میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
کہتے ہیں کہ ڈیل ہوئی ہے ۔لیکن معاملات اب عدلیہ میں اٹکا ہوا ہے ۔ جہاں سے معاملات کو نکالنا اتنا آسان نہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے عدلیہ خواہ سیاسی طور پر بھرپور انداز میں اپنا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب وہ بیک وقت مختلف رخوں میں اہم اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ایک طرف اسٹبلشمنٹ کے خلاف براہ راست بات نہیں کر رہے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ جس سے ان کی حکمت عملی میں تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہ ایک فرنٹ پر چوہدری صاحب کام کریں گے۔ آصف علی زرادری سے بھی رابطے شروع کردیئے گئے ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کو ہٹانے کی مہم نے پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو قریب کر دیا ہے۔ میاں صاحب کی سوچ میں ایک اور اہم تبدیلی آئی ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ پارٹی اور پارلیمنٹ کا رول بڑھا دیا ہے۔
ڈیل کی باتیں اپنی جگہ پر وزیر دفاع خواجہ ؤصف کا ایشیائی سوسائٹی سے خطاب میں جہادی قوتوں سے متعلق تقریراور پیر کے روز نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقعہ پر وزیرداخلا کا میڈیا سے گفتگو ای بات کا عندیہ ہیں کہ نواز شریف لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
نواز لیگ سنیٹ سے سیاسی جماعتوں کے قانون میں جنرل مشرف کی یہ ترمیم کو ختم کرنے کا بل پاس کراچکی ہے، اب یہ بل کی قومی اسمبلی کے طلب کردہ اجلاس میں منظوری بعد قانون بن جائے گا۔ نئی ترمیم کے بعد قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار پائے گئے شخص پارٹی کا سربراہ ہو سکتا ہے۔ یعنی نواز شریف اب دوبارہ مسلم لیگ کے سربراہ ہو سکتے ہیں۔ یوں پارٹی اور حکومت پر ان کی گرفت مضبوط رہے گی۔ پارٹی کے صدر کے انتخاب اور پارٹی کے آئین میں ترمیم کے لئے منگل کے روز مسلم لیگ کی جنرل کونسل کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔اپنی صفیں درست کرنے کے لئے بھی یہ اجلاس اہم ہے۔ نواز لیگ نیب کا موجودہ قانون بھی تبدیل کرنا چاہتی ہے ۔ خیال ہے کہ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں یہ ترمیم پیش کی جائے۔
مانا کہ نواز لیگ اور پارلیمنٹ کو حق حاصل ہے کہ وہ نیب قانون اور پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترامیم کریں۔ ان قوانین میں ترامیم اچھی تھی تو پہلے کیوں نہیں کی گئی؟ یہ تبدیلیاں کسی ایک شخص یا ذات کے لئے کی جارہی ہیں۔ جو ترامیم کسی ذات کے لئے کی جاتی ہیں وہ ہمیشہ سوالیہ نشان ہی رہتی ہیں۔
دوسری جانب نااہلی کو مستقل کرنے کے لئے عدلیہ سے یہ فیصلہ لینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آئین کی عوامی نمائندگی کے لئے اہل یا ناہل قرار دینے والی شق 62 اور 63 کو عوامی نمائندگی کے ایکٹ کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ اگر اس طرح کاعدالتی فیصلے آتا ہے ، نواز شریف انتخابات لڑنے کے اہل نہیں رہیں گے۔ اس کے بعد نااہلی کو ختم کرنے کا عمل انتہائی مشکل ہوجائے گا۔
اسلام آباد کے مقتدرہ حلقوں میں یہ بات گشت کر رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے اب جو صورتحال بنی ہے اس کے بعد آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں نواز شریف نہیں جیت سکیں ۔ نواز لیگ کا ووٹر خواہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، زیادہ تر دائیں بازو کی سوچ رکھتا ہے۔ نواز لیگ کا قلعہ پنجاب ہے۔ جہاں عمران خان کی تحریک اور میڈیا کے پروپیگنڈہ سے کچھ ماحول بنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور مکینزم بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جو لاہور کے حالیہ ضمنی انتخاب میں آزمایا گیا تھا۔ یعنی دائیں بازو کی جماعتوں کو انتخابی میدان میں اتار کر ووٹ تقسیم کردیا جائے گا۔ دو مذہبی جماعتوں کے امیدواران 13,000 ووٹ حاصل کئے۔ اگر ووٹ تقسیم نہیں ہوتے تو یہ ووٹ نواز شریف کو پڑتے۔ سابق جہادیوں پر مشتمل ملی مسلم لیگ اور بریلوی مسلک کے حلقے جو ممتاز قادری کی پھانسی پر نواز لیگ سے ناراض ہیں ، ان کو دو طرفہ دباؤ کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ووٹ بینک پر ہوگا اور پڑوسی ممالک سے قیام امن کی خواہش اور پالیسی پر بھی ہوگا۔
