Tuesday, March 29, 2016

پنجاب میں آپریشن: کیا رخ اختیار کرے گا


پنجاب آپریشن کیا رخ اختیار کرے گا

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

 کچھ وقفے کے بعد ملک میں ایک بار پھر افسوسناک منظر سامنے آئے ہیں۔ ریاستی اداروں کی اس دعوا کے باوجود کہ دہشتگردوں کو کچل دیا گیا ہے۔ دہشتگردی کا بھوت ملک کے مختلف حصوں میں منڈلا رہا ہے اور” آدم بو آدم بو “ کر رہا ہے۔ اس مرتبہ اس کا شکار زندہ دلوں کا شہرلاہور ہوا۔ لاہور جس سے بعض قومی نغمے بھی منسوب ہیں۔ چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے لوگ جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ اچھا وقت گزارنے کے لئے باہر نکلے تھے اقبال پارک میں ان پر دہشتگردی کی صورت میں قیامت صغرا ڈھا ئی گئی ہر طرف افراتفری تھی۔ وہ جن کے خاندان کے افراد گلشن اقبال پارک گئے ہوئے تھے تلاش میں نکل پڑے۔ کہیں مائیں اپنے بچوں کو ڈھونڈ رہی تھیں ۔ 

گزشتہ چند ہفتوں سے ایک بار پھرپورا ملک دہشتگردی اور غیر یقینی صورتحال کی دھند میں لپیٹا ہوا ہے۔ لوگ اس خوف کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن رہے ہیں۔ لیکن حکمرانوں کے پاس خالی وعدے ہیں اور دلاسوں کی تھراپی ہے۔ ریاستی ادارے، میڈیا اور حکومت سب اس پر متفق ہیں کہ دہشتگردی کی کہاں کہاں اور کون کون سی نرسریاں ہیں۔دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لئے جتنے گہرائی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے وہ نہیں کئے جا رہے ہیں۔ 

ضرورت اس بات کی ہے دہشتگردوں کی نرسریوں اور سہولت کاروں میں بھی ہاتھ ڈالا جائے۔ 

 پہلے دہشتگرد عبادت گاہوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ تو عبادت گاہوں کی سیہکیورٹی بڑھا دی گئی۔ لوگوں کو مجبورا عبادت بھی بندوق کے سائے میں کرنی پڑی۔ پھر تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اب تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے بلکہ بعض اداروں میں اساتذہ کو ہتھیار چلانے کی تربیت بھی دی گئی ہے۔ عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کے بعد اب تفریحی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اب تفریح بھی خوف اور سیکیورٹی کے سائے میں ہوگی۔ یعنی ایسی بھی کیا تفریح جس میں ہر وقت موت کا خطرہ ہو۔ 

 چھٹی کے روز بچے اور اہل خانہ تفریح کے لے گھروں سے نکلتے ہیں کیونکہ پورا ہفتہ اسکول میں گزارتے ہیں۔ جس شہر میں جو بھی تفریحی مقام ہے وہاں پہنچ جاتے ہیں ۔

بے گناہ بچوں اور خواتین کو کس جرم میں بارود اور آگ کا نشانہ بنایا گیا۔ اب ریاستی ادارے اس دہشتگردی میں غیر ملکی ہاتھ بھی تلاش کریں گے۔ ان کے پاﺅں کے نشانات ڈھونڈیں گے۔ حکمرانوں کی جانب سے انہیں منطقی انجام تک پہنچانے کے اعلانات ہونگے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی کل قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ دہشتگرد ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ 

ہم اپنے ہی شہروں میں بھی ہم اپنے بچوں کی کن حالات میں تربیت کر رہے ہیں۔ وہ کن مشکل حالات میں رہ رہے ہیں۔ وہ بلاخوف اسکول جا کر تعلیم نہیں حاصؒ کر سکتے۔ اول تو کھیل کود کے میدان مطلوبہ تعداد میں موجود نہیں تھوڑے بہت ہیں تو وہاں سہولیات کا فقدان ہے۔ اور ان میڈانوں تک رسائی بچوں کے بس کی بات نہیں۔ سماج میں مجموعی طور پر اتنی غیر یقینی اور خوف کی صورتحال ہے کہ اگر کوئی پندرہ اٹھارہ سال تک کی عمر کا بچہ تھوڑی دیرکے لئے گھر سے باہر رہتا ہے تو اسے فورا واپس گھر بلایا جاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے گلی کوچے بھی بچوں کے لئے محفوظ نہیں سمجھے جاتے۔ ایک ہی آپشن ہوتا ہے کہ چھٹی کے روز والدین کے ساتھ کسی تفرییحی مقام پر انہیں لے جائیں۔ والدین یہ قدم اس لئے اٹھاتے ہیں کہ بچے ان کے سامنے ہوں۔ 

 پشاور آرمی پبلک اسکول کے بعد باچا خان یونیورسٹی چار سدہ پر حملہ کیا گیا۔ اور اتوار کے روز گلشن اقبال لاہور میں اسی طرح کا مظاہرہ کیا گیا۔ آپریشن ضرب عضب جاری ہے۔ بلاشبہ اس آپریشن میں بعض کامیابیاں بھی ملی ہیں ۔ لیکن لگتا ہے کہ ابھی وہ وت نہیں آیا کہ ان کامیابیوں پر ہم جشن منائیں۔ دہشتگرد کمزور ضرور ہوئے ہیں لیکن ختم نہیںہوئے۔ ہمارے پاس دہشتگردی کی وبا نہ ایک روز میں پیدا ہوئی ہے اور نہ ایک روز میں ختم ہو سکتی ہے۔ وہ بھی اس صورتحال میں جب برسہا برسوں تک دہشتگردی کو باقاعدہ پروان چڑھایا گیا ہو۔ ہمارے سیکیورٹی کے ادارے جسے ہم اپنی آنکھیں اور کان سمجھتے ہیں انہیں اپنے کان اور آنکھیں کھول کے رکھنی پڑیں گی۔ 

 یہ بھی تعجب کی بات نہیں کہ کراچی پریس کلب پر حملہ اور اسلام آباد میں ڈی چوک پر دھرنا اور پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش بھی اسی روز ہوتی ہے۔ شاید ریہرسل کے طور پر چند ہفتے قبل حیدرآباد پریس کلب پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ 

ہر شہر کا ایک دل ہوتا ہے۔ اور اسکی اپنی تاریخ اور یادیں ہوتی ہیں۔ یہی دل دھڑکتا ہے اور یادیں شہر کو بیان کرتی ہیں۔ 
لاہور کی یادوں میں تلخی گھول دی گئی ہے۔ ورنہ لاہور کی تلخ یادوں میں شاید تقسیم کے وقت کے واقعات ہی تھے۔ دیگر شہر اس طرح کی تلخی کا ذائقہ کچھ پہلے چکھ چکے ہیں ۔

آٹھ سال پہلے میں اسی طرح کے دھماکے خود کش ہوئے تھے۔ لاہور جو اپنی گہماگہمی کی وجہ سے مشہور ہے وہ اب یہ رونق کھو بیٹھے گا۔ کیا بندہ روئے؟ کیا ردعمل ہو سکتا ہے؟ گیارہ مارچ 2008 کی صبح کو خود کش بمبار وں نے ایف آئی اے کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کردیا تھا جس میں پانچ بچوں سمیت چھبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور پونے دو سو زخمی ہو گئے تھے۔ 

 اس صورتحال میں ملک کی بعض مذہبی جماعتوں کا رویہ اور موقف اگر مگر والا ہے۔ جب بیانیہ اور طریقہ کار گڈمڈ ہو جائیں تو ایسی صورتحال سے نممٹنے میں دقت پیش آتی ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی، سیاسی اور سول سوسائٹی کی قیادت میں یکسانیت نہیں۔ سیاسی اور مذہبی سطح پرمذہبی انتہا پسندی اورشدت پسندی کو سمجھنے کے حوالے سے نظریاتی اور سیای طور پرالجھاوے موجود ہیں۔ حکومت، ریاستی اداروں کو سمجھنا چاہئے کہ اس بات یہ ہے کہ شدت پسند وں کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ اپنے کاز کو عوام میں بیچ پا رہے ہیں۔ 

ملک میں مختلف اقسام کے شدت پسند گروپوں اور ان کے آپس میں نیٹ ورکنگ کے پیش نظر ایک وسیع، اور حکمت عملی درکار جو اس خطرہ کا مقابلہ کر سکے۔ 

سانحہ لاہورکے بعد عسکری قوتیں پنجاب میں سرگرم ہو گئی ہیں۔ حکومت پنجاب دہشتگردوں کے خلاف تفتیش و تحقیقات اپنے محکمے سے کرانا چاہتی ہے یعنی وہ آرمی اور رینجرز کی مداخلت نہیں چاہتی ۔ فی الحال عسکری اداروں نے اس فرمائش کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔ اور آرمی چیف کی ہدایت پر پنجاب میں دہشتگردوں کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کردیا ہے۔

 دیکھنا یہ ہے یہ عارضی عمل ہے یا مستقل تبدیلی۔ اگر پالیسی میں تبدیلی ہے تو اس سے بہت فرق پڑے گا۔ اگر عارضی ہے اور پنجاب حکومت آپریشن کے حق میں نہیں ہے پھر چیزیں الجھنے لگیں گی۔ سویلین حکومتیں اس طرح کے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں رہتی ہیں۔ یہ گروپ پنجاب خواہ دیگر صوبوں میں موجود ہیں۔ 

غیر معمولی صورتحال میں آرمی یا رینجرز کو طلب کرنا بھی غیر معمولی بات نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ببھی نہیں کہ سویلین حکومت کی ذمہ داری ختم ہو گئی۔ آرمی کو طلب کیا جاسکتا ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ تفتیش کس طرح کی ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ردعمل عارضی ہو اور اس کے بعد آرمی تمام معاملات پنجاب حکومت کے حوالے کردے۔ یا معاملہ اس طرز پر جا سکتا ہے جس پر سندھ میں چل رہا ہے۔ جہاں آرمی اور رینجرز دہشتگردوں کی تفتیش میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔

March 29, 2016
For Nai Baat
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/30-03-2016/details.aspx?id=p12_06.jpg

Saturday, March 19, 2016

سندھ پولیس میں تبدیلی اور پی پی حکومت

سندھ پولیس میں تبدیلی اور پی پی حکومت
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کوعہدے سے ہٹادیا گیا۔ یہ اقدام نہ صرف پولیس پر لگنے والے الزامات کے حوالے اہم ہے بلکہ یہ پیپلزپارٹی کو بھی دھچکا ہے ۔ عدالت نے دوران سماعت وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے سوال کیا گیا کہ ایک افسر پر جب سنگین نوعیت کے الزامات ہوں تو کیا اس کو عہدے پر رکھنا درست ہے؟ 

عدالت کے ان ریمارکس آنے کے بعد وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بالاخر انہیں سبکدوش کردیا۔شاید بیوروکریسی بھی سیکھ پائے کہ حکومت کی ہر بات مانی نہیں جاسکتی۔

 سندھ پولیس کے سربراہ غیر قانونی بھرتیوں اور فنڈز کے ناجائز استعمال اور کرپشن اور بعض سیاسی حوالے سے کئے گئے الزامات کے تحت عدالت کے چکر کاٹتے رہے۔ غیر قانونی بھرتیوں اور فنڈز کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہے۔ تین ڈی آئی جیز کی کرپشن متعلق رپورٹ کے مطابق 99 فیصد رقم نقد میں ادا کی گئی۔ یہ رقم مقدمات کی تحقیقات اور تفتیش پر خرچ ہونی تھے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2012 سے 2015 تک پولیس میں کی گئی بھرتیوں میں قانون کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔ تعجب کی بات ہے کہ جب یہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تب اعتراضات نہیں اٹھائے گئے۔ لیکن جب تحقیقات مکمل ہو چکی، تب اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آئی جی سندھ پولیس اس سے قبل اپنے ماتحت پولیس افسران اے آئی جی مشتاق مہر، ڈی آئی جی ثناءاللہ عباسی، ڈی آئی جی سلطان خواجہ، ڈی آئی جی امیر شیخ، اے ڈی خواجہ، پر تقرریوں اور تبادلے کے حوالے سے عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ 

کراچی میں بدامنی کے خلاف حالیہ سماعت کے دوران جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی غلام حیدر جمالی کو متنبہ کیا تھا کہ انہیں اس عہدے پر رہنے کا حق نہیں ہے، جس پر آئی جی غلام حیدر جمالی نے نا پسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور بات اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ انہوں نے بینچ پر ہی عدم اعتماد کا اظہار کرتے موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ جسٹس امیر ہانی مسلم کمیٹی کے اراکین سے رابطے میں ہیں اس لیے ان پر انہیں اعتماد نہیں رہا۔اور یہ بھی کہا کہ فاضل جج نے ان کے خلاف نازیبا الفاط استعمال کئے ہیں۔ 
جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ کسی ایک فرد کے کہنے پر وہ اس بینچ سے علیحدہ نہیں ہوسکتے ۔ 

سپریم کورٹ نے نیب کوپولیس فنڈز میں مبینہ خرد برد اور غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت سے چیف سیکرٹری سے کہا ہے کہ وہ بھرتیوں اور فنڈز کے استعمال سے متعلق ریکارڈ محفوظ بنائے۔ جب سپریم کورٹ نے نیب سے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہےدریں اثناء وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی محکمہ انسداد رشوت ستانی سے کہا ہے کہ وہ بھی ان الزامات کی تحقیقات کرے۔ حد کمال ہے کہ جب عدالت عظمیٰ نے نیب کو تحقیقات کے لئے کہا تب جا کر وزیراعلیٰ کو خیال آیا کہ محکمہ انسداد رشوت ستانی بھی تحقیقات کرے۔ 

پولیس کا کام بدامنی کو ختم کرنا اور معاشرے میں برائیوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ عوام میں تحفظ کا احساس دلانا ہے، لیکن ہمارے پاس پولیس کا کردار مختلف وقتوں میں متنازع رہا ہے۔ سابق آئی جی غلام حیدر جمالی نے دوران تفتیش رنگ دینے کی کوشش کی کہ یہ پولیس افسران کے درمیان رقابت کا معاملہ ہے۔انہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین اے ڈی خواجہ اور ثنااللہ عباسی کو واپس ان کے پیرنٹ محکموں میں بھیجنا کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا یہ حکم ہے کہ ان افسران کو ان ہی اداروں کی طرف بھیجا جائے جہاں سے بنیادی طور پر ان کا تعلق ہے۔ یہ دونوں افسران سی ایس ایس پاس کرنے کے بعد پہلے دوسرے گروپ میں منتخب ہوئے تھے۔ لیکن بعد میں ان کو پولیس گروپ میں ضم کیا گیا تھا۔ 

 سپریم کورٹ میں سماعت کے آخری روز صورتحال یہ بنی کہ پولیس میں بے قاعدگیوں کے مقدمے میں آئی جی غلام حیدر جمالی تنہا ہوگئے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت جاری کی کہ کمیٹی کے اراکین کا کہیں بھی تبادلہ وغیرہ نہیں کیا جائے گا۔ 

