پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے لئے ٹیسٹ کیس
Daily Nai Baat | Published : 27-September-2016
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
قبائلی اور مذہبی فرقہ واریت اور دہشتگردی کے مسلسل واقعات کے طور پر پہچان رکھنے والے اندرون سندھ کے ضلع شکارپور میں ضمنی انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ پی ایس 11 پر انتخابات آئندہ ماہ کی 20 تاریخ کو ہونگے۔
سابق بیوروکریٹ امتیاز شیخ نے 2013 کے عام انتخابات میں فنکشنل لیگ کے ٹکٹ پر پیپلزپارٹی کے امیدوار آغا تیمورکو شکست دیکر یہ نشست جیتی تھی۔ وہ تین سال تک اسمبلی میں پیپلزپارٹی مخالفت کرتے رہے۔ بلدیاتی انتخابات خاص طور پر بلدیاتی اداروں کے سربراہان کے انتخاب کے موقع پر سندھ میں جوڑ توڑ شروع ہوا ۔ جس نے نئی سیاسی صورتحال پیدا کردی تھی۔ اسی تسلسل میں گزشتہ دنوں لندن میں فنکشنل لیگ کے رہنما امتیاز شیخ نے آصف علی زرداری اور میڈم فریال تالپور سے ملاقات کے بعد انہوں نے فنکشنل لیگ کو خیرباد کہہ کر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اور صوبائی اسمبلی کی نشست سے بھی استعیفیٰ دے دیا۔
آئندہ ماہ اس نشست پرضمنی انتخاب ہونے جارہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے امتیاز شیخ امیدوار ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں جے یو آئی کے ناصر محمود سومرو ہیں، جوو جے یو آئی کے رہنما مقتول خالد محمود سومرو کے بیٹے ہیں۔ ماضی میں جب بھی ضمنی انتخابات ہوتے ہیں اس حلقے میں حکمراں جماعت کی جانب سے بلا مقابل امیدوار لانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہو رہا۔
شکارپور جو کبھی سندھ کا پیرس کہلاتا تھا اب اس کا پروفائیل تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک درجن سے زائد قبائلی جھگڑے قبائلی جھگڑے گزشتہ دو عشروں سے چل رہے ہیں۔ جنہیں حل کرنے میں حکومت اور اور اس کے ادارے ناکام رہے ہیں۔ قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے کئی برسوں تک کچھ علاقے ایک دوسرے قبیلوں کے لئے ’’ نو گو ایریا‘‘ رہے ہیں۔ڈاکوؤں کی مشہور آماجگاہ شاہ بیلو فایسٹ بھی اس ضلع میں واقع ہے۔ اس علاقے میں ماضی میں ناٹو کے باربردار ٹینکروں پر بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔
2010 کے بعدشکارپور کم از کم نصف درجن واقعات برداشت کر چکا ہے۔ پیر حاجن شاہ پر حملے سے کچھ عرصہ پہلے شکارپور میں اس طرح کے حملوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا۔ رواں سال عیدالاضحیٰ کے روز خانپور میں رونما ہونے والے واقعہ نے اس ضلع میں دہشتگردی کے واقعات کی فہرست میں اضافہ کردیا۔ شکارپور میں محرم الحرام میں دہشتگردی کی کارروایاں ہوتی رہیں۔ اور حاجن شاہ پر حملہ ہوا، یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس علاقے میں دہشت گردی کی ترتبیت حاصل کرنے والے، دہشتگردوں کے سہولت کار اور ہمدرد ضرور موجود ہیں۔ مختلف اداروں کی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشتگرد اس علاقہ میں کوئٹہ، مکران اور شہدادکوٹ بلوچستان کے راستے سے آتے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ بلوچستان کے چپے چپے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے موجودگی کے بعد بھی دہشتگرد بلوچستان سے لمبا روٹ طے کر کے شکارپور پہنچ جاتے ہیں۔
خانپور میں رونما ہونے والے حالیہ واقعہ کی تحقیقات کے مکمل نتائج اور تفصیلات آنا ابھی باقی ہیں۔ لیکن ایک
دہشتگرد کے زندہ گرفتاری نے تفتیش و تحقیقات کو آسان ضرور بنا دیا ہے۔
