابات ہار گئے۔اس کے بعد انہوں نے پنجاب بیسڈ سیاسی جماعتوں کا سہارا لیا۔ اور آگے چل کر پیپلزپارٹی مخالف اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ بنے۔ یہ صورتحال اب بھی جاری ہے۔


 2008 کے انتخابات کے بعد جتوئی برادران سندھ میں پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت میں وزیر رہے۔ لیکن بعد میں عام انتخابات نزدیک آنے پر ع دوسرے اتحادیوں کی طرح علحدہ ہوگئے۔



انہوں نے 2013 کے انتخابات میں فنکشنل لیگ کی سربراہی میں قائم ہونے والے دس جماعتی اتحاد میں نواز لیگ کا ساتھ دیا تھا۔ بعد میں سندھ کی بعض دیگربااثر شخصیات ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی کی طرح اپنی پارٹی کو نواز لیگ میں ضم کردیا تھا۔ تب نواز لیگ میں شامل ہونے والوں میں ارباب غلام رحیم، ٹھٹہ کے شفقت شاہ شیرازی، کراچی سے پیپلزپارٹی کے سابق رہنما عبدالحکیم بلوچ اور شفیع محمد جاموٹ نام قابل ذکر ہیں۔ جبکہ عرفان گل مگسی، راحیلہ مگسی، اسماعیل راہو، شاہ محمد شاہ پہلے ہی پیپلزپارٹی میں تھے۔ 


پارٹی میں شمولیت کرنے والے نئے اور پرانے رہنماء یہ شکایت کرتے رہے کہ میاں نواز شریف حکومت بنانے کے بعد بدل گئے ہیں۔ اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ پارٹی کے رہنما اسلام آباد میں کئی روز تک قیام کرتے رہے لیکن وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ان کی مالاقات نہپیں ہو سکی۔



سندھ سے تین رہنماؤں فکشنل لیگ کے صدرالدین شاہ، غلام مرتضیٰ جتوئی اور عبدالحکیم بلوچ کو مملکتی وزیر بنایا گیا۔ ان کی حیثیت برائے نام تھی، کیونکہ انہیں کوئی اختیار حاصل نہیں تھا، اس صورتحال سے سبھی نالاں تھے۔ سب سے پہلے ممتاز بھٹو نے نواز لیگ سے علحدگی کا اعلان کیا، اس کے بعد لیاقت جتوئی نے نواز لیگ چھوڑی۔ عبدالحکیم بلوچ وزارت چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں آگئے۔ ابھی حال ہی میں اسماعیل راہو نے بھی پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ 


سندھ میں نواز لیگ کی عدم دلچسپی، اور پیپلزپارٹی کی جارحانہ حکمت عملی کہ سب قابل اتخاب لوگ پارٹی میں ہی سمو لئے جائیں، کی وجہ سے ممتاز بھٹو کو چھوڑ کر باقی سب رہنما بشمول صدرالدین شاہ اور غلام مرتضیٰ جتوئی کے وقتا فوقتا پیپلز پارٹی میں شمولیت کے لئے پر تولتے رہے۔



غلام مرتضیٰ جتوئی 2013 عام انتخابات کے بعد وزیر مملکت برائے صنعت و پیداوار ہوئے۔ اگست 2014 کو انہیں الیکشن ٹربیونل نے اس بنیاد پر نااہل قرار دے کر ڈی سیٹ کردیا کہ 2002 میں انہوں نے گریجوئیشن کی جعلی ڈگری پیش کی تھی۔ سپریم کورٹ نے ان کی اپیل منظور کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قراد یا اور انہیں منتخب قرار دیا۔تو انہیں دوبارہ مملکتی وزیر بنادیا گیا۔

2014 سے ممتاز بھٹو کوشاں ہیں کہ نواز لیگ سے ناراض لوگوں کا اتحاد بنا لیں۔ وہ ایسا کر کے پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں سے بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کی یہ حکمت عملی سندھ کے جاگیرداروں کو صحیح نہیں لگی کہ صوبائی حکومت سے بھی بگاڑیں اور وفاقی حکومت سے بھی۔ 


سندھ کا جاگیردار اس بات کے لئے تو تیار تھا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف اتحاد بنایا جائے، بشرطیکہ اس کو وفاقی حکومت یا کسی وفاقی لابی یا ادارے کی حمایت حاصل ہوں۔ اور اس اتحاد کے ذریعے اقتدار میں اپنے لئے کوئی جگہ تلاش کی جائے۔ ان جاگیرداروں کو ایک دوسرے سے خوف بھی ہے کہ کہیں دوسرا بااثر شخص ایک کی قیمت پر وفاق سے سودے بازی نہ کر لے۔



