Sunday, March 6, 2016

وزیراعظم کا دورہ کراچی اور سندھ سے کشیدگی


وزیراعظم کا دورہ کراچی اور سندھ سے کشیدگی
 سہیل سانگی ۔۔ میرے دل میرے مسافر
سب کو معلوم تھا کہ وزیر اعظم ایوان صنعت و تجارت کی تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ لیکن یہ بھی پتہ تھا کہ وہ کراچی ُریشن کے حوالے سے اجلاس کریں گے اورگزشتہ چندڈیڑ ھ ماہ سے زیر معوضوع رینجرز کو اختیاارات دینے کے معاملے پر بھی سندھ حکومت سے بات کریں گے۔ ایئر پورٹ پر ان کے استقبال کے لئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ موجود تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ مالقات کے لئے وقت دیں کچھ ضروری بات کرنی ہے۔ وزیراعظم یہ جانتے ہوئے بھی کہ کیا بات کرنی ہے، تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ کس موضوع پر بات کرنی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رینجرز کے اخریارت کے حوالے سے۔ وزیراعظم نے اس آپریشن کے کپتان سے کہا کہ اس کے لئے آپ اسلام آباد آئیں۔ سبو کو بلائیں گے اور آپ کی پوری بات سنیں گے۔ 

 حکومت سندھ کو پتہ تھا کہ اس مرتبہ وزیراعظم سید قائم علی شاہ کو ٹائیم نہیں دیں گے ۔ اس لئے کہ اس طرح کی ملاقاتوں کے لئے پہلے سے متعلقہ فریقین کو پہلے سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ شاید وزیراعلیٰ سندھ کو میاں صاحب سے یہ انکار سننا چاہ رہے تھے۔ کیا وزیرعظم کا یہ انکار ایک روز قبل گڑھی خدا بخش میں بلاول بھٹو زرداری کی تقریر تھی جس میں انہوں نے بعض باتوں کے لئے میاں نواز شریف کو مورد الزام ٹہرایا تھا؟ نہیں یہ پہلے سے فیصلہ تھا کہ رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے حکومت سندھ کا موقف اسلام آباد میں ہی سنا جائے گا۔ کراچی میں نہیں۔ 

 پھر وزیر اعلیٰ ناسازی طبع کا کہہ کر ایئر پورٹ سے ہی رخصت ہوگئے۔ بعد میں وزیر اعظم نے کراچی آپریشن کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں کراچی میں قیام امن کا کریڈٹ ڈٰ جی رینجرز، آئی جی سندھ پولیس اور چیف سیکریٹری کو دیا۔ لیکن اس ٹیم کے کپتان کا نام بھی نہیں لیا۔ جب وزیر اعلیٰ نے ایئر پورٹ پر ان سے معذرت کی تو وزیراعظم کو یہ بات ضرور سمجھ میں آئی ہوگی کہ شاہ صاحب ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم وفاق کے سربراہ ہیں ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کو منا کر اپنے ساتھ لینا چاہئے تھا۔ اور یہ کوئی مشکل بھی نہیں تھا۔ اگر وزیراعظم تھوڑی سی حجت بھی کرتے تو شاہ صاحب ان کے ساتھ چلے جاتے۔ 

 وزیراعظم یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ک وفاقی حکومت اور رینجرز ایک پیج پر ہیں ۔ یعنی سندھ حکومت ا سپیج سے غائب ہے۔ اس کو جو کرنا ہے وہ جا کر کرے۔ 

 پیپلزپارٹی عدالت میں نہ جانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ لیکن سنیئر وزیر نثار احمد کھڑو نے کہا کہ اگر وزیر اعظم رینجرز کے اختیارات کا معاملہ حل نہیں کرتے تو سندھ کے پاس اور بھی آپشنز ہیں۔ اور آپشن زکیا ہو سکتے ہیں؟ دیگر آپشنز کی بات وفاقی وزیر داخلا چوہدری نثار علی خان بھی کر چکے ہیں۔ جب رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے صوبائی حکومت نے اپنی چلائی تو وفاق نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے رینجرز کے پرانے اختیارات بحال کردیئے۔ بعد میں سندھ حکومت وزیر اعظم کے بجائے چوہدرینثار علی کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی۔ 

 اگرچہ نثار احمد کھڑو نے دیگر آپشنز کی تفصیلات نہیں بتائی ہیں لیکن یہی آپشن ہو سکتے ہیں : عدلات یا عوام۔ سپریم کورٹ میں جانے کا آپشن سندھ حکومت قانونی ماہرین سے صلاح مشورے کے بعد رد کر چکی ہے۔ اس صورت میں معاملہ طول کھینچ جائے گا۔ 

 آخری آپشن عوام سے رجوع کرنا ہے۔ سندھ حکموت ایک راستہ یہ اختیار کرے کہ بے اختیار حکومت چلانے سے انکار کر کے عوام سے دوبارہ ووٹ حاصل کرنے کا کہے۔ دوسرا یہ کہ حکومت میں رہتے ہوئے وفاقی حکومت سے احتجاج کرے۔

 پیپلزپارٹی صوبائی حکومت چھوڑنے کو تو سیاسی خود کشی سمجھتی ہے۔ وہ صرف احتجاج کے راستے پر غور کر سکتی ہے۔ عوامی سپورٹ والے احتجاج کا حشر ہم نے بینظیر بھٹو کی برسی کے موقعہ پر دیکھ لیا تھا۔ اس مجمع کا موڈ ایسا نہیں تھا جس کی پیپزپارٹی کو ضرورت ہے۔ اب اس کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ قومی اسمبلی اور سنیٹ میں احتجاج کرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ احتجاج ایسا ہوگا کہ وفاقی حکومت حل جائے ؟ اور رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے سندھ حکومت کا موقف مان لے؟ 

 رینجرز کے اشو پر سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان فاصلے کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔ صوہ سندھ کی یہ شکایت ہے کہ وفاقی ادارے صوبائی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔

31-12-2015 

No comments:

Post a Comment