آوازیں، آہٹیں اور بھول بھلیاں
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سینیٹ نے قرارداد منظور کی ہے کہ جو شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں وہ پارٹی کا عہدہ رکھنے کا بھی اہل نہیں ہو سکتا۔ سینیٹ اجلاس میں یہ قرارداد پیپلزپارٹی کے سنیٹ میں قائد اعتزاز احسن کی جانب سے قرارداد پیش کی گئی، جواب میں قائد ایوان نواز لیگ کے رہنما راجا ظفرالحق کا کہنا تھا کہ کسی شخص کے پارٹی سربراہ بننے سے متعلق بل اسی ایوان سے منظور ہوچکا ہے، اب اسی قانون کے خلاف قرارداد لانا مناسب نہیں۔
حکمران جماعت نواز لیگ نے پچھلے دنوں اچانک سنیٹ سے یہ بل منظور کرالیا تھا کہ نااہل قرار دیئے جانے والا شخص بھی پارٹی کا عہدیدار ہو سکتا۔ ہے۔ بعد میں یہ بل قومی اسمبلی نے بھی پاس کیا۔ صدر ممنون حسین نے دستخط کر دیئے۔ جب یہ بل قانون بن چکا تو نواز لیگ نے پارٹی کے کونسل اجلاس میں نواز شریف کو دوبارہ پارٹی کا صدر منتخب کر لیا۔ سنیٹ نے یہ قرارداد منظور کر کے گزشتہ دنوں اس موضوع پرایوان بالا سے منظور کئے گئے بل کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
نواز لیگ نے سیاسی جماعتوں کے قانون میں ترمیم اس امر کے بعد کرائی جب عسکری حلقوں سے یہ بات میڈیا میں عام کی گئی کہ عسکری قوتیں آئین کی پاسداری چاہتی ہیں اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرتی ہیں۔ یعنی گیم ایک فریم ورک میں رہتے ہوئی کھیلی جارہی ہے۔ لیکن اس ترمیم نے صورتحال کو ایک بار پھر تبدیل کردیا۔ جو حلقے خاص طور پر عمران خان اور انکے سیاست کے حامی اس بات پر خوش تھے کہ اب نواز شریف اور ان کا خاندان حکومت، پارٹی اور سیاست سے باہر ہے ان کو ایک نئی ت تشویشمیں ڈال دیا۔
بات جب واپس ایک فریم ورک میں آنے لگی تو صرف نواز شریف ہی نہیں، بلکہ پیپلزپارٹی کی بھی ہمت بندھی۔ کیونکہ فریم ورک اور سسٹم میں یہ دو ہی جماعتیں حیثیت رکھتی ہیں۔ آصف علی زرداری کی خیبر پختونخوا میں اور بلاول بھٹو کی سندھ میں سرگرمیاں اس سلسلے کی کڑی کے طور پر لی جارہی ہیں۔
فریم ورک میں آنے کے بعد متعلقہ اداروں اور خاص طور پر پارلیمنٹ کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اب سیاست کا دائرہ سڑکوں سے واپس منتخب ایوان میں آگیا ہے جہاں پیپلزپارٹی نے آگے بڑھ کر یہ قرارداد منظور رکرالی۔یہ ضررور ہے کہ عدلیہ کا رول ابھی تک اپنی جگہ پر ہے جہاں نواز شریف اور ان کے خاندان، اسحاق ڈار ، عمران خان، جہانگیر ترین اور دیگر کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں۔ کچھ آوازیں اور بھی آرہی ہیں۔ بعض لوگوں کو کچھ ا آہٹیں بھی محسوس ہو رہی ہیں۔ ان آوازوں کا لب و لباب یہ ہے کہ ایک بار پھر معاملہ فریم ورک سے باہر نکلے۔ اس مقصد کے لئے اندرونی و بیرونی خطرات کے ذکر کے ساتھ ساتھ اب ملکی معیشت کا بھی حوالہ سامنے آیا ہے جس پر آرمی چیف جنرل قمر جاید باجوہ نے کراچی میں تاجروں اور صنعتکاروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔
ماضی میں جب کوئی آرمی چیف یا جنرل تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتا ہے تو اس کو سیاسی حکومت کے اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ تجربہ اور دلیل اپنی جگہ پر، اس میں ایک مثبت پہلو تلاش کیا جاسکتا ہے کہ ہماری عسکری قیادت معاشی حالات سے آگاہ ہے۔
ان آوازوں اور دیگر مظہرات کی منطق ، محرکات اور اسباب پر نظر دالنے کی ضرورت ہے۔ اٹھارہ سال پہلے 12 اکتوبر کو نواز لیگ کی منتخب حکومت کو برطرف کیا گیا تھا۔ اسی طرح سے چالیس سال پہلے پیپلزپارٹی کی حکومت کو برطرف کر کے مارشل لاء نافذ کیا گیا تھا۔دراصل یہ ایک قومی المیہ تھا۔یہ سیاسی جماعتوں کے سیاسی ویژن کی ناکامی تھی یا خود غرضی کہ وہ آئینی نظام سے انحراف کو ان پارٹیوں نے وقت کی حکمران پارٹی پر حملہ سمجھا کہ اس کو اقتدار چھینا گیا ہے۔
سیاسی جماعتیں یہ سمجھنے میں ناکام رہیں کہ مارشل لاءکی وجہ سے وہ بساط ہی لپیٹی جارہی ہے جس پر سیاست ہوتی تھی جو حقیقی معنوں میں ان کی بقا کا میدان تھا۔
پیپلزپارٹی پارلیمنٹ کے ذریعے اپنی جگہ تلاش کر رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی نئے انتخابات کا مطالبہ رکدیا ہے۔ جس پر مختلف حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔علم سیاسیات کی روءسے کسی بھی وقت انتخابات کا مطالبہ کرا ہر جماعت کا حق ہے، چاہے وہ کتنا منطقی ہو لامنطقی۔ اس کے مضمرات کیا نکلتے ہوں۔ اس بات کا تعین ہر جماعت کی سیاسی دوراندیشی سے کیا جاسکے گا۔
جب یہ مطالبہ کیا جارہا ہے، ہمیں سوچنا چاہئے کہ کیا ہم اس نقطے پر پہنچ گئے ہیں جہاں نئے انتخابات کے آخری واحد آپشن کی طرف جائیں؟ پاکستان میں جمہوری عمل اور پارلیمنٹ ابھی اپنے بلوغت کو نہیں پہنچ پائے ہیں۔ بلکہ ان کا بچپن کا دور چل رہا ہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ کے موثر طور پر کام نہ کرنے، سیاسی جماعتوں کی بلوغیت اور ویژن عدم موجودگی، پارلیمانی نظام حکومت کے لئے گزشتہ برسوں سے ایک مسئلہ رہے ہیں۔
ماضی قریب میں ہم گاہے بگاہے اس تجربے سے گزرے ہیں جہاں بحرانوں پر بحران جنم لیتے رہے ہیں۔ حقیقی معنوں میں گاڑی وہیں پھنسی رہی۔
اگر تمام تعصبات کو ایک طرف رکھ کر بات کی جائے تو متذکرہ بالا مسائل 2008 میں بھی تھے، مگر اس سال کے انتخابات ان مسائل کوحل نہ کر سکے۔ مسائل کی صورتحال 2013 کے انتخاب کے موقع پر بھی اسی طرح کی تھی۔انتخابات لیکن مسائل جوں کے توں رہے۔ اب کیا ضمانت ہے کہ قبل از وقت کے انتخابات مسائل حل کریںدیں گے؟
نئے انتخابات یا نگراں حکومت کے پیچھے مقاصد کیا ہیں؟ اچھی انتظام کاری کی خواہش یا یہ ڈر کہ مخالف مضبوط ہو جائے گا؟ ہم سجھتے ہیں کہ انتخابات کا مطالبہ کرنے والوں کو پہلے ان مسائل کی طرف جانا چاہئے، اور اس کے بعد اس طرح کا مطالبہ کرنا چاہئے۔
پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکومت اور آج کی صورتحال کی دو مشہابتیں ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرادیا گیا تو حکمران جماعت نواز لیگ نے نیا وزیراعظم منتخب کرلیا۔ جو کہ اس کا قانونی حق تھا۔ جب پیپلزپارٹی کے یوسف رضا گیلانی کو ہٹایا گیا تھا تب بھی اس ”اصول“ کو تسلیم کیا گیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے جانشین سے بھی طاقتور ریاستی ادارے خوش نہیں تھے۔ لیکن جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے نہیں اترسکی۔ کیونکہ قومی اسمبلی اور منتخب اداروں کو آئینی مدت پوری کرانا لازمی ٹہر گیا تھا۔ آج بھی منتخب اداروں کو برقرار رکھنا ضروری ٹہرا ہوا ہے۔
