ارتقا لیکچر سہیل سانگی
یہ امر میرے لئے باعث افتخار ہے کہ ارتقا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز ، حمزہ علوی فاﺅنڈیشن، اور دیگر ساتھیوں نے یہ موقعہ فراہم کیا کہ میں ان دوستوں سے مکالمہ کر سکوں، اپنا تجربہ اور مشاہدہ بیان کر سکوں۔ جو ملک میں ترقی پسندی اور روشن خیالی فکر کی وکالت وجدوجہد اور اس کو پھیلانےمیں مصروف ہیں مکالمہ کر سکوں۔
اپنی بات کا آغاز کرنے سے قبل یہ واضح کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا یہ مکالمہ شاید باقاعدہ تحقیقی مقالہ کے زمرے میں نہ آ ئے ۔ اس کا زیادہ تر حصہ میرے تجربہ، مشاہدہ پر مشتمل ہے۔ سیاسی اور فکری طور پر میری وابستگی بائیں بازو سے 1967 - 68 سے رہی ہے۔ لہٰذا اس تمام دور کے واقعات کا گواہ بھی ہوں یا شریک سفرہوں۔
سندھ میں تین بڑی تحریکیں اٹھیں جنہوں نے صوبے کی سیاسی ڈئنامکس کو تبدیل کیا۔یہ تبدیلی منفی اور مثبت دونوں طرح کی تھی۔ پہلی سندھ کی بمبئی سے علحدگی کی تحریک تھی۔ یہ تحریک جو بظاہر سندھ کو صوبے کی حیثیت دینے کے لئے تھی۔لیکن اس کا سیاسی پہلو یہ بھی تھا کہ سندھ کا الگ تشخص بحال ہو جو برطانوی راج نے 1843 میں ختم کیا تھا۔لیکن اس کے پیچھے یہ عوامل بھی شامل تھے کہ برطانوی راج کے آتے ہی سندھ کے بمبئی سے الحاق کردیا گیا۔ اس کے بعدیہاں کا الیٹ کلاس یعنی زمیندارطبقہ، خود کو اقتدار اور اختیار میں شامل نہیں سمجھ رہا تھا۔اور کسی حد تک شامل بھی تھا تو وہ اس کے لئے ناکافی تھا۔ یاد رہے کہ یہ تحریک صرف بالائی طبقے تک ہی چلی تھی۔ اس تحریک کے بعدسندھ کو صوبے کی حیثیت مل گئی۔ اس کے ابھی اثرات اور ثمرات پورے طور پر پہنچے ہی نہیں تھے کہ برصغیر میں تحریک آزادی نے زور پکڑا۔ برصغیر کی تقسیم ہوگئی۔
تقسیم کے نتیجے میںبھارت سے آنے والے لاکھوں مسلمان سندھ میں ہی آکر آباد ہوئے۔یوں یہ خواب چند سال تک ہی چلا ۔ سندھ کا تشخص اس نقل مکانی اور پاکستان کی نوکرشاہی نے مزید عرصے تک چلنے نہیں دیا۔غیر مسلم ایلیٹ کلاس انڈیا منتقل ہو گیا۔ یہ جگہ مقامی مسلمانوں کو نہیں مل سکی بلکہ مہاجروں نے اس جگہ کو مکمل طور پر کیا۔
کراچی وفاقی دارالحکومت قرار پایا اور مئی انیس سو اڑتالیس میں کراچی کو سندھ سے علحدہ کرکے وفاق کے زیر انتظامیہ علاقہ قرار دیا گیا۔ جس سے سندھ کی یکجہتی متاثر ہوئی۔ سندھ کے ایلیٹ کلاس نے اس کی مخالفت کی ۔ ایوب خان نے جب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل کیا تو بھی کراچی وفاق کی تحویل میں رہا۔ یہ صورتحال 1970 میں ون یونٹ ٹوٹنے تک جاری رہی۔ اس صورتحال میں سندھ کو اپنے جسم کا ایک عضو اپنے ساتھ جوڑنے میں دقت پیش آرہی تھی۔ یہ صورتحال ایک حد تک ابھی بھی ہے۔ یہ امر قابل فکر ہے کہ پچاس اور ساٹھ کے عشرے تک کراچی کا کردار ترقی پسندانہ اور وشن خیالی کا رہا۔ جوکہ ستر کے عشرے کے بعد بدل کر اس کے برعکس بن گیا ۔
سندھ تقسیم کے زخم سے باہر نہیں آسکا۔
دوسری تحریک ون یونٹ کے خلاف اٹھی۔ 1955 میںبنگالیوں کی اکثریت ختم کرنے کے لئے مغربی حصے کو ایک یونٹ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں دوسرے صوبوں کی طرح سندھ بھی اپنا الگ تشخص کھو بیٹھا۔ ون یونٹ کی مخالفت پہلے دن سے ہی شروع ہو گئی تھی لیکن اس تحریک نے ساٹھ کے عشرے کے آخری برسوں میں زور پکڑا۔ جب ایوب خان کے خلاف ملک بھر میں ابال آرہا تھا۔ ۔ اس تحریک میں سندھ کے متوسط طبقے نے حصہ لیا ۔ جس میں شعرائ، ادیب اور طالبعلم شامل تھے۔ قیام پاکستان اور سندھ سے ہندو آبادی کی نقل مکانی کے بعد شعراءاور ادیب وغیرہ مقامی لوگوں کا متوسط طبقہ بن گئے ۔شعراءادیب اس لئے بھی شامل ہوگئے تھے کہ ایوب خان نے سندھی زبان سے وہ رتبہ چھین لیا جو اسے برطانوی راج میں حاصل تھا۔بنگالی زبان کا اشو ابھی تازہ ہی تھا۔ یوں ذریعہ تعلیم اور دفتری زبان کے معاملات ایجنڈا پر آگئے۔
اس تحریک نے اگرچہ سندھ بھر کے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر کٹھا کیا، پھر بھی یہ تحریک متوسط طبقے تک محدود رہی۔ اور متوسط طبقہ سیاسی طور پر اہمیت اختیار کر گیا۔ اس کی وجہ سے سندھ میں ایک نوجوان کارکن ،ادیب اور شاعر کی حیثیت اور اہمیت وڈیرے سے زیادہ ہوگئی۔ اس کا عکس سماج میں مختلف مواقع پر نظر بھی آنے لگا۔ لیفٹ بھی نظر آنے لگا۔ کسانوں اور مزدوروں کی تحریکیں بھی اٹھنے لگیں۔ ان کی سرگرمی بھی نظر آنے لگی۔ سندھ میں ریڈیکلائزیشن بڑا۔ سوشلزم کا نعرہ نوجوانوں اور سیاسی کراکنوں میںایک مقبول نعرے کے طور پر ابھرا۔ لگ بھگ یہ صورتحال ملک بھر میں تھی۔ لیکن سندھ میں طلبہ، کسان اور مزدور زیادہ متحرک دکھائی دیئے۔ اس ساٹھ کے عشرے ن میں لیفٹ تحریک چین نواز اور ماسکو نواز کی بنیادوں پر دوحصوں میں بٹ گئی۔
ون یونٹ ٹوٹاا اور اس کے کچھ عرصے بعد جب سندھ اسمبلی بنی تو سندھ کے اندرونی علاقے آئے ہوئے لوگ اور کراچی کے لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے اور عجیب محسوس ہونے لگے۔
اس تحریک سے سیاسی ڈائنامکس تبدیل ہوا کہ پیپلزپارٹی وجود میں آئی۔ اس پارٹی نے نہ صرف اس نعرے کو بلکہ متحرک طبقات کو اپنی طرف کھینچا۔ اور اس پوری صورتحال کو کیش کیا۔ کمیونسٹ تحریک پر ایک تنقید یہ بھی ہے کہ اس نے اس نے اس بدلتی ہوئی صورتحال کا ادراک نہیں کیا۔براہ راست سوشلزم کا نعرہ دینے اور تنظیم کو اس طرف لے جانے کے بجائے اور خود کو قوم پرستوں سے بھی زیادہ قوم پرست ثابت کرنے کی کوشش کی۔ لہٰذا صرف نعرہ ہی نہیں بلکہ اسپیس اور
کیڈر پیپلزپارٹی بہا لے گئی۔ پارلیمانی سیاست سے جی ایم سید کی دوری نے اس مظہر کو مزید مضبوط کیا۔
ایوب خان کے خلاف طلبائ، مزدور اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ صدارتی انتخابات نے سیاسی جماعتوں کو بھی ایوب کے خلاف متحرک کر دیا۔
بھٹو اپنی کرشماتی شخصیت، وسائل اور عملیت کی وجہ سے یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوگئے کہ وہ متوسط طبقے کے ان مطالبات کو عملی طور پر ایڈریس کر سکتے ہیں ۔ بنگال میں فوجی کارروائی کے دوران صورتحال یہ تھی سندھ کی قوم پرست نہ موثر موقف اختیار کر سکے اور نہ ہی اسکا اظہار کر سکے۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ شاید وہ اسٹبلشمنٹ کے پورے کھیل کو سمجھ بھی نہیں پا رہے تھے۔ ڈر کے عنصر کے ساتھ ساتھ یہ بھی عنصر موجود تھا کہ کیا واقعی بنگالیوں کی تحریک آزادی کامیاب ہو سکے گی؟ ۔سندھ سے نحیف سی آواز صرف اگر اٹھ رہی تھی تو وہ کمیونسٹوں کی تھی۔
بھٹو کی پیپلزپارٹی:
اپنے پورے دور حکومت میں بھٹو اور قوم پرست دو الگ انتہائیں رہیں۔لیکن بھٹو نے متوسط طبقے اور اس کے مطالبات کو ایڈریس کرنے کی کوشش کی۔ تعلیم، ملازمتیں، دیہی علاقوں میں سہولیات، زبان اور ثقافت کے اشوز کو یا بڑی حدتک حل کیا یا پھر ڈی فیوز کیا۔ یوں سندھ میں قوم پرست اور لیفٹ کی تحریک جن بنیادوں پر کھڑی تھی اس کو بھٹو نے کمزور کردیا۔ لوگ بھٹو کو اپنے ساتھ کھڑا ہوا محسوس کر رہے تھے ۔ خود کو عوامی رنگ دینے کی کوشش کی۔
جب 1973 کا آئین بنا تو جی ایم سید نے پارلیمانی سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور سندھو دیش کا نعرہ لگایا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ اپسکتان کے ملکی ڈھانچے میں سندھ کو حقوق کا تحفظ ممکن نہیں ۔ لیکن بھٹو کی پالیسیوں کی وجہ سے یہ نعرہ بعض فکری حلقوں سے ہٹ کرعوامی سطح پر مقبولیت نہیں حاصل کر سکا ۔
بھٹو کے نئے پاکستان کی بنیاد سندھ اور پنجاب کے اتحاد پر تھی۔ جس سے پنجاب اور۔ مہاجر اتحاد جو قیام پاکستان کے بعد قائم ہوا تھا، ٹوٹ گیا۔
ٓٓٓٓ ٓٓبھٹو دور میں پاکستان کی سیاست میں سندھ کا شیئر یا کلیم شروع ہوا۔ سندھ میں ٹپیکل پنجاب مخالف سیاست تھی اس میں بھٹو پل بنایا۔
پاکستان قومی اتحاد کی تحریک
یہ سب معاملہ پاکستان قومی اتحاد کی نو ستاروں والی تحریک تک چلتا رہا۔ مسلم ممالک کو کٹھا کرنے، جوہری پروگرام اور مستقبل میں خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال جو بعد میں افغان اشو ، ایران ی انقلاب کی شکل میںسامنے آئی۔ان کی وجہ سے امریکہ اورپاکستانی اسٹبلشمنٹ بھٹوکو رکاووٹ سمجھ رہے تھے۔ وہ اسلام آباد میں تبدیلی لانا چاہتے تھے۔اور انہوں پی این اے تحریک کے ذریعے یہ کیا۔ پی این اے اور بھٹو کے درمیان کامیاب مذاکرات کے باوجود ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ضیاءالحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا۔ جو اگلے دس سال تک رہا۔
پاکستان بننے میں سندھ آگے آگے رہا لیکن پاکستان بننے کے بعد وسائل، اختیار، اقتدار، ملازمتوں اور نئے ملک کے دیگر ثمرات میں میں حصہ نہ ملنے کی وجہ سے سندھ ڈپریشن میں چلاگیا۔ بھٹو نے لوگوں کو اس سے نکالا۔ زرعی اصلاحات ، شگر ملیں، کوٹہ سسٹم ، اسوقت سندھ کے دیہی علاقوں کو فائدہ پہنچا۔ سندھ کے لوگوں کو بظاہر بھٹو کی دوسری کسی تحریک سے اختلاف نہیں ہوا۔ اس کے اثرات پی این اے کی تحریک میں بھی نظر آئے۔ ان چیزوں نے سندھ کے عوام کا بھٹو کے ساتھ بانڈ مضبوط کیا۔
بھٹو کا تعلق سندھ سے تھا اور بھٹو نے بڑی حد تک سندھ کے متوسط طبقے کو اکموڈیٹ کیا تھا۔ سندھ کے لوگوں کو اقتدار میں شمولیت کا احساس دلایا تھا۔قیام پاکستان کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ سندھ کے لوگوں میں حاکمیت کا احساس پیدا ہوا۔ اس لئے بھٹو کو ہٹانے سے سندھ کے لوگوں کولگا کہ ان سے کچھ چھن گیا ہے۔
بھٹو کو پھانسی کو سزائے موت سنانے کے بعد اور اس سزا پر عمل درآمد پر سندھ بھر میں احتجاج ہوتا رہا۔ یہ احتجاج کارکنان اپنی سطح پر اور اپنے طور پر کر ہے تھے۔ سوائے شروع کے چند ماہ کے جب بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو دورے کر رہی تھیں۔ اس کے بعد پیپلزپارٹی کی درمیانی قیادت غائب تھی۔
ایم آرڈی تحریک
افغان جنگ کے بعد ضیا نے زیادہ سکٹ سیاسی پالیسی اختیار کی۔ ملک کے سیاسی، فکری ، معاشی نظام کو کچھ اس طرح سے جوڑنا شروع کیا جو ملک کے اکثرطبقات اور سیاسی جماعتوں کو قبول نہیں تھا۔ اس بات نے ملک کی اہم پارٹیوں کو جمع ہونے پر مجبور کردیا۔ اور انہوں نے تحریک بحالی جمہوریت کے نام سے اتحاد قائم کرلیا۔ فروری 1982 میں یہ اتحاد قائم ہوا لیکن پی آئی اے کے جہاز کی ہائی جیکنگ کے واقعہ نے اس تحریک کو غیر فعال کردیا۔
