نواز شریف مستحکم ہو رہے ہیں۔۔
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
گزشتہ عام انتخابات کے بعد جیسے ہی میاں نواز شریف نے حکومت سنبھالی، انہیں کئی ایک سیاسی بحرانون اور عسکری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ دقتیں نئے چیف جسٹس اور نئے آرمی چیف کے آنے سے بھی کم نہیں ہوئیں۔ بلکہ بعض محاذوں پر ان میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ ملک کے اندر طالبان سے مذاکرات، انتخابات میں دھاندلی اور ان سے استعیفے کے مطالبے ہو رہے تھے۔ خطے میں جو نئی صورتحال ابھی رہی تھی اس میں وزیراعظم کوئی کردار ادا نہیں کر پارہے تھے۔
پہلے یک سال پہلے میاں نواز شریف کی حکومت بھنور میں پھنسی ہوئی نظر آرہی تھی۔ منتخب حکومت نے غیر منتخب اداروں کے سامنے کئی باتیں مانیں۔اس حوالے سے ان پر تنقید کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے بعض ایسے بھی فیصلے مانے جو منتخب جمہوری حکومت کو زیب نہیں دیتے۔ انہوں نے عسکری اور سویلین توازن کو برقرار کھا۔ حالانکہ اس کو بعض تجزیہ نگار ان کے درمیان نئے توازن کا نام دے رہے ہیں کیونکہ پلڑا عسکری قوتوں کا ہی بھاری رہا۔
تاہم اس کا فیصلہ تاریخ کے بڑے سفر میں کیا جائے گا کہ یہ وقت کے حوالے سے ملک کے فائدے میں تھے یانقصان میں؟ اس کی ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ اپنی حکومت کو بچانے کے لئے کیا۔ اس دلیل میں کوئی شبہ بھی نہیں۔ یہ ہر حکمران کرتا ہے، خاص طور پر آج کے دور میں جب نظریاتی اور اصولوں کی سیاست ختم ہو چکی ہے ۔وہ کسی نہ کسی طرح سے منتخب حکومت اور جمہوری عمل کو بچانے میں کامیاب ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جمہوری اداروں اور جمہوری عمل کا تحفظ خاصا اہم ہوتا ہے۔ آج 2015 کے اختتام اور نئے سال کے آگاز پر صورتحال تبدیل نظر آتی ہے۔ ان کی پوزیشن بہتر بنتی نظر آرہی ہے۔
یہ بھی لگا ہے کہ امور خارجہ اور سیکیورٹی کے معاملات میں عسکری اسٹبشمنٹ کی بالادستی رہی۔ اس کی بڑیٰ وجہ دہشتگردی کے خلاف کارراوئیاں تھیں، جن کا مقابلہ مختلف وجوہات کی بناءپر جمہوری یاسویلین حکومت نہیں کر سکتی تھی۔ کراچی اس ضمن میں اہم مثال ہے۔ جہاں دہشتگردی اور سیاست دونوں انوکھے امتزاج میں موجود ہیں۔
تمام تر حالات و واقعات کے باوجود کوئی بھی ملکی سیاست کا اہم کھلاڑی سیاست سے باہر نہیں۔ کوئی نیا پاور بروکر وجود میں نہیں آیا۔ عمران خان جو 2013 کے انتخابات میں پوزیشن حاصل کر چکا تھا عملا ان کی وہی پوزیشن ہے۔ یہ صحیح ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم پر مشکل وقت ہے۔اس کی ذمہ دار یہ جماعتیں خود تھیں۔ نواز شریف نے صرف اتنا کیا کہ ان جماعتوں کا ملبہ اپنے سر نہیں لیا۔ لیکن ان دونوں جماعتوں کی ملکی سیاست میں موثر موجودگی ہے۔ مختلف مشوروں کے باوجود سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے بجائے بھان متی کا کنبہ بنا کر مخلوط حکومت نہیں بنائی گئی۔ اور نہ ہی گورنر راج نافذ کیا گیا۔ یہ نواز شریف کی بھلے ذہانت نہ ہو لیکن حکمت عملی ضرور تھی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایسا کچھ کرنے کے بعد ان کے پاس بھی کچھ نہیں بچے گا۔ لہٰذا ان تمام چیزوں کا بچ بچاﺅ کر کے انہوں نے باقی سب اقدامات کئے جن کی ان سے فرمائش کی جاتی رہی۔
بلوچستان میں نواز شریف بہت ساری چیزیں کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے تھے کہ وہاں سرداروں سے ہٹ کر جو قیادت موجود تھی اس کو اپنے ساتھ ملائے رکھیں۔ اسی طرح کا تجربہ بینظیر بھٹو نے 88 کے انتخابات کے بعد کیا تھا۔ لیکن حالات مخلتف ہونے کی وجہ سے وہ اس کو نبھا نہیں سکیں۔ اب حالات مختلف ہیں ۔ نواز شریف سیاسی دباﺅ کو روک سکتے تھے انہوں نے ڈاکٹر مالک کی حکومت کو معاہدے کے مطابق ڈھائی سال مکمل کرنے دیئے۔
خیال ہے کہ خود نوز شریف ڈاکٹر مالک کی حکومت کو جاری رکھنا چاہتے تھے لیکن سیاسی دباﺅ اور مصلحتوں کا شکار ہو گئے۔ یہی صورتحال جنرل مشرف کے معاملے میں رہی۔ ان پر اگر مقدمہ نہیں چل ایا جاسکا تو انہیں بیرون ملک جانے بھی نہیں دیا گیا۔
سندھ کے لوگوں کو نواز شریف سے یہ شکایت یقیننا رہی کہ وہ ان کے لئے کچھ نہیں کر پائے۔ وہ اس لئے کہ میاں صاحب پیپلزپارٹی کے ساتھ اپنی انڈر اسٹینڈنگ خراب نہیں کرنا چاہے تھے۔
نواز شریف کے لئے سندھ کا معاملہ بھی تاحال چیلینج ہے۔ عسکری قوتیں دہشتگردوں اور جرائم مافیا اور کرپشن کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنا چاہتی ہے۔ اسمیں بڑی حد تک نواز شریف عسکری فیصلوں کے ساتھ ہیں لیکن وہ نظام کے ٹوٹنے کی حد تک نہیں جانا چاہیں گے۔
اسٹبلشمنٹ افغانستان، امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں فری ہینڈ چاہتی ہے۔ کیونکہ افغانستان سے امریکی اخراج کے بعد اسٹبلشمنٹ نہیں چاہیت کہ وہاں بھارت کا اس طرح سے اثر رسوخ ہو۔
وزیراعظم نواز شریف کی یہ فرمائش ہے کہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ افغانستان کی وجہ سے ایک ایسا منظر نامہ بن رہا ہے جس میں پاکستان، چین، اور امریکہ تو موجود ہیں لیکن بھارت موجود نہیں۔ اس ضمن میں امریکہ اور افغانستان اس صورت میں بھارت کے رول کو ختم یا کم کرنا نہیں چاہتے۔ یہ ایک بڑا چیلینج ہے۔
ان حکومت کی باقی مدت میں ایک اہم واقعہ یہ ہونے والا ہے کہ جنرل راحیل شریف رواں سال کے آخر میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جبکہ 2017 انتخابات کا سال ہی ہوگا۔ کیونکہ 2018 کے اوائل میں انتخابات ہونے ہیں۔ لہٰذا جو بھی تبدیلی آئے گی وہ ان انتخابات کی
وجہ سے یا ان کے ذریعے آ جائے گی۔ اس کے لئے کسی بڑی اکھاڑ پچھاڑ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
Jan10, 2016
No comments:
Post a Comment