Friday, June 29, 2018

پیپلزپارٹی کے متبادل کی تلاش

https://www.naibaat.pk/28-Jun-2018/14085

پیپلزپارٹی کے متبادل کی تلاش 

پیپلزپارٹی کو ہی سندھ میں ووٹ کیوں ملتے ہیں ؟ 

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

انتخابات کی بڑی تصویر یہ ہے کہ پرانے کھلاڑی اور پارٹیاں میدان میں ہیں۔سندھ میں پیپلزپارٹی اور جی ڈی ہیں، یا چند ایک مقامات پر پی ٹی آئی ہے۔ پی ٹی آئی سمیت کسی کے پاس نیا کچھ بھی نہیں۔ اس صوبے کے دو بڑے سمجھے جانے والے کھلاڑیوں نے تاحال اتخابی منشور کا بھی اعلان نہیں کیا۔ بعض آذاد اور ذاتی حیثیت میں امیدوار ہیں لیکن ان کو بھی جی ڈی اے کی چھتری حاصل ہے۔ سندھ کے عوام نے تقریبانصف صدی تک پیپلزپارٹی کے ساتھ عشق کیا۔ اور اس عشق میں اس کے ساتھ کیا کیا نہ ہوا؟ 



بائیں بازو کی طرف جھکاؤ کے ساتھ پیپلزپارٹی نے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کے ساتھ جنم لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں وقت کے بڑے بڑے دانشور اور بڑے نام پارٹی کی پہچان بنے ۔ وقت گزرتا گیا۔ صرف عالمی اور خطے کے ہی نہیں ملکی حالات تبدیل ہوئے، نئی سیاسی معاشی اور سماجی حقائق ابھرے، طبقات ابھرے۔ سیاست کے طور طریقے اور ڈھنگ بدلے۔ پارٹی میں بھی کئی تبدیلیاں آئیں۔ آج پارٹی کی پہچان یہ ہے کہ سینکڑوں وڈیرے آصف علی زرادری کی قیادت میں جمع ہیں۔ جو صرف الیکٹبلز کی سیاست کرتے ہیں۔وڈیروں کے عقل میں یہ بات وہ اچھی طرح بٹھا چکے ہیں کہ انتخابات بھلے آپ جیت لیں، لیکن اقتدار تک لے جانے کا گر صرف اس کے پاس ہے۔

پارٹی تاریخ کی سب سے مشکل انتخابات لڑنے جارہی ہے۔ پہلے محترمہ کی قیادت تھی۔ 2008 میں محترمہ کی شہادت کی وجہ سے پارٹی کو کوئی مشکل نہیں درپیش تھی۔آج ایسا نہیں۔ 

پارٹی کے جیالے اور حامی ووٹر بلاول بھٹو سے امید بناھے ہوئے تھے۔ لیکن وہ بھی پارٹی کے کلچر اور حکمت عملی کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ 

وفاق میں چار اور سندھ میں پانچ مرتبہ اقتدار میں ر ہنے کی وجہ سے کارکردگی پر جواب طلبی کو منہ دینا پڑرہاہے۔پارٹی میں عوامی قیادت، عوامی نعرے، مزاحمتی مزاج، طاقت کا سرچشمہ عوام کے تصورات اب موجود نہیں۔عوام کی وسیع تر بھلائی اس کا اینجنڈا نہیں رہے۔ اب یہ ساٹھ کے عشرے کی مسلم لیگ جیسے بن گئی ہے۔ جو ایک اقتداری پارٹی میں تبدیل ہو کر بالادست طبقے کے گروہوں کی سیاست کر رہی ہے۔ نواز لیگ اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان حالیہ تضاد میں پارٹی نے اپنی مزاحمتی مزاج کو مزید کھو دیا۔ 
گزشتہ تیس سال کے تجربے کے دروان گروہی سیاسی، معاشی اور طبقاتی مفادات حاصل کرنے کے تمام گر سیکھ لئے ہیں اور وسائل ہاتھ کر لئے ہیں۔ عوام پر یقین کر کے اس سے رجوع کرنے کے بجائے وہ اقتدار کی بقا اور حاصلات کے لئے ہر اس طاقت کے مرکزے کے ساتھ سودے بازی کرکے اقتدار تک پہنچنے کے لئے تیار ہے ۔
یہ درست ہے کہ پنجاب سمیت ملک دیگر صوبوں میں پارٹی سیاست کو ایک قدم آگے لے گئی۔ اور وہاں کے
 عوام بھی کسی نہ کسی شکل میں اس کے ساتھ رہے۔ لیکن سندھ میں صورتحال مختلف تھی۔ذوالفقار علی بھٹو اس کے بعد بینظیر بھٹو کی قیادت ، قربانیوں کاسحر اپنی جگہ پر ۔ اجتماعی سوچ یہ بنی کہ بھٹو سندھی تھے جنہیں قتل کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایم آر ڈی کی تحریک سندھ کی قومی تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ سندھ میں بظاہر قومی تحریک فکر اور ترجیحات کے لحاظ سے متوازی رہی، لیکن سندھ کے لوگوں نے دیکھا جدید تاریخ میں سندھ کے ایک لیڈر کا قتل ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا گیا جو سندھ کی طویل محرومی کے بعد اقتدار میں آیا تھا۔ 
دوسری حقیقت یہ بھی تھی کہ قوم پرستوں نے 70 کے عشرے اور اس کے بعد براہ راست انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ قومی تحریک کے بانی جی ایم سید نے پارلیمانی سیاست میں سندھ کے درد کا درمان نہیں سمجھا۔ لہٰذا سندھ کے لوگوں کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ اپنے حقوق ، سیاسی اتحاد اور سیاسی انتظام کاری کے لئے پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوں، انہوں نے آنکھیں بند کر کے ووٹ بینظیر کو دے دیا، جو ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی اور تاریخ میں سندھیوں کی پہلی خاتوں لیڈر تھی۔
مسلسل پیپلزپارٹی کو ووٹ کرنا صرف جذباتی فیصلہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک اجتماعی شعور موجود رہا جس کو اکثر تجزیہ نگار نظرانداز کرتے رہے ہیں۔ وہ سندھ کو ایک طرف پنجاب کی بالادستی سے خطرہ محسوس کرتے رہے ۔اس کے پیچھے کئی واقعات اور جدوجہد بھی رہی ہے۔ 
سندھ کے اکثر اہل فکر ونظر سمجھتے ہیں کہ’’ بینظیر بھٹو کی قیادت میں چلنے والی پیپلزپارٹی ایک ایسے وقت کی متحرک پارٹی رہی جب سندھ کو باہر کی آبادکاری، بڑے شہروں سے بے دخلی، وفاقی وسائل کی منصفانہ تقسیم، صوبائی خود مختاری، کالا باغ ڈیم جیسے منصوبوں کا خوف عروج پر تھا۔ تب سندھ کے اجتماعی شعور کی خواہش اور کوشش یہی رہی کہ پیپلزپارٹی جو ان مطالبات کو جائز سمجھ کر سندھ کی پارلیمانی سیاست کی قیادت کر رہی ہے ، سندھ کا ووٹ اور اتحاد کا مظاہرہ اس کے ذریعے ہی ہونا چاہئے۔‘‘ بینظیر بھٹو کے قتل بہت کچھ تبدیل ہوا۔ لیکن پیپلزپارٹی نے کالاباغ ڈیم کو مردہ گھوڑا کی قرارداد منظور کرالی، اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خود مختاری کو آئین میں یقینی بنایا۔این ایف سی ایوارڈ میں حصہ بڑھایا۔

سندھ کے لئے یہ امرتکلیف دہ ہے کہ سندھ کے لوگ جس پارٹی کے سحر میں مبتلا تھے اس کی پہچان کرپٹ، بدانتظامی، اوربالادست طبقات کی پارٹی سے عبارت ہے ۔ جو عوامی مفادات سے زیادہ گروہی مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔ آج پیپلزپارٹی کے امیدواران ووٹرز سے جوابدہی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ جوابدہی مثبت امر ہے۔ اس سے ووٹ تو کم ہو سکتے ہیں لیکن نتائج تبدیل نہیں ہوسکتے۔ 
اب سندھ میں متبادل کی بحث اور شاید کوششیں بھی ہورہی ہے۔ متبادل سے مراد ہمیشہ بہتر آپشن ہوتا ہے۔اگر کوئی بہتر آپشن نہیں تو متبادل کا پورا بیانہ ہی دم توڑ دیتا ہے۔ اوپر جو حقائق بیان کئے ہیں ان کے ساتھ بھٹوز کی شہاتیں اور نچلی سطح پر ووٹرز کا گروپ پیدا کرنا ٹھوس حقائق ہیں۔ پیپلزپارٹی کو بے فیض، آزمودہ اور عوام کو عذاب دینے والے وڈیروں کے اتحاد کے ذریعے ہٹایا نہیں جاسکتا ۔ اور نہ ہی اس وڈیروں کے اتحاد کے ذریعے سندھ کو خوشحال بنایا جاسکتا ہے۔ اسیے متبادل کی صورت میں سندھ کے لوگ یہ سمجھیں گے کہ اس سے پہلے والے یعنی پیپلزپارٹی ہی بہتر ہے۔ یہ ضرور ہے کہ 2018 کے انتخابات عوام کے لئے اور تبدیلی یا متبادل لانے ولاوں ے لئے ایک تجربہ ضرور ہیں۔ خود پیپلزپارٹی کے لئے بھی سبق ہیں۔
پیپلزپارٹی کا متبادل تلاش کرنا ایک اور آواز بلند کرنا نہ صرف اچھی بات بلکہ ضروری ہے، لیکن اس کے لئے محنت، سیاسی سچائی، ثابت قدمی کی ضرورت ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ عین الیکشن کے وقت ایک گروہ آئے اور سمجھے کہ وہ پیپلزپارٹی کا دھڑن تختہ کر دے گا۔ اگر صرف الیکشن کا ہی معاملہ ہے تو یہ ایک الگ مکینزم اور حرکیات ہیں جس میں آپ پیپلزپارٹی اور وڈیرے کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اقتداری سیاست نے الیکشن کو بہت مہنگا ، پیچیدہ اور کئی مفادات پر مشتمل کھیل بنا دیا ہے۔

https://www.naibaat.pk/28-Jun-2018/14085

Thursday, June 28, 2018

الیکشن 2018 کے نئے رجحانات


الیکشن 2018 کے نئے رجحانات


میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پچیس جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات میں بعض نئے رجحانات سامنے آئے ہیں۔جو ایک سیاسی، سماجی، ٹیکنولاجی اورا دارتی حوالے سے نئی صورتحال کا اظہار ہیں۔ درج ذیل صرف اب تک کے رجحانات ہیں۔ جبکہ باقاعدگی سے انتخابی مہم کا آغاز ہونا اور پولنگ کے مراحل باقی ہیں۔ان انتخابات کے پس منظر میں تین باتیں صاف طور پر ابھر کر سمنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے یا ملتوی ہوجائیں گے۔ یہ التوا چند ہفتے کا بھی ہو سکتا ہے اور چندماہ کا بھی۔ انتخابات ہونے کی صورت میں آکر وقت تک غیر یقینی صورتحال کے بادل چھائے رہیں گے۔ یعنی غیر یقینی صورتحال میں ہی انتخابات ہونگے۔ 
پس منظر میں دوسری بات یہ ہے کہ انتخابی مہم مختصر اور دھوم دھڑاکے والی نہیں ہوگی۔ بڑی حد تک گونگی مہم ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو بڑے جلسے کرنے یا عام رائے کو سرگرم کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ خیال ہے کہ یہ اس وجہ سے کیا جارہا ہے کہ ملک ایک تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اگر مندرجہ بالا دو چیزیں ہونے لگتی ہیں تو اسٹیٹسکو نہیں رہتا۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ ہر جماعت سمجھتی ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوگی ۔ وہ ہر صورت میں اپنی پسند کے نتائج چاہتی ہے۔ اکثر سیاسی جماعتوں کے نزدیک صرف وہی انتخابات ’’ آذادانہ ‘‘ قرار پائیں گے جس میں ان کے شیئر کو یقینی بنایا ہوا ہوگا۔ 
ان بنیادی مظاہر کے علاوہ کچھ اور زمینی حقائق بھی سامنے آئے ہیں۔ صاف ظاہر ہوا کہ ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتیں امیدواروں کوٹکٹ کے اجراء پر بحران کا شکار ہیں۔ وہ یا فیصلہ نہیں کر پا رہی ہیں یا ان کے فیصلوں کو پارٹی کے اندر مخلتف سطح پرچیلینج کیا جارہا ہے۔ پارٹیوں نے جو ٹکٹ جاری کئے ہیں، ان پر پارٹی کے اندر اختلافات ہیں اور ان اختلافات کا کھل کر اظہار بھی کیا جارہا ہے۔ کئی مقامات پر پارٹی یہ رہنما اپنی پارٹی کے نامزد امیدواروں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ جو ظاہر کرتے ہیں کہ پارٹی قیادت کے فیصلے درست نہیں۔ اس کی وجہ ملک کی بڑی جماعتوں کی جانب سے پارٹی، اس کا پروگرام اور کارکن اہم نہیں بلکہ الیکٹبل اہم قرار دیئے گئے تھے۔ 

پارٹیوں کے اندرونی معاملات:

کارکنوں کی احتجاجی مہم کا آغاز پی ٹی آئی کے کارکنوں نے کیا اور پارٹی کے سربراہ عمران خان کی رہائشگاہ بنی گالہ کے باہر کئی روز تک دھرنا دے کر بیٹھے رہے۔ اس کے بعد پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے کراچی میں بلاول ہاؤس کے باہر دھرنا دیا۔ انتخابات کیلئے ٹکٹوں کی تقسیم پر سیاسی جماعتیں پریشانی کا شکار رہیں، کئی مقامات پر جھگڑے اور مظاہرے ہوئے ۔ بعض حلقوں میں دباؤ کی وجہ سے پارٹیوں کو امید واروں تبدیل کرنے پڑے ۔حال ہی میں تحریک انصاف سندھ کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کے گھر کے باہر کارکنان نے پی ایس 118 پر امیدوار اسد امان کو تبدیل کرکے ان کی جگہ ملک عارف کو ٹکٹ دینے کے خلاف شدید احتجاج اور دھرنا دیا۔ کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے قبل تحریک انصاف کراچی کے دفتر میں کارکنوں نے ہنگامہ آرائی کی تھی۔ ملتان میں پی ٹی آئی خواتین نے ٹکٹوں کی تقسیم کے خلاف شاہ محمود قریشی کی رہائشگاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیدیا،اس موقع پرخواتین کے دوگروپوں میں جھگڑا بھی ہوا جس میں دوخواتین زخمی ہو گئیں۔ 

الیکٹ ایبلز اور کارکنا ن کے جھگڑے:

سندھ میں اگرچہ پیپلزپارٹی ’’ ہم جنگل میں اکیلے شیر‘‘ کی طرح کا معاملہ ہے ،لیکن یہاں بھی صورتحال مکمل طور پر اس کے قابو میں نہیں۔ضلع مٹیاری میں پیپلز پارٹی کے مخدوم امید واروں کو جیالوں کی جانب سے بغاو ت کاسامنا ہے۔ ہالہ کے مخدوم خاندان نے اس سیاسی خاندان کو مناسب حد تک ایڈجسٹ نہ کرنے پر پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دی تھی۔ بعد ضلع میں تین ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔پیپلزپارٹی ضلع مٹیاری کے سابق صدرورکن سندھ اسمبلی پیرامیرشاہ ہاشمی نے سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 59پرمخدوم رفیق الزماں کوپارٹی ٹکٹ دیئے جانے پرسخت احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ مٹیاری کے لوگ مخدوم رفیق الزماں کوووٹ نہیں دینگے۔ مخدوم امین فہیم کے انتقال کے بعد مخدوم خاندان پہلی مرتبہ الیکشن لڑنے جارہا ہے۔
ساحلی ضلع ٹھٹھہ میں پیپلز پارٹی نے شیرازی برادران سے مصالحت کے بعد انہیں مطلوبہ پارٹی ٹکٹس جاری کردی ہیں۔ ضلع کے رہنماؤں اور پرانے کارکنوں نے پارٹی قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ قیادت نے بی بی کے ساتھیوں اور ہمدردوں کو نظر انداز کردیا۔پیپلزپارٹی کو تھرپارکر کے تین حلقوں میں مشکل کاسامنا ہے ۔ایک قومی اسمبلی کی نشست اور ایک صوبائی اسمبلی کے حلقے پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کر پائی۔ یہ اسلام کوٹ کی صوبائی اسمبلی کا حلقہ ہے جو کوئلے کا علاقہ ہونے ک وجہ سے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں پارٹی کے نصف درجن الیکٹیبلز آمنے سامنے ہیں۔ ادھر نگرپارکر چھاچھرو کے صوبائی حلقہ پر پارٹی کے نامزد امیدوار کے سامنے دوپارٹی کے دو مقامی رہنما علی اکبر راہموں اور عبدالغنی کھوسو میدان ہیں۔جو دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں۔اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کو قمبر شہدادکوٹ، گھوٹکی، نوشہروفیروز اور دادو میں بھی کارکنوں یا الیکٹیبلز کے احتجاج کا سمان ہے۔ عمرکوٹ میں مخدوم آف ہالہ کے قریبی علی مراد راجڑ نے گزشتہ دور کے صوبائی وزیر ثقافت سردار علی شاہ کے حق میں دستبردار ہونے سے انکار کردیا ہے۔ 
پنجاب میں مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پارٹی کے نامزد امیدواروں کیخلاف سڑکوں پر احتجاج کیا جارہا ہے۔ اورامیدوار کی نامزدگی کا فیصلہ تبدیل نہ کرنے کی صورت میں احتجاجی دھرنا دینے اور امیدواروں کو سپورٹ نہ کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ 
میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 160 اور پی پی 144 کے امیدواروں کیخلاف مقامی لیگی قیادت نے حلقہ میں نامنظور کے بینرز لگائے، سابق صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین کے خلاف حلقے میں بینرز آویز ا ں کئے اور احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ سرگودھا میں بھی ن لیگ کے کارکنان ٹکٹوں کی تقسیم کیخلاف احتجاجی جلوس نکالے گئے، مظا ہر ین نے این اے 90،پی پی 77،پی پی 78میں حامد حمید، عبدالرزاق ڈھلوں کو ٹکٹ دینے کامطالبہ کیا۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملہ پرپی پی 114فیصل آباد میں بھی ناراضگی موجود ہے۔ نوازلیگ کے رہنما و امیدوار پی پی 115کی جانب سے این اے 109میں میاں عبدالمنان کو ٹکٹ دینے کے خلاف احتجاجی جلسہ کیا گیا۔ نواز لیگ کی جانب سے پی پی 160 کیلئے توصیف شاہ کوٹکٹ جاری کی کرنے کے خلاف یونین کونسل کے چیئرمینوں و کارکنوں نے احتجاج کیا ہے۔ سرگودھامیں تحریک انصاف کے کارکنوں نے پارٹی قیادت کی طر ف سے ٹکٹوں کی تقسیم کے خلا ف بھر پور احتجا ج کا فیصلہ کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ چوہدری ممتا ز اختر کاہلو ں کو این اے90 کا ٹکٹ جا ری نہیں کیا گیا تو وہ احتجا ج کریں گے۔اس طرح کے متعدد اعتراضات اور اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ووٹرز کی جانب سے جواب طلبی:

یہ تو تھے الیکٹبلز کے آپس میں یاکارکنان کے ایلکٹیبلز سے جھگڑے اوریا امیدواروں کی نامزدگی پر اعتراضات۔ ایک پہلو اور بھی ہے کہ ان امیدواروں کے ساتھ ووٹرز بھی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں اور جواب طلبی کر رہے ہیں۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جب کہوٹہ پہنچے تو مسلم لیگ نوازکے کارکنان نے ان کی گاڑی کا گھیراؤکرلیا مظاہرین نے سابق وزیراعظم عباسی کے خلاف نعرے لگائے۔مظاہرین نے انہیں انتخابی مہم کے وعدے یاد دلائے ۔سندھ میں پیر پاگارا کی قیادت میں قائم گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے گھوٹکی میں پیر عبدالحق عرف میاں مٹھو کو ٹکٹ دیا تھا۔ میاں مٹھو پر ہندو لڑکیوں کو اغوا اور ان کو زبردستی مذہب تبدیل کرانے اور شادی کرانے کا الزام ہے۔ سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد جی ڈی اے نے ان سے ٹکٹ واپس لے لیا ہے۔ 
سکندر حیات بوسن ن لیگ چھوڑنے کے بعد پہلی بار اپنے حلقے این اے 154 ملتان پہنچے تو شہریوں نے ان کی گاڑیوں کو گھیرے میں لے لیا۔ اورنے’لوٹے۔۔ لوٹے‘ کے نعرے لگائے۔ سکندر حیات بوسن علاقہ مکینوں کو وضاحتیں دیتے رہے۔اب پی ٹی آئی نے سخت تنقید کے بعد سکندر بوسن سے ٹکٹ واپس لے لیا ہے۔ چند روز قبل مسلم لیگ ن کے رہنما سردار جمال لغاری ڈیرہ غازی میں اپنے حلقے کے دورے پر پہنچے تو انہیں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ نہیں ۔ اس طرح کے چند واقعات سندھ میں بھی پیش آئے ہیں۔ نصف درجن مقامات پر ایسا ہوا ہے کہ انتخابی مہم کے لئے امیدوار پہنچے تو ووٹرز نے جواب طلبی کی اور یہ بھی اتنا عرصہ کہاں تھے۔

سوشل میڈیا کا استعمال : 

ووٹرز کی جانب سے کی جانے والی جواب طلبی کے واقعات سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے ۔جس سے مزیڈ
 امیدواروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ان واقعات سے ہٹ کر بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا کا استعمال ہورہا ہے جس میں امیدواروں کے حق میں یا ان کے خلاف معلومات اور بعض صورتوں میں کسی کہانیس منسلک کر کے تصویری یا ویڈیو کی شکل میں انتخابی مہم کے پیغامات چلائے جارہے ہیں۔ اس صورت میں امیدواران یا ان کے مخالفین رروایتی میڈیا کے محتاج نہیں رہے۔ عام لوگوں میں اس بات کو اہمیت دی جارہی ہے کہ امیدوار جیسا عام زندگی میں ہے ویسا میڈیا یا عوام کے سامنے جلسے میں بھی نظر آئے۔ سرگرم میڈیا اور سوشل میڈیا کے زمانے میں کوئی معلومات چھپی نہیں رہ سکتی۔ ڈیجیٹلائزیشن نے انتخابی مہم کو تبدیل کردیاہے۔ اب ہر کوئی آن لائین ہے۔

ٹیکنالاجی کے عنصر کا انتخابی مہم میں استعمال بلاشبہ اہم ہے اور اس کے اثرات کا فی الحال اندازہ نہیں لگایا جاسکتاہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ خود سیاسی محاذ پر بھی کچھ تو گربڑ ہے۔ سیاسی جماعتیں مقبولیت بڑھانے یا مخالف کو گرانے میں زیادہ مصروف رہتی ہیں۔سیاسی جماعتیں، پارٹی کارکنان، الیکٹیبلز اور ووٹرز کے درمیان بہت بڑے فاصلوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے باقاعدگی سے تنظیم سازی اور پارٹی کے اداروں کی عدم موجودگی ہے۔ جہاں پر عام آدمی اور پارٹی کیڈر غیر حاضر ہے۔

http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/election-2018-ke-naye-rujhanat

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/60489/Sohail-Sangi/Election-2018-Ke-Naye-Rujhanat.aspx

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/election-2018-ke-naye-rujhanat-4783.html

Friday, June 22, 2018

انتخابی مہم کے نسخے اور ووٹرز



انتخابی مہم کے نسخے اور ووٹرز ۔۔ ووٹرز انتخابی مہم کے نسخوں کی زد میں ۔۔ تیسری لائین میں کھڑا ووٹر
Negative Election Campaign and voters' Response
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 

دنیا کے اکثر ممالک میں اب جمہوریت ہے۔ خواہ کسی بھی معیار کی ہو۔لہٰذا انتخابات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ دنیا کی بڑی جمہوریتوں امریکہ یورپ وغیرہ میں سیاسی نظام ترقی یافتہ ہے۔ وہاں دو بڑی جماعتیں ایک دوسرے کے مقابلے میں ہوتی ہیں۔بعض اوقات چھوٹی جماعتوں یا گروپوں سے انتحاد بنالیتی ہیں۔ لہٰذا انتخابات حکمران اور حزب اختلا ف کے درمیان ہوتے ہیں۔ جن ممالک میں باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں وہاں سے ڈیڑھ دو سال پہلے مقابلے میں آنے والی جماعتیں اپنی حکمت عملی بنا لیتی ہیں کہ کن ایشوز کو اٹھانا ہے اور کس طرح سے اٹھانا ہے؟ 


قابل غور امر ہے کہ انتخابات سے ڈیڑھ دو سال پہلے ایک ماحول بننا شروع ہوتا ہے۔ یہ غیر اعلانیہ انتخابی مہم کا آغاز ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن مختصر مدت دیتی ہے لیکن انتخابی مہم کوئی دو تین ماہ کا قصہ نہیں ہوتا، لہٰذا پہلے سے انتخابی مہم کی حکمت عملی بنانا ضروری ہے۔ بڑی سیاسی جماعتیں اس عرصے کے دوران مختلف منتخب فورم پر اشوز کو میچوئر کرتی رہتی ہیں۔


پاکستان ایک الگ مظہر ہے ۔ یہاں ہر پندرہ بیس سال کے بعد انتخابات کرانے کے لئے تحریک چلانی پڑی۔ ساٹھ کے عشرے میں جنرل ایوب خان کے خلاف عام بالغ دہی کی بنیاد پر انتخابات کرانے کی تحریک چلی، نتیجے میں انہیں استعیفٰی دینا پڑا۔ لیکن جاتے جاتے وہ اقتدار دوسرے جنرل یعنی یحییٰ خان کے حوالے کر گئے۔ تاہم انتخابات ہوئے۔ 80 کے عشرے میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف پیپلزپارٹی کی قیادت میں تحریک بحالی جمہوریت چلی۔ پھر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نواز لیگ اور پیپلزپارٹی نے تحریک چلائی۔ بالاآخر مشرف کو جانا پڑا۔


مارشل لاء کے علاوہ جب بھی ملک میں انتخابات ہوئے ان کے خلاف اعتراضات اور اختلافات سامنے آئے۔ 1977 میں بھٹو نے عام انتخابات کرائے ، اس کے خلاف پی این اے نے تحریک چلائی۔ نیتجے میں بھٹو کو برطرف کر کے جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء نافذ کیا۔ 90 کے عشرے میں بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت کے بعد انتخابات ہوئے، جس کو بینظیر نے ان انتخابات کو انجنیئرڈ قرار دیا اور تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا، نتیجےۃنواز شریف کی حکومت کو آدھی مدت کے دوران ہی ہٹا دیا گیا۔



۔ 2013 کے انتخابات سویلین سیٹ اپ کے تحت ہوئے۔ مسلم لیگ نواز جیت گئی۔ عمران خان نے منظم دھاندلی کا الزام عائد کر کے دھرنے شروع کئے۔ ان کی یہ مہم ان انتخابات کے روز اول سے جاری رہی۔ نواز شریف دھاندلی کے الزامات پر برطرف نہ ہو سکے ۔ بعد میں انہیں اقامہ کے کیس میں عہدے سے برطرف کردیا گیا۔ اور تیسرے جولائی میں ہونیوالے انتخابات ہیں جو تحریک کے تسلسل میں ہو رہے ہیں۔ 


پاکستان کی تاریخ میں دو اہم انتخابات تحریک کے بعد منعقد ہوئے۔ایوب خان اور ضیاء الحق لہٰذا ان انتخابات میں تحریک کا ٹیمپو برقرار رہا ہے۔ 2008 کے انتخابات بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہوئے ۔ان انتخابات پر اس واقعہ کی چھاپ موجود رہی۔ بظاہر تحریکوں کے نتیجے میں ہونے والے انتخابات میں الگ سے انتخابی مہم چلانے کی زیادہ ضرورت نہیں تھی، لیکن انہی انتخابات کے لئے بڑی مہم چلی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ملک کے سیاسی اور معاشی نظام کو ا دوسرے نظام میں جانا تھا۔ تاہم سیاسی پیغام وہی حاوی رہا جو ان تحریکوں کے دوران تھا۔ 

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان تحریکوں کے نیتجے میں منعقد ہونے والے انتخابات کے موقع پر حکومت وقت بطور مخالف یا فریق نہیں تھی ، سیاسی پارٹیاں آپس میں ہی تھی۔ سیاسی بیانیہ بنانا انتخابی مہم مرتب کرنا اس وقت مشکل ہوتا ہے جب سامنے غیرسیاسی قوتیں نہ ہوں ۔ ایک سویلین سے دوسرے سویلین کو اقتدار منتقل ہورہا ہو۔ 


ہمارے ہاں ابھی جمہوریت اور انتخابات اتنی بالغ نہیں ہوئے۔ لہٰذا انتخابی مہم میں بھی بالغ نظری کم نظر آتی ہے۔ انتخابات کے لئے سیاسی مہم مرتب کرنا اور چلانا مشکل کام ہے۔ اس ضمن میں ہمارے ہاں نہ کوئی تحقیق ہوئی، اورنہ سیاسی جماعتیں اس کی عادی ہیں۔ زیادہ تر یہ مہم غیر سائنسی انداز سے چلائی جاتی رہی ہے۔ بعض اوقات مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی نے غیر ملکی ماہرین سے مشاورت کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اب عمران خان نے بھی اس طرح کی مشاورت کی ہے۔ 


