وزیراعظم شاہد خاقان کا دورہ سندھ میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ ہفتے سندھ کا دورہ کیا۔ سرکاری پروگرام کے مطابق انہیں کندھ کوٹ میں گیس پلانٹ کا افتتاح کرنا تھا، لیکن ان کی سندھ آمد کی سیاسی اہمیت اس وقت بڑھ گئی جب انہوں نے وزیر مملکت برائے صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی کی دعوت قبول کی اور ان کے گاؤں نیو جتوئی جاکر ایک جلسے سے خطاب کیا۔ غلام مرتضیٰ جتوئی سابق نگراں وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے بڑے بیٹے اور والد کی بنائی ہوئی نیشنل پیپلزپارٹی کے سربراہ ہیں۔
غلام مصطفیٰ جتوئی سندھ کے بااثر جاگیرداروں میں شمار ہوتے تھے۔ اور ان کی پیپلزپارٹی میں موجودگی کی وجہ سے سندھ کے زمیندار اور جاگیردار پیپلزپارٹی میں اپنی نمائندگی سمجھتے تھے اور اس کے ساتھ جڑے رہتے تھے۔
یہ صورتحال ایم آرڈی کی تحریک کے بعد تبدیل ہوگئی۔ جب جتوئی صاحب نے سندھ کے لوگوں کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کی۔انہوں نے نیشنل پیپلزپارٹی کے نام سے الگ پارٹی بنائی۔ لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت نے ان کے توڑ کے طور پر ہالہ کہ مخدوم فیملی کو آگے لے آئی۔ 1988 کے عام انتخابات میں بڑے جتوئی انتخابات ہار گئے۔اس کے بعد انہوں نے پنجاب بیسڈ سیاسی جماعتوں کا سہارا لیا۔ اور آگے چل کر پیپلزپارٹی مخالف اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ بنے۔ یہ صورتحال اب بھی جاری ہے۔
2008 کے انتخابات کے بعد جتوئی برادران سندھ میں پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت میں وزیر رہے۔ لیکن بعد میں عام انتخابات نزدیک آنے پر ع دوسرے اتحادیوں کی طرح علحدہ ہوگئے۔
انہوں نے 2013 کے انتخابات میں فنکشنل لیگ کی سربراہی میں قائم ہونے والے دس جماعتی اتحاد میں نواز لیگ کا ساتھ دیا تھا۔ بعد میں سندھ کی بعض دیگربااثر شخصیات ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی کی طرح اپنی پارٹی کو نواز لیگ میں ضم کردیا تھا۔ تب نواز لیگ میں شامل ہونے والوں میں ارباب غلام رحیم، ٹھٹہ کے شفقت شاہ شیرازی، کراچی سے پیپلزپارٹی کے سابق رہنما عبدالحکیم بلوچ اور شفیع محمد جاموٹ نام قابل ذکر ہیں۔ جبکہ عرفان گل مگسی، راحیلہ مگسی، اسماعیل راہو، شاہ محمد شاہ پہلے ہی پیپلزپارٹی میں تھے۔
پارٹی میں شمولیت کرنے والے نئے اور پرانے رہنماء یہ شکایت کرتے رہے کہ میاں نواز شریف حکومت بنانے کے بعد بدل گئے ہیں۔ اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ پارٹی کے رہنما اسلام آباد میں کئی روز تک قیام کرتے رہے لیکن وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ان کی مالاقات نہپیں ہو سکی۔
سندھ سے تین رہنماؤں فکشنل لیگ کے صدرالدین شاہ، غلام مرتضیٰ جتوئی اور عبدالحکیم بلوچ کو مملکتی وزیر بنایا گیا۔ ان کی حیثیت برائے نام تھی، کیونکہ انہیں کوئی اختیار حاصل نہیں تھا، اس صورتحال سے سبھی نالاں تھے۔ سب سے پہلے ممتاز بھٹو نے نواز لیگ سے علحدگی کا اعلان کیا، اس کے بعد لیاقت جتوئی نے نواز لیگ چھوڑی۔ عبدالحکیم بلوچ وزارت چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں آگئے۔ ابھی حال ہی میں اسماعیل راہو نے بھی پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔
سندھ میں نواز لیگ کی عدم دلچسپی، اور پیپلزپارٹی کی جارحانہ حکمت عملی کہ سب قابل اتخاب لوگ پارٹی میں ہی سمو لئے جائیں، کی وجہ سے ممتاز بھٹو کو چھوڑ کر باقی سب رہنما بشمول صدرالدین شاہ اور غلام مرتضیٰ جتوئی کے وقتا فوقتا پیپلز پارٹی میں شمولیت کے لئے پر تولتے رہے۔
غلام مرتضیٰ جتوئی 2013 عام انتخابات کے بعد وزیر مملکت برائے صنعت و پیداوار ہوئے۔ اگست 2014 کو انہیں الیکشن ٹربیونل نے اس بنیاد پر نااہل قرار دے کر ڈی سیٹ کردیا کہ 2002 میں انہوں نے گریجوئیشن کی جعلی ڈگری پیش کی تھی۔ سپریم کورٹ نے ان کی اپیل منظور کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قراد یا اور انہیں منتخب قرار دیا۔تو انہیں دوبارہ مملکتی وزیر بنادیا گیا۔
2014 سے ممتاز بھٹو کوشاں ہیں کہ نواز لیگ سے ناراض لوگوں کا اتحاد بنا لیں۔ وہ ایسا کر کے پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں سے بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کی یہ حکمت عملی سندھ کے جاگیرداروں کو صحیح نہیں لگی کہ صوبائی حکومت سے بھی بگاڑیں اور وفاقی حکومت سے بھی۔
سندھ کا جاگیردار اس بات کے لئے تو تیار تھا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف اتحاد بنایا جائے، بشرطیکہ اس کو وفاقی حکومت یا کسی وفاقی لابی یا ادارے کی حمایت حاصل ہوں۔ اور اس اتحاد کے ذریعے اقتدار میں اپنے لئے کوئی جگہ تلاش کی جائے۔ ان جاگیرداروں کو ایک دوسرے سے خوف بھی ہے کہ کہیں دوسرا بااثر شخص ایک کی قیمت پر وفاق سے سودے بازی نہ کر لے۔
2015 میں مرتضیٰ جتوئی کے نواز لیگ کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے۔ یہاں تک کہ راجن پور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت میں شامل وزرا ء کو حکمران ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ بڑی بڑی وزارتوں پر فائز وزرا ء کو کوئی اختیارات نہیں۔ شریف فیملی نے تمام تر اختیارات اپنے خاندان میں تقسیم کیے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سردار جہانزیب خان دریشک ، ن لیگ کے رہنما سردار طارق خان دریشک ، مخدوم ندیم شاہ بھی موجود تھے۔
جنوری 2015 میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وفاقی وزیر برائے صنعت وپیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی کے گھر چھاپہ مار کر انکے بیٹے اور 2 محافظوں کو حراست میں لے کر نا معلوم مقام پر منتقل کردیا۔ بعد میں انہیں رہا کردیا گیا۔ لیکن اس چھاپے اور گرفتاریوں کی وجہ تاحال معمہ بنی ہوئی ہے۔
2015 سے لیکر رواں سال کے ماہ جون تک ان کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کی خبریں آتی رہیں ۔ 2017 میں گورنر سندھ محمد زبیر نے ان کے گھر پہنچ گئے اور انہیں منا لیا۔ گزشتہ سال وہ یوٹلٹی اسٹورز کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر پر خفا ہوگئے اور رمضان پیکیج کے بارے میں بریف نہ کرنے پر استعیفیٰ کی دھمکی دی تھی ۔ 2016 میں میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے غلام مرتضیٰ جتوئی نے ملاقات کی۔یوں غلام مرتضیٰ جتوئی اور نواز لیگ کے درمیان روٹھنا اور مانا لینا جاری رہا۔