بالآخر اگست 1983 میں یہ تحریک مارشل لا کے خاتمے اور انتخابات منعقد کرانے کے مطالبے سے شروع ہوئی۔ تحریک کا طریقہ یہ رکھا گیا کہ رہنما اور کارکنان پرامن طور پر گرفتاریاں پیش کریں گے۔ ایم آرڈی کی اپیل ملک بھر میں تحریک چلانے کی تھی۔ لیکن اس نے صرف سندھ میں ہی زور پکڑا۔ یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ اس تحریک نے سندھ کے ہر گھر کو متاثر کیا۔ اسکول کی عمر کے بچے بھی گرفتار ہوئے۔ اس تحریک میں سندھ کی مذہبی، سیاسی اور بائیں بازو کی سب جماعتیں شامل تھیں ماسوائے جماعت اسلامی اور پیر پاگارا کے۔ یہ صحیح ہے کہ سائیں جی ایم سید اس تحریک کے حق
میں نہیں تھے۔ لیکن بڑی تعداد میںقوم پرست گروہ اور کارکن اس تحریک کا حصہ بنے۔
ہر پارٹی جو سندھ میں وجود رکھتی تھی اس کو ایم آرڈی تحریک میں حصہ لینا پڑا۔ جے یو آئی ، پلیجو کی عوامی تحریک، کمیونسٹ پارٹی ، لیفٹ کے دیگر چھوٹے گروپ سندھ وطن دوست پارٹی وغیرہ، قوم پرستوں کے مختلف حلقے اس تحریک کا متحرک حصہ رہے۔ سند ھ میں یہ گلی گلی کی لڑائی یا حتجاج تھا۔ لوگوں نے سکرنڈ ،خیرپور ناتھن شاہ، میہڑ میںفوج سے ٹکر کھائی۔ یہ لوگ مسلح نہیں تھے۔ نہتے تھے۔اسکول اور کالج کے بچوں تک نے قید اور کوڑوں کی سزائیں کھائی۔درجنوں کی تعداد میں خواتین کو گرفتار کیا گیا۔ فوجی اقدام اور تشدد کے ذریعے اسے دبانے کی کوشش کی گئی
غلام مصطفیٰ جتوئی خاندان کی خواتین پہلی مرتبی باہر نکلیں۔ مختلف جماعتون اور گروہوں کے سیاسی کارکنوں کے آپس میں اور ایک دوسرے کی قیادت سے رابطے اور تعلق بڑھے۔ ریڈکلائزیشن بڑھی۔ جیل تربیت گاہیں بن گئیں۔ اس سے اشرافیہ اور خود تحریک چلانے والے بھی ڈر گئے کہ تحریک اب ان کے ہاتھوں سے نکل رہی ہے۔ اور عوام کے ہاتھوں میں جارہی ہے۔ غلام مصطفیٰ جتوئی جو اس تحریک کے روح رواں بنے تھے وہ سینٹرل جیل کراچی کے ریسٹ ہاﺅس میں نظر بند تھے۔ جہاں ان کے مارشل لا ءحکام سے مذاکرات چل رہے تھے۔ محترمہ بینظیر بھٹو سینٹرل جیل میں قید تھیں انہیں کان میں تکلیف تھی۔ اچانک غلام مصطفیٰ جتوئی کا بیان آیا کہ” ماضی کی تلخیوں کو بھلا دو“۔یہ تحریک کے خاتمے کا اعلان تھا۔ اور وہ بیرون ملک چلے گئے۔ چند روز بعد محترمہ بھی علاج کے لئے بیرون ملک چلی گئی۔
بعض مورخین کے مطابق اس تحریک میں دو سو سے زائد افراد مارے گئے اور پندرہ ہزار سے زائد گرفتار کر لئے گئے۔ تحریک کا زور سندھ میں ویسے ہی بہت تھا ، اوپر سے اس تحریک کو ملک گیر بننے سے روکنے کے لئے سندھ کو ٹارگیٹ کرکے تشدد کیا گیا۔ یوں ایم آرڈی سندھ کی تحریک بن گئی۔
سید کے بغیر سندھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ سید نے ایم آرڈی سے خود کو دور رکھا۔ پارلیمانی سیاست سے قوم پرست سیاست کو دور رکھنے کی غلطی کے بعد یہ شاید سید کی دوسری غلطی تھی۔ کہ سندھ کے عوام ووٹ میں قوم پرستوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ لیکن اسٹریٹ پاور یا سڑکوں پر احتجاج میں بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ ہیں۔
جام ساقی کیس
80ءکے عشرے شروع ہوتے ہی کمیونسٹ پارٹی کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ افغانستان میں سوویت فوجوں کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان کے فوجی حکمران اور بھی ڈر گئے۔ ضیاءحکومت نے ملک بھر میں کمیونسٹوں کو کچلنے کی حکمت عملی بنائی۔ ملک بھر میں پارٹی کارکنوں کی درجنوں گرفتاریاں ہوئیں۔ بالآخر 1980 میں ایجنسیاں کراچی اور حیدرآباد میں پارٹی کے خفیہ دفاتر کا کھوج لگانے میں کامیاب ہوگئیں۔ گرفتار شدگان کو مختلف گروپوں میں فوجی عدالتوں میںمقدمات چلا سزائیں دی گئیں ۔ ان میں سے جام ساقی کیس تین وجوہات کی بناءپرسب سے بڑا کیس بنا۔
اول یہ کہ یہ کیس پارٹی کے دفاتر پر چھاپے حوالے سے تھا۔ اور اس کیس میں جام ساقی اور پارٹی کے قائم مقام سیکریٹری جنرل پروفیسر جمال نقوی کو بھی شامل کردیا گیا تھا۔ دوسرے یہ کہ ان پر براہ راست یہ الزام لگایا گیا کہ یہ لوگ ملک میں کمیونسٹ نظام لاناچاہ رہے تھے اور اس کی تیاری میں مصروف تھے۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ اس مقدمے میں ملک کے تمام جمہوری سیاسی رہنماﺅں کو بطور دفاع کے گواہان کے طلب کیا گیا۔ اس امر نے آگے چل کر ایم آر ڈی کو دوبارہ منظم کرنے میں بڑٰ مدد دی، جو کہ 1981 میں الزوالفقار کی جانب سے پی آئی اے کے جہاز کے اغوا کے بعد بددلی اور بے عملی کا شکار تھی۔
ایم آرڈی کی تحریک تمام خامیوں کے باوجود یہ تحریک اتنا دباﺅ ڈال سکی کہ جنرل ضیا ( غیر جماعتی ہی سہی) انتخابات کرانے پر تیار ہوگئے۔ لیکن اس سے پہلے اخلاقی اور قانونی جوازکے طور پر اپنے حق میں ریفرینڈم کرایا۔
خطرے کی گھنٹی
ضیا کو یہی خوف رہا کہ اگر کچھ ردعمل سندھ ہی سے آنا ہے۔ سندھ کے لوگوں میں اینٹی اسٹبلشمنٹ سوچ آ گئی ہے۔ جب اس اظہار کا ایم آرڈی کی تحریک میں بھرپور اظہار ہوا۔ اسٹبلشمنٹ کو خطرے کی گھنٹی محسوس ہوئی۔ ملک میں فکری تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے تسلیم کرتے ہیں کہ ایم آر ڈی کے دوران سندھ میں جس نچلی سطح پر سیاست، ایکٹوازم اور ریڈیکلائزیشن بڑھ گئی تھی۔ لیفٹ خاصا مقوبل ہو رہا تھا۔ اس ریڈیکلائیزیشن کو توڑنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اور اس کے لئے ایک سے زائد طریقے اختیار کئے گئے۔
