Saturday, March 12, 2016

ایم کیو ایم: زندہ رکھنا ہے لیکن اپنے سائیز میں


مائنس الطاف ایم کیو ایم 
 زندہ رکھنا ہے لیکن اپنے سائیز میں

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 

مصطفیٰ کمال  کی سیاسی انٹری نے سیاست کا موضوع ہی بدل ڈالا ہے۔ ایم کیو ایم میں کچھ ہونے جارہا ہے؟ کراچی میں کچھ ہونے والا ہے؟ سندھ میں کچھ ہونے والا ہے؟ یہ تنیوں سوال ویسے ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ایک ہی سوال ہے جس کو مختلف انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔ 

متحدہ قومی موومنٹ اسٹبلشمنٹ کی لاڈلی رہی۔ پیپلزپارٹی بھی اسکو اپنے گلے کا ہار بنائے رہی کہ کراچی میں امن رہے۔ کراچی میں کرپشن اور کرائیم جب تک ایک لیول پر تھے تو ہر کوئی اس لوٹ مار میں شریک تھا۔ بلکہ آزاد اور خود مختار تھا۔ لیکن جب کرائیم اور کرپشن کسی دائرے کے محتاج نہ رہے تب کراچی میں آپریشن شروع کرنا ضروری سمجھا گیا۔ یہ وہ آپریشن تھا جس کو نہ عدالتی احکامات اور نہ ہی حکمرانوں کی دبی ہوئی خواہش عملی جامہ پہنا سکی تھی۔ اس آپریشن کے حوالے سے پیپلزپارٹی کو بیک فوٹ پر جانا پڑا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ آصف زرادری بیرون ملک ٹہرے ہوئے ہیں۔ یہاں پر پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں پر مقدمات اور نیب کے پاس طلبی جاری ہے۔ 

 ادھر متحدہ کے سربراہ پر لندن میں منی لانڈری ، عمران فارق کے قتل کے مقدمات میں بھی بریت نہیں ہو سکی ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ان کی صحت پہلے جیسے نہیں۔ ان کے ٹیلیفونک خطاب پر پابندی ہے۔ پارٹی کے متعدد کارکن گرفتار ہو چکے ہیں اور باقی عدالتوں میں حاضری دے رہے ہیں۔ پارٹی پر ان کی گرفت اب بھی برقرار ہے لیکن کارکنان کی جانب سے وپہلے والی بجاوری نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار رابطہ کمیٹیاں ٹوٹتی رہی اور از سرنو بنتی رہیں۔ تنظیمی ڈھانچے میں متعدد تبدیلیاں کی جاتی رہی۔ بعض کو عہدوں سے فارغ کردیا گیا بعض کو نئی ذمہ داریاں سونی گئیں۔ یہ اندرونی توڑ ُھوڑ ابھی جاری تھی کہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی جانب سے پارٹی کی قیادت پر ایک اور دباﺅ بڑھ گیا۔ 

 اردو بولنے والوں کو تحریک انصاف اور جماعت اسلامی آپشنز کے طور پر دیئے گئے۔ تحریک انصاف کراچی میں ناتجربیکار تھی۔ اور وہ کراچی میں اپنا اسٹیک نہیں سمجھتی تھی۔ جماعت اسلامی ماضی کے واقعات کی وجہ سے سہمی ہوئی تھی۔ اور ان کے پاس کوئی ولولہ انگیز قیادت بھی نہیں تھی۔ جب تک جماعت اسلامی کی قایدت کا کوئی حصہ پتی کراچی میں ہوتا تھا، یہ جماعت اس میٹروپولیٹن شہر میں اپنا سیاسی اثر رکھتی تھی۔ جب اوپر کی سطح پر تبدیلیاں ہوئیں اور ترجیحات بھی تبدیل ہوئیں، کراچی اس کے ہاتھ سے جاتا رہا۔ 

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کراچی میں خلاءکو پر کر لیتی تو مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کو میدان میں اتارنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایم کیو ایم کو اندر سے توڑنی کے تجربات پرانے ہیں۔ حقیقی سے لیکر بعد میں ایک درجن مرتبہ اندرونی بغاوت کی کوششیں کی جاتی رہیں۔ لیکن نتیجہ نہیں نکلا۔ یہ سب تجربے فلاپ رہے۔ اس طرح کی کوشش ایک اور مہم جوئی ہوسکتی ہے بلکہ وہ متحدہ کو مزید مضبوط بھی بنا سکتی ہے۔ 

 مائنس ون فارمولا مختلف وقتوں میں مختلف پارٹیوں بشمول پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے لئے چلایا جاتا رہا۔ وقت نے ثابت کیا کہ اس طرح کے مصنوعی فارمولے نہیں چلتے۔ سیاست بعض حقائق کا نام ہے۔ آپ کسی کی پسند کو جیب سے نکل کر متبادل دے کر ناپسند میں تبدیل نہیں کر سکتے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ جب تک متحدہ کے سربراہ زندہ ہیں تب تک یہ پارٹی اسی کے گرد گھومتی رہے گی۔ ہاں پارٹی کے لئے مشکل وقت ضرور ہے۔ جب پارٹی اور اس کے فیصلے ایک فرد کے گرد گھومتے ہوں، جب ان کی صحت کے معاملات بھی ہوں، بیرون خواہ اندرون ملک مقدمات بھی قائم ہوں، پارٹی کے اندرونی مسائل کے ساتھ ساتھ بیرونی دباﺅ بھی ہو، ایسے میں مصطفیٰ کمال اور انیس قائم کانی کی جانب سے ”بمباری“ یقینا نئی مشکلات پیدا کر چکی ہے۔ 