2015 میں مرتضیٰ جتوئی کے نواز لیگ کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے۔ یہاں تک کہ راجن پور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت میں شامل وزرا ء کو حکمران ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ بڑی بڑی وزارتوں پر فائز وزرا ء کو کوئی اختیارات نہیں۔ شریف فیملی نے تمام تر اختیارات اپنے خاندان میں تقسیم کیے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سردار جہانزیب خان دریشک ، ن لیگ کے رہنما سردار طارق خان دریشک ، مخدوم ندیم شاہ بھی موجود تھے۔



جنوری 2015 میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وفاقی وزیر برائے صنعت وپیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی کے گھر چھاپہ مار کر انکے بیٹے اور 2 محافظوں کو حراست میں لے کر نا معلوم مقام پر منتقل کردیا۔ بعد میں انہیں رہا کردیا گیا۔ لیکن اس چھاپے اور گرفتاریوں کی وجہ تاحال معمہ بنی ہوئی ہے۔


2015 سے لیکر رواں سال کے ماہ جون تک ان کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کی خبریں آتی رہیں ۔ 2017 میں گورنر سندھ محمد زبیر نے ان کے گھر پہنچ گئے اور انہیں منا لیا۔ گزشتہ سال وہ یوٹلٹی اسٹورز کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر پر خفا ہوگئے اور رمضان پیکیج کے بارے میں بریف نہ کرنے پر استعیفیٰ کی دھمکی دی تھی ۔ 2016 میں میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے غلام مرتضیٰ جتوئی نے ملاقات کی۔یوں غلام مرتضیٰ جتوئی اور نواز لیگ کے درمیان روٹھنا اور مانا لینا جاری رہا۔ 


نواز شریف اور بڑے جتوئی ایک دوسرے کے اتحادی بھی تھے اواقتدار کی کرسی کے معاملے میں ر ایک دوسرے کے مدمقابل بھی۔ غلام مرتضیٰ جتوئی خود کو نیشنل پیپلزپارٹی کا سربراہ سمجھتے تھے۔میاں صاحب جنہوں نے بڑے جتوئی کے ساتھ سیاست کی تھی وہ ان مرتضیٰ جتوئی کو چھوٹا سمجھتے تھے۔ اور یہ بھی کہ اب سندھ کا جاگیردار جتوئی فیملی کے ساتھ نہیں۔



پاناما کیس کے کھلنے کے بعد پہلی مرتبہ یہ ضرورت پیش آئی کہ نواز لیگ اپنے اتحادیوں اور پارٹی میں شامل دوسرے صوبوں کے لوگوں کا خیال رکھے۔ نواز شریف نے کبھی بھی سندھ کے پارٹی رہنماؤں کے ساتھ یہ رویہ نہیں رکھا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے نیو جتوئی میں نہ صرف پیپلزپارٹی بلکہ خود نواز لیگ کے حامیوں کے لئے بھی پیغام چھوڑا ہے۔پارٹی کے حوالے سے انہوں نے کہاکچھ لوگوں کا خیال تھا کہ پارٹی ختم ہوگئی مگرمخالفین کومنہ کی کھاناپڑی۔ بہت سے لوگ یہ توقع کرتے تھے کہ ملک میں انتشار ہوگا اور جماعت ٹوٹ جائے گی، لوگ ادھر ادھر ہوجائیں گے۔ 

اس موقع پر گورنر سندھ محمد زبیر ، سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم ، سابق اسپیکر قومی اسمبلی سید ظفر علی شاہ بھی موجود تھے۔تاہم راحیلہ گل اور عرفان گل مگسی، ماروی میمن، شفقت شاہ شیرازی، کراچی کے شفیع محمد جاموٹ موجود نہیں تھے۔ 


وزیراعظم نے پارٹی کے رہنماؤں کو ی اہمیت دینے کی کوشش کی ہے ۔ ورنہ میاں صاحب کی حکمت عملی اور طرز عمل مختلف رہا ہے۔ وزیراعظم نے ضلع نوشہروفیروز میں بجلی وگیس کیلئے ڈیڑھ ارب روپے، سڑکوں کی تعمیر کیلئے ایک ارب روپے کا اعلان کیا۔ انہوں نے پڈعیدن اور محراب پور ریلوے اسٹیشنوں پر مسافر ایکسپریس ٹرینوں کے اسٹاپ بحال کرنے اور ضلع کے غریب لوگوں کیلئے ہیلتھ کارڈاسکیم کا بھی اعلان کیا۔



وزیراعظم نے پیپلزپارٹی پر تنقید بھی کی اور ساتھ دینے کی اپیل بھی کی۔انہوں نے ملک کو درپیش سیاسی بحران کے پیش نظرپیپلزپارٹی کو نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہونے والا میثاق جمہوریت یاد دلایا اور کہا کہ میثاق جمہوریت پرعمل نہ ہونے سے سیاست اورسیاستدان بدنام ہورہے ہیں، پیپلزپارٹی غور کرے، میثاق جمہوریت پر عمل ہوگا، سیاسی فیصلے عدالتوں اور سڑکوں پر نہیں ہوتے پولنگ اسٹیشن پر ہوتے ہیں۔وسائل کرپشن کی نذر ہو جائیں تو ترقی نہیں ہوتی۔

وزیراعظم عباسی نے سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی پر بھی تنقید کی اورکہا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ بجلی سندھ دیتا ہے، 15 سال میں سندھ میں کوئی منصوبہ نہیں لگایا گیا، اگر سندھ حکومت کی بات ہے تو وفاق 18 ویں ترمیم کے بعد وسائل صوبوں کے حوالے کردیتا ہے جو وسائل 2013 میں سندھ کو دیئے گئے جب پیپلزپارٹی حکومت تھی آج اس سے 50 فیصد سے زائد وسائل سندھ اور دیگر صوبوں کو دیئے گئے لیکن افسوس ہوتا ہے جب وہ وسائل کرپشن کی نذر ہوجائیں اور عوام کے مسائل حل نہ کریں تو پھر یہی حکومت کی ناکامی ہوتی ہے۔



یہ دورہ صرف جتوئی برادران کو خوش کرنے تک محدود ہے یا بات آگے بھی بڑھے گی؟ دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور نواز لیگ سندھ پر مزید توجہ دیتے ہیں یا پہلے والی ہی پالیسی پر گامزن رھتے ہیں؟

Sohail Sangi Column: PM Abbasi's Sindh Visit
Daily Nai baat Oct 10, 2017

Friday, October 6, 2017

سویلین بالادستی اور صوبے



سویلین بالادستی اور صوبے 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے قومی ڈائلاگ کے لئے سیاسی جماعتوں کی کانفرنس کی تجویز دی ہے حالیہ بحران سے نکلنے کے لئے اور پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتیں بھی کچھ کرنے جارہی ہیں۔ یہ بحران روزبروز شدید تر اور پیچیدہ ہوتا جارہا ہے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت نے جب نااہل قرار دیا ، تو حکمران جماعت نواز لیگ پارلمنٹ سے رجوع کیااور پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترمیم کرالی، جس کی رو سے عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار پانے والا شخص پارٹی عہدیدار ہوسکتا ہے۔ اس ترمیم کے بعد پارٹی کے کونسل اجلاس نے میاں نواز شریف کو حکمران جماعت کا صدر منتخب کرلیا۔ یہ عہدہ انہوں نے چند ہفتے قبل نااہل قرار دیئے جانے کے بعد خالی کیا تھا۔

اس ترمیم کے بعد نواز شریف نے پارٹی اور حکومت پر اپنی گرفت مظبوط کرلی ہے۔ اب وہ وزیراعظم نہیں ہیں لیکن پارٹی کے سربراہ ہونے کے ناطے نہایت ہی ’’فرمانبردار‘‘ وزراعظم شاہد خاقان عباسی کی موجودگی میں حکومت کے سفید سیاہ کے مالک بن گئے ہیں۔ عملا انہیں اب اتنے اختیارات حاصل ہیں جنتے وزیرعظم کا عہدہ رکھنے کی وجہ سے تھے۔ ترمیم کو عدالت میں چلینج کردیا گیا ہے۔ اب عدالت بھی کچھ اور فیصلے دینے والی ہے۔

یہ درست ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قانون میں یہ ترمیم جنرل مشرف نے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے کی تھی۔ بینظیر بھٹو نے پیپلزپارٹی کے خلاف امکانی ایکشن کے پیش نظر پاکستان پیپلزپارٹی میں ایک ’’ پی‘‘ کا اضافہ کرکے اسکو پارلیمنٹرین بنادیا جس کے چیئرمین مخدوم امین فہیم تھے۔ لیکن عملی طور پر اس کی قیادت محترمہ کے پاس ہی تھی۔ مشرف کی لائی گئی یہ ترمیم دو افراد کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لئے تھی۔ حکمران جماعت نواز لیگ اب یہ ترمیم ختم بھی اسی مقصد کے لئے کی ہے کہ ایک شخص کو فائدہ پہنچے اور شخص نواز شریف ہی ہیں۔

مشرف تو چلے گئے۔ اس کو تقریبا دس سال ہونے کو ہیں۔ اس کے بعد پیپلزپارٹی اور نواز لیگ باری باری دونوں حکومت میں آئیں۔ لیکن دونوں جماعتوں نے مشرف کی ان باقیات کو ختم نہیں کیا۔ نتیجے میں جنرل ضیا کی باقیات کی طرح مشرف کی بھی کئی باقیات ملک کے آئین، قانون اور نظام سے چمٹی ہوئی ہیں۔ جب بھی موقعہ لگتا ہے تو سر اٹھاتی ہیں اور ملک کے سویلین نظام کو ڈس لیتی ہیں۔

سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ جب ملک کو درپیش بحران کو حل نہیں کر سکیں تو یہ معاملہ تیسرے اور چوتھے ادارے کے پاس چلا گیا۔ یہی جوہ ہے کہ آج کل نواز شریف، عمران خان اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، کیس پر کرپشن کا الزم ہے، تو کسی پر منی لانڈرنگ کا تو کسی پر اثاثے چھپانے کا الزام کہ یہ ’’ مال کہاں سے آیا‘‘؟ ان سیاسی مخالفتوں کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔

اصل میں ہماری سیاسی جماعتوں میں جمہوری کلچر کا فقدان ہے۔ نیتجے میں یہ سیاسی جماعتیں عوامی اور حقیقی معنوں میں عوام کی ترجمانی کرنے والی جماعتوں کے بجائے خادانی جاگیر یا خاندانی بادشاہت بن گئی ہیں جو نئی نسل کو بطور ورثہ ملتی ہیں۔ محترمہ کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی آصف علی زرداری کو ورثے میں ملی۔ بعد میں یہ ورثہ بلاول بھٹو زرادری کو منتقل کیا گیا۔

نواز شریف کو جب نااہل قرار دیا گیا تو بطور وزیراعظم اور نواز لیگ کی سربراہی کے لئے پسندیدہ نام میاں صاحب کے چھوٹے بھائی وزیرعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا تھا۔ پارٹی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کرلیا گیا تھا۔ لیکن بعض سیاسی مصلحتوں اور شریف خالدان کے اندر اختلافات کی وجہ سے اس فیصلے پر عمل نہیں ہوا۔ بعد میں میاں صاھب کی صاحبزادی مریم نواز کا نام آیا، جنہوں نے گزشتہ ڈیڑھ دو سال میں سیاسی میدان میں سرگرمی دکھائی ہے۔ نواز شریف کی غیر موجودگی میں مریم نواز نے عملا قائم مقام سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیئے۔ شکر کریں کہ عمران خان کے خاندان میں کوئی ایسا فرد نہیں جو سیاسی وراثت کے لئے آ جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ عمران خان تاحال ایوان اقتدار میں اپنی اور پارٹی کی پکی بیٹھک نہیں بنا پائے ہیں۔

اس پر دو رائے نہیں کہ ملک کے تمام مسائل کا حل جمہوریت میں مضمر ہے۔ جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ ڈالنا یا ووٹ لینا نہیں۔ اگر اس کو آج کی وسیع تر تعریف میں نہ بھی لیا جائے، تو بھی اس کامطلب سویلین اختیارات کی بحالی اور عوام کی زندگی کو آرام دہ اور بہتر بنانا ہے۔ سویلین بالادستی تب ممکن ہے جب پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کی جائے گی۔پارلیمنٹ کی بالادستی کو منتخب نمائندوں خواہ غیر منتخب اداروں کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ اور اس منتخب ایوان میں عوام کے حق میں فیصلے کئے جائیں گے۔ ملک کو درپیش مسائل کے لئے ایوان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

اس سے کام نہیں چلے گا کہ وزیراعظم قومی اسمبلی اور سنیٹ میں عید کے چاند بن جائیں۔ وزراء غائب ہوں۔ سرکاری بنچ کے ممبران کی غیر حاضری کی وجہ سے کورم پورا نہ ہو ۔ اپوزیشن سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اپنا کردار ادا نہ کر پائے۔ اصل ذمہ داری حکمران جماعت کی ہوتی ہے۔ لیکن ویزراعظم اپنی حکمران جماعت اور پارلیمنٹ کو شمار میں نہ لائیں، تو بات دور تک چلی جاتی ہے۔ جب حکمران جماعت خود پارٹی اور پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دے گی تو کوئی اور ادارہ یا فرد ایسا کیوں کریگا؟ اس پر حکمران جماعت کو سوچناچاہئے کہ غلطی کہاں پر ہوئی؟ حکومت کہ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ منتخب ایوانوں اورعوام کو براہ راست ملک کو درپیش ان مسائل سے آگاہ کرے۔، جو ملک کو بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ چار سال سے جاری اس بحران کے بارے میں وزیراعظم اور حکمران جماعت کی جانب سے ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔

پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ایک دوسرے سے لازم ملزوم ہیں۔ یہ بات سب کو سمجھنی چاہء کہ قانون کی بلادستی کے بغیر جمہوریت چل نہیں سکتی، اور کمزور جمہوریت کو بیساکھی کی ضرورت پڑ جائے گی۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اس صورت میں ایک نہیں بلکہ دو ادارے مقننہ اور انتظامیہ جو ریاست کے اراکان سمجھے جاتے ہیں عملا معطل رہے۔ انہوں نے اپنا کام کرنا چھوڑ دیا۔ اس پر سوچنا چاہئے کہ ان دو اہم اداروں کو غیر موثر رکھنے میں آخر حکمران جماعت اور اپوزیشن پارٹیوں کا کتنا کردار ہے؟
جب دو ارکان ریاست کے عضوو معطل ہو جائیں تو ایک خلاء پیدا ہوتا ہے تو کوئی ’’تیسر ا یا چوتھا‘‘ ادارہ بھر لیتا ہے۔ ایسے میں صورتحال کو سطحی طور پر دیکھنے والے اس کو اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا نام دیتے ہیں۔ یہ اداروں کا ٹکراؤ نہیں۔ بلکہ ریاست کے دو ادارے عضو معطل بن گئے اور ایک اسپیس چھوڑا۔ ایسے میں ملک کے ’’ تیسرے اور چوتھے ادارے‘‘ نے یہ اسپیس لے کیا اور ’’ تجاوزات‘‘ کھڑی کردی ۔

سیاسی جماعتیں جتنی مضبوط ہونگی، اپنے اندر اور جوہر میں مضبوط ہونگی، جمہوریت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔ یہ درست ہے کہ آجج یہ نظر آرہا ہے کہ عوام کا فیصلہ ایک طرف اور عدلیہ کا فیصلہ دوسری طرف ہے۔ اس کا اظہار نواز شریف کی برطرفی کے بعد لاہور کے سفر کے وقت یا لاہور کے ضمنی انتخاب میں نظر آیا۔ لیکن جب تک عوام کے اس اظہار کو کوئی فریم ورک یا ڈھانچہ نہیں دیا جاتا اور اس کو ٹھوس شکل میں ان اداروں کے سامنے نہیں کھڑا کیا جاتا تب تک یہ سب وقتی دباؤ یا ہوائی باتیں ہونگی۔

آج کل وفاقی حکومت کی تمام تر توانائیاں سابق وزیراعظم کو سیاسی طور پر بحال کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ یہ کام تو پارٹی کا ہے، حکومت کا نہیں۔ اس مصروفیت کی وجہ سے ملک کے اندر ترقی کے پلان چھوٹے اور بڑے دونوں طرح کی فیصلہ سازی، یہاں تک کہ روز مرہ کا حکومتی کاروبار بھی بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت پر ایمرجنسی نافذ ہے۔ یہ امر حکومت اور حکمران جماعت کے لئے مزید منفی پوائنٹ بنا رہا ہے۔

ملک کے حالیہ بحران نے نواز لیگ کو مشرقی پاکستان اور ماضی میں ملک میں لگنے والے مارشل لا یاد دلا دیئے ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اور پنجاب میں بیس رکھنے والی ان کی جماعت کے رہنما کئی بار یہ حوالہ دے چکے ہیں۔ شکر ہے کہ پنجاب کی سیاسی نمائندگی کرنے والی جماعت کو احساس تو ہوا کہ بنگلا دیش کیوں اور کیسے بنا تھا۔ ورنہ ماضی میں پنجاب کی سیاسی قیادت یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھی۔ ورنہ اس معاملے میں ذوالفقار علی بھٹو بھی اس سوچ کا شکار ہوئے اور انہوں نے بھی اسی سوچ کی نمائندگی کی تھی۔ لیکن صرف یہ بات کہنا یا اقتدار کی رسہ کشی میں وقتی طور اپنا پلڑا بھاری کرنا کافی نہیں ہو گا۔ اس کا عملی اظہار بھی ضروری ہے۔

2013 سے شروع ہونے ولاے اس جھگڑے میں جس نے اب شیدی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے س میں صوبوں سے کبھی بھی نہیں پوچھا گیا۔ نہ نواز شریف ، نہ عمران خان اور نہ ہی مقتدرہ حلقوں نے سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا سے رجوع کیا۔ آّ خر یہ صوبے بھی پاکستان کی حدود میں ہیں، یہاں بھی پاکستان کے ہی عوام بستے ہیں۔ ملک میں جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی بمعنی سویلین بالادستی یہاں کے عوام کا بھی مسئلہ ہیں۔ اگر سیاست اور اقتدار کے بارے میں ہونے والی فیصلہ سازی میں یہاں کے عوام کو بھی باہر رکھا گیا ، اس سے برسرپیکار فریقین کو کوئی سہولت ہو سکتی ہے لیکن لیکن طویل مدت میں اس کے مضر نتائج برآمد ہونگے۔
لہٰذا جمہوری تسلسل، پارلیمنٹ کی اور سویلین بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے متعلق فیصلے صرف اسلام آباد، راولپینڈی ای شاہراہ دستور یا پھر جی ٹی روڈ اور لاہور پر نہیں ہوہنے چاہئیں۔
یہ راستہ آگے بھی جاتا ہے، اور ملتان، سکھر، حیدرآباد، کراچی، کوئتہ بھی یہ سڑک جاتی ہے۔ 
Provinces should also be consulted
Column Sohail Sangi, Nai Baat Oct 6, 2017




Tuesday, October 3, 2017

اب کھیل ایوان عدالت میں ہے





میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 


کہتے ہیں کہ ڈیل ہوئی ہے ۔لیکن معاملات اب عدلیہ میں اٹکا ہوا ہے ۔ جہاں سے معاملات کو نکالنا اتنا آسان نہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے عدلیہ خواہ سیاسی طور پر بھرپور انداز میں اپنا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب وہ بیک وقت مختلف رخوں میں اہم اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ایک طرف اسٹبلشمنٹ کے خلاف براہ راست بات نہیں کر رہے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ جس سے ان کی حکمت عملی میں تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہ ایک فرنٹ پر چوہدری صاحب کام کریں گے۔ آصف علی زرادری سے بھی رابطے شروع کردیئے گئے ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کو ہٹانے کی مہم نے پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو قریب کر دیا ہے۔ میاں صاحب کی سوچ میں ایک اور اہم تبدیلی آئی ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ پارٹی اور پارلیمنٹ کا رول بڑھا دیا ہے۔ 


ڈیل کی باتیں اپنی جگہ پر وزیر دفاع خواجہ ؤصف کا ایشیائی سوسائٹی سے خطاب میں جہادی قوتوں سے متعلق تقریراور پیر کے روز نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقعہ پر وزیرداخلا کا میڈیا سے گفتگو ای بات کا عندیہ ہیں کہ نواز شریف لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔


نواز لیگ سنیٹ سے سیاسی جماعتوں کے قانون میں جنرل مشرف کی یہ ترمیم کو ختم کرنے کا بل پاس کراچکی ہے، اب یہ بل کی قومی اسمبلی کے طلب کردہ اجلاس میں منظوری بعد قانون بن جائے گا۔ نئی ترمیم کے بعد قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار پائے گئے شخص پارٹی کا سربراہ ہو سکتا ہے۔ یعنی نواز شریف اب دوبارہ مسلم لیگ کے سربراہ ہو سکتے ہیں۔ یوں پارٹی اور حکومت پر ان کی گرفت مضبوط رہے گی۔ پارٹی کے صدر کے انتخاب اور پارٹی کے آئین میں ترمیم کے لئے منگل کے روز مسلم لیگ کی جنرل کونسل کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔اپنی صفیں درست کرنے کے لئے بھی یہ اجلاس اہم ہے۔ نواز لیگ نیب کا موجودہ قانون بھی تبدیل کرنا چاہتی ہے ۔ خیال ہے کہ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں یہ ترمیم پیش کی جائے۔ 


