میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
وفاقی حکومت اور دھرنے دینے والوں کے درمیان معاہدے کے بعد اسلام آباد میں بالآخرڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا۔ ڈی چوک دھرنا برگیڈ سے خالی ہوا۔ تین روز تک یرغمال بنے ہوئے اس شہر کی سڑکوں پر لاقانونیت راج کر رہی تھی۔ وفاقی دارالحکومت میں آئین اورقانون کی جس طرح تضحیک ہو رہی تھی۔ وہ نہایت ہی منفی پیغام دے رہا تھا۔ پارلیمنٹ ہاﺅس کا تقدس اور انتظامیہ خواہ ریاست کے اداروں کی رٹ ریت کے محل کی طرح ڈھیر ہوتی رہی۔ کہیں بھی ریاست کے وہ آہنی ہاتھ حرکت میں نہیں آئے جو ملکی مفاد اور سلامتی کے نام پر مختلف مقامات پر فوری طور پر نظر آجاتے ہیں۔
پارلیمنٹ، پاکستان سیکریٹریٹ، ایوان صدر یا وزیر اعظم ہاﺅس یہ سب جمہوریت کی نشانی اور وفاق کی علامت ہوتے ہیں۔ ان کے تقدس کو برقرار رکھنا اور تحفظ کرنا تمام ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ ان پر حملہ دراصل قانون اور ریاست رٹ پر ہی حملہ ہوتا ہے۔
ہوتے ہیں ۔اسلام آباد ڈندا برداروں کے قبضے میں تھا۔ پولیس فرنٹئر کنسٹبرلی اور ررینجرز کے اہلکار اس ٹولے کے سامنے کھڑے نہیں ہو رہے تھے۔ فوج اس وقت بیچ میں جب کچھ مشتعل لوگوں نے پارلیمنٹ ہاﺅس کا جنگلا عبور کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ تین روز تک خاموش رہے حالانکہ اندرون ملک اور خاص طور پر وہ علاقے جو براہ راست وفاق کے زیر انتظام آتے ہیں وہاں کی سیکیورٹی کے لئے ہو ذمہ دار ہیں۔
وفاقی دارلحکومت کے شہر پر یہ پہلی یلغار نہیں۔ بینظیر بھٹو کے دور حکومت نے جماعت اسلامی نے بھی ملین مارچ کے نام سے ایسی طبع آزمائی کی تھی۔ ماضی قریب میںعلامہ طاہر القادری، اور عمران خان دو لمبے دھرنے مار کر حکومت کی رٹ کا تماشہ پوری دنیا کے سامنے کر چکے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ جب بھی کوئی دھرنا برگیڈ چاہتی ہے، وفاقی دارلحکومت پر ”حملہ“ کر کے شہر کو یرغمال بنا دیتی ہے، حکومت کا تمام کاروبار اور انتظام بند کر دیتی ہے۔ اس موقعہ پر حکومتی کی بے بسی قابل دید ہوتی ہے۔ ثالثی وعدے، معاہدے سب سامنے آنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں کس طرح کی حکمرانی ہے؟ جہاں دباﺅ اور دھونس کے ذریعے حکومت کو جھکایا جارہا ہے۔ عوام نے جن کو مینڈیٹ دیا ہے وہ حکمرانی نہیں کر پارہے۔ یہ مینڈیٹ کی توہین کے زمرے میں آئے گا کہ چند ٹولوں کے ہاتھوں حکومت اور ریاست یرغمال بن جائے۔ میڈیا کی آنکھ سے پورا ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا یہ تماشہ دیکھتی رہے۔
پندرہ میل دور پنڈی کے لیاقت باغ سے چلنے والے قدم محفوظ شہر اسلام آباد کی طرف بڑھنا شروع ہوئے۔ پورے راستے میں انہیں کہیں بھی مزاحمت کا سمانا نہیں کرنا پڑا۔ یہ پنجاب اور وفاقی حکومت کی مصلحت تھی یا کمزوری؟ کہیں بھی اس ہجوم کو اسپیڈ بریکر نہیں لگا۔
انٹیلیجنس ارادروں نے یقیننا رپورٹس دی ہونگی کہ قادری کے چہلم کے موقعہ گڑبڑ ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود پنڈی کے لیاقت باغ میں انہیں جمع ہونے اور جلسہ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ تقریبا ایک سال قبل یعنی عمران خان کے دھرنے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ وفاقی دارلحکومت کو محفوظ بنانے کا ایک منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جس پر سولہ ارب روپے خرچ ہونگے۔ لیکن ایک سال گزرنے کے بعد جب حالیہ واقعہ ہوا تو پتہ چلا کہ اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ یہ منصوبہ بنا رہے ہیں اور جلد ہی وزیر اعظم کو پیش کرنے والے ہیں۔ حالیہ واقعہ سے لگ رہا تھا کہ پنجاب اور اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ نے اس ہجوم کو اس محفوظ شہر میں داخل ہونے کی اجازت دے رکھی ہو۔
یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس طرح کے گروہوں کو کس حد تک چھوٹ ملی ہوئی ہے ایک طرف ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہو رہا ہے اور ان دونوں کی بڑی تشہیر بھی ہو رہی ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ پنجاب میں آج بھی مذہبی حلقے جب چاہیں جہاں چاہیں اس طرح کے اجتماعات اور احتجاج کر سکتے ہیں۔
نواز شریف نے لبرل پاکستان بنانے کا موقف بیان کیا۔ اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے قانون کی وجہ سے مذہبی لابی ان پر ناراض بھی تھی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بعض مذہبی گوروہوں نے ایک مشترکہ اجلاس میں 1977 جیسی تحریک چلانے کی بھی دھمکی دی تھی جس کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔
ان واقعات سے لگتا ہے کہ نواز حکومت بھلے لبرل پاکستان بنانے کا دعوا کر رہی تھی لیکن مذہبی لابی سے ڈری ہوئی تھی۔یہ وہ ڈر تھا جس کی وجہ سے انہیں قادری کے چہلم پر اجتماع کرنے کی بھی اجازت دی گئی۔ یہ بھی ایک نقطہ اٹھایاجاتا ہے کہ خود ان کی پارٹی میں ایسے رہنما موجود ہیں جن کا جھکاﺅ اور روابط اس قسم کے گروہوں کی طرف ہیں۔ اس قسم کے اور اشارے بھی ملتے ہیں کہ قادری کو عدالت کی جانب سے پھانسی کے بعد چوبیس گھنٹے تک ان کی میت رکھنے کی اجازت دی گئی بتایا جاتا ہے کہ ان کے نماز جنازہ میں دو لاکھ افراد نے شرکت کی۔ جبکہ بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد چند گھنٹوں میں سخت حفاظتی اقدامات میں ان کی تدفین کی گئی اور نماز جنازہ میں بمشکل دو درجن افراد شریک ہوپائے تھے۔ اس قادری کے معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔
اگرچہ اس مرتبہ حکومت نے مذاکرات کر کے مطالبات مان لئے اس لئے دھرنے کی عمر ذرا کم ہوگئی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے۔ کوئی تحریری معاہدہ بھی ہوا ہے۔ جس کی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان ترید کر رہے ہیں جبکہ اسحاق ڈار جنہوں نے اس معاملے کو نمٹانے میں اہم کردار ادا کیا ہے وہ معاہدہ ہونے کا اقرار کر رہے ہیں۔ معاہدہ خواہ تحریری نہ بھی ہوا ہو، وعدہ ہی ہوا ہو، حکومت کے اس رویہ کی وجہ سے ان ٹولوں کو ترغیب اور شہہ ملے گی۔ جو دباﺅ کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں۔ چھ آٹھ ہزار کا مجمع کسی بھی وقت وفاقی حکومت کو بحران میں ڈال سکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ان کا تعلق سندھ یا بلوچستان سے نہ ہو۔ اس لئے باقی دو صوبے اپنی یہ قوت اور حیثیت منوا چکے ہیں۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیںکہ اس طرح کے واقعات مذہبی جماعتیں یاگروہوں یا دائیں بازو کی سوچ والوں کی جانب سے ہی ہوئے ہیں۔
اس واقعہ اس کے پس منظر ، جس طرح سے اسکو حل کیا گیا اور اس کے اثرات کے حوالےس بہت سارے سوالات ہیں۔ اگر یہ بحران اسی طرح سے حل کرنا تھا تو دارلحکومت اور پالیمنٹ کی توہین کرنے، لاکھوں شہریوں کو چار روز تک خوف میں رکھنے اور ملک کا کام کاج معطل رکھنے کی کیا منطق تھی؟
سوال یہ بھی ہے کہ نواز لیگ حکومت کو اتنے بڑے مسئلہ میں ڈالنے والے کون تھے؟ وہ کیا چاہتے تھے؟ عمران خان کے دھرنے کو توڑنے کے لئے پیپلزپارٹی نے پہلکاری کی اور ملک کی سیاسی جماعتیں جمہوری حکومت کو بچانے کے لئے کٹھی ہوگئیں۔ اور وہ اس مقصد میں کامیاب بھی ہو گئیں۔
اس مرتبہ کس نے نواز لیگ کی ضمانت کرائی ہے؟ ممکن ہے کہ پس پردہ چکھ اور فریقین بھی ہوں۔ تفصیلات جو سرعام پر آئی ہیں اس کے مطابق سنی تحریک نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اور کراچی سے ان کے لیڈر کی اسلام آباد آمد اور مذاکرات کو کامیاب کرانا اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام آباد کا واقعہ سے حکومت خواہ عوام کو یہ پیغام ملتا ہے کہ آپریشن اور دیگر کارروایوں کے باوجود انتہا پسند اگر اپنی کمر سیدھی کرنا چاہیں تو ریاست و قانون اور آئین کی رٹ کو مروڑ سکتے ہیں حکومتی ادارے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
مار چ ۳۱
۱۳ نئی بات کے لئے
No comments:
Post a Comment