Thursday, April 30, 2020

کورونا وائرس کا عالمی صحت پالیسیوں پرسوالیہ نشان

http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/17-03-2020/details.aspx?id=p10_03.jpg
کورونا وائرس کا عالمی صحت پالیسیوں پرسوالیہ نشان
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پوری دنیا میں کورونا وائرس وبا پھیلنے پر دہشت طاری ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں وائرس کے خطرے پر الرٹ جاری کردیا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں بھی معمولات زندگی معطل ہیں۔ معاشی سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں۔ ہر ایک کو ہر ایک خطرہ ہے۔ پاکستان میں بھی سو کے لگ بھگ کیسز ظاہرہونے پر لوگوں خواہ حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ 
سب سے بڑا خطرہ صوبے سندھ میں محسوس کیا جارہا ہے جہاں کیسز بھی زیادہ ہوئے ہیں، اور حکومت نے حفاظتی تدابیر بھی زیادہ کی ہیں۔ سندھ میں ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی واقع ہے جس کو بری، بحری خواہ فضائی راستوں سے داخلے پوائنٹس ہیں۔ صنعتی، تجارتی دارالخلافہ کی حیثیت رکھنے والے شہر میں ایک سروے کے مطابق  ہر ماہ پینتالیس ہزار افراد کراچی پہنچتے ہیں، جبکہ کروبار وغیرہ  کے حوالے سے آنے والے اس کے علاوہ ہیں۔ گنجان آبادی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں چوبیس ہزار افراد فی مربع کلومیٹر میں رہتے ہیں۔ لہٰذا گنجان آبادی کے لحاظ سے سندھ کا دارلحکومت کا یہ شہر ڈھاکہ اور بمبئی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے شہر کے انفرا اسٹرکچر خواہ بنیادی سہولیات میں کوئی توسیع نہیں ہوئی لیکن بڑی تیز رفتاری سے اس کی آبادی میں اضاف ہوتا رہا۔شہر کا سیوریج، ڈرینیج اور صفائی کا نظام ٹوٹ چکا ہے۔ پینے کے پانی کی صورتحال یہ ہے کہ ساٹھ فیصد آبادی کو واٹر سپلائی کا پانی میسر نہیں۔ رہائشی مکانات کی اکثریت کو کچی آبادی میں شمار کیا جاسکتا ہے۔معاملہ صرف کراچی کا نہیں دیہی سندھ کی بھی صورتحال خراب ہے جہاں زرعی معیشت بڑھتی ہوئی آبادی کا وزن نہیں اٹھا رہی ہے، جس نے غربت اور سماجی نابرابری کی ایک اور شکل پیدا کردی ہے۔ چھوٹے شہر بڑے ہوگئے ہیں۔ گزشتہ دس سال کے دوران سندھ حکومت نے  بڑے انفرا اسٹرکچر تو بنائے لیکن  بنیادی سہولیات کی طرف توجہ کم دی۔بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی لوگوں کو بھی پریشان کر رہی ہے، اور وبائی امرض کے پھوٹ پڑنے پرخود سندھ حکومت کسی اور صوبے کی حکومت کے مقابلے میں زیادہ پریشان ہے۔ 
حفظان صحت بنیادی نقطہ ہے جو کرورونا وائرس خواہ دیگر امراض سے بچائے رکھتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہر بیس سیکنڈ کے بعد صابن سے ہاتھ ھوئیں اور سینسٹائیز استعمال کریں۔ بیماری کی صورت میں خود کو اکیلا اور دوسرے لوگوں سے دور رکھیں۔ کیاعملاایسا ممکن ہے؟  پاکستان میں چالیس فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہے۔ دو کروڑ افرادکو رہائش کی مناسب سہولت حاصل نہیں۔ جب دنیا میں ایک کھرب لوگ جھگیوں یا کچی آبادیوں میں رہتے ہوں۔ جہاں پانی کی بنیادی سہولت میسرنہ ہو، کیسے بیس منٹ کے بعد ہاتھ دھوئیں گے؟ جگہ کی اتنی تنگی کہ ایک کمرے میں دو سے چار افراد رہائش پذیر ہوں۔  دنیا بھر کی صحت پالیسیاں میڈیکل انڈسٹریل کامپلیکس ڈکٹیٹ کرتا ہے۔ کرونا وائرس نے ان پالیسیوں کی قلعی کھول دی ہے کہ پالیسیاں ناقص اور یک طرفہ ہیں، جو کسی بھی بڑے چیلینج کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ کوریا اور اٹلی جیسے ممالک جہاں صحت کا ترقی یافتہ نظام موجود ہے، اس وائرس کو روکنے میں ناکام رہے۔ ماہرین طبی تحقیق کی ساکھ اور ان کے کارآمد ہونے کو بھی چیلینج کرتے ہیں ادویا ت کا غلط اور زیادہ استعمال ان کی افادیت اور پراثر ہونے پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ علم اور تحقیق میں کرپشن،  دواساز کمپنیوں پر انحصار  اور ان کمپنیوں کا دائرہ اثربہت بڑے سوالات ہیں جو دنیا بھر میں امراض اور صحت کی صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ 
 اصل خرابی کہیں اور ہے۔ سماجی، معاشی اور موسمیات  کے مسائل انسانی صحت پربری طرح سے اور بڑے پیمانے پر اثرانداز ہو رہے ہیں، جنہیں نظر انداز کیا جارہا ہے۔  آج دنیا میں کئی پھیلنے والے امراض میں اضافہ ہوا ہے جس میں ایڈز، یرقان اور دیگر وائرس وغیرہ شامل ہیں۔ جو آبادی میں تیزی سے اضافے، ماحولیاتی تبدیلیوں، سماجی اور ٹیکنالاجی میں تبدیلیوں اور رہن سہن کے طور طریقوں کی وجہ سے ہے۔ خود عالمی ادارہ صحت کا بھی کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں منتقل ہونے والے امراض میں اضافے کا باعث ہیں۔ ماحول کو بگاڑنے میں منافع اور مزید منافع کا عنصر حاوی ہے۔
انیس سو تیس سے لیکر انیس سو اسی تک کا سہنری دور تھا جب ٹی بی،  اور دیگر کئی مہلک امراض کا علاج دریافت کرلیا گیا۔ اس کے بعد بڑی ترقی ہوئی ہے۔ لیکن ان دریافتوں کا عام لوگوں تک راسئی کا معاملہ اہم رہا۔  صرف صحت پر توجہ دینا کافی نہیں۔ بھوک غذائی قلت،  دسٹ، دھوئیں  سے بھی امراض وجود میں آتے ہیں۔
کیس نے خوب کہا ہے کہ صحت ہسپتالوں سے پیدا نہیں ہوتی، سماجی عناصر دولت، مکانات،  تعلیم اور درمیانہ طبقے کے اختیار صحت کے لئے اہم ہیں۔ صحت کے نظام میں سے صحت کو بے دخل کردیا گیا ہے۔  جس کے پاس دولت، اختیار، علم اور طریقہ کار ہے وہی طے کرتا ہے کہ صحت کیا ہے اور کی تعریف کا پیمانہ کیا ہے؟  ظاہر ہے کہ یہ طبقہ وہی بات طے کرے گا جس سے اس کے اختیار، اقتدار اور دولت میں اضافہ ہو۔بعض صحت کے نظام کو چلانے والے نظام کی نااہلی کو تسلیم کرتے ہیں کسی مرض کو علاج کرتے وقت جتنا وسائل خرچ ہوتے  ہیں تنے پیسے اس مرض کے اسباب کو روکنے پر بھی خرچ نہیں ہوتے۔ امراض کیوں جنم لیتے ہیں، کیوں پھیلتے ہیں؟ اس نظام کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل اور حفاظتی ادویات اور تدابیر  کی ضرورت ہے جو کہ ہمارے طبی تعلیم کے نصاب اور پالیسیوں میں غائب ہے۔  اس کی وجہ اختیارات رکھنے والوں کی جانبداری ہے۔ پورا نظام منافع اور پیسے کے گرد گھومتا ہے، وہ سماجی اور معاشی نابرابری کی طرف دیکھتا ہی نہیں۔ جبکہ سماجی صورتحال اور معاشی نابرابری خرابی صحت کے اہم نکات ہیں۔

