April 15, 2016
سندھ نامہ: مرکز صوبوں کی آواز کیوں نہیں سنتا؟
سندھ نامہ سہیل سانگی
پورے ملک کی طرح سندھ کے میڈیا پر بھی پاناما لیکس چھایا رہا۔ تاہم اخارات نے صوبے کے اہ مسائل کو اٹھانے میں اپنی زمہ داری پوری کی۔ مرکز صوبوں کی آواز کیوں نہیں سنتا کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت منعقدہ چاروں صوبوں کے اجلاس میں صوبوں کی جانب سے ترقیاتی منصبوں سے متعلق معلومات شیئر کرنے ، ترقیاتی بجٹ میں صوبوں کی تجاویز شامل کرنے، ملک کے ترقیاتی گول اور ویزن 2015 کے اہداف حاصل کرنے کے لئے تعاون کا نظام تشکیل دینے سے متعلق فیصلے کئے گئے۔
اجلاس میں سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کی جانب سے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ان دو صوبوں کے کم منصوبے رکھنے، میگا پروجیکٹس التوا میں ڈالنے، سندھ میں بجلی کے منصبوں میں وفاق کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے ،اور وقت پر فنڈ جاری نہ کرنے کی شکایات بھی پیش کی گئیں۔ سندھ کے وزیر خزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے میں متبادل توانائی کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ لیکن مرکز کی جانب سے رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ مرکز نوری آباد منصوبے سے بجلی خرید کرنے کے لئے تیار نہیں۔
سندھ دیگر صوبوں کے مقابلے میں وسائل سے مالا مال ہے۔ لیکن یہ وسائل صوبے کے لوگوں کے لئے لاحاصل رہے ہیں۔ جتنی آمدن سندھ وفاق کو دیتا ہے اس کے عوض اس صوبے کو جائز حصہ نہیں ملتا۔ جس کی وجہ سے صوبے کی حالت بہتر نہیں۔ اٹھارویں تریم کے صوبوں کو بظاہر خود مختاری ملی ہے۔ لیکن عملی طور پر صوبے ابھی بااختیار نہیں ہو سکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے مختلف وقت میں مرکز کے سامنے احتجاج بھی کرت رھتے ہیں۔ لیکن وفاقی حکومت اس شکایت کو سنی ان سنی کرتی رہی ہے۔
بلاشبہ ملک پر ایک عرصے تک آمریت کی سیاہ چادر رہی ہے۔ لیکن جو عرصہ جمہوریت رہی ہے اس میں بھی جمہور خوشحال اور خوش نہیں رہا۔ جمہور اس وقت خوشحال ہو سکتا ہے جب صوبے خوشحال ہونگے۔ اور یہ تب ممکن ہے جب مرکز کا صوبوں کی طرف مساویانہ رویہ ہوگا۔
سندھ میں تھر کول کا منصوبہ ہو یا ونڈ اور سولر کے منصوبے، ان منصوبوں سے پوراے ملک کا فائدہ ہونا ہے۔ ملک پہلے ہی توانائی کے بحران سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی صوبہ بجلی پیدا کرتا ہے اس پر مرکز کو ناخوش نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کام مرکزی حکومت کا ہی ہے کہ وہ تمام صوبوں کو ساتھ لیکر چلے۔ کسی ایک صوبے پر نظر کرم زیادہ ہو اور باقی صوبے نظرانداز کئے جائیں اس سے شکایات بڑھیں گی۔ لہٰذا صوبوں کو مزید خود مختاری دینی پڑے گی۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ سندھ کو جو بجٹ ملتا ہے اس کو صوبے کے حالات سے موازنہ کیا جائے تو مایوسی ہوتی ہے۔ صوبے کو بجٹ اور رائلٹی مل رہی ہے وہ منصفانہ طور پر خرچ نہیں ہو رہی۔ اس کی وجہ بدتر حکمرانی ہے۔ سندھ حکومت کو مرکز کے سامنے آواز اٹھانے کے ساتھ صوبے میں بھی اچھی حکمرانی اور شفافیت کو عمل میں لانا ہوگا۔ کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے سخت اور موثر اقدامات کرنے ہونگے۔
