Monday, September 26, 2016

شکارپور: پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے لئے ٹیسٹ کیس



پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے لئے ٹیسٹ کیس
Daily Nai Baat  |   Published : 27-September-2016
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 

قبائلی اور مذہبی فرقہ واریت اور دہشتگردی کے مسلسل واقعات کے طور پر پہچان رکھنے والے اندرون سندھ کے ضلع شکارپور میں ضمنی انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ پی ایس 11 پر انتخابات آئندہ ماہ کی 20 تاریخ کو ہونگے۔ 


سابق بیوروکریٹ امتیاز شیخ نے 2013 کے عام انتخابات میں فنکشنل لیگ کے ٹکٹ پر پیپلزپارٹی کے امیدوار آغا تیمورکو شکست دیکر یہ نشست جیتی تھی۔ وہ تین سال تک اسمبلی میں پیپلزپارٹی مخالفت کرتے رہے۔ بلدیاتی انتخابات خاص طور پر بلدیاتی اداروں کے سربراہان کے انتخاب کے موقع پر سندھ میں جوڑ توڑ شروع ہوا ۔ جس نے نئی سیاسی صورتحال پیدا کردی تھی۔ اسی تسلسل میں گزشتہ دنوں لندن میں فنکشنل لیگ کے رہنما امتیاز شیخ نے آصف علی زرداری اور میڈم فریال تالپور سے ملاقات کے بعد انہوں نے فنکشنل لیگ کو خیرباد کہہ کر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اور صوبائی اسمبلی کی نشست سے بھی استعیفیٰ دے دیا۔ 


آئندہ ماہ اس نشست پرضمنی انتخاب ہونے جارہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے امتیاز شیخ امیدوار ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں جے یو آئی کے ناصر محمود سومرو ہیں، جوو جے یو آئی کے رہنما مقتول خالد محمود سومرو کے بیٹے ہیں۔ ماضی میں جب بھی ضمنی انتخابات ہوتے ہیں اس حلقے میں حکمراں جماعت کی جانب سے بلا مقابل امیدوار لانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہو رہا۔

شکارپور جو کبھی سندھ کا پیرس کہلاتا تھا اب اس کا پروفائیل تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک درجن سے زائد قبائلی جھگڑے قبائلی جھگڑے گزشتہ دو عشروں سے چل رہے ہیں۔ جنہیں حل کرنے میں حکومت اور اور اس کے ادارے ناکام رہے ہیں۔ قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے کئی برسوں تک کچھ علاقے ایک دوسرے قبیلوں کے لئے ’’ نو گو ایریا‘‘ رہے ہیں۔ڈاکوؤں کی مشہور آماجگاہ شاہ بیلو فایسٹ بھی اس ضلع میں واقع ہے۔ اس علاقے میں ماضی میں ناٹو کے باربردار ٹینکروں پر بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ 


2010 کے بعدشکارپور کم از کم نصف درجن واقعات برداشت کر چکا ہے۔ پیر حاجن شاہ پر حملے سے کچھ عرصہ پہلے شکارپور میں اس طرح کے حملوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا۔ رواں سال عیدالاضحیٰ کے روز خانپور میں رونما ہونے والے واقعہ نے اس ضلع میں دہشتگردی کے واقعات کی فہرست میں اضافہ کردیا۔ شکارپور میں محرم الحرام میں دہشتگردی کی کارروایاں ہوتی رہیں۔ اور حاجن شاہ پر حملہ ہوا، یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس علاقے میں دہشت گردی کی ترتبیت حاصل کرنے والے، دہشتگردوں کے سہولت کار اور ہمدرد ضرور موجود ہیں۔ مختلف اداروں کی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشتگرد اس علاقہ میں کوئٹہ، مکران اور شہدادکوٹ بلوچستان کے راستے سے آتے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ بلوچستان کے چپے چپے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے موجودگی کے بعد بھی دہشتگرد بلوچستان سے لمبا روٹ طے کر کے شکارپور پہنچ جاتے ہیں۔


خانپور میں رونما ہونے والے حالیہ واقعہ کی تحقیقات کے مکمل نتائج اور تفصیلات آنا ابھی باقی ہیں۔ لیکن ایک
 دہشتگرد کے زندہ گرفتاری نے تفتیش و تحقیقات کو آسان ضرور بنا دیا ہے۔ 

اس واقعہ کے بعد یہ سوال اٹھایا جارہا تھا کہ وہ کونسے عناصر ہیں جو شکارپور کا تشخص تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ حملے کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم نے قبول کی تھی۔ حملہ آور سوات سے تعلق رکھنے والا تھا۔شکارپور میں دہشتگردی کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان میں شیعہ آبادی کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان واقعات کے حوالے سے یہ بات قابل غور ہے کہ عقیدے کے اعتبار سے نفرت کی آگ بھڑکانے سے مقامی آبادی میں سے زیادہ حصہ اور فائدہ کس کا ہے؟ شکارپور کے منتخب نمائندوں اور سیاستدانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان دہشتگردی کے واقعات کے پیچھے کونسے محرکات ہیں؟ کس کے یہاں پر کیا مفادات ہیں یا کونسے حلقے کے مفادات ٹکراؤ میں آتے ہیں۔بلاول بھٹو زرادری کی ان ضمنی انتخابات میں اتنی دلچسپی اچھی بات ہے، لیکن نہیں معلوم کہ انہیں اس پس منظر کا کتنا ادارک ہے۔ یہ ضمنی انتخابات اس وجہ بھی اہم ہیں تو بآسانی اس امر کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ 


ان انتخابات کے دو اور پہلو بھی ہیں۔ میں پیپلزپارٹی کے آغا تیمور پارٹی کے نامزد امیدوار امتیاز شیخ کی حمایت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ امتیاز شیخ نے 2013 کے عام انتخابات میں یہ نشست جیتی تھی لیکن اس سے پہلے اس نشست پر آغا تیمور اور ان کے والد آغا طارق پیپلزپارٹی کے امیدوار کے طور پر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ 


جام صادق اور مظفر شاہ کے وزارت اعلیٰ کے ادوار میں بطور پرنسپل سیکریٹری ٹو چیف منسٹر سفید سیاہ کے مالک امتیاز شیخ نے پہلی مرتبہ 2002 کے عام انتخابات میں حصہ لیا تھا، اس وقت ان کے مقابلے میں آغا تیمور کے والد آغا طارق پیپلزپارٹی کے امیدوار تھے۔ اور انتخابات جیت گئے تھے۔ بعد میں کشمور میں سلیم جان مزاری کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخابات جیت کر وہ اسمبلی میں پہنچے۔ انہیں وزیر روینیو بنایا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے ساتھ اختلافات کے بعد انہیں وزارت سے ہٹادیا گیا۔ وہ مسلسل زیر عتاب رہے۔ 


بعد میں 2013 میں انہوں نے فنکشنل لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ فنکشنل لیگ اور نواز لیگ کے درمیان مفاہمت کی وجہ سے انہیں وزیر اعظم کا خصوصی معاون مقرر کیا گیا۔ ان دونوں کے اختلافات کی وجہ سے وہ سینڈوچ بنتے رہے۔ اس حلقے میں ایک لاکھ پینتیس ہزار ووٹ ہیں جبکہ امتیاز شیخ نے 2013 کے انتخابات میں 35010 ووٹ اور ان کے حریف آغا تیمور نے چوبیس ہزار 249 ووٹ حاصل کئے تھے۔

آغا تیمور اپنے والد آغا طارق کے انتقال کے بعد صوبائی ا سمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ہاؤسنگ کے صوبائی وزیر بھی رہے۔ ان کے دادا آغا غلام نبی پٹھان پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے رکن صوبائی اسمبلی اور سنیٹر بھی رہے ہیں ۔


پیپلزپارٹی اپنے لئے یہ نشست اہم سمجھتی ہے۔یہاں تک کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری امتیاز شیخ کو ساتھ لیکرآغا تیمور کے پاس سلطان کوٹ پہنچے۔جہاں انہوں نے امتیاز شیخ اور آغا تیمور کے درمیان اختلافات ختم کرانے کی کوشش کی۔ آغا تیمور کو یقین دلایا گیا کہ آئندہ عام انتخابات میں اس نشست پر وہ پارٹی کے امیدوار ہونگے۔ لہٰذا ضمنی انتخابات میں وہ امتیاز شیخ کی مدد کریں۔ بعد میں بلاول بھٹو انہیں اپنے ساتھ امتیاز شیخ کی شکارپور میں رہائش گاہ پر منعقدہ عشائیہ میں بھی لے آئے ۔ 


ان اعلیٰ سطحی کوششوں کے باوجود یہ تاثر ختم نہیں ہو سکا ہے کہ آغا تیمور اور امتیاز شیخ کے درمیان مخالفت ختم ہو گئی ہے۔ لہٰذا یہ ناممکن سی بات لگ رہی ہے کہ آغا تیمور امتیاز شیخ کی حمایت کریں۔ امتیاز شیخ کی پیپلزپارٹی میں شمولیت اور اب انتخابات کی وجہ سے کئی بااثر شخصیات کو ڈر ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے کہیں اپنا مقام نہ بنا لے۔ امتیاز شیخ کو صرف مخالف امیدوار سے ہی مقابلہ نہیں بلکہ پارٹی کے اندرونی حلقوں سے بھی مخالفت کا خطرہ ہے۔ 


نیشنل ایکشن پلان کے باوجود سندھ کے شمالی علاقے میں مذہبی انتہاپسندی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔رہڑکی میں دو ہندونوجوانوں کو قتل کیا جبکہ نفرت آمیز پوسٹرز اور وال چاکنگ موجود ہیں۔ ایک کالعدم تنظیم نے نام بدل کر سکھر، خیپور، ٹنڈوالہ یار میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا۔ اور کچھ نشستوں پر کامیابی بی حاصل کرلی۔ یعنی کالعدم تنظیم اپنے اثر کو ووٹ بینک میں تبدیل کر رہی ہے۔


ملک کے بعض دیگر حصوں کی طرح شکارپور میں میں بھی مذہب اور فرقے کے نام پر نکالی گئی لکیریں بہت گہری ہیں۔ یہ مشکل ہے کہ ایک فرقہ دوسرے کو ووٹ دے۔ وہ بھی شکارپور جیسے بہت سارے حوالوں بٹے ہوئے ضلع میں۔ سابق ایم این اے ڈاکٹر ابراہیم جتوئی اہل تشیع ہیں۔ وہ، ان کے بھائی اور برادری کے لوگ مختلف وقتوں میں دہشگرد حملوں کی زد میں آتے رہے ہیں۔ شکارپور خانپو رکے قومی اسمبلی اور خانپور کے صوبائی حلقے پر ان کا اور ان کے بھائی عابد جتوئی کا پیپلزپارٹی سے مقابلہ ہوتا رہا ہے۔ اس علاقے میں جے یو آئی بھی موجود ہے جو کبھی اپنے امیدوار کھڑے کرتی رہی ہے تو کبھی پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہے۔ اب پیپلزپارٹی کے خلاف روایتی حریف موجود نہیں تو جے یو آئی کے امیدوار میدان میں آگئے ہیں۔ 


جے یو آئی پارٹی کی حکمت عملی کے حوالے سے شکارپور کو اہم سمجھتی ہے۔ ممکن ہے کہ جتوئی برادران اور جے یو آئی مل کر پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائیم دیں خاص طور پر جب خود پیپلزپارٹی کاایک گروپ امتیاز شیخ کی نامزدگی پر خوش نہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم جتوئی پر دو مرتبہ خود کش حملوں میں کالعدم تنظیموں کے ملوث ہونے کے بعد جے یو آئی اور جتوئی برادران کے درمیان اور بھی فاصلے رہے ہیں۔ لیکن ان ضمنی انتخابات نے جے یو آئی اور جتوئی برادران کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ جے یو آئی امیدوار ناصر محمود سومرو کی ڈاکٹر ابراہیم جتوئی سے ملاقات کے بعد وہ جے یو آئی کے ناصر محمود کی کھلی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ 


جتوئی گروپ اور جے یو آئی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد آئندہ عام انخابات میں بھی برقرار رہے گا۔ اس سے پہلے مختلف انتخابات میں جے یو آئی اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ اگر آئندہ انتخابات میں جے یو آئی کا اتحاد شکارپور کے


جتوئی برادران کے ساتھ برقرار رہتا ہے تو جے یو آئی صوبے میں دیگر مقامات پر بھی پیپلزپارٹی مخالف لابی
 کی حمایت پر اتر آئے گی۔ یہ پہلا مواقعہ ہوگا کہ سندھ میں کوئی مذہبی جماعت اہم پارٹی کے طور پرسیاست کھیلنے لگے گی۔ 



روزنامہ نئی بات 27 ستمبر 
---------------

Key words: #Daily Nai Baat#, #Sohail Sangi#, #Urdu column#, #JUI#, #PPP#, #Bilawal Bhutto#, #Imtiaz Shaikh#, #Shikarpur#, #Dr Ibrahim Jatoi#, #Khanpur incident#, #Nato tankers#, #Agha Taimour Khan Pathan#, #Asif Zardari@, #Faryal Talpur#
-----------
Nai Baat
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/27-09-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg 

http://www.urducolumnsonline.com/suhail-sangi-columns/239509/peoples-party-aur-jui-kay-leye-test-case



الطاف حسین کے خلاف قرارداد کیوں پیش کی گئی؟

الطاف حسین کے خلاف قرارداد کیوں پیش کی گئی؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

جس بات کا خدشہ تھا وہی ہوا۔ 22 اگست کو بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد الطاف حسین کی تقریر اور ایک نجی ٹی وی چینل کے دفتر پر حملے کے بعدپاکستان میں موجود فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم نے لندن اور الطاف حسین سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ لیکن یہ امر ناقابل یقین اور ناقبل عمل لگ رہا تھا کہ الطاف حسین اس فیصلے کو کس طرح سے قبول کریں گے؟ اگرچہ فوری طور پر الطاف حسین کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کے فیصلے کی توثیق کا بیان بھی آیا۔ ایک عرصے تک پارٹی کے اندر اور اس کے حامیوں میں شخصیت پرستی اور آہنی ڈسپلن چل رہا تھا، جو کہ پارٹی کی پالیسی کا بنیادی نقطہ بن گیا تھا۔ ایسے میں علحدگی کوئی عملی اور موثر شکل اختیار کر لے یہ مشکل ہی نہیں لیکن ناممکن نظر آرہا تھا۔



ندیم نصرت نے لندن پہنچ کر جب یہ بیان جاری کیا کی الطاف حسین نے بغیر ایم کیو ایم کچھ نہیں۔ اس کے بعد فارق ستار کی قیادت میں چلنے والی پاکستان میں موجود ایم کیو ایم نے رابطہ کمیٹی پاکستان کے کنوینیئر نصرت ندیم، واسع جلیل، مصطفیٰ عزیزآبادی اورقاسم علی رضا کو پارٹی سے خارج کردیا۔ اس پر ایم کیو ایم کے ناراض رہنما سلیم شہزاد نے ندیم نصرت کو پارٹی میں پیدا ہونے والے حالیہ مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔


تیزی کے ساتھ ایم کیو ایم کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لئے جس تسلسل میں واقعات ہوئے ہیں ان کو سمجھنا ضروری ہے ۔ 22 اگست کو بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف تقریر کی اور ایک نجی ٹی وی چینل کے دفتر پر حملہ ہوا

اسی روز الطاف حسین نے امریکا میں بھی کارکنان سے خطاب کیا تھا، جس میں الطاف حسین نے کہا کہ 'امریکا، اسرائیل ساتھ دے تو داعش، القاعدہ اور طالبان پیدا کرنے والی آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج سے خود لڑنے کے لیے جاؤں گا'۔ بعدازاں پریس کلب پر میڈیا سے گفتگو کے لیے آنے والے ایم کیو ایم رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو رینجرز نے گرفتار کرلیا تھا ،ان رہنماؤں کو اگلے دن رہا کیا گیا۔ دوسری جانب ان واقعات کے بعد رینجرز اور پولیس نے شہر بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر نائن زیرو سمیت متعدد سیکٹرز اور یونٹس بند کرنے کے ساتھ پارٹی ویب سائٹ کو بھی بند کردیا تھا۔


راتوں رات پالیسی میں تبدیلی کے اعلان اور ان کارروائیوں کے باوجود اگلے روز میئر کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے امیدوار وسیم اختر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے۔ 


23 اگست کو دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستارنے متحدہ قومی موومنٹ کی سربراہی سنبھال لی پارٹی کے تمام فیصلے پاکستان میں کرنے کا اعلان کیا، بعدازاں پارٹی کی جانب سے اپنے بانی اور قائد سے قطع تعلقی کا بھی اعلان کردیا گیا اور ترمیم کرکے تحریک کے بانی الطاف حسین کا نام پارٹی کے آئین اور جھنڈے سے بھی نکال دیا گیا۔


فاروق ستار کی اعلان کردہ 23 اگست کی پالیسی چلانے میں مشکل پیش آرہی تھی۔ اس مقصد کے لئے دیگر سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم کی مدد کو پہنچیں۔ اور انہوں نے سندھ اسمبلی نے قرار داد منظور کرلی کہ الطاف حسین غدار ہے ان کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت مقدمہ چلایا جائے ۔ اس قرارداد کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے لندن سیکریٹریٹ کے کنوینئر ندیم نصرت نے متحدہ کے تنظیمی ڈھانچے اور تمام شعبہ جات کو تحلیل کرنے کا اعلان کردیا۔ اور کہا ہے کہ تمام اراکین اسمبلی اپنی نشستوں سے مستعفی ہوکر ازسرنو انتخاب لڑیں۔ 

فاروق ستار کا کہنا ہے کہ کوئی پارٹی اسمبلی رکن استعیفا نہیں دے گا۔ 

ندیم نصرت کے مذکورہ بیان کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ لندن سے چاہے کوئی بھی بیان آئے اس سے فرق نہیں پڑتا، 'ایم کیو ایم کا کوئی رکن پارلیمنٹ مستعفی نہیں ہوگا'۔


بانی ایم کیو ایم کے خلاف سندھ اسمبلی کی قرارداد میں گذشتہ ماہ 22 اگست کو کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے کارکنوں سے ان کے خطاب اور بعد میں الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مخالف نعرے لگوانے کا خصوصی حوالہ ہے۔ 



سندھ اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی قراداد کی ایم کیو ایم نے نہ صرف اس قرارداد کی حمایت کی بلکہ سب سے پہلے ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے یہ قرار داد پیش کی ۔ فنکشنل لیگ کی ایم پی اے مہتاب اکبر راشدی نے ٹھیک کہا کہ یہ کوئی آسان بات نہیں کہ کوئی اپنے لیڈر کے خلاف قرارداد پیش کرے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیو ایم سمیت سب جماعتوں نے یہ قراداد کیوں پیش کی۔ 