دہشتگرد کے زندہ گرفتاری نے تفتیش و تحقیقات کو آسان ضرور بنا دیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد یہ سوال اٹھایا جارہا تھا کہ وہ کونسے عناصر ہیں جو شکارپور کا تشخص تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ حملے کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم نے قبول کی تھی۔ حملہ آور سوات سے تعلق رکھنے والا تھا۔شکارپور میں دہشتگردی کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان میں شیعہ آبادی کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان واقعات کے حوالے سے یہ بات قابل غور ہے کہ عقیدے کے اعتبار سے نفرت کی آگ بھڑکانے سے مقامی آبادی میں سے زیادہ حصہ اور فائدہ کس کا ہے؟ شکارپور کے منتخب نمائندوں اور سیاستدانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان دہشتگردی کے واقعات کے پیچھے کونسے محرکات ہیں؟ کس کے یہاں پر کیا مفادات ہیں یا کونسے حلقے کے مفادات ٹکراؤ میں آتے ہیں۔بلاول بھٹو زرادری کی ان ضمنی انتخابات میں اتنی دلچسپی اچھی بات ہے، لیکن نہیں معلوم کہ انہیں اس پس منظر کا کتنا ادارک ہے۔ یہ ضمنی انتخابات اس وجہ بھی اہم ہیں تو بآسانی اس امر کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔
ان انتخابات کے دو اور پہلو بھی ہیں۔ میں پیپلزپارٹی کے آغا تیمور پارٹی کے نامزد امیدوار امتیاز شیخ کی حمایت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ امتیاز شیخ نے 2013 کے عام انتخابات میں یہ نشست جیتی تھی لیکن اس سے پہلے اس نشست پر آغا تیمور اور ان کے والد آغا طارق پیپلزپارٹی کے امیدوار کے طور پر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔
جام صادق اور مظفر شاہ کے وزارت اعلیٰ کے ادوار میں بطور پرنسپل سیکریٹری ٹو چیف منسٹر سفید سیاہ کے مالک امتیاز شیخ نے پہلی مرتبہ 2002 کے عام انتخابات میں حصہ لیا تھا، اس وقت ان کے مقابلے میں آغا تیمور کے والد آغا طارق پیپلزپارٹی کے امیدوار تھے۔ اور انتخابات جیت گئے تھے۔ بعد میں کشمور میں سلیم جان مزاری کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخابات جیت کر وہ اسمبلی میں پہنچے۔ انہیں وزیر روینیو بنایا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے ساتھ اختلافات کے بعد انہیں وزارت سے ہٹادیا گیا۔ وہ مسلسل زیر عتاب رہے۔
بعد میں 2013 میں انہوں نے فنکشنل لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ فنکشنل لیگ اور نواز لیگ کے درمیان مفاہمت کی وجہ سے انہیں وزیر اعظم کا خصوصی معاون مقرر کیا گیا۔ ان دونوں کے اختلافات کی وجہ سے وہ سینڈوچ بنتے رہے۔ اس حلقے میں ایک لاکھ پینتیس ہزار ووٹ ہیں جبکہ امتیاز شیخ نے 2013 کے انتخابات میں 35010 ووٹ اور ان کے حریف آغا تیمور نے چوبیس ہزار 249 ووٹ حاصل کئے تھے۔
آغا تیمور اپنے والد آغا طارق کے انتقال کے بعد صوبائی ا سمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ہاؤسنگ کے صوبائی وزیر بھی رہے۔ ان کے دادا آغا غلام نبی پٹھان پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے رکن صوبائی اسمبلی اور سنیٹر بھی رہے ہیں ۔
پیپلزپارٹی اپنے لئے یہ نشست اہم سمجھتی ہے۔یہاں تک کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری امتیاز شیخ کو ساتھ لیکرآغا تیمور کے پاس سلطان کوٹ پہنچے۔جہاں انہوں نے امتیاز شیخ اور آغا تیمور کے درمیان اختلافات ختم کرانے کی کوشش کی۔ آغا تیمور کو یقین دلایا گیا کہ آئندہ عام انتخابات میں اس نشست پر وہ پارٹی کے امیدوار ہونگے۔ لہٰذا ضمنی انتخابات میں وہ امتیاز شیخ کی مدد کریں۔ بعد میں بلاول بھٹو انہیں اپنے ساتھ امتیاز شیخ کی شکارپور میں رہائش گاہ پر منعقدہ عشائیہ میں بھی لے آئے ۔