Question mark on global health Policies
Sohail Sangi

Outbreaks appear to be exacerbated during the Corona virus epidemic. The World Health Organization has issued a worldwide alert on the threat of the virus. Even in developed countries, routine life is suspended. Economic activity has slowed. Everyone has a threat. There are concerns in Pakistan as well as in the government about the appearance of about 100 cases.

Security measures are also high. Karachi is the largest city in the country in Sindh, which has entry points by land, sea and air. According to a survey in the city, which is the industrial and commercial capital, 45,000 people visit Karachi every month, while those who come for business etc. are in addition. The dense population can be estimated from the fact that 24,000 people live here per square kilometer. Therefore, in terms of dense population, this capital city of Sindh is second only to Dhaka and Bombay.

Security measures are also high. Karachi is the largest city in the country in Sindh, which has entry points by land, sea and air. According to a survey in the city, which is the industrial and commercial capital, 45,000 people visit Karachi every month, while those who come for business etc. are in addition. The dense population can be estimated from the fact that 24,000 people live here per square kilometer. Therefore, in terms of dense population, this capital city of Sindh is second only to Dhaka and Bombay.
For the past several years, the city's infrastructure has not expanded, but its population has grown rapidly. The city's sewerage, drainage and sanitation systems have collapsed. The drinking water situation is that 60% of the population does not have access to water supply. The majority of residential houses can be counted in the slums. The situation is not only in Karachi but also in rural Sindh where the agrarian economy is not carrying the weight of the growing population, which has created another form of poverty and social inequality. Is.
Where basic water supply is not available, how to wash hands after 20 minutes? The space is so cramped that two to four people can live in one room. The medical industrial complex dictates health policies around the world. The corona virus has opened the floodgates of policies that are flawed and one-sided, which cannot meet any major challenge. Countries such as Korea and Italy, which have advanced health systems, have failed to stop the virus. Experts also challenge the credibility of medical research and its effectiveness. Misuse and overuse of drugs calls into question their effectiveness and effectiveness. 
Corruption in knowledge and research, reliance on pharmaceutical companies and the scope of influence of these companies are big questions that are responsible for diseases and health conditions around the world.
Today there is an increase in the spread of many diseases in the world, including AIDS, jaundice and other viruses. This is due to rapid population growth, climate change, social and technological changes and ways of life. The World Health Organization (WHO) says climate change is contributing to an increase in communicable diseases. There is an element of profit and more profit in spoiling the environment.
It is not enough to focus only on health. Hunger, malnutrition, dust, and smoke also cause diseases.
The case goes on to say that health does not come from hospitals, the social elements wealth, housing, education and middle class empowerment are important for health. Health has been excluded from the health system. He who has wealth, authority, knowledge and method decides what is health and what is the standard of definition?
=
Obviously, this class will decide what will increase its power, authority and wealth. There is no cost to prevent the causes of this disease. Why do diseases arise, why do they spread? This system needs to be fixed. Social and safety medications and measures are needed
There is a need for social and safety medicine and measures that are missing from our medical education curriculum and policies. This is because of the bias of those in power. The whole system revolves around profit and money, it does not look at social and economic inequality. While social status and economic inequality are important health issues