ایم آرڈی کی تحریک کے فورا بعد سندھ میں ڈاکو فیکٹر نمودار ہوا۔مارشل لا کے ہوتے ہوئے ڈاکو فیکٹر کا بڑھنا تعجب خیز تھا۔ اس کو ایم آرڈی تحریک سے جوڑنے کی بھی کوشش کی جاتی رہی۔ بعض قوم پرست گروپوں میں اسلح متعارف ہوا۔ اس فیکٹر بعد میں ڈاکو کے نام پر آپریشن کیا گیا، ادیبوں دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔قانون نافذ کرنے والے لوگوں کے گھروں میں ڈاکو کے نام پر گھس جاتے تھے۔
یہ آپریشن اس وجہ سے بھی ضروری بن گیا کہ جس کی بھی کچے میں زمین تھی وہ حکومت کے ساتھ ہوا۔ ان میں نوشہروفیروز اور دادو کے جتوئی، شکارپور اورگھوٹکی کے مہر اور دیگر لوگ شامل تھے ۔مارشل لاءسے ان کے سیاسی اور معاشی مفادات تھے۔ یہ مشرف دور کا قصہ ہے کہ اغوا برائے تاوان اور ڈاکو گردی نے باقاعدہ انڈسٹری کی شکل اختیار کی۔
طلبہ تحریک اور اسلح
ضیاءدورمیں طلبہ میںمارشل لا ءمخالف کے بڑھتے جذبات اور کسی امکانی تحریک کو روکنے کے لئے اسلامی جمیعت طلبہ کے ذریعے اسلح متعارف ہوا۔ ضیا نےتعلیمی اداروں میں اسلح کو روکا نہیں اس کو بڑھاوا دیا۔ اسلح کی متعارف ہونے کے بعد طلبہ تحریک میں تشدد کا عنصر شامل ہوا۔اندرون سندھ یہ کام جیئے سندھ کے ایک گروپ نے کیا۔ اسلح کا مظاہرہ کچھ اس طرح ہوا کہ چھوٹے گروپ اپنا تسلط برقرار رکھ سکیں۔ آگے چل کر” کس کے پاس کتنا اسلح ہے وہ بڑا“ ک سمجھا جانے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ جرائم کاعنصر بھی آگیا۔
مذہبی تنگ نظری اور انتہا پسندی
سندھ مذہبی اور عقیدے کے حوالے سے رواداری کی سرزمین رہی ہے جسے انتہاپسندی نہ ہونے کی وجہ سے صوفیوں کی دھرتی کا نام دیا جاتا ہے۔ سندھ کی صرف اتنی ہی خصوصیات نہیں۔ سندھ میں پچاس کے عشرے میں جو بڑے پیمانے پر بٹئی تحریک، الاٹی تحریک اور سندھ ٹیننسی ایکٹ کی تحریکیں چلیں اور کامیابیاں حاصل کیں ۔ اس ہاری تحریک کے رہنماﺅں کامریڈ نذیر جتوئی، عزیزاللہ جروار، کامریڈ رمضان شیخ، مولانا ہالیجوی ، مولانا عبدالحق ربانی اور دیگرحضرات دیوبند کے سند یافتہ علماء تھے اور سرخے مولوی کہلانے والے یہ حضرات ہمیشہ ترقی پسند اور تحریک کا حصہ اور قوم پرست تحریک کے حامی رہے۔ کھڈہ مدرسہ کراچی کے علماءکا اس حوالے سے خاص کردار رہا ۔
جمیعت علمائے اسلام جو دراصل جمیعت علمائے ہند کا حصہ تھی اس نے خود کو اپنے بنیادی فکر سے دور کیا۔پرانے علماءکی یہ کھیپ مر کھپ گئی۔ ضیاءالحق نے افغان جنگ کے حوالے سے اس مکتب فکر کو استعمال کیا۔ اور اس طرح کی انتہا پسندی کی لائین اختیار کی کہ ان کا ایک دھڑا آگے چل کر مولانا سمیع الحق کی قیادت میں طلباءکا ”باوا“ بنا۔
جے یو آئی کی قیادت پر سیکولر اثرات کم ہوتے گئے۔ کھڈہ کراچی کے روشن خیال اور رواداری رکھنے والے علماءنے علحدگی نے جے یو آئی سے علحدگی اختیار کر لی۔ پرانے فکر کے لوگ مر کھپ گئے۔ اب نئے مدرسوں سے قیادت آرہی تھی۔ الازہریونیورسٹی سے فارغ التحصیل ان کی جگہ لے رہے تھے۔اب ان کو ریشمی رومال تحریک یاد نہیں۔ سمیع الحق، افغان جنگ میں جے یو آئی فریق بنی۔
ضیا دور کے اسلامائیزیشن کے اثرات اس حد تک ہوا کہ سندھ میں پہلی بار منظم طریقے سے مدرسے کھلنا شروع ہوئے۔ اس کے اظہار کے طور پر سندھ یونیورسٹی جو اس سر زمین کی سیاست ، فکر اور سوچ کا س سرچشمہ سمجھی جاتی تھی وہاں باب الاسلام کے نام سے ٹاور بنایا گیا۔
بریلوی مکتب فکر سے تعلق ہونے کی وجہ سے جمیعت علمائے پاکستان کی سندھ میں صوفی کلچر کے حوالے سے گنجائش بنتی تھی۔ لیکن اس جماعت نے خود کو ووٹ کی سیاست کی وجہ سے صوبے کے دو بڑے شہروں تک محدودرکھا۔لہٰذا سندھ کی مقامی اور دیہی آبادی اس سے دور رہی۔ 80 کے عشرے میں اسکو سیاسی لحاظ سے ایم کیو ایم نے اور مذہبی حوالے سے دیوبندی مکتب فکر کے نام سے کام کرنے والے گروپوں نے replace کردیا۔ جماعت اسلامی مذہبی جماعت ہونے کے باوجود صوبے کے دو بڑے شہروں میں ہی کام کر رہی تھی اسکا محور بھی ہر پنجاب بیسڈ پارٹی کی طرح سندھ کے شہر تھے، جہاں پر بھارت سے منتقل ہو کر پاکستان میں آباد ہونے والے لوگ تھے۔ اس وجہ سے اس کی شناخت بھی مذہبی اور مہاجر وں کی پارٹی کی طرح رہی۔ لہٰذا جماعت اسلامی بھی جے یو پی کی طرح اندرون سندھ پذیرائی حاصل نہ کرسکی۔
پاگار ا فیکٹر
سندھ میں ساٹھ کے عشرے تک جوسیاسی رجحانات پروان چڑھ رہے تھے۔ان میں ایک بھٹو فیکٹر، دوسرا جی ایم سید کی قوم پرستی اور تیسری لیفٹ کی سوچ تھی۔ اس وقت پیر پاگارا کسی حساب میں ہی نہیں تھے ۔ 1970 کے انتخابات میں بھی پیرپاگارا کی سیاسی طور پر یہی صورتحال رہی۔ مستقبل میں صورتحال کچھ یوں بن رہی تھی کہ پیپلزپارٹی، قوم پرست اور ترقی پسند ایک دوسرے کے compititors بن رہے تھے یا سیاسی جوڑ توڑ میں ایک دوسرے کے اتحادی یا مخالف بن رہے تھے ۔ 70 کے بعد پیر پاگارا سے اسٹبلشمنٹ کی انڈر اسٹینڈنگ بنی۔ بھٹو کو جی ایم سید نے ری پلیس نہیں کیا بلکہ پاگارا نے کیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ بھٹو کے خلاف بننے والے اتحاد پی این اے میں بھی پیر پاگارا کوابتدائی طور پر سرکردہ کردار دیا گیا۔ آگے چل کرپیر پاگارا کے کہنے پر جنرل ضیا نے محمد خان جونیجو کووزیر اعظم بنایا گیا۔ سندھ میں بھٹو کے بعد پاگارا کو بڑا لیڈر یا نمائندہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
