Sunday, March 6, 2016

زرداری بی بی کی برسی میں شرکت کریں گے؟

 زرداری بی بی کی برسی میں شرکت کریں گے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

 سندھ بمقابلہ وفاق یا سندھ بمقابلہ رینجرز کے بحران گزشتہ چند ہفتوں کا قصہ نہیں۔ یہ معاملہ کراچی میں آپریشن شروع ہوتے ہی کے آغاز میں ہی سامنے آچکا تھا۔۔ لیکن اب وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے باقی چیزوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اس کو صرف ایک شخص یعنی ڈاکٹر عاصم کو بچانے کا نام دیا اور میڈیا نے بڑے مزے سے اس خیال کو خرید کر لیا۔ 

معاملے کا آغاز تب ہوا جب پارٹی کے اہم رہنما آصف علی زرداری نے ” اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے“ کا بیاں دیا۔ اور اس کے بعد وہ دبئی چلے گئے۔ اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ الجھنیں بڑھتی گئیں۔ اس وقت وہ عملا خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں۔یعنی اس بات پر سب متفق ہیں کہ اگر وہ واپس وطن آئے تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔اگرچہ یہ بات نہ وہ خود کر رہے اور نہ ہی پیپلزپارٹی نے تاحال ایسا اظہار کیا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ سابق صدر ہونے کے ناطے ان کے ساتھ رعایت کی گئی ہے کہ صرف ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اور اسی کے ذریعے دباﺅ ڈالا جارہا ہے۔ 

آصف علی زرداری کے ساتھ آج کل وہی صورتحال ہے جو مشرف دور میں نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ تھی۔ دوسرے دور حکومت میں نواز شریف کا مشرف کے ساتھ تنازع ہوا۔ان پر دہشتگردی اور ہائیجیکنگ کا کیس چلایا گیا۔ بعد میں سعودی عرب نے ثالثی کی۔ اور ڈیل کے تحت انہوں نے سعودی عرب میں پناہ لی۔ اطلاعات ہیں کہ آصف زرداری کی باحفاظت واپسی کے لئے بلاول بھٹو زرداری بھی اسلام آباد گئے تھے۔ جہاں انہوں نے اہم اور اعلیٰ سطح کے عہدیداران سے ملاقاتیں کیں۔ مگر معاملہ حل نہیں ہو سکا۔ یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ اس ضمن میں چوہدری اعتزاز احسن اور سنیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے بھی رول ادا کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ شرط رکھی جارہی ہے کہ زرداری صاحب اینٹ سے اینٹ بجانے والا جملہ سر عام واپس لیں۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرادری سعودی عرب کیوں گئے ہیں۔ کیا پیپلزپارٹی بھی ثالث تلاش کر رہی ہے؟زرداری صاحب کی جلد وطن واپسی کی اس وجہ سے بھی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ بینظیر بھٹو کی برسی 27 دسمبر کو ہے۔ کیا وہ بینظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کر سکیں گے؟ مختلف ثالثوں کی ناکامی کے بعد اب وہ سعودی عرب کی مدد لے رہے ہیں ۔ ان کا زیادہ تر زور اس پر ہے کہ انہیں بینظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کی اجازت دی جائے۔

 زرداری کے دور حکومت میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں وہ گرم جوشی نہیں رہی تھی جو نواز شریف کے دور حکومت میںرہتی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کا خیال تھا کہ سعودی عرب کے اعلان حالیہ قائم کردہ اتحاد میں پاکستان کی بغیر پوچے شمولیت کی ملک میں توثیق کے لئے پیپلزپارٹی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ لیکن حالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ سعودی عرب نے ایسی کوئی یقین دہانی پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس سے پہلے جنرل مشرف نے بھی وطن وپاسی کے لئے سعودی عرب کی سفارش ھاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ 

پیپلزپارٹی نے بینظیر بھٹو کی برسی پر لاڑکانہ میں بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کا باقاعدہ فیصلہ سندھ پیپلزپارٹی کے اجلاس میں گزشتہ روز کیا گیا۔ پارٹی نہیں چاہتی کہ اس مرتبہ آصف زرادری برسی میں غیر حاضر رہیں۔ پارٹی کے لئے اس لئے بھی یہ مسئلہ اہم ہے کہ گزشتہ سال برسی میں بالول بھٹو زرادری نے برسی میں شرکت نہیں کی تھی۔ ان کی عدم موجودگی کو باپ بیٹے کے درمیان اختلافات بتائے گئے تھے۔ مطلب گزشتہ برسی میں بلاول بھٹو نہیں تھے کیا اس مرتبہ زرادری صاحب شرکت نہیں کر پائیں گے؟

 یہ آخری آپشن ہوگا کہ انہیں اگر شرکت کی اجازت نہ دی جائے تو ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے سے خطاب کا موقعہ دیا جائے۔ 
صورتحال بینظیر بھٹو کی برسی تک واضح ہو جائے گی۔ اگر وہ برسی میں شرکت کرتے ہیں تو یہی سمجھا جائے گا کہ بات بن گئی ہے۔ 

اگر وہ برسی کے موقعہ پر نہیں آتے اور انہیں صرف ویڈیو لنک پر خطاب کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ اگر یہ بھی نہیں ہوا تو یہ کہا جائے گا کہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے زرداری صاحب شرکت نہیں کر پائے ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے لیکن اس کے سربراہ ملک سے باہر ہیں۔ 

اب اسٹبلشمنٹ نے ایک اور پتہ کھیلا کہ سندھ اسمبلی کی قرارداد کی روشنی میں تیار کردہ سندھ حکومت کی سمری وفاقی حکومت نے مسترد کردی ہے اور اپنے طور پر آئین کے آرٹیکل 148 کے تحت رینجرز کے پولیسنگ کے اختیارت میں ساٹھ روز کی توسیع کردی ہے۔ اس کے بعد عملا سندھ میں وفاقی راج کی صورتحال ہے۔ سندھ حکومت اس معاملے پر سرینڈر نہیں کرنا چاہتی۔ اس معاملے پر وفاقی حکومت سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اگر خاطر خواہ جواب نہیں ملا تو عدلیہ ار دیگر آئینی فورمز میں جائے گی۔ 

 دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کو اسی دائرے میں لینا چاہئے اور کرپشن کو کرپشن کے دائرے میں ہی لینے کی ضرورت ہے۔ معاملے کو انا پرستی، تم بڑے کہ ہم بڑے، کے جائے زیادہ سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ اگر وفاق سندھ اسمبلی کی قراداد کو عزت نہیں دیتا، سندھ اسمبلی اگر
 دوبارہ قرارداد منظور کرتی ہے اور وفاق کے عمل کیمذمت کرتی ہے تو کیا ہوگا؟ اور یہ بھی کہ کل یہ معاملہ جن سنیٹ میں آئے گا تو کیا ہوگا؟ 
 سندھ کا معاملہ انتظامی یا ّئینی ماملہ نہیں جس طرح اسکو پیش کیا جارہا ہے۔

س ان دو طریقوں سے اس لئے پیش کیا جارہا ہے کہ متعلقہ فریقین خود کو ان پہلوﺅں میں اپنی سہولت محسوس کرتے ہیں۔ یہ معاملہ براہ راست سیاسی ہے۔ اس کو سیاسی طور پر ہی حل کرنے کی ضرورت ہے۔
Dec 2015 

No comments:

Post a Comment