Thursday, July 30, 2020

اٹھارویں ترمیم واپس لینے کا منصوبہ 18th Amendment


اٹھارویں ترمیم  واپس لینے کا منصوبہ  
میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی
 اطلاعات و براڈ کاسٹنگ کی ذامہ داری سنبھالنے کے وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا ہے کہ یہ وقت 18 ویں ترمیم پر بحث کرنے کا نہیں  نہ ہی اس  ایسا کوئی منصوبہ زیر غور ہے، اس سلسلے میں حزب اختلاف سے مذاکرات کرنے کا بھی کوئی منصوبہ ہے۔شبلی بڑے  باپ کے بیٹے ہیں ان کی بات درست بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک ہفتے تک  وفاقی وزراء اور  ملک کی بڑی پارٹیوں کے رہمناؤں کے بیانات آتے رہے۔  ایک ہفتے بعد اس وضاحت کی ضرورت محسوس کی گئی۔  یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ  مقتدرہ حلقے اس ترمیم کو ختم کرنا یا تبدیل کرنا چہاتے ہیں۔ 
 اٹھارویں ترمیم پر مضبوط مرکز اور وفاقی نظام کے حامی  ایک دوسرے آمنے سامنے ہیں۔  اٹھارویں ترمیم کا مکمل خاتمہ مشکل ہے۔ تاہم اس کے بنیادی فوائد کم یا ختم  ہونے کا یقیننا خطرہ موجود ہے۔ 
 اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آئین کی ایک سو شقوں میں ترامیم کی گئی تھی۔ لیکن وہ سب کی سب مسائل نہیں ہو سکتی۔ ترامیم میں مصنفانہ انہ مقدمہ چلانے، تعلیم، اور معلومات تک رسائی  کو بطور حق تسلیم کیاگیا تھا۔اگرچہ ترمیم شدہ شقوں پر مکمل طور عمل درآمد ہونا تاحال خواب ہی ہے۔ تاہم بعض امور جن پر عمل کیا گیا وہ شقیں ملک حکمران طبقے کو چبھتی ہیں۔  ان ترامیم میں ججز کی تقرری  کے طریقہ کار بھی شامل ہے۔ اگرچہ  عدلیہ میں تقرریوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے لیکن حکمرانوں کے لئے یہ بھی فوری مسئلہ نہیں۔  تحریکا انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد اٹھارویں ترمیم کی بحث میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کو پیپلزپارٹی اور دیگر اپوزیشن کی جماعتیں سازش قرار دے رہی ہیں۔ 
دوسری ترامیم حکمرانی کے عمل سے متعلق ہیں  جن پر کوئی بات نہیں کی جارہی۔  اٹھارویں ترمیم سے متعلق زیادہ زور اسلام آباد کے حلقوں سے دیا جارہا ہے۔  بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم  کے ہوتے ہوئے وفاق بعض چیزیں کرنا چاہتا ہے جو اس  کے ہوتے ہوئے نہیں کر سکتا۔ 
اصل سوال مالی معاملات ہیں۔  اسٹبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ ترمیم نے ملک کو کمزور کیا ہے اور ملک کے حالیہ مسالی بحران کی وجہ صوبوں کو دیئے گئے زیادہ مالی وسائل ہیں۔ دوامور مسائل پیدا کر رہے ہیں۔  پہلا اختیارات کی صوبوں کو منتقلی اور دوسرا مالیات کی وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم  یعنی قومی مالیاتی کمیشن کا عمودی فارمولاہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے مرکز  عمودی لکیر کے یچے دب گیا ہے۔
 عمودی فارمولا کی وکالت کرنے والوں کا خیال ہے کہ وفاق نے کچھ زیادہ ہی مالی وسائل صوبوں کو دے دیئے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ ملک کو درپیش حالیہ مالی بحران کا سبب مالیات کی عمودی تقسیم ہے۔ چونکہ وفاق کے پاس کم مالی وسائل بچتے ہیں لہٰذا وہ  اپنے اخراجات اور وعدوں کو بڑے پیمانے پر حل نہیں کرسکتا۔  وہ خسارے میں ہی چلتا ہے۔ یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر یہ فارمولا کسی طرح سے تبدیل کردیا جائے تو  وفاق کا خسارہ ختم یا کم ہو سکتا ہے۔ 
وسائل کی تقسیم کا معاملہ براہ راست دیگر محکموں یا اختیارات کی منتقلی سے منسلک ہے۔  اختیارات کے ارتکاز کو ختم کرنا اور ان کی منتقلی کو اکثر تسلیم کیا گیا ہے۔  وہ خدمات جو مقامی سطح پر مہیا کی جاتی ہیں  ان کا فیصلہ اوپر یعنیوفاقی سطح پر کیوں کیا جائے؟  اختیارات کا ارتکاز نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ اس کی وجہ سے کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔  اور موثر طور پر خدمات مہیا نہیں کی جاسکتی۔  ایک اسکول یا صحت مرکز کہاں پر ہو، کون اس کو چلائے کیسے چلائے، اس کی نظرداری کون کرے یہ مقامی معاملات ہیں  جنہیں مقامی سطح پر ہی موثر طور پر چلایا جاسکتا ہے۔ 
