Tuesday, June 19, 2018

انتخابات میں دھاندلی کیوں اور کیسے؟

Why rigging the elections?  tactics and history of rigging in Pakistan
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

الیکشن کمیشن کی خود مخاری اپنی جگہ پر، صوبائی نگراں حکومتوں کا قیام جس طرح سے منتازع بنا، اب یہ تاثر بہت پختگی سے موجود ہے کہ عا م انتخابات میں لازما دھاندلی ہوگی۔ انتخابات پر جائزہ لینے والے ماہرین برملا اظہار کر چکے ہیں کہ ملک میں موجود ماحول میں شفاف انتخابات ہوتے نظر نہیں آتے۔ ملک میں موجود یکطرفہ صورتحال ہر عام آدمی بھی محسوس کر رہا ہے۔ یکطرفہ صورتحال خود انتخابات کی غیر جانبداری اور شفافیت پر سوالیہ نشان ڈال دیتی ہے۔ 


یہ ماضی قریب ہی کا قصہ ہے کہ تیز رفتار معاشی ترقی کے لئے آمرانہ طرز حکومت لازمی سمجھا جاتا تھا، اور اس دلیل پر مغربی ڈونر ادارے دنیا بھر میں آمرانہ حکومتوں کی حمایت کرتے تھے۔ اب صورتحال تبدیل ہے۔ آج کا منتراجمہوریت ہے۔ عالمی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے مداد دینے کے لئے جمہوریت کولازمی شرط کے طور پر رکھتے ہیں۔


پاکستان تمام تر بھول بھلیوں کے باوجود اگر انتخابات پر کھڑا ہے اس کی بڑی وجہ جمہوریت کا ورد ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مغرب کا اچھی حکمرانی کا ایجنڈا سوویت یونین کے زوال کے بعد وجود میں آیا۔ اس سے قبل یہ اصطلاح معیشت اور سیاسیات کی لغت میں ہی نہیں تھی۔ بغور مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایجنڈا صرف سطحی جمہوری اداروں کی موجودگی تک ہی محدود ہے۔ان اداروں کی موجودگی پہلے سے موجود سیاسی و سماجی ڈھانچے سے مطابقت رکھتی ہے۔ 


پاکستانی حکومتوں میں ایک پیدائشی نقص ہے ۔ اپنے قیام سے لیکر ہم نے اپنی معاشی اور خارجہ پالیسی خود انحصاری کے بجائے دوسروں پر تکیہ کرنے پر مرتب کی، ہم آج بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ حکمرانوں نے کبھی بھی خود کو ووٹر کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھا، ہاں ایسا ضرور ہوا کہ وہ ایسا وہ دکھاوا دیتے ہیں، تاکہ وہ زیادہ قرضہ حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں تاکہ وہ قرضہ دینے والوں کے لئے پرکشش بن سکیں ۔ 


یہ کہنا زیادہ غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان میں لولی لنگڑی جمہوریت عالمی حالات کی وجہ سے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت ہی خراب بلکہ بیمار جمہوریت وجود میں آئی جو غریب یا عام لوگ کی ضروریات۔ یعنی سماجی اور معاشی ترقی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یعنی غیر ملکی ایکٹر مقامی لوگوں اور ان کے مطالبات پر حاوی ہیں۔ معاشی معنوں میں دیکھا جائے، جمہوریت بذات خود کوئی ترقی نہیں کہلاتی۔ ہاں یہ ایک طریقہ یا راستہ ہے جس کے ذریعے معاشی و سماجی ترقی حاصل کی جاتی ہے۔ہمارے ہاں یہ طریقہ دیسی ڈھانچے اور اقتدار سے تعلقات کا حصہ ہی رہاہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسا نظام وجود میں آتا ہے جو اپنے جوہر میں غیر جمہوری ہے۔ لہٰذا پاکستان جیسے ممالک میں غیر جانبدارانہ انتخابات ایک خواب سا لگتا ہے۔ 