 سندھ پولیس کی جانب سے سربیا سے بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ بھی عدالت میں زیر سماعت ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ احتساب بیورو کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل سابق ایس ایس پی شکیب قریشی کی معرفت کی گئی جو لندن میں قیام کے دوران پیپلز پارٹی کی قیادت کے قریبی حلقے میں شامل رہے۔ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی جانب سے یہ بکتر بند گاڑیاں کم قیمت پر بنانے کی پیشکش اورامریکی اداروں کی جانب سے 40 ملین رپے فی بکتر بند کی پیشکش کو مسترد کیا گیا ۔ جبکہ سربیا کی ایک کمپنی سے 120 ملین رپے فی گاڑی کا سودہ کیا گیا، یہ گاڑی بھی نئی نہیں بلکہ استعمال شدہ تھیں۔

 سابق آئی جی غلام حیدر جمالی پر سندھ ہائی کورٹ میں توہین عدالت کامقدمہ بھی زیر سماعت ہے جس میں ان پر فرد جرم نافذ ہوچکی ہے۔ اس مقدمے میں شکایت کندہ اور گواہ عدالت خود ہی ہے۔چند ماہ قبل پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اپنے خلاف دائر ہونے والے انسداد دہشت گردی کے مقدمات سے ضمانت کے لیے آنے والے تھے تو اس روز پولیس کے مختلف محکموں کے اہلکاروںنے داخلی راستے کا گھیراو ¿ کرکے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا حامیوں تو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اس تشدد کو کیمروں میں قید کرنے والے صحافیوں پر بھی ٹوٹ پڑے۔عدالت کے نوٹس پر عدالت میں حاضر نہ ہونے کی بناءپر انہیں توہین عدالت کا نوٹیس جاری کیا۔

سندھ پولیس میں صوبائی حکومت کی مداخلت نئی بات نہیں ہے، جب ترقیوں اور تعیناتیوں میں کمیشن پاس افسران کو نظر انداز کیا گیا تھا تو کمیشنڈ افسران نے عدالت سے رجوع کیا جس کے نتیجے میں کئی نان کمیشنڈ افسران کی تنزلی ہوگئی یہ بات بھی پولیس کی اعلیٰ قیادت اور صوبائی قیادت کو پسند نہیں آئی تھی۔

کراچی میں آپریشن شروع ہونے پر شاہد حیات کراچی پولیس کے سربراہ تھے ۔جب آپریشن تیز ہوا تو شاہد حیات کا تبادلہ کیا گیا، شاہد حیات کو رینجرز سمیت دیگر اداروں کا تعاون حاصل تھا۔ اس وجہ سے آپریشن میں پولیس کو مرکزی کردار رہا۔ ان کے تبادلے کے بعد پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ شہر میں کئی ایسے افسران تھے جو رینجرز حکام کی تجویز پر تعینات کیے گئے تھے لیکن بعد میں ڈی آئی جی غلام قادر تھیبو کی بطور سربراہ کراچی پولیس تقرری کے بعد ان افسران کا اندرون سندھ تبادلہ کردیا گیا۔

 شہر میں پولیس دو حصوں میں تقسیم ہوگئی جس میں ایک پر رینجرز تو دوسرآئی جی سندھ کا حامی گروپ بن گیا۔ پولیس افسران کے درمیان اس کشمکش کے دوران اے آئی جی ثنااللہ عباسی اور ڈی آئی جی سلطان خواکہ کی خدمات وفاق کے حوالے کردی گئیں ، تاکہ انہیں سندھ پولیس کے معاملات سے دور رکھا جائے۔ 

 پولیس میں نچلی سطح پر کرپشن کے واقعات ایک عرصے سے خبر کے زمرے میں نہیں آتے۔کیونکہ اس میں کوئی نیاپن نہیں۔ لیکن سندھ پولیس کے سربراہ پر کرپشن کے الزامات حیران کن بات ہے۔ 

ان دنوںنجی نیوز چینلز پر حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کی جانب سے اشتہاری مہم شروع کی گئی ہے، جس میں کراچی آپریشن کا کریڈٹ لیا جارہا ہے، یہ حقیقت بھی ہے کراچی آپریشن میں یقیننا پولیس نے بھاری قیمت ادا کی ہے، جس کے دوران 1400 کے قریب اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور اب یہ سلسلہ جاری ہے، لیکن اعلیٰ قیادت کے کرپشن اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے یہ قربانیاں شمار میں نہیں لائی جاتی ہیں ۔ پولیس میں سب سے پہلے سیاسی مداخلت ختم ہونی چاہئے۔ اسکو جدید سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ وہاں ایماندار افسران کی تعینات کو یقینی بنایا جائے۔ 

Saturday, March 12, 2016

شہباز تاثیر کی بازیابی: چند سوالات

 شہباز تاثیر کی بازیابی: چند سوالات

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

 پیپلزپارٹی کے مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہبازکو بالآخر بازیاب ہوگئے۔ انہیں چار سال قبل دن دہاڑے لاہور کے پر رونق علاقے گلبرگ سے اغوا کیا تھا۔ اغوا کی یہ واردات ان کے والد سلمان تاثیر کے قتل کے سات ماہ بعد ہوئی تھی۔ان کی رہائی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق محکمہ انسداد دہشتگردی اور ایف سی کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں بتائی جاتی ہے۔ جس کے مطابق انہیں کوئٹہ سے پچیس کلو میٹر دو کچلاک کے ایک ہوٹل سے بازیاب کیا گیا۔ یہ رہائی ان کے والدسلمان کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت پر عمل درآمد کے تقریبا ایک ہفتہ بعد عمل میں آئی ہے۔ 
 شہباز تاثیر کا اچانک منظر پر آنا کسی فلمی سین سے کم نہیں لگتا۔ وہ چار سال تک اغواکاروں کی تحویل میں رہے۔ اور پھر اچانک ایک دن دوردراز علاقے کی ایک گمنام ہوٹل میں کھانا کھانے پہنچ گئے۔ اور وہ پی سی او سے گھر والوں سے رابطہ کرتاے ہیں۔ اس خبر کے میڈیا تک پہنچنے کے بعد آئی ایس پی آر پریس رلیز جاری کرتا ہے کہ شہباز تاثیر کی رہائی انسداد دہشتگردی اور فرنٹیئر کور کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ اس پریس رلیز کے ساتھ متوازی اسٹوری بھی چلتی رہی کہ انہوں نے اپنی والدہ کو فون کیا اس کے بعد انہوں نے سیکیورٹی اداروں کو اطلاع دی۔ اگر شہباز سیکیورٹی اداروں کی مدد یا کارروائی سے بازیاب ہوئے ہیں تو ان کی معرفت اپنے گھر پہنچنے کے بجائے کسی گمنام ہوٹل سے کیوں فون کر کے گھر والوں کو اطلاع دی؟ 

 سلمان تاثیر کے قتل کے بعد اس خاندان کے نوجوان کا اغوا یقینااس خاندان کے لئے مسلسل تکلیف دہ عمل رہا ہوگا۔ ایک خاندان اظہار آزادی کی قیمت قتل اور ایک اور رکن کے اغوا کی صورت میں بھگت رہا تھا۔ اس صورتحال میں اکثر لوگوں کی اس خاندان سے ہمدردیاں بڑھ رہی تھیں۔ لیکن ریکارڈ کی بات یہ ہے کہ سابق گورنر کی پارٹی یعنی پاکستان پیپلزپارٹی اس سے کنارہ کش ہو رہی تھی۔ پیپلزپارٹی جو اس وقت وفاق میں حکومت میں تھی، اس نے لطیف کھوسہ کو نیا گورنر مقرر کیا۔ لیکن نئے گورنر کی تقریب حلف برداری میں تاثیر خاندان کے کسی فرد کو مدعو ہی نہیں کیا گیا ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مقتول گورنر کے دکھ میں علامتی طور پر چند منٹ کی خاموشی اختیار کرکے علامتی افسوس کا اظہار کیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیاگیا۔ ایک خوف کا عالم تھا جس کا اظہار سرکاری طور پر بھی کیا جارہا تھا کہ جو بھی تاثیر خاندان کا ساتھ دے گا یا ان سے ہمدردی کرے گا وہ بھی اسی طرح کے نتائج بھگتے گا۔ 

 جس علاقے سے شہباز تاثیر کی بازیابی یا رہائی سرکاری طور پر دکھائی گئی ہے، وہ ضلع کوئٹہ کی ایک تحصیل ہونے کے ساتھ ایک ٹاﺅن بھی ہے جو افغان پناہ زینوں کا گڑھ بھی ہے۔ کوئٹہ سے چمن جانے والی شاہراہ پر واقع ہے اس علاقے سے طالبان کی گرفتاریوں اور دیگر اس طرح کے اسباب کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔ بلوچستان پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ کچلاک افغانی اور پاکستانی طالبان کی حمیات اور پناہ کے لئے موزون جگہ ہر اہے۔ کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں جرم کرنے والے ملزمان اس علاقے سے گرفتار ہوتے رہے ہیں یا مارے جاتے رہے ہیں۔ 
 شہباز تاثیر کی بازیابی کے بعد یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ا نکے اغوا میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کا بھی ہاتھ تھا۔ یہ وہ تنظیم ہے جو بولان میڈیکل کالج کوئٹہ پر حملے ، ومین یونیورسٹی میں بم دھماکوں، کوئٹہ کے سمگلی پر حملے میں بھی نام آتا رہا ہے۔ 

 شہاز تاثیر کی رہائی یقیننا ایک خوشخبری ہے لیکن جن حالات میں وہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے قریب بازیاب ہوئے ہیں اس نے کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں ۔ شہباز کا یہاں سے بازیاب ہو نا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ صوبہ تاحال ایسی سخت گیر تنظیموں کی پناہ گاہ کے طور رپ موزو ن مقام بناہوا ہے۔ جو اغوا اور دیگر اس طرح کی کاررویاں کر کے اپنی بات منواتے رہتے ہیں۔ 

 شہباز تاثیر کے اغوا سے متعلق کہانیاں یہ ہیں کہ انہیں لاہور کے ایک پڑھے لکھے نوجوانوں کے گروپ نے اغوا کیا تھا۔ جس کی رہنمائی کالعدم لشکر جھنگوی کے سابق سربراہ عثمان کر رہے تھے۔ انہیں کچھ عرصہ لاہور میں رکھنے کے بعد کچلاک منتقل کردیا گیا۔ جہاں پر وہ ایک انتہا پسند کروہ کی تحویل میں رہے جو کراچی اہئر پورٹ سمیت دیگر متعدد کارروایوں میں ملوث سمجھا جاتا رہا۔ اسلامک موومنٹ آف ازبکستان وہ گروہ ہے جس کے لئے کہا جاتا ہے کہ کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے بعد تفتیش کے دوران ٹیلیفون ریکارڈ سے پتہ چلا کہ اس موبائیل نمبر سے شہباز تاثیر کے گھر کی لینڈ لائین پر بھی اس موبائل نمبر سے فون کئے جاتے رہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اغواکار اور انتہا پسند گروپ اس کے اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں تھے۔ لیکن ان رابطوں کے باوجود یہ نوجوان رہا نہ ہو سکے۔ اس سوال کا جواب انتہا پسندوں سے مل سکتا ہے یا پھر تاثیر فمیلی سے۔ 

 لشکر جھنگوی نے اغوا کرکے القاعدہ کے حوالے کردیا ہے اور القاعدہ نے انہیں طالبان کو دے دیا ہے۔ انہیں اگانستان کے بعض علاقوں میں بھی رکھا گیا۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ایک آپریشن کے ذریعے انہیں بازیاب کرای گیا۔ تاہم انوہں نے کہا کہ اس مرحلے پر وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اغواکار کون تھے۔ 

اب سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو بھی امید ہو چلی ہے کہ ان کے بیٹے حیدر علی بھی رہا ہو جائیں گے۔ حیدر گیلانی کو 2 مئی 2013 کو ایک انتخابی ریلی کے دوران ان کے آبائی شہر ملتان سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ملان میں جاری پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم ٹھنڈی پڑ گئی۔یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی رہائی کے لئے بھی بھاری تاوان کی رقم کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ اور فون کال بھی آتی رہی۔ لیکن تاحال یہ پتہ نہیں لگیا جاسکا کہ یہ فون کال کہاں سے آتی رہی۔یوسف رضا گیلانی اس واقع کے بعد سیاسی طور پر سرگرم نہیں رہے۔

 اس ضمن میں مزید تفصیلات اور تحقیقات کے ناتئج سامنے آنا باقی ہیں ۔ جو کہ بہت سی حقائق سے پردہ اٹھائیں گے۔ یہ بھی قیاس آرائیاں پھیلائی جارہی ہیں کہ اغوا کاروں نے شہباز تاثیر کو بغیر کسی نگرانی کے رکھا ہو۔ اس لئے ان کی اتنی آسانی سے بازیاب ہو جانا بہت سے شکوک پیدا کرتا ہے۔شہباز تاثیر کا پہلا بیان جو سامنے آیا ہے کہ ” وہ یہاں تک بڑی مشکلوں سے پہنچے ہیں“ ۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ وہ اغواکاروں کے چنگ سے بھاگ نلکے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ آپریشن ضرب عضب میں ہونے والی پیش رفت کے بعد اغواکاروں کے لئے شمای اور جنوبی وزیرستان میں ان کو رکھن امشکل ہو رہا تھا۔ اس لئے انہیں چھوڑ دیا گیا۔ شہباز تاثیر کی رہائی کے لئے اغواکار پچاس کروڑ سے دو ارب تک تاوان طلب کرتے رہے ہیں ۔ کیا ان سے کوئی بارگیننگ ہوئی ہے؟ اس سلسلے میں تفصیلات آنی ضروری ہیں ۔ پیسے خواہ سیاسی مقاصد کے لئے اغوا پاکستان کی تاریخ کا حصہ رہی ہے۔ جس میں اکثر اغواکار قبائلی یا افغان سردار رہے ہیں۔ ماضی میں ایک پاکستانی اور ایک افغانی سفارتکار کو تاوان ادا کیا جا چکا ہے۔ اس سے قبل نوے کے عشرے میں جب جام صادق علی وزیراعلیٰ تھے دادو کے علاقے میں چینی انجنیئروں کو اغوا کیا گیا تھا۔ ان کی رہائی کے عوض سرکاری طور پر تاوان کی رقم ادا کی گئی تھی۔ سندھ کی پرانی تاریخ میں یہ بھی شامل ہے کہ تالپور اور کلہوڑا حکمرانوں کے شہزادوں کو افغان قبائلی سردار سالانہ رقم بطور ہرجانہ ادا کرنے کے عوض اپنی تحویل میں رکھتے تھے۔ اور یہ سلسلہ سالہا سال تک چلتا تھا۔ یہ اس لئے بھی کیا جاتا تھا کہ رقم کی وصولی کو یقینی بنایا جاسکے۔

شہباز تاثیر کی رہائی اور آئی ایس پی آر کی جانب سے ا س کا اعلان سے ملک میں رونما ہونے والی تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔ جس کے تحت پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کی جانب سے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ماضی میں جن کو اسٹریٹیک اثاثہ کہا جاتا تھا ان سے قربت کم ہو رہی ہے۔ ممتاز قادری کی سزائے موت پر مزید عرصے تک عمل درآمد نہ کرنے سے سخت گیر حلقوں اور گروپوں کی اس سوچ کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ کیس بھی سویلین یا عسکری بڑے عہدیدار کو کو وکئی بھی سر پھرا بندہ کسی چھوٹی موٹی بات پر حملہ کر سکتا ہے یا جان لے سکتا ہے۔ اور بعد میں وہ مذہبی حوالے سے ہیرو بھی بن سکتا ہے۔ 