اگر صوبوں کو صحت، تعلیم، پینے کے پانی یا نکاسی آب، وغیرہ کے کام منتقل کئے گئے ہیں،انہیں یہ ذمہ داری پوری کرنے کے لئے وسائل تو چاہئیں ہونگے۔ کل تک یہ اختیارات وفاق کے پاس تھے، اس پر وفاق رقم خرچ کر رہا تھا۔  اب اگر یہ محکمے واپس وفاق کو دیئے جاتے ہیں تووفاق کو بہرحال رقم خرچ کرنی پڑے گی۔ اگر ہم اٹھاریوں ترمیم ختم بھی کردیں اور اٹھاریوں ترمیم کی این ایف سی یا اختیارات کی منتقلی سے متعلق شقیں ختم بھی کردیں تو کس طرح سے ملک کا مالی بحران حل ہو سکے گا؟  وفاق کو بھی تعلیم، صحت  اور دیگر خدمات کے لئے اس سے زیادہ نہیں تو اتنی ہی رقم خرچ کرنی پڑے گی۔ اس سے وفاق کا خسارہ کیسے کم ہوگا؟  یا وفاق کو مالی اعتبار سے کوئی گنجائش ملے گی؟ موجودہ مالیاتی کی رقم صوبوں اور وفاق کے درمیان کسی اور طریقے سے تبدیل کرنے  سے ملک کا بحران حل نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ وفاق تعلیم، صحت یا دیگر خدمات پر  اخراجات کم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ مطلب اٹھاریوں ترمیم کا خاتمہ  بھی یہ مسئلہ حل نہیں کرسکتا۔  اگر وفاق کو خسارہ ہے تو وہ  ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب بڑھا کر پورا کر سکتا ہے۔ کیونکہ کہ ہر حکومت یہی وعدے اور دعوے کرتی رہی ہے۔ 
وفاق کے پاس اختیارات یا مالیات کم ہو گئے یہ تاریخ سے برعکس ہے۔  بلکہ کے آئین کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ 
سب سے پہلے ملک کے ایک طاقتور ادارے کے سربراہ نے  اٹھارویں ترمیم کے خلاف لب کشائی کی تھی۔ اس کے بعد وقت کے چیف جسٹس  چاقب نثار نے یہ فرمایا کہ اٹھارویں ترمیم  منظور کرنے سے پہلے اس پر تفصیلی بحث ہونی چاہئے تھی۔ اب حکمران اتحاد کی اہم جماعت کے سربراہ چوہدری  شجاعت کہہ رہے ہیں کہ اکثریت کے زور پر کی گئی آئینی ترامیم کامیاب نہیں ہو سکتیں، انہوں نے کہا کہ وہ ان آئینی ترامیم کو مسترد کرانے کیلئے وہ تمام پارٹی سربراہوں سے رابطے کریں گے، تعلیمی نصاب کا اختیار صوبوں کو دیکر معیار تعلیم خراب کردیا گیا۔  چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ میں تمام پارٹی سربراہوں سے بات کروں گا کہ وہ بھی اس اکثریت کے بل بوتے پر پاس کی ہوئی ترمیم کو رد کریں، دنیا کے کسی بھی آئین میں تعلیمی نصاب ایک ہی ہوتا ہے اور وہ وفاق کے پاس ہوتا ہے۔
وفاقی وزراء کے متانزع بیانات کے بعد اپوزیشن نے تاریخی اٹھارویں ترمیم کا تحفظ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  اور حکومت کو متنبیہ کیا ہے کہ کسی ایسی سرگرمی سے باز آئے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا  کے سیاسی اور عوامی حلقوں سے شدید ردعمل آیا۔.اصل میں آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت چاہئے۔ حکومت کے پاس یہ اکثریت موجود نہیں جس کا ذکر وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بھی کیا ہے۔ اس صورتحال میں دو سوال اٹھتے ہیں۔ اول یہ کہ حکمرانوں نے ایک ”فیلر“ چھوڑا کہ  سیاسی ماحول ایسا ہے کہ ترمیم کی جاسکے؟  دوسرا یہ کہ حکومت کے پاس  ترمیم کا آُشن موجود تھا۔ لیکن وہ دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر پار رہی، لہٰذا اس نے یو ٹرن لے لیا۔ 

Federal Minister for Information and Broadcasting Shibli Faraz has said that this is not the time to discuss the 18th Amendment nor is there any such plan under consideration. There are also plans to hold talks with the opposition in this regard. Shibli is the son of a great father. He may be right. But for a week, statements from federal ministers and leaders of the country's major parties kept coming. A week later, the explanation was needed. It is no secret that the ruling circles want to repeal or change this amendment.
Strong center on the 18th Amendment and supporters of the federal system face each other. It is difficult to repeal the Eighteenth Amendment. However, there is a definite risk that its core benefits will diminish or disappear.