شہباز تاثیر کی بازیابی: چند سوالات
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
پیپلزپارٹی کے مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہبازکو بالآخر بازیاب ہوگئے۔ انہیں چار سال قبل دن دہاڑے لاہور کے پر رونق علاقے گلبرگ سے اغوا کیا تھا۔ اغوا کی یہ واردات ان کے والد سلمان تاثیر کے قتل کے سات ماہ بعد ہوئی تھی۔ان کی رہائی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق محکمہ انسداد دہشتگردی اور ایف سی کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں بتائی جاتی ہے۔ جس کے مطابق انہیں کوئٹہ سے پچیس کلو میٹر دو کچلاک کے ایک ہوٹل سے بازیاب کیا گیا۔ یہ رہائی ان کے والدسلمان کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت پر عمل درآمد کے تقریبا ایک ہفتہ بعد عمل میں آئی ہے۔
شہباز تاثیر کا اچانک منظر پر آنا کسی فلمی سین سے کم نہیں لگتا۔ وہ چار سال تک اغواکاروں کی تحویل میں رہے۔ اور پھر اچانک ایک دن دوردراز علاقے کی ایک گمنام ہوٹل میں کھانا کھانے پہنچ گئے۔ اور وہ پی سی او سے گھر والوں سے رابطہ کرتاے ہیں۔ اس خبر کے میڈیا تک پہنچنے کے بعد آئی ایس پی آر پریس رلیز جاری کرتا ہے کہ شہباز تاثیر کی رہائی انسداد دہشتگردی اور فرنٹیئر کور کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ اس پریس رلیز کے ساتھ متوازی اسٹوری بھی چلتی رہی کہ انہوں نے اپنی والدہ کو فون کیا اس کے بعد انہوں نے سیکیورٹی اداروں کو اطلاع دی۔ اگر شہباز سیکیورٹی اداروں کی مدد یا کارروائی سے بازیاب ہوئے ہیں تو ان کی معرفت اپنے گھر پہنچنے کے بجائے کسی گمنام ہوٹل سے کیوں فون کر کے گھر والوں کو اطلاع دی؟
سلمان تاثیر کے قتل کے بعد اس خاندان کے نوجوان کا اغوا یقینااس خاندان کے لئے مسلسل تکلیف دہ عمل رہا ہوگا۔ ایک خاندان اظہار آزادی کی قیمت قتل اور ایک اور رکن کے اغوا کی صورت میں بھگت رہا تھا۔ اس صورتحال میں اکثر لوگوں کی اس خاندان سے ہمدردیاں بڑھ رہی تھیں۔ لیکن ریکارڈ کی بات یہ ہے کہ سابق گورنر کی پارٹی یعنی پاکستان پیپلزپارٹی اس سے کنارہ کش ہو رہی تھی۔ پیپلزپارٹی جو اس وقت وفاق میں حکومت میں تھی، اس نے لطیف کھوسہ کو نیا گورنر مقرر کیا۔ لیکن نئے گورنر کی تقریب حلف برداری میں تاثیر خاندان کے کسی فرد کو مدعو ہی نہیں کیا گیا ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مقتول گورنر کے دکھ میں علامتی طور پر چند منٹ کی خاموشی اختیار کرکے علامتی افسوس کا اظہار کیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیاگیا۔ ایک خوف کا عالم تھا جس کا اظہار سرکاری طور پر بھی کیا جارہا تھا کہ جو بھی تاثیر خاندان کا ساتھ دے گا یا ان سے ہمدردی کرے گا وہ بھی اسی طرح کے نتائج بھگتے گا۔
