ریحام کی کتاب اور سیاست کا اصل بیانیہ
خوئی بھی ٹی وی چینل کھو لیں، یا اخبار کا صفحہ پلٹ کے دیکھیں، یا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر جائیں، ہر طرف ریحام کا ذکر ہے۔ ہر سیاستدان بھی اس کا ذکر کر رہا ہے۔ ہر صحافی اس کتاب کا ذکر کر رہا ہے۔ اینکر پرسن پروگرام پر پروگرام کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں ایسے حیران کن انکشافات کا ذکر کیا ہے جس سے عمران خان اور ان کی پارٹی کو یقین ہے کہ انکی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔
فی الحال یہ کتاب شایع ہی نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا اس کے مندرجات کے بارے میں قیاس آرائیاں ہیں۔ ریحام خان خود بھی فی الحال نہیں بتا رہی ہیں۔ بلکہ ہر دفعہ ایک آدھ اضافی بات بتا کر نیا ’’بم‘‘ پھوڑ دیتی ہیں۔ جس سے اس کتاب کی پراسراریت مزید بڑھ جاتی ہے۔
ریحام خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کی کتاب میں ایک بلیک بیری کا تفصیل سے ذکر ہے۔ تحریک انصاف اسی بلیک بیری سے خوفزدہ ہے۔
گزشتہ سال پی ٹی آئی کی سابق رہنما عائشہ گلالئی نے عمران خان پر نازیبا پیغامات بھیجنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خواتین سے کہتے تھے کہ وہ بلیک بیری استعمال کیا کریں، کیونکہ بلیک بیری کے پیغامات کا پتہ نہیں چلایا جاسکتا۔ بلیک بیری کی وجہ سے پی ٹی آئی اور بھی خوفزدہ ہے۔
تحریک انصاف جو گزشتہ چار سال سے مسلسل حکومت کے ساتھ’’ دست گریباں‘‘ تھے اس کو یہ ڈر ہے اس کتاب میں اگر عمران خان کے حوالے سے جو صداقت پرمبنی کچھ انکشاف سامنے آئے تو پارٹی اور اس کے لیڈر کو انتخابات میں نقصان پہنچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف ریحام کی اس کتاب کو ایک سیاسی سازش قرار دے رہی ہے ۔
پی ٹی آئی کی پوری کوشش ہے کہ کتاب کے مندرجات کو جھٹلائے، وہ مندرجات جو ابھی شایع نہیں ہوئے ہیں۔ لہٰذا جوابا جو کچھ کہا جارہا ہے وہ ہوائی فائرنگ ہی ہے۔ہوائی فارئنگ ہمیشہ خوف و ہراس پھیلانے اور میدان سے بھاگ جانے کے لئے کی جاتی ہے۔ ریحام پر سخت تنقید کی جارہی ہے، کبھی کتاب کے اس پورے کھیل کو نواز لیگ کی سازش اور منصوبہ بندی قرار دیا جارہا ہے۔ کبھی اس کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ تلاش کیا جارہا ہے۔
الزامات اور الفاظ کی جنگ عروج پر ہے۔ جس نے سیاسی خواہ سماجی اخلاقیات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
پی ٹی آئی کی یہ بھی کوشش ہے کہ کتاب کی اشاعت کسی طرح سے روک دی جائے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ملتان کی ایک چھوٹی عدالت نے اس طرح کا حکم امتناعی جاری بھی کردیا ہے۔
فی الحال یہ کتاب شایع ہی نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا اس کے مندرجات کے بارے میں قیاس آرائیاں ہیں۔ ریحام خان خود بھی فی الحال نہیں بتا رہی ہیں۔ بلکہ ہر دفعہ ایک آدھ اضافی بات بتا کر نیا ’’بم‘‘ پھوڑ دیتی ہیں۔ جس سے اس کتاب کی پراسراریت مزید بڑھ جاتی ہے۔
ریحام خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کی کتاب میں ایک بلیک بیری کا تفصیل سے ذکر ہے۔ تحریک انصاف اسی بلیک بیری سے خوفزدہ ہے۔
گزشتہ سال پی ٹی آئی کی سابق رہنما عائشہ گلالئی نے عمران خان پر نازیبا پیغامات بھیجنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خواتین سے کہتے تھے کہ وہ بلیک بیری استعمال کیا کریں، کیونکہ بلیک بیری کے پیغامات کا پتہ نہیں چلایا جاسکتا۔ بلیک بیری کی وجہ سے پی ٹی آئی اور بھی خوفزدہ ہے۔
