سندھ میں ہاری تحریک کا سیاسی اثر
سہیل سانگی
یہ مقالہ اکتوبر 2019 میں منعقدہ تاریخ کانفرنس میں پڑھا گیا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب سندھ فتح کیا تب تک برطانیہ میں صنعتی سرمایہ حاوی ہوچکا تھا۔ برطانوی صنعت کار سستے خام مال اور پانی مصنوعات کو بیچنے کی تلاش میں تھے۔ ان مقاصد کے پیش نظر انہوں نے سندھ میں کینال سسٹم رائج کیا۔ نتیجے میں ر بنجر زمینیں زیرکاشت لائی گئیں۔اور فی ایکڑ پیداوار میں بھی اضافہ ہوا۔ سرمایہ کاری اور آبپاشی نظام کی وجہ سے پیداواری ذرائع میں تبدیلی آئی۔ جس کے نتیجے میں نئے طبقات وجود میں آئے۔ زمیندار،سود پر قرضہ، بے زمین کسان، اور بیروزگار ہونے والے دستکار۔
انگریزیوں نے اپنی گرفت مضبوط رکھنے کئے لئے جاگیرداروں کے ساتھ اتحاد کیا۔ ان کو اقتدار میں بھی حصہ پتی دینا شروع کیا تو اور معاشی پالیسیوں میں بھی ان کا خیال رکھا۔
کینال سسٹم کے متعارف ہونے اور زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بڑھی ہوئی زرعی پیداوار کے حصے پر زمینداروں اور کسانوں میں جھگڑاشدید ہونے لگا۔
سندھ میں لگان کے نئے نظام کی وجہ سے زمیندار اور جاگیردار کسان کا حصہ (بٹئی) اپنی مرضی سے تبدیل کرنے لگے۔(احمد سلیم)، لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ان کے لئے اپنی زمینیں سنبھالنا مشکل ہوتا گیا۔ لہٰذا انہوں نے ٹھیکداری کا نیا نظام مقاطعہ رائج کیا۔ کسانوں کے لئے یہ صورتحال تباہ کن تھی۔ کیونکہ مقاطعیدار ان سے وہ رقم بھی وصول کرتا تھا جو اس نیزمیندار کو ادا کی، لگان اور اپنا منفع کا حصہ۔
آل انڈیا کسان کمیٹی اکتوبر -36-1935 میں وجود میں آئی۔ اس سے قبل برصغیر میں موجود دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس میں سے کوئی بھی سیاسی جماعت کسانوں کی بہتری کے لئے کام نہیں کر رہی تھی۔دیکھا جائے تو آل انڈیا کسان سبھا کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا کا ایک فرنٹ تھی۔لیکن اس میں کانگریس، کمیونسٹ اور سوشلسٹ بھی شامل تھے۔ ابتدائی طور پر بہار، اترپردیش، آندھرا پردیش، ملابار، گجرات، پنجاب اور بنگال میں ہاری تنظیمیں بنیں۔ اس کے بعد 1936 میں کسان سبھا اپنے سرخ جھنڈے کے ساتھ قائم ہوئی۔ تین سال کے اندر اس نے آٹھ لاکھ کسانوں کو منظم کرلیا۔ ان کا نعرہ تھا ”مزدور کسان راج“۔ یہ سیاسی اظہار تھا۔
آل انڈیا کسان سبھا کے قیام کے بعد کانگریس نے بطور سیاسی پارٹی کے کسان سوال پر کام کرنا شروع کیا۔ کانگریس کے بعض لیڈروں کو کسان سبھا کے جھنڈے کا رنگ لال رکھنے پر اعتراض تھا، لیکن بعد میں انہوں نے اس رنگ کو قبول کرلیا۔ کانگریس کو دوسرا اعتراض کسان سبھا کے جنرل سیکریٹری سوامی سہاج آنند کے اس بیانیے پر تھا کہ کسان کارکن اپنے ساتھ ڈنڈا بھی رکھیں۔ کانگریس عدم تشدد کی بات کر رہی تھی۔ اس طرح کے ملے جلے رجحانات سندھ ہاری کمیٹی میں بھی چلتے رہے۔
