Tuesday, March 29, 2016

پنجاب میں آپریشن: کیا رخ اختیار کرے گا


پنجاب آپریشن کیا رخ اختیار کرے گا

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

 کچھ وقفے کے بعد ملک میں ایک بار پھر افسوسناک منظر سامنے آئے ہیں۔ ریاستی اداروں کی اس دعوا کے باوجود کہ دہشتگردوں کو کچل دیا گیا ہے۔ دہشتگردی کا بھوت ملک کے مختلف حصوں میں منڈلا رہا ہے اور” آدم بو آدم بو “ کر رہا ہے۔ اس مرتبہ اس کا شکار زندہ دلوں کا شہرلاہور ہوا۔ لاہور جس سے بعض قومی نغمے بھی منسوب ہیں۔ چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے لوگ جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ اچھا وقت گزارنے کے لئے باہر نکلے تھے اقبال پارک میں ان پر دہشتگردی کی صورت میں قیامت صغرا ڈھا ئی گئی ہر طرف افراتفری تھی۔ وہ جن کے خاندان کے افراد گلشن اقبال پارک گئے ہوئے تھے تلاش میں نکل پڑے۔ کہیں مائیں اپنے بچوں کو ڈھونڈ رہی تھیں ۔ 

گزشتہ چند ہفتوں سے ایک بار پھرپورا ملک دہشتگردی اور غیر یقینی صورتحال کی دھند میں لپیٹا ہوا ہے۔ لوگ اس خوف کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن رہے ہیں۔ لیکن حکمرانوں کے پاس خالی وعدے ہیں اور دلاسوں کی تھراپی ہے۔ ریاستی ادارے، میڈیا اور حکومت سب اس پر متفق ہیں کہ دہشتگردی کی کہاں کہاں اور کون کون سی نرسریاں ہیں۔دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لئے جتنے گہرائی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے وہ نہیں کئے جا رہے ہیں۔ 

ضرورت اس بات کی ہے دہشتگردوں کی نرسریوں اور سہولت کاروں میں بھی ہاتھ ڈالا جائے۔ 

 پہلے دہشتگرد عبادت گاہوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ تو عبادت گاہوں کی سیہکیورٹی بڑھا دی گئی۔ لوگوں کو مجبورا عبادت بھی بندوق کے سائے میں کرنی پڑی۔ پھر تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اب تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے بلکہ بعض اداروں میں اساتذہ کو ہتھیار چلانے کی تربیت بھی دی گئی ہے۔ عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کے بعد اب تفریحی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اب تفریح بھی خوف اور سیکیورٹی کے سائے میں ہوگی۔ یعنی ایسی بھی کیا تفریح جس میں ہر وقت موت کا خطرہ ہو۔ 

 چھٹی کے روز بچے اور اہل خانہ تفریح کے لے گھروں سے نکلتے ہیں کیونکہ پورا ہفتہ اسکول میں گزارتے ہیں۔ جس شہر میں جو بھی تفریحی مقام ہے وہاں پہنچ جاتے ہیں ۔

بے گناہ بچوں اور خواتین کو کس جرم میں بارود اور آگ کا نشانہ بنایا گیا۔ اب ریاستی ادارے اس دہشتگردی میں غیر ملکی ہاتھ بھی تلاش کریں گے۔ ان کے پاﺅں کے نشانات ڈھونڈیں گے۔ حکمرانوں کی جانب سے انہیں منطقی انجام تک پہنچانے کے اعلانات ہونگے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی کل قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ دہشتگرد ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ 

ہم اپنے ہی شہروں میں بھی ہم اپنے بچوں کی کن حالات میں تربیت کر رہے ہیں۔ وہ کن مشکل حالات میں رہ رہے ہیں۔ وہ بلاخوف اسکول جا کر تعلیم نہیں حاصؒ کر سکتے۔ اول تو کھیل کود کے میدان مطلوبہ تعداد میں موجود نہیں تھوڑے بہت ہیں تو وہاں سہولیات کا فقدان ہے۔ اور ان میڈانوں تک رسائی بچوں کے بس کی بات نہیں۔ سماج میں مجموعی طور پر اتنی غیر یقینی اور خوف کی صورتحال ہے کہ اگر کوئی پندرہ اٹھارہ سال تک کی عمر کا بچہ تھوڑی دیرکے لئے گھر سے باہر رہتا ہے تو اسے فورا واپس گھر بلایا جاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے گلی کوچے بھی بچوں کے لئے محفوظ نہیں سمجھے جاتے۔ ایک ہی آپشن ہوتا ہے کہ چھٹی کے روز والدین کے ساتھ کسی تفرییحی مقام پر انہیں لے جائیں۔ والدین یہ قدم اس لئے اٹھاتے ہیں کہ بچے ان کے سامنے ہوں۔ 