تحریک انصاف جو گزشتہ چار سال سے مسلسل حکومت کے ساتھ’’ دست گریباں‘‘ تھے اس کو یہ ڈر ہے اس کتاب میں اگر عمران خان کے حوالے سے جو صداقت پرمبنی کچھ انکشاف سامنے آئے تو پارٹی اور اس کے لیڈر کو انتخابات میں نقصان پہنچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف ریحام کی اس کتاب کو ایک سیاسی سازش قرار دے رہی ہے ۔
پی ٹی آئی کی پوری کوشش ہے کہ کتاب کے مندرجات کو جھٹلائے، وہ مندرجات جو ابھی شایع نہیں ہوئے ہیں۔ لہٰذا جوابا جو کچھ کہا جارہا ہے وہ ہوائی فائرنگ ہی ہے۔ہوائی فارئنگ ہمیشہ خوف و ہراس پھیلانے اور میدان سے بھاگ جانے کے لئے کی جاتی ہے۔ ریحام پر سخت تنقید کی جارہی ہے، کبھی کتاب کے اس پورے کھیل کو نواز لیگ کی سازش اور منصوبہ بندی قرار دیا جارہا ہے۔ کبھی اس کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ تلاش کیا جارہا ہے۔
الزامات اور الفاظ کی جنگ عروج پر ہے۔ جس نے سیاسی خواہ سماجی اخلاقیات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
پی ٹی آئی کی یہ بھی کوشش ہے کہ کتاب کی اشاعت کسی طرح سے روک دی جائے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ملتان کی ایک چھوٹی عدالت نے اس طرح کا حکم امتناعی جاری بھی کردیا ہے۔
بات تحریک انصاف کے رہنما حمزہ علی عباسی نے پھوڑی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ریحام کی کتاب پڑھ لی ہے۔ حد کمال یہ ہے کہ انہوں نے یہ کتاب شایع ہونے سے پہلے پڑھ لی۔منطقی سوال ہے کہ کیا انہوں نے یہ مسودہ چوری کیا؟ یا ۔۔۔ یا جو کچھ بول رہے ہیں وہ درست نہیں۔ وہ چاہ رہے ہیں کہ کتاب شایع ہونے سے پہلے ریحام اس کے مندرجات کو عام کردے۔
تحریک انصاف کے فوادچوہدری اس کتاب کی اشاعت کو پری پول رگنگ قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے رائے ونڈ نیٹ ورک ہے۔
عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ عمران کے دفاع کے لئے ریحام کے سامنے آگئی ہیں۔ جمائمہ کا کہنا ہے کہ اگرریحام خان کی کتاب برطانیہ میں شائع ہوئی تو وہ اپنے بڑے بیٹے سلیمان عیسیٰ خان کی جانب سے ہتک عزت اور خلوت میں دخل اندازی اور صہیونی لابی کے سازشی نظریوں کے بارے میں خیالات ظاہر کرنے کے الزام میں ہرجانے کا دعویٰ کریں گی ۔
عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ عمران کے دفاع کے لئے ریحام کے سامنے آگئی ہیں۔ جمائمہ کا کہنا ہے کہ اگرریحام خان کی کتاب برطانیہ میں شائع ہوئی تو وہ اپنے بڑے بیٹے سلیمان عیسیٰ خان کی جانب سے ہتک عزت اور خلوت میں دخل اندازی اور صہیونی لابی کے سازشی نظریوں کے بارے میں خیالات ظاہر کرنے کے الزام میں ہرجانے کا دعویٰ کریں گی ۔
ریحام خان کا کہنا ہے کہ کتاب میں ان کے ماضی اور تمام زندگی کے حوالے سے معلومات ہوں گی، صرف عمران خان سے شادی اور طلاق کے حوالے سے باتیں نہیں۔اس بات کی وضاحت تب ہی ممکن ہے جب کتاب منظر عام پر آ جائے گی،آخر یہ کتاب ہے یاانکشاف، یا پھرمحض ایک سازش؟ قبل از وقت کچھ بھی قیاس کرنا درست نہیں ہے۔
آج ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس کا مکمل انحصار ٹی وی اور اخبارات سے لیکر انٹرنیٹ اور اسکے ذریعے سوشل نیت ورک کی مختلف قسم کی میڈیا پر۔ نوجوان ذہن خاص طور پر اس کا ٹارگٹ ہیں کہ اس کے ذریعے ان کو سیاسی طور پر بے چینی پیدا کی جاسکے۔ سبز باغ ٹیلیویزن کے اشتہارات تک ہی محدود نہیں۔ میڈیا کے دیگر اقسام سال بھر جو مواد عام کرتی رہتی ہیں وہ بھی اہم ہوتا ہے۔
میڈیا اس صورت میں یہ کسی امیدوار کے لئے آسان بنا دیتا ہے کہ خود کو اچھا ثابت کرے اور مخلاف کو برا۔ بالکل ویسا جیسا اس کے سامعین اسکو دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کو اس صورتحال کا سامنا ہے۔ چار سال کی پوری کمائی اور محنت ایک کتاب نے اڑادی۔ عائشہ گلالئی اس بات کو آگے بڑھا رہی ہیں کہ عمران خان صادق اور امین نہیں رہے۔
ممکن ہے کہ انتخابات سے پہلے اس کتاب کی اشاعت کی صورت میں عائشہ گلالئی کی یہ بات عدلیہ اور الیکشن کمیشن تک جا پہنچے۔
میڈیا اس صورت میں یہ کسی امیدوار کے لئے آسان بنا دیتا ہے کہ خود کو اچھا ثابت کرے اور مخلاف کو برا۔ بالکل ویسا جیسا اس کے سامعین اسکو دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کو اس صورتحال کا سامنا ہے۔ چار سال کی پوری کمائی اور محنت ایک کتاب نے اڑادی۔ عائشہ گلالئی اس بات کو آگے بڑھا رہی ہیں کہ عمران خان صادق اور امین نہیں رہے۔
ممکن ہے کہ انتخابات سے پہلے اس کتاب کی اشاعت کی صورت میں عائشہ گلالئی کی یہ بات عدلیہ اور الیکشن کمیشن تک جا پہنچے۔
آپ اگر صادق اور امین کی اس طرح سے تعریف ، تشریح اور توضیح نکالوگے تو ایسا ہی ہوگا۔ عمران خان نواز شریف کے خلاف صادق اور امین کا معاملہ چلا رہے تھے تب اس کو اندازہ نہیں تھا کہ معاملہ ذاتی یا اخلاق حدود میں چلا گیا تو ہڈی گلے میں اٹک جائے گی۔
ہمارے ملک میں اخلاقیات، مذہب اور بعض سماجی معاملات سیاسی ہاٹ بٹن ہوگئے ہیں۔ جس کے نیتجے میں لوگوں کو شعوری طور پر یا لو گ اپنے طور پر سرگرم ہو جاتے ہیں۔
آئین کے مطابق الیکشن کمیشن اپنے اختیارات میں آزاد اور خود مختار ہے ۔ لیکن عدالتیں ان سے وہ کام کرارہی ہیں جو یا قانون کے دائرہ اختیار میں ہیں یعنی پارلمنٹ، یا پھر خود الیکشن کمیشن کے ۔
لاہور ہائی کورٹ نے نامزدگی فارم کو تبدیل کرنے کی ہدایت کردی۔ جس کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہو سکتے تھے۔ سپریم کورٹ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے جوہر کو برقرار رکھا اور فارم تبدیل کرنے کے بجائے اس کے ساتھ تفصیلی حلف نامے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ اگر یہ کرسکتی ہے، تو یہ بھی کرسکتی ہے کہ الیکشن کمیشن کاغذات نامزدگی کے ساتھ امیدوار اور سیاسی پارٹیوں سے انتخابی منشور بھی لے۔ اور بعد میں ان سے پوچھے بھی کہ اس منشور پر کتنا عمل ہوا؟۔ کیونکہ انتخابات حکومت چلانے کے لئے ہو رہے ہیں۔ یہاں پر انتخابی پروگرام ہی زیادہ اہم ہوتا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے نامزدگی فارم کو تبدیل کرنے کی ہدایت کردی۔ جس کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہو سکتے تھے۔ سپریم کورٹ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے جوہر کو برقرار رکھا اور فارم تبدیل کرنے کے بجائے اس کے ساتھ تفصیلی حلف نامے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ اگر یہ کرسکتی ہے، تو یہ بھی کرسکتی ہے کہ الیکشن کمیشن کاغذات نامزدگی کے ساتھ امیدوار اور سیاسی پارٹیوں سے انتخابی منشور بھی لے۔ اور بعد میں ان سے پوچھے بھی کہ اس منشور پر کتنا عمل ہوا؟۔ کیونکہ انتخابات حکومت چلانے کے لئے ہو رہے ہیں۔ یہاں پر انتخابی پروگرام ہی زیادہ اہم ہوتا ہے۔
ریحام کی اس کتاب کے قصے میں عوامی مسائل کی سیات اور بیانیہ پیچھے چلا گیا ہے۔ اشو کو نان اشو اور نا ن اشو کو اشو بنادیا گیا ہے، ہر ایک ریحام کے بارے میں بول رہا ہے۔
سیاستدان، اینکرپرسن، پوری میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اسی کا چرچہ ہے۔ عوام کی توجہ اصل مسائل اور اشوز سے ہٹ گئی ہے۔ ملک اس وقت بعض اہم مسائل سے دوچار ہے۔
ملک میں جمہوری عمل کا تسلسل اور اس کو آئدہ وقت میں بھی مضبوط رکھنا، ملک میں منتخب اداروں کی بالادستی، خارجہ پالیسی، اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کا کردار اور اس کا سیاسی او معاشی استحکام۔ اس پر سیاستدان اور میڈیا کے لوگ بات نہیں کر رہے ہیں۔ عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ بھی ایک طریقہ ہتا ہے کہ ایسے موضوع جو اہمیت کا حامل نہ ہو اس کو اہم بنا کر پیش کیا جائے۔ تاکہ جو اصل اشوز ہیں ان پر بات نہ۔
سیاستدان، اینکرپرسن، پوری میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اسی کا چرچہ ہے۔ عوام کی توجہ اصل مسائل اور اشوز سے ہٹ گئی ہے۔ ملک اس وقت بعض اہم مسائل سے دوچار ہے۔
ملک میں جمہوری عمل کا تسلسل اور اس کو آئدہ وقت میں بھی مضبوط رکھنا، ملک میں منتخب اداروں کی بالادستی، خارجہ پالیسی، اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کا کردار اور اس کا سیاسی او معاشی استحکام۔ اس پر سیاستدان اور میڈیا کے لوگ بات نہیں کر رہے ہیں۔ عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ بھی ایک طریقہ ہتا ہے کہ ایسے موضوع جو اہمیت کا حامل نہ ہو اس کو اہم بنا کر پیش کیا جائے۔ تاکہ جو اصل اشوز ہیں ان پر بات نہ۔
اب عوامی اشو ایک طرف ہو گئے۔ اب ذاتی اور سماجی یا اخلاقی اشوز سامنے آگئے ہیں۔ ویسے یہ صورتحال تمام پارٹیوں اور دیگر فریقین کو بھی سوٹ کرتی ہے کہ بجائے اصل بیانیئے اور عوامی اشو کے اس بات پر انتخابات ہوں کہ کون اخلاقی طور پر درست ہے اور کون نہیں؟ ایسے میں انہیں عوام سے کوئی وعدہ نہیں کرنا پڑے گا، کوئی سیاسی پروگرام نہیں دینا پڑے گا۔
Reham Ki Kitab Aur Siyasat Ka Asal Biyania By Sohail Sangi (Dated: 08 June 2018)
#Reham# #PTI# #ImranKhan#
https://www.naibaat.pk/07-Jun-2018/13442
https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/reham-ki-kitab-aur-siyasat-ka-asal-biyania-4302.html
http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/reham-ki-kitab-aur-siyasat-ka-asal-biyania
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/59996/Sohail-Sangi/Reham-Ki-Kitab-Aur-Siyasat-Ka-Asal-Biyania.aspx
دنیا بھرکے سامنے برے کردار کی عورت دکھایا گیا،ریحام خان کا شکوہ
راولپنڈی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا نے ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا اور انھیں دنیا بھرکے سامنے برے کردار کی عورت دکھایا گیا۔مجھ پر فیملی اور حلقہ احباب کی جانب سے کتاب کی جلد اشاعت کے حوالے سے دباؤ ہے، اب تک میری جانب سے کتاب سے منسوب اقتباس منظرعام پر نہیں لایا گیا، ریحام خان نے کہا کہ انھوں نے اپنی کتاب میں اپنے سابق شوہر عمران خان اور ان کی پارٹی سے منسلک جنسی طور پر ہراساں کرنے کے حوالے سے بات کی ہے۔



No comments:
Post a Comment