مانا کہ نواز لیگ اور پارلیمنٹ کو حق حاصل ہے کہ وہ نیب قانون اور پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترامیم کریں۔ ان قوانین میں ترامیم اچھی تھی تو پہلے کیوں نہیں کی گئی؟ یہ تبدیلیاں کسی ایک شخص یا ذات کے لئے کی جارہی ہیں۔ جو ترامیم کسی ذات کے لئے کی جاتی ہیں وہ ہمیشہ سوالیہ نشان ہی رہتی ہیں۔ 


دوسری جانب نااہلی کو مستقل کرنے کے لئے عدلیہ سے یہ فیصلہ لینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آئین کی عوامی نمائندگی کے لئے اہل یا ناہل قرار دینے والی شق 62 اور 63 کو عوامی نمائندگی کے ایکٹ کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ اگر اس طرح کاعدالتی فیصلے آتا ہے ، نواز شریف انتخابات لڑنے کے اہل نہیں رہیں گے۔ اس کے بعد نااہلی کو ختم کرنے کا عمل انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ 


اسلام آباد کے مقتدرہ حلقوں میں یہ بات گشت کر رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے اب جو صورتحال بنی ہے اس کے بعد آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں نواز شریف نہیں جیت سکیں ۔ نواز لیگ کا ووٹر خواہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، زیادہ تر دائیں بازو کی سوچ رکھتا ہے۔ نواز لیگ کا قلعہ پنجاب ہے۔ جہاں عمران خان کی تحریک اور میڈیا کے پروپیگنڈہ سے کچھ ماحول بنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور مکینزم بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جو لاہور کے حالیہ ضمنی انتخاب میں آزمایا گیا تھا۔ یعنی دائیں بازو کی جماعتوں کو انتخابی میدان میں اتار کر ووٹ تقسیم کردیا جائے گا۔ دو مذہبی جماعتوں کے امیدواران 13,000 ووٹ حاصل کئے۔ اگر ووٹ تقسیم نہیں ہوتے تو یہ ووٹ نواز شریف کو پڑتے۔ سابق جہادیوں پر مشتمل ملی مسلم لیگ اور بریلوی مسلک کے حلقے جو ممتاز قادری کی پھانسی پر نواز لیگ سے ناراض ہیں ، ان کو دو طرفہ دباؤ کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ووٹ بینک پر ہوگا اور پڑوسی ممالک سے قیام امن کی خواہش اور پالیسی پر بھی ہوگا۔


نواز شریف کی نااہلی اور منتخب حکومت پر مسلسل دباؤ نے ملک میں جمہوریت پسند اور ترقی پسند حلقوں کو نواز شریف کی حمایت کرنے پر قائل کردیا تھا۔ یہ وہ پچ (pitch) تھی جس کا فائدہ ہمیشہ پیپلزپارٹی اٹھاتی رہی ہے۔ دائیں بازو کی سوچ اور اس کی جماعتوں کا دباؤ کا نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ نواز لیگ لبرل جماعت کے طور پر ابھرنہیں سکے گی۔ ایسے لبرل حلقے نواز لیگ میں آسکتے تھے اور اس کی حمایت کرسکتے ہیں۔ وہ نواز شریف کے لئے انتخابات خواہ سیاسی حوالے سے اہم ہیں، وہ آگے بڑھ کر ان کی حمایت نہیں کر سکیں گے۔ 