الطاف حسین کے پاکستان مخالف بیان پر حکومت بانی ایم کیو ایم کے خلاف برطانیہ سے عوام کو تشدد پر اکسانے اور بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف قومی اسمبلی میں بھی متفقہ قرارداد منظور ہو چکی ہے، ایوان میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بھی اس قرار داد کی حمایت کی گئی تھی۔



سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جن کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہی ہے جنہیں کزشتہ دنوں ایس پی راؤ انور نے گرفتار کیا تھا اور چند گھنٹوں بعد وزیراعلیٰ کی مداخلت پر رہا کردیا گیا تھا۔ انہوں نے ٹھیک کہا کہ 22 اگست کی رات قیامت سے کم نہیں تھی، اسے رات ہی ہم لندن سے قطع تعلق کا اعلان کرنا چاہتے تھے۔ مذمت، معذرت اور شرمندگی کا اظہار کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ایم کیو ایم کا ہر کارکن مجرم ہے، ایم کیو ایم رہنما کے مطابق اس واقعے کے بعد ان کے پاس ملک بدر ہونے، پارٹی بدلنے اور واقعے کی ذمہ داری لے کر معاملات حل کرنے کے سارے آپشن تھے، لیکن ہم نے پارٹی نہیں بدلی اور نہ ہی ملک سے باہر گئے۔ پارٹی بدلنے کا آپشن آج بھی ہے۔ ہم نے انگاروں پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ لاتعلق ہو چکے ہیں یقین دلانے کا فارمولا ہمارے پس نہیں ۔ پارٹی بدل لوں تو پاکستانیت کا سرٹیفکیٹ مل جائے گا۔ پارٹی کا نام بدل دیا، بانی کا نام منشور سے نکال دیا۔ اسی طرح کا بیان ایک روز پہلے فاروق ستار نے بھی دیا تھا کہ ہمارا ڈی این اے کرالیں ہم پاکستانی ہیں۔ 


الطاف حسین اور اس کے ساتھی جو اب لندن میں جمع ہیں وہ پاکستان میں موجود ایم کیوایم کی پالیسیوں کو نہ
صرف غلط سمجھتے ہیں بلکہ اب اس کا توڑ کرنے کے لئے میدان میں اتر آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چند ارکان تحریک بچانے کے نام پر وہ اقدامات کررہے ہیں جو تحریک کے مفاد میں نہیں، ایم کیو ایم ایک ہی ہے اور ایک ہی رہے گی، ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ندیم نصرت کا یہ بھی موقف ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز استعفیٰ دے کر دوبارہ الیکشن لڑیں اور متحدہ کے جو ارکان پارلیمنٹ استعفے نہیں دیتے پارٹی کے کارکنان اور ہمدرد ان سے تعلق ختم کردیں۔


الطاف حسین کی سالگرہ کے موقعہ پر کراچی اور حیدرآباد میں بعض مقامات پر الطاف حسین کی حمایت میں وال چاکنگ نظر آئی۔ کراچی میں گزشتہ دنوں ایسے بینرز بھی لگائے گئے تھے جن میں صرف الطاف حسین کو ہی قائد قرار دیا گیا تھا،ان بینرز پر 'جو قائدِ تحریک کا غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے' بھی تحریر تھا، ان بینرز کے دو روز بعد کراچی کی شاہراہوں پر بلند مقامات پر بھی چند بینرز دیکھے گئے جن پر ’جوملک کا غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے‘ تحریر تھا۔


ان تمام فیصلوں کی توثیق متحدہ کے بانی نے کردی ہے۔اور تمام اختیارات ندیم نصرت کو تفویض کردئیے گئے ہیں۔لہٰذاب بظاہر ندیم نصرت بمقابلہ فاروق ستار ہیں۔ فاروق ستار مسلسل یہ کہہ رہپے ہیں کہ ہمارا لندن سے کوئی تعلق نہیں، ہم نے پہلے ہی لندن سے قطع تعلق کررکھا ہے، جو پالیسی اور فیصلے ہم نے 23 اگست کو طے کیے تھے اسی کے مطابق کام کرتے رہے گے۔


ایم کیو ایم کے اندر دھڑے بندی اگرچہ پرانی ہے، جہاں مختلف ادوار میں بغاوت نے سر اٹھایا یا دھڑوں کے درمیان لابنگ اورسیاسی لڑائیوں کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی جسمانی لڑائیاں بھی ہوتی رہی۔


موجودہ صورتحال نے ایم کیو ایم کے حامی ووٹرز کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ فاروق ستار، اظہارالحق اور سید سردار احمد اب جو ایم کیو ایم کی سیاست کرنا چاہ رہے ہیں ان کو پاکستان کے مختلف اداروں، اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔اس کا اظہار خود سندھ اسمبلی کی قرارداد بھی ہے۔ اس حمایت کے بغیر وہ اتنا بڑا اقدام اٹھا بھی نہیں سکتے تھے۔ پاکستان ایم کیو ایم لسانی بنیادوں سے ہٹ کر اورسندھ کی تقسیم کے نعرے سے دستبردار ہوکر سیاست کرکے خود کو الطاف حسین کی حکمت عملی اور اثر سے نکال سکتی ہے۔ 


یہ فرمائش تمام سیاسی جماعتوں اور بعض اداروں کی بھی ہے۔اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اپنے حامیوں میں مقبولیت برقرار رکھ سکتی ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ ایم کیو ایم کی نئی حکمت عملی کے بعد کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نعرے اور لسانی سیاست کے لئے اسپیس موجود ہو جو الطاف حسین کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سوال اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے لئے بھی اہم ہے۔ وہ اس چیلینج کا کیا اور کس طرح حل نکالتی ہیں

روزنامہ نئی بات .... ستمبر

Key words: MQM, ALtaf Hussain, Nadeem Nusrat, Farooq Sattar, Khawaja Izhar, Sindh Assembly, Saleem Shazad, MQM division,

Thursday, September 22, 2016

عمران خان کے لئے جگہ کہاں سے لائیں؟



عمران خان کے لئے جگہ کہاں سے لائیں؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی



اگرچہ عمران خان نے کی تاریخ میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے ۔اب احتجاج 24 ستمبر کے بجائے 30 ستمبر کو ہوگا۔لیکن احتجاج کا مقام رائیونڈ ہی رہے گا۔ یہ عمران خان کی سولو فلائیٹ ہے کیونکہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے۔ 



علامہ قادری عمران خان کے سیاسی کزن بنے تھے انہوں نے رائیونڈ کے احتجاج سے خود کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ایسا کر کے پیپلزپارٹی کے موقف کی حمایت کی ہے وزیراعظم میاں نواز شریف کی رائیونڈ میں واقع رہائش گاہ جاتی امراٗ کا گھیراؤ نہ کیا جائے۔ علامہ کا کہنا ہے کہ ہم اپنے دشمن کے گھروں پر حملہ کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ تحریک انصاف نے پہلے وزیراعظم کے رائیونڈ میں واقع گھر پر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ عمران خان نے ہم خیال سیاسی جماعتوں کی خواہش پر جاتی امراؤ پر دھرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ لیکن انہیں باقی پارٹیوں سے مثبت جواب نہیں ملا۔نواز لیگ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے دھرنے کی ناکامی کے بعدعمران خان ذاتیات پر اترآئے ہیں۔ 



تعجب کی بات ہے کہ لندن میں برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ 10 داؤننگ اسٹریٹ کے سامنے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہاں مظاہرے پرامن ہوتے ہیں کوئی تشدد کا پہلو اس میں شامل نہیں ہوتا۔ اگر اس طرح کی رویات یہاں بھی قائم کی گئی ہوتی تو ہمارے ہاں پر اس طرح کے اظہار سے شاید ہی کوئی منع کرتا۔ 



وزیراعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ کے اجلاس کی وجہ سے ملک سے باہر ہیں اور رائیونڈ شو وہ وزیراعظم کی موجودگی میں ہی کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اب عمران خان نے اپنے احتجاج کی نئی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔ تاریخ میں تبدیلی اس وجہ سے بھی کرنی پڑی کہ تحریک انصاف نے آخری وقت تک کوشش کی کہ دوسری اپوزیشن جماعتیں احتجاج میں ان کا ساتھ دیں۔ 



عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے درمیان اس امر پر اختلافات ہیں کہ علامہ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ کو اولیت دینا چاہتے ہیں اور قصاص تھریک چلانا چاہتے ہیں جبکہ عمران خان پانامالیکس کے حوالے سے تحریک چلانا چاہتی ہے۔ اس سے قبل دونوں جماعتوں نے 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف اسلام آباد میں دھرنے دیئے تھے۔ 



رائیونڈ شو کے لئے عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ سب سے بڑا شو ہوگا۔ لیکن اس سے قبل پنجاب کے سیاسی ماحول میں گرما گرمی پیدا ہوگئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کہیں کوئی پر تشدد واقعہ نہ رونما ہو جائے۔ تحریک انصاف کے مجوزہ جلسے کے پیش نظر میاں نواز شریف کے حامیوں نے جانثاران نواز شریف کے نام سے فورس بنائی ہے تاکہ تحریک انصاف کے کارکنوں کو جسمانی طور پرجاتی امراؤ میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔پولیس بھلے انہیں آنے کی اجازت دے لیکن ہم انہیں نہیں آنے دیں گے۔ اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے۔ تاہم حکمران جماعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے ایسی کوئی لائن نہیں ہے۔ 