 اس کے ساتھ ساتھ یہ بازیابی عسکری اداروں کی نیک نامی میں بھی اضافہ کرے گی۔ ملک کے اداروں کی جانب سے اعلانیہ نہ سہی لیکن عملا ایسا راستہ اختیار کیا گیا ہے جو یقیننا ایک خوش و ¿ئنہد بات ہے۔ 





ایم کیو ایم: زندہ رکھنا ہے لیکن اپنے سائیز میں


مائنس الطاف ایم کیو ایم 
 زندہ رکھنا ہے لیکن اپنے سائیز میں

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 

مصطفیٰ کمال  کی سیاسی انٹری نے سیاست کا موضوع ہی بدل ڈالا ہے۔ ایم کیو ایم میں کچھ ہونے جارہا ہے؟ کراچی میں کچھ ہونے والا ہے؟ سندھ میں کچھ ہونے والا ہے؟ یہ تنیوں سوال ویسے ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ایک ہی سوال ہے جس کو مختلف انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔ 

متحدہ قومی موومنٹ اسٹبلشمنٹ کی لاڈلی رہی۔ پیپلزپارٹی بھی اسکو اپنے گلے کا ہار بنائے رہی کہ کراچی میں امن رہے۔ کراچی میں کرپشن اور کرائیم جب تک ایک لیول پر تھے تو ہر کوئی اس لوٹ مار میں شریک تھا۔ بلکہ آزاد اور خود مختار تھا۔ لیکن جب کرائیم اور کرپشن کسی دائرے کے محتاج نہ رہے تب کراچی میں آپریشن شروع کرنا ضروری سمجھا گیا۔ یہ وہ آپریشن تھا جس کو نہ عدالتی احکامات اور نہ ہی حکمرانوں کی دبی ہوئی خواہش عملی جامہ پہنا سکی تھی۔ اس آپریشن کے حوالے سے پیپلزپارٹی کو بیک فوٹ پر جانا پڑا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ آصف زرادری بیرون ملک ٹہرے ہوئے ہیں۔ یہاں پر پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں پر مقدمات اور نیب کے پاس طلبی جاری ہے۔ 

 ادھر متحدہ کے سربراہ پر لندن میں منی لانڈری ، عمران فارق کے قتل کے مقدمات میں بھی بریت نہیں ہو سکی ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ان کی صحت پہلے جیسے نہیں۔ ان کے ٹیلیفونک خطاب پر پابندی ہے۔ پارٹی کے متعدد کارکن گرفتار ہو چکے ہیں اور باقی عدالتوں میں حاضری دے رہے ہیں۔ پارٹی پر ان کی گرفت اب بھی برقرار ہے لیکن کارکنان کی جانب سے وپہلے والی بجاوری نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار رابطہ کمیٹیاں ٹوٹتی رہی اور از سرنو بنتی رہیں۔ تنظیمی ڈھانچے میں متعدد تبدیلیاں کی جاتی رہی۔ بعض کو عہدوں سے فارغ کردیا گیا بعض کو نئی ذمہ داریاں سونی گئیں۔ یہ اندرونی توڑ ُھوڑ ابھی جاری تھی کہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی جانب سے پارٹی کی قیادت پر ایک اور دباﺅ بڑھ گیا۔ 

 اردو بولنے والوں کو تحریک انصاف اور جماعت اسلامی آپشنز کے طور پر دیئے گئے۔ تحریک انصاف کراچی میں ناتجربیکار تھی۔ اور وہ کراچی میں اپنا اسٹیک نہیں سمجھتی تھی۔ جماعت اسلامی ماضی کے واقعات کی وجہ سے سہمی ہوئی تھی۔ اور ان کے پاس کوئی ولولہ انگیز قیادت بھی نہیں تھی۔ جب تک جماعت اسلامی کی قایدت کا کوئی حصہ پتی کراچی میں ہوتا تھا، یہ جماعت اس میٹروپولیٹن شہر میں اپنا سیاسی اثر رکھتی تھی۔ جب اوپر کی سطح پر تبدیلیاں ہوئیں اور ترجیحات بھی تبدیل ہوئیں، کراچی اس کے ہاتھ سے جاتا رہا۔ 

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کراچی میں خلاءکو پر کر لیتی تو مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کو میدان میں اتارنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایم کیو ایم کو اندر سے توڑنی کے تجربات پرانے ہیں۔ حقیقی سے لیکر بعد میں ایک درجن مرتبہ اندرونی بغاوت کی کوششیں کی جاتی رہیں۔ لیکن نتیجہ نہیں نکلا۔ یہ سب تجربے فلاپ رہے۔ اس طرح کی کوشش ایک اور مہم جوئی ہوسکتی ہے بلکہ وہ متحدہ کو مزید مضبوط بھی بنا سکتی ہے۔ 

 مائنس ون فارمولا مختلف وقتوں میں مختلف پارٹیوں بشمول پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے لئے چلایا جاتا رہا۔ وقت نے ثابت کیا کہ اس طرح کے مصنوعی فارمولے نہیں چلتے۔ سیاست بعض حقائق کا نام ہے۔ آپ کسی کی پسند کو جیب سے نکل کر متبادل دے کر ناپسند میں تبدیل نہیں کر سکتے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ جب تک متحدہ کے سربراہ زندہ ہیں تب تک یہ پارٹی اسی کے گرد گھومتی رہے گی۔ ہاں پارٹی کے لئے مشکل وقت ضرور ہے۔ جب پارٹی اور اس کے فیصلے ایک فرد کے گرد گھومتے ہوں، جب ان کی صحت کے معاملات بھی ہوں، بیرون خواہ اندرون ملک مقدمات بھی قائم ہوں، پارٹی کے اندرونی مسائل کے ساتھ ساتھ بیرونی دباﺅ بھی ہو، ایسے میں مصطفیٰ کمال اور انیس قائم کانی کی جانب سے ”بمباری“ یقینا نئی مشکلات پیدا کر چکی ہے۔ 

 برطانیہ میں زیر سماعت معاملات میں انہیں وقتی طور پر رلیف ملا ہوا ہے۔ لیکن یہ لٹکتی ہوئی تلوار تو ہے۔ پاکستان میں عمران خان قتل کیس کی تفتیش ان کا درد سر تو ہے۔ اہم رہنما مخلتف عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ میئر کے معاملات بھی عدلات میں زیر سماعت ہیں۔ 
 لہٰذا متحدہ کسی بڑی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں۔ دو چار احتجاج اور دو چار دن بھوک ہڑتال کرنے ولاے جانتے ہیں کہ گوٹ کہاں پھنسی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب وزیراعظم کے بجائے براہ راست اسٹبلشمنٹ کا نام لیتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یہ بات سمجھنے میں متحدہ کو خاصا وقت لگا۔ جس اسٹبلشمنٹ کے وہ دلدار تھے، جس کے کہنے پر ان کے خلاف قائم سینکڑوں مقدمات ختم ہو جاتے تھے۔ اور اس اسٹبلشمنٹ کے ہر ضرورت کے وقت وہ کام بھی آئے۔ وہ ان سے یوں منہ موڑ لے گی؟ 

 اس تمام معاملے میں نواز لیگ خاموش ہے۔ سوائے چوہدری نثار علی خان کے ایک آدھ تبصرے کے۔ ورنہ ایم کیو ایم نے جب پارلیمنٹ سے استفیفے دیئے تھے تو نواز لیگ ہی ان کو واپس لے آئی تھی۔ اب ایک کمال کی انٹری ہوئی ہے تو وہ خاموش ہو گئی ہے۔ اگرچہ کسی جماعت کے معاملات کو اس طرح سے ادھیڑنا سیاسی طور پر جائز نہیں لیکن نواز لیگ خاموش ہے اس لئے کہ وہ پہلے ہی بہت سے اشوز پر اسٹبلشمنٹ سے دور کھڑی ہے۔ ایسے میں ایم کیو ایم کا معاملے کو وہ پرائی فلم سمجھ رہی ہے اور اپنے گلے میں ڈالنے کے لئے تیار نہیں۔ نواز لیگ کب تک خود کو سیاسی معاملات سے چشم پوشی کرتی رہے گی؟ سندھ میں پیپلزپارٹی اور متحدہ کے معاملات ہوں یا دیگر امور۔ 


 الطاف حسین پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ نئے نہیں۔
 ایم کیو ایم پر جب بھی حملہ ہوا اس نے شدت کے ساتھ مہاجرکارڈ کھیلا۔ آفاق منظر پر آئے، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس کے ضواب میں ندیم نصرت آئے تو انہوں نے بھی مہاجروں پر مظالم اور ان کے ساتھ ناانصافیوں کی بات کی۔ ایم کیو ایم ہو یا اسکو الوداع کہنے والے سب کو یہ کارڈ استعمال کرنا پڑے گا۔

 بعض حلقے ایم کیو ایم کی توڑ پحور پر خوش ہو رہے ہیں۔ یہ بات سمجھنی چاہئے کہ جتنا اندرونی تضاد برھیں گے اتنی ہی لسانی سیاست بھی بڑھے گی۔ دردوں اور دکھوں کا ازالہ صرف اس وقت ممکن ہے جب سیاست کا وہ انداز تبدیل ہوگا جو ایم کیو ایم نے قائم کئے رکھا ہے۔ اس توڑ پھوڑ میں سے جو گروپ نکلے گا وہ ایم کیوایم کی ایکسٹینشن ہی ہوگی۔ وہ خود کو زندیہ رکھنے کے لئے مزید مہاجیرت کا نعرہ دے گا اور سیاست کرنے کی کوشش کرے گا۔ 

 فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مائنس ون فارمولا نہیں چلے گا۔ مطلب یہ حلقے ایم کیو ایم کو قائم رکھنا چاہتے ہیں لیکن اس میں الظاف نہ ہوں۔ خیال یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ صحت وغیرہ کے حوالے سے وہ مائنس وہنے کے قریب ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو دوسرے رہنما کیوں نہ قیادت اپنے ہاتھ میں لینے کی امید لگائیں یا کوششیں کریں؟ اس وقت جو تضاد ابھرا ہے وہ الطاف سے زیادہ تعلق ان گروپوں سے ہے جو جو الطاف کے بعد پارٹی قیادت سنبھالنا چاہتے ہیں۔الطاف اپنے سیاسی جانشین مقرر کرنے کا اعلان کرچکے ہیں ان میں محمد انور اور ندیم نصرت بڑے اہم سمجھے جاتے ہیں لیکن ان پر بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کا ایجنٹ ہونے کا الزام ہے۔ لہٰذا یہ حلقے مائنس الطاف نہیں بلکہ مائنس الطاف فارمولے کے خلاف ہوں اور ان دونوں کا راستہ روکنے کے لئے مصطفیٰ کمال اور انیس قائمخانی کو میدان میں لے آئے ہوں۔

 کیا اس مرتبہ جو تماشہ لگنے والا ہے اس سے واقعی عوام کا کوئی مفاد حاصل کرنا ہے یا الزامات کی سنگ باری کر کے کچھ اور مقاصد حاصل کرنے ہیں۔ اگر الزامات جس طرح لگ رہے ہیں تو ایسی تنظیم پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟ ایم کیو ایم ان کی برین چائلڈ ہے۔ لہٰذا اس کو زندہ رکھناچاہتے ہیں لیکن اپنے سائیز میں۔

Nai Baat 

Sunday, March 6, 2016

ارتقا لیکچر


ارتقا لیکچر سہیل سانگی
یہ امر میرے لئے باعث افتخار ہے کہ ارتقا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز ، حمزہ علوی فاﺅنڈیشن، اور دیگر ساتھیوں نے یہ موقعہ فراہم کیا کہ میں ان دوستوں سے مکالمہ کر سکوں، اپنا تجربہ اور مشاہدہ بیان کر سکوں۔ جو ملک میں ترقی پسندی اور روشن خیالی فکر کی وکالت وجدوجہد اور اس کو پھیلانےمیں مصروف ہیں مکالمہ کر سکوں۔ 

 اپنی بات کا آغاز کرنے سے قبل یہ واضح کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا یہ مکالمہ شاید باقاعدہ تحقیقی مقالہ کے زمرے میں نہ آ ئے ۔ اس کا زیادہ تر حصہ میرے تجربہ، مشاہدہ پر مشتمل ہے۔ سیاسی اور فکری طور پر میری وابستگی بائیں بازو سے 1967 - 68 سے رہی ہے۔ لہٰذا اس تمام دور کے واقعات کا گواہ بھی ہوں یا شریک سفرہوں۔

 سندھ میں تین بڑی تحریکیں اٹھیں جنہوں نے صوبے کی سیاسی ڈئنامکس کو تبدیل کیا۔یہ تبدیلی منفی اور مثبت دونوں طرح کی تھی۔ پہلی سندھ کی بمبئی سے علحدگی کی تحریک تھی۔ یہ تحریک جو بظاہر سندھ کو صوبے کی حیثیت دینے کے لئے تھی۔لیکن اس کا سیاسی پہلو یہ بھی تھا کہ سندھ کا الگ تشخص بحال ہو جو برطانوی راج نے 1843 میں ختم کیا تھا۔لیکن اس کے پیچھے یہ عوامل بھی شامل تھے کہ برطانوی راج کے آتے ہی سندھ کے بمبئی سے الحاق کردیا گیا۔ اس کے بعدیہاں کا الیٹ کلاس یعنی زمیندارطبقہ، خود کو اقتدار اور اختیار میں شامل نہیں سمجھ رہا تھا۔اور کسی حد تک شامل بھی تھا تو وہ اس کے لئے ناکافی تھا۔ یاد رہے کہ یہ تحریک صرف بالائی طبقے تک ہی چلی تھی۔ اس تحریک کے بعدسندھ کو صوبے کی حیثیت مل گئی۔ اس کے ابھی اثرات اور ثمرات پورے طور پر پہنچے ہی نہیں تھے کہ برصغیر میں تحریک آزادی نے زور پکڑا۔ برصغیر کی تقسیم ہوگئی۔

تقسیم کے نتیجے میںبھارت سے آنے والے لاکھوں مسلمان سندھ میں ہی آکر آباد ہوئے۔یوں یہ خواب چند سال تک ہی چلا ۔ سندھ کا تشخص اس نقل مکانی اور پاکستان کی نوکرشاہی نے مزید عرصے تک چلنے نہیں دیا۔غیر مسلم ایلیٹ کلاس انڈیا منتقل ہو گیا۔ یہ جگہ مقامی مسلمانوں کو نہیں مل سکی بلکہ مہاجروں نے اس جگہ کو مکمل طور پر کیا۔

کراچی وفاقی دارالحکومت قرار پایا اور مئی انیس سو اڑتالیس میں کراچی کو سندھ سے علحدہ کرکے وفاق کے زیر انتظامیہ علاقہ قرار دیا گیا۔ جس سے سندھ کی یکجہتی متاثر ہوئی۔ سندھ کے ایلیٹ کلاس نے اس کی مخالفت کی ۔ ایوب خان نے جب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل کیا تو بھی کراچی وفاق کی تحویل میں رہا۔ یہ صورتحال 1970 میں ون یونٹ ٹوٹنے تک جاری رہی۔ اس صورتحال میں سندھ کو اپنے جسم کا ایک عضو اپنے ساتھ جوڑنے میں دقت پیش آرہی تھی۔ یہ صورتحال ایک حد تک ابھی بھی ہے۔ یہ امر قابل فکر ہے کہ پچاس اور ساٹھ کے عشرے تک کراچی کا کردار ترقی پسندانہ اور وشن خیالی کا رہا۔ جوکہ ستر کے عشرے کے بعد بدل کر اس کے برعکس بن گیا ۔
 سندھ تقسیم کے زخم سے باہر نہیں آسکا۔


 دوسری تحریک ون یونٹ کے خلاف اٹھی۔ 1955 میںبنگالیوں کی اکثریت ختم کرنے کے لئے مغربی حصے کو ایک یونٹ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں دوسرے صوبوں کی طرح سندھ بھی اپنا الگ تشخص کھو بیٹھا۔ ون یونٹ کی مخالفت پہلے دن سے ہی شروع ہو گئی تھی لیکن اس تحریک نے ساٹھ کے عشرے کے آخری برسوں میں زور پکڑا۔ جب ایوب خان کے خلاف ملک بھر میں ابال آرہا تھا۔ ۔ اس تحریک میں سندھ کے متوسط طبقے نے حصہ لیا ۔ جس میں شعرائ، ادیب اور طالبعلم شامل تھے۔ قیام پاکستان اور سندھ سے ہندو آبادی کی نقل مکانی کے بعد شعراءاور ادیب وغیرہ مقامی لوگوں کا متوسط طبقہ بن گئے ۔شعراءادیب اس لئے بھی شامل ہوگئے تھے کہ ایوب خان نے سندھی زبان سے وہ رتبہ چھین لیا جو اسے برطانوی راج میں حاصل تھا۔بنگالی زبان کا اشو ابھی تازہ ہی تھا۔ یوں ذریعہ تعلیم اور دفتری زبان کے معاملات ایجنڈا پر آگئے۔

اس تحریک نے اگرچہ سندھ بھر کے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر کٹھا کیا، پھر بھی یہ تحریک متوسط طبقے تک محدود رہی۔ اور متوسط طبقہ سیاسی طور پر اہمیت اختیار کر گیا۔ اس کی وجہ سے سندھ میں ایک نوجوان کارکن ،ادیب اور شاعر کی حیثیت اور اہمیت وڈیرے سے زیادہ ہوگئی۔ اس کا عکس سماج میں مختلف مواقع پر نظر بھی آنے لگا۔ لیفٹ بھی نظر آنے لگا۔ کسانوں اور مزدوروں کی تحریکیں بھی اٹھنے لگیں۔ ان کی سرگرمی بھی نظر آنے لگی۔ سندھ میں ریڈیکلائزیشن بڑا۔ سوشلزم کا نعرہ نوجوانوں اور سیاسی کراکنوں میںایک مقبول نعرے کے طور پر ابھرا۔ لگ بھگ یہ صورتحال ملک بھر میں تھی۔ لیکن سندھ میں طلبہ، کسان اور مزدور زیادہ متحرک دکھائی دیئے۔ اس ساٹھ کے عشرے ن میں لیفٹ تحریک چین نواز اور ماسکو نواز کی بنیادوں پر دوحصوں میں بٹ گئی۔

ون یونٹ ٹوٹاا اور اس کے کچھ عرصے بعد جب سندھ اسمبلی بنی تو سندھ کے اندرونی علاقے آئے ہوئے لوگ اور کراچی کے لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے اور عجیب محسوس ہونے لگے۔

 اس تحریک سے سیاسی ڈائنامکس تبدیل ہوا کہ پیپلزپارٹی وجود میں آئی۔ اس پارٹی نے نہ صرف اس نعرے کو بلکہ متحرک طبقات کو اپنی طرف کھینچا۔ اور اس پوری صورتحال کو کیش کیا۔ کمیونسٹ تحریک پر ایک تنقید یہ بھی ہے کہ اس نے اس نے اس بدلتی ہوئی صورتحال کا ادراک نہیں کیا۔براہ راست سوشلزم کا نعرہ دینے اور تنظیم کو اس طرف لے جانے کے بجائے اور خود کو قوم پرستوں سے بھی زیادہ قوم پرست ثابت کرنے کی کوشش کی۔ لہٰذا صرف نعرہ ہی نہیں بلکہ اسپیس اور

 کیڈر پیپلزپارٹی بہا لے گئی۔ پارلیمانی سیاست سے جی ایم سید کی دوری نے اس مظہر کو مزید مضبوط کیا۔ 
 ایوب خان کے خلاف طلبائ، مزدور اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ صدارتی انتخابات نے سیاسی جماعتوں کو بھی ایوب کے خلاف متحرک کر دیا۔


بھٹو اپنی کرشماتی شخصیت، وسائل اور عملیت کی وجہ سے یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوگئے کہ وہ متوسط طبقے کے ان مطالبات کو عملی طور پر ایڈریس کر سکتے ہیں ۔ بنگال میں فوجی کارروائی کے دوران صورتحال یہ تھی سندھ کی قوم پرست نہ موثر موقف اختیار کر سکے اور نہ ہی اسکا اظہار کر سکے۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ شاید وہ اسٹبلشمنٹ کے پورے کھیل کو سمجھ بھی نہیں پا رہے تھے۔ ڈر کے عنصر کے ساتھ ساتھ یہ بھی عنصر موجود تھا کہ کیا واقعی بنگالیوں کی تحریک آزادی کامیاب ہو سکے گی؟ ۔سندھ سے نحیف سی آواز صرف اگر اٹھ رہی تھی تو وہ کمیونسٹوں کی تھی۔ 

 بھٹو کی پیپلزپارٹی: 
اپنے پورے دور حکومت میں بھٹو اور قوم پرست دو الگ انتہائیں رہیں۔لیکن بھٹو نے متوسط طبقے اور اس کے مطالبات کو ایڈریس کرنے کی کوشش کی۔ تعلیم، ملازمتیں، دیہی علاقوں میں سہولیات، زبان اور ثقافت کے اشوز کو یا بڑی حدتک حل کیا یا پھر ڈی فیوز کیا۔ یوں سندھ میں قوم پرست اور لیفٹ کی تحریک جن بنیادوں پر کھڑی تھی اس کو بھٹو نے کمزور کردیا۔ لوگ بھٹو کو اپنے ساتھ کھڑا ہوا محسوس کر رہے تھے ۔ خود کو عوامی رنگ دینے کی کوشش کی۔

 جب 1973 کا آئین بنا تو جی ایم سید نے پارلیمانی سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور سندھو دیش کا نعرہ لگایا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ اپسکتان کے ملکی ڈھانچے میں سندھ کو حقوق کا تحفظ ممکن نہیں ۔ لیکن بھٹو کی پالیسیوں کی وجہ سے یہ نعرہ بعض فکری حلقوں سے ہٹ کرعوامی سطح پر مقبولیت نہیں حاصل کر سکا ۔

 بھٹو کے نئے پاکستان کی بنیاد سندھ اور پنجاب کے اتحاد پر تھی۔ جس سے پنجاب اور۔ مہاجر اتحاد جو قیام پاکستان کے بعد قائم ہوا تھا، ٹوٹ گیا۔
ٓٓٓٓ ٓٓبھٹو دور میں پاکستان کی سیاست میں سندھ کا شیئر یا کلیم شروع ہوا۔ سندھ میں ٹپیکل پنجاب مخالف سیاست تھی اس میں بھٹو پل بنایا۔

 پاکستان قومی اتحاد کی تحریک 
یہ سب معاملہ پاکستان قومی اتحاد کی نو ستاروں والی تحریک تک چلتا رہا۔ مسلم ممالک کو کٹھا کرنے، جوہری پروگرام اور مستقبل میں خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال جو بعد میں افغان اشو ، ایران ی انقلاب کی شکل میںسامنے آئی۔ان کی وجہ سے امریکہ اورپاکستانی اسٹبلشمنٹ بھٹوکو رکاووٹ سمجھ رہے تھے۔ وہ اسلام آباد میں تبدیلی لانا چاہتے تھے۔اور انہوں پی این اے تحریک کے ذریعے یہ کیا۔ پی این اے اور بھٹو کے درمیان کامیاب مذاکرات کے باوجود ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ضیاءالحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا۔ جو اگلے دس سال تک رہا۔

 پاکستان بننے میں سندھ آگے آگے رہا لیکن پاکستان بننے کے بعد وسائل، اختیار، اقتدار، ملازمتوں اور نئے ملک کے دیگر ثمرات میں میں حصہ نہ ملنے کی وجہ سے سندھ ڈپریشن میں چلاگیا۔ بھٹو نے لوگوں کو اس سے نکالا۔ زرعی اصلاحات ، شگر ملیں، کوٹہ سسٹم ، اسوقت سندھ کے دیہی علاقوں کو فائدہ پہنچا۔ سندھ کے لوگوں کو بظاہر بھٹو کی دوسری کسی تحریک سے اختلاف نہیں ہوا۔ اس کے اثرات پی این اے کی تحریک میں بھی نظر آئے۔ ان چیزوں نے سندھ کے عوام کا بھٹو کے ساتھ بانڈ مضبوط کیا۔

 بھٹو کا تعلق سندھ سے تھا اور بھٹو نے بڑی حد تک سندھ کے متوسط طبقے کو اکموڈیٹ کیا تھا۔ سندھ کے لوگوں کو اقتدار میں شمولیت کا احساس دلایا تھا۔قیام پاکستان کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ سندھ کے لوگوں میں حاکمیت کا احساس پیدا ہوا۔ اس لئے بھٹو کو ہٹانے سے سندھ کے لوگوں کولگا کہ ان سے کچھ چھن گیا ہے۔

بھٹو کو پھانسی کو سزائے موت سنانے کے بعد اور اس سزا پر عمل درآمد پر سندھ بھر میں احتجاج ہوتا رہا۔ یہ احتجاج کارکنان اپنی سطح پر اور اپنے طور پر کر ہے تھے۔ سوائے شروع کے چند ماہ کے جب بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو دورے کر رہی تھیں۔ اس کے بعد پیپلزپارٹی کی درمیانی قیادت غائب تھی۔ 

 ایم آرڈی تحریک
افغان جنگ کے بعد ضیا نے زیادہ سکٹ سیاسی پالیسی اختیار کی۔ ملک کے سیاسی، فکری ، معاشی نظام کو کچھ اس طرح سے جوڑنا شروع کیا جو ملک کے اکثرطبقات اور سیاسی جماعتوں کو قبول نہیں تھا۔ اس بات نے ملک کی اہم پارٹیوں کو جمع ہونے پر مجبور کردیا۔ اور انہوں نے تحریک بحالی جمہوریت کے نام سے اتحاد قائم کرلیا۔ فروری 1982 میں یہ اتحاد قائم ہوا لیکن پی آئی اے کے جہاز کی ہائی جیکنگ کے واقعہ نے اس تحریک کو غیر فعال کردیا۔

 بالآخر اگست 1983 میں یہ تحریک مارشل لا کے خاتمے اور انتخابات منعقد کرانے کے مطالبے سے شروع ہوئی۔ تحریک کا طریقہ یہ رکھا گیا کہ رہنما اور کارکنان پرامن طور پر گرفتاریاں پیش کریں گے۔ ایم آرڈی کی اپیل ملک بھر میں تحریک چلانے کی تھی۔ لیکن اس نے صرف سندھ میں ہی زور پکڑا۔ یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ اس تحریک نے سندھ کے ہر گھر کو متاثر کیا۔ اسکول کی عمر کے بچے بھی گرفتار ہوئے۔ اس تحریک میں سندھ کی مذہبی، سیاسی اور بائیں بازو کی سب جماعتیں شامل تھیں ماسوائے جماعت اسلامی اور پیر پاگارا کے۔ یہ صحیح ہے کہ سائیں جی ایم سید اس تحریک کے حق
میں نہیں تھے۔ لیکن بڑی تعداد میںقوم پرست گروہ اور کارکن اس تحریک کا حصہ بنے۔ 
 ہر پارٹی جو سندھ میں وجود رکھتی تھی اس کو ایم آرڈی تحریک میں حصہ لینا پڑا۔ جے یو آئی ، پلیجو کی عوامی تحریک، کمیونسٹ پارٹی ، لیفٹ کے دیگر چھوٹے گروپ سندھ وطن دوست پارٹی وغیرہ، قوم پرستوں کے مختلف حلقے اس تحریک کا متحرک حصہ رہے۔ سند ھ میں یہ گلی گلی کی لڑائی یا حتجاج تھا۔ لوگوں نے سکرنڈ ،خیرپور ناتھن شاہ، میہڑ میںفوج سے ٹکر کھائی۔ یہ لوگ مسلح نہیں تھے۔ نہتے تھے۔اسکول اور کالج کے بچوں تک نے قید اور کوڑوں کی سزائیں کھائی۔درجنوں کی تعداد میں خواتین کو گرفتار کیا گیا۔ فوجی اقدام اور تشدد کے ذریعے اسے دبانے کی کوشش کی گئی

غلام مصطفیٰ جتوئی خاندان کی خواتین پہلی مرتبی باہر نکلیں۔ مختلف جماعتون اور گروہوں کے سیاسی کارکنوں کے آپس میں اور ایک دوسرے کی قیادت سے رابطے اور تعلق بڑھے۔ ریڈکلائزیشن بڑھی۔ جیل تربیت گاہیں بن گئیں۔ اس سے اشرافیہ اور خود تحریک چلانے والے بھی ڈر گئے کہ تحریک اب ان کے ہاتھوں سے نکل رہی ہے۔ اور عوام کے ہاتھوں میں جارہی ہے۔ غلام مصطفیٰ جتوئی جو اس تحریک کے روح رواں بنے تھے وہ سینٹرل جیل کراچی کے ریسٹ ہاﺅس میں نظر بند تھے۔ جہاں ان کے مارشل لا ءحکام سے مذاکرات چل رہے تھے۔ محترمہ بینظیر بھٹو سینٹرل جیل میں قید تھیں انہیں کان میں تکلیف تھی۔ اچانک غلام مصطفیٰ جتوئی کا بیان آیا کہ” ماضی کی تلخیوں کو بھلا دو“۔یہ تحریک کے خاتمے کا اعلان تھا۔ اور وہ بیرون ملک چلے گئے۔ چند روز بعد محترمہ بھی علاج کے لئے بیرون ملک چلی گئی۔ 

 بعض مورخین کے مطابق اس تحریک میں دو سو سے زائد افراد مارے گئے اور پندرہ ہزار سے زائد گرفتار کر لئے گئے۔ تحریک کا زور سندھ میں ویسے ہی بہت تھا ، اوپر سے اس تحریک کو ملک گیر بننے سے روکنے کے لئے سندھ کو ٹارگیٹ کرکے تشدد کیا گیا۔ یوں ایم آرڈی سندھ کی تحریک بن گئی۔ 
 سید کے بغیر سندھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ سید نے ایم آرڈی سے خود کو دور رکھا۔ پارلیمانی سیاست سے قوم پرست سیاست کو دور رکھنے کی غلطی کے بعد یہ شاید سید کی دوسری غلطی تھی۔ کہ سندھ کے عوام ووٹ میں قوم پرستوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ لیکن اسٹریٹ پاور یا سڑکوں پر احتجاج میں بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ ہیں۔ 

