Friday, October 6, 2017

سویلین بالادستی اور صوبے



سویلین بالادستی اور صوبے 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے قومی ڈائلاگ کے لئے سیاسی جماعتوں کی کانفرنس کی تجویز دی ہے حالیہ بحران سے نکلنے کے لئے اور پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتیں بھی کچھ کرنے جارہی ہیں۔ یہ بحران روزبروز شدید تر اور پیچیدہ ہوتا جارہا ہے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت نے جب نااہل قرار دیا ، تو حکمران جماعت نواز لیگ پارلمنٹ سے رجوع کیااور پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترمیم کرالی، جس کی رو سے عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار پانے والا شخص پارٹی عہدیدار ہوسکتا ہے۔ اس ترمیم کے بعد پارٹی کے کونسل اجلاس نے میاں نواز شریف کو حکمران جماعت کا صدر منتخب کرلیا۔ یہ عہدہ انہوں نے چند ہفتے قبل نااہل قرار دیئے جانے کے بعد خالی کیا تھا۔

اس ترمیم کے بعد نواز شریف نے پارٹی اور حکومت پر اپنی گرفت مظبوط کرلی ہے۔ اب وہ وزیراعظم نہیں ہیں لیکن پارٹی کے سربراہ ہونے کے ناطے نہایت ہی ’’فرمانبردار‘‘ وزراعظم شاہد خاقان عباسی کی موجودگی میں حکومت کے سفید سیاہ کے مالک بن گئے ہیں۔ عملا انہیں اب اتنے اختیارات حاصل ہیں جنتے وزیرعظم کا عہدہ رکھنے کی وجہ سے تھے۔ ترمیم کو عدالت میں چلینج کردیا گیا ہے۔ اب عدالت بھی کچھ اور فیصلے دینے والی ہے۔

یہ درست ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قانون میں یہ ترمیم جنرل مشرف نے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے کی تھی۔ بینظیر بھٹو نے پیپلزپارٹی کے خلاف امکانی ایکشن کے پیش نظر پاکستان پیپلزپارٹی میں ایک ’’ پی‘‘ کا اضافہ کرکے اسکو پارلیمنٹرین بنادیا جس کے چیئرمین مخدوم امین فہیم تھے۔ لیکن عملی طور پر اس کی قیادت محترمہ کے پاس ہی تھی۔ مشرف کی لائی گئی یہ ترمیم دو افراد کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لئے تھی۔ حکمران جماعت نواز لیگ اب یہ ترمیم ختم بھی اسی مقصد کے لئے کی ہے کہ ایک شخص کو فائدہ پہنچے اور شخص نواز شریف ہی ہیں۔

مشرف تو چلے گئے۔ اس کو تقریبا دس سال ہونے کو ہیں۔ اس کے بعد پیپلزپارٹی اور نواز لیگ باری باری دونوں حکومت میں آئیں۔ لیکن دونوں جماعتوں نے مشرف کی ان باقیات کو ختم نہیں کیا۔ نتیجے میں جنرل ضیا کی باقیات کی طرح مشرف کی بھی کئی باقیات ملک کے آئین، قانون اور نظام سے چمٹی ہوئی ہیں۔ جب بھی موقعہ لگتا ہے تو سر اٹھاتی ہیں اور ملک کے سویلین نظام کو ڈس لیتی ہیں۔

سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ جب ملک کو درپیش بحران کو حل نہیں کر سکیں تو یہ معاملہ تیسرے اور چوتھے ادارے کے پاس چلا گیا۔ یہی جوہ ہے کہ آج کل نواز شریف، عمران خان اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، کیس پر کرپشن کا الزم ہے، تو کسی پر منی لانڈرنگ کا تو کسی پر اثاثے چھپانے کا الزام کہ یہ ’’ مال کہاں سے آیا‘‘؟ ان سیاسی مخالفتوں کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔

اصل میں ہماری سیاسی جماعتوں میں جمہوری کلچر کا فقدان ہے۔ نیتجے میں یہ سیاسی جماعتیں عوامی اور حقیقی معنوں میں عوام کی ترجمانی کرنے والی جماعتوں کے بجائے خادانی جاگیر یا خاندانی بادشاہت بن گئی ہیں جو نئی نسل کو بطور ورثہ ملتی ہیں۔ محترمہ کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی آصف علی زرداری کو ورثے میں ملی۔ بعد میں یہ ورثہ بلاول بھٹو زرادری کو منتقل کیا گیا۔