اس ڈندا بردار گروپ نے گزشتہ روز لاہور اور گجرانوالہ میں مظاہرے بھی کئے۔ بعض ایسے جانثاروں کے بیانات بھی شایع ہوئے ہیں کہ عمران خان رائیونڈ آنے کا خیال ذہن سے ہی نکال دیں۔ بلکہ ایک نے اس حد تک کہا کہ جاتی امراؤ کی طرف بڑھنے والوں کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ شاید اسی کے جواب میں عمران خان نے اتوار کے روز کارکنوں کے کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رائیونڈ کسی کے باپ کی ملکیت نہیں۔ اگر خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا ہے تو خطرناک صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ عمران خان کہتے ہیں کہ اگر کچھ ہوا تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب براہ راست اس کے ذمہ دار ہونگے۔ 



عمران خان نے رواں ماہ کے شروع میں رائیونڈ میں دھرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے مخالفت اور تحفظات کے اظہار کے بعد انہیں دھرنے کے بجائے جلسہ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں اپوزیشن جماعتوں سے مثبت رد عمل نہیں مل سکا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر خورشید شاہ نے کہا تھا کہ کسی رہنما کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج یا دھرنے کے وہ مخالف ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانا ان کاحق ہے۔ 



رواں سال جب پاناما لیکس کا معاملہ آیات و پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک پیج پر تھیں۔ اور دونوں نے متعدد باراس امر کا اظہار کیا کہ وہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔ تب اگر یہ دونوں جماعتیں سڑکوں پر نکل آتی تو معاملہ تازہ تازہ تھا، اور حکمران جماعت کو خصی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا۔ لیکن پیپلزپارٹی معاملے کو لپیٹ کر قومی اسمبلی کے اندر لے آئی اور عملی طور پر اس نے تحریک انصاف کو سڑکوں پر آنے روک دیا۔



یہ امر باعث حیرت ہے کہ اس پوری اقتدار کی جنگ میں باقی صوبے حساب میں ہی نہیں ہیں۔ لڑائی صرف پنجاب تک محدود کیوں ہے؟ اس کو ملک کے دوسرے حصوں تک کیوں نہیں پھیلایا جا رہا؟ نواز شریف اور عمران خان دونوں سندھ یا بلوچستان کسی غیر ملکی مہمان کی طرح کرتے ہیں۔ 



ملک میں پائی جانے والی صورتحال بتاتی ہے کہ انتخابی حوالے سے نواز شریف آج بھی اس پوزیشن میں ہیں جس میں وہ پانچ سال پہلے تھے۔ 2017 نواز شریف کے لئے کارکردگی کے حوالے سے آخری ہوگا۔ اور اسی سال میں انتخابات کا بخار چڑھنا شروع ہو جائے گا۔ 2013 میں نواز شریف کے ہاتھوں سے انتخابات نکل رہے تھے تھے۔ پیپلزپارٹی کمزور ہو چکی تھی۔ عمران خان غیر منظم تھے۔ پانچ سال بعد بھی یہی صورتحال ہے فرق یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے بقول ایک تجزیہ نگار کے خود سوزی کر لی ہے۔ پنجاب میں اس کی بحالی نہیں ہو سکی۔ اس نے پانامالیکس کے حوالے سے نواز لیگ کی ضمانت کرادی ہے۔ جو موجود نظام کے حامی ہیں وہ نواز لیگ کے ساتھ ہیں، کیونکہ نواز لیگ صوبے خواہ وفاق میں حکمران جماعت ہے۔ جو مخالفین ہیں وہ عمران خان کے ساتھ ہیں۔ سندھ میں حکمرانی کو بہتر نہ بنا سکی، کشمیر کے انتخابات ہار گئی۔ 



نواز شریف کے لئے آئندہ انتخابات تک دو اہم مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ آرمی چیف کی نامزدگی۔ جو کہ نومبر میں چارج لیں گے۔ نواز شریف اس پالیسی پر چل رہے ہیں کہ عسکری حلقوں کوخارجہ پالیسی یا سیکیورٹی کی چوائس میں اتنا دو جتنا وہ چاہتے ہیں۔ تاکہ وہ خوش ہو کر بیٹھ جائیں۔ وہ نئے آرمی چیف کے لئے بھی یہی رویہ رکھیں گے۔ ایسا کرنا نواز شریف کے لئے 2018 کے انتخابات میں بھی سہولت پیدا کردے گا۔ ایسے میں نیا آنے والا کوئی اور قدم اٹھانے کے بجائے انتظار کرے گا کہّ ئندہ انتخابات میں کون جیت کر آتا ہے۔ .



مسئلہ یہ بھی ہے کہ نواز شریف نے خود کو خطے کی صورتحال سے خود کو منسلک کر دیا ہے۔ خاص طور پر چین سے بڑھتی ہوئی قربت، اور مغرب سے جوڑنے رکھنا۔ ایسے میں عمران خان کے لئے بہت ہی کم آپشن نکلتا ہے کہ وہ 2013 کے انتخابات میں وزیراعظم نہیں بن سکے، لیکن 2018 کے انتخابات میں اپنے لئے جگہ نکال پائیں۔ حالات سے لگتا ہے کہ عملی اور منطقی طور پر کپتان خان کے لئے 2018 میں بھی موقعہ ملنے کی کم امید ہے۔ 

کیا عمران خان اکیلے نواز شریف کی حکومت کا کے لئے مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں؟ یا کوئی بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں؟ موجودہ صورتحال میں یہ ممکن نظر نہیں آتا۔ 

کوٹا سسٹم کی تسلی



کوٹا سسٹم کی تسلی 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

گزشتہ دنوں ڈی جی رینجرز نے سندھ میں کوٹا سسٹم کو میرٹ دشمن قرار دیتے ہوئے اس کو ختم کرنے کوبا قاعدہ طور پرتجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے یہ تجویز صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جس کی صدارت نئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کی ۔ ابتدائی طور پر کوٹا سسٹم دس سال کے لئے لاگو کیا گیا تھا لیکن بعد میں اس میں ہر حکومت اضافہ کرتی رہی۔ بعد میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وضاحت کی کہ کوٹہ سسٹم ختم نہیں کیا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ کا ماننا تھا کوٹہ سسٹم سیاسی معاملہ ہے اس کو سیاسی طور پر ہی حل کیا جائے گا۔ لیکن ایپکس کمیٹی میں اس تجویز کے آنے کے ایک بار پھر ایک متنازع معاملہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے سندھ میں بسنے والی دو بڑی کمیونیز کے درمیان بحث شروع ہو گئی ہے۔ سب سے بڑی دلیل یہ دی جارہی ہے کہ کوٹہ سسٹم سے نااہلیت، امتیاز اور تقسیم میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ صوبے کے حالیہ سیاسی تناظر میں متحدہ اور مہاجروں کو تسلی دینے کے لئے اس طرح کا خیال پیش کیا گیا ہے۔ 

کوٹا کا مطلب ہے کہ سرکاری ملازمتوں یا بعض تعلیمی اداروں میں اقلیتوں یا پچھڑے ہوئے طبقات کو ترقی میں مدد دینا ہے تاکہ وہ ترقی یافتہ طبقات کے برابر کھڑے ہو سکیں۔ اس بنیاد پرپاکستان میں وفاقی ملازمتوں میں بھی کی جاتی ہے جس میں سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونٹوا، فاٹا اور یہاں تک کہ کشمیر کے لئے بھی آبادی کی بنیاد پر کوٹہ مقرر ہوتا ہے۔ سندھ میں یہ تقسیم مزید شہری اور دیہی بنیادوں پر تقسیم ہو جاتی ہے۔ 


اس کوٹہ سسٹم کی وجہ سے دیہی علاقوں کی آبادی کو بھی موقعہ ملتا ہے کہ وہ اچھے تعلیمی اداروں میں داخلوں، اسکالرشپوں یا ملازمتوں میں اپنا حصہ لے سکیں۔ یہ ہم سب جانتے ہیں کہ شہروں میں دیہی علاقوں کے مقابلے میں سہولیات اور معیار زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں کے نوجوان دیہی علاقوں سے ہی مقابلہ کرتے ہیں اور شہری علاقوں کے شہری علاقوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔ 


فیڈرل پبلک سروس کمیشن جو کہ شفاف ادارے کے طور پر پہچانی جاتی ہے وہ بھی سی ایس ایس میں بیوروکریسی کے کا انتخاب کوٹہ سسٹم کے تحت ہی کرتی ہے۔ 


خواتین کو معاشرے کا پسماندہ طبقہ شمار کیا جاتا ہے ان کے لئے نہ صرف ملازمتوں میں بلکہ منتخب ایوانوں میں بھی نشستیں مخصوص ہیں۔ یعنی ان کے لئے بھی کوٹہ سسٹم موجود ہے۔ 

کوٹہ سسٹم ملازمتوں یا اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئے کسی خاص سماجی گروپ کو تحفظ دینے کا نام ہے۔ وہ اس لئے کہ ماضی میں اس گروہ کے ساتھ سیاسی، انتظامی یا کسی اور وجہ سے ناانصافی ہوئی ہے جس کو درست کرنے کے لئے ترجیحی سلوک کیا جارہا ہے۔ اس ترجیحی سلوک یا عمل کو کسی طور پر بھی امتیازی سلوک کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے کیونکہ کوئی گروہ تاریخ کے کسی مرحلے میں کسی وجہ سے اگر پسماندہ رہ گیا ہے تو یہ ریاست اور قانون کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس گروہ کو آگے لے آنے کے لئے خصوصی اقدامات کرے۔ 

سندھ کے بڑے شہروں میں جو تعلیمی یا دیگر تعلیم و تربیت کی سہولیات موجود ہین کیا یہ سہولیات سندھ کے دیہی علاقوں میں موجود ہیں۔ کراچی اور حیدرآباد کے اونچے درجے کے اسکولوں میں جو تعلیمی معیار ہے کیا وہ کسی گاؤں میں موجود ہے۔ آپ کس طرح سے بیکن ہاؤس یا سٹی اسکول کے بچے کا مقابلہ نگرپارکر، چھاچھرو کے بچے کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ 


کوٹہ سسٹم کے بارے میں ایک غلط تاثر یہ بھی پھیلایا گیا ہے کہ اس سے صرف سندھی بولنے والوں کو فائدہ ہے۔ جبکہ اندروں سندھ کے چھوٹے شہروں میں جو جہ ڈومیسائل کے حوالے سے دیہی کوٹہ میں آتے ہیں ان کو یا پھر پنجابی سیٹلرز جو دیہی علاقوں میں رہتے ہیں ان کو بھی اتنا ہی فائدہ ہے۔ یہاں اس امر کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ صوبے میں جو بھی میونسپل علاقے ہیں وہ شہری علاقے کہلاتے ہیں، وہاں کے نوجوانوں کے ساتھ کوٹہ سسٹم کے حوالے سے وہی سلوک کیا جاتا ہے جو کہ حیدرآباد یا کراچی کے نوجوان کے ساتھ۔ حالانکہ اندرون سندھ کے شہروں میں اکثر آبادی سندھی بولنے والوں کی ہے۔ 


پڑوسی ملک انڈیا میں بھی کوٹہ سسٹم موجود ہے۔ سرکاری ملازمتوں اور کالیجوں میں تقریبا پچاس فیصد نشستیں ان لوگوں کے لئے مخصوص ہوتی ہیں جن کا تعلق پسماندہ علاقوں یا قابئل سے ہوتا ہے۔ یہ انسانی حقوق اور سب کو برار کے حقوق دینے کے زمرے میں آتا ہے۔ 


کوٹہ سسٹم اگرچہ گورنر سندھ جنرل رخمان گل نے ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد مارشل لاء کے زمانے میں رائج کیا تھا لیکن اس کو 1973 کے آئین میں باقاعدہ آئینی شکل دے دی گئی۔ وہ آئین جس کو متفقہ آئین کہا جاتا ہے۔ 


یہ درست ہے کہ ابتدائی طور پر دس سال کی مدت مقرر کی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب تک ہمارے دیہی علاقے معاشی، تعلیمی اور دیگر سہولیات کے حوالے سے شہری علاقوں کے برابر آسکے ہیں؟ 


کوٹہ سسٹم کی تاریخ پرانی ہے۔ مختلف ممالک میں خواہ وہ ترقی یافتہ زمرے میں کیوں نہ آتے ہوں، پسماندہ کمیونٹیز کو تحفظ دینے کے لئے کسی نہ کسی شکل میں کوٹہ سسٹم موجود ہے۔ برصغیر میں پہلی مربتہ 1901 میں مہارشٹرا ریاست میں پسماندہ جاتیوں کے لئے کوٹہ سسٹم رائج کیا گیا تھا۔ انڈیا میں 1954 میں مرکزی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ پسماندی جاتیوں اور قبائل کے لئے 20 فیصد نشستیں پسماندہ جاتیوں یا قبائل کے لئے مخصوص کی جائیں۔ بعد میں سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ مخصوص نشستوں کی تعداد کسی طور پر 50 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ حکومت کسی بھی خاص علاقہ یاآبادی کو ترقی کی سطح پر لانے کے لئے خصوصی قوانین بنا سکتی ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل برآمدات کے حوالے سے یورپی ممالک سے کوٹہ حاصؒ کرتا ہے اور اس کا فائدہ بھی اٹھاتا ہے۔ 


تعجب کی بات ہے کہ رینجرز جو سندھ میں جرائم کے خاتمے کے مینڈیٹ کے ساتھ آئی تھی وہ کوٹہ سسٹم جیسے حساس معاملات کو بھی دیکھنے لگی ہے۔ جیسے یہ معاملہ نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہو۔ اگر آج رینجرز اس سیاسی معالے کو اٹھارہی ہے اور اپنے خاص انداز سے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے ایسے میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کسی بھی وقت کالاباغ ڈیم کے لئے بھی رینجرز یا کوئی اور عسکری ادارہ اعلان کر سکتا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی معاملہ ہے اس کو سیاسی طور پر ہی حل ہونا چاہئے۔ یعنی جب تک صوبوں میں اتفاق رائے نہ ہو تب تک اس کی تعمیر نہ کی جائے۔ 

اس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ پاکستان اور خاص کر صوبہ سندھ ایک کثیرانواع صوبہ ہے۔
جس کی ز مینی حقائق دوسرے صوبوں سے مختلف ہیں۔ ان زمینی حقائق کو مانے بغیرسیاسی معاملات کے حوالے سے اگر کوئی اقدام انتظامی طور پر اٹھایا جاتا ہے تو وہ صوبے کی ہم آہنگی کو مزید خراب کرنے کا باعث بنے گا۔ 

Wednesday, September 7, 2016

دہشت زدہ کراچی اور لسانی سیاست



دہشت زدہ کراچی اور لسانی سیاست 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

کراچی کی جب بھی تعریف پڑہنے کو ملے گی تو وہ تین طرح کی ہیں،: ’’ روشنیوں کا شہر‘‘، ’’ عروس البلاد‘‘ اور’’ غریب پرور شہر‘‘۔ لیکن اگر اس کا سماجی اور نفسیاتی جائزہ لیا جائے تو یہ ان لوگوں یا نسلوں کا بھی شہر ہے جو المیہ، دہشت اور احساس محرومی لیے اس شہر میں آباد ہوئے ہیں۔
اس شہر میں ہر کمیونٹی کا فرد خود کو مظلوم اور باقی کو ظالم سمجھتا ہے۔ ہر ایک کو شکایات ہیں۔ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ اس کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ زمینی حقائق بھی یہی بتاتے ہیں کہ اربانائزیشن کا فائدہ صرف اونچے طبقے کو ملا ہے باقی طبقوں کے حصے میں بچی کھچی سہولیات آئی ہیں۔
جس تیزی کے ساتھ ملک کے اکثر علاقوں میں محنت مزدوری اور روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں ہر ایک کی نگاہ اس شہر پر ہے جس کی وجہ سے شہر کی آبادی بڑھ رہی ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ تین سال میں یہ دنیا کا ساتویں بڑے شہر کے طور پر ابھرے گا۔
بندرگاہ ، محل وقوع اور اپنی مخصوص آب و ہوا کی وجہ سے یہ شہر برطانوی دور سے ہی معاشی حب کے طور پر ابھر رہا تھا۔
شہر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کی تقریبا 93 فیصدآبادی گزشتہ ساٹھ سال کے دوران مختلف ادوار میں ہجرت کر کے آئی ہے۔ ایک ہجرت وہ ہے جو ان لوگوں پر مسلط کردی گئی تھی۔ جیسے برصغیر کا بٹوارا، جنوبی وزیر ستان، سوات اور فاٹا میں آپریشن اس کے علاوہ قدرتی آفات ہیں۔ دوسری ہجرت وہ ہے جس کو معاشی ہجرت کہا جاتا ہے یعنی روزگار یا کاروبار کے لئے آکر بسنا۔ کراچی نے ان دونوں قسم کی ہجرتوں کو بھگتا ہے لیکن اس میں اکثریت متاثرین کی ہے جو صدمے درد و تکلیف کے ساتھ یہاں پہنچے ہیں۔



قیام پاکستان کے وقت کراچی کی کل آبادی ساڑھے چار لاکھ تھی اور اس میں مقامی سندھی آبادی 61 فی صد تھی۔ اس میں سے ہندو تاجر اور مڈل کلاس آبادی انڈیا چلی گئی اور اس کے بدلے میں اس شہر کو ایک ہی جھٹکے میں چھ لاکھ افراد کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ اگرچہ نہرو لیاقت علی خان معاہدے کے تحت 1951 میں سرکاری سطح پر یہ سلسلہ رک گیا گیا، لیکن غیر سرکاری اور غیر قانونی طریقے سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا۔


کراچی میں آبادی کی دوسری یلغار ون یونٹ بننے کے بعد ہوئی۔ جب صوبہ سندھ کو مغربی پاکستان کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس دور میں پنجاب، خیبر پختونخوا اور کشمیر سے بندرگاہ اور بڑھتے ہوئے شہر کی وجہ سے آکر لوگ یہاں بڑے پیمانے پر بسنے شروع ہوئے۔ اس کا پنجاب کو ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ بے زمین کسان کی طرف سے زرعی اصلاحات کے لئے دباؤ کم کرنے میں مدد ملی۔ ایوب ان کے صنعت کاری کے دور میں اس میں مزید اضافہ ہوا۔
ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد سندھی آبادی نے ایک بار پھر واپس کراچی آنا شروع کیا لیکن ان کی تعداد انہتائی کم تھی جن میں سے زیادہ تر سیاست دان اور اسمبلی ممبران تھے جبکہ دوسری تعداد سرکاری ملازمین کی تھی۔