”جو کھیڑے سو کھائے“ اور جاگیرداری کا خاتمہ سندھ کے ہاریوں کا صوفی شاہ عنایت شہید کے زمانے سے سدا بہار مطالبہ رہا ہے۔ اضافی زمینیں ضبط کرو، اور زمین کی از سرنو تقسیم کی جانے پر زور دیا جانے لگا، کیونکہ اس مطالبے پر عمل درآمد کے بغیر دیہی غربت کا کوئی دوسرا حل نہیں۔ سندھ ہاریوں کا کردار اپنے بنیادی حقوق مثلا مزارعتی حقوق، زمین کی ملکیت اور دیگر مظالم کے خلاف آواز اہم رہا۔ زمینداروں کے ظلم اور ان کے غیر انسانی حد تک حالات زندگی نے ہاری کمیٹی کو جنم دیا۔ ابتدائی طور پر ہاری ایسوسی ایشن بنی، جو ایک سماجی فلاحی لگتی تھی۔ بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے ہاری کمیٹی رکھا گیا، جس سے طبقاتی تنظیم کا اظہار ہوتا ہے۔
ہاری تحریک نے سندھ کے عوام کے سیاسی و سماجی شعور میں اضافہ کیا بلکہ سندھ کے دانشوروں اور متوسط طبقے کو بھی متحرک کیا، یوں کم پڑھا لکھا اور روایتی طورپر غیر منظم سمجھے جانے والے اس طبقے نے مجموعی طور پر سماجی وفکری ترقی میں نہایت ہی اہم کردار ادا کیا۔
سندھ ہاری کمیٹی کانگریس، کمیونسٹوں، روشن خیال شہری باشعور طبقے اور آزادی پسندوں کا اتحاد تھا۔ سوویت انقلاب نے آزادی پسندوں کو متاثر کیا اورمضبوط کیا۔ ترقی پسندی اور روشن خیالی کے اس اثر عنصر نے معاشرے کے نچلے طبقات جو کہ انگریزوں اور جاگیرداروں کے دوہرے ظلم کا شکار تھے اور نہایت غربت اور پست حالی کی زندگی گزار رہے تھے۔ آزاد کرانے اور تحریک آزادی کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔ وہ لوگ جو سیاست کرنا چاہتے تھے لیکن ان کی کوئی برادریاں یا قبیلے نہ تھے جو ووٹ بینک بنیں۔ اور وہ بھی جوبراہ راست عوام سے رجوع کرتے تھے ان کی ضرورت بنی کی عوام کے وسیع تر حلقے کو اپنی طرف لے آئین، یہ ضرورت اس وقت مزید برھ گئی جب برطانوی راج نے برصغیر میں سیاسی اصلاحات لانا شروع کیں اور انتخابات سیاسی اثر رسوخ اور اقتدار کے لئے اہم ہونے لگے۔
تیس کے عشرے شروع ہونے تک برصغیر کے مختلف کونوں میں جاگیردار مخالف تحریکیں چل رہی تھیَ۔ سندھ میں ہاری ایسو سی ایشن اور ہاری کمیٹی بننے کے بعد ان تحریکوں کی خبریں سندھ تک بھی پہنچنے لگیں۔ سندھ کی بمبئی سے علحدگی کے پیچھے صوبے کی شناخت کی بحالی کی خوش آئند بات اپنی جگہ پر، لیکن اس میں بمبئی کی مزدور تحریکوں کے اثرات کا ڈر سندھ کی جاگیردار اشرافیہ بھی محسوس کر رہی تھے۔
ہاری کمیٹی کے قیام کے پیچھے سندھ کے ہاریوں کے استحصال کو ختم کرنے کے لئے مربوط کوشش کرنا تھا، اور انہیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا جو جاگیرداروں اور زمینداروں کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے۔
انگریز کے دور میں بھی زرعی پیداوار میں منصفانہ حصہ نہ ملنا یا لگان وغیرہ کی شرح میں اضافہ، ہاری کی سماجی زندگی پر حاوی ہونا وغیرہ شامل تھا۔ اب تو بلکہ زرعی پیداوار میں زمیندار اپنا بڑاھتا رہتا تھا۔ ہاری کمیٹی نے نہ صرف ہاریوں میں بیداری پیدا کی، انہیں آگاہی دی بلکہ ان کے مطالبات مختلف حکومتی سطح پر بھی پیش کئے۔ لہٰذا زمینداروں اور بیوروکریسی کو چیلینج کرنے کے لئے ہاری کمیٹی میں وزن پیدا ہوا۔
انگریز نے زمین سے متعلق اپنے قانون نافذ کئے۔ تقریبا تین ہزار جاگیرداروں کے پاس ہر ایک کے پاس پانچ سو ایکڑ سے زائد زمین تھی۔( اسلم خواجہ پیپلز موومنٹس ان پاکستان)
تیس کے عشرے میں سکھر بیراج کی زمینیں تقسیم ہونے لگیں۔ جب سندھ کے باہر کے لوگوں کو زمینیں ملیں تو یہ لوگ کسان بھی اپنے ساتھ لے آئے۔ مجموعی سیاسی و سماجی جاگرتا کی وجہ سے کسانوں میں جاگیرداروں سے عدم فرمانی سر اٹھانے لگی۔ جس کے لئے دفعہ 109 اور دفعہ 107 کا بے دریغ استعمال ہونے لگا۔ ہاریوں کو غنڈہ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جانے لگا۔
ہاری کمیٹی میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ تھے، جو سمجھتے تھے کہ ہاری اینجڈا مجموعی طور پر ان کی سیاسی فکر کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ہاری کمیٹی چونکہ مختلف الخیال سیاسی پارٹیوں کا اتحاد نما تھا لہٰذا کسی کو بھی اس تنظیم کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا آسان نہ تھا، لہٰذا یہ کلاس تنظیم رہی۔ لہٰذا سندھ میں ہاریوں کا تحریک آزادی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
چالیس کے عشرے میں ہاری تحریک جس کی قیادت ہاری کمیٹی کر رہی تھی، طبقاتی تنظیم ہی رہی۔ اس عرصے میں ہاری کمیٹی نے اس حوالے سے دو بنیادی مطالبات بٹئی زرعی پیداوار کی ہاری اور زمیندار کے درمیان تقسیم کامطالبہ منوالیا۔یہ طبقاتی مطالبہ تھا۔ٹیننسی ایکٹ پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ دوفعہ 197 اور 109 کے مطالبات پر موبلائزیشن کی، ج کہ ان کو سماجی تحفظ فراہم کرتا تھا۔
سندھ ہاری کمیٹی کی قیادت نامور سیاستدان اور سماجی کارکن کر رہے تھے۔ حیدر بخش جتوئی کی ہاری کمیٹی میں شمولیت نے سندھ کے کسانوں کی تنظیم میں نئی جان ڈال دی۔ وہ سرکاری عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ لہٰذا بیوروکریسی کا مائنڈ سیٹ جانتے تھے اور کس طرح سے وہ کام کرتی ہے؟ وہ طریقہ بھی جانتے تھے۔ وہ کیمونسٹ پارٹی اور تھیوسوفیکل سوسائٹی کے ممبر تھے۔ وہ کسانوں اور سندھ کے غریب طبقات کے حقوق اور ان کی حقیقی آزادی میں یقین رکھتے تھے۔
ہاری کمیٹی کا اہم قدم ٹننسی ایکٹ تھا۔ سر روجر نے ٹیننسی کی قانون سازی کی تجاویز دیں جن کی ہاری کمیٹی نے بھرپور انداز میں مخالفت کی۔
سندھ ہاری کمیٹی مکمل طورپر جمہوری اور پرامن جدوجہد میں یقین رکھتی تھی۔ تمام اشوز کمیٹی کی تنظیم میں زیر بحث لائے جاتے تھے۔ ہاری کمیٹی ایک منظم تنظیم تھی۔ جس کی صوبے بھر ضلور تعلقہ سطح پر شاخیں تھیں۔ ہاری کمیٹی نے ہاریوں کو منظم اور موبلائیز کرنے کے لئے کانفرنسیں بھی کیں۔
پچاس کا عشرہ
سندھ میں چالیس اور پچاس کے عشرے میں جو بڑے پیمانے پر بٹئی تحریک، الاٹی تحریک اور سندھ ٹیننسی ایکٹ کی تحریکیں چلیں اور کامیابیاں حاصل کیں۔ اس ہاری تحریک کے رہنماؤں کامریڈ نذیر جتوئی، عزیزاللہ جروار، کامریڈ رمضان شیخ، مولانا ہالیجوی، مولانا عبدالحق ربانی اور دیگرحضرات دیوبند کے سند یافتہ علماء تھے۔ سرخے مولوی کہلانے والے یہ حضرات ہمیشہ ترقی پسند اور تحریک کا حصہ اور قوم پرست تحریک کے حامی رہے۔ کھڈہ مدرسہ کراچی کے علماء کا اس حوالے سے خاص کردار رہا۔
پچاس کے عشرے میں زمین، کسان کے لئے پیداوار میں منصفانہ حصے قرضوں میں معافی، اور بھاری لگان کے معاملات پیش پیش رہے۔
سندھ اور پنجاب میں کسانوں نے ملک گیر تحریک شروع کر رکھی تھی۔ قرضے کے لئے قانون سازی، سرکاری زمینوں پر ان کے حق کے لئے۔ اس کے ضواب میں حکومت نے ریونیو میں رعایت اور بے زمین ہاریوں کو زمین دینے کے مطالبات کو اصولی طور پر مانا۔
سندھ حکومت نے ہاریوں کی بہبود کے لئے ایک کمیٹی بنائی۔ لیکن ایوب کھڑو نے اس کمیٹی کی سفارشات کوکو دبا دیا۔ اس رپورٹ پر مسعود کھدرپوش کا تاریخی اختلافی نوٹ تھا۔
سندھ ہاری کمیٹی کا رول تاریخ میں نمایاں رہے گا۔ جس نے ہاریوں کے حقوق، زمینی اصلاحات کے لئے بھرپور اور خلوص کے ساتھ جدوجہد کی۔ سندھ ہاری کمیٹی کی 1955 میں منعقدہ ہاری کمیٹی کی قراردادوں سے ظاہر ہے۔
قیام پاکستان کے بعدسندھ میں کسانوں نے مزدور طبقے کے ساتھ مل کر زمینی اصلاحات اور کسانوں کے حالات بہتر بنانے کی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ نئے ملک بننے کے بعد صورتحال میں تبدیلی آچکی تھی۔لیکن کسانوں کے مسائل اپنی جگہ پر قائم رہے۔ اب برارہ راست جاگیردار حکومت میں تھے۔ اور بیوروکریسی براہ راست ان کے ماتحت تھی۔ ایک عشرے بعد سبز انقلاب شروع ہوا۔ لیکن اس سے کسانوں کی غربت اور حالات پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ایک پڑھا لکھا اور قانونی شکل میں ایسا طبقہ حکمران بنا جس
کے ہاتھوں میں بڑی بڑی زمیندرایاں تھیَ جو کسانوں کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو کنٹرول کر رہا تھا۔ آزادی کے تقریبا دو عشروں تک سندھ کے زرعی شعبے میں معملی تبدیلی آئی۔ ٹیننسی ایکٹ جو 1950 میں پاس ہوا ھتا وہ کسانوں کو تحفظ نہیں دے پارہا تھا۔ جوقانونی لحاظ سے مستقل بن چکے تھے۔
سندھ کے کسان کے ساتھ یہ المیہ رہا کہ پہلے سے موجود زمینوں کی از سرنو تقسیم زمیندار کرنے نہیں دے رہے تھے، ااور جو بیراجوں کی تعمیر سے نئی زمین قابل کاشت بن رہی تھی وہ
حکومت ان کو دینے کے لئے تیار نہیں تھی۔
کوٹری اور گڈو بیراج کی بعد قابل کاشت بننے والی زمینیں فوجی اور سول افسرشاہی یا پنجابی آبادگاروں اور سندھ کے زمینداروں کو دی گئیں۔ تقریبا بیس لاکھ ایکڑ زمیں 1947 میں انڈیا منتقل ہونے والے ہندوؤں نے چھوڑی تھی۔ یہ زمین شہروں میں آباد انڈیا سے آنے اردو بولنے والوں کو الاٹ کی گئیں۔ جس کے نتیجے میں شہری غیر
حاضر زمیندار طبقہ وجود میں آیا۔ 1959کے اصلاحات نے خاندان کے اندر ہی زمین کے کھاتوں کی معمولی تبدیلی آئی۔ زمین کی ملکیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ (ڈاکٹر فیروز احمد)
قیام پاکستان کے بعد سندھ حکومت کی ماتحت زمین کا کنٹرول اور اس کی تقسیم کی ذمہ داری ری ہبلیٹیشن کمشنر کو کوپنجاب میں لینڈ الینیشن بل سندھ میں مسلمانوں کو زمینیں واپس دینے۔ پاکستان حکومت کا پہلا قدم یہ تھا کہ مہاجروں کو آباد کرے۔ لہذا چالیس فیصدزرعی زمین جو ہندوؤں کے پاس رہن تھی۔ وہ انڈیا سے اانے والے مہاجروں کو الاٹ کی گئی۔ شہری علاقوں کی غیر منقولہ جائدادیں بھی مہاجروں کو الٹ کی گئیں۔
پچا س کا عشرہ
پچاس کے دہائی کے پہلے حصے میں ٹیننسی ایکٹ منظور کرا پائی۔ یہ ایکٹ مرکزی حکومت کی سندھ کے زمینداروں کے ناراضگی وجہ سے ممکن ہو سکا۔ عوام کو فائدہ ہمیشہ حکمران طبقوں کی کمزوری اور ان کے آپس کے تضادات سے ملتا ہے۔
ایوب خان کے مارشل لاٗ سے پہلے کراچی میں ہاری حقدار کے نعرے پر مزدوروں، طلباء، نشینل عوامی پارٹی اور دیگر روشن خیال لوگوں نے ایک بہت بڑا جلوس نکالا، جس سے ہاری سوال ایجنڈا پر ابھر آیا، یہاں تک کہ ایوب خان نے جب مارشل لاء نافذ کیا تو انہوں نے اس بے چینی کو بھی مارشل لاء کی وجواہت میں سے ایک بیان کیا۔
نعپ کے اندر سندھ کے تمام قوم پرست شامل تھے، لیکن جب ایوب خان نے پنجابیوں اور پٹھانوں کو زمینیں الاٹ کیں، تو نعپ کی پنجاب اور صوبہ صوبہ سرحد (پختونخوا) سے قیادت نے سندھ نعپ سے اس کی مخالفت نہ کرنے کو کہا۔