کسی نے خوب کہا تھا کہ اگر سیاسی رہنما اپنے وعدوں نبھالیں، اور فلاح عامہ کو اپنی حقیقی او ر پائدار معاشی پروگراموں کے ذریعے آگے بڑھائیں تو انہیں کبھی بھی انتخابات میں د ھاندلی کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ آمر اور عوام کی دولت لوٹنے والے سیاست کے نام پر موجودافراد ہوتے ہیں جو جنہوں نے ناکام حکمرانی کے ساتھ کئی غیر جمہوری مثالیں قائم کی ہیں۔ ان کے سیاسی غیر بلوغت، بے جا حرکت، اور عدم برداشت نے جمہوریت کو گرہن لگا دیا ہے۔ یہاں پر غیر سیاسی قوتوں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع مل جاتاہے۔ پھر یہ دونوں فریقین یعنی اقتدار پرست اور غیر سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو مضبوط کرتی رہتی ہیں۔ 


جمہوریت صرف تھیوری میں ہے عملا نہیں۔ عملی طور پریہاں پر ایک چھوٹی اقلیت کے مفادات وسیع تر اکثریت کے مفادات پر حاوی ہیں۔ روز بروز یہ امر پختہ ہوتا جارہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت قابل عمل نظام نہیں۔ یہاں پرجمہوریت کے لئے ابراہم لنکن کا مقولہ الٹا یعنی سر کے بل کھڑا ہے۔ ’’ جمہوریت اقلیت کی حکومت ہے جس کو اقلیت ہی بناتی ہے اور وہ اقلیت کے لئے ہی ہوتی ہے‘‘۔ اگر حقیقی معنوں میں جمہوریت ہو تو غیرسیاسی قوتوں کے کردار کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ 


گزشتہ انتخابات کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ اقتدار کے حصول کی جنگ مروجہ سیاسی و آئینی حدود پھلانگ کر لڑی گئی۔ جس سے ملک میں جمہوریت پر سیاہ بادل چھا گئے ہیں۔ بڑھتا ہوا سیاسی بحران اور کشیدگی پورے ماحول کو آلودہ کئے ہوئے ہے۔ جمہوریت ایک سہارے پر زندہ ہے۔ ایک ایسی حکومت جو اکثریت کے مفادات اور امنگوں کی عکاسی کرے وہ حادثے کا شکار ہو جاتی ہے۔ ؂انتخابات میں ہر طریقے سے اوربڑے پیمانے پر دھاندلی کی خطرے کی گھنٹی بن گئی۔ 


سیاست کو تنقیدی سوچ اور فکرکے ساتھ معاملات فہمی ہونا چاہئے۔ یہ ایک ایسا موقعہ ہو جس میں لوگ آپشن میں سے بہترین کا انتخاب کر سکیں ، یہ قومی شعور پیدا کرنے اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ برسہا برس سے سیاست سے مراد ایک سخت اور خونریز جنگ ہے جو حکمران اور اپوزیشن کے درمیان لڑی جارہی ہے، بعض علاقوں میں یہ دشمنی اور مخاصمت کا کھیل ہے۔ پاکستان میں سیاست اقتدار کے لئے سیاسی متحاربین کے درمیان ایک شدید جنگ ہے۔ مارو یا مر جاؤ۔

ہمارے پاس حکمران کو اپوزیشن خطرہ ہے یا اپوزیشن کو حکمرانوں سے۔ ذاتی حملے، کردار کشی، بلیک میلنگ، عام ہوتے ہیں جو کہ سیاسی مکالمے یا بحث کو ختم کردیتے ہیں ایسی بحث جس میں حکومت یا متبادل اپوزیشن کے ویزن کا پتہ چلے۔ دوسری طرف لوگوں کو کلی طور پر بیوقوف بنایا جاتا ہے، دھوکہ دیا جاتا ہے اور اقتدار پرست سیاستدان انہیں اپنی رومانیت میں لے لیتے ہیں۔ 


ہوتا یہ ہے کہ انتخابات ہو جانے کے بعد ووٹر اور سیاسی جماعتوں یا امیدواروں کے درمیان معاہدہ غائب ہو جاتا ہے ۔ لوگوں کے مصائب سے سیاستداں آنکھیں پھیرلیتے ہیں۔ اکثریت بے بس اور اس کی آواز غیر ضروری ہو جاتی ہے۔ 