بنگلہ دیش بننے کے بعد مشرقی پاکستان سے محصورین پاکستان کے نام پر بہاریوں کو لاکھوں کی تعداد میں پاکستان لیا گیا لیکن کچھ ہی عرصے میں ان کا رخ کراچی کی طرف تھا، ان بہاریوں کی آمد کا سلسلہ بھی ایک بڑے عرصے تک جاری رہا جو بنگلادیش حکومت کی طرف سے قائم کیمپوں میں رہائش پزیر ہیں اور مخلتف مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔


جنرل ضیا الحق کے دور میں پاکستان جب افغانستان میں پراکسی جنگ لڑ رہا تھا تو لاکھوں کی تعداد میں افغان پناہ گزین موجودہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان سے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے لیکن بعد میں آہستہ آہستہ کراچی تک پہنچ گئے جن کی تعداد اب لاکھوں میں ہے، یہاں ان کی دوسری نسل بڑھ کر جوان ہو چکی ہے۔


برما میں ارکانی مسلمانوں اور مقامی آبادی میں کشیدگی کے بعد برمی مسلمان بھی بنگلادیش سے ہوتے ہوئے انڈیا اور رجستھان سے ہوکر سندھ کی حدود میں داخل ہوئے اور ان کی منزل بھی کراچی ہی ٹہری ۔ موجودہ وقت ان کی مچھر کالونی، ریڑھی اور ارکان آباد میں آبادیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔


2005 میں کشمیر، خیبر پختونخو اور فاٹا میں زلزلہ کے متاثرین کو بھی کراچی نے اپنی گود میں جگہ دی۔ اس طرح سے وزیرستان، سوات اور فاٹا کے دیگر علاقوں میں جب آپریشن شروع ہوا تو وہاں کے متاثرین نے بھی کراچی کا رخ کیا باوجود اس کے کہ سندھ کی قومپرست جماعتوں نے اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا لیکن اس کا کوئی زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔


سندھ میں 2010 اور اس کے بعد 2011 کے سیلاب متاثرین بھی ہزاروں کی تعداد میں کراچی پہنچے جو یہاں کیمپوں میں کئی ماہ پڑے رہے بعد میں اکثریت تو واپس چلی گئی لیکن چند سو نے وہاں جاکر زمیندار کی حکمرانی قبول کرنے کے بجائے یہاں محنت مزدوری کو ترجیح دی۔


موجودہ وقت سرائیکی بیلٹ میں معاشی ابتری کی وجہ سے چھوٹے موٹے کام کرنے کے لئے سرائیکی لوگو یہاں کا رخ کر رہے ہیں، مرد رکشاء ، ٹیکسی چلاکر یا کسی حجام کی دکان پر کام کرتے ہیں جبکہ خواتین گھروں میں صفائی کا کام کر رہی ہیں۔


کراچی میں آبادی کا تناسب زبان اور علاقے سے حوالے سے بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ اس ڈیموگرافک تبدیلی کو ایم کیو ایم مختلف طریقوں سے روکے ہوئے تھی اور اس کی مزاحمت کرتی رہی کیونکہ کراچی اب صرف اردو بولنے والوں کا شہر نہیں رہا تھا بلکہ اب اس میں دیگر قومیتیں
بھی شامل ہوچکی ہیں، جو اپنا سیاسی، سماجی، اور انتظامی حصہ لینے کی بات کر رہی تھیں اور اسی بنیاد پر شہر میں سیاست نے ایک نئی شکل اختیار کیا۔
ایم کیو ایم کی سیاست اور عسکریت کے مقابلے کے لیے ایک زمانے میں ملک غلام سرور اعوان نے پنجابی پختون اتحاد قائم کیا، گزشتہ چند برسوں سے پٹھانوں نے مزاحمت شروع کی ، 2008 کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی پٹھانوں کی نمائندہ تنظیم طور پر ابھری۔ اسی طرح لیاری میں امن کمیٹی سامنے آئی جس کی بھی مسلح جھڑپیں ہوئیں۔
کراچی میں لسانی تقسیم اس حد پہنچ گئی کہ پیپلزپارٹی اسمبلی میں اکثریت رکھنے کے باوجود مجبور ہو گئی کہ صوبائی حکومت میں پٹھانوں کو حصہ دے۔ لیکن بعد میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس میں اے این پی کی جگہ پر عمران خان کی تحریک انصاف آگئی۔
حالیہ بلدیاتی انتخابات کا اگر لسانی حوالے سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کراچی میں لسانی صورتحال اور اس کی طاقت کی کیا صو رتحال ہے۔ ایم کیو ایم پہلے نمبر پر ہے جبکہ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر۔ کئی برسوں کے بعد پہلی مرتبہ پنجابی ووٹر نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ نتیجے میں نواز لیگ تیسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری۔
اس مرتبہ پٹھان ووٹ جو پہلے متحد ہو کر کبھی جے یو آئی کو تو کبھی اے این پی کو کامیاب کراتا تھا۔ اس مرتبہ چار سے زائد ٹکڑیوں میں بٹ گیا۔ اس بٹوارہ پی ٹی آئی، اے این پی، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے درمیان مقابلہ ہوا۔



کراچی میں بنیادی یا شہری سہولیات کی شدید کمی نے احساس محرومی کو اور بڑھا دیا ہے۔ 1988 کے بعد مسلسل کسی نہ کسی شکل میں اقتدار میں رہنے والی جماعت ایم کیو ایم نے شہر ی نمائندگی کا دعویٰ تو کیا لیکن پورے شہر کے بجائے صرف اپنے حلقہ انتخاب تک شہری سہولیات کو محدود رکھا۔ صورتحال یہ ہے کہ کراچی واٹر بورڈ کی شہر کے صرف پچاس فیصد علاقے میں لائنیں ہیں۔ بالفاظ دیگرے ایک کروڑ کراچی کی آبادی کو واٹر بورڈ پانی مہیا نہیں کر رہا۔ کئی بستیوں میں پانی کی باقاعدہ دکانیں ہیں۔ جہاں پر ٹینکر مافیا ہی پانی مہیا کرتی ہے۔ دلچسپ امر ہے کہ ٹینکر مافیا کراچی واٹر بورڈ سے پندرہ روپے فی گیلن پانی خرید کرتی ہے اور شہریوں کو پانچ روپے کلو کے حساب سے پانی دیتی ہے۔


ڈیموگرافی کی اس بڑی تبدیلی کو ایم کیو ایم دل سے تسلیم نہیں کرتی۔ اس وجہ سے وہ علاقے جو ایم کیو ایم کا حلقہ انتخاب نہیں وہاں پر تعلیم، صحت، پینے کے پانی، سیوریج وغیرہ کی بھی سہولت موجود نہیں۔ اگرچہ ان بستیوں میں سرکاری اسکول، ہسپتالیں موجود ہیں لیکن وہاں پر مقرر عملے کا تعلق اس آبادی سے نہیں لہٰذا یہاں نہ اسکول چلتا ہے اور نہ ہسپتال۔ یوں مدرسوں یا پرائیویٹ اسکولوں کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ ایم کیو ایم کا زور توڑنے کی کوشش کرتی ہے لیکن مہاجر سیاست کو واپس اسی بیانیہ اور نعرے میں ہی رکھ رہی ہے۔ آفاق احمد ایم کیو ایم حقیقی بناتے ہیں تو وہ بھی مہاجر کاز کی بات کرتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال اگر پاک سرزمین پارٹی بناتے ہیں تو ان کا بھی
بیانیہ وہی ہے۔ سندھ یا پاکستان کا بیانیہ یا نعرہ تو چھوڑیئے یہ لوگ کراچی یا اس کے تمام باسیوں کے بجائے صرف مہاجر کا ہی نعرہ لگاتے ہیں۔ 



سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایپکس کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں غیر مقامی تارکین کو رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں دیگر صوبوں کے لوگ بھی شامل ہیں، میشر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کا دعویٰ ہے کہ آئین میں ایسی پابندی نہیں ہے اور دنیا کے دیگر ممالک میں ریاستیں دیگر ریاست سے آنے والے لوگوں کو روکتی رہی ہے۔


یہاں یہ بات بھی باعث دلچسپ ہے کہ این ایف سی اور پانی کی تقسیم میں بھی سندھ حکومت کا موقف رہا ہے کہ دیگر صوبوں اپنے حصے میں سے کراچی کو پانی اور مالی امداد دیں کیونکہ ان صوبوں کی ایک بڑی تعداد یہاں رہتی ہے لیکن کوئی مسئلے حل کتنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس شہر میں ہر کوئی اپنے سیاسی مفادات تو حاصل کرتی ہے لیکن پے بیک نہیں کرتا۔

روزنامہ نئی بات

http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/06-09-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg

Thursday, September 1, 2016

بیٹوں کی حکمرانی اور سندھ میں کارکنوں کی گھٹتی ہوئی اہمیت


بیٹوں کی حکمرانی اور سندھ میں کارکنوں کی گھٹتی ہوئی اہمیت  
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
Aug-30-2016
پاکستان میں خاندانی سیاست نئی بات نہیں۔ آج بھی قومی خواہ صوبائی اسمبلیوں میں موجود اکثریت جدی پشتی ایوان اقتدار میں رہی ہے۔ یہ سیاسی مظہر ویسے تو ایشیا کے بعض دیگر ممالک میں بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن وہاں صرف ایک دو خاندان کا قصہ ہوتا ہے۔ اگر پاکستان پر نظر ڈالی جائے تو بلدیاتی اداروں سے لیکر قومی اسمبلی اور سنیٹ تک مخصوص خاندان چھائے ہوئے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ملک میں کبھی کبھار انتخابات بھی ہوتے رہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہوری عمل میں وقفے وقفے سے مداخلت ہوتی رہی۔ اور نیا سیاسی نظام اور نئی سیاسی مساواتیں قائم ہوتی رہیں۔ نتیجے میں سیاسی نظام اور جمہوریت نچلے طبقے اور عام آدمی تک نہیں پہنچ سکا۔ 