جام ساقی کیس
80ءکے عشرے شروع ہوتے ہی کمیونسٹ پارٹی کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ افغانستان میں سوویت فوجوں کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان کے فوجی حکمران اور بھی ڈر گئے۔ ضیاءحکومت نے ملک بھر میں کمیونسٹوں کو کچلنے کی حکمت عملی بنائی۔ ملک بھر میں پارٹی کارکنوں کی درجنوں گرفتاریاں ہوئیں۔ بالآخر 1980 میں ایجنسیاں کراچی اور حیدرآباد میں پارٹی کے خفیہ دفاتر کا کھوج لگانے میں کامیاب ہوگئیں۔ گرفتار شدگان کو مختلف گروپوں میں فوجی عدالتوں میںمقدمات چلا سزائیں دی گئیں ۔ ان میں سے جام ساقی کیس تین وجوہات کی بناءپرسب سے بڑا کیس بنا۔

اول یہ کہ یہ کیس پارٹی کے دفاتر پر چھاپے حوالے سے تھا۔ اور اس کیس میں جام ساقی اور پارٹی کے قائم مقام سیکریٹری جنرل پروفیسر جمال نقوی کو بھی شامل کردیا گیا تھا۔ دوسرے یہ کہ ان پر براہ راست یہ الزام لگایا گیا کہ یہ لوگ ملک میں کمیونسٹ نظام لاناچاہ رہے تھے اور اس کی تیاری میں مصروف تھے۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ اس مقدمے میں ملک کے تمام جمہوری سیاسی رہنماﺅں کو بطور دفاع کے گواہان کے طلب کیا گیا۔ اس امر نے آگے چل کر ایم آر ڈی کو دوبارہ منظم کرنے میں بڑٰ مدد دی، جو کہ 1981 میں الزوالفقار کی جانب سے پی آئی اے کے جہاز کے اغوا کے بعد بددلی اور بے عملی کا شکار تھی۔

 ایم آرڈی کی تحریک تمام خامیوں کے باوجود یہ تحریک اتنا دباﺅ ڈال سکی کہ جنرل ضیا ( غیر جماعتی ہی سہی) انتخابات کرانے پر تیار ہوگئے۔ لیکن اس سے پہلے اخلاقی اور قانونی جوازکے طور پر اپنے حق میں ریفرینڈم کرایا۔ 

 خطرے کی گھنٹی
ضیا کو یہی خوف رہا کہ اگر کچھ ردعمل سندھ ہی سے آنا ہے۔ سندھ کے لوگوں میں اینٹی اسٹبلشمنٹ سوچ آ گئی ہے۔ جب اس اظہار کا ایم آرڈی کی تحریک میں بھرپور اظہار ہوا۔ اسٹبلشمنٹ کو خطرے کی گھنٹی محسوس ہوئی۔ ملک میں فکری تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے تسلیم کرتے ہیں کہ ایم آر ڈی کے دوران سندھ میں جس نچلی سطح پر سیاست، ایکٹوازم اور ریڈیکلائزیشن بڑھ گئی تھی۔ لیفٹ خاصا مقوبل ہو رہا تھا۔ اس ریڈیکلائیزیشن کو توڑنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اور اس کے لئے ایک سے زائد طریقے اختیار کئے گئے۔

ایم آرڈی کی تحریک کے فورا بعد سندھ میں ڈاکو فیکٹر نمودار ہوا۔مارشل لا کے ہوتے ہوئے ڈاکو فیکٹر کا بڑھنا تعجب خیز تھا۔ اس کو ایم آرڈی تحریک سے جوڑنے کی بھی کوشش کی جاتی رہی۔ بعض قوم پرست گروپوں میں اسلح متعارف ہوا۔ اس فیکٹر بعد میں ڈاکو کے نام پر آپریشن کیا گیا، ادیبوں دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔قانون نافذ کرنے والے لوگوں کے گھروں میں ڈاکو کے نام پر گھس جاتے تھے۔ 

یہ آپریشن اس وجہ سے بھی ضروری بن گیا کہ جس کی بھی کچے میں زمین تھی وہ حکومت کے ساتھ ہوا۔ ان میں نوشہروفیروز اور دادو کے جتوئی، شکارپور اورگھوٹکی کے مہر اور دیگر لوگ شامل تھے ۔مارشل لاءسے ان کے سیاسی اور معاشی مفادات تھے۔ یہ مشرف دور کا قصہ ہے کہ اغوا برائے تاوان اور ڈاکو گردی نے باقاعدہ انڈسٹری کی شکل اختیار کی۔

طلبہ تحریک اور اسلح 
ضیاءدورمیں طلبہ میںمارشل لا ءمخالف کے بڑھتے جذبات اور کسی امکانی تحریک کو روکنے کے لئے اسلامی جمیعت طلبہ کے ذریعے اسلح متعارف ہوا۔ ضیا نےتعلیمی اداروں میں اسلح کو روکا نہیں اس کو بڑھاوا دیا۔ اسلح کی متعارف ہونے کے بعد طلبہ تحریک میں تشدد کا عنصر شامل ہوا۔اندرون سندھ یہ کام جیئے سندھ کے ایک گروپ نے کیا۔ اسلح کا مظاہرہ کچھ اس طرح ہوا کہ چھوٹے گروپ اپنا تسلط برقرار رکھ سکیں۔ آگے چل کر” کس کے پاس کتنا اسلح ہے وہ بڑا“ ک سمجھا جانے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ جرائم کاعنصر بھی آگیا۔

 مذہبی تنگ نظری اور انتہا پسندی
سندھ مذہبی اور عقیدے کے حوالے سے رواداری کی سرزمین رہی ہے جسے انتہاپسندی نہ ہونے کی وجہ سے صوفیوں کی دھرتی کا نام دیا جاتا ہے۔ سندھ کی صرف اتنی ہی خصوصیات نہیں۔ سندھ میں پچاس کے عشرے میں جو بڑے پیمانے پر بٹئی تحریک، الاٹی تحریک اور سندھ ٹیننسی ایکٹ کی تحریکیں چلیں اور کامیابیاں حاصل کیں ۔ اس ہاری تحریک کے رہنماﺅں کامریڈ نذیر جتوئی، عزیزاللہ جروار، کامریڈ رمضان شیخ، مولانا ہالیجوی ، مولانا عبدالحق ربانی اور دیگرحضرات دیوبند کے سند یافتہ علماء تھے اور سرخے مولوی کہلانے والے یہ حضرات ہمیشہ ترقی پسند اور تحریک کا حصہ اور قوم پرست تحریک کے حامی رہے۔ کھڈہ مدرسہ کراچی کے علماءکا اس حوالے سے خاص کردار رہا ۔

 جمیعت علمائے اسلام جو دراصل جمیعت علمائے ہند کا حصہ تھی اس نے خود کو اپنے بنیادی فکر سے دور کیا۔پرانے علماءکی یہ کھیپ مر کھپ گئی۔ ضیاءالحق نے افغان جنگ کے حوالے سے اس مکتب فکر کو استعمال کیا۔ اور اس طرح کی انتہا پسندی کی لائین اختیار کی کہ ان کا ایک دھڑا آگے چل کر مولانا سمیع الحق کی قیادت میں طلباءکا ”باوا“ بنا۔ 
جے یو آئی کی قیادت پر سیکولر اثرات کم ہوتے گئے۔ کھڈہ کراچی کے روشن خیال اور رواداری رکھنے والے علماءنے علحدگی نے جے یو آئی سے علحدگی اختیار کر لی۔ پرانے فکر کے لوگ مر کھپ گئے۔ اب نئے مدرسوں سے قیادت آرہی تھی۔ الازہریونیورسٹی سے فارغ التحصیل ان کی جگہ لے رہے تھے۔اب ان کو ریشمی رومال تحریک یاد نہیں۔ سمیع الحق، افغان جنگ میں جے یو آئی فریق بنی۔

 ضیا دور کے اسلامائیزیشن کے اثرات اس حد تک ہوا کہ سندھ میں پہلی بار منظم طریقے سے مدرسے کھلنا شروع ہوئے۔ اس کے اظہار کے طور پر سندھ یونیورسٹی جو اس سر زمین کی سیاست ، فکر اور سوچ کا س سرچشمہ سمجھی جاتی تھی وہاں باب الاسلام کے نام سے ٹاور بنایا گیا۔
 بریلوی مکتب فکر سے تعلق ہونے کی وجہ سے جمیعت علمائے پاکستان کی سندھ میں صوفی کلچر کے حوالے سے گنجائش بنتی تھی۔ لیکن اس جماعت نے خود کو ووٹ کی سیاست کی وجہ سے صوبے کے دو بڑے شہروں تک محدودرکھا۔لہٰذا سندھ کی مقامی اور دیہی آبادی اس سے دور رہی۔ 80 کے عشرے میں اسکو سیاسی لحاظ سے ایم کیو ایم نے اور مذہبی حوالے سے دیوبندی مکتب فکر کے نام سے کام کرنے والے گروپوں نے replace کردیا۔ جماعت اسلامی مذہبی جماعت ہونے کے باوجود صوبے کے دو بڑے شہروں میں ہی کام کر رہی تھی اسکا محور بھی ہر پنجاب بیسڈ پارٹی کی طرح سندھ کے شہر تھے، جہاں پر بھارت سے منتقل ہو کر پاکستان میں آباد ہونے والے لوگ تھے۔ اس وجہ سے اس کی شناخت بھی مذہبی اور مہاجر وں کی پارٹی کی طرح رہی۔ لہٰذا جماعت اسلامی بھی جے یو پی کی طرح اندرون سندھ پذیرائی حاصل نہ کرسکی۔ 

پاگار ا فیکٹر
 سندھ میں ساٹھ کے عشرے تک جوسیاسی رجحانات پروان چڑھ رہے تھے۔ان میں ایک بھٹو فیکٹر، دوسرا جی ایم سید کی قوم پرستی اور تیسری لیفٹ کی سوچ تھی۔ اس وقت پیر پاگارا کسی حساب میں ہی نہیں تھے ۔ 1970 کے انتخابات میں بھی پیرپاگارا کی سیاسی طور پر یہی صورتحال رہی۔ مستقبل میں صورتحال کچھ یوں بن رہی تھی کہ پیپلزپارٹی، قوم پرست اور ترقی پسند ایک دوسرے کے compititors بن رہے تھے یا سیاسی جوڑ توڑ میں ایک دوسرے کے اتحادی یا مخالف بن رہے تھے ۔ 70 کے بعد پیر پاگارا سے اسٹبلشمنٹ کی انڈر اسٹینڈنگ بنی۔ بھٹو کو جی ایم سید نے ری پلیس نہیں کیا بلکہ پاگارا نے کیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ بھٹو کے خلاف بننے والے اتحاد پی این اے میں بھی پیر پاگارا کوابتدائی طور پر سرکردہ کردار دیا گیا۔ آگے چل کرپیر پاگارا کے کہنے پر جنرل ضیا نے محمد خان جونیجو کووزیر اعظم بنایا گیا۔ سندھ میں بھٹو کے بعد پاگارا کو بڑا لیڈر یا نمائندہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

ایم رڈی کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے نئی سیاسی حکمت عملی بنائی گئی۔ ڈی فیوز کرنے کے لئے غیر سیاسی جماعتی انتخابات کرائے۔ کچھ وڈیرے پارٹی چھوڑ کر چلے گئے۔۔ پیپلزپارٹی نے غیرجماعتی انتخابات کا بائکات کیا، جس کا نقصان ہوا اس کا اعتراف خود بینظیر نے بھی کیا کہ بائکاٹ کر کے غلطی کی ہے۔ جنرل ضیاء نے ان کو اپنے ساتھ جوڑے کھنے کے لئے ملازمتوں کی کوٹہ اور ترقیاتی فنڈز دیئے گئے۔ یوں سرکاری سطح پر اور بڑے پیمانے پر سیاست میں کرپشن کا آغاز کھلے عام ہو گیا۔ اسکے اثرات یہ ہوئے کہ آگے چل کر بینظیر سمیت بعد میں آنے والی تمام حکومتوں کو کو بھی اس پالیسی کو جاری رکھنا پڑا۔

 غیر جماعتی انتخابات اوراشرافیہ کی نئی سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے یہاں سے نئے پاور بروکرز متعارف ہوئے۔ 
جونیجو دور میں اسکول کھلے، ملازمتیں ملیں۔ترقیاتی کام بھی ہوئے۔زیادہ تر ترقیاتی کام نچلی سطح پر کرائے گئے تاکہ لوگ دیکھ سکیں اور اس کا فوری فائدہ محسوس کریں ۔ 85 ء کی اسمبلی میں سب کے سب غیر سیاسی نہیں تھے۔ وہ بھی تھے جو سیاست کا اچھا خاصا تجربہ رکھتے تھے۔ لوگوں کو کرپٹ کرنے کے لئے فنڈز، ملازمتوں میں کوٹہ اور دیگر مراعات ملنے لگیں ۔ سندھ کی وڈیرہ اشرافیہ کو لگا کہ بھٹو لیڈیز کو اب اقتدار ہیں ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ غلام مصطفیٰ جتوئی اور بعد میں مخدوم رفیق الزماں اور میر ہزار خان بجارانی وغیرہ نے پیپلزپارٹی چھوڑ دی۔ 

جونیجو نے جینیوا معاہدہ، اوجڑی کیمپ واقعہ کی تحقیقات سمیت جب سیاسی اثرات دکھانے کی کوشش کی تو انہیں گھر بھیج دیا گیا۔بہاولپور واقعے میں ضیاءالحق کی موت نے ایک نئی صورتحال پیدا کردی۔ جی ایم سید نے خود کو انتخبات سے دور رکھا۔ لیکن انہوں نے سندھ نیشنل الائینس کے نام سے پیپلز پارٹی مخالف افراد کا اتحاد بنا کر قوم پرستی کی چھتری فراہم کی۔ لیکن یہ چھتری کام نہ آسکی۔ 88ع کے انتخابات میں ایک بار پھر لوگوںنے اپنی رائے کا بھرپور اظہار کیا۔ پاگارا، غلام مصطفیٰ جتوئی جیسے بڑے بڑے بت پیپلزپارٹی کے ہاتھوں گر گئے۔ گرا دیئے گئے۔ 

 بینظیر دور میں ملازمتوں کے دروازے کھل گئے۔ کمیشن کو بائی پاس کر کے ملازمتیں دی گئیں۔ اس دور کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ
سیاسی خاندانوں کی بیوروکریسی میں شمولیت ہوئی۔آج سندھ میں بعض اہم سیاسی خاندان بشمول ہالہ کی مخدوم فیمیلی، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، گھوٹکی کے بااثر شخصیات کی فیملی کے افراد سرکاری ملازمتوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ 


 ایک رجحان یہ بھی متعارف ہوا کہ لوگ اسٹبلشمنٹ یا حکومت سے لڑنے کے بجائے آپس میں لڑیں۔ لہٰذا لسانیت، فرقے، عقیدے وغیرہ کے حوالے سے جو فسادات اور مارا ماری ہوتی رہی وہ اسی زمرے میں آتی ہے۔
ایم کیو ایم کا قیام
 ایم آرڈی سے پہلے ایم کیو ایم کا کوئی جود نہیں تھا۔ ترقی پسند مہاجر پیپلز پارٹی یا لیفٹ کے ساتھ تھے، باقی جماعت اسلامی یا جے یو پی کے ساتھ ۔ ایم آرڈی دیہی آبادی کا احتجاج اور اظہار تھا جس کو کاﺅنٹر کرنے کے لئے شہری آبادی کو سامنے لایا گیا۔

جونیجو دور میں ہی سندھی مہاجر تضاد بڑھا۔ تیس ستمبر کا حیدرآباد کا سانحہ اور اسکے جواب میں کراچی کا سانحہ صرف
 انتخابات ملتوی کرانے کے لئے نہیں تھا بلکہ سندھ کی آبادی کو مستقل بنیادوں پر تقسیم کرنے کا فارمولا بھی تھا۔ اسٹبلشمنت کی جانب سے مہاجرقیادت کو یہ ذہن میں ڈالا گیا کہ واپس پیپلزپارٹی اقتدار میں آرہی ہے۔اس کے تور کے لئے ایم کیو ایم کو پروموٹ کیا۔ 

بعد میں سندھی مہاجر تضاد حکومت کو ٹربل میں رکھنے اور جمہوری عمل کو عدم استحکام میں رکھنے کے لئے جاری رکھا گیا۔سندھ کی دو کمیونٹیز دیہی اور شہری کا آپس میں ٹکراﺅ کسی بھی طور ان کے مفاد میں نہیں تھا۔اس دراڑ کی وجہ سے سندھ کا متحدہ موقف ختم ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو اسپیس بنا وہ باہر کی آبادی نے پر کیا۔ایم کیو ایم کو اگرچہ احساس ہوا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

 یہ امر غور طلب ہے کہ پچاس اور ساٹھ کے عشرے تک کراچی کا پروفائیل ترقی پسندانہ اور جمہوری ہوا کرتا تھا۔ وقت گرزنے کے ساتھ وہ غیر جمہوری اور رجعت پسندانہ ہوتا گیا۔ ایک جدید صنعتی شہر بڑی صنعتوں اور بڑے بزنیس کے ایم آرڈی کی تحریک کے زمانے میں اور اس کے بعد باوجود لسانیت اور فرقہ پرستی میں چلا گیا۔

 ایم آرڈی کا ابھار اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جاگرتا اور ریڈیکلائیزیشن کے مدنظر اسٹبلشمنٹ نے دو اہم فیصلے
کئے۔ ایک یہ کہ اب ملک میں سیاست پر کنٹرول ہو یعنی کنٹرولڈ پالیٹکس ہوگی۔ اس کا اظہار ہم ضیا کی غیر جماعتی انتخابات اور اس کے بعد نوے کے عشرے میں منتخب وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کی موجودگی میں اہم فیصلوں کے لئے ٹرائیکا کا قیام اور اسمبلیاں توڑنے اور آئی جے آئی کے قیام کے عمل کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔ دوسرا اہم قدم کسی کو مقبول لیڈر بننے نہ دینا۔ اگر کوئی اس پوزیشن میں ہو تو اسے تسلیم نہ کرنا۔ لہٰذا بنیظیر بھٹو کو پی ڈٰ اے کی شکل میں انتخابات لڑنے پڑے۔ بنیظیر بھٹو اور نواز شریف کی منتخب حکومتوں کو دو دو مرتبہ ہٹایا گیا۔ 

 نظریاتی سیاست کا خاتمہ 
سوویت یونین کے ٹوٹنے کے اثرات تو دنیا بھر میں پڑے لیکن پاکستان میں خاص طور پر پڑے۔ یہاں نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کی ایک وجہ کمیونسٹ پارٹی کی اکثریت اور اقلیت کی بنیاد پر ایک بار پھر تقسیم تھی۔اس تقسیم کے بعد پارٹی اور ترقی پسند تحریک کو وہ پذیرائی نہ مل سکی جو پچاس کے عشرے لیکر اسی کے عشرے کے آخر تک حاصل تھی۔

 سیاسی کارکناں ناپید 
 نوے کے عشرے کا یہ بھی المیہ ہے کہ اس میں کمیونسٹ پارٹی جو تمام سیاسی کارکنوں کے نزدیک رول ماڈل تھی وہ دو حصوں میں بٹ گئی۔ انقلاب کے ساتھ رومانس کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ سندھ میں کمیونسٹ تحریک جو بنگال کے بعد کبھی ملک بھر میں مثالی اور مضبوط سمجھی جاتی تھی وہ دم توڑنے لگی۔ سینکڑوں کی تعداد میں اس کا کیڈر پہلے گومگو کی حالت میں رہا۔ بعض مایوس ہو کر بیٹھ گئے کچھ مین اسٹریم کی سیاست کی طرف گئے۔ یہ توڑ پھوڑ سیاسی طور پر سندھ کا اتنا بڑا نقصان تھا جس کا ازالہ آنے والے وقتوں میں شاید ہی ہو سکے۔ 

 پیپلزپارٹی کو سندھی پارٹی بنانا
پانی کا معاہدہ، مردم شماری ، نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ جیسے بعض امور جن کا تعلق بین الصوبائی تھا۔ ان کا فیصلہ کرنا پیپلزپارٹی کے بس میں نہیں تھا۔ وہ نہ پنجاب کو ناراض کرنا چاہتی تھی اور نہ سندھ میں اپنی مقبولیت کو کم کرنا چاہتی تھی ۔ پنجاب میں نواز شریف جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگا رہا تھا۔ ایسے میں دیگر پیپلزپارٹی مخالف قوتیں بھی سرگرم ہو گئیں ۔ اور بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی گئی۔ نواز شریف کا دوسرا دور حکومت جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا۔انہیں پنجاب میں فائدہ ضرور ہوا لیکن سندھ میںانہوں نے خود کو تنہا کردیا۔ یہ نعرہ یہاں پرپیپلزپارٹی کے لئے فائدہ مند ہوا۔ پیپلزپارٹی پر قوم پرست جماعت قرار دے دی گئی۔

جام صادق فارمولا : 
 سندھ میں اکیلی نشست رکھنے والے جام صادق علی کو وزیراعلیٰ مقرر کردیا گیا ۔ اس نے اسٹبلشمنٹ کی حمایت اور ڈنڈے کے زور پر اکثریت حاصل کرلی۔ یہ نیا فارمولا تھا کہ کس طرح سے مقبول سیاسی جماعت کو اقتدار سے دور رکھا جائے۔ اس فارمولے پر بعد میں گاہے بہ گاہے عمل ہوتا رہا۔ مظفر حسین شاہ، لیاقت جتوئی، علی محمد مہر اور ارباب غلام رحیم اسی فارمولے کے تحت وزیراعلیٰ بنے۔ یاد رہے کہ بغیر پیپلزلپارٹی کے سندھ میں جو بھی سیٹ اپ بنے ان سب کو پیر پاگارا کی آشیرواد اور ایم کیو ایم کی حمایت حاصل رہی ۔

افغان جنگ کے سندھ پر خصوصی اثرات
 افغان جنگ کے منفی اثرات ملک بھر میں پڑے۔ سندھ میں اضافی اثر یہ پڑا کہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے ساتھ سا تھ کو ٹری اور عمرکوٹ جیسے چھوٹے شہروں میں بھی افغان پناہ گزین آکر آباد ہوئے۔ اس کی وجہ سے مجموعی طور پر صوبے کے مختلف علاقوں کا مزاج جو پہلے کبھی سافٹ ہوا کرتا تھا، وہ اب ہارڈ ہو گیا۔ صوبے کے دو بڑے شہروں خاص طور پر کراچی میں ریاستی اداروں کی پشت پناہی کی وجہ سے افغانیوں اور دیگر غیر قانونی تارکین وطن کے لئے دروازے کھلے رہے، لیکن اندرون سندھ سے آنے والے لوگوں کو متحدہ اور دیگر گروپوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا بڑا اظہار 2010 اور 2011 کے سیلابوں کے موقعہ پر دیکھنے میں آیا۔ یوں سندھ کا بے گھر اور بے روزگار ہونے والا کسان اپنے صوبے کے دارلحکومت اور صنعتی شہر میں روزگار ڈھونڈنے یا بسنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کے کراچی کی ڈیموگرافی، سماجیت ، سیاست کے علاوہ دیہی معیشت اور کسان جو مزدور طبقے میں شامل ہو سکتا تھا اس پر بھی اثرات پڑے۔

قبائلی اور برادری سسٹم نیا جنم
 مشرف دور کے بلدیاتی نظام اور طرز حکمرانی نے سندھ میں قبائلی سسٹم کو نئی جان دے دی۔ ایک بار پھر سندھ جو ساٹھ اور ستر کے عشرے میں سیاسی طور پر شعور حاصل کر چکا تھا، سماجی طور پر واپس قبائلی سسٹم میں دھکیل دیا گیا۔ اس کے صوبے کی سیاست، سماجیت اور معیشت پر اثرات پڑے ، اس کے ساتھ ساتھ امن و مان کا مسئلہ بھی شدید تر ہو گیا۔ سندھی سوسائٹی کو متحد ہونے میں ایک اور رکاوٹ کھڑی ہوگئی۔ بڑے وڈیروں کو ان کے اضلاع ففڈم ( چھوٹی بادشاہتیں)کے طور پر مل گئے۔ سیاسی کارکن ، متوسط طبقے اور کسان کی حالت اور اثر رسوخ اور طاقت مزید کمزور ہوگئی۔

سندھی اربن مڈل کلاس کا ظہور 
 قیام پاکستان کے بعد جو اسپیس خالی ہوا تھا اس نے ساٹھ سال کے بعد ایک شکل اختیار کی۔ ملازم پیشہ، حکومت کی رہنے کی وجہ سے چھوٹا موٹا سرمایہ کار کلاس پیدا ہوا۔ اس ابھرتے ہوئے سندھی اربن کلاس کلاس کے تقرر تبادلے، ٹھیکہ وغیرہ کے مفاد ات ہیں۔ اس لئے وہ اپنا سیاسی نقطہ نظر بیان نہیں کر رہا۔ اگرچہ اس کا سیاسی حوالے سے دہرا کردار ہے جو مڈل کلاس کا خاصہ ہوتا ہے لیکن اس طبقے نے دو کام کئے شہروں میں گھر بنائے۔ اور بچوں کو بہتر تعلیم دلائی۔ سکھر وغیرہ میں بچے پہنچے ہیں ایک نئی کھیپ آرہی ہے جس سے مڈل کلاس کا سائیز اور بڑھے گا۔

سندھ میں اب بڑی تعداد میں اربن مڈل کلاس پیدا ہو چکا ہے ۔ سرکاری خواہ نجی اداروں میں ملازمتوں اور چھوٹے موٹے کاروبار میں موجود ہے۔ کاروبار کرنے والے وہ لوگ ہیں جو بھٹو دور اور بینظیر دور میں بھرتی ہوئے تھے اب ریٹائر ہیں۔ مشرف دور میں ملازمتوں پر پابندی کی وجہ سے پرائیویٹ جاب کی طرف رجحان بڑھا۔ پڑھے لکھے یا ملازمت پیشہ افراد کے علاوہ سیلاب کی وجہ سے یا پھر لوگ تعلیم اور صحت کی سہولیات کی لئے شہروں کا رخ کیا۔ برادری اور قبیلے سے نکلے شہروں میں دکانداری یا دوسرے خود ملازمت والے کاموں میں آئے۔ دیہات سے آنے والے اب شہروں میں آکر رکشہ، چلانا ٹھیلہ لگانے اور دوسرےاس طرح کے چھوٹے موٹے کام کرنے لگے ہیں اب یہ لوگ کسی وڈیرے کے اثر میں نہیں۔ 

مزاحمتی سندھ میڈیا کا اجرائ
 فعال اور مضبوط سندھی میڈیا کا ابھرنا ایم آرڈی کا ہی نیتجہ ہے۔ اس تحریک میں جو فکری اور سیاسی تبدیلی آئی اس کو روایتی سندھی میڈیا جس کو غیر سیاسی میڈیا کا نام دیا جاسکتا ہے پورا نہیں کر رہی تھی۔ اس کے نتیجے میں نیا سندھی میڈیاا وجود میں آیا، جو سیاسی تھا، روشن خیال، اور اپنے کردار میں مزاحمتی تھا۔ اسکی قیادت کمیونسٹ پارٹی کے پرانے کارکنان کر رہے تھے ۔

 طلبہ سیاست 
 سندھ میں اب عملا طلبہ سیاستموجود نہیں ہے۔ سندھ کی یونیورسٹیاں کبھی قوم پرست سیاست کے لئے آکسیجن ہوا کرتی تھیں۔ اب سیاسی جماعتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے شہری علاقوں میں ایک ایسا حلقہ دستیاب ہے جو جلسے جلوس اور مظاہرے وغیرہ میں کام آ جاتا ہے۔ طلبہ سیاست کے ویسے بھی سو بکھیڑے ہیں۔ لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں طلبہ سیاست سے عملا دستبردار ہو گئی ہیں۔ جو گروپ طلبہ میں سرگرم ہیں وہ عموما اپنی مدر آرگنائزیشن کے ڈسپلین میں نہیں۔ بس دونوں فریق ایک دوسرے کا نام استعمال کر کے فائدہ لے رہے ہیں ۔

ضیاءدور کے بعد جو اشوز سندھ کی سیاست کا محور رہے ہیں ان میں میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ زیادہ وزنی ہے۔ جونیجو دور میں سندھ اسمبلی نے پہلی مرتبہ اس آبی ذخیرے کے خلاف قرارداد منظور کی۔اس کے بعد کم از کم دو مرتبہ صوبائی اسمبلی اس کو مسترد کر چکی ہے۔ جنرل مشرف تمام تر زور لگانے کے باوجود سندھ اسمبلی سے یہ قرارداد منظور نہیں کرا سکے۔ اس متنازع ڈیم کے خلاف پیپلزپارٹی اور قوم پرست اتحاد میں بھی رہے ہیں۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں بینظیر بھٹو کی زیر قیادت میں سندھ کے تمام پارٹیوں نے بشمول قوم پرست جماعتوں کے، سندھ پنجاب بارڈر پر کموں شہید کے مقام پر تاریخی دھرنا دیا تھا۔ 

مذہبی فکر اور مدرسوں کا اس انداز میں پھلاﺅ نوے کی دہائی کے بعد ہوا۔ خاص طور پر مشرف دور میں ۔ اس کے نیتجے میں صوبے کے چھوٹے چھوٹے گاﺅں تک یہاں تک کہ تھر کے دور دراز علاقے میں بھی مدرسے پہنچ گئے ہیں ۔ یہ مدرسے قائم کرنے والوں کا تعلق سندھ سے نہیں ۔ ان مدارس کے منتظمین یا مالکان کا تعلق پنجاب سے ہے۔ 

خواتین
بینظیر بھٹو نے خواتین کو آگے لے آئیں۔ اس سیاسی عمل میںدرجنوں خواتین سیاسی جدوجہد کی وجہ سے اسمبلیوں تک پہنچیں۔ لیکن اب اخواتین کو مین اسٹریم کا حصہ نہیں بنایا گیاان کی کوٹہ اقلیتوں یامعذوروں کی طرح مقرر ہو گئی ہے۔ 