ٹیننسی ایکٹ 1950 میں پاس ہوا جس میں ہاریوں کو حقوق دیئے گئے تھے۔ اس لئے حکومت نے ایک کمیٹی بنائی کہ ٹیننسی ایکٹ میں ترامیم کے لئے سفارشات پیش کرے۔ اس ٹرمز آف ریفرنس ہی عجیب تھے، جو بذات خود بتاتے تھے کہ ہاریوں کو دیا نہیں جارہا بکلہ ان کو جو کچھ حقوق حاصل ہیں وہ چھینے جارہے ہیں۔ ان ٹرمز آف ریفرنس کا ذرا جائزہ لیجیئے:
۱۔ کیا ضروری ہے کہ کسانوں کو ٹیننسی حقوق دیئے جائیں؟
۲۔ اگر ہاں تو ہاریوں کے کس طبقے کو؟
ان میں سے بعض نکات درج ذیل ہیں
۱۔ ہاری کو تجارتی کاشت کی صورت میں کسی بھی وقت ٹیننسی کے حقوق سے محروم کیا جاسکتا ہے ۔
زمیندار ٹربیونل میں جائے بغیر کسی ہاری کو بے دخل کرسکتا ہے۔
اصل بل میں ہاری کو بھوسے کا آدھا حصہ اور زمیندار کو تین چوتھائی حصہ تجویز کیا گیا تھا۔ اور کھڑو کی ترامیم میں ہاری کا حصہ کم کردیا گیا۔
سندھ ہاری کمیٹی کا یہ موقف تھا کہ زمین کسان کی ہے زمینداری نظام کو جانا چاہئے۔ اور زمین کی ملکیت کا حق کسان کو ہونا چاہئے۔ ہاریوں او رعوام کی طرف سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ کوٹری بیراج کی زمین بلا تاخیر بے زمین کسانوں کو دی جائے۔
ایوب خان کے 1959 کے زمینی اصلاحات جس میں زمین کی حد ملکیت پانچ سو ایکڑ مقرر کی گئی۔ اس سے صرف یہ ہوا کہ بڑا زمیندار مزید زمین نہیں خرید کر سکتا۔ کچھ زمین سرینڈر بھی ہوئی۔ وہ مزید زمینی اصلاحات سے ڈرے ہوئے تھے۔
پچاس کی دہائی کے پہلے حصے تک ہاری کمیٹی اور ہاری تحریک بطور طبقاتی تنظیم کے رہی، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے سندھ کے امور میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور خاص طور پر سندھ کی زمینوں کی حق ملکیت کے حوالے سے اقدامات نے ہاری کمیٹی خواہ ہاری تحریک کو قوم پرستانہ موقف کی طرف دھکیل دیا۔ جب ون یونٹ بنا تو ہاری کمیٹی اور اس کے اتحادیوں کو قوم پرستانہ موقف اختیار کرنا پڑا۔ یہ صورتحال ساٹھ کے عشرے کے آخری ایام یعنی ون یونٹ ٹوٹنے تک جاری رہی۔
ساٹھ کا عشرہ
ایوب کے لینڈ ریفارمس کے جلد ہی بعد ویسٹ پاکستان حکومت نے 1960 میں کوٹری بیراج کے زیر کمانڈ زمین فروخت کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا۔ یہی پالیسی دو سال بعد گڈو بیراج کے لئے بھی روا رکھی گئی۔ کوٹا مقرر کردیا گیا۔
حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی و سول افسران کے لئے،ان میں اکثر کا تعلق پنجاب، صوبہ سرحد یا قبائلی علاقوں سے تھا۔ پنجاب کے سیلاب کے متاثرین کے لئے بھی کوٹا تھا۔ سندھ کے بے زمین کسانوں کے لئے کوئی کوٹا نہیں رکھا گیا۔ کوٹری بیراج کی سولہ لاکھ ایکڑ اور گڈو بیراج کی گیارہ لاکھ ایکڑ زمین غیر سندھیوں میں اس طرح سے تقسیم کی گئی۔
