Sunday, March 6, 2016

سندھ میں گرینڈ الائنس کیوں؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
 سندھ میں گرینڈ الائنس کیوں؟

 سندھ میں رینجرز کو پولیسنگ کے اختیارات دینے کا تنازع جاری ہے ، جو کہ ابھی بحران کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ ایسے میں پہلے گرینڈ الائنس بننے کی خبریں آنے لگیں اس کے بعد اس کے قیام کا اور اب 9 جنوری سے صوبائی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا علان سامنے آیا ہے۔ 

 2013 کے عام انتخابات کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ نواز لیگ نے باقاعدہ پیپلزپارٹی کی حکومت کی سیاسی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ سیاست خواہ جمہوری حکومت میں حامی یا مخالف اتحادوں کا بننا کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستان خواہ سندھ کی تاریخ ایسے متعدد اتحادوں سے بھری ہوئی ہے۔ 

ستر کے عشرے کے بعد جو اتحاد بنے، ان میں سوائے ایم آرڈی کے باقی تقریبا سب کے سب پیپلزپارٹی کے خلاف اور اسٹبلشمنٹ کے حمایت میں بنے۔ 

پاکستان قومی اتحاد ستر کے عشرے کے آخر میں بنا ۔ یہ اتحاد نو ستاروں کی پی این اے کی تحریک کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اس اتحاد کی ٹھریک کے نتیجے میں زوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ اور ضیاءالحق نے ملک میں مارشل لا لاگو کردیا۔ جو دس سال تک رہا۔ 

اس دوران افغانستان کی پراکسی جنگ کے واقعات سمیت پاکستان نے معاشی طور پر خواہ خارجہ پالیسی، امن ومان ، ملک کی فکری سوچ اور دیگر شعبوں میں کیا کھویا، اس کے زخم ابھی تک ہرے ہیں ۔

 دوسرا بڑا اتحاد آئی جے آئی تھا جس کا مقصد ضیاءالحق کے باقیات کو بچانے کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کو پنجاب سے بے دخل کرنا تھا۔ 

ماضی قریب میں سندھ میں 9اتحاد بنا، جو پیر پاگارا کی قیادت میں 2013 کے انتخابات کے حوالے سے بنایا گیا تھا۔ اس کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ میں ہی پھنسائے رکھنا اور پناجب کے لوگوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ آپ لوگ کیوں پیپلزپارٹی کی حمیات کر رہے ہو، اسے تو اپنے گھر یعنی سندھ میں بھی شدید مخالفت کا سامناہے۔ 

سندھ کے قوم پرست حلقے اس سیاسی کھیل کو سمجھ نہ سکے کہ اس اتحاد کے نتیجے میں انہیں کچھ نہ ملنا ہے اور نہ ہی سندھ تبدیل ہونا ہے۔ اور وہ تالیاں بجا کر اس اتحاد میں شامل ہو گئے۔ 

یہ اتحاد نواز لیگ کی چھتری میں ہی بن رہا تھا۔ وہ انتخابات میں ووٹ بینک کے حوالے سے اپنا الگ اکاﺅنٹ کھولنے میں ناکام رہے، یوں انہوں نے اسٹبلشمنٹ کی اس پالیسی کو مضبوط کیا کہ پیپلزپارٹی کا متبادل قوم پرست یا کوئی اور لبرل حلقے نہیں بلکہ پیر پاگارا ہے جنہیں اسٹبلشمنٹ ستر کے عشرے سے سندھ میں متبادل کے طور پر تیار کررہی ہے۔ 

خیر یہ کھیل عملی طور پرانتخابات سے پہلے ہی ختم ہو گیا تھا لیکن اس کا باقاعدہ اعلان بعد میں ہوا۔ انتخابات کے دو سال بعد بھی قوم پرست اس معاملے کی چھان بین کر کے شاید اس نیتجے پر نہیں پہنچ پائے ہیں کہ اس اتحاد کا مقصد کیا تھا اور اس کے نیتجے میں کیا ہوا؟ 