انتخابی مہم دراصل ووٹرز کی نفسیات اور جذبات سے کھیلنا ہے۔ ایک ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے کہ ووٹر سیاسی پیغام سننے کے لئے تیار ہو، اور اس کو قبول کرنے کے لئے آمادہ بھی ہو۔ انتخابی مہم کی دوا قسام ہیں۔ ایک منفی دوسری مثبت۔ مخالف امیداور کی کارکردگی، پالیسی اور اس کے معیار پر تنقید یا حملے کے بغیر کوئی انتخابی مہم نہیں ۔ منفی مہم انتخابی مہم کا ایک بہت بڑا حصہ ہوتی ہے۔میڈیا پر خبروں میں اس کو اگرچہ بہت کوریج ملتی ہے لیکن سیاسی پنڈت، صحافی اور ووٹر منفی مہم کوپسند نہیں کرتے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے منفی مہم نے کئی محققین کی توجہ اس طرف دلائی۔


مہم کے اشتہارات دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک موازنہ دوسرے حملہ کرنے والے۔ مثبت مہم وہ ہے جس میں ووٹ حاصل کر نے کے لئے امیدوار متعلقہ مسائل اور ایشوز پر فوکس کرتا ہے ، اپنے خیالات اور اپنا تجربہ بیان کرتا ہے، اور اس کی خوبیاں بیان کرتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ اپنے مخالف پر حملہ کئے بغیر کرتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں یہی ماڈل اپنایا جاتا ہے۔ وہاں کا سیاسی نظام بھی مضبوط ہے اور میڈیا اور عدالتیں بھی۔



انتخابی مہم مثبت ہو یا منفی، سیاسی اشتہارات سیاسی پیغام کا کام کرتے ہیں۔ حملے، دعوے تعریفیں، اور دفاع ، پالیسی اور شخصیت پر تبصرے بھی اس مہم کا حصہ ہوتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران بعض انکشافات اور اسکینڈل بھی سامنے آتے ہیں۔ ریحام خان کی غیر مطبوع کتاب اسی وجہ سے عمران خان کے لئے ہڈی بنی ہوئی ہے۔ تحریک انصاف اس کتاب کو اپنے بڑے مخالف نواز شریف اور ان کی پارٹی سے جوڑ رہی ہے۔ 


منفی مہم میں سیاسی بحث اور سیاسی پیغام میں مخالف امیدوار کے کردار کی خامیوں یا کمزوریوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ منفی مہم چلانے کے لئے متعدد تیکنیک استعمال کی جاتی ہیں۔ مخالف کی شخصیت، ریکارڈ ، کارکردگی یا خیالات پر حملے کے اشتہارات سب سے موثر سمجھے جاتے ہیں۔ 


سیاستدان منفی مہم کو یقینی جیت کی حکمت عملی سمجھتے ہیں کیونکہ یہ ووٹرز کے جذبات سے کھیلتی ہے۔ مہم میں مسالہ اور بھانت بھانت کی معلومات ووٹنگ کے رویے میں موثر رول ادا کرتا ہے۔ سیاست دانوں کا

 ماننا ہے کہ یہ آگہی دینے کی حکمت عملی ہے۔ ووٹرز سمجھتے ہیں کہ یہ جذبات سے کھیلنے کی بات ہے۔ 



کرپشن کے بیانیے نے ملک میں بے چینی کی فضا پیدا کی ہوئی ہے۔ اس کے مخالفت میں نواز شریف کا بیانیہ ہے کہ دراصل سویلین ی بالادستی اور جمہوری اداروں کے اختیارات کا معاملہ ہے۔ سماج کے ایک حصے میں کرپشن کے بیانیے کی وجہ سے بے چینی ہے۔ اس بیانیے کو عدلیہ اور تحقیقاتی ادارے بھی معاونت کر رہے ہیں۔ یوں عام لوگوں میں اس بیانیہ کا تاثر بھرپور انداز میں بٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 


سماج کا دوسرا حصہ اس وجہ سے بے چینی محسوس کرتا ہے کہ جمہوریت اور سویلین اختیار خطرے میں ہے۔ 70 کے انتخابات میں مذہبی جماعتوں نے اسلام خطرے میں ہے کا نعرہ لگایا تھا۔ 


غیر یقینی صورتحال میں ووٹر بے چینی محسوس کرتا ہے۔ وہ سیاسی معاملات اور اپنے مسائل پر زیادہ اور قریب سے توجہ دینا شروع کرتا ہے۔ کوئی فیصلہ کرنے یا ووٹ کے لئے ذہن بنانے سے پہلے مزیدمعلومات چاہتا ہے۔ ایسے میں ہر فریق اپنا موقف اور اپنا پیغام پہنچانا چاہتا ہے۔ یہی وہ ہے کہ عام لوگوں میں سیاسی بحث عام ہے۔ ٹی وی چینلز پر سیاسی ٹاک شوز کے سامعین بڑھ گئے ہیں، یہاں تک کہ تذبذب کی وجہ سے اخبارات کی سرکیولیشن بھی بڑھ جاتی ہے۔ 


جذباتی اشارہ ووٹر کو سیاسی منظر نامے میں تبدیلیوں کے لئے خبردار کرتا ہے اور زیادہ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔مذہبی جماعتیں متحدہ مجلس عمل کی شکل میں جمع ہوئی ہیں۔ جیسے مذہبی معاملات کو کوئی خطرہ ہو۔ کراچی میں ایم کیو ایم مہاجروں کو خطرہ کا اشارہ دے رہی ہے۔ سندھ میں بعض قوم پرست جماعتیں اپنی مہم سندھ کے بقا کے طور پر چلا رہی ہیں۔ 

جتنی بے چینی بڑھے گی اتنا زیادہ ووٹر ووٹ دینے آئے گا۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ ووٹ ڈالتے وقت صحیح فیصلہ کرتا ہے یا غلط۔ یہ اس پر منحصر ہے کہ تقابلی سیاسی پیغامات کتنے موثر حد تک ووٹرتک پہنچے ہیں۔ 


ووٹرز کی عمومی طور تین قسام ہیں ۔ ایک وہ جو حامی ہیں، دوسری مخالفین، یہ دونوں اقسام سرگرم ووٹر کے زمرے میں آتی ہیں۔یہ دونوں پہلے سے فیصلہ کئے ہوئے ہوتی ہیں۔ تیسرے قسم وہ ہے وہ جو بیچ پر کھڑے ہیں۔ پاکستان میں ان کی بہت بڑی تعداد ہے،کیونکہ یہاں پر سیاسی جماعتیں اپنی تنظیمی شکل میں اور جمہوری انداز سے موجود نہیں۔ 


اگر ووٹربے چینی محسوس نہیں کرتا، وہ سمجھتا ہے کہ صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آرہی ہے، اس کے مفادات کو کوئی خطرہ نہیں وغیرہ۔ یہ کم ٹرن آؤٹ کی علامت بن سکتا ہے۔ امریکہ یا یورپ کے بعض ممالک میں کم ٹرن آؤٹ بہت بڑا مسئلہ ہے وہاں ٹرن آؤٹ بڑھانے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ 

امیدوار جو چاہتا ہے کہ انتخابی مہم میں دلچسپی پیدا ہو، منفی مہم پر جائے گا۔وہ ووٹر کو انتخابات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے ڈرائے گا اور بے چینی پیدا کرے گا۔ منفی مہم کی وجہ سے ٹرن آؤٹ بڑھ جاتا ہے۔ مثبت اشتہارات اثر نہیں دکھا سکے۔ اس کے نتیجے میں وہ ووٹر پولنگ اسٹیشن تک جائے گا جو بصورت دیگر سیاست و غیرہ میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ بڑی یا منفی انتخابی مہم ان لوگوں کومتوجہ کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ یہی ووٹر فیصلہ کن ہوتے ہیں۔



دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اس ووٹر کو پولنگ تک لے جا تی ہے جو غیر جانبدار ہے؟ یا نواز لیگ اپنے دفاع میں ان تمام ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن پر لائین میں کھڑا کر سکتی ہے جو سویلین کی بالادستی کے حق میں ہے؟ یا پیپلزپارٹی رومانویت یا حالات کو جوں کا توں رکھنے کا آسرا دے کر اپنی طرف لے جاتی ہے۔ 

https://www.naibaat.pk/21-Jun-2018/13853

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/60370/Sohail-Sangi/Voters-Intikhabi-Mohim-Ke-Nuskhon-Ki-Zad-Mein.aspx

http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/voters-intikhabi-mohim-ke-nuskhon-ki-zad-mein

Tuesday, June 19, 2018

بھٹوکا سیاسی ورثہ اور آج کی پیپلز پارٹی

بھٹوکا سیاسی ورثہ اور آج کی پیپلز پارٹی



جواباً بھٹو نے کہا؛
"سیاستدان کو ہر بار نئی بات کرنی چاہئے۔ تاکہ لوگ اس کی شخصیت کو بہ آسانی سمجھ نہ سکیں اور خواہ مخواہ اسکے منفی پہلو نہ ڈھونڈ پائیں۔ میں زیادہ لوگوں سے ملتا ہوں اور زیادہ پڑھتا ہیں اس لیے ہر بار میرے پاس نئی بات ہوتی ہے۔"
سہیل سانگی

https://www.dawnnews.tv/news/1003794/04apr14-bhuttos-legacy-and-todays-peoples-party-sohail-sangi-aq

#PPP# #BilawalBhutto# #BenazirBhutto# #Bhutto Legacy#

انتخابات میں دھاندلی کیوں اور کیسے؟

Why rigging the elections?  tactics and history of rigging in Pakistan
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

الیکشن کمیشن کی خود مخاری اپنی جگہ پر، صوبائی نگراں حکومتوں کا قیام جس طرح سے منتازع بنا، اب یہ تاثر بہت پختگی سے موجود ہے کہ عا م انتخابات میں لازما دھاندلی ہوگی۔ انتخابات پر جائزہ لینے والے ماہرین برملا اظہار کر چکے ہیں کہ ملک میں موجود ماحول میں شفاف انتخابات ہوتے نظر نہیں آتے۔ ملک میں موجود یکطرفہ صورتحال ہر عام آدمی بھی محسوس کر رہا ہے۔ یکطرفہ صورتحال خود انتخابات کی غیر جانبداری اور شفافیت پر سوالیہ نشان ڈال دیتی ہے۔ 


یہ ماضی قریب ہی کا قصہ ہے کہ تیز رفتار معاشی ترقی کے لئے آمرانہ طرز حکومت لازمی سمجھا جاتا تھا، اور اس دلیل پر مغربی ڈونر ادارے دنیا بھر میں آمرانہ حکومتوں کی حمایت کرتے تھے۔ اب صورتحال تبدیل ہے۔ آج کا منتراجمہوریت ہے۔ عالمی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے مداد دینے کے لئے جمہوریت کولازمی شرط کے طور پر رکھتے ہیں۔


پاکستان تمام تر بھول بھلیوں کے باوجود اگر انتخابات پر کھڑا ہے اس کی بڑی وجہ جمہوریت کا ورد ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مغرب کا اچھی حکمرانی کا ایجنڈا سوویت یونین کے زوال کے بعد وجود میں آیا۔ اس سے قبل یہ اصطلاح معیشت اور سیاسیات کی لغت میں ہی نہیں تھی۔ بغور مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایجنڈا صرف سطحی جمہوری اداروں کی موجودگی تک ہی محدود ہے۔ان اداروں کی موجودگی پہلے سے موجود سیاسی و سماجی ڈھانچے سے مطابقت رکھتی ہے۔ 


پاکستانی حکومتوں میں ایک پیدائشی نقص ہے ۔ اپنے قیام سے لیکر ہم نے اپنی معاشی اور خارجہ پالیسی خود انحصاری کے بجائے دوسروں پر تکیہ کرنے پر مرتب کی، ہم آج بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ حکمرانوں نے کبھی بھی خود کو ووٹر کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھا، ہاں ایسا ضرور ہوا کہ وہ ایسا وہ دکھاوا دیتے ہیں، تاکہ وہ زیادہ قرضہ حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں تاکہ وہ قرضہ دینے والوں کے لئے پرکشش بن سکیں ۔ 


یہ کہنا زیادہ غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان میں لولی لنگڑی جمہوریت عالمی حالات کی وجہ سے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت ہی خراب بلکہ بیمار جمہوریت وجود میں آئی جو غریب یا عام لوگ کی ضروریات۔ یعنی سماجی اور معاشی ترقی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یعنی غیر ملکی ایکٹر مقامی لوگوں اور ان کے مطالبات پر حاوی ہیں۔ معاشی معنوں میں دیکھا جائے، جمہوریت بذات خود کوئی ترقی نہیں کہلاتی۔ ہاں یہ ایک طریقہ یا راستہ ہے جس کے ذریعے معاشی و سماجی ترقی حاصل کی جاتی ہے۔ہمارے ہاں یہ طریقہ دیسی ڈھانچے اور اقتدار سے تعلقات کا حصہ ہی رہاہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسا نظام وجود میں آتا ہے جو اپنے جوہر میں غیر جمہوری ہے۔ لہٰذا پاکستان جیسے ممالک میں غیر جانبدارانہ انتخابات ایک خواب سا لگتا ہے۔ 

کسی نے خوب کہا تھا کہ اگر سیاسی رہنما اپنے وعدوں نبھالیں، اور فلاح عامہ کو اپنی حقیقی او ر پائدار معاشی پروگراموں کے ذریعے آگے بڑھائیں تو انہیں کبھی بھی انتخابات میں د ھاندلی کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ آمر اور عوام کی دولت لوٹنے والے سیاست کے نام پر موجودافراد ہوتے ہیں جو جنہوں نے ناکام حکمرانی کے ساتھ کئی غیر جمہوری مثالیں قائم کی ہیں۔ ان کے سیاسی غیر بلوغت، بے جا حرکت، اور عدم برداشت نے جمہوریت کو گرہن لگا دیا ہے۔ یہاں پر غیر سیاسی قوتوں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع مل جاتاہے۔ پھر یہ دونوں فریقین یعنی اقتدار پرست اور غیر سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو مضبوط کرتی رہتی ہیں۔ 


جمہوریت صرف تھیوری میں ہے عملا نہیں۔ عملی طور پریہاں پر ایک چھوٹی اقلیت کے مفادات وسیع تر اکثریت کے مفادات پر حاوی ہیں۔ روز بروز یہ امر پختہ ہوتا جارہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت قابل عمل نظام نہیں۔ یہاں پرجمہوریت کے لئے ابراہم لنکن کا مقولہ الٹا یعنی سر کے بل کھڑا ہے۔ ’’ جمہوریت اقلیت کی حکومت ہے جس کو اقلیت ہی بناتی ہے اور وہ اقلیت کے لئے ہی ہوتی ہے‘‘۔ اگر حقیقی معنوں میں جمہوریت ہو تو غیرسیاسی قوتوں کے کردار کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ 


گزشتہ انتخابات کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ اقتدار کے حصول کی جنگ مروجہ سیاسی و آئینی حدود پھلانگ کر لڑی گئی۔ جس سے ملک میں جمہوریت پر سیاہ بادل چھا گئے ہیں۔ بڑھتا ہوا سیاسی بحران اور کشیدگی پورے ماحول کو آلودہ کئے ہوئے ہے۔ جمہوریت ایک سہارے پر زندہ ہے۔ ایک ایسی حکومت جو اکثریت کے مفادات اور امنگوں کی عکاسی کرے وہ حادثے کا شکار ہو جاتی ہے۔ ؂انتخابات میں ہر طریقے سے اوربڑے پیمانے پر دھاندلی کی خطرے کی گھنٹی بن گئی۔ 


سیاست کو تنقیدی سوچ اور فکرکے ساتھ معاملات فہمی ہونا چاہئے۔ یہ ایک ایسا موقعہ ہو جس میں لوگ آپشن میں سے بہترین کا انتخاب کر سکیں ، یہ قومی شعور پیدا کرنے اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ برسہا برس سے سیاست سے مراد ایک سخت اور خونریز جنگ ہے جو حکمران اور اپوزیشن کے درمیان لڑی جارہی ہے، بعض علاقوں میں یہ دشمنی اور مخاصمت کا کھیل ہے۔ پاکستان میں سیاست اقتدار کے لئے سیاسی متحاربین کے درمیان ایک شدید جنگ ہے۔ مارو یا مر جاؤ۔

ہمارے پاس حکمران کو اپوزیشن خطرہ ہے یا اپوزیشن کو حکمرانوں سے۔ ذاتی حملے، کردار کشی، بلیک میلنگ، عام ہوتے ہیں جو کہ سیاسی مکالمے یا بحث کو ختم کردیتے ہیں ایسی بحث جس میں حکومت یا متبادل اپوزیشن کے ویزن کا پتہ چلے۔ دوسری طرف لوگوں کو کلی طور پر بیوقوف بنایا جاتا ہے، دھوکہ دیا جاتا ہے اور اقتدار پرست سیاستدان انہیں اپنی رومانیت میں لے لیتے ہیں۔ 


ہوتا یہ ہے کہ انتخابات ہو جانے کے بعد ووٹر اور سیاسی جماعتوں یا امیدواروں کے درمیان معاہدہ غائب ہو جاتا ہے ۔ لوگوں کے مصائب سے سیاستداں آنکھیں پھیرلیتے ہیں۔ اکثریت بے بس اور اس کی آواز غیر ضروری ہو جاتی ہے۔ 


دھاندلی سے مراد ووٹنگ کے عمل میں منظم ہیراپھیری ہے ۔جو ووٹنگ کے عمل خواہ گنتی کے وقت بھی ہو سکتی ہے۔ مقصد جو نتائج آرہے ہیں ان میں مداخلت کرناہے۔ یعنی وہ نتائج آنا جو ووٹر نہیں چاہتے تھے۔ دھاندلی ایک مروجہ عمل بن گیا ہے۔ حکمران جماعتیں جو اپنے وعدے پورے نہیں کرپاتی او رلوگوں کو کچھ ڈلیور نہیں کر پاتی، وہ لوگوں کی امنگوں کو زبردستی کنٹرول کرنا چاہتی ہیں اور یوں اقتدار اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ 


پاکستان میں اگرچہ انتخابات کم ہی ہوئے ہیں لیکن جب بھی ہوئے، دھندلی سے بچ نہیں سکے۔ پچاس کے عشرے کے آغاز میں دھاندلی کے طریقے بہت ہی سادہ تھے۔ مثلا بوگس ووٹ کا داخلا، چھوٹے موٹے وجوہات کو بنیاد بناکر کاغذات نامزدگی مسترد کرنا، دباؤ یا دھونس کے ذریعے ووٹ لینا، مرضی کے امیدوار کے حق میں زبردستی ٹھپے لگا کر بیلٹ باکس بھرنا، بیلٹ پیپرز اور بیلٹ باکسز کے ساتھ دخلت اندازی، مخالفین کو ہراساں کرنا وغیرہ ۔یہ دھاندلی کے کلاسیکی طریقے ہیں۔


اگلے آٹھ سال تک ملک نے انتخابات ہی نہیں دیکھے۔ 1962 اور 1965 میں ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں میں چند ہزار افراد تھے جن کو کنٹرول کرنا آسان تھا۔ یہ کام ضلع انتظامیہ یعنی ڈپٹی کمشنروں کے ذریعے بہت آسانی سے کیا گیا۔ تب ڈپٹی کمشنر بہت بااختیار ہوتے تھے۔ 


1970 کے انتخابات نسبتا منصفانہ مانے جاتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1977 کے انتخابات میں حیات ٹمن کی سربراہی میں الیکشن سیل بنایا گیا، اور منصوبہ بندی کے ساتھ ان انتخابات میں دھاندلی کردی۔ اس کے خلاف نو ستاروں والے اتحاد پی این اے نے احتجاج کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ پھر اگلے آٹھ سال تک انتخابات ہی نہیں ہوئے۔ 1985 میں ضیاء الحق نے غیر جماعتی انتخابات کرائے۔ جس کلاسیکی طریقوں کے ساتھ ساتھ بعض نئی تیکنیک بھی استعمال کی گئی۔ مثلا من پسند حلقہ بندی، مخالفین کے حلقہ بندی میں تنہا کرنا، بااثر امیدواروں نے انتخابی مہم پر بڑی رقمیں خرچ کرنا ۔ ان انتخابات کی دو تین خرابیاں جو پورے سیاسی نظام کے جڑوں میں بیٹھ گئیں۔ ان میں سے ایک پیسوں سے ووٹ خرید کرناتھا۔ یہ عنصر پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر متعارف ہوا۔ 


1990 کے انتخابات میں چار ’’پی‘‘ یعنی پٹواری، پولیس، پیسہ اور پریشر نے کام دکھایا، ایجنسیوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا،اصغر خان اس کی ایک مثال ہے۔ ووٹنگ کے عمل کے ساتھ میں گنتی اور نتائج کو جمع کرنے کے عمل میں بھی گڑبڑ کی گئی۔ یہی طریقے 2000- 20001 کے بلدیاتی اور 2002 کے عام انتخابات میں بھی استعمال کئے گئے۔ 

2008کے انتخابات میں امریکہ کی ہدایات پر معاملات ہوئے۔ جس میں لاکھوں بوگس ووٹرز کے داخلا اور ماضی کے روایتی طریقے بھی استعمال کئے گئے۔


۔ 2013 میں الیکشن کمیشن کو مزید اختیارات دینے کے لئے انتخابی اصلاحات کا کام شروع کیا گیا۔ نئی انتخابی فہرستیں بنائی گئی جس میں شناختی کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا۔ نئے کاغزات نامزدگی کے فارم متعارف کرائے گئے جس میں ٹیکس نا دہندگان اور احتساب بیور کے خانے بھی شامل کئے گئے۔ لیکن یہ انتخابات بھی دھندلی کے الزام سے بچ نہ سکے۔ جیسے ہی انتخابی نتائج آنا شروع ہوئے، احتجاج شروع ہو گیا۔ ماسوائے مسلم لیگ نواز کے تمام پارٹیوں نے احتجاج کیا اور دھندلی کاا لزام عائد کیا۔ پیپلزپارٹی نے رٹنرننگ افسران کا ا لیکشن قرار دیا، اور کہ کہا کہ بحالت مجبوری ان اانتخابات کے نتائج کو قبول کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے طویل احتجاج اور دھرنے شروع کردیئے۔ بالآخر دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن قائم کیا گیا۔ کمیشن نے عمران خان کے ان الزامات کو مسترد کیا کہ کوئی منظم دھاندلی ہوئی ہے۔ 


انتخابات میں دھاندلی کیوں کی جاتی ہے؟اول معاشی اور سیاسی طور پر بالادستی حاصل ہو، دوم : چورائی ہوئی دولت اور اپنے ساتھیوں کا تحفظ۔ سوئم: اپوزیشن کو بالکل غیر فعال بنا دینا، عوامی شرکت کی حوصلہ شکنی کر کے جمہوریت کو کمزور کرنا، دبانا، حکمران اشرافیہ کو پختہ کرنا اوراس کی بالادستی جاری رکھنا، یہ سبدر حقیقت عوام الناس کے خلاف سازش ہے۔ 

انتخابات میں دھندلی ایک جامع عمل ہے جس میں انتظامیہ، الیکشن کمیشن، میڈیا کے ساتھ عدلیہ کا کنٹرول بھی شامل ہے۔ یہ اس طرح سے مرتب کیا جاتا ہے کہ جس میں اصل معاملے کی قلعی اتر نہ سکے۔ لہٰذا آج کے دور میں آمر جمہوریت کو قید کر لیتے ہیں جال میں پھنسا دیتے ہیں۔ چالاک امیدوار جو ہمیشہ دھندلی کا نیا طریقہ تلاش کر لیتے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ الیکش کمیشن کس طرح سے دھندلی کو روکتی ہے۔ 


دھاندلی صرف پولنگ کے روز ہی نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ ایسی حکمت عملیاں بن گئی ہیں کہ پولنگ سے کئی ہفتے بلکہ ماہ پہلے نتائج طے ہو جاتے ہیں۔ وہ ووٹنگ کے روز دھاندلی کے الزام سے بچ جاتے ہیں۔ اب دھاندلی نے کارپوریٹ شکل اختیار کر لی ہے۔ جس میں پری پول دھاندلی، انتخابی مہم کے دوران، دھاندلی، پولنگ کے روز اور ووٹنگ کے بعد کی دھاندلی۔ہر کوئی 2013 کے انتخابات کے بعد اٹھنے والے طویل احتجاجی طوفان کو دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا۔


انتخابات کا اصل جوہرشفاف انعقاد کے ساتھ ساتھ ان کے نتائج کو تسلیم کرنا ہے۔ اسی طرح ان انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوریت کو حقیقی روپ دے ۔ انتخابات کا بامقصد ہونا لازم ہے۔ تشویش ناک امر ہے کہ سیاسی ماحول میں ملکی معیشت، مستقبل کی منصوبہ بندی، خارجہ پالیسی کے اہم موضوعات انتخابات سے قبل زیر بحث نہیں۔ عام لوگوں کے ایشوز روز گار، صحت اور بنیادی سہولیات پر بھی بات نہیں ہورہی۔ بامقصد انتخابات کے لئے تمام جماعتوں کو مساوی مواقع میسر دینا لازم ہے۔ انتخابات کا پر جتنا وقت پر ہونا لازم ہے اتنا ہی لازم سب کے لئے قابل قبول ہونا بھی۔
.............................................................................................................
۔ ذوالفقار علی بھٹو ۔  جنرل ضیاء  ۔   اصغر خان کیس۔   
.----------------------------------------------------------------------------------
http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/19-06-2018/details.aspx?id=p12_04.jpg 

http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/why-rigging-the-poll

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/60265/Sohail-Sangi/Why-rigging-the-poll.aspx

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/why-rigging-the-poll-4546.html

http://politics92.com/singlecolumn/60265/Sohail-Sangi/Why-rigging-the-poll.aspx




عمران خان وڈیروں کا کندھا مت تلاش کریں

چرچا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سندھ میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس مرتبہ وہ عمرکوٹ یا گھوٹکی میں نہیں، پیپلزپارٹی کے گڑھ لاڑکانہ میں جلسہ کرنے جا رہے ہیں۔ مبصرین آس لگائے بیٹھے ہیں کہ عمران خان نے کامیاب جلسہ کرلیا تو سمجھو لاڑکانہ فتح کرلیا۔
سہیل سانگی https://www.dawnnews.tv/news/1012599/20nov2014-waderon-ka-kandha-mat-talash-karein-sohail-sangi-bm



چرچا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سندھ میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس مرتبہ وہ عمرکوٹ یا گھوٹکی میں نہیں، پیپلزپارٹی کے گڑھ لاڑکانہ میں جلسہ کرنے جا رہے ہیں۔ مبصرین آس لگائے بیٹھے ہیں کہ عمران خان نے کامیاب جلسہ کرلیا تو سمجھو لاڑکانہ فتح کرلیا۔
اس جلسے کو کامیاب کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے مخالفین کو اکٹھا کیا جارہا ہے۔ لیکن دراصل یہ جلسہ لاڑکانہ ضلع کے بااثر انڑ خاندان کے بل بوتے پر ہو رہا ہے۔ لاڑکانہ کا انڑ خاندان علاقے میں سماجی اور معاشی طور پر بھی اثر رکھتا ہے۔ 90 کے عشرے میں غلام حسین انڑ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے تھے۔ وہ ضلع کونسل لاڑکانہ کے چیئرمین بھی رہے۔ ان پر اور پیپلز پارٹی کے موجودہ شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر کراچی کے ایک تاجر مرتضی بخاری کو یرغمال کرنے اور ان کی ٹانگ سے بم باندھ کر بینک سے رقم نکلوانے کا مقدمہ قائم ہوا تھا۔ غلام حسین انڑ دو تین سال جیل میں رہے۔
غلام حسین کے انتقال بعد ان کے بھائی الطاف انڑ نے ان کی جگہ سنبھالی تو پیپلز پارٹی کو اپنے گڑھ لاڑکانہ میں کمزور کرنے کے لیے مشرف اور ارباب غلام رحیم نے الطاف انڑ کی خدمات حاصل کیں اور لاڑکانہ کی کوکھ سے ایک نیا ضلع قمبر شہدادکوٹ بنایا گیا۔ بعد میں الطاف انڑ کے زور پر لاڑکانہ میں زبردستی حکومت کی جہاں الطاف انڑ کے منشی کی پہچان رکھنے والے محمد بخش آریجو کو ضلع ناظم بنایا گیا اور شہدادکوٹ ضلع نواب چانڈیو کے سپرد کیا گیا۔ انہیں بغضِ معاویہ میں ممتاز بھٹو کی بھی حمایت حاصل رہی۔


انڑ خاندان اور پیپلز پارٹی کے تعلقات قربت اور دوری کے رہے ہیں۔ گزشتہ سال کے انتخابات میں پیپلزپارٹی نے ڈوکری کی صوبائی نشست پر الطاف انڑ کو ٹکٹ دیا۔ لیکن الطاف انڑ نے پارٹی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بینظیر بھٹو کی روایتی قومی اسمبلی کی نشست پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں اپنے بھائی غلام عمر اور صوبائی اسمبلی کی ایک اور نشست پر اپنے بیٹے کو کھڑا کیا۔ پارٹی ہدایات کے باوجود الطاف انڑ نے اپنے امیدوار دستبردار نہیں کیے۔
جلسہ گاہ لاڑکانہ سے تبدیل کرکے انڑ خاندان کے آبائی گاؤں علی آباد کرنے کا فیصلہ عمران خان کے حق میں نہیں ہے۔ انڑ خاندان کے آبائی گاؤں میں جلسہ کرنے پر ممتاز بھٹو سمیت پیپلز پارٹی مخالف حلقوں کو تحفظات ہیں۔ وہ علی آباد میں منعقدہ جلسے میں شرکت ایک وڈیرے کی اوطاق پر حاضری بھرنے کے مترادف سمجھ رہے ہیں لہٰذا اس جلسے کی حیثیت سیاسی سے زیادہ ذاتی بن رہی ہے۔
اس کے علاوہ گھوٹکی کی چاچڑبرادری مخدوم شاہ محمود قریشی کی مرید ہے۔ اگر سردار چاچڑ نے بھرپور طریقے سے شرکت کی تو جلسہ عددی اعتبار سے کامیاب ہو سکتا ہے۔
سیاست کے اسٹاک مارکیٹ میں یہ باتیں بھی چل رہی ہیں کہ ممکن ہے کہ ممتاز بھٹو تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردیں۔ لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ممتاز بھٹو کی اہمیت تب تک تھی جب تک وہ سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ کے طور پر اپنی شناخت رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے سالہاسال تک پنجاب کی بالادستی کے خلاف اور وفاقی سیاست سے ہٹ کر سیاست کی۔ پیپلز پارٹی سے ان کے اختلاف کا نقطہ آغازبھی یہی تھا۔ وفاقی سیاست میں حصہ لینے، اور نواز شریف کی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرنے نے ان کی مقبولیت کو دھچکا پہنچایا۔ نواز لیگ میں شمولیت کے ایک سال بعد ہی اس سے علیحدگی نے ان کی سیاسی ساکھ کو مزید متاثر کیا۔
لاڑکانہ میں جو بااثر افراد پی ٹی آئی کی حمایت کررہے ہیں ان کو پاپولر ووٹ کی حمایت موجود نہیں۔ البتہ اگر فرشتے اپنا کام دکھائیں گے تو عمران خان نہیں بلکہ انڑ اپنا کام دکھا سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ نادر مگسی جو سردار خان چانڈیو کی وجہ سے پیپلزپارٹی سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہیں، ان کا ممتاز بھٹو سے اتحاد صوبائی نشست اور بینظیر بھٹو کی روایتی قومی اسمبلی کی نشست پر مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔


پیپلز پارٹی نے خاص طور پر اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ لاڑکانہ کسی طور پر بھی ہاتھ سے نہ جانے نہ پائے۔ اس کے لیے ترقیاتی منصوبے، ملازمتیں، ٹھیکے وغیرہ دے کر لوگوں کو راضی رکھنے کی کوشش کی۔ لاڑکانہ کو ایک طرف بلوچستان اور دوسری طرف کچے کا علاقہ لگتا ہے اور نصف ضلع ابھی تک قبائلی بندھنوں اور جرائم میں جکڑا ہوا ہے۔ وہاں مڈل کلاس یا عام آدمی کے لیے اپنی شناخت رکھنا یا الگ سے کھڑا ہونا مسئلہ ہے۔ حیدرآباد سے لے کر عمرکوٹ تک تحریکِ انصاف نظر آتی ہے لیکن ابھی تک یہ عوام میں جڑیں نہیں پیدا کر سکی ہے۔
عمران خان نوجوان نسل یا اپر مڈل کلاس جو کہ حالیہ برسوں میں ابھری ہے اور سیا ست کرنا چاہ رہی ہے، کے لیے کشش رکھ سکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپر مڈل کلاس کی تعریف میں آتے ہیں۔ یہ لوگ روایتی وڈیروں کے مخالف ہیں۔ اس کلاس کو نواز لیگ اور فنکشنل لیگ اپنے فولڈ میں نہیں لے پائی ہیں، اور قوم پرست تو یہاں تک نہ پہنچے ہیں اور نہ ہی انتخابی سیاست کرنا چاہ رہے ہیں۔ اگر عمران خان اپنی حکمت عملی درست رکھیں تویہ وہ جگہ ہے جو تحریک انصاف کو مل سکتی ہے۔
لیکن عمران خان ابھی بھی نچلی سطح پر حمایت تلاش کرنے کے بجائے روایتی وڈیروں کا سہارا لے رہے ہیں یہ وہی طریقہ ہے جو نواز لیگ بھی اختیار کرتی رہی ہے۔ یہ وڈیرے اس صورت میں ساتھ رہتے ہیں جب تک اقتدار ہے۔ اس کے بعد پارٹی کا نام نشان وہاں نہیں رہتا۔ اس لیے عمران خان کو چاہیے کہ اگر وہ حقیقی طور پر پارٹی کو مضبوط کرنا، اور پی پی پی کے گڑھ لاڑکانہ میں اسے شکست دینا چاہتے ہیں، تو وڈیروں کا کندھا تلاش کرنے کے بجائے عوام پر بھروسہ کریں اور انہیں یقین دلائیں کہ وہ ان کے لیے وہ سب کچھ کرسکتے ہیں جو دیگر لوگوں نے نہیں کیا۔
#ImranKhan# #PTI# #larkana#

Saturday, June 16, 2018

Zardari on PPP perfromance



2 سال میں سندھ میں کام نہیں ہوئے، کبھی وزیراعلیٰ نے آسرا دیا تو کبھی وزراء نے کام نہیں کیا ،زرداری

16 جون ، 2018

نواب شاہ(محمد انور شیخ/ بیورو رپورٹ) پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم پوری قوت سے الیکشن لڑیں گے اور اگلے پانچ سال بھی ہماری حکومت ہوگی۔زرداری ہاؤس میں کارکنوں کے اعزاز میں دئے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ میں نواب شاہ کی نشست این اے213سے الیکشن لڑرہا ہوں تاہم شریک سربراہ کی حیثیت سے مجھے پورے ملک کے دورے کرنے ہیں اس لئے نواب شاہ میں میری الیکشن مہم آصفہ بھٹو زرداری اور ڈاکٹر عذارفضل پیچوہو چلائیں گی۔انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں پنجاب میں بھی ہم ہی حکومت بنائیں گے اور اگر ہمیں اکثریت نہ ملی تو مخلوط حکومت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مجھے علم ہے کہ گذشتہ دو سال میں سندھ حکومت میں لوگوں کے کام نہیں ہوئے کبھی وزیر اعلی نے آسرا دیا تو کبھی وزراء نے کام نہیں کیا لیکن انہوں نے کہا کہ آئندہ سندھ میں ایک بار پھر ہماری حکومت بنے گی اور اس کے بعد ہم سندھ کے لوگوں کیلئے تعلیم، صحت اور روزگار کے دروازے کھول دیں گے۔انہوں نے کہا کہ نواب شاہ سمیت سندھ بھر میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے تعلیمی اداروں کا جال بچھایا ہے تاکہ ہمارے بچے اچھی تعلیم حا صل کرسکیں عوام کو صحت کی سہولتیں ان کی دہلیز پر پہنچائیں ہیں اور روزگار بھی فراہم کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نواب شاہ میں 
پاکستان کا پہلا گرلز کیڈٹ کالج بنایا گیا ہے اس کے علاوہ ماں اور بچے کی صحت کا جدید اسپتال قائم کیا گیا اور شہید بینظیر جنرل یونیورسٹی بھی قائم کی گئی ہے۔

Friday, June 15, 2018

چھوٹی چھوٹی بغاوتیں کیا بتاتی ہیں؟



چھوٹی چھوٹی بغاوتیں کیا بتاتی ہیں؟ 

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

ایک زمانہ تھا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت فیصلے کرتی تھی اور پارٹی کے باقی اراکین اسمبلی، اور کارکنان اس کو من و عن تسلیم کرتے تھے۔ پارٹی کی قیادت پر اندھا اعتماد تھا کہ وہ کوئی غلط فیصلہ کر ہی نہیں سکتی۔ لیکن یہ زمانہ بھٹو اور بینظیر بھٹو کا تھا۔ جن کا عوام اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ رابطہ بھی تھا۔ اور ان کی عوام کی سیاسی نبض پر پاتھ بھی ہوتا تھا۔ قیادت جاتی تھی کہ عوام کیا چاہتے ہیں؟ اور عوام کی امنگوں کو معنی دینا اور اس کو حالات سے جوڑنا بھی آتا تھا۔ یوشاید ہی کوئی ’’بغاوت‘‘ سامنے آئی ہو۔ رنجشیں یا ناراضگی ہوتی بھی تو اس کو مطمئن کردیا جاتا تھا۔ لیکن اب ذوالفقار علی بھٹو بھی نہیں رہے، اور بینظیر بھی۔ سب سے بڑھ کر پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کاوہ طریقہ کار بھی نہیں رہا۔ 

اب فیصلہ سازی پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کرتے ہیں یا پھر ان کی ہمشیرہ میڈم فریال تالپور کرتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا عملا فیصلہ سازی میں بہت ہی کم عمل دخل ہے۔ پارٹی کے اس طریقہ کار میں لابنگ زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جولائی میں منعقد ہونے والے انتخابات کے لئے پارٹی ٹکٹ کا ایوارڈ مشکل کام ہو گیا۔ 
پارٹی گزشتہ انتخابات سے پہلے ہی اس حکمت عملی پر عمل پیرا رہی کہ خاص طور پر سندھ میں کسی بھی ایلیکٹ ایبل کو پارٹی فولڈ سے باہر نہ چھوڑا جائے۔ قیادت کو ڈر تھا کہ اگر الیلٹ ایبل کا اگر کوئی مضبوط گروپ پارٹی سے باہر رہ جاتا ہے تو اسلام آباد یا لاہور گٹھ جوڑ کر کے اس کے خلاف میدان میں اتر سکتا ہے۔ اور ایم کیو ایم کی مدد سے پیپلزپارٹی کے بغیر سندھ میں حکومت بن سکتی ہے۔ یہ تقریبا وہی فارمولا ہے جو جام صادق علی، مظفر حسین شاہ، لیاقت جتوئی کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ لیکن تب بینظیر بھٹو زندہ تھی۔ اور بھٹو کا سحر سندھ کے لوگوں کے ذہن سے اترا نہ تھا۔ لہٰذا یہ فارمولا ایک مدت تک کھینچ تان کر چلایا گیا۔ لیکن بعد میں واپس زمینی حقائق پر آنا پڑا اور پیپلزپارٹی حکومت میں آتی رہی۔ 
پارٹی نے بعد میں یہ حکمت عملی بنائی کہ معاشرے کے سرگرم حلقوں کو ان کے معاشی اور سماجی مفادات کے ذریعے پارٹی کے ساتھ جوڑ کر رکھا جائے۔ اسی کے ذریعے پارٹی چلائی جائے۔ انتخابات ہوں یا کوئی اور سرگرمی، یہی حلقے اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک حد تک یہ صورتحال بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں بھی نظر آتی ہے لیکن اس پر چیک اینڈ بلینس موجود تھا۔ اب پارٹی حکمت عملی کا یہ سنگ بنیاد بن گیا ہے۔ 
یہ پیپلز پارٹی کی خوش قسمتی ہے کہ سندھ میں واحد جماعت ہے جس کا ضلع اور تحصیل سطح پر تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے۔ کسی بھی ملکی سطح یا صوبائی سطح پر کام کرنے والی پارٹی کے پاس یہ نیٹ ورک موجود نہیں۔ جو اس کو سیاسی سرگرمیوں خواہ انتخابات میں کام آتا ہے۔ 
اس حکمت عملی کا ایک پہلو یہ بھی نکلا کہ پارٹی میں مخصوس طبقے اور خاندانوں کی اجارہ داری ہوتی گئی۔ ان خاندانوں نے نہ صرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بلکہ بلدیاتی انتخابات اور پارٹی کی صوبائی، ڈویزنل اور ضلع سطح کے عہدوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ 
دوسرا پہلو یہ نکلا کہ نئے سیاسی خاندان وجود میں آگئے، جو اب کسی نہ کسی شکل میں پارٹی کو چیلینج کر رہے ہیں۔
یعنی پیپلزپارٹی الیکٹ ایبل پر تکیہ کرنے لگی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر گزشتہ ماہ ایک کوشش کی گئی کہ درگاہوں کے گدی نشینوں کا اتحاد بنے۔ اور اس کے لئے پیر پاگارا کی حر جماعت، ہالہ کے مخدوم کی سروری جماعت، ملتان کے شاہ محمود قریشی کی غوثیہ جماعت کے سربراہان کے رسمی اور غیر رسمی اجلاس بھی منعقد ہوئے۔ 
اگر حر جماعت، غوثیہ جماعت، اور سروری جماعت کا اتحاد ہو جاتا تودوسری چھوٹی موٹی درگاہوں کے گدی نشین بھی اس میں شامل ہو جاتے۔لیکن پیپلزپارٹی نے اس حکمت عملی کو یوں ناکام بنایا کہ پیر نورمحمد شاہ اور ہالہ کے مخدوموں کو ایڈجسٹ کر لیا۔ اب گدی نشینوں کا نہیں بلکہ جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹ منٹ ہو رہا ہے۔ 
ہالہ کے مخدومووں نے پیپلزپارٹی سے بغاوت کی کوشش کی۔ لیکن انہیں صوبے میں پیپلزپارٹی سے ہٹ کر کوئی سیٹ اپ بنتا ہوا نظر نہیں آیا۔ اور یہ بھی کہ انہیں مٹیاری کی تقریب تمام نشستیں دے دی گئیں۔ تین پشتوں سے پیپلزپارٹی کے ساتھ وفاداری کے ساتھ رہنے والے مخدوم کی اس بغاوت نے پارٹی میں یہ پیغام عام کیا کہ پارٹی پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ اس کو جھکایا جاسکتا ہے۔ 
پارٹی میں چونکہ جمہوری اقدار کا فقدان ہے لہٰذا ایک مربتہ رکن اسمبلی رہنے کے باوجود اب مسلسل رہنا چاہتے ہیں کسی اور کو جگہ دینے کے لئے تیار نہیں۔ 
انتخابی سیاست میں خاندانی نوازی زوروں پر ہے۔ گھوٹکی کے مہر، ٹھٹہ کے شیرازیوں اور ہالہ کے مخدوموں کو بات سمجھ میں آگئی ، واپس پی پی پی میں آگئے ہیں۔ وہ رسک لینے کے لئے تیار نہیں۔ گھوٹکی میں لونڈ، پتافی۔ مہر اور دھاریجو خاندان حاوی ہیں مہر واپس پیپلزپارٹی میں آگئے ہیں۔ 
سکھر میں خورشید شاہ خاندان حاوی ہے جہاں پر باقی پارٹی کے رہنماؤں اور گروپوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ، اسلام الدین شیخ خاندان سے وہ خود سنیٹر ہیں اور ان کے بیٹے ارسلان شیخ سکھر کے میئر ہیں۔
سکھر کے محمد علی شیخ جوآصف علی زرداری کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، انہیں پکا آسرا دینے کے بعد بھی ٹکٹ نہیں دی گئی۔ علی محمد شیخ سکھر ضلع کونسل کے چیئرمین اسلم شیخ کے بھائی ہیں۔ سکندر شورو ، عبدالحق بھرٹ، ستار راجپر، میرپورخاص کے علی نواز شاہ، ٹنڈو آدم کے شاہنواز جونیجو خاندان سے روشن جونیجو کے بیٹے علاؤ الدین جونیجو، جہانگیر جونیجو، انہوں نے کھپرو سے بھی فارم داخل کئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ فدا ڈیرو خاندان سے مل کر مہم نہیں چلائیں گے۔ 
کوٹری سے سابق صوبائی وزیر جام شورو کے قریبی رشتیدار سکندر شورو کو پارٹی نے ملک اسد سکندر کے ضد کی وجہ سے ٹکٹ نہیں دیا۔ وہ آزاد امیدوار ے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ضلع پر قبضہ کرنے والوں کو شکست یدں گے، یہاں پر ملک اسد سکندر نے بغاوت کردی تھی۔ اب کوٹری کی صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں ان کے حوالے کردی گئی ہیں۔ دادو میں پیر مظہرالحق اور قمبر شہدادکوٹ میں نادر مگسی کی بغاوت کی خبریں بھی گردش کرتیر ہیں۔ لیکن اب عامر مگسی اور نادر مگسی اور پیر مظہرالحق کے بیٹے پیر مجیب الحق کو ٹکٹ دی گئی ہے۔ اسی طرح کی بغاوتیں خیرپورناتھن شاہ میں شمس النساء قمر لغاری نے،تھانو بولا خان میں صالح برہمانی ، ٹھٹہ سے ارباب رمیز میمن ، ٹنڈو محمد خان میں میر سجاد علی تالپور ، نوشہروفیروزستار راجپر، عبدالحق بھرٹ اور عثمان عالمانی نے بھی کی ہیں۔ 
تھرپارکر جہاں پر گزشتہ انتخابات میں پارٹی نے کلین سوئیپ کیا تھا، اب وہاں بغاوت ہو رہی ہے۔ پارٹی قومی اور صوابئی اسمبلی کی ایک ایک نشست پر پارٹی امیدوار کا فیصلہ نہیں کر پائی ہے۔ اس ریگستانی ضلع کی ستم ظریفی یہ رہی ہے کہ ہمیشہ دو سے زائد نشستوں پر باہر کے لوگ آکر الیکشن لڑتے ہیں اور جیت جاتے ہیں۔ یہاں پر نگرپارکر کے عبدالغنی کھوسو اور علی اکبر راہموں کو نظرانداز کیا گیا اور اب وہ آزاد حیثیت میں میدان میں ہیں۔ 
بدین سے کمال خان چانگ نے تین نشستوں سے امیدوار ہیں۔ 
تھر میں اربا خاندان ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہے۔ دوسری طرف پارٹی سابق اسمبلی اراکین مہیش ملانی، فقیر شیر محمد بلالانی، ہمیر سنگھ، ڈاکٹر کھٹومل جیون امیدوار تو ہیں لیکن پارٹی ان کے لئے کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔ 
قوی امکان یہ کہ ہے کہ ان میں سے اکثر امیدواران پارٹی کے دباؤ، اور مستقبل کے وعدے اور آسرے یا کسی اور وجہ سے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں، لیکن یہ صورتحال دو چیزوں کی نشاندہی ضرور کرتی ہے۔
ایک یہ کہ پارٹی کی حکمت عملی میں عام انتخابات کے لئے امیدواروں، بلدیاتی امیدواروں اور اپرٹی عہدیداروں کے انتخاب کے ضمن میں کہیں غلطی کی ہے۔ وہ پارٹی میں آنے والوں کو ایڈجسٹ اور اکموڈیٹ نہیں کر سکی ہے۔ اور انہیں مطمئن بھی نہیں کرپائی ہے۔ ایک بے اطمینانی کی کیفیت جاری رہے گی۔
دوسری اہم چیز یہ کہ ہوئی بھی ملک گیر پارٹی یا صوبائی سطح کا اتحاد اس پوزیشن میں نہیں کہ پیپلزپارٹی کے اندر اس اختلاف اور ناراضگی کو متبادل میں تبدیل کر سکے۔

https://www.naibaat.pk/14-Jun-2018/13657


--------------------------------------
--------------------------------------
June 21

 
    
  
PrintClose
 
    
  
ShareThis Copy and Paste
            ShareThis Copy and Paste
 
    
  
PrintClose
 
    
  
ShareThis Copy and Paste
            ShareThis Copy and Paste
 
    
  
PrintClose
 
    
  
ShareThis Copy and Paste
            ShareThis Copy and Paste
 
    
  
PrintClose
 
    
  
ShareThis Copy and Paste
            ShareThis Copy and Paste


  
PrintClose
 
    
  
ShareThis Copy and Paste
           June 21 
http://www.thekawish.com/beta/epaper-details.php?details=2018/June/21-06-2018/Page2/P2-23.jpg


  
PrintClose
 
    
  
ShareThis Copy and Paste
            ShareThis Copy and Paste
June 20,2018
June 20

PrintClose
    
ShareThis Copy and Paste
            ShareThis Copy and Paste
PrintClose
    
ShareThis Copy and Paste
            ShareThis Copy and Paste
June 19, 2018

June 20, 2018


PrintClose
    
ShareThis Copy and Paste
            ShareThis Copy and Paste
PrintClose
    
ShareThis Copy and Paste
            ShareThis Copy and Paste