ایم رڈی کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے نئی سیاسی حکمت عملی بنائی گئی۔ ڈی فیوز کرنے کے لئے غیر سیاسی جماعتی انتخابات کرائے۔ کچھ وڈیرے پارٹی چھوڑ کر چلے گئے۔۔ پیپلزپارٹی نے غیرجماعتی انتخابات کا بائکات کیا، جس کا نقصان ہوا اس کا اعتراف خود بینظیر نے بھی کیا کہ بائکاٹ کر کے غلطی کی ہے۔ جنرل ضیاء نے ان کو اپنے ساتھ جوڑے کھنے کے لئے ملازمتوں کی کوٹہ اور ترقیاتی فنڈز دیئے گئے۔ یوں سرکاری سطح پر اور بڑے پیمانے پر سیاست میں کرپشن کا آغاز کھلے عام ہو گیا۔ اسکے اثرات یہ ہوئے کہ آگے چل کر بینظیر سمیت بعد میں آنے والی تمام حکومتوں کو کو بھی اس پالیسی کو جاری رکھنا پڑا۔
غیر جماعتی انتخابات اوراشرافیہ کی نئی سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے یہاں سے نئے پاور بروکرز متعارف ہوئے۔
جونیجو دور میں اسکول کھلے، ملازمتیں ملیں۔ترقیاتی کام بھی ہوئے۔زیادہ تر ترقیاتی کام نچلی سطح پر کرائے گئے تاکہ لوگ دیکھ سکیں اور اس کا فوری فائدہ محسوس کریں ۔ 85 ء کی اسمبلی میں سب کے سب غیر سیاسی نہیں تھے۔ وہ بھی تھے جو سیاست کا اچھا خاصا تجربہ رکھتے تھے۔ لوگوں کو کرپٹ کرنے کے لئے فنڈز، ملازمتوں میں کوٹہ اور دیگر مراعات ملنے لگیں ۔ سندھ کی وڈیرہ اشرافیہ کو لگا کہ بھٹو لیڈیز کو اب اقتدار ہیں ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ غلام مصطفیٰ جتوئی اور بعد میں مخدوم رفیق الزماں اور میر ہزار خان بجارانی وغیرہ نے پیپلزپارٹی چھوڑ دی۔
جونیجو نے جینیوا معاہدہ، اوجڑی کیمپ واقعہ کی تحقیقات سمیت جب سیاسی اثرات دکھانے کی کوشش کی تو انہیں گھر بھیج دیا گیا۔بہاولپور واقعے میں ضیاءالحق کی موت نے ایک نئی صورتحال پیدا کردی۔ جی ایم سید نے خود کو انتخبات سے دور رکھا۔ لیکن انہوں نے سندھ نیشنل الائینس کے نام سے پیپلز پارٹی مخالف افراد کا اتحاد بنا کر قوم پرستی کی چھتری فراہم کی۔ لیکن یہ چھتری کام نہ آسکی۔ 88ع کے انتخابات میں ایک بار پھر لوگوںنے اپنی رائے کا بھرپور اظہار کیا۔ پاگارا، غلام مصطفیٰ جتوئی جیسے بڑے بڑے بت پیپلزپارٹی کے ہاتھوں گر گئے۔ گرا دیئے گئے۔
بینظیر دور میں ملازمتوں کے دروازے کھل گئے۔ کمیشن کو بائی پاس کر کے ملازمتیں دی گئیں۔ اس دور کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ
سیاسی خاندانوں کی بیوروکریسی میں شمولیت ہوئی۔آج سندھ میں بعض اہم سیاسی خاندان بشمول ہالہ کی مخدوم فیمیلی، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، گھوٹکی کے بااثر شخصیات کی فیملی کے افراد سرکاری ملازمتوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
ایک رجحان یہ بھی متعارف ہوا کہ لوگ اسٹبلشمنٹ یا حکومت سے لڑنے کے بجائے آپس میں لڑیں۔ لہٰذا لسانیت، فرقے، عقیدے وغیرہ کے حوالے سے جو فسادات اور مارا ماری ہوتی رہی وہ اسی زمرے میں آتی ہے۔
ایم کیو ایم کا قیام
ایم آرڈی سے پہلے ایم کیو ایم کا کوئی جود نہیں تھا۔ ترقی پسند مہاجر پیپلز پارٹی یا لیفٹ کے ساتھ تھے، باقی جماعت اسلامی یا جے یو پی کے ساتھ ۔ ایم آرڈی دیہی آبادی کا احتجاج اور اظہار تھا جس کو کاﺅنٹر کرنے کے لئے شہری آبادی کو سامنے لایا گیا۔
جونیجو دور میں ہی سندھی مہاجر تضاد بڑھا۔ تیس ستمبر کا حیدرآباد کا سانحہ اور اسکے جواب میں کراچی کا سانحہ صرف
انتخابات ملتوی کرانے کے لئے نہیں تھا بلکہ سندھ کی آبادی کو مستقل بنیادوں پر تقسیم کرنے کا فارمولا بھی تھا۔ اسٹبلشمنت کی جانب سے مہاجرقیادت کو یہ ذہن میں ڈالا گیا کہ واپس پیپلزپارٹی اقتدار میں آرہی ہے۔اس کے تور کے لئے ایم کیو ایم کو پروموٹ کیا۔
بعد میں سندھی مہاجر تضاد حکومت کو ٹربل میں رکھنے اور جمہوری عمل کو عدم استحکام میں رکھنے کے لئے جاری رکھا گیا۔سندھ کی دو کمیونٹیز دیہی اور شہری کا آپس میں ٹکراﺅ کسی بھی طور ان کے مفاد میں نہیں تھا۔اس دراڑ کی وجہ سے سندھ کا متحدہ موقف ختم ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو اسپیس بنا وہ باہر کی آبادی نے پر کیا۔ایم کیو ایم کو اگرچہ احساس ہوا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
یہ امر غور طلب ہے کہ پچاس اور ساٹھ کے عشرے تک کراچی کا پروفائیل ترقی پسندانہ اور جمہوری ہوا کرتا تھا۔ وقت گرزنے کے ساتھ وہ غیر جمہوری اور رجعت پسندانہ ہوتا گیا۔ ایک جدید صنعتی شہر بڑی صنعتوں اور بڑے بزنیس کے ایم آرڈی کی تحریک کے زمانے میں اور اس کے بعد باوجود لسانیت اور فرقہ پرستی میں چلا گیا۔
ایم آرڈی کا ابھار اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جاگرتا اور ریڈیکلائیزیشن کے مدنظر اسٹبلشمنٹ نے دو اہم فیصلے
کئے۔ ایک یہ کہ اب ملک میں سیاست پر کنٹرول ہو یعنی کنٹرولڈ پالیٹکس ہوگی۔ اس کا اظہار ہم ضیا کی غیر جماعتی انتخابات اور اس کے بعد نوے کے عشرے میں منتخب وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کی موجودگی میں اہم فیصلوں کے لئے ٹرائیکا کا قیام اور اسمبلیاں توڑنے اور آئی جے آئی کے قیام کے عمل کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔ دوسرا اہم قدم کسی کو مقبول لیڈر بننے نہ دینا۔ اگر کوئی اس پوزیشن میں ہو تو اسے تسلیم نہ کرنا۔ لہٰذا بنیظیر بھٹو کو پی ڈٰ اے کی شکل میں انتخابات لڑنے پڑے۔ بنیظیر بھٹو اور نواز شریف کی منتخب حکومتوں کو دو دو مرتبہ ہٹایا گیا۔
نظریاتی سیاست کا خاتمہ