 پشاور آرمی پبلک اسکول کے بعد باچا خان یونیورسٹی چار سدہ پر حملہ کیا گیا۔ اور اتوار کے روز گلشن اقبال لاہور میں اسی طرح کا مظاہرہ کیا گیا۔ آپریشن ضرب عضب جاری ہے۔ بلاشبہ اس آپریشن میں بعض کامیابیاں بھی ملی ہیں ۔ لیکن لگتا ہے کہ ابھی وہ وت نہیں آیا کہ ان کامیابیوں پر ہم جشن منائیں۔ دہشتگرد کمزور ضرور ہوئے ہیں لیکن ختم نہیںہوئے۔ ہمارے پاس دہشتگردی کی وبا نہ ایک روز میں پیدا ہوئی ہے اور نہ ایک روز میں ختم ہو سکتی ہے۔ وہ بھی اس صورتحال میں جب برسہا برسوں تک دہشتگردی کو باقاعدہ پروان چڑھایا گیا ہو۔ ہمارے سیکیورٹی کے ادارے جسے ہم اپنی آنکھیں اور کان سمجھتے ہیں انہیں اپنے کان اور آنکھیں کھول کے رکھنی پڑیں گی۔ 

 یہ بھی تعجب کی بات نہیں کہ کراچی پریس کلب پر حملہ اور اسلام آباد میں ڈی چوک پر دھرنا اور پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش بھی اسی روز ہوتی ہے۔ شاید ریہرسل کے طور پر چند ہفتے قبل حیدرآباد پریس کلب پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ 

ہر شہر کا ایک دل ہوتا ہے۔ اور اسکی اپنی تاریخ اور یادیں ہوتی ہیں۔ یہی دل دھڑکتا ہے اور یادیں شہر کو بیان کرتی ہیں۔ 
لاہور کی یادوں میں تلخی گھول دی گئی ہے۔ ورنہ لاہور کی تلخ یادوں میں شاید تقسیم کے وقت کے واقعات ہی تھے۔ دیگر شہر اس طرح کی تلخی کا ذائقہ کچھ پہلے چکھ چکے ہیں ۔

آٹھ سال پہلے میں اسی طرح کے دھماکے خود کش ہوئے تھے۔ لاہور جو اپنی گہماگہمی کی وجہ سے مشہور ہے وہ اب یہ رونق کھو بیٹھے گا۔ کیا بندہ روئے؟ کیا ردعمل ہو سکتا ہے؟ گیارہ مارچ 2008 کی صبح کو خود کش بمبار وں نے ایف آئی اے کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کردیا تھا جس میں پانچ بچوں سمیت چھبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور پونے دو سو زخمی ہو گئے تھے۔ 

 اس صورتحال میں ملک کی بعض مذہبی جماعتوں کا رویہ اور موقف اگر مگر والا ہے۔ جب بیانیہ اور طریقہ کار گڈمڈ ہو جائیں تو ایسی صورتحال سے نممٹنے میں دقت پیش آتی ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی، سیاسی اور سول سوسائٹی کی قیادت میں یکسانیت نہیں۔ سیاسی اور مذہبی سطح پرمذہبی انتہا پسندی اورشدت پسندی کو سمجھنے کے حوالے سے نظریاتی اور سیای طور پرالجھاوے موجود ہیں۔ حکومت، ریاستی اداروں کو سمجھنا چاہئے کہ اس بات یہ ہے کہ شدت پسند وں کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ اپنے کاز کو عوام میں بیچ پا رہے ہیں۔ 

ملک میں مختلف اقسام کے شدت پسند گروپوں اور ان کے آپس میں نیٹ ورکنگ کے پیش نظر ایک وسیع، اور حکمت عملی درکار جو اس خطرہ کا مقابلہ کر سکے۔ 

سانحہ لاہورکے بعد عسکری قوتیں پنجاب میں سرگرم ہو گئی ہیں۔ حکومت پنجاب دہشتگردوں کے خلاف تفتیش و تحقیقات اپنے محکمے سے کرانا چاہتی ہے یعنی وہ آرمی اور رینجرز کی مداخلت نہیں چاہتی ۔ فی الحال عسکری اداروں نے اس فرمائش کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔ اور آرمی چیف کی ہدایت پر پنجاب میں دہشتگردوں کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کردیا ہے۔

 دیکھنا یہ ہے یہ عارضی عمل ہے یا مستقل تبدیلی۔ اگر پالیسی میں تبدیلی ہے تو اس سے بہت فرق پڑے گا۔ اگر عارضی ہے اور پنجاب حکومت آپریشن کے حق میں نہیں ہے پھر چیزیں الجھنے لگیں گی۔ سویلین حکومتیں اس طرح کے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں رہتی ہیں۔ یہ گروپ پنجاب خواہ دیگر صوبوں میں موجود ہیں۔ 

غیر معمولی صورتحال میں آرمی یا رینجرز کو طلب کرنا بھی غیر معمولی بات نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ببھی نہیں کہ سویلین حکومت کی ذمہ داری ختم ہو گئی۔ آرمی کو طلب کیا جاسکتا ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ تفتیش کس طرح کی ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ردعمل عارضی ہو اور اس کے بعد آرمی تمام معاملات پنجاب حکومت کے حوالے کردے۔ یا معاملہ اس طرز پر جا سکتا ہے جس پر سندھ میں چل رہا ہے۔ جہاں آرمی اور رینجرز دہشتگردوں کی تفتیش میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔

March 29, 2016
For Nai Baat
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/30-03-2016/details.aspx?id=p12_06.jpg

No comments:

Post a Comment