جس علاقے سے شہباز تاثیر کی بازیابی یا رہائی سرکاری طور پر دکھائی گئی ہے، وہ ضلع کوئٹہ کی ایک تحصیل ہونے کے ساتھ ایک ٹاﺅن بھی ہے جو افغان پناہ زینوں کا گڑھ بھی ہے۔ کوئٹہ سے چمن جانے والی شاہراہ پر واقع ہے اس علاقے سے طالبان کی گرفتاریوں اور دیگر اس طرح کے اسباب کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔ بلوچستان پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ کچلاک افغانی اور پاکستانی طالبان کی حمیات اور پناہ کے لئے موزون جگہ ہر اہے۔ کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں جرم کرنے والے ملزمان اس علاقے سے گرفتار ہوتے رہے ہیں یا مارے جاتے رہے ہیں۔
شہباز تاثیر کی بازیابی کے بعد یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ا نکے اغوا میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کا بھی ہاتھ تھا۔ یہ وہ تنظیم ہے جو بولان میڈیکل کالج کوئٹہ پر حملے ، ومین یونیورسٹی میں بم دھماکوں، کوئٹہ کے سمگلی پر حملے میں بھی نام آتا رہا ہے۔
شہاز تاثیر کی رہائی یقیننا ایک خوشخبری ہے لیکن جن حالات میں وہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے قریب بازیاب ہوئے ہیں اس نے کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں ۔ شہباز کا یہاں سے بازیاب ہو نا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ صوبہ تاحال ایسی سخت گیر تنظیموں کی پناہ گاہ کے طور رپ موزو ن مقام بناہوا ہے۔ جو اغوا اور دیگر اس طرح کی کاررویاں کر کے اپنی بات منواتے رہتے ہیں۔
شہباز تاثیر کے اغوا سے متعلق کہانیاں یہ ہیں کہ انہیں لاہور کے ایک پڑھے لکھے نوجوانوں کے گروپ نے اغوا کیا تھا۔ جس کی رہنمائی کالعدم لشکر جھنگوی کے سابق سربراہ عثمان کر رہے تھے۔ انہیں کچھ عرصہ لاہور میں رکھنے کے بعد کچلاک منتقل کردیا گیا۔ جہاں پر وہ ایک انتہا پسند کروہ کی تحویل میں رہے جو کراچی اہئر پورٹ سمیت دیگر متعدد کارروایوں میں ملوث سمجھا جاتا رہا۔ اسلامک موومنٹ آف ازبکستان وہ گروہ ہے جس کے لئے کہا جاتا ہے کہ کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے بعد تفتیش کے دوران ٹیلیفون ریکارڈ سے پتہ چلا کہ اس موبائیل نمبر سے شہباز تاثیر کے گھر کی لینڈ لائین پر بھی اس موبائل نمبر سے فون کئے جاتے رہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اغواکار اور انتہا پسند گروپ اس کے اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں تھے۔ لیکن ان رابطوں کے باوجود یہ نوجوان رہا نہ ہو سکے۔ اس سوال کا جواب انتہا پسندوں سے مل سکتا ہے یا پھر تاثیر فمیلی سے۔
لشکر جھنگوی نے اغوا کرکے القاعدہ کے حوالے کردیا ہے اور القاعدہ نے انہیں طالبان کو دے دیا ہے۔ انہیں اگانستان کے بعض علاقوں میں بھی رکھا گیا۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ایک آپریشن کے ذریعے انہیں بازیاب کرای گیا۔ تاہم انوہں نے کہا کہ اس مرحلے پر وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اغواکار کون تھے۔
اب سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو بھی امید ہو چلی ہے کہ ان کے بیٹے حیدر علی بھی رہا ہو جائیں گے۔ حیدر گیلانی کو 2 مئی 2013 کو ایک انتخابی ریلی کے دوران ان کے آبائی شہر ملتان سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ملان میں جاری پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم ٹھنڈی پڑ گئی۔یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی رہائی کے لئے بھی بھاری تاوان کی رقم کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ اور فون کال بھی آتی رہی۔ لیکن تاحال یہ پتہ نہیں لگیا جاسکا کہ یہ فون کال کہاں سے آتی رہی۔یوسف رضا گیلانی اس واقع کے بعد سیاسی طور پر سرگرم نہیں رہے۔
