رینجرز بمقابلہ سندھ اسمبلی
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
وفاقی حکومت کے ساتھ دو ہفتے تک کی کشمکش کے بعد رینجرز کے اختیارات سے متعلق سندھ اسمبلی نے قرارداد منظور کر لی ہے۔ جس کے تحت رینجرز کے اختیارات عملی طور پر کم کردیئے گئے ہیں۔ اس وقفے میں وفاقی وزیر داخلا چوہدری نثار علی خان کی جذباتی اور دھمکی آمیز بیانات بھی آئے۔
اس قرارداد کے مطابق صوبے میں رینجرز کے قیام میں 12 ماہ کی توسیع کردی گئی ہے ۔ رینجرز چار قسم کے جرائم یعنی اغوا برائے تاوان، ٹارگیٹ کلنگ، اور فرقہ وارانہ دہشتگردی کے خلاف آزادی کے ساتھ کارروائی کر سکے گی۔ لیکن رینجرز کو کرپشن کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں ہوگی۔ رینجرز چیف سیکریٹری یا چیف منسٹر کی اجازت کے بغیر کسی دفتر پر چھاپہ نہیں مار سکے گی ۔ کسی اہم شخص کی گرفتاری یا شک کی بنیاد پر گرفتاری کے لئے وزیراعلیٰ سندھ سے تحریری اجازت لینی پڑے گی۔ اس قرارداد کے مطابق رینجرز سندھ پولیس کے علاوہ کسی دوسرے ادارے خاص طور پر نیب یا ایف آئی اے سے مدد نہیں لے سکے گی۔
وفاق کسی طور پر بھی نہیں چاہ رہا تھا کہ رینجرز کے اختیارات کا معاملہ اسمبلی میں جائے۔ وفاق کی خواہش تھی کہ اگزیکیٹو آرڈر کے ذریعے رینجرز کو پولیس کے اختیارات مل جائیں۔ اور وفاق کا حکم سندھ میں چلتا رہے۔ لیکن سندھ کی حکمران جماعت بضد تھی کہ معاملہ اسمبلی میں لے جایا جائے۔
جہاں تک وفاق نے اس معاملے کو سیاسی بنایا، صوبائی حکومت نے اس کو ترپ کارڈ کے طور پر استعمال کیا۔ جس طرح کی قرارداد منظور ہوئی ہے اس سے وفاق اور سندھ کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔ وزیر داخلا چوہدری نثار علی خان نے دیگر آپشنز کی جو دھمکی دی تھی اس کی تلوار ابھی تک لٹکی ہوئی ہے۔
سندھ کا رینجرز کے اختیارات سے متعلق معاملے کو صوبائی اسمبلی میں لے جانا درست اقدام ہے۔ یہ ایک منتخب ادارہ ہے۔ جس کو اپنے دائرہ کار میں تمام معاملات پر بحث کرنے، غور کرنے اور فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔ یہی جمہوری اسپرٹ ہے جس کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لحاظ سے وفاقی وزیر داخلا کی دھمکیاں اور گورنر راج کی میڈیا میں افواہوں کو کسی طور پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وفاقی وزیر کا یہ کہنا کہ اگر رینجرز کو اختیارات نہیں دیئے گئے تو وہ ڈاکٹر عاصم حسین کی ویڈیو جاری کریں گے۔
یہ میڈیا ٹرائل اور قانونی حدد سے ہٹ کر فیصلے کرنے کا دباﺅ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم نے کیا اعتراف جرم کیا اور کس کے خلاف بولے وہ تو سب ہو چکا ۔ اس کے باوجود ان پر جو مقدمہ بن سکا وہ اتنا ہی تھا کہ ان کے اسپتال میں زخمی دہشتگردوں کا علاج ہوتا تھا۔
یہ سب نوے روز کی طویل رینجرز کی تحویل میں رہنے کے بعد سامنے آیا۔ اگر اس سے بڑھ کر کوئی چیز تھی تو اس کا مقدمہ کیوں نہیں بنایا گیا؟
رینجرز ہو یا کوئی اور ادارہ اس کو پولیسنگ اختیار دینا بہت ہی حساس معاملہ ہے۔ اس لئے اس بات کو یقینی بنانا نہایت ہی اہم ہے کہ جس ادارے کو جس مقصد کے لئے اختیارات دیئے جارہے ہیں اسی مقصد کے لئے ہی استعمال ہونگے۔
اس قرارداد نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے ۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ قرارداد اس شکل میں اس وجہ سے آئی ہے کہ پیپلزپارٹی کی دبئی میں موجود قیادت اور اسلام آباد پنڈٰ کے درمیان رابطہ نہیں ہو سکا ہے جس میں رینجرز کے اختیارات کو سویلین حکومت کے ماتحت کر دیا گیا ہے ۔
اس قرداد سے رینجرز اور دیگر اداروں کو یہ بھی پیغام ملا ہے کہ کرپشن یا دیگر سول معاملات میں وہ مداخلت نہیں کریں۔
سندھ کا دارلحکومت کراچی گزشتہ چند عشروں سے دہشتگردوں کے نشانے پر ہے۔ جہاں ہر قسم کی دہشتگردی ہوتی رہی ہے ۔ کراچی میں آباد کوئی کمیونٹی، یہاں تک کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔ دہشتگردی کی آگ میں جلتے ہوئے اس شہر اغوا کی وارداتیں، بھتہ خوری، چائنا کٹنگ ، اسٹریٹ کرائیم ایک مسلسل عذاب کی شکل میں جاری رہا ہے۔
کراچی کے ہر باشہری نے اپنی حیثیت کے حساب سے یہ عذاب بھگتا ہے ۔ ان منظم جرائم اور دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے کراچی کی کاروباری سرگرمیاں تباہ ہوئیں۔ جانی مالی نقصانات کے علاوہ سرمایہ کاری متاثر ہوئی۔ لوگوں اور خاص طور پر بچوں میں خوف وہراس کی نفسیات پیدا ہوئی۔ جس نے کم از کم دو نسلوں کی سوچ ، صلاحیت اور تخلیقی قوت کو برباد کیا۔ ا
آپریشن جاری تھا کہ اچانک وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اخلتافات پیدا ہو گئے۔ یہ اختلافات تب شروع ہوئے جب رینجرز نے کرپشن کے کیسز میں ہاتھ ڈالنا شروع کیا۔
بلاشبہ کرپشن بے تحاشا حد تک موجود ہے، لیکن یہ رینجرز کا مینڈیٹ نہیں تھا۔ جس کے خلاف الگ سے پلان بنانے کی ضرورت ہے۔
کرپشن کو دہشتگردی کے آپریشن کے ساتھ ملانے سے معاملات گڑبڑ ہونا شروع ہوئی۔ ہر ادارے کو اپنے مینڈیٹ اور دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ ملک میں ایسے ادارے موجود ہیں جن کامینڈیٹ کرپشن کا خاتمہ ہے۔ یہ کام انہی اداروں کو دینے کی ضرورت ہے۔
اب جو صورتحال ابھر رہی ہے اس میں وفاق اور صوبے درمیان ٹکراﺅ ایک نقطہ ہے جب کہ اس معاملے کے آپریشن پر پڑنے والے اثرات دوسرا نقطہ ہے۔ اپنی جگہ پر دونوں نکات اہم ہیں۔ یہ قرارداد خواہ کیسی بھی ہو وفاق کو سندھ اسمبلی کی رائے کا احترام کرنا چاہئے۔ وفاق کو صبر اور تحمل سے کام لینا چاہئے۔ غیر دانشمندانہ فیصلوں کا اب یہ ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اسے کسی مہم جوئی سے باز رھنا چاہئے۔
Dec 30, 2015
No comments:
Post a Comment