نواز شریف کی نااہلی اور منتخب حکومت پر مسلسل دباؤ نے ملک میں جمہوریت پسند اور ترقی پسند حلقوں کو نواز شریف کی حمایت کرنے پر قائل کردیا تھا۔ یہ وہ پچ (pitch) تھی جس کا فائدہ ہمیشہ پیپلزپارٹی اٹھاتی رہی ہے۔ دائیں بازو کی سوچ اور اس کی جماعتوں کا دباؤ کا نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ نواز لیگ لبرل جماعت کے طور پر ابھرنہیں سکے گی۔ ایسے لبرل حلقے نواز لیگ میں آسکتے تھے اور اس کی حمایت کرسکتے ہیں۔ وہ نواز شریف کے لئے انتخابات خواہ سیاسی حوالے سے اہم ہیں، وہ آگے بڑھ کر ان کی حمایت نہیں کر سکیں گے۔
اس مفروضے کو مان لیتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ عمران خان ساتھ نواز شریف کا ووٹ بنک توڑ لیں، ووٹرز کی تقسیم والی مکینزم سے تحریک انصاف کو فائدہ پہنچے تاکہ نواز لیگ پنجاب اور مرکز میں حکومت نہ بنا سکے ۔ میدان میں صرف دو کھلاڑی نہیں۔ عدلیہ، پارلیمنٹ اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی ہیں۔
عام نظر میں یہ امر حیرت انگیز ہے کہ وزیراعظم بننے کا خواب دیکھنے والے اب اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لئے کوشاں ہیں۔تحریک انصاف موجودہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ پیپلزپارٹی سے چھیننا چاہتی ہے۔ لیکن اس کو حکمت عملی کا حصہ سمجھنا چاہئے۔ اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی خود کو نواز لیگ کے اصل حریف کے طور پر دکھا نا چاہتی ہے ۔ اس کے نیتجے مین وہ عناصر جو سیاسی آسمان صاف دیکھ کر اپنی اڑان کرنا چاہتے ہیں وہ پی ٹی آئی کی طرف آسکتے ہیں۔اس اڑان کے اثرات پیپلزپارٹی پر بھی پڑسکتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف کا عہدہ نیب کے سربراہ، الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کے تقرر کے لئے نہایت ہی اہم ہوتا ہے۔
اس اہمیت کے علاوہ شاید پی ٹی آئی کے اس تحرک کی تشریح بعض تجزیہ نگار اس طرح بھی کر رہے ہیں کہ عمران خان دیکھ رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ اور ہنگ پارلیمنٹ آرہی ہے۔ ایسے میں ابھی سے اپوزیشن کی سیٹ پکی کرلیں۔
ملکی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کسی طاقتور سویلین حکومت کو اقتدار پر دیکھنے کی خواہش مند نہیں۔ کیونکہ خارجہ پالیسی اور نیشنل سیکورٹی کے معاملات میں اس کا اپنا ایجنڈا ہے۔ مضبوظ سویلین حکومت کے پاس ان شعبوں کے لئے اپنا ایجنڈہ ہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جہاں سے سول ملٹری اختیارات کے توازن اور عدم توازن کا مسئلہ شروع ہوتا ہے ۔ اور دونوں کے ایک صفحے پر الگ الگ صفحوں پر ہونے کی بات ہونے لگتی ہے۔ نواز شریف وہ لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔نواز لیگ کے رہنما اور اراکین اسمبلی اپنی طبع اور سوچ میں اسٹیبلشمنٹ مخالف نہیں ہیں۔ لیکن ایک طرف نواز شریف کے خلاف عدالتی اور نیب کی کارروائیاں ہیں تو دوسری طرف عوامی مقبولیت ہے جونوازشریف کی طرف ہے۔
اس فارمولا کہ نتیجہ کیا نکلے گا؟ زیادہ سے زیادہ یہ کہ نواز لیگ پنجاب میں ڈیڑھ دو درجن درجن نشستیں کھو دے گی۔ لیکن ایسی کوئی صورتحال بھ نظر نہیں آتی کہ پی ٹی آئی حکومت بنانے کے لئے اکثریت حاصل کر لے گی۔ یہ مفروضہ قرین قیاس لگتا ہے۔ ایسے میں ایک ہنگ پارلیمنٹ ہی اسٹبلشمنٹ کو سوٹ کرے گی ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ شریف اور زرداری 2018 ء کے عام انتخابات سے پہلے کوئی ڈیل کرلیں گے۔ ڈیل کی تین بڑی وجوہات موجود ہیں۔ اول یہ کہ دونوں جماعتیں انتخابات کے حوالے سے ایک دوسرے کے مقابلے میں نہیں۔ پیپلزپارٹی پنجاب میں، اور نواز لیگ سندھ میں انتخابی حیثیت نہیں رکھتی جو ایک دوسرے کے لئے خطرہ ہوں۔ دوئم یہ کہ دونوں رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ اور احتساب کے عمل سے خطرہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان آخری معرکہ کے موقعہ پر سیاسی میدان میں موجود ہونگے؟ اس کا تعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ہے جہاں کمیشن عمران خان کے خلاف توہین عدالت کا فیصلہ سنانے والی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ میں بھی بنی گالہ اثاثوں کا مقدمہ اب آخری مراحل ہے۔ اس مقدمہ میں تحریک انصاف کے سربراہ کچھ رقم کا ٹریل پیش نہیں کر سکے ہیں۔ اور عدالت نے سخت ریمارکس بھی دیئے ہیں۔ بعض قانوندان اس رائے کے ہیں کہ عمران خان کے خلاف پیش کردہ ثبوت نوازشریف کے خلاف ثبوتوں سے زیادہ ٹھوس ہیں۔ اگرعدالت عمران خان کو بھی نااہل قرار دیتی ہے تو پھر تحیرک انصاف کی تنظیم اور اس کا ٹیمپو برقرار رہے گا؟ اب یہ کھیل عدلیہ کے ایوان میں ہے۔
Ab khel Aiwan Adlia main
Column Sohail Sangi
Nai Baat Oct 2, 2017
No comments:
Post a Comment