سندھ پولیس میں تبدیلی اور پی پی حکومت
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کوعہدے سے ہٹادیا گیا۔ یہ اقدام نہ صرف پولیس پر لگنے والے الزامات کے حوالے اہم ہے بلکہ یہ پیپلزپارٹی کو بھی دھچکا ہے ۔ عدالت نے دوران سماعت وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے سوال کیا گیا کہ ایک افسر پر جب سنگین نوعیت کے الزامات ہوں تو کیا اس کو عہدے پر رکھنا درست ہے؟
عدالت کے ان ریمارکس آنے کے بعد وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بالاخر انہیں سبکدوش کردیا۔شاید بیوروکریسی بھی سیکھ پائے کہ حکومت کی ہر بات مانی نہیں جاسکتی۔
سندھ پولیس کے سربراہ غیر قانونی بھرتیوں اور فنڈز کے ناجائز استعمال اور کرپشن اور بعض سیاسی حوالے سے کئے گئے الزامات کے تحت عدالت کے چکر کاٹتے رہے۔ غیر قانونی بھرتیوں اور فنڈز کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہے۔ تین ڈی آئی جیز کی کرپشن متعلق رپورٹ کے مطابق 99 فیصد رقم نقد میں ادا کی گئی۔ یہ رقم مقدمات کی تحقیقات اور تفتیش پر خرچ ہونی تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2012 سے 2015 تک پولیس میں کی گئی بھرتیوں میں قانون کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔ تعجب کی بات ہے کہ جب یہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تب اعتراضات نہیں اٹھائے گئے۔ لیکن جب تحقیقات مکمل ہو چکی، تب اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آئی جی سندھ پولیس اس سے قبل اپنے ماتحت پولیس افسران اے آئی جی مشتاق مہر، ڈی آئی جی ثناءاللہ عباسی، ڈی آئی جی سلطان خواجہ، ڈی آئی جی امیر شیخ، اے ڈی خواجہ، پر تقرریوں اور تبادلے کے حوالے سے عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔
کراچی میں بدامنی کے خلاف حالیہ سماعت کے دوران جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی غلام حیدر جمالی کو متنبہ کیا تھا کہ انہیں اس عہدے پر رہنے کا حق نہیں ہے، جس پر آئی جی غلام حیدر جمالی نے نا پسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور بات اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ انہوں نے بینچ پر ہی عدم اعتماد کا اظہار کرتے موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ جسٹس امیر ہانی مسلم کمیٹی کے اراکین سے رابطے میں ہیں اس لیے ان پر انہیں اعتماد نہیں رہا۔اور یہ بھی کہا کہ فاضل جج نے ان کے خلاف نازیبا الفاط استعمال کئے ہیں۔
جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ کسی ایک فرد کے کہنے پر وہ اس بینچ سے علیحدہ نہیں ہوسکتے ۔
سپریم کورٹ نے نیب کوپولیس فنڈز میں مبینہ خرد برد اور غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت سے چیف سیکرٹری سے کہا ہے کہ وہ بھرتیوں اور فنڈز کے استعمال سے متعلق ریکارڈ محفوظ بنائے۔ جب سپریم کورٹ نے نیب سے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہےدریں اثناء وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی محکمہ انسداد رشوت ستانی سے کہا ہے کہ وہ بھی ان الزامات کی تحقیقات کرے۔ حد کمال ہے کہ جب عدالت عظمیٰ نے نیب کو تحقیقات کے لئے کہا تب جا کر وزیراعلیٰ کو خیال آیا کہ محکمہ انسداد رشوت ستانی بھی تحقیقات کرے۔
پولیس کا کام بدامنی کو ختم کرنا اور معاشرے میں برائیوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ عوام میں تحفظ کا احساس دلانا ہے، لیکن ہمارے پاس پولیس کا کردار مختلف وقتوں میں متنازع رہا ہے۔ سابق آئی جی غلام حیدر جمالی نے دوران تفتیش رنگ دینے کی کوشش کی کہ یہ پولیس افسران کے درمیان رقابت کا معاملہ ہے۔انہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین اے ڈی خواجہ اور ثنااللہ عباسی کو واپس ان کے پیرنٹ محکموں میں بھیجنا کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا یہ حکم ہے کہ ان افسران کو ان ہی اداروں کی طرف بھیجا جائے جہاں سے بنیادی طور پر ان کا تعلق ہے۔ یہ دونوں افسران سی ایس ایس پاس کرنے کے بعد پہلے دوسرے گروپ میں منتخب ہوئے تھے۔ لیکن بعد میں ان کو پولیس گروپ میں ضم کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے آخری روز صورتحال یہ بنی کہ پولیس میں بے قاعدگیوں کے مقدمے میں آئی جی غلام حیدر جمالی تنہا ہوگئے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت جاری کی کہ کمیٹی کے اراکین کا کہیں بھی تبادلہ وغیرہ نہیں کیا جائے گا۔