سوویت یونین کے ٹوٹنے کے اثرات تو دنیا بھر میں پڑے لیکن پاکستان میں خاص طور پر پڑے۔ یہاں نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کی ایک وجہ کمیونسٹ پارٹی کی اکثریت اور اقلیت کی بنیاد پر ایک بار پھر تقسیم تھی۔اس تقسیم کے بعد پارٹی اور ترقی پسند تحریک کو وہ پذیرائی نہ مل سکی جو پچاس کے عشرے لیکر اسی کے عشرے کے آخر تک حاصل تھی۔
سیاسی کارکناں ناپید
نوے کے عشرے کا یہ بھی المیہ ہے کہ اس میں کمیونسٹ پارٹی جو تمام سیاسی کارکنوں کے نزدیک رول ماڈل تھی وہ دو حصوں میں بٹ گئی۔ انقلاب کے ساتھ رومانس کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ سندھ میں کمیونسٹ تحریک جو بنگال کے بعد کبھی ملک بھر میں مثالی اور مضبوط سمجھی جاتی تھی وہ دم توڑنے لگی۔ سینکڑوں کی تعداد میں اس کا کیڈر پہلے گومگو کی حالت میں رہا۔ بعض مایوس ہو کر بیٹھ گئے کچھ مین اسٹریم کی سیاست کی طرف گئے۔ یہ توڑ پھوڑ سیاسی طور پر سندھ کا اتنا بڑا نقصان تھا جس کا ازالہ آنے والے وقتوں میں شاید ہی ہو سکے۔
پیپلزپارٹی کو سندھی پارٹی بنانا
پانی کا معاہدہ، مردم شماری ، نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ جیسے بعض امور جن کا تعلق بین الصوبائی تھا۔ ان کا فیصلہ کرنا پیپلزپارٹی کے بس میں نہیں تھا۔ وہ نہ پنجاب کو ناراض کرنا چاہتی تھی اور نہ سندھ میں اپنی مقبولیت کو کم کرنا چاہتی تھی ۔ پنجاب میں نواز شریف جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگا رہا تھا۔ ایسے میں دیگر پیپلزپارٹی مخالف قوتیں بھی سرگرم ہو گئیں ۔ اور بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی گئی۔ نواز شریف کا دوسرا دور حکومت جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا۔انہیں پنجاب میں فائدہ ضرور ہوا لیکن سندھ میںانہوں نے خود کو تنہا کردیا۔ یہ نعرہ یہاں پرپیپلزپارٹی کے لئے فائدہ مند ہوا۔ پیپلزپارٹی پر قوم پرست جماعت قرار دے دی گئی۔
جام صادق فارمولا :
سندھ میں اکیلی نشست رکھنے والے جام صادق علی کو وزیراعلیٰ مقرر کردیا گیا ۔ اس نے اسٹبلشمنٹ کی حمایت اور ڈنڈے کے زور پر اکثریت حاصل کرلی۔ یہ نیا فارمولا تھا کہ کس طرح سے مقبول سیاسی جماعت کو اقتدار سے دور رکھا جائے۔ اس فارمولے پر بعد میں گاہے بہ گاہے عمل ہوتا رہا۔ مظفر حسین شاہ، لیاقت جتوئی، علی محمد مہر اور ارباب غلام رحیم اسی فارمولے کے تحت وزیراعلیٰ بنے۔ یاد رہے کہ بغیر پیپلزلپارٹی کے سندھ میں جو بھی سیٹ اپ بنے ان سب کو پیر پاگارا کی آشیرواد اور ایم کیو ایم کی حمایت حاصل رہی ۔
افغان جنگ کے سندھ پر خصوصی اثرات
افغان جنگ کے منفی اثرات ملک بھر میں پڑے۔ سندھ میں اضافی اثر یہ پڑا کہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے ساتھ سا تھ کو ٹری اور عمرکوٹ جیسے چھوٹے شہروں میں بھی افغان پناہ گزین آکر آباد ہوئے۔ اس کی وجہ سے مجموعی طور پر صوبے کے مختلف علاقوں کا مزاج جو پہلے کبھی سافٹ ہوا کرتا تھا، وہ اب ہارڈ ہو گیا۔ صوبے کے دو بڑے شہروں خاص طور پر کراچی میں ریاستی اداروں کی پشت پناہی کی وجہ سے افغانیوں اور دیگر غیر قانونی تارکین وطن کے لئے دروازے کھلے رہے، لیکن اندرون سندھ سے آنے والے لوگوں کو متحدہ اور دیگر گروپوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا بڑا اظہار 2010 اور 2011 کے سیلابوں کے موقعہ پر دیکھنے میں آیا۔ یوں سندھ کا بے گھر اور بے روزگار ہونے والا کسان اپنے صوبے کے دارلحکومت اور صنعتی شہر میں روزگار ڈھونڈنے یا بسنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کے کراچی کی ڈیموگرافی، سماجیت ، سیاست کے علاوہ دیہی معیشت اور کسان جو مزدور طبقے میں شامل ہو سکتا تھا اس پر بھی اثرات پڑے۔
قبائلی اور برادری سسٹم نیا جنم
مشرف دور کے بلدیاتی نظام اور طرز حکمرانی نے سندھ میں قبائلی سسٹم کو نئی جان دے دی۔ ایک بار پھر سندھ جو ساٹھ اور ستر کے عشرے میں سیاسی طور پر شعور حاصل کر چکا تھا، سماجی طور پر واپس قبائلی سسٹم میں دھکیل دیا گیا۔ اس کے صوبے کی سیاست، سماجیت اور معیشت پر اثرات پڑے ، اس کے ساتھ ساتھ امن و مان کا مسئلہ بھی شدید تر ہو گیا۔ سندھی سوسائٹی کو متحد ہونے میں ایک اور رکاوٹ کھڑی ہوگئی۔ بڑے وڈیروں کو ان کے اضلاع ففڈم ( چھوٹی بادشاہتیں)کے طور پر مل گئے۔ سیاسی کارکن ، متوسط طبقے اور کسان کی حالت اور اثر رسوخ اور طاقت مزید کمزور ہوگئی۔
سندھی اربن مڈل کلاس کا ظہور
قیام پاکستان کے بعد جو اسپیس خالی ہوا تھا اس نے ساٹھ سال کے بعد ایک شکل اختیار کی۔ ملازم پیشہ، حکومت کی رہنے کی وجہ سے چھوٹا موٹا سرمایہ کار کلاس پیدا ہوا۔ اس ابھرتے ہوئے سندھی اربن کلاس کلاس کے تقرر تبادلے، ٹھیکہ وغیرہ کے مفاد ات ہیں۔ اس لئے وہ اپنا سیاسی نقطہ نظر بیان نہیں کر رہا۔ اگرچہ اس کا سیاسی حوالے سے دہرا کردار ہے جو مڈل کلاس کا خاصہ ہوتا ہے لیکن اس طبقے نے دو کام کئے شہروں میں گھر بنائے۔ اور بچوں کو بہتر تعلیم دلائی۔ سکھر وغیرہ میں بچے پہنچے ہیں ایک نئی کھیپ آرہی ہے جس سے مڈل کلاس کا سائیز اور بڑھے گا۔
سندھ میں اب بڑی تعداد میں اربن مڈل کلاس پیدا ہو چکا ہے ۔ سرکاری خواہ نجی اداروں میں ملازمتوں اور چھوٹے موٹے کاروبار میں موجود ہے۔ کاروبار کرنے والے وہ لوگ ہیں جو بھٹو دور اور بینظیر دور میں بھرتی ہوئے تھے اب ریٹائر ہیں۔ مشرف دور میں ملازمتوں پر پابندی کی وجہ سے پرائیویٹ جاب کی طرف رجحان بڑھا۔ پڑھے لکھے یا ملازمت پیشہ افراد کے علاوہ سیلاب کی وجہ سے یا پھر لوگ تعلیم اور صحت کی سہولیات کی لئے شہروں کا رخ کیا۔ برادری اور قبیلے سے نکلے شہروں میں دکانداری یا دوسرے خود ملازمت والے کاموں میں آئے۔ دیہات سے آنے والے اب شہروں میں آکر رکشہ، چلانا ٹھیلہ لگانے اور دوسرےاس طرح کے چھوٹے موٹے کام کرنے لگے ہیں اب یہ لوگ کسی وڈیرے کے اثر میں نہیں۔
مزاحمتی سندھ میڈیا کا اجرائ
فعال اور مضبوط سندھی میڈیا کا ابھرنا ایم آرڈی کا ہی نیتجہ ہے۔ اس تحریک میں جو فکری اور سیاسی تبدیلی آئی اس کو روایتی سندھی میڈیا جس کو غیر سیاسی میڈیا کا نام دیا جاسکتا ہے پورا نہیں کر رہی تھی۔ اس کے نتیجے میں نیا سندھی میڈیاا وجود میں آیا، جو سیاسی تھا، روشن خیال، اور اپنے کردار میں مزاحمتی تھا۔ اسکی قیادت کمیونسٹ پارٹی کے پرانے کارکنان کر رہے تھے ۔
طلبہ سیاست
سندھ میں اب عملا طلبہ سیاستموجود نہیں ہے۔ سندھ کی یونیورسٹیاں کبھی قوم پرست سیاست کے لئے آکسیجن ہوا کرتی تھیں۔ اب سیاسی جماعتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے شہری علاقوں میں ایک ایسا حلقہ دستیاب ہے جو جلسے جلوس اور مظاہرے وغیرہ میں کام آ جاتا ہے۔ طلبہ سیاست کے ویسے بھی سو بکھیڑے ہیں۔ لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں طلبہ سیاست سے عملا دستبردار ہو گئی ہیں۔ جو گروپ طلبہ میں سرگرم ہیں وہ عموما اپنی مدر آرگنائزیشن کے ڈسپلین میں نہیں۔ بس دونوں فریق ایک دوسرے کا نام استعمال کر کے فائدہ لے رہے ہیں ۔
ضیاءدور کے بعد جو اشوز سندھ کی سیاست کا محور رہے ہیں ان میں میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ زیادہ وزنی ہے۔ جونیجو دور میں سندھ اسمبلی نے پہلی مرتبہ اس آبی ذخیرے کے خلاف قرارداد منظور کی۔اس کے بعد کم از کم دو مرتبہ صوبائی اسمبلی اس کو مسترد کر چکی ہے۔ جنرل مشرف تمام تر زور لگانے کے باوجود سندھ اسمبلی سے یہ قرارداد منظور نہیں کرا سکے۔ اس متنازع ڈیم کے خلاف پیپلزپارٹی اور قوم پرست اتحاد میں بھی رہے ہیں۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں بینظیر بھٹو کی زیر قیادت میں سندھ کے تمام پارٹیوں نے بشمول قوم پرست جماعتوں کے، سندھ پنجاب بارڈر پر کموں شہید کے مقام پر تاریخی دھرنا دیا تھا۔
مذہبی فکر اور مدرسوں کا اس انداز میں پھلاﺅ نوے کی دہائی کے بعد ہوا۔ خاص طور پر مشرف دور میں ۔ اس کے نیتجے میں صوبے کے چھوٹے چھوٹے گاﺅں تک یہاں تک کہ تھر کے دور دراز علاقے میں بھی مدرسے پہنچ گئے ہیں ۔ یہ مدرسے قائم کرنے والوں کا تعلق سندھ سے نہیں ۔ ان مدارس کے منتظمین یا مالکان کا تعلق پنجاب سے ہے۔
خواتین
بینظیر بھٹو نے خواتین کو آگے لے آئیں۔ اس سیاسی عمل میںدرجنوں خواتین سیاسی جدوجہد کی وجہ سے اسمبلیوں تک پہنچیں۔ لیکن اب اخواتین کو مین اسٹریم کا حصہ نہیں بنایا گیاان کی کوٹہ اقلیتوں یامعذوروں کی طرح مقرر ہو گئی ہے۔
شدت پسندی
شدت پسندی مذہبی طور پر اور دوسری جقوم پرست تحریک میں بھی آئی ۔ آزادی کا نعرہ تو پرانا ہے ۔لیکن اس میں اب ملیٹنیسی کا ٹرینڈ آیا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس پرقوم پرست شدت پسندی پر اسٹبلشمنٹ نے ری ایکٹ اسی طرح کیا جس طرح بلوچستان میں کیا۔ لاشیں ملتی ہیں کارکن لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ انہوںنے کوئی بڑی کارروائی نہیں کی ہوئی ہوتی ہے۔
سیاسی کارکنوں کی عام لوگوں تک رسائی
نوے کے عشرے کے بعد واقعات اور حالات کی وجہ سے سیاست میں ترقی پسند فکر بہت ہی سکڑ گیا۔اس کے ساتھ وہ حلقہ بھی سکڑ گیا جو تبدیلی کا خواہشمند تھا۔
خدمت اور تبدیلی کی جدوجہد کرنے والاسیاسی کارکن ختم گیا۔ نیا کارکن وہ ہے جو کرپٹ ہے یا اس کا ایجنڈا تبدیلی یا خدمت نہیں بلکہ اس پروسیس سے ذاتی مفادات حاصل کرنا ہے۔ ایک بار پھر وڈیرہ اور بااثر شخصیات مضبوط ہوگئیں۔ بلدیاتی انتخابات میں نہ ایم پی اے نہ ایم این اے ، وہ یو سی کا ناظم بھی نہیں بن سکتا۔
فکری تبدیلی
کبھی سیاسی کارکن خواہ ہو ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوتے تھے یا قوم پرست ۔ وہ دیہاتوں میں باقاعدگی سے جاتے تھے۔ عام لوگوں سے کسانوں سے ملتے تھے۔ روز مرہ کے امور اور واقعات پر بات چیت کرتے تھے۔اس سے عام لوگوں کا سیاسی خواہ عام زندگی کے بارے
میں روشن خیال نقطہ نظر بنتا تھا۔ کم از کم دو تین دہائیوں سے یہ عمل رک گیا ہے۔ اس اسپیس کا ملاں فائدہ اٹھایا ہے۔اب وہ سندھ کے ہر گوٹھ میں موجود ہے۔ مدرسوں کا جال بچھ چکا ہے۔ یہ ملاں اپنی تقاریر اور واعظ میں گورننس کے بھی اشو اٹھا کرلوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ان کی فکر اور سوچ کو ایک مخصوص کفر کی طرف لے جارہا ہے۔ لوگوں اس سوچ میں بھی ڈال رہا ہے کہ ان مسائل کا حل ان کے پاس ہے۔
سندھ میں ایک عرصے تک دو نصاب چلتے تھے۔ ایک وہ نصاب جو سرکاری طور پر اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا تھا۔ دوسرا وہ جو ترقی پسند اور قوم پرست گروپ اپنے اسٹڈی سرکلز، باقاعدگی سے دیہات کے دوروں ، ادبی و ثقافتی سرگرمیوں وغیرہ کے ذریعے پڑھایا کرتے تھے۔ یہ دوسرا نصاب ساٹھ کے عشرے سے لیکر اس صدی کے خاتمے تک بھاری رہا۔ لیکن اب یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔
فکری تبدیلی اصطلاحوں اور ان کی معنی تبدیل ہوگئے۔ ان میں 180 ڈگری کا فرق فرق آیا۔ پچاس کے عشرے سے لیکراسی کی دہائی تک کامریڈ ایک قابل تعریف اور قابل احترام لفظ تھا۔ لیکن بعد میں اس کی معنی بھتہ خور اور غنڈہ کی ہوگئیں۔ سیاست کا مطلب لوگوں کی خدمت کرنا تھا۔ لیکن بعد میں اس کی معنی چالبازی اور دھوکہ ہو گئیں۔
جب بھی سندھ سے کچھ چھینا گیا تو لوگوں کو سیاسی رشوت کے طور پر مختلف چیزیں دینے اور ان کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں متوسط طبقہ اور اس کی موقعہ پرستی آگے آگے ہوتی ہے۔ زمینوں پر قبضے جام صادق کے بعد کی پیداوار ہیں۔ یہ سلسلہ بعد میں بھی چلتا رہا۔ جو اب عروج پر ہے۔
سیاست میں تبدیلی
پیپلزپارٹی سے امیدیں زیادہ تھیں جسے موقعہ بھی ملا لیکن یہ بد ترین ثابت ہوا ہے۔ اب پیپلزپارٹی کا نہ وہ پروفائیل ہے جو بھٹو کی پیپلزپارٹی کا تھا اور نہ ہی وہ جو بینظیر بھٹو کے زمانے میں تھا۔ پیپلز پارٹی کارکنوں اور عوام پر انحصار کرنے کے بجائے الیکشن باز با اثر افراد پر ہی انحصار کر رہی۔ ایسے میں تمام پارٹیوں نے ان کی طرف رجوع کیا ہے جن کا قبیلہ ہے برادری ہے ۔ پی پی ، نواز لیگ اور تحریک انصاف کو بھی ایسے ہی لوگوں کی تلاش ہے۔
قوم پرست متبادل دینے میں ناکام رہے ہیں جبکہ ان کے کاﺅنٹر پارٹس بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکومت میں آچکے ہیں۔ ان کا آپس میں اتحاد نہیں اور صلاحیت بھی نہیں۔ سندھ کے جذبات کو جب ٹھنڈا کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو اقتدار پیپلزپارٹی کو دے دیا جاتا ہے۔ سندھ کے لوگوں کی کشتی ایک جھیل میں پھنسی ہوئی ہے اسی میں چکر کاٹتی رہتی ہے۔
ایم آرڈی آخری تحریک تھی جس نے بڑے پیمانے پر کارکن پیدا کئے ۔ جس کو بھی اب پینتیس سال ہونے کو آئے ہیں۔ اس تحریک میںحصہ لینے والا اس وقت پندرہ سے تیس سال کی عمر کا تھا۔ اب وہ بوڑھا ہو چکا ہے ۔ تھک چکا ہے۔ یا وقت کے ساتھ مین اسٹریم سیاست کا حصہ بن کر موقعہ پرستی کا شکار ہو گیا ہے۔
کالاباغ ڈیم، پانی کی منصفانہ تقسیم، این ایف سی ایوارڈ ، وفاقی ملازمتیں، تیل،گیس اور معدنی وسائل، نج کاری، مردم شماری ، واپڈا
کے ساتھ سندھ کا تنازع، ریلوے اور اس کی زمینیں، بندرگاہ، پر پنجاب کی بالادستی محسوس کی جاتی ہے۔ ان پر حکومتی خواہ سیاسی سطح پر وقتا فوقتا اٹھایا جاتارہا ہے۔ آئین کے مطابق ان معاملات کو مشترکہ مفادات کی کونسل دیکھے گی۔ مشرف اور بیظیر بھٹو کے دور میں کونسل کا ایک بھی اجلاس نہیں بلایا جا سکا۔
طلبہ تحریک کی طرح سندھ میں اس وقت نہ کسان تحریک ہے اور نہ مزدور تحریک۔ لہٰذا یہ دونوں طبقات کسی سیاسی پارٹی کے ایجنڈا کا حصہ بھی نہیں ۔ کسانوں اور مزدوروں کے مسائل شدید تر ہوتے جارہے ہیں۔ اکادکا گروپ کام کرنے کی کوشش کر بھی رہا ہے ، لیکن ان کی نہ capacity ہے اور نہ ہی کوئی بڑا ویزن۔
تیل گیس، معدنی وسائل اور بندرگاہیں موجود ہیں۔ اس کے باوجود بدترین حکمرانی ہے ٹوٹی ہوئی سڑکیں، صحت اور تعلیم کی سہولیات غائب۔ غربت کا ایک نظارہ نجی جیلوں کی شکل میں گزشتہ دو عشروں میں نظرآیا اور ۔ دوسرا نظارہ گزشتہ دو سیلابوں میں پوری دنیا نے کیا جب صوبے کے دور دراز علاقوں سے لوگ سڑک کنارے جھگیاں ڈال کر بیٹھے۔ جن میں سے اکثر کی واپسی اور آبادکاری نہیں ہو سکی ہے۔
گزشتہ بیس سال کے دوران بڑے پیمانے پر اربنائزیشن ہوئی ہے۔ نئے شہر بنے ہیں۔ چھوٹے شہر بڑے ہوئے ہیں۔ اور بڑے شہروں میں بڑٰ تعداد میں پہنچا ہے۔ دولپمنٹ سیکٹر میں خاصی موجودگی کی وجہ سے کچھ صلاحیتین کچھ اہلیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
چھوٹی زمیندار جو سرکاری زبان میں پروگریسو زمیندار کہلاتے ہین اس میں اضافہ ہوا ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو نیم اربن اور نیم دیہی ہیں جن کا اپنا سماجی اثر رسوخ بھی ہے اور ایک حد تک مالی وسائل بھی۔
اختتامیہ
سندھ کے پاس اب پہلے والا متوسط طبقہ نہیں جس کو صرف ملازمت چاہئے۔ یا سرکاری ٹیلیویزن پر سندھ پروگرام کا وقت بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اب اس کے پاس ایسا بھی طبقہ ہے جس کی capacity built ہوئی ہے۔ ایسا بھی ہے جس نے ملازمتوں کے دوران جائز اور ناجائز فوائد حاصل کر کے اپنی معاشی اور مالی پوزیشن کو بتدیل کیا ہے۔ اورسے ریٹائر ہونے کے بعد کاروبار وغیرہ کیا ہے۔ ایک مختلف قسم کا اربن مڈل کلاس وجود میں آیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر غریب کسان نے بھی شہر کا رخ کیا ہے۔
صوبہ بدترین خراب حکمرانی کے دور سے گزر رہا ہے۔ سندھ کی مقبول جماعت اور عوام کے درمیان گیپ بڑھ گیا ہے۔بائیں بازو کے ”بوڑھے کارکن “ کچھ عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ خود میں اتنی سکت نہیں پاتے یا تھک چکے ہیں یا پھر کسی کرشمے کے انتظار میں ہیں۔ یہی صورتحال قوم پرست حلقوں کی ہے۔ بائیں بازو اور قوم پرستوں نے جو اسپیس چھوڑا اس کی جگہ مولوی لے رہے ہیں۔ یہ مولوی
صرف مذہبی نہیں بلکہ منظم سیاسی ایجنڈا رکھنے والی تحاریک کا حصہ ہیں ۔ انتہا پسندی، عدم برداشت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ سندھ
ایک نئے چیلینجوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