اس مفروضے کو مان لیتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ عمران خان ساتھ نواز شریف کا ووٹ بنک توڑ لیں، ووٹرز کی تقسیم والی مکینزم سے تحریک انصاف کو فائدہ پہنچے تاکہ نواز لیگ پنجاب اور مرکز میں حکومت نہ بنا سکے ۔ میدان میں صرف دو کھلاڑی نہیں۔ عدلیہ، پارلیمنٹ اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی ہیں۔
عام نظر میں یہ امر حیرت انگیز ہے کہ وزیراعظم بننے کا خواب دیکھنے والے اب اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لئے کوشاں ہیں۔تحریک انصاف موجودہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ پیپلزپارٹی سے چھیننا چاہتی ہے۔ لیکن اس کو حکمت عملی کا حصہ سمجھنا چاہئے۔ اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی خود کو نواز لیگ کے اصل حریف کے طور پر دکھا نا چاہتی ہے ۔ اس کے نیتجے مین وہ عناصر جو سیاسی آسمان صاف دیکھ کر اپنی اڑان کرنا چاہتے ہیں وہ پی ٹی آئی کی طرف آسکتے ہیں۔اس اڑان کے اثرات پیپلزپارٹی پر بھی پڑسکتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف کا عہدہ نیب کے سربراہ، الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کے تقرر کے لئے نہایت ہی اہم ہوتا ہے۔
اس اہمیت کے علاوہ شاید پی ٹی آئی کے اس تحرک کی تشریح بعض تجزیہ نگار اس طرح بھی کر رہے ہیں کہ عمران خان دیکھ رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ اور ہنگ پارلیمنٹ آرہی ہے۔ ایسے میں ابھی سے اپوزیشن کی سیٹ پکی کرلیں۔ 



ملکی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کسی طاقتور سویلین حکومت کو اقتدار پر دیکھنے کی خواہش مند نہیں۔ کیونکہ خارجہ پالیسی اور نیشنل سیکورٹی کے معاملات میں اس کا اپنا ایجنڈا ہے۔ مضبوظ سویلین حکومت کے پاس ان شعبوں کے لئے اپنا ایجنڈہ ہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جہاں سے سول ملٹری اختیارات کے توازن اور عدم توازن کا مسئلہ شروع ہوتا ہے ۔ اور دونوں کے ایک صفحے پر الگ الگ صفحوں پر ہونے کی بات ہونے لگتی ہے۔ نواز شریف وہ لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔نواز لیگ کے رہنما اور اراکین اسمبلی اپنی طبع اور سوچ میں اسٹیبلشمنٹ مخالف نہیں ہیں۔ لیکن ایک طرف نواز شریف کے خلاف عدالتی اور نیب کی کارروائیاں ہیں تو دوسری طرف عوامی مقبولیت ہے جونوازشریف کی طرف ہے۔ 


اس فارمولا کہ نتیجہ کیا نکلے گا؟ زیادہ سے زیادہ یہ کہ نواز لیگ پنجاب میں ڈیڑھ دو درجن درجن نشستیں کھو دے گی۔ لیکن ایسی کوئی صورتحال بھ نظر نہیں آتی کہ پی ٹی آئی حکومت بنانے کے لئے اکثریت حاصل کر لے گی۔ یہ مفروضہ قرین قیاس لگتا ہے۔ ایسے میں ایک ہنگ پارلیمنٹ ہی اسٹبلشمنٹ کو سوٹ کرے گی ۔


یہ بھی ممکن ہے کہ شریف اور زرداری 2018 ء کے عام انتخابات سے پہلے کوئی ڈیل کرلیں گے۔ ڈیل کی تین بڑی وجوہات موجود ہیں۔ اول یہ کہ دونوں جماعتیں انتخابات کے حوالے سے ایک دوسرے کے مقابلے میں نہیں۔ پیپلزپارٹی پنجاب میں، اور نواز لیگ سندھ میں انتخابی حیثیت نہیں رکھتی جو ایک دوسرے کے لئے خطرہ ہوں۔ دوئم یہ کہ دونوں رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ اور احتساب کے عمل سے خطرہ ہے۔


سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان آخری معرکہ کے موقعہ پر سیاسی میدان میں موجود ہونگے؟ اس کا تعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ہے جہاں کمیشن عمران خان کے خلاف توہین عدالت کا فیصلہ سنانے والی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ میں بھی بنی گالہ اثاثوں کا مقدمہ اب آخری مراحل ہے۔ اس مقدمہ میں تحریک انصاف کے سربراہ کچھ رقم کا ٹریل پیش نہیں کر سکے ہیں۔ اور عدالت نے سخت ریمارکس بھی دیئے ہیں۔ بعض قانوندان اس رائے کے ہیں کہ عمران خان کے خلاف پیش کردہ ثبوت نوازشریف کے خلاف ثبوتوں سے زیادہ ٹھوس ہیں۔ اگرعدالت عمران خان کو بھی نااہل قرار دیتی ہے تو پھر تحیرک انصاف کی تنظیم اور اس کا ٹیمپو برقرار رہے گا؟ اب یہ کھیل عدلیہ کے ایوان میں ہے۔


Ab khel Aiwan Adlia main 
Column Sohail Sangi 
Nai Baat Oct 2, 2017