نواز شریف کو جب نااہل قرار دیا گیا تو بطور وزیراعظم اور نواز لیگ کی سربراہی کے لئے پسندیدہ نام میاں صاحب کے چھوٹے بھائی وزیرعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا تھا۔ پارٹی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کرلیا گیا تھا۔ لیکن بعض سیاسی مصلحتوں اور شریف خالدان کے اندر اختلافات کی وجہ سے اس فیصلے پر عمل نہیں ہوا۔ بعد میں میاں صاھب کی صاحبزادی مریم نواز کا نام آیا، جنہوں نے گزشتہ ڈیڑھ دو سال میں سیاسی میدان میں سرگرمی دکھائی ہے۔ نواز شریف کی غیر موجودگی میں مریم نواز نے عملا قائم مقام سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیئے۔ شکر کریں کہ عمران خان کے خاندان میں کوئی ایسا فرد نہیں جو سیاسی وراثت کے لئے آ جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ عمران خان تاحال ایوان اقتدار میں اپنی اور پارٹی کی پکی بیٹھک نہیں بنا پائے ہیں۔

اس پر دو رائے نہیں کہ ملک کے تمام مسائل کا حل جمہوریت میں مضمر ہے۔ جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ ڈالنا یا ووٹ لینا نہیں۔ اگر اس کو آج کی وسیع تر تعریف میں نہ بھی لیا جائے، تو بھی اس کامطلب سویلین اختیارات کی بحالی اور عوام کی زندگی کو آرام دہ اور بہتر بنانا ہے۔ سویلین بالادستی تب ممکن ہے جب پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کی جائے گی۔پارلیمنٹ کی بالادستی کو منتخب نمائندوں خواہ غیر منتخب اداروں کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ اور اس منتخب ایوان میں عوام کے حق میں فیصلے کئے جائیں گے۔ ملک کو درپیش مسائل کے لئے ایوان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

اس سے کام نہیں چلے گا کہ وزیراعظم قومی اسمبلی اور سنیٹ میں عید کے چاند بن جائیں۔ وزراء غائب ہوں۔ سرکاری بنچ کے ممبران کی غیر حاضری کی وجہ سے کورم پورا نہ ہو ۔ اپوزیشن سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اپنا کردار ادا نہ کر پائے۔ اصل ذمہ داری حکمران جماعت کی ہوتی ہے۔ لیکن ویزراعظم اپنی حکمران جماعت اور پارلیمنٹ کو شمار میں نہ لائیں، تو بات دور تک چلی جاتی ہے۔ جب حکمران جماعت خود پارٹی اور پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دے گی تو کوئی اور ادارہ یا فرد ایسا کیوں کریگا؟ اس پر حکمران جماعت کو سوچناچاہئے کہ غلطی کہاں پر ہوئی؟ حکومت کہ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ منتخب ایوانوں اورعوام کو براہ راست ملک کو درپیش ان مسائل سے آگاہ کرے۔، جو ملک کو بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ چار سال سے جاری اس بحران کے بارے میں وزیراعظم اور حکمران جماعت کی جانب سے ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔

پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ایک دوسرے سے لازم ملزوم ہیں۔ یہ بات سب کو سمجھنی چاہء کہ قانون کی بلادستی کے بغیر جمہوریت چل نہیں سکتی، اور کمزور جمہوریت کو بیساکھی کی ضرورت پڑ جائے گی۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اس صورت میں ایک نہیں بلکہ دو ادارے مقننہ اور انتظامیہ جو ریاست کے اراکان سمجھے جاتے ہیں عملا معطل رہے۔ انہوں نے اپنا کام کرنا چھوڑ دیا۔ اس پر سوچنا چاہئے کہ ان دو اہم اداروں کو غیر موثر رکھنے میں آخر حکمران جماعت اور اپوزیشن پارٹیوں کا کتنا کردار ہے؟
جب دو ارکان ریاست کے عضوو معطل ہو جائیں تو ایک خلاء پیدا ہوتا ہے تو کوئی ’’تیسر ا یا چوتھا‘‘ ادارہ بھر لیتا ہے۔ ایسے میں صورتحال کو سطحی طور پر دیکھنے والے اس کو اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا نام دیتے ہیں۔ یہ اداروں کا ٹکراؤ نہیں۔ بلکہ ریاست کے دو ادارے عضو معطل بن گئے اور ایک اسپیس چھوڑا۔ ایسے میں ملک کے ’’ تیسرے اور چوتھے ادارے‘‘ نے یہ اسپیس لے کیا اور ’’ تجاوزات‘‘ کھڑی کردی ۔

