Sunday, April 17, 2016

وزیراعظم ہاﺅس اور ان ہاﺅس تبدیلی کے اشارے


 وزیراعظم ہاﺅس اور ان ہاﺅس تبدیلی کے اشارے

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

 وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک پہنچنے کے بعدنے مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطحی اجلاس نے وزیراعظم نواز شریف کا ہی موقف دہریا ہے کہ نے پانامہ لیکس کی انکوائری کمیشن ریٹائرڈ جج کی سربراہی میںہو ۔یوں حکمران جماعت نے عمران خان یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے کہ کمیشن کی سربراہی حاضر سروس جج کریں۔ تاحال کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا ہے۔ 

کمیشن کے بارے میں وزیراعظم اور پارٹی کا موقف ایک ہے تو وزیر داخلا چوہدری نثار علی خان کا دوسرا۔ چوہدری صاحب نے بیچ بازار بھانڈا پھوڑ دیا کہ پانچ سابق جج صاحبان اس کمیشن میں آنے سے معذرت کر چکے ہیں۔ عمران خان نے 24 اپریل کی ڈیڈلائن دی ہے جس سے بہت بڑا تحرک پیدا ہو گیا ہے۔ 

ملک شدید بحران کا شکار ہے۔ لیکن بڑے سیاستدان بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ اور لندن سرگرمیوں اور توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ آصف زرادری اور رٹیائرڈ جنرل مشرف پہلے ہی علاج کی غرض سے بیرون ملک مقیم ہیں اور وہ تب تک وطن واپس نہیں آئیں گے جب تک ڈاکٹر انہیں جانے کا مشورہ نہیں دیتے۔ اب وزیراعظم نواز شریف بھی بغرض علاج بیرون ملک رونہ ہوئے ہیں۔ 

وزیراعظم ہاﺅس کا کہنا تھا کہ وہ طبی معائنے کے لئے لندن گئے ہیں، چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں کہ وہ علاج کے لئے گئے ہیں اور مکمل علاج سے پہلے واپس وطن نہیں آئیں گے۔ 

اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ میاں صاحب آصف علی زرادری سے ملاقات کرنے گئے ہیں۔ جن کو موجودہ منظر نامے کا ایک اہم کھلاڑی قرار دیا جارہا ہے وہ بھی لندن چلے گئے ہیں۔ وہ گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں آصف علی زرداری سے قربت کا اشارہ دے چکے ہیں۔

 حکمران جماعت پاناما لیکس کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی۔ وہ رسمی طور پر ہی سہی، آل پارٹیز کانفرنس بھی نہیں بلا سکی ہے۔ حالانکہ دیگر سیاسی جماعتیں بمع پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات تو چاہ رہی تھیں لیکن وہ عمران خان کے ساتھ جانے کو تیار نہیں تھیں۔ حکومت نے اپنے حق میں منظر نامہ ہونے کے باوجود اس کو استعمال نہیں کیا۔ 

 پی ٹی آئی اور نواز لیگ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں جماعتیں اندرونی بحران کا بھی شکار ہیں۔ نواز لیگ کے لئے کہا جارہا ہے کہ خود شریف فمیلی میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ 

 تحریک انصاف کے انتخابات ہونے والے تھے۔ اس جماعت میں پہلے ایک نظریاتی گروپ سامنے آیا۔ پھر پارٹی کے اہم رہنما شاہ محمود قریشی کا دو رہنماﺅں چوہدری سرور اور جہانگیر ترین کے خلاف آیا۔ اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے عمران خان نے یہ کہہ کر ملتوی کر دیئے ہیں کہ وہ اس وقت حکومت کے خلاف تحریک چلانا جارہے ہیں۔ اگر پارٹی کے انتخابات ملتوی نہ کئے جاتے تو شاید پارٹی دو حصوں میں بٹ جاتی۔ 

بہرحال پی ٹی آئی کے اندر بحران موجود ہے۔ جس پر پاناما لیکس اور عمران خان کے حکومت کے خلاف تحریک کے اعلان نے عارضی طور پردہ ڈال دیا ہے۔ ماضی میں عمران خان دوسروں کی وکٹیں گراتے رہے ہیں اس بار خود ان کی پارٹی کی وکٹیں ہلنے لگی ہیں۔ 

 تحریک انصاف اسلام آباد کے ایف نائین پارک میں بہت بڑا جلسہ کرنا چاہتی ہے لیکن حکومت نے وفاقی دارلحکومت میں اس طرح کے کسی جلسے پر پابندی عائد کردی ہے۔ جس کا اعلان چوہدری نثار علی خان کر چکے ہیں۔ 

اسلام آباد کی فضاﺅں میں یہ بات گونج رہی ہے کہ وزیراعظم کے لئے استعیفا ناگزیر ہے۔ اب وزیر اعظم کے پاس کیا آپشن ہیں۔ عہدے پر رہنے کی کیا قانونی و آئینی پوزیشن ہے؟ انکوائری کمیشن کی حکومتی تجویز اور عمران خان کا چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کا مطالبہ ایکدوسرے سے ٹکراﺅ میں ہیں۔ دوسری جماعتیں بھی اس پر مطمئن نہ ہوں۔ ایسے میں عمران خان کے لئے رائیونڈ کے مارچ کا ہی راستہ بچتا ہے۔ 

 وزیراعظم کے نام پر دو آف شور کمپنیوں کا عمران خان کی جانب سے انکشاف کے بعد وزیراعظم کی آئنی پوزیشن بہت کمزور ہو گئی ہے۔ اس بنیاد پر بعض وزراءاور اسمبلی ممبران نااہل قرار دیئے جا چکے ہیں۔ کیونکہ انتخابات لڑنے کے لئے جو ملکیت کے گوشوارے داخل کئے گئے ان میں ان کمپنیوں کا ذکر نہیں۔