 اب ایک بار پھر اس حساس صوبے میں گرینڈ الائنس کو اتارا گیا ہے۔ جو نہ صرف اپنے جوہر میں بلکہ نعرے میں بھی صرف پیپلزپارٹی مخالف اور پر اسٹبلشمنٹ ہے۔ اس کے پاس صوبے سماجی یا معاشی ترقی کے حوالے سے کوئی پروگرام یا نعرہ نہیں۔ یہ پیپلزپارٹی کا کا گلہ صرف رینجرز کو مزید مدت کے لئے اختیارات دینے کے تکرار کے وقت ہی نہین دبا رہی، بلکہ اس طرح سے وہ غیر جمہوری مطالبہ اور غیر سیاسی حلقوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ 

سندھ میں رینجرز 1997 سے موجود اور سرگرم ہے۔ رواں سال کراچی میں آپریشن کے حوالے سے انہیں پولیسنگ اختیارات دیئے گئے تھے۔ جس کی مدت 6 دسمبر کو ختم ہوگئی۔ سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کو عملی طور پر یہ اختیارات اب بھی حاصل ہیں۔ اس میں سندھ اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے صرف اتنا اضافی کیا گیا، جس کو اختیارات گھٹانا قرار دیا جارہا ہے وہ یہ کہ صرف بعض معاملات میں رینجرز صوبائی حکومت کے سربراہ جسے آپریشن کے کپتان ک نام دیا گیا تھا، ان کی اجازت ضروری قرار دی گئی ہے۔ 

 رینجرز کو اختیارات کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 147 یا پھر رینجرز ایکٹ یا انسداد دہشتگردی قنون مجریہ 1997 کے تحت ہی آتنا چاہئے۔ قانونی ماہرین اس نقطے پر منقسم ہیں کہ کسی ایک قانون کے دائرے میں ہی معاملات آتے ہیں۔ دو منٹ کے لئے اگر مان بھی لیا جائے کہ ان تین قوانین میں سے کسی ایک دو یا تینوں کا اطلاق کیا جاتا ہے تب بھی صوبائی حکومت کی اتھارٹی کو برتری حاصل ہے۔ 

 آپریشن خواہ کسی شخص کے علاج کے لئے ہو یا دہشتگردوں کے خلاف ہو، وہ مقرر اور محدود مدت کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اس یہ استحقاق اس اتھارٹی کو حاصل ہوتا ہے اس معاملے میں یہ اتھارٹی سندھ حکومت ہے، جو اس فورس کو مدد کے لئے طلب کرتی ہے۔ 

پاکستان خواہ سندھ کے سیاسی حلقوں کو سمجھنا چاہئے کی طویل عرصے تک قانون نافذ کرنے والے ادارے کو دینے کا مطلب سیاسی یا سویلین اتھارٹی کے اختیارات میں تجوز کرنا ہے۔ اس ضمن میں بلوچستان کا تجربہ ہمارے سمانے ہے۔ جہاں یہ بحران اب شدید تر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یاں سویین اختیارات کم ہوتے گئے اب حکومت سازی اور دیگر فیصلے سازی میں سویلین کو اولیت حاصل نہیں رہی۔ 

تعجب کی بات ہے خیبر پختونخوا اور پنجاب جہاں دہشتگردی کے واقعات بھی ہوتے رہے، دہشتگردوں کی نرسریوں اور پناہ گاہوں کا بھی پتہ چلتا رہا، وہاں کبھی بھی رینجرز طلب نہیں کی گئی۔ 

 سندھ میں گرینڈ الائنس کا قیام رینجرز کے اختیارات اس کے بنیادی تجاد سے الگ نہیں ۔ سماجی علوم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ملک میں مرکزیت نہیں رہی۔ لةٰذا اس کا سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ عدم کرکزیت والا بن گیا ہے۔ ریاستی مرکزیت نہیں اس کے باوجود اسٹبلشمنٹ کے پاس مرکزیت ہے۔ 

تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارے ادارے عدم کرکزیت اور سیاسی بالادستی کے عدای بھی نہیں رہے ہیں۔ فیصلہ سازی میں سیاسی دھڑے کو اولیت یا برتری حاصل نہیں۔ اس ضمن میں جنرل مشرف کا سنیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کے بارے میںغصے بھرا بیان معاملے کو اور بھی عیاں کر دیتا ہے۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ رضا ربانی نے اٹھارویں ترمیم بنا کر ریاستی مرکزیت خمت کردی ہے۔ اسٹبلشمنٹ امن وامان، خارجہ پالیسی، بیرونی تجارت ، حکمت عملی کے معاملات کو ہینڈؒ ل کرنے میں دقت محسوس کر ہی ہے۔ یہ ایک بنیادی تضاد ہے۔ اور سندھ کا حالیہ بحران اس تضاد سے باہر نہیں ۔