 برطانیہ میں زیر سماعت معاملات میں انہیں وقتی طور پر رلیف ملا ہوا ہے۔ لیکن یہ لٹکتی ہوئی تلوار تو ہے۔ پاکستان میں عمران خان قتل کیس کی تفتیش ان کا درد سر تو ہے۔ اہم رہنما مخلتف عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ میئر کے معاملات بھی عدلات میں زیر سماعت ہیں۔ 
 لہٰذا متحدہ کسی بڑی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں۔ دو چار احتجاج اور دو چار دن بھوک ہڑتال کرنے ولاے جانتے ہیں کہ گوٹ کہاں پھنسی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب وزیراعظم کے بجائے براہ راست اسٹبلشمنٹ کا نام لیتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یہ بات سمجھنے میں متحدہ کو خاصا وقت لگا۔ جس اسٹبلشمنٹ کے وہ دلدار تھے، جس کے کہنے پر ان کے خلاف قائم سینکڑوں مقدمات ختم ہو جاتے تھے۔ اور اس اسٹبلشمنٹ کے ہر ضرورت کے وقت وہ کام بھی آئے۔ وہ ان سے یوں منہ موڑ لے گی؟ 

 اس تمام معاملے میں نواز لیگ خاموش ہے۔ سوائے چوہدری نثار علی خان کے ایک آدھ تبصرے کے۔ ورنہ ایم کیو ایم نے جب پارلیمنٹ سے استفیفے دیئے تھے تو نواز لیگ ہی ان کو واپس لے آئی تھی۔ اب ایک کمال کی انٹری ہوئی ہے تو وہ خاموش ہو گئی ہے۔ اگرچہ کسی جماعت کے معاملات کو اس طرح سے ادھیڑنا سیاسی طور پر جائز نہیں لیکن نواز لیگ خاموش ہے اس لئے کہ وہ پہلے ہی بہت سے اشوز پر اسٹبلشمنٹ سے دور کھڑی ہے۔ ایسے میں ایم کیو ایم کا معاملے کو وہ پرائی فلم سمجھ رہی ہے اور اپنے گلے میں ڈالنے کے لئے تیار نہیں۔ نواز لیگ کب تک خود کو سیاسی معاملات سے چشم پوشی کرتی رہے گی؟ سندھ میں پیپلزپارٹی اور متحدہ کے معاملات ہوں یا دیگر امور۔ 


 الطاف حسین پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ نئے نہیں۔
 ایم کیو ایم پر جب بھی حملہ ہوا اس نے شدت کے ساتھ مہاجرکارڈ کھیلا۔ آفاق منظر پر آئے، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس کے ضواب میں ندیم نصرت آئے تو انہوں نے بھی مہاجروں پر مظالم اور ان کے ساتھ ناانصافیوں کی بات کی۔ ایم کیو ایم ہو یا اسکو الوداع کہنے والے سب کو یہ کارڈ استعمال کرنا پڑے گا۔

 بعض حلقے ایم کیو ایم کی توڑ پحور پر خوش ہو رہے ہیں۔ یہ بات سمجھنی چاہئے کہ جتنا اندرونی تضاد برھیں گے اتنی ہی لسانی سیاست بھی بڑھے گی۔ دردوں اور دکھوں کا ازالہ صرف اس وقت ممکن ہے جب سیاست کا وہ انداز تبدیل ہوگا جو ایم کیو ایم نے قائم کئے رکھا ہے۔ اس توڑ پھوڑ میں سے جو گروپ نکلے گا وہ ایم کیوایم کی ایکسٹینشن ہی ہوگی۔ وہ خود کو زندیہ رکھنے کے لئے مزید مہاجیرت کا نعرہ دے گا اور سیاست کرنے کی کوشش کرے گا۔ 

 فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مائنس ون فارمولا نہیں چلے گا۔ مطلب یہ حلقے ایم کیو ایم کو قائم رکھنا چاہتے ہیں لیکن اس میں الظاف نہ ہوں۔ خیال یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ صحت وغیرہ کے حوالے سے وہ مائنس وہنے کے قریب ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو دوسرے رہنما کیوں نہ قیادت اپنے ہاتھ میں لینے کی امید لگائیں یا کوششیں کریں؟ اس وقت جو تضاد ابھرا ہے وہ الطاف سے زیادہ تعلق ان گروپوں سے ہے جو جو الطاف کے بعد پارٹی قیادت سنبھالنا چاہتے ہیں۔الطاف اپنے سیاسی جانشین مقرر کرنے کا اعلان کرچکے ہیں ان میں محمد انور اور ندیم نصرت بڑے اہم سمجھے جاتے ہیں لیکن ان پر بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کا ایجنٹ ہونے کا الزام ہے۔ لہٰذا یہ حلقے مائنس الطاف نہیں بلکہ مائنس الطاف فارمولے کے خلاف ہوں اور ان دونوں کا راستہ روکنے کے لئے مصطفیٰ کمال اور انیس قائمخانی کو میدان میں لے آئے ہوں۔

 کیا اس مرتبہ جو تماشہ لگنے والا ہے اس سے واقعی عوام کا کوئی مفاد حاصل کرنا ہے یا الزامات کی سنگ باری کر کے کچھ اور مقاصد حاصل کرنے ہیں۔ اگر الزامات جس طرح لگ رہے ہیں تو ایسی تنظیم پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟ ایم کیو ایم ان کی برین چائلڈ ہے۔ لہٰذا اس کو زندہ رکھناچاہتے ہیں لیکن اپنے سائیز میں۔

Nai Baat 

No comments:

Post a Comment