 وزیراعظم کے لندن ورانگی سے قبل ہی مختلف افواہیں چل رہی تھیں کہ انہیں گھر بھیجنے کے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ مختلف ایکٹرز نے اب اسٹیج پر چڑھنا شروع کردیا ہے۔ ان کی بیماری اور علاج کے لئے لندن روانگی سے یہ دلیل مضبوط ہو گیا ہے۔ نواز لیگ اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نیا وزیراعظم منتخب کر سکتی ہے۔ جو کہ آئینی اور جائز طریقہ ہے۔ 

 اگر وزیراعظم کو اپنی ذات اور خاندان کو بچانے کی فکر نہ ہو تو جمہوریت، پارلیمنٹ، اور صوبائی خواہ وفاقی حکومتوں کو بچانے کا یہ واحد راستہ ہے۔ وزیر اعظم کے جانے سے سیاسی نظام بچ سکتا ہے۔ اگر وزیراعظم خود کو اور اپنے خاندان کو بچانے کی کوشش کریں گے تو اس رسہ کشی میں پورا نظام بیٹھ جائے گا۔ ظاہر ہے مقتدرہ حلقے اور سپریم کورٹ ایسے ملکی حالات پر چپ نہیں بیٹھیں گی۔ ایک آپشن یہ بھی ہے تمام معاملے کو طول دیا جائے۔ 

لیکن جتن اب دیر ہوچکی ہے۔ معاملات الجھ گئے ہیں۔ اگر ڈیڈ لاک لمبا ہوا تو ملک میں معاشی صورتحال بھی ابتر ہوگی۔ مقتدرہ اداروے اس صورتحال کو زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کریں گے۔ 

اگر اعتزاز احسن کی بات درست ہے کہ وزیراعظم آصف زرداری سے ملنے گئے ہیں۔ کیا آصف زرادری ان سے ملاقات کریں گے؟اسلام آباد سے پارٹی کے رہنما یہی تاثر دے رہے ہیں کہ چند ماہ قبل جب زرداری کی جانب سے عسکری حلقوں کے خلاف بیان کے بعد وہ دباﺅ میں آگئے تھے۔ لیکن اپروچ کرنے کے باوجود نواز شریف ان کی مدد کو نہیں آئے تھے۔ 

پاناما لیکس کا قصہ اپنی جگہ پر ، یہ سوال فوری حل طلب ہے کہ غیر معینہ مدت تک وزیراعظم ملک سے باہر ہونگے تو وزیراعظم کے اختیارات کس کے پاس ہونگے؟ وزیراعظم کی جسمانی یا سیاسی بیماری کو وزیراعظم ہاﺅس نے ہلکا کر 
کے بیان کیا ہے جبکہ چوہدری نثار علی خان نے اس کو سنجیدہ بنا کر پیش کیا ہے۔ پارٹی کی جمعرات کی میٹنگ سے پپتہ چلتا ہے کہ چوہدری صاحب نے یہ بیان پارٹی یا وزیراعظم سے مشورے سے نہیں دیا ۔ ایک چھوٹے سے ادارے میں بھی جب اس کا سربراہ چھٹی پر ہوتا ہے تو کسی کو قائم مقام بنا کر اپنے اختیارات سونپ کر جاتا ہے۔ لیکن حکمران جماعت نے تاحال ایسا نہیں کیا ۔ 

 یہ بحث خود نواز لیگ کے حلقوں میں بھی چل رہی ہے کہ نواز شریف کی عدم موجودگی میں عبوری وزیراعظم کون ہوگا؟ وہ شریف خاندان میں سے ہوگا یا پارٹی میں سے؟ خود شریف خاندان میں بھی ایک سے زائد امیدوار ہیں۔ مریم نواز شریف ہو سکتی تھیں لیکن پاناما پیپرز میں ان کا نام بھی شامل ہے ۔ بہرحال یہ طے ہے کہ مریم نواز نے جس طرح گزشتہ روز پارٹی کے اجلاس میں سرگرم کردار ادا کیا ۔ پاناما لیکس کے بعد شریف خاندان کے اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔ شہباز شریف نے اس پر کچھ ٹھوس موقف نہیں رکھا۔

 وزیراعظم اپنے بیٹوں کا دفاع کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مریم کو پارٹی اجلاس میں شکایت کرنی پڑی کہ پارٹی نے وزیراعظم اور اس کے خاندان کا موثر دفاع نہیں کیا۔ اس پر چوہدری نثار کا یہ موقف ہے کہ یہ شریف خاندان کا ذاتی معاملہ ہے وہ خود اپنا دفاع کریں۔ان کا موقف یہ تھاس کہ ہر سطح پر بھرپور طریقے سے دفاع کیا جائے۔ مریم نے پارٹی کے اجلاس میں جو موقف اختیار کیا، وہ نواز شریف کا موقف ہی سمجھا جائے گا۔ لگتا ہے کہ جب تک وزیراعظم نواز شریف لندن میں ہیں شہباز شریف کے بجائے مریم پارٹی اور حکومت معاملات میں اہم رول ادا کریں گی۔ 

بیرون ملک روانگی سے قبل چوہدری نثار علی خان نے صحافیوں سے بات چیت میں عمران خان کے ” خطرے“ سے بھی زیادہ بڑے خطرے کا امکان ظاہر کیا کہ حکومت کو غیر جمہوری طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کی اس وارننگ میں یہ خیال بھی پنہاں ہے
 کہ ’ان ہاﺅس‘ تبدیلی لائی جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ لندن کی سرگرمیاں کیا رخ اختیار کرتی ہیں۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 روزنامہ نئی بات کے لئے 


No comments:

Post a Comment