 شدت پسندی
شدت پسندی مذہبی طور پر اور دوسری جقوم پرست تحریک میں بھی آئی ۔ آزادی کا نعرہ تو پرانا ہے ۔لیکن اس میں اب ملیٹنیسی کا ٹرینڈ آیا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس پرقوم پرست شدت پسندی پر اسٹبلشمنٹ نے ری ایکٹ اسی طرح کیا جس طرح بلوچستان میں کیا۔ لاشیں ملتی ہیں کارکن لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ انہوںنے کوئی بڑی کارروائی نہیں کی ہوئی ہوتی ہے۔ 

 سیاسی کارکنوں کی عام لوگوں تک رسائی
نوے کے عشرے کے بعد واقعات اور حالات کی وجہ سے سیاست میں ترقی پسند فکر بہت ہی سکڑ گیا۔اس کے ساتھ وہ حلقہ بھی سکڑ گیا جو تبدیلی کا خواہشمند تھا۔

خدمت اور تبدیلی کی جدوجہد کرنے والاسیاسی کارکن ختم گیا۔ نیا کارکن وہ ہے جو کرپٹ ہے یا اس کا ایجنڈا تبدیلی یا خدمت نہیں بلکہ اس پروسیس سے ذاتی مفادات حاصل کرنا ہے۔ ایک بار پھر وڈیرہ اور بااثر شخصیات مضبوط ہوگئیں۔ بلدیاتی انتخابات میں نہ ایم پی اے نہ ایم این اے ، وہ یو سی کا ناظم بھی نہیں بن سکتا۔ 

فکری تبدیلی
کبھی سیاسی کارکن خواہ ہو ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوتے تھے یا قوم پرست ۔ وہ دیہاتوں میں باقاعدگی سے جاتے تھے۔ عام لوگوں سے کسانوں سے ملتے تھے۔ روز مرہ کے امور اور واقعات پر بات چیت کرتے تھے۔اس سے عام لوگوں کا سیاسی خواہ عام زندگی کے بارے
 میں روشن خیال نقطہ نظر بنتا تھا۔ کم از کم دو تین دہائیوں سے یہ عمل رک گیا ہے۔ اس اسپیس کا ملاں فائدہ اٹھایا ہے۔اب وہ سندھ کے ہر گوٹھ میں موجود ہے۔ مدرسوں کا جال بچھ چکا ہے۔ یہ ملاں اپنی تقاریر اور واعظ میں گورننس کے بھی اشو اٹھا کرلوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ان کی فکر اور سوچ کو ایک مخصوص کفر کی طرف لے جارہا ہے۔ لوگوں اس سوچ میں بھی ڈال رہا ہے کہ ان مسائل کا حل ان کے پاس ہے۔

سندھ میں ایک عرصے تک دو نصاب چلتے تھے۔ ایک وہ نصاب جو سرکاری طور پر اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا تھا۔ دوسرا وہ جو ترقی پسند اور قوم پرست گروپ اپنے اسٹڈی سرکلز، باقاعدگی سے دیہات کے دوروں ، ادبی و ثقافتی سرگرمیوں وغیرہ کے ذریعے پڑھایا کرتے تھے۔ یہ دوسرا نصاب ساٹھ کے عشرے سے لیکر اس صدی کے خاتمے تک بھاری رہا۔ لیکن اب یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ 

فکری تبدیلی اصطلاحوں اور ان کی معنی تبدیل ہوگئے۔ ان میں 180 ڈگری کا فرق فرق آیا۔ پچاس کے عشرے سے لیکراسی کی دہائی تک کامریڈ ایک قابل تعریف اور قابل احترام لفظ تھا۔ لیکن بعد میں اس کی معنی بھتہ خور اور غنڈہ کی ہوگئیں۔ سیاست کا مطلب لوگوں کی خدمت کرنا تھا۔ لیکن بعد میں اس کی معنی چالبازی اور دھوکہ ہو گئیں۔ 

 جب بھی سندھ سے کچھ چھینا گیا تو لوگوں کو سیاسی رشوت کے طور پر مختلف چیزیں دینے اور ان کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں متوسط طبقہ اور اس کی موقعہ پرستی آگے آگے ہوتی ہے۔ زمینوں پر قبضے جام صادق کے بعد کی پیداوار ہیں۔ یہ سلسلہ بعد میں بھی چلتا رہا۔ جو اب عروج پر ہے۔
 سیاست میں تبدیلی
 پیپلزپارٹی سے امیدیں زیادہ تھیں جسے موقعہ بھی ملا لیکن یہ بد ترین ثابت ہوا ہے۔ اب پیپلزپارٹی کا نہ وہ پروفائیل ہے جو بھٹو کی پیپلزپارٹی کا تھا اور نہ ہی وہ جو بینظیر بھٹو کے زمانے میں تھا۔ پیپلز پارٹی کارکنوں اور عوام پر انحصار کرنے کے بجائے الیکشن باز با اثر افراد پر ہی انحصار کر رہی۔ ایسے میں تمام پارٹیوں نے ان کی طرف رجوع کیا ہے جن کا قبیلہ ہے برادری ہے ۔ پی پی ، نواز لیگ اور تحریک انصاف کو بھی ایسے ہی لوگوں کی تلاش ہے۔ 
 قوم پرست متبادل دینے میں ناکام رہے ہیں جبکہ ان کے کاﺅنٹر پارٹس بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکومت میں آچکے ہیں۔ ان کا آپس میں اتحاد نہیں اور صلاحیت بھی نہیں۔ سندھ کے جذبات کو جب ٹھنڈا کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو اقتدار پیپلزپارٹی کو دے دیا جاتا ہے۔ سندھ کے لوگوں کی کشتی ایک جھیل میں پھنسی ہوئی ہے اسی میں چکر کاٹتی رہتی ہے۔ 


 ایم آرڈی آخری تحریک تھی جس نے بڑے پیمانے پر کارکن پیدا کئے ۔ جس کو بھی اب پینتیس سال ہونے کو آئے ہیں۔ اس تحریک میںحصہ لینے والا اس وقت پندرہ سے تیس سال کی عمر کا تھا۔ اب وہ بوڑھا ہو چکا ہے ۔ تھک چکا ہے۔ یا وقت کے ساتھ مین اسٹریم سیاست کا حصہ بن کر موقعہ پرستی کا شکار ہو گیا ہے۔ 

 کالاباغ ڈیم، پانی کی منصفانہ تقسیم، این ایف سی ایوارڈ ، وفاقی ملازمتیں، تیل،گیس اور معدنی وسائل، نج کاری، مردم شماری ، واپڈا
 کے ساتھ سندھ کا تنازع، ریلوے اور اس کی زمینیں، بندرگاہ، پر پنجاب کی بالادستی محسوس کی جاتی ہے۔ ان پر حکومتی خواہ سیاسی سطح پر وقتا فوقتا اٹھایا جاتارہا ہے۔ آئین کے مطابق ان معاملات کو مشترکہ مفادات کی کونسل دیکھے گی۔ مشرف اور بیظیر بھٹو کے دور میں کونسل کا ایک بھی اجلاس نہیں بلایا جا سکا۔

 طلبہ تحریک کی طرح سندھ میں اس وقت نہ کسان تحریک ہے اور نہ مزدور تحریک۔ لہٰذا یہ دونوں طبقات کسی سیاسی پارٹی کے ایجنڈا کا حصہ بھی نہیں ۔ کسانوں اور مزدوروں کے مسائل شدید تر ہوتے جارہے ہیں۔ اکادکا گروپ کام کرنے کی کوشش کر بھی رہا ہے ، لیکن ان کی نہ capacity ہے اور نہ ہی کوئی بڑا ویزن۔ 

 تیل گیس، معدنی وسائل اور بندرگاہیں موجود ہیں۔ اس کے باوجود بدترین حکمرانی ہے ٹوٹی ہوئی سڑکیں، صحت اور تعلیم کی سہولیات غائب۔ غربت کا ایک نظارہ نجی جیلوں کی شکل میں گزشتہ دو عشروں میں نظرآیا اور ۔ دوسرا نظارہ گزشتہ دو سیلابوں میں پوری دنیا نے کیا جب صوبے کے دور دراز علاقوں سے لوگ سڑک کنارے جھگیاں ڈال کر بیٹھے۔ جن میں سے اکثر کی واپسی اور آبادکاری نہیں ہو سکی ہے۔

گزشتہ بیس سال کے دوران بڑے پیمانے پر اربنائزیشن ہوئی ہے۔ نئے شہر بنے ہیں۔ چھوٹے شہر بڑے ہوئے ہیں۔ اور بڑے شہروں میں بڑٰ تعداد میں پہنچا ہے۔ دولپمنٹ سیکٹر میں خاصی موجودگی کی وجہ سے کچھ صلاحیتین کچھ اہلیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 
 چھوٹی زمیندار جو سرکاری زبان میں پروگریسو زمیندار کہلاتے ہین اس میں اضافہ ہوا ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو نیم اربن اور نیم دیہی ہیں جن کا اپنا سماجی اثر رسوخ بھی ہے اور ایک حد تک مالی وسائل بھی۔ 
اختتامیہ 
سندھ کے پاس اب پہلے والا متوسط طبقہ نہیں جس کو صرف ملازمت چاہئے۔ یا سرکاری ٹیلیویزن پر سندھ پروگرام کا وقت بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اب اس کے پاس ایسا بھی طبقہ ہے جس کی capacity built ہوئی ہے۔ ایسا بھی ہے جس نے ملازمتوں کے دوران جائز اور ناجائز فوائد حاصل کر کے اپنی معاشی اور مالی پوزیشن کو بتدیل کیا ہے۔ اورسے ریٹائر ہونے کے بعد کاروبار وغیرہ کیا ہے۔ ایک مختلف قسم کا اربن مڈل کلاس وجود میں آیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر غریب کسان نے بھی شہر کا رخ کیا ہے۔

صوبہ بدترین خراب حکمرانی کے دور سے گزر رہا ہے۔ سندھ کی مقبول جماعت اور عوام کے درمیان گیپ بڑھ گیا ہے۔بائیں بازو کے ”بوڑھے کارکن “ کچھ عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ خود میں اتنی سکت نہیں پاتے یا تھک چکے ہیں یا پھر کسی کرشمے کے انتظار میں ہیں۔ یہی صورتحال قوم پرست حلقوں کی ہے۔ بائیں بازو اور قوم پرستوں نے جو اسپیس چھوڑا اس کی جگہ مولوی لے رہے ہیں۔ یہ مولوی
 صرف مذہبی نہیں بلکہ منظم سیاسی ایجنڈا رکھنے والی تحاریک کا حصہ ہیں ۔ انتہا پسندی، عدم برداشت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ سندھ
 ایک نئے چیلینجوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔












زرداری بی بی کی برسی میں شرکت کریں گے؟

 زرداری بی بی کی برسی میں شرکت کریں گے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

 سندھ بمقابلہ وفاق یا سندھ بمقابلہ رینجرز کے بحران گزشتہ چند ہفتوں کا قصہ نہیں۔ یہ معاملہ کراچی میں آپریشن شروع ہوتے ہی کے آغاز میں ہی سامنے آچکا تھا۔۔ لیکن اب وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے باقی چیزوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اس کو صرف ایک شخص یعنی ڈاکٹر عاصم کو بچانے کا نام دیا اور میڈیا نے بڑے مزے سے اس خیال کو خرید کر لیا۔ 

معاملے کا آغاز تب ہوا جب پارٹی کے اہم رہنما آصف علی زرداری نے ” اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے“ کا بیاں دیا۔ اور اس کے بعد وہ دبئی چلے گئے۔ اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ الجھنیں بڑھتی گئیں۔ اس وقت وہ عملا خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں۔یعنی اس بات پر سب متفق ہیں کہ اگر وہ واپس وطن آئے تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔اگرچہ یہ بات نہ وہ خود کر رہے اور نہ ہی پیپلزپارٹی نے تاحال ایسا اظہار کیا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ سابق صدر ہونے کے ناطے ان کے ساتھ رعایت کی گئی ہے کہ صرف ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اور اسی کے ذریعے دباﺅ ڈالا جارہا ہے۔ 

آصف علی زرداری کے ساتھ آج کل وہی صورتحال ہے جو مشرف دور میں نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ تھی۔ دوسرے دور حکومت میں نواز شریف کا مشرف کے ساتھ تنازع ہوا۔ان پر دہشتگردی اور ہائیجیکنگ کا کیس چلایا گیا۔ بعد میں سعودی عرب نے ثالثی کی۔ اور ڈیل کے تحت انہوں نے سعودی عرب میں پناہ لی۔ اطلاعات ہیں کہ آصف زرداری کی باحفاظت واپسی کے لئے بلاول بھٹو زرداری بھی اسلام آباد گئے تھے۔ جہاں انہوں نے اہم اور اعلیٰ سطح کے عہدیداران سے ملاقاتیں کیں۔ مگر معاملہ حل نہیں ہو سکا۔ یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ اس ضمن میں چوہدری اعتزاز احسن اور سنیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے بھی رول ادا کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ شرط رکھی جارہی ہے کہ زرداری صاحب اینٹ سے اینٹ بجانے والا جملہ سر عام واپس لیں۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرادری سعودی عرب کیوں گئے ہیں۔ کیا پیپلزپارٹی بھی ثالث تلاش کر رہی ہے؟زرداری صاحب کی جلد وطن واپسی کی اس وجہ سے بھی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ بینظیر بھٹو کی برسی 27 دسمبر کو ہے۔ کیا وہ بینظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کر سکیں گے؟ مختلف ثالثوں کی ناکامی کے بعد اب وہ سعودی عرب کی مدد لے رہے ہیں ۔ ان کا زیادہ تر زور اس پر ہے کہ انہیں بینظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کی اجازت دی جائے۔

 زرداری کے دور حکومت میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں وہ گرم جوشی نہیں رہی تھی جو نواز شریف کے دور حکومت میںرہتی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کا خیال تھا کہ سعودی عرب کے اعلان حالیہ قائم کردہ اتحاد میں پاکستان کی بغیر پوچے شمولیت کی ملک میں توثیق کے لئے پیپلزپارٹی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ لیکن حالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ سعودی عرب نے ایسی کوئی یقین دہانی پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس سے پہلے جنرل مشرف نے بھی وطن وپاسی کے لئے سعودی عرب کی سفارش ھاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ 

پیپلزپارٹی نے بینظیر بھٹو کی برسی پر لاڑکانہ میں بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کا باقاعدہ فیصلہ سندھ پیپلزپارٹی کے اجلاس میں گزشتہ روز کیا گیا۔ پارٹی نہیں چاہتی کہ اس مرتبہ آصف زرادری برسی میں غیر حاضر رہیں۔ پارٹی کے لئے اس لئے بھی یہ مسئلہ اہم ہے کہ گزشتہ سال برسی میں بالول بھٹو زرادری نے برسی میں شرکت نہیں کی تھی۔ ان کی عدم موجودگی کو باپ بیٹے کے درمیان اختلافات بتائے گئے تھے۔ مطلب گزشتہ برسی میں بلاول بھٹو نہیں تھے کیا اس مرتبہ زرادری صاحب شرکت نہیں کر پائیں گے؟