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نوجوان اور باصلاحیت لگتے ہیں ۔لیکن ان کو اسمبلی کی نشست اور وزارت اعلیٰ کا عہدہ اس وجہ سے دیا گیا ہے کہ وہ سابق وزیراعلیٰ عبداللہ شاہ مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ مراد علی شاہ کا سیاسی سفر صرف تنا ہے کہ انہوں نے 2002 میں سیاست شروع کی اور 2016 میں وہ وزارت اعلیٰ کے عہدے پر پہنچ گئے۔ نہ کبھی سیاسی جلسہ جلوس کیا اور نہ ہی کوئی دوسری عوامی سطح کی سرگرمی۔ جبکہ سندھ میں کئی رہنما ایسے موجود ہیں جنہوں نے پیپلزپارٹی کے ساتھ اپنی عمریں گزار دیں۔ نہ ان کی وفاداری پر شک کیا جاسکتا ہے اور نہ ان کی صلاحیتوں پر۔

پیپلزپارٹی میں اعلیٰ سطح پر یہ مظہر پہلے ہی موجود تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے بعد انہوں نے پارٹی کی کمان سنبھالی۔ مرتضیٰ بھٹو جب تک زندہ تھے ان کا محترمہ کے ساتھ سیاسی وراثت پر جھگڑا چلتا رہا۔ جس کو میر مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ میڈم برقرار کھے ہوئے ہے۔ سیاست کوئی جاگیر نہیں کہ وراثت میں ملے۔ یہ رتبہ تو عوام سے ہی ملتا ہے، اور اس کے لئے عوام سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اور ایک مکمل سیاسی پروگرام اور منشور دینا پڑتا ہے۔ 

مخدوم خاندان، جتوئی خاندان، ٹھٹہ کے شیرازی، گھوٹکی اور شکارپور کے مہر، اور آغا، پہلے سے ہی موجود تھے۔ لیکن وہ لوگ صرف اپنی اسمبلی کی نشستیں ہی اپنی دوسری نسل کو منتقل کر پاتے تھے۔ حالیہ سندھ کابینہ، بلدیاتی انتخابات اور پارٹی عہدیدران کی نامزدگی نے اس پر مہر ثبت کردی ہے۔ 

سیاست میں وراثت بنیادی طور پر جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ اس میں سیاسی یا اجتماعی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات حاوی ہو جاتے ہیں۔ اور ایسی جماعتوں کی سیاست ذاتی مفادات کے گرد ہی گھومتی ہے۔ یہ ایک ایسا مکینزم ہے جس میں عوام اورکارکن مائنس ہو جاتے ہیں۔ ان کی عدم موجودگی صرف اہم عہدوں اور اسمبلی اراکین میں ہی باقی نہیں رہتی بلکہ سیاسی ایجنڈا اور جن مقاصد کے لئے جدوجہد کی جارہی ہے وہاں سے بھی غائب ہو جاتی ہے۔ پچاس، ساٹھ اور ستر کے عشرے میں کسان، مزدور اور طلباء کا نعرہ مقبول تھا۔ آج کیس بھی سیاسی جماعت یا سیاسی گروپ کے پاس ان طبقات کی کوئی اہمیت نہیں۔ نہ ان کے حقوق کی بات کی جاتی ہے اور نہ ہی ان کے ھلے کے قوانین اور اسکیمیں بنائی جاتی ہیں۔ 

اگرچہ بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی قیادت سنبھالتے وقت ، یہ معاملہ کم از کم تین مرتبہ ہوا ہے۔ انہوں نے کارکنوں کو آگے لے آنے کا وعدہ کیا تھا۔ پارٹی کو از سرنو منظم کرنے کی بات کی تھی۔ کارکنوں کی شکایات دور کرنے کی بات کی تھی۔ لیکن ان کا یہ عزم، عمل اور حقیقت میں تبدیل نہیں ہو سکا۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں کارکن عوام اور پارٹی کے درمیان کی اہم کڑی ہوتا ہے۔ جس کے بغیر نہ پارٹی عوام تک رسائی کر سکتی ہے اور نہ عوام پارٹی تک۔ کارکن ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں، اچھے اور سچے کارکنوں کے ذریعے ہی پارٹی خود کو ہر جگہ موجود سمجھتی ہے۔ یہ کارکن جگہ جگہ پر پارٹی قیادت اور اس کی پالیسیوں کی تشریح، وضاحت، اور دفاع کرتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے پارٹی اور قیادت کی امیج بلڈنگ ہوتی ہے۔ اگر اس پل یا کڑی کو ہٹا دیا جائے تو سیاسی جماعتی اور عوام کے درمیان رابطہ ممکن نہیں۔

بیٹوں کو اختیار و اقتدار میں متعارف کرانے کا معاملہ بلدیاتی انتخابات میں بھی جاری رہا۔ جہاں کارکنان اسی طرح سے نظر انداز کئے گئے۔ صوبے کے مختلف اضلاع اور تحصیلوں میں جن لوگوں کو بلدیاتی اداروں کے سربراہ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے وہ کسی ایم این اے یا ایم پی اے کے بیٹے یا بھتیجے ہیں۔ اس کے بعد پارٹی کے عہدیداران کے انتخاب کا مرحلہ تھا۔ یہاں بھی اس بات کو یقنینی بنایا گیا کہ اسمبلی اراکین کے خاندان سے باہر عہدے نہ جائیں۔ ا س صورتحال میں پارٹی میں نئے آنے والوں ، عام لوگوں یا نوجوانوں کے لئے راستے مسدود ہوتے جارہے ہیں۔ ایک مخصوص گروہ پارٹی میں ہر سطح پر حاوی ہوتا جارہا ہے۔ اگر بعض مقامات پر لوکل سطح پر وڈیروں کے اختلافات وغیرہ ہیں ، وہاں ان مخالف گرپوں کو کسی نہ کسی سطح پر اکموڈیٹ کر کے عام آدمی کا راستہ بند کیا جارہا ہے۔ 

سندھ میں بڑے پیمانے پر متوسط طبقہ پیدا ہوا ہے۔ وہ نہ صرف معاشی طور پر بلکہ سیاسی اور سماجی طور پر اپنے لئے جگہ چاہتا ہے۔ لیکن اس کو بطور طبقے کے جگہ نہیں مل رہی۔ فردا فردا کسی بااثر شخصیت کے ذریعے بڑی مشکل سے اپنے لئے جگہ حاصل کر پاتا ہے۔یوں وقتی طور پر اپنے بعض ذاتی مفادات تو حاصل کر پا رہا ہے۔ لیکن اجتماعی طور پر نہ وہ سیاسی کردار ادا کر پا رہا ہے اور نہ ہی سماجی رتبہ۔ 

جس طرح سے ایک زمانے میں سندھ میں سیاسی کارکن یا کسی شاعر ادیب کو معاشرے کے تمام حصے بمع حکمران جماعت اور وڈیروں اور اراکین اسمبلی کے عزت و احترام سے لیتے تھے اس طرح سے اب انہیں نہیں لیا جارہا ہے۔ مجموعی طور پر سندھ میں سیاسی کارکن کا کردار بہت کم ہو گیا ہے اس کی جگہ ایک مرتبہ پھر وڈیرے اور بااثر شخصیات نے لے لی ہے۔ 
عبداللہ شاہ کے بیٹے سندھ میں حکمرانی کر رہے ہیں اور پارٹی میں بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ
2018 کی انتخابی مہم نواز لیگ کی جانب سے مریم نواز اور پیپلزپارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری چالئیں گے۔ لیکن 2023 کے انتخابات میں مریم نواز اور بلاول بھٹو زرادری کے درمیان براہ راست مقابل ہوگا۔ 


http://akhbaar.pk/akhbari_column.php?view=view_column&akhbaari_column_id=340 

http://www.bathak.com/column/column-sohail-saangi-aug-30-2016-86024

نئے مالیاتی ایوارڈ کی طرف پیشقدمی


نئے مالیاتی ایوارڈ کی طرف پیشقدمی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی جائزہ کمیٹی کے لاہور میں منعقدہ اجلاس گز میں فیصؒ ہ کیا گیا ہے کہ نیا مالیاتی ایوارڈ دسمبر تک دے دیا جائے گا۔ سندھ ایک عرصے سے نیا ایوارڈ نہ دینے پر شکایت کرتا رہا ہے ۔ لیکن اس اجلاس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا نے ہی نیا ایوارڈ جلد لانے کے لئے آواز اٹھائی۔ خیبر پختونخوا کا یہ موقف تھا کہ مدت مکمل ہونے کے باوجود پرانا ایوارڈ جاری رکھنا افسوسناک ہے جس پر ہمیں تحفظات ہیں۔ 

پنجاب کی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ پنجاب کی پہلی ترجیح یہاں پر معاشی ترقی کی شرح میں اضافہ کرنا ہے جو کہ 2010 کے مالیاتی ایوارڈ کے بعد بہتر ہوئی ہے۔ لیکن یہ ایوارڈ 2014 تک تھا، اس کے بعد صوبے نئے ایوارڈ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لہٰذا نیا این ایف سی ایوارڈ صوبوں کی ضرورت ہے۔ 