ان اعلیٰ سطحی کوششوں کے باوجود یہ تاثر ختم نہیں ہو سکا ہے کہ آغا تیمور اور امتیاز شیخ کے درمیان مخالفت ختم ہو گئی ہے۔ لہٰذا یہ ناممکن سی بات لگ رہی ہے کہ آغا تیمور امتیاز شیخ کی حمایت کریں۔ امتیاز شیخ کی پیپلزپارٹی میں شمولیت اور اب انتخابات کی وجہ سے کئی بااثر شخصیات کو ڈر ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے کہیں اپنا مقام نہ بنا لے۔ امتیاز شیخ کو صرف مخالف امیدوار سے ہی مقابلہ نہیں بلکہ پارٹی کے اندرونی حلقوں سے بھی مخالفت کا خطرہ ہے۔
نیشنل ایکشن پلان کے باوجود سندھ کے شمالی علاقے میں مذہبی انتہاپسندی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔رہڑکی میں دو ہندونوجوانوں کو قتل کیا جبکہ نفرت آمیز پوسٹرز اور وال چاکنگ موجود ہیں۔ ایک کالعدم تنظیم نے نام بدل کر سکھر، خیپور، ٹنڈوالہ یار میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا۔ اور کچھ نشستوں پر کامیابی بی حاصل کرلی۔ یعنی کالعدم تنظیم اپنے اثر کو ووٹ بینک میں تبدیل کر رہی ہے۔
ملک کے بعض دیگر حصوں کی طرح شکارپور میں میں بھی مذہب اور فرقے کے نام پر نکالی گئی لکیریں بہت گہری ہیں۔ یہ مشکل ہے کہ ایک فرقہ دوسرے کو ووٹ دے۔ وہ بھی شکارپور جیسے بہت سارے حوالوں بٹے ہوئے ضلع میں۔ سابق ایم این اے ڈاکٹر ابراہیم جتوئی اہل تشیع ہیں۔ وہ، ان کے بھائی اور برادری کے لوگ مختلف وقتوں میں دہشگرد حملوں کی زد میں آتے رہے ہیں۔ شکارپور خانپو رکے قومی اسمبلی اور خانپور کے صوبائی حلقے پر ان کا اور ان کے بھائی عابد جتوئی کا پیپلزپارٹی سے مقابلہ ہوتا رہا ہے۔ اس علاقے میں جے یو آئی بھی موجود ہے جو کبھی اپنے امیدوار کھڑے کرتی رہی ہے تو کبھی پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہے۔ اب پیپلزپارٹی کے خلاف روایتی حریف موجود نہیں تو جے یو آئی کے امیدوار میدان میں آگئے ہیں۔
جے یو آئی پارٹی کی حکمت عملی کے حوالے سے شکارپور کو اہم سمجھتی ہے۔ ممکن ہے کہ جتوئی برادران اور جے یو آئی مل کر پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائیم دیں خاص طور پر جب خود پیپلزپارٹی کاایک گروپ امتیاز شیخ کی نامزدگی پر خوش نہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم جتوئی پر دو مرتبہ خود کش حملوں میں کالعدم تنظیموں کے ملوث ہونے کے بعد جے یو آئی اور جتوئی برادران کے درمیان اور بھی فاصلے رہے ہیں۔ لیکن ان ضمنی انتخابات نے جے یو آئی اور جتوئی برادران کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ جے یو آئی امیدوار ناصر محمود سومرو کی ڈاکٹر ابراہیم جتوئی سے ملاقات کے بعد وہ جے یو آئی کے ناصر محمود کی کھلی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
جتوئی گروپ اور جے یو آئی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد آئندہ عام انخابات میں بھی برقرار رہے گا۔ اس سے پہلے مختلف انتخابات میں جے یو آئی اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ اگر آئندہ انتخابات میں جے یو آئی کا اتحاد شکارپور کے
جتوئی برادران کے ساتھ برقرار رہتا ہے تو جے یو آئی صوبے میں دیگر مقامات پر بھی پیپلزپارٹی مخالف لابی
کی حمایت پر اتر آئے گی۔ یہ پہلا مواقعہ ہوگا کہ سندھ میں کوئی مذہبی جماعت اہم پارٹی کے طور پرسیاست کھیلنے لگے گی۔
کی حمایت پر اتر آئے گی۔ یہ پہلا مواقعہ ہوگا کہ سندھ میں کوئی مذہبی جماعت اہم پارٹی کے طور پرسیاست کھیلنے لگے گی۔
روزنامہ نئی بات 27 ستمبر
---------------
-----------
Nai Baat
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/27-09-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg
http://www.urducolumnsonline.com/suhail-sangi-columns/239509/peoples-party-aur-jui-kay-leye-test-case

