سیاسی جماعتیں جتنی مضبوط ہونگی، اپنے اندر اور جوہر میں مضبوط ہونگی، جمہوریت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔ یہ درست ہے کہ آجج یہ نظر آرہا ہے کہ عوام کا فیصلہ ایک طرف اور عدلیہ کا فیصلہ دوسری طرف ہے۔ اس کا اظہار نواز شریف کی برطرفی کے بعد لاہور کے سفر کے وقت یا لاہور کے ضمنی انتخاب میں نظر آیا۔ لیکن جب تک عوام کے اس اظہار کو کوئی فریم ورک یا ڈھانچہ نہیں دیا جاتا اور اس کو ٹھوس شکل میں ان اداروں کے سامنے نہیں کھڑا کیا جاتا تب تک یہ سب وقتی دباؤ یا ہوائی باتیں ہونگی۔

آج کل وفاقی حکومت کی تمام تر توانائیاں سابق وزیراعظم کو سیاسی طور پر بحال کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ یہ کام تو پارٹی کا ہے، حکومت کا نہیں۔ اس مصروفیت کی وجہ سے ملک کے اندر ترقی کے پلان چھوٹے اور بڑے دونوں طرح کی فیصلہ سازی، یہاں تک کہ روز مرہ کا حکومتی کاروبار بھی بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت پر ایمرجنسی نافذ ہے۔ یہ امر حکومت اور حکمران جماعت کے لئے مزید منفی پوائنٹ بنا رہا ہے۔

ملک کے حالیہ بحران نے نواز لیگ کو مشرقی پاکستان اور ماضی میں ملک میں لگنے والے مارشل لا یاد دلا دیئے ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اور پنجاب میں بیس رکھنے والی ان کی جماعت کے رہنما کئی بار یہ حوالہ دے چکے ہیں۔ شکر ہے کہ پنجاب کی سیاسی نمائندگی کرنے والی جماعت کو احساس تو ہوا کہ بنگلا دیش کیوں اور کیسے بنا تھا۔ ورنہ ماضی میں پنجاب کی سیاسی قیادت یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھی۔ ورنہ اس معاملے میں ذوالفقار علی بھٹو بھی اس سوچ کا شکار ہوئے اور انہوں نے بھی اسی سوچ کی نمائندگی کی تھی۔ لیکن صرف یہ بات کہنا یا اقتدار کی رسہ کشی میں وقتی طور اپنا پلڑا بھاری کرنا کافی نہیں ہو گا۔ اس کا عملی اظہار بھی ضروری ہے۔

2013 سے شروع ہونے ولاے اس جھگڑے میں جس نے اب شیدی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے س میں صوبوں سے کبھی بھی نہیں پوچھا گیا۔ نہ نواز شریف ، نہ عمران خان اور نہ ہی مقتدرہ حلقوں نے سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا سے رجوع کیا۔ آّ خر یہ صوبے بھی پاکستان کی حدود میں ہیں، یہاں بھی پاکستان کے ہی عوام بستے ہیں۔ ملک میں جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی بمعنی سویلین بالادستی یہاں کے عوام کا بھی مسئلہ ہیں۔ اگر سیاست اور اقتدار کے بارے میں ہونے والی فیصلہ سازی میں یہاں کے عوام کو بھی باہر رکھا گیا ، اس سے برسرپیکار فریقین کو کوئی سہولت ہو سکتی ہے لیکن لیکن طویل مدت میں اس کے مضر نتائج برآمد ہونگے۔
لہٰذا جمہوری تسلسل، پارلیمنٹ کی اور سویلین بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے متعلق فیصلے صرف اسلام آباد، راولپینڈی ای شاہراہ دستور یا پھر جی ٹی روڈ اور لاہور پر نہیں ہوہنے چاہئیں۔
یہ راستہ آگے بھی جاتا ہے، اور ملتان، سکھر، حیدرآباد، کراچی، کوئتہ بھی یہ سڑک جاتی ہے۔ 
Provinces should also be consulted
Column Sohail Sangi, Nai Baat Oct 6, 2017




No comments:

Post a Comment