نواز شریف اور بڑے جتوئی ایک دوسرے کے اتحادی بھی تھے اواقتدار کی کرسی کے معاملے میں ر ایک دوسرے کے مدمقابل بھی۔ غلام مرتضیٰ جتوئی خود کو نیشنل پیپلزپارٹی کا سربراہ سمجھتے تھے۔میاں صاحب جنہوں نے بڑے جتوئی کے ساتھ سیاست کی تھی وہ ان مرتضیٰ جتوئی کو چھوٹا سمجھتے تھے۔ اور یہ بھی کہ اب سندھ کا جاگیردار جتوئی فیملی کے ساتھ نہیں۔
پاناما کیس کے کھلنے کے بعد پہلی مرتبہ یہ ضرورت پیش آئی کہ نواز لیگ اپنے اتحادیوں اور پارٹی میں شامل دوسرے صوبوں کے لوگوں کا خیال رکھے۔ نواز شریف نے کبھی بھی سندھ کے پارٹی رہنماؤں کے ساتھ یہ رویہ نہیں رکھا۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے نیو جتوئی میں نہ صرف پیپلزپارٹی بلکہ خود نواز لیگ کے حامیوں کے لئے بھی پیغام چھوڑا ہے۔پارٹی کے حوالے سے انہوں نے کہاکچھ لوگوں کا خیال تھا کہ پارٹی ختم ہوگئی مگرمخالفین کومنہ کی کھاناپڑی۔ بہت سے لوگ یہ توقع کرتے تھے کہ ملک میں انتشار ہوگا اور جماعت ٹوٹ جائے گی، لوگ ادھر ادھر ہوجائیں گے۔
اس موقع پر گورنر سندھ محمد زبیر ، سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم ، سابق اسپیکر قومی اسمبلی سید ظفر علی شاہ بھی موجود تھے۔تاہم راحیلہ گل اور عرفان گل مگسی، ماروی میمن، شفقت شاہ شیرازی، کراچی کے شفیع محمد جاموٹ موجود نہیں تھے۔
وزیراعظم نے پارٹی کے رہنماؤں کو ی اہمیت دینے کی کوشش کی ہے ۔ ورنہ میاں صاحب کی حکمت عملی اور طرز عمل مختلف رہا ہے۔ وزیراعظم نے ضلع نوشہروفیروز میں بجلی وگیس کیلئے ڈیڑھ ارب روپے، سڑکوں کی تعمیر کیلئے ایک ارب روپے کا اعلان کیا۔ انہوں نے پڈعیدن اور محراب پور ریلوے اسٹیشنوں پر مسافر ایکسپریس ٹرینوں کے اسٹاپ بحال کرنے اور ضلع کے غریب لوگوں کیلئے ہیلتھ کارڈاسکیم کا بھی اعلان کیا۔
وزیراعظم نے پیپلزپارٹی پر تنقید بھی کی اور ساتھ دینے کی اپیل بھی کی۔انہوں نے ملک کو درپیش سیاسی بحران کے پیش نظرپیپلزپارٹی کو نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہونے والا میثاق جمہوریت یاد دلایا اور کہا کہ میثاق جمہوریت پرعمل نہ ہونے سے سیاست اورسیاستدان بدنام ہورہے ہیں، پیپلزپارٹی غور کرے، میثاق جمہوریت پر عمل ہوگا، سیاسی فیصلے عدالتوں اور سڑکوں پر نہیں ہوتے پولنگ اسٹیشن پر ہوتے ہیں۔وسائل کرپشن کی نذر ہو جائیں تو ترقی نہیں ہوتی۔
وزیراعظم عباسی نے سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی پر بھی تنقید کی اورکہا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ بجلی سندھ دیتا ہے، 15 سال میں سندھ میں کوئی منصوبہ نہیں لگایا گیا، اگر سندھ حکومت کی بات ہے تو وفاق 18 ویں ترمیم کے بعد وسائل صوبوں کے حوالے کردیتا ہے جو وسائل 2013 میں سندھ کو دیئے گئے جب پیپلزپارٹی حکومت تھی آج اس سے 50 فیصد سے زائد وسائل سندھ اور دیگر صوبوں کو دیئے گئے لیکن افسوس ہوتا ہے جب وہ وسائل کرپشن کی نذر ہوجائیں اور عوام کے مسائل حل نہ کریں تو پھر یہی حکومت کی ناکامی ہوتی ہے۔
یہ دورہ صرف جتوئی برادران کو خوش کرنے تک محدود ہے یا بات آگے بھی بڑھے گی؟ دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور نواز لیگ سندھ پر مزید توجہ دیتے ہیں یا پہلے والی ہی پالیسی پر گامزن رھتے ہیں؟
Sohail Sangi Column: PM Abbasi's Sindh Visit
Daily Nai baat Oct 10, 2017
No comments:
Post a Comment