سندھ پولیس کی جانب سے سربیا سے بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ بھی عدالت میں زیر سماعت ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ احتساب بیورو کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل سابق ایس ایس پی شکیب قریشی کی معرفت کی گئی جو لندن میں قیام کے دوران پیپلز پارٹی کی قیادت کے قریبی حلقے میں شامل رہے۔ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی جانب سے یہ بکتر بند گاڑیاں کم قیمت پر بنانے کی پیشکش اورامریکی اداروں کی جانب سے 40 ملین رپے فی بکتر بند کی پیشکش کو مسترد کیا گیا ۔ جبکہ سربیا کی ایک کمپنی سے 120 ملین رپے فی گاڑی کا سودہ کیا گیا، یہ گاڑی بھی نئی نہیں بلکہ استعمال شدہ تھیں۔
سابق آئی جی غلام حیدر جمالی پر سندھ ہائی کورٹ میں توہین عدالت کامقدمہ بھی زیر سماعت ہے جس میں ان پر فرد جرم نافذ ہوچکی ہے۔ اس مقدمے میں شکایت کندہ اور گواہ عدالت خود ہی ہے۔چند ماہ قبل پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اپنے خلاف دائر ہونے والے انسداد دہشت گردی کے مقدمات سے ضمانت کے لیے آنے والے تھے تو اس روز پولیس کے مختلف محکموں کے اہلکاروںنے داخلی راستے کا گھیراو ¿ کرکے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا حامیوں تو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اس تشدد کو کیمروں میں قید کرنے والے صحافیوں پر بھی ٹوٹ پڑے۔عدالت کے نوٹس پر عدالت میں حاضر نہ ہونے کی بناءپر انہیں توہین عدالت کا نوٹیس جاری کیا۔
سندھ پولیس میں صوبائی حکومت کی مداخلت نئی بات نہیں ہے، جب ترقیوں اور تعیناتیوں میں کمیشن پاس افسران کو نظر انداز کیا گیا تھا تو کمیشنڈ افسران نے عدالت سے رجوع کیا جس کے نتیجے میں کئی نان کمیشنڈ افسران کی تنزلی ہوگئی یہ بات بھی پولیس کی اعلیٰ قیادت اور صوبائی قیادت کو پسند نہیں آئی تھی۔
کراچی میں آپریشن شروع ہونے پر شاہد حیات کراچی پولیس کے سربراہ تھے ۔جب آپریشن تیز ہوا تو شاہد حیات کا تبادلہ کیا گیا، شاہد حیات کو رینجرز سمیت دیگر اداروں کا تعاون حاصل تھا۔ اس وجہ سے آپریشن میں پولیس کو مرکزی کردار رہا۔ ان کے تبادلے کے بعد پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ شہر میں کئی ایسے افسران تھے جو رینجرز حکام کی تجویز پر تعینات کیے گئے تھے لیکن بعد میں ڈی آئی جی غلام قادر تھیبو کی بطور سربراہ کراچی پولیس تقرری کے بعد ان افسران کا اندرون سندھ تبادلہ کردیا گیا۔
شہر میں پولیس دو حصوں میں تقسیم ہوگئی جس میں ایک پر رینجرز تو دوسرآئی جی سندھ کا حامی گروپ بن گیا۔ پولیس افسران کے درمیان اس کشمکش کے دوران اے آئی جی ثنااللہ عباسی اور ڈی آئی جی سلطان خواکہ کی خدمات وفاق کے حوالے کردی گئیں ، تاکہ انہیں سندھ پولیس کے معاملات سے دور رکھا جائے۔
پولیس میں نچلی سطح پر کرپشن کے واقعات ایک عرصے سے خبر کے زمرے میں نہیں آتے۔کیونکہ اس میں کوئی نیاپن نہیں۔ لیکن سندھ پولیس کے سربراہ پر کرپشن کے الزامات حیران کن بات ہے۔
ان دنوںنجی نیوز چینلز پر حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کی جانب سے اشتہاری مہم شروع کی گئی ہے، جس میں کراچی آپریشن کا کریڈٹ لیا جارہا ہے، یہ حقیقت بھی ہے کراچی آپریشن میں یقیننا پولیس نے بھاری قیمت ادا کی ہے، جس کے دوران 1400 کے قریب اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور اب یہ سلسلہ جاری ہے، لیکن اعلیٰ قیادت کے کرپشن اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے یہ قربانیاں شمار میں نہیں لائی جاتی ہیں ۔ پولیس میں سب سے پہلے سیاسی مداخلت ختم ہونی چاہئے۔ اسکو جدید سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ وہاں ایماندار افسران کی تعینات کو یقینی بنایا جائے۔
No comments:
Post a Comment