روزنامہ عوامی آواز اداریے میں لکھتا ہے کہ سال 2010 میں صوبے میں جو سیلاب آیا تھا اس کے زخم ابھی تک ہرے ہیں۔ اس سیلاب کے متاثرین آج بھی روٹی، روزگار اور مکان کے لئے اتنے ہی پریشان ہیں جتنے کل تک تھے۔ اس سیلاب کے دوران ٹورھی بند ٹوٹنے سے دریائے سندھ کے دائیں کنارے کا علاقہ متاثر ہوا تھا جہاں ساریال کی فصل ہوتی ہے۔ اس علاقے کا پورا انفرا سٹرکچر اور معاشی نظام تہس نہس ہو گیا تھا۔ کشمور سے لیکر دادو جامشورو تک پکے کے علاقے میں پانی ایسے کھڑا تھا جیسے کچے کا علاقہ ہو۔
اس سیلاب میں کئی شہر بھی ڈوبے۔ بلکہ بعض شہروں کو بچانے کے لئے دوسرے شہروں کو ڈبویا گیا۔ یہ صورتحال دیکھ کے متاثرین نے صوبے کے دارلحکموت اور صنعتی حب کراچی کا رخ کیا۔ جہاں پر ان کا استقبال ذلت کے ساتھ کیا گیا۔ انہیں نہ امدادی سامان دیا گیا اور نہ ہی رہائش کی سہولت۔ بلکہ ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔ اور کئی مسائل کھڑے کر دیئے گئے۔ سب ذلتیں برداشت کر کے، کھلے آسمان کے نیچے یہ لوگ ٹہر گئے۔ کراچی بڑا شہر ہے، نہیں معلوم کہاں کہاں سے آنے والے بھانت بھانت کے لوگوں کو پالتا ہے۔ لیکن کراچی کے دعویداروں نے ان سیلاب متاثرین کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا اور حکومت ان کی مدد نہ کر سکی۔
یہ متاثرین آج بھی کہیں آباد نہیں ہو سکے ہیں اور عارضی جھگیوں میں بغیر کسی سہولت اور حکومت مدد اور سہارے کے رہ رہے ہیں۔ لیکن اب انہیں کراچی کے گلشن معمار اور دیگر علاقوں سے انہیں نکالنے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ اس وجہ سے وہ دربدر ہیں۔ حکومت سندھ اگر سمجھتی ہے کہ یہ سندھ کے باشندے ہیں اور ان کے بھی کچھ حقوق ہیں، انہیں رہائش، روزگار وغیرہ فراہم کرے اور ان متاثرین کی بحالی کے لئے باضابطہ کوئی پروگرام ترتیب دے۔
انسانی حقوق قومی کمیشن کی تھر کی صورتحال پر رپورٹ
روزنامہ سندھ ایکسپریس نے ریٹائرڈ جسٹس علی نواز چوہان کی سربراہی میں انسانی حقوق سے متعلق قائم کی گئی قومی کمیشن کی تھر کی صورتحال پر رپورٹ کو انسانی المیہ قرار دیا ہے۔ کمیشن نے خوراک تک رسائی نہ ہونے، پینے کا پانی نہ ملنے، اور طبی سہولیات کی قلت اور انتظامی خرابی کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ کمیشن کے مطابق تھر میں انسانی ترقی کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ لوگوں کو مطلوبہ غذا حاصل نہیں ۔ 76 فیصد آبادی کے پاس ایک یا دو روز کی خوراک کا ذخیرہ نہیں۔
کمیشن کے مطابق 13 لاکھ کی آبادی کے لئے 141 ڈاکٹرز ہیں۔ بطور امدا تقسیم ہونے والی گندم سیاسی بنایدوں پر تقسیم ہو تی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ تھر میں قحط اور انسانی المیے کی مستقل روک تھام کے لئے طویل المیعاد منصوبوں کی ضرورت ہے۔ سندھ کے حکمرانوں کے پاس اس کا حل صرف گندم کی تقسیم ہے۔ یہ رپورٹ تھر میں حکومتی کارکردگی پر ایک چارج شیٹ ہے۔
روزنامہ نئی بات
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/16-04-2016/details.aspx?id=p13_02.jpg
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/16-04-2016/details.aspx?id=p13_02.jpg

No comments:
Post a Comment