تبدیلی کے بعد دیگر آپشن بھی سیاست کے اسٹاک مارکیٹ میں اتارے گئے ہیں۔ اور غیر ضروری نظریہ ضرورت کو ضروری بنانانے کی خواہش ظاہر کی جارہی ہے جب آئین میں کسی بحران یا مسئلہ کا حل نہ ہو تو انتہائی قدم اٹھانا جائز ہے۔ یہ کوئی عوامی یا جمہوری سوچ نہیں۔ اس کے پرشاخے کہیں اور جا ملتے ہیں۔
جب ملک میں منتخب پارلیمنٹ موجود ہو، ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا آئین میںحل موجود نہ ہو۔ رہی باتنئے انتخابات کی تو آخری آپشن کے طور پر عوام سے رجوع کرنا یعنی نئے انتخابات کرانا ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں پہلے پارلیمنٹ کو تو آزمائیں۔
فوج کا ٹیک اوور کوئی مذاق نہیں۔ حالات کو درست کرنے کے لئے حالات کو درست کرنے کے دعووں اور مشرف کی بڑہکیوں پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔ غیرجاندارانہ تجزیہ ہی ہے کہ انہوں نے منتخب حکومت سے اقتدار چھین کر کچھ بھی اچھا نہیں کیا تھا۔ کسی کو اس ضمن میں کوئی خوش فہمی ہے تو بھلے اس کے فائد و نقصانات کا موازنہ کرے۔ دو منٹ کے لئے ّآئین کی شق 6 کو بھی ایک طرف رکھ لیں۔ لیکن یہ ذہن میں رکھیں کہ آرمی کی جانب سے آئین کی پاسداری کے عہد کو دہرنا قابل تحسین ہے۔ آرمی کو بطور ادارہ لینا چاہئے۔
جب جمہوریت عبوری مراحل سے گزر رہی ہو۔ ایسے میں آرمی کیونکر سویلین کے اختیار اپنے ذمے لے ؟ ، خاص طور پر ایسے میں جب سرحدوں پر خطرات کی بات کی جارہی ہو۔
اگر خداناخواستہ جنگ کی صورت بنتی ہے تو جنگ کو صرف میدان جنگ میں نہیں لڑی جاتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی حکومت کے حاصلات دراصل انحطاط آمدن کے اصول کے تحت ہوتے ہیں۔ یعنی پہلے چند ماہ اچھے اور اس کے بعد ان میں مسلسل کمی واقع ہونا شروع ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی بلوغت سیاسی و جمہوری عمل کے تسلسل سے مشروط ہوتی ہیں اور جمہوری عمل پارلیمانی نظام سے ہی مشروط ہے۔
ملک کو درپیش مسائل پہلے سے موجود حل اور فریم ورک کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک ملکی اور عام لوگوں کو درپیش مسائل کا تعلق ہے حکمران کو سمجھنا چاہئے کہ ماضی کی اصلاحات زمینی اصلاحات، معاشی اور انتظامی اصلاحات اس لئے کامیاب نہیں ہو سکے کیونکہ عوام نے اس کی own نہیں کیا۔ اب وہ دور نہیں کہ انقلاب یا تبدیلی کسی انتظامی حکمنامے کے ذریعے ہو۔ اس بات کی اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ملک میںحقیقی انقلاب کے لئے نہ کوئی موثر تنظیم موجود ہو اور نہ ہی کسی پارٹی کے پاس سنجیدہ ایجنڈ ہ ہو۔
سرسری طور پریہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس آج جو جمہوریت ہے اس کا بعض معنوں میں دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ طے ہے کہ یہ واحد راستہ ہے جو لوگوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔ باقی سب بھول بھلیاں ہیں۔