اس ضمن میں مزید تفصیلات اور تحقیقات کے ناتئج سامنے آنا باقی ہیں ۔ جو کہ بہت سی حقائق سے پردہ اٹھائیں گے۔ یہ بھی قیاس آرائیاں پھیلائی جارہی ہیں کہ اغوا کاروں نے شہباز تاثیر کو بغیر کسی نگرانی کے رکھا ہو۔ اس لئے ان کی اتنی آسانی سے بازیاب ہو جانا بہت سے شکوک پیدا کرتا ہے۔شہباز تاثیر کا پہلا بیان جو سامنے آیا ہے کہ ” وہ یہاں تک بڑی مشکلوں سے پہنچے ہیں“ ۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ وہ اغواکاروں کے چنگ سے بھاگ نلکے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ آپریشن ضرب عضب میں ہونے والی پیش رفت کے بعد اغواکاروں کے لئے شمای اور جنوبی وزیرستان میں ان کو رکھن امشکل ہو رہا تھا۔ اس لئے انہیں چھوڑ دیا گیا۔ شہباز تاثیر کی رہائی کے لئے اغواکار پچاس کروڑ سے دو ارب تک تاوان طلب کرتے رہے ہیں ۔ کیا ان سے کوئی بارگیننگ ہوئی ہے؟ اس سلسلے میں تفصیلات آنی ضروری ہیں ۔ پیسے خواہ سیاسی مقاصد کے لئے اغوا پاکستان کی تاریخ کا حصہ رہی ہے۔ جس میں اکثر اغواکار قبائلی یا افغان سردار رہے ہیں۔ ماضی میں ایک پاکستانی اور ایک افغانی سفارتکار کو تاوان ادا کیا جا چکا ہے۔ اس سے قبل نوے کے عشرے میں جب جام صادق علی وزیراعلیٰ تھے دادو کے علاقے میں چینی انجنیئروں کو اغوا کیا گیا تھا۔ ان کی رہائی کے عوض سرکاری طور پر تاوان کی رقم ادا کی گئی تھی۔ سندھ کی پرانی تاریخ میں یہ بھی شامل ہے کہ تالپور اور کلہوڑا حکمرانوں کے شہزادوں کو افغان قبائلی سردار سالانہ رقم بطور ہرجانہ ادا کرنے کے عوض اپنی تحویل میں رکھتے تھے۔ اور یہ سلسلہ سالہا سال تک چلتا تھا۔ یہ اس لئے بھی کیا جاتا تھا کہ رقم کی وصولی کو یقینی بنایا جاسکے۔
شہباز تاثیر کی رہائی اور آئی ایس پی آر کی جانب سے ا س کا اعلان سے ملک میں رونما ہونے والی تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔ جس کے تحت پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کی جانب سے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ماضی میں جن کو اسٹریٹیک اثاثہ کہا جاتا تھا ان سے قربت کم ہو رہی ہے۔ ممتاز قادری کی سزائے موت پر مزید عرصے تک عمل درآمد نہ کرنے سے سخت گیر حلقوں اور گروپوں کی اس سوچ کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ کیس بھی سویلین یا عسکری بڑے عہدیدار کو کو وکئی بھی سر پھرا بندہ کسی چھوٹی موٹی بات پر حملہ کر سکتا ہے یا جان لے سکتا ہے۔ اور بعد میں وہ مذہبی حوالے سے ہیرو بھی بن سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بازیابی عسکری اداروں کی نیک نامی میں بھی اضافہ کرے گی۔ ملک کے اداروں کی جانب سے اعلانیہ نہ سہی لیکن عملا ایسا راستہ اختیار کیا گیا ہے جو یقیننا ایک خوش و ¿ئنہد بات ہے۔
No comments:
Post a Comment