جولائی سے دسمبر 2015 تک کی مالیاتی کمیشن یاوارڈ پر عمل درآمد کے حوالے سے جائزے کی منظوری دی گئی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی صوبے نے وفاقی محکموں، اور مجموعی وصولیوں سے متعلق اعداد وشمار پر اعتراض نہیں کیا۔ ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق 2015 کے دوران وصولیوں کا حجم 1448.79 ارب روپے تھا جبکہ قابل تقسیم محاصل 1415.17 ارب روپے تھا جس میں سے پنجاب کو 51.74 فیصد، سندھ کو 24.55فی صد، خیبر پختونخوا کو 14.62 جبکہ بلوچستان کو 9.09 فیصد دیا گیا۔ اس کے علاوہ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے خیبر پختونخوا کو 14.2 ارب روپے اور بلوچستان کو 5.47 فیصد اضافی فنڈز مہیا کئے گئے۔ پنجاب سمیت تمام صوبوں نے 2010 میں بلوچستان کو اپنے حصے سے ایک فیصد دیا تھا جو کہ اب واپس لیا جارہا ہے۔ 

تعجب کی بات ہے کہ کراچی میں وفاق کے فیصلے کے تحت گزشتہ ڈھائی سال سے دہشتگردی کے خلاف آپریشن چل رہا ہے۔ لیکن لیکن اس ضمن میں سندھ کو کوئی اضافی رقم میا نہیں کی گئی۔ جبکہ آپریشن شروع کرت وقت وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ اس آپریشن کے اخراجات کی نصف رقم وفاق ادا کرے گا۔ اس کے بعد گاہے بگاہے سندھ حکومت وفاق کو وعدے کے مطابق نصف اخراجات ادا کرنے کی یادہانی کراتی رہی بلکہ مطالبہ بھی کرتی رہی۔ لیکن وفاق نے مالی حوالے سے سندھ کو کوئی اضافی رقم مہیا نہیں کی۔ اور نہ ہی وزیر اعلیٰ سندھ جو کہ سید قائم علی شاہ کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے، انہوں نے منگل کے روز منعقدہ لاہور کے اس اجلاس میں سندھ کا یہ مطالبہ اور وفاق کا وعدہ اجلاس میں رکھا۔ 

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ قومالیاتی ایوارڈ کے تحت جو فنڈز منظور ہیں ان میں سے کم رقومات نہیں ملتی بلکہ وصولیاں کم ہوتی ہیں اس کے مطابق حصہ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون میں فنڈز کی منتقلی کا معاملہ باقی ہے۔ اس کا حساب کتاب اکتوبر میں کیا جائے گا۔ لیکن انہوں نے سندھ کی ان بقایاجات کے اعدادوشمار بتانے سے گریز کیا۔ پنجاب کی وزیر خزانہ ڈکٹر عائشہ پاشا نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ رقومات کی منتقلیوں کے حوالے سے کسی کے اعتراضات سامنے نہیں آئے۔ 

نئے مالیاتی ایوارڈ کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ صوبوں پر مشتمل پانچ ورکنگ گروپس تشکیل دئے گئے ہیں۔ انہیں سندھ کی ٹیکسیشن اسٹرکچر، خیبر پختونخوا کے اخراجات اور پنجاب کی وصولیوں کا تخمینہ لگانے کاکام دیا گیا ہے۔ سبسڈی کا شعبہ وفاق کے پاس ہے جبکہ صوبے اپنا کام مکمل کر چکے ہیں۔ 

نئے ایوارڈ کے لئے صوبائی خزانہ سیکریٹریوں کا اجلاس 5 ستمبر کو لاہور میں ہوگا جس میں دسمبر تک مالی وسائل کی از سرنو تقسیم ک پر مفاہمت کی بات چیت کی جائے گی۔ ب نئے ایوارڈ کی جب تیاری کی جارہی ہے اس وقت بعض اہم نکات سامنے رکھنا از حد ضروری ہیں۔
۱) 
ملکی وسائل کی تقسیم پر چھوٹے صوبوں کو ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ انہیں آئین میں مقرر کئے گئے حصے کے مطابق نہیں ملتا۔ 
۲) 
ایک شکایت یہ بھی ہے کہ ملک میں گزشتہ اٹھارہ سال سے مردم شماری نہیں ہو سکی ہے۔ چونکہ وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہو رہی ہے جس سے پتہ چلے کہ کس صوبے کا کتنا حصہ ہے؟ 
۳)
 سندھ اور بلوچستان اس امر پر گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل زور دیتے رہے ہیں کہ مالیاتی وسائل کی تقسیم صرف آبادی کی بنیاد پر نہ ہو، بلکہ ہر صوبے سے وصول ہونے والے محاصل اور وہاں پیدا ہونے والے وسائل ک اس کے ساتھ ساتھ صوبے کی پسماندگی کی صورتحال کو بھی بنیاد بنایا جائے۔ 
۴) 
قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس بھی وقت پر نہیں ہوتے۔ جو کہ مالی وسائل کی تقسیم کے مسلسل جائزے کے لئے ضروری ہیں۔
۵)
 صوبوں کو وفاق سے فنڈز کے اجراء میں تاخیر کی بھی شکایات ہیں۔ ان تحفظات کی وجہ سے صوبوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔ 

31 دسمبر تک کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ نیاا یوارڈ کیسا ہوگا اس کے لئے اگرچہ پانچ ورکنگ گروپ تشکیل دئے گئے ہیں۔ لیکن اس کا اشارہ پنجاب کی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ پاشا کی صحافیوں سے بات چیت سے بھی ملتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وسائل کی تقسیم ( قومی مالیاتی ایوارڈ) ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ پنجاب کی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے یہ موقف اختیار کیا کہ مالیاتی ایوارڈ ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔

’’ ضرورت‘‘ ایک مبہم اصطلاح ہے۔ ہر صوبے کی اپنے طور پر ضروریات ہوتی ہیں اور وہ ان کی ترجیحات اپنے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کا تعین کیسے ہوگا کہ ایک صوبے کی ایک ضرورت دوسرے صوبے سے بڑھ کر کیسے ہوگی۔ خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب ملک کے چاروں صوبوں میں ترقی کی سطح اور رفتار مختلف ہے۔ 

اگر ان کی مراد مختلف صوبوں کی ضروریات کا آ پس میں موازنہ ہے تو اس صورت میں بلوچستان اور سندھ کو اولیت حاصل ہو جائے گی۔ ظاہر ہے کہ ان کی مراد یہ نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اس کے ساتھ انہوں یہ بھی کہا ہے کہ ’’پنجاب دس کروڑ آبادی کا صوبہ ہے اس لحاظ سے یہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ ساٹھ فیصد نواجوانوں پر مشتمل ہے۔‘‘ یعنی وہ ضروریات کو آبادی سے منسلک کرنا چہا رہی ہیں اور وسائل کی تقسیم کو پرانے فارمولاآبادی کی بنیاد پر پر لیکر جانا چاہ رہی ہیں۔ جس پر دیگر صوبوں کو شدید تحفظات رہے ہیں۔ 

ان کی یہ بات درست ہے کہ صوبوں سے ہونے والی وصولیوں کا حصہ وفاق کو جاتا ہے جبکہ خدمات کی تمام تر ذمہ داری صوبوں پر ہے۔ یعنی وہ وفاق کے مقابلے می مجموعی طور پر صوبوں کا حصہ بڑھانے کی بات کر رہی ہیں۔ اس پر یقیننا باقی صوبے بھی متفق ہو سکتے ہیں۔ 

سندھ تیل اور گیس جو توانائی کے نہایت ہی اہم عنصر ہیں ان کا ستر فیصد حصہ پیدا کرتا ہے۔ یہی صورتحال بلوچستان کی ہے جہاں گیس کے ذخئر کے علاوہ تانبے اور دیگر قیمتی دھات اور معدینات موجود ہیں جن کے ذریعے قومی آمدنی یہ صوبہ اپنا بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ صوبے اور وہاں کے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ وسائل ان کی زمین سے نکل رہے ہیں لیکن ان وسائل میں سے ان کے حصے میں کچھ نہیں آتا۔ ایسے میں مزید احساس محرومی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ پسمانگی میں تو اافہ کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیاسی بے چینی کو بھی جنم دیتی ہے۔

نئے مالیاتی ایوارڈ کی تیاری کے موقعہ پر سندھ کے لوگ یقیننا یہ بھی چاہیں گے کہ سندھ خواہ وفاقی حکومت اور دیگتر صوبے ان حقئق کو بھی تسلیم کریں گے تو خاطر میں لائیں گے کہ سندھ صرف ملک کے دیگر صوبوں کے لاکھوں افراد کا ہی نہیں بلکہلاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن کا بھی بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ یوں کروڑوں افراد کے روزگار سے لیکر بنیادی ضروریات اور سہولیات کے حوالے سے اس صوبے پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔ اس حوالے سے بھی سندھ کو اضافی رقومات دینا ضروری ہوجاتا ہے۔

نیا مالیاتی ایوارڈ دینے کے لئے صوبوں کی مشاورت بہت ضروری ہے۔ اس لئے صوبوں کے تحفظات دور کرتے ہوئے، منصفانی مالیاتی تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ تاکہ ملک کے تمام علاقوں کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہو سکیں۔ 

http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/02-09-2016/details.aspx?id=p12_05.jpg 
http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx

یکم ستمبر 2016 
روزنامہ نئی بات