یہ سب کچھ ون یونٹ کی چھتری کے نیچے ہورہا تھا۔ لہٰذا کسان بطور طبقے کے ون یونٹ سے متاثر ہو رہا تھا۔ اس بات نے کسان تحریک میں ون یونٹ کی مخالفت کا عنصر ڈالا۔
زمینداری دنیا بھر میں ختم ہو چکی ہے۔ لیکن پاکستان میں زمینداری نظام مضبوط ہوتا رہا۔ حکومت کے اندر خواہ باہر مستقل مفاد رکھنے والے مضبوط ہیں جو کہ زمینداری کا خاتمہ نہیں ہونے دے رہے ہیں۔ لہٰذا یہ کونسل حکومت سے مطالبہ کرتی ہے:
الف: پاکستان کے تمام کسانوں کے مزارعتی حق کا تحفظ کیا جائے۔ اور ان کی داخلا ریکارڈ آف رائیٹس میں کی جائے، یک طرفہ طور پر زمینداروں کی جانب سے بے دخلی کی قانونی طور پر ناجائز قراد یا جائے۔
ب: بٹئی سسٹم کی جگہ نقد پیسوں کی زمین کی کرایہ داری کو رائج کیا جائے۔ کسان یہ رقم سرکاری ادارے کے ذریعے ادا کریں گے۔ ت: جب تک بٹئی سسٹم ختم نہیں ہوتا، کسان پیداوار کا حصہ اٹھائیں گے جس میں سے کوئی کٹوتی نہیں ہوگی۔ث؛ ہر قسم کی مفت اور جبری محنت کا مکمل خاتمہ، اس مقصد کے لئے تمام سرکاری مشرنی استعمال کی جائے۔
اسی سلسلے کی کانفرنس 21 اور 22 جولائی 1970 میں سکرنڈ میں ہوئی۔ شیخ عبدالمجید سندھی نے صدارتی تقریر میں کہا کہ ہماری جدوجہد صرف ون یونٹ کے خاتمے تک نہیں، بلکہ یہ جاگیرداروں کے زمینوں پر قبضے اور طالمانہ پالیسیوں کے خلاف بھی ہے۔ سکرنڈ ہاری کانفرنس اس لئے بلائی گئی تھی کہ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد کی صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو، لیکن سکرنڈ ہاری کانفرنس متبادل اور جامع لائحہ عمل دینے میں ناکام رہی۔ اس کے اعلامیہ میں روایتی مطالبات اور روزمرہ کے اشوزتھے جو سیاسی بیانات میں پہلے بھی کئے جاتے رہے۔ مطلب کوئی متبادل پروگرام نہیں دیا گیا۔
اس کانفرنس کی قراردادوں کا خلاصہ یہ تھا:
کسانوں میں منصفانہ بنیادوں پر ہاریوں میں زمین تقسیم کی جائے، ہر طرح کی مفت اور جبری محنت (بیگر) کا خاتمہ کیا جائے، کسان کا بٹئی میں حصہ تین چوتھائی مقرر کیا جائے۔
حکومت کسانوں سے کپاس خود خرید کرے اور بعد میں فروخت کرے۔ نئی زرعی ٹیکنالاجی متعارف کرائی جائے۔
زرعی اصلاحات کی جائیں۔
ساٹھ کے عشرے میں ہاری کمیٹی کوشاں رہی کہ ٹیننسی ایکٹ پر عمل کرائے۔ یہ معاملہ 1967 تک چلتا رہا۔
ہاری تحریک نے سندھ کے کونے کونے میں سیاسی اور طبقاتی شعور پیدا کیا۔ کمیونسٹوں کی اولیت ون یونٹ رہا۔ انہوں نے سماجی تبدیلی کے بیانیہ کو پیچھے چھوڑ دیا، جب کہ معاشرہ سماجی تبدیلی کے دہانے کھڑا تھا۔اس معروضی صورتحال کو قوم پرست اور کمیونسٹ سمجھ نہ سکے۔ بھٹو نے اس صورتحال کو کیش کر لیا، اس کے ساتھ وہ ہاری کمیٹی کے نعرے اور کیڈر کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ سندھ میں ہاری کمیٹی کا پیدا کیا ہوا ہی شعور تھا، جس نے پیپلزپارٹی کو ابتدائی طور پر پارٹی کی بنیادیں فراہم کیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ہاری کارکن اس بات کو اوچھے طریقے سے رکھتے تھے کہ بھٹو نے ان کے کام پر قبضہ کرلیا ہے۔ سندھ میں آج بھی روشن خیالی، ترقی پسندی موجود ہے جس کو سیاسی شعور کا نام دیا جاسکتا ہے اس کی اصل وجہ ہاری کمیٹی کا نچلی سطح (گراس روٹ)پر کیا ہوا کام ہے۔ ہاری کمیٹی نے سندھ کی سیاست کوکئی ترقی پسند رہنما دیئے اور کئی سیاسی کارکنوں کی تربیت بھی کی۔
کمیونسٹ ایوب کے زمانے میں جمہوریت کی بحالی اور یحییٰ خان کے زمانے میں مارشل لاء ختم کرو کا نعرہ لگا رہے تھے، جب کہ ون ونٹ کا خاتمہ طے تھا۔
ہاری کمیٹی میں بحث چلی کہ جمہوریت کی بحالی اہم ہے یا ون یونٹ کا توڑنا۔ حیدربخش جتوئی کا موقف تھا کہ جمہوریت کی بحالی ون یونٹ توڑنے سے مشروط ہے۔ اگر جمہوریت بحال ہوتی ہے اور ون یونٹ نہیں ٹوٹتا تو ایسی جمہوریت لولی لنگڑی ہوگی۔ جی ایم سید کا موقف تھا کہ صرف ون یونٹ کا ٹوٹنا ہی اہم ہے۔ ولی خان نے خالصتا جمہوریت کا نعرہ دیا، جس کو حیدربخش جتوئی نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ خالصتا جمہوریت کیا ہوتی ہے۔ حیدر بخش جتوئی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ تھے، لیکن ان کا بعض امور پر پارٹی سے اختلاف بھی رہا، جس کا اظہار پہلے وہ پارٹی کے اندر متعلقہ فورم میں کرتے رہتے تھے اور بعد میں سرعام بھی کرتے تھے۔ یہ بڑی اہم بات تھی کہ کامریڈ جتوئی نے کھل کر کبھی پارٹی پر تنقید نہیں کی۔ بعد میں جب کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان نے شاگرد ہاری مزدور عوامی رابطہ کمیٹی بنائی تو وہ اس کے ساتھ کھڑے رہے، جس کا مقصد سیاسی پروگرام کو آگے بڑھانا اور کسانوں کو سیات میں شامل کرنا تھا۔
ون یونٹ سندھ کے قوم پرستوں اور کمیونسٹوں کا مشترکہ مطالبہ اورنقطہ اتحاد نقطہ تھا۔ اس کے ٹوٹنے بعد یہ مشترکہ نقطہ ہ ختم ہو گیا۔ تو مشترکہ پلیٹ فارم بھی ختم ہو گیا۔
ستر کے عشرے میں سندھ کی سیاسی جماعتوں کے مشترکہ جدوجہد کے نکات کم ہو گئے، انہوں نے ہر فرنٹ پر اپنی راہیں جدا کرلیں۔ رسول بخش پلیجو نے سندھی ہاری تحریک بنالی، اسی طرح سے پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں نے اپنی اپنی ہاری کمیٹیاں بنائیں۔
ضیاء دور میں کمیونسٹوں نے ہاری کمیٹی کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی گئی۔ ابھی کچھ بنا ہی پائے تھے کہ خو