دھاندلی سے مراد ووٹنگ کے عمل میں منظم ہیراپھیری ہے ۔جو ووٹنگ کے عمل خواہ گنتی کے وقت بھی ہو سکتی ہے۔ مقصد جو نتائج آرہے ہیں ان میں مداخلت کرناہے۔ یعنی وہ نتائج آنا جو ووٹر نہیں چاہتے تھے۔ دھاندلی ایک مروجہ عمل بن گیا ہے۔ حکمران جماعتیں جو اپنے وعدے پورے نہیں کرپاتی او رلوگوں کو کچھ ڈلیور نہیں کر پاتی، وہ لوگوں کی امنگوں کو زبردستی کنٹرول کرنا چاہتی ہیں اور یوں اقتدار اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ 


پاکستان میں اگرچہ انتخابات کم ہی ہوئے ہیں لیکن جب بھی ہوئے، دھندلی سے بچ نہیں سکے۔ پچاس کے عشرے کے آغاز میں دھاندلی کے طریقے بہت ہی سادہ تھے۔ مثلا بوگس ووٹ کا داخلا، چھوٹے موٹے وجوہات کو بنیاد بناکر کاغذات نامزدگی مسترد کرنا، دباؤ یا دھونس کے ذریعے ووٹ لینا، مرضی کے امیدوار کے حق میں زبردستی ٹھپے لگا کر بیلٹ باکس بھرنا، بیلٹ پیپرز اور بیلٹ باکسز کے ساتھ دخلت اندازی، مخالفین کو ہراساں کرنا وغیرہ ۔یہ دھاندلی کے کلاسیکی طریقے ہیں۔


اگلے آٹھ سال تک ملک نے انتخابات ہی نہیں دیکھے۔ 1962 اور 1965 میں ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں میں چند ہزار افراد تھے جن کو کنٹرول کرنا آسان تھا۔ یہ کام ضلع انتظامیہ یعنی ڈپٹی کمشنروں کے ذریعے بہت آسانی سے کیا گیا۔ تب ڈپٹی کمشنر بہت بااختیار ہوتے تھے۔ 


1970 کے انتخابات نسبتا منصفانہ مانے جاتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1977 کے انتخابات میں حیات ٹمن کی سربراہی میں الیکشن سیل بنایا گیا، اور منصوبہ بندی کے ساتھ ان انتخابات میں دھاندلی کردی۔ اس کے خلاف نو ستاروں والے اتحاد پی این اے نے احتجاج کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ پھر اگلے آٹھ سال تک انتخابات ہی نہیں ہوئے۔ 1985 میں ضیاء الحق نے غیر جماعتی انتخابات کرائے۔ جس کلاسیکی طریقوں کے ساتھ ساتھ بعض نئی تیکنیک بھی استعمال کی گئی۔ مثلا من پسند حلقہ بندی، مخالفین کے حلقہ بندی میں تنہا کرنا، بااثر امیدواروں نے انتخابی مہم پر بڑی رقمیں خرچ کرنا ۔ ان انتخابات کی دو تین خرابیاں جو پورے سیاسی نظام کے جڑوں میں بیٹھ گئیں۔ ان میں سے ایک پیسوں سے ووٹ خرید کرناتھا۔ یہ عنصر پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر متعارف ہوا۔ 


1990 کے انتخابات میں چار ’’پی‘‘ یعنی پٹواری، پولیس، پیسہ اور پریشر نے کام دکھایا، ایجنسیوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا،اصغر خان اس کی ایک مثال ہے۔ ووٹنگ کے عمل کے ساتھ میں گنتی اور نتائج کو جمع کرنے کے عمل میں بھی گڑبڑ کی گئی۔ یہی طریقے 2000- 20001 کے بلدیاتی اور 2002 کے عام انتخابات میں بھی استعمال کئے گئے۔ 

2008کے انتخابات میں امریکہ کی ہدایات پر معاملات ہوئے۔ جس میں لاکھوں بوگس ووٹرز کے داخلا اور ماضی کے روایتی طریقے بھی استعمال کئے گئے۔


۔ 2013 میں الیکشن کمیشن کو مزید اختیارات دینے کے لئے انتخابی اصلاحات کا کام شروع کیا گیا۔ نئی انتخابی فہرستیں بنائی گئی جس میں شناختی کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا۔ نئے کاغزات نامزدگی کے فارم متعارف کرائے گئے جس میں ٹیکس نا دہندگان اور احتساب بیور کے خانے بھی شامل کئے گئے۔ لیکن یہ انتخابات بھی دھندلی کے الزام سے بچ نہ سکے۔ جیسے ہی انتخابی نتائج آنا شروع ہوئے، احتجاج شروع ہو گیا۔ ماسوائے مسلم لیگ نواز کے تمام پارٹیوں نے احتجاج کیا اور دھندلی کاا لزام عائد کیا۔ پیپلزپارٹی نے رٹنرننگ افسران کا ا لیکشن قرار دیا، اور کہ کہا کہ بحالت مجبوری ان اانتخابات کے نتائج کو قبول کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے طویل احتجاج اور دھرنے شروع کردیئے۔ بالآخر دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن قائم کیا گیا۔ کمیشن نے عمران خان کے ان الزامات کو مسترد کیا کہ کوئی منظم دھاندلی ہوئی ہے۔ 


انتخابات میں دھاندلی کیوں کی جاتی ہے؟اول معاشی اور سیاسی طور پر بالادستی حاصل ہو، دوم : چورائی ہوئی دولت اور اپنے ساتھیوں کا تحفظ۔ سوئم: اپوزیشن کو بالکل غیر فعال بنا دینا، عوامی شرکت کی حوصلہ شکنی کر کے جمہوریت کو کمزور کرنا، دبانا، حکمران اشرافیہ کو پختہ کرنا اوراس کی بالادستی جاری رکھنا، یہ سبدر حقیقت عوام الناس کے خلاف سازش ہے۔ 

انتخابات میں دھندلی ایک جامع عمل ہے جس میں انتظامیہ، الیکشن کمیشن، میڈیا کے ساتھ عدلیہ کا کنٹرول بھی شامل ہے۔ یہ اس طرح سے مرتب کیا جاتا ہے کہ جس میں اصل معاملے کی قلعی اتر نہ سکے۔ لہٰذا آج کے دور میں آمر جمہوریت کو قید کر لیتے ہیں جال میں پھنسا دیتے ہیں۔ چالاک امیدوار جو ہمیشہ دھندلی کا نیا طریقہ تلاش کر لیتے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ الیکش کمیشن کس طرح سے دھندلی کو روکتی ہے۔ 


دھاندلی صرف پولنگ کے روز ہی نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ ایسی حکمت عملیاں بن گئی ہیں کہ پولنگ سے کئی ہفتے بلکہ ماہ پہلے نتائج طے ہو جاتے ہیں۔ وہ ووٹنگ کے روز دھاندلی کے الزام سے بچ جاتے ہیں۔ اب دھاندلی نے کارپوریٹ شکل اختیار کر لی ہے۔ جس میں پری پول دھاندلی، انتخابی مہم کے دوران، دھاندلی، پولنگ کے روز اور ووٹنگ کے بعد کی دھاندلی۔ہر کوئی 2013 کے انتخابات کے بعد اٹھنے والے طویل احتجاجی طوفان کو دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا۔


انتخابات کا اصل جوہرشفاف انعقاد کے ساتھ ساتھ ان کے نتائج کو تسلیم کرنا ہے۔ اسی طرح ان انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوریت کو حقیقی روپ دے ۔ انتخابات کا بامقصد ہونا لازم ہے۔ تشویش ناک امر ہے کہ سیاسی ماحول میں ملکی معیشت، مستقبل کی منصوبہ بندی، خارجہ پالیسی کے اہم موضوعات انتخابات سے قبل زیر بحث نہیں۔ عام لوگوں کے ایشوز روز گار، صحت اور بنیادی سہولیات پر بھی بات نہیں ہورہی۔ بامقصد انتخابات کے لئے تمام جماعتوں کو مساوی مواقع میسر دینا لازم ہے۔ انتخابات کا پر جتنا وقت پر ہونا لازم ہے اتنا ہی لازم سب کے لئے قابل قبول ہونا بھی۔
.............................................................................................................
۔ ذوالفقار علی بھٹو ۔  جنرل ضیاء  ۔   اصغر خان کیس۔   
.----------------------------------------------------------------------------------
http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/19-06-2018/details.aspx?id=p12_04.jpg 

http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/why-rigging-the-poll

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/60265/Sohail-Sangi/Why-rigging-the-poll.aspx

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/why-rigging-the-poll-4546.html

http://politics92.com/singlecolumn/60265/Sohail-Sangi/Why-rigging-the-poll.aspx




No comments:

Post a Comment