یہ درست ہے کہ پیپلزپارٹی کی بدترین حکمرانی نے لوگوں کو سخت پریشان کیا ہوا ہے۔ وہ سندھ کے لوگوں کو گزشتہ سات سال کے دوران سوائے سرکاری نوکریوں کے کچھ دے نہیں سکی ہے۔ پارٹی خواہ عوام، اور پارٹی کی ہر سطح کی قیادت اور کارکنوں کے درمیان فاصلے بڑھے ہیں۔ ایک خلاءپیدا ہوا ہے۔ جس کو پر کرنے کی نہ نواز شریف اور نہ عمران خان ضرورت محسوس کر رہے ہیں ۔ 

سندھ میں اس خلاءکو پر کرنے کے لئے ایسی قوتوں کو اتحاد کی شکل میں لایا جارہا ہے جو ایک آدھ کو چھوڑ کر آمریت کی حامی ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھی رہے ہیں اور ان کے سیاسی اور معاشی مفادات بھی آمریت سے وابستہ رہے ہیں۔ اس میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو 2008 کے انتخابات کے بعد حکومت میں پیپلزپارٹی کے ساتھ چمٹی ہوئی رہیں۔ ان قوتوں کا ماضی میں جمہویرت دوستی، یا عوام دوستی کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ 

 یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس اتحاد سے اگر ایم کیو ایم کو الگ کردیا جائے اس کی عملی طاقت صفر ہے۔ یہ بات اس لئے بھی وزن رکھتی ہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ان تمام جماعتوں کی کارکردگی رہی وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ سب حضرات اس وقت ایسا کوئی اتحاد بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے تھے۔

 حالیہ اتحاد کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ غلام مصطفیٰ جتوئی اور بڑے پیر پاگارا کے انتقال کے بعد سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف کوئی قدآور شخصیت موجود نہیں۔ اب جو افراد موجود ہیں وہ سب اپنے قد میں ایک دوسرے کے برابر اور سب کے سب وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں۔ لہٰذا اتحادی ہونا اپنی جگی ان کے آپس میں مقابلے کی صورتحال اس مخالفت سے بھی شید تر ہے۔ جب کوئی وفاقی وزیر سندھ حکومت کو مختلف آپشنز کی دھمکی دے رہا ہوتا ہے تو تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ وفاق کی نظر ممتاز بھٹو پر ہے جسے کل اختیارات کے ساتھ گورنر بنا دیا جائے گا۔

ایک فرد کے ذریعے حکومت بنانے اور چلانے کا تجربہ جام صادق فارمولا کے تحت تین چار مرتبہ کای جا چکا ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہی نکلا ہے کہ اگر انہیں وفاق کی بیساکھی حاصل ہے تو ٹھیک ورنہ ایک روز بھی ٹہر نہیں سکتے۔ 

 یہ بدقسمتی اپنی جگہ پر کہ پیپلزپارٹی کی حکومت امن امان قائم کرنے ، لوگوں کو ڈؒیور کرنے اور کرپشن کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس ناکامی نے یہ جگہ پیدا کی کہ ریاستی ادارے بیچ میں آئیں۔ پیپلزپارٹی اگر اپنی گورننس درست نہیں کرے گی، پارٹی میں عوام اور کارکنوں کو جگہ نہیں دے گی تب تک اسے اس طرح کی صورتحال کا سمنا کرنا پرے گا۔ کیونکہ اس کی یہ ” حرکتیں“ سازگار حالات پیدا کرتی ہیں اور ایسا میلاپ پید اکرتی ہیں کہ غیر جمہوری عناصر مداخلت کریں یا آگےا آئیں ۔

 حالیہ گرینڈ الائنس کے ذریعے کسی مثبت تبدلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ منتخب حکومت کے خلاف جب بھی اس طرح کے اتحاد بنتے ہیں یا تھڑٰک چلتی ہے۔عوام کو کبھی بھی کچھ نہیں ملا ہے۔اس سے جمہوریت اور سیاسی ادارے کمزور ہوئے ہیں۔ بینظیر بھٹو جیسی شخصیت کو بھی بالآخر میثاق جمہوریت بنانا پڑا۔  

Dec 22, 2015


No comments:

Post a Comment