Monday, December 16, 2019

مشرف کی ایمرجنسی کی کہانی

https://www.urdunews.com/node/448396

سہیل سانگی ۔ کراچی
نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے آٹھ سال بعد 2007 میں ایک اور بحران پیدا ہوا جب جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایک بار پھر ایمرجنسی نافذ کردی۔ تین نومبر سے پندرہ دسمبرتک- بیالیس روز آئین معطل رہا کئی جج بشمول چیف جسٹس نظربند کر دیئے گئے۔ میڈیا پر پابندی لاگو کردی گئی۔

مشرف نے بڑھتی ہوئی دہشتگردی اورعدلیہ کی انتظامی امور میں مداخلت کو ایمرجنسی کے نفاذ کے 
لئے جواز بتایا۔

جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو وہ چیف ایگزیکیٹو بنے تھے۔ بعد میں وہ تین بار صدر ہوئے۔ پہلی مرتبہ صدر رفیق احمد تارڑ کے استعیفا کے بعد انہوں نے خود کو صدر مقرر کیا۔ دوسری مرتبہ  2002 میں خود کو صدر منتخب کرا لیا۔ تیسری مرتبہ صدر بن رہے تھے تو عدالت آڑے آگئی۔

قصہ یوں شروع ہوا کہ 
 مارچ 2007 میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو مبہم الزامات کے تحت ہٹایا تو وکلاء نے اس اقدام کوعدلیہ کی آزادی پر حملہ قراردیا اوراس خلاف ملک بھر میں تحریک چلائی جو 'کالے کوٹوں' کا احتجاج کے نام سے مشہور ہوئی۔ 

جولائی 2007 میں سپریم کورٹ کی تیرہ رکنی بنچ نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کردیا۔ پہلی مرتبہ ججز نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ جوابا جنرل مشرف نے تین نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر کے 61 ججز کو غیرفعال کردیا۔

2007 کے صدارتی انتخاب کے موقع پر جنرل مشرف کےمخالف امیدوار ریٹائرڈ جسٹس وجیہ الدین احمد 
کی درخواست پر سوال کھڑا ہوا کہ کیا مسلح افواج کا رکن آئینی طور پر صدارتی انتخاب لڑسکتا ہے؟

  سپریم کورٹ نے اگرچہ مشرف کوراستہ تو دیا لیکن الیکشن کمیشن کو پابند کیا کہ وہ عدالت سے حتمی 
فیصلے تک سرکاری طور پر جیتنے والے صدارتی امیدوار کا اعلان نہ کرے۔ صدارتی انتخاب جنرل مشرف جیت گئے۔ پرویز مشرف کے صدارتی عہدے کی مدت 15 نومبر کو ختم ہو رہی تھی لہٰذا عدالت نے 5 نومبر درخواست کی سماعت کےلئے مقرر کی۔

اس سے پہلے کہ عدالت کسی نتیجے پر پہنچتی، 3 نومبر کی شام کو جنرل مشرف نے بطور آرمی چیف ایمرجنسی کا نفاذ کردیا۔ ملک کے آئین کو معطل کر کےعبوری آئینی حکم جاری کردیا۔ ججز کوازسرنو حلف لینے کا کہا گیا۔ جن ججزنے ایسا نہیں کیا انہیں فارغ کردیا گیا۔

ایمرجنسی نافذ کے وقت جنرل مشرف کے پاس صدر اورآرمی چیف دونوں عہدے تھے۔

جنرل مشرف  کے ان دو اعلانات کو غیراعلانیہ مارشل لاء سے تعبیر کیا گیا۔ اس کے خلاف ملک بھر 
میں شدید ردعمل ہوا۔

عالمی قوتوں نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ جنرل مشرف وردی اتاریں اور انتخابات کرائیں۔ دولت مشترکہ نے آئین اور جمہوریت کی بحالی تک پاکستان کی رکنیت معطل کردی۔ مغرب کے دبائو کےجواب میں مشرف نے کہا کہ وہ آرمی کا عہدہ چھوڑنے کے لئے تیار ہیں اگر ان کے صدارتی انتخاب لڑنے میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔ 

ایمرجنسی نافذ کرنے کے پچیس روز بعد انہوں نے آرمی چیف کا عہدہ جنرل کیانی کے حوالے کیا اورصدر کے عہدے کا حلف اٹھا کر فل ٹائیم سیاستدان بن بیٹھے۔ 

صدر کے عہدے کا حلف لینے کے اٹھارہ روز بعد انہوں نے 15 دسمبر کو عبوری آئینی حکمنامہ واپس لیا اور صدارتی حکم کے تحت ایمرجنسی کے بیالیس روز تک کے اپنے اقدامات کو قانونی تحفظ دیا۔ 

آگے چل کر2009  میں سپریم کورٹ نے ہنگامی حالت کے نفاذ کو غیرقانونی قرار دے دیا۔

مشرف نے نو سال تک ملک پر حکمرانی کی۔ تاہم 2008 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کی جانب سے مواخذہ کے ڈر کرانہوں نے استعیفا دے دیا۔

گیارہ ماہ بعد سپریم کورٹ نے ایمرجنسی خواہ عبوری آئینی حکمنامے کو غیرآئینی قرار دیا۔ عدالت نے مشرف کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے بلایا، لیکن وہ لندن روانہ ہو گئے۔  

مارچ 2013 میں وہ خود ساختہ جلاوطنی سے لوٹے تو سینئر وکیل اے کے ڈوگر نے سپریم کورٹ میں سوال اٹھایا کہ آئین کی خلاف ورزی کر کے مشرف سنگین غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ 

وزیراعظم نواز شریف نے جنوری 2013 میں قومی اسمبلی میں مشرف کے خلاف شق 6 کے تحت آئین 
توڑنے کا مقدمہ چلانے  کا اعلان کیا۔

سابق صدر کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلانے کے لئے خصوصی ٹربیونل تشکیل دیا گیا۔ نواز شریف حکومت نے ان کے خلاف غداری کے پانچ الزامات عائد کئے۔ جس میں بطور آرمی چیف ایمرجنسی نافذ کرنا اور آئین کو معطل کرنا، عبوری حکم نامہ نافذ کرنا، ناجائز طریقے سے آئین میں ترامیم کرنا اوراعلیٰ عدالتوں کے ججز کے حلف کا قانون تبدیل کرنا شامل ہے۔

چھ سال سے یہ مقدمہ خصوصی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ موجودہ حکومت اب اس کو واپس لینا چاہتی ہے۔ 

جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرنے والے اپنے پیشروئوں کی طرح اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ہر ممکن چیز کرنا چاہتے تھے۔     
مشرف کی بیالیس روز کی ایمرجنسی نے ملک کے عدالتی اور سیاسی نظام پر ناقابل تلافی اثرات ڈالے۔


https://www.urdunews.com/node/448396

No comments:

Post a Comment