 یہ آخری آپشن ہوگا کہ انہیں اگر شرکت کی اجازت نہ دی جائے تو ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے سے خطاب کا موقعہ دیا جائے۔ 
صورتحال بینظیر بھٹو کی برسی تک واضح ہو جائے گی۔ اگر وہ برسی میں شرکت کرتے ہیں تو یہی سمجھا جائے گا کہ بات بن گئی ہے۔ 

اگر وہ برسی کے موقعہ پر نہیں آتے اور انہیں صرف ویڈیو لنک پر خطاب کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ اگر یہ بھی نہیں ہوا تو یہ کہا جائے گا کہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے زرداری صاحب شرکت نہیں کر پائے ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے لیکن اس کے سربراہ ملک سے باہر ہیں۔ 

اب اسٹبلشمنٹ نے ایک اور پتہ کھیلا کہ سندھ اسمبلی کی قرارداد کی روشنی میں تیار کردہ سندھ حکومت کی سمری وفاقی حکومت نے مسترد کردی ہے اور اپنے طور پر آئین کے آرٹیکل 148 کے تحت رینجرز کے پولیسنگ کے اختیارت میں ساٹھ روز کی توسیع کردی ہے۔ اس کے بعد عملا سندھ میں وفاقی راج کی صورتحال ہے۔ سندھ حکومت اس معاملے پر سرینڈر نہیں کرنا چاہتی۔ اس معاملے پر وفاقی حکومت سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اگر خاطر خواہ جواب نہیں ملا تو عدلیہ ار دیگر آئینی فورمز میں جائے گی۔ 

 دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کو اسی دائرے میں لینا چاہئے اور کرپشن کو کرپشن کے دائرے میں ہی لینے کی ضرورت ہے۔ معاملے کو انا پرستی، تم بڑے کہ ہم بڑے، کے جائے زیادہ سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ اگر وفاق سندھ اسمبلی کی قراداد کو عزت نہیں دیتا، سندھ اسمبلی اگر
 دوبارہ قرارداد منظور کرتی ہے اور وفاق کے عمل کیمذمت کرتی ہے تو کیا ہوگا؟ اور یہ بھی کہ کل یہ معاملہ جن سنیٹ میں آئے گا تو کیا ہوگا؟ 
 سندھ کا معاملہ انتظامی یا ّئینی ماملہ نہیں جس طرح اسکو پیش کیا جارہا ہے۔

س ان دو طریقوں سے اس لئے پیش کیا جارہا ہے کہ متعلقہ فریقین خود کو ان پہلوﺅں میں اپنی سہولت محسوس کرتے ہیں۔ یہ معاملہ براہ راست سیاسی ہے۔ اس کو سیاسی طور پر ہی حل کرنے کی ضرورت ہے۔
Dec 2015 

سندھ میں گرینڈ الائنس کیوں؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
 سندھ میں گرینڈ الائنس کیوں؟

 سندھ میں رینجرز کو پولیسنگ کے اختیارات دینے کا تنازع جاری ہے ، جو کہ ابھی بحران کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ ایسے میں پہلے گرینڈ الائنس بننے کی خبریں آنے لگیں اس کے بعد اس کے قیام کا اور اب 9 جنوری سے صوبائی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا علان سامنے آیا ہے۔ 

 2013 کے عام انتخابات کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ نواز لیگ نے باقاعدہ پیپلزپارٹی کی حکومت کی سیاسی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ سیاست خواہ جمہوری حکومت میں حامی یا مخالف اتحادوں کا بننا کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستان خواہ سندھ کی تاریخ ایسے متعدد اتحادوں سے بھری ہوئی ہے۔ 

ستر کے عشرے کے بعد جو اتحاد بنے، ان میں سوائے ایم آرڈی کے باقی تقریبا سب کے سب پیپلزپارٹی کے خلاف اور اسٹبلشمنٹ کے حمایت میں بنے۔ 

پاکستان قومی اتحاد ستر کے عشرے کے آخر میں بنا ۔ یہ اتحاد نو ستاروں کی پی این اے کی تحریک کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اس اتحاد کی ٹھریک کے نتیجے میں زوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ اور ضیاءالحق نے ملک میں مارشل لا لاگو کردیا۔ جو دس سال تک رہا۔ 

اس دوران افغانستان کی پراکسی جنگ کے واقعات سمیت پاکستان نے معاشی طور پر خواہ خارجہ پالیسی، امن ومان ، ملک کی فکری سوچ اور دیگر شعبوں میں کیا کھویا، اس کے زخم ابھی تک ہرے ہیں ۔

 دوسرا بڑا اتحاد آئی جے آئی تھا جس کا مقصد ضیاءالحق کے باقیات کو بچانے کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کو پنجاب سے بے دخل کرنا تھا۔ 

ماضی قریب میں سندھ میں 9اتحاد بنا، جو پیر پاگارا کی قیادت میں 2013 کے انتخابات کے حوالے سے بنایا گیا تھا۔ اس کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ میں ہی پھنسائے رکھنا اور پناجب کے لوگوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ آپ لوگ کیوں پیپلزپارٹی کی حمیات کر رہے ہو، اسے تو اپنے گھر یعنی سندھ میں بھی شدید مخالفت کا سامناہے۔ 

سندھ کے قوم پرست حلقے اس سیاسی کھیل کو سمجھ نہ سکے کہ اس اتحاد کے نتیجے میں انہیں کچھ نہ ملنا ہے اور نہ ہی سندھ تبدیل ہونا ہے۔ اور وہ تالیاں بجا کر اس اتحاد میں شامل ہو گئے۔ 

یہ اتحاد نواز لیگ کی چھتری میں ہی بن رہا تھا۔ وہ انتخابات میں ووٹ بینک کے حوالے سے اپنا الگ اکاﺅنٹ کھولنے میں ناکام رہے، یوں انہوں نے اسٹبلشمنٹ کی اس پالیسی کو مضبوط کیا کہ پیپلزپارٹی کا متبادل قوم پرست یا کوئی اور لبرل حلقے نہیں بلکہ پیر پاگارا ہے جنہیں اسٹبلشمنٹ ستر کے عشرے سے سندھ میں متبادل کے طور پر تیار کررہی ہے۔ 

خیر یہ کھیل عملی طور پرانتخابات سے پہلے ہی ختم ہو گیا تھا لیکن اس کا باقاعدہ اعلان بعد میں ہوا۔ انتخابات کے دو سال بعد بھی قوم پرست اس معاملے کی چھان بین کر کے شاید اس نیتجے پر نہیں پہنچ پائے ہیں کہ اس اتحاد کا مقصد کیا تھا اور اس کے نیتجے میں کیا ہوا؟ 

 اب ایک بار پھر اس حساس صوبے میں گرینڈ الائنس کو اتارا گیا ہے۔ جو نہ صرف اپنے جوہر میں بلکہ نعرے میں بھی صرف پیپلزپارٹی مخالف اور پر اسٹبلشمنٹ ہے۔ اس کے پاس صوبے سماجی یا معاشی ترقی کے حوالے سے کوئی پروگرام یا نعرہ نہیں۔ یہ پیپلزپارٹی کا کا گلہ صرف رینجرز کو مزید مدت کے لئے اختیارات دینے کے تکرار کے وقت ہی نہین دبا رہی، بلکہ اس طرح سے وہ غیر جمہوری مطالبہ اور غیر سیاسی حلقوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ 

سندھ میں رینجرز 1997 سے موجود اور سرگرم ہے۔ رواں سال کراچی میں آپریشن کے حوالے سے انہیں پولیسنگ اختیارات دیئے گئے تھے۔ جس کی مدت 6 دسمبر کو ختم ہوگئی۔ سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کو عملی طور پر یہ اختیارات اب بھی حاصل ہیں۔ اس میں سندھ اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے صرف اتنا اضافی کیا گیا، جس کو اختیارات گھٹانا قرار دیا جارہا ہے وہ یہ کہ صرف بعض معاملات میں رینجرز صوبائی حکومت کے سربراہ جسے آپریشن کے کپتان ک نام دیا گیا تھا، ان کی اجازت ضروری قرار دی گئی ہے۔ 

 رینجرز کو اختیارات کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 147 یا پھر رینجرز ایکٹ یا انسداد دہشتگردی قنون مجریہ 1997 کے تحت ہی آتنا چاہئے۔ قانونی ماہرین اس نقطے پر منقسم ہیں کہ کسی ایک قانون کے دائرے میں ہی معاملات آتے ہیں۔ دو منٹ کے لئے اگر مان بھی لیا جائے کہ ان تین قوانین میں سے کسی ایک دو یا تینوں کا اطلاق کیا جاتا ہے تب بھی صوبائی حکومت کی اتھارٹی کو برتری حاصل ہے۔ 

 آپریشن خواہ کسی شخص کے علاج کے لئے ہو یا دہشتگردوں کے خلاف ہو، وہ مقرر اور محدود مدت کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اس یہ استحقاق اس اتھارٹی کو حاصل ہوتا ہے اس معاملے میں یہ اتھارٹی سندھ حکومت ہے، جو اس فورس کو مدد کے لئے طلب کرتی ہے۔ 

پاکستان خواہ سندھ کے سیاسی حلقوں کو سمجھنا چاہئے کی طویل عرصے تک قانون نافذ کرنے والے ادارے کو دینے کا مطلب سیاسی یا سویلین اتھارٹی کے اختیارات میں تجوز کرنا ہے۔ اس ضمن میں بلوچستان کا تجربہ ہمارے سمانے ہے۔ جہاں یہ بحران اب شدید تر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یاں سویین اختیارات کم ہوتے گئے اب حکومت سازی اور دیگر فیصلے سازی میں سویلین کو اولیت حاصل نہیں رہی۔ 

تعجب کی بات ہے خیبر پختونخوا اور پنجاب جہاں دہشتگردی کے واقعات بھی ہوتے رہے، دہشتگردوں کی نرسریوں اور پناہ گاہوں کا بھی پتہ چلتا رہا، وہاں کبھی بھی رینجرز طلب نہیں کی گئی۔ 

 سندھ میں گرینڈ الائنس کا قیام رینجرز کے اختیارات اس کے بنیادی تجاد سے الگ نہیں ۔ سماجی علوم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ملک میں مرکزیت نہیں رہی۔ لةٰذا اس کا سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ عدم کرکزیت والا بن گیا ہے۔ ریاستی مرکزیت نہیں اس کے باوجود اسٹبلشمنٹ کے پاس مرکزیت ہے۔ 

تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارے ادارے عدم کرکزیت اور سیاسی بالادستی کے عدای بھی نہیں رہے ہیں۔ فیصلہ سازی میں سیاسی دھڑے کو اولیت یا برتری حاصل نہیں۔ اس ضمن میں جنرل مشرف کا سنیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کے بارے میںغصے بھرا بیان معاملے کو اور بھی عیاں کر دیتا ہے۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ رضا ربانی نے اٹھارویں ترمیم بنا کر ریاستی مرکزیت خمت کردی ہے۔ اسٹبلشمنٹ امن وامان، خارجہ پالیسی، بیرونی تجارت ، حکمت عملی کے معاملات کو ہینڈؒ ل کرنے میں دقت محسوس کر ہی ہے۔ یہ ایک بنیادی تضاد ہے۔ اور سندھ کا حالیہ بحران اس تضاد سے باہر نہیں ۔

یہ درست ہے کہ پیپلزپارٹی کی بدترین حکمرانی نے لوگوں کو سخت پریشان کیا ہوا ہے۔ وہ سندھ کے لوگوں کو گزشتہ سات سال کے دوران سوائے سرکاری نوکریوں کے کچھ دے نہیں سکی ہے۔ پارٹی خواہ عوام، اور پارٹی کی ہر سطح کی قیادت اور کارکنوں کے درمیان فاصلے بڑھے ہیں۔ ایک خلاءپیدا ہوا ہے۔ جس کو پر کرنے کی نہ نواز شریف اور نہ عمران خان ضرورت محسوس کر رہے ہیں ۔ 

سندھ میں اس خلاءکو پر کرنے کے لئے ایسی قوتوں کو اتحاد کی شکل میں لایا جارہا ہے جو ایک آدھ کو چھوڑ کر آمریت کی حامی ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھی رہے ہیں اور ان کے سیاسی اور معاشی مفادات بھی آمریت سے وابستہ رہے ہیں۔ اس میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو 2008 کے انتخابات کے بعد حکومت میں پیپلزپارٹی کے ساتھ چمٹی ہوئی رہیں۔ ان قوتوں کا ماضی میں جمہویرت دوستی، یا عوام دوستی کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ 

 یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس اتحاد سے اگر ایم کیو ایم کو الگ کردیا جائے اس کی عملی طاقت صفر ہے۔ یہ بات اس لئے بھی وزن رکھتی ہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ان تمام جماعتوں کی کارکردگی رہی وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ سب حضرات اس وقت ایسا کوئی اتحاد بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے تھے۔

 حالیہ اتحاد کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ غلام مصطفیٰ جتوئی اور بڑے پیر پاگارا کے انتقال کے بعد سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف کوئی قدآور شخصیت موجود نہیں۔ اب جو افراد موجود ہیں وہ سب اپنے قد میں ایک دوسرے کے برابر اور سب کے سب وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں۔ لہٰذا اتحادی ہونا اپنی جگی ان کے آپس میں مقابلے کی صورتحال اس مخالفت سے بھی شید تر ہے۔ جب کوئی وفاقی وزیر سندھ حکومت کو مختلف آپشنز کی دھمکی دے رہا ہوتا ہے تو تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ وفاق کی نظر ممتاز بھٹو پر ہے جسے کل اختیارات کے ساتھ گورنر بنا دیا جائے گا۔

ایک فرد کے ذریعے حکومت بنانے اور چلانے کا تجربہ جام صادق فارمولا کے تحت تین چار مرتبہ کای جا چکا ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہی نکلا ہے کہ اگر انہیں وفاق کی بیساکھی حاصل ہے تو ٹھیک ورنہ ایک روز بھی ٹہر نہیں سکتے۔ 

 یہ بدقسمتی اپنی جگہ پر کہ پیپلزپارٹی کی حکومت امن امان قائم کرنے ، لوگوں کو ڈؒیور کرنے اور کرپشن کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس ناکامی نے یہ جگہ پیدا کی کہ ریاستی ادارے بیچ میں آئیں۔ پیپلزپارٹی اگر اپنی گورننس درست نہیں کرے گی، پارٹی میں عوام اور کارکنوں کو جگہ نہیں دے گی تب تک اسے اس طرح کی صورتحال کا سمنا کرنا پرے گا۔ کیونکہ اس کی یہ ” حرکتیں“ سازگار حالات پیدا کرتی ہیں اور ایسا میلاپ پید اکرتی ہیں کہ غیر جمہوری عناصر مداخلت کریں یا آگےا آئیں ۔

 حالیہ گرینڈ الائنس کے ذریعے کسی مثبت تبدلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ منتخب حکومت کے خلاف جب بھی اس طرح کے اتحاد بنتے ہیں یا تھڑٰک چلتی ہے۔عوام کو کبھی بھی کچھ نہیں ملا ہے۔اس سے جمہوریت اور سیاسی ادارے کمزور ہوئے ہیں۔ بینظیر بھٹو جیسی شخصیت کو بھی بالآخر میثاق جمہوریت بنانا پڑا۔  

Dec 22, 2015