سندھ کی ثقافت بمعنی سیاسی اظہار
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ میں ہر سال کی طرح ثقافت کا دن منایا گیا۔ دس سال پہلے ایک ٹی وی اینکر پرسن کی جانب سے سندھی کلچر پر طنز کرنے کے ردعمل میں اس دن منانے کا آغاز ہوا۔ اب تمام میڈیا اور لوگ اس دن کو جشن کے طور پر مناتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی صوبے کے مختلف شہروں اور قصبوں میں مختلف الخیال جماعتوں اور تنظیموں کے اجتماعات ہوئے یہ سب اجتماعات بغیر تفریق کے ہوئے۔ نوجوانوں میں جذبہ زیادہ تھا۔ اس مرتبہ ثقافت کے روز نوجوانوں خاص طور پر لڑکیوں کی ایکٹوازم بھی زیادہ دکھائی دی۔
جب سے یہ ثقافت کا دن منایا جارہا ہے، پہلی مرتبہ بحث ہوئی کہ ثقافت کیا ہے؟ ثقافت ایک وسیع اصطلاح ہے جس کی چھتری کے نیچے انسانی معاشروں میں پائی جانے والی، معاشرتی اصولوں کے ساتھ ساتھ ان گروہوں میں موجود افراد، علم، عقائد، فنون، قوانین، صلاحیتوں، اور عادات کو بھی شامل ہیں۔ سندھی میں بڑے پیمانے پر ثقافتی سرگرمیوں کو سمجھنے کے لئے خود ثقافت کی اصطلاح کو سمجھنا بھی ضرورہ ہے۔
انسان ثقافت، ایک دوسرے سے رابطے اور سماج کاری کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ ثقافت ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ لوگ اپنے آس پاس کی ثقافت کی حرکیات کو سیکھتے ہیں اور اس ثقافت اور عالمی منظر نامے میں مناسب یا ضروری اقدار اور حاصل کرتے ہیں۔ اس عمل کے ایک حصے کے طور پر، فرد کو محدود، براہ راست یا شکل دینے والے اثرات (شعوری یا لاشعوری طور پر) ڈالنے میں والدین، دیگر بالغ ہے۔
ثقافت کوئی بنڈھی ٹکی چیز نہیں۔ بلکہ اس کا اظہار معاشروں میں موجود تنوع سے ظاہر ہوتا ہے۔ایک ثقافتی معیار یا اصول معاشرے میں قابل قبول طرز عمل کی تشکیل کرتا ہے۔ اس صورتحال میں رویہ، لباس، زبان اور برتاؤ کے لئے رہنما اصول کا کام دیتی ہے جو معاشرتی گروپ میں توقعات کے سانچے کا کام کرتی ہے۔ کسی معاشرتی گروپ میں صرف ایک ایک ہی کلچر یعنی مونو کلچر کو قبول کرنا خطرات بات ہے، بالکل اسی طرح جیسے ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرتے وقت، ایک واحد نسل ختم ہو جاتی ہے۔ سندھ کا کلچر بہت ساری چیزیں اختیار کر چکا ہے۔ لیکن ہر کلچر کو ابھرنے کا مساوی مواقع ملنا ضروری ہے۔ جس کے پاکستان میں امکانات کم کئے جارہے ہیں۔
بشریات میں ثقافت ایک مرکزی تصور سمجھا جاتا ہے، جس میں انسانی معاشروں میں معاشرتی تعلیم کے ذریعے پائے جانے والے مظاہر کو شامل کیا جاتا ہے۔ ثقافتی خصوصیات تمام انسانی معاشروں میں پائی جاتی ہیں۔ ان میں آرٹ، موسیقی، رقص، رسم، مذہب اور آلے کے استعمال، کھانا پکانے، پناہ گاہ اور لباس جیسی ٹکنالوجی جیسی اظہار کی شکلیں شامل ہیں۔ مادی ثقافت کا تصور ثقافت کے جسمانی تاثرات، جیسے ٹکنالوجی، فن تعمیر اور آرٹ پر محیط ہے، جبکہ ثقافت کے لازوال پہلوؤں جیسے سماجی تنظیم کے اصول (بشمول سیاسی تنظیم اور معاشرتی اداروں)، خرافات، فلسفہ، ادب اور سائنس معاشرے کے ناقابل تسخیر ثقافتی ورثہ پر مشتمل ہے۔
انسانیت میں، ثقافت کا ایک پیمانہ یہ ہے کہ ااس نے کس حد تک فنون، علوم، تعلیم، یا آداب میں ترقی حاصل کی ہے۔کسی بھی معاشرے میں دو ثقافتیں ہو تی ہیں ایک انچے طبقے کی ثقافت دوسرے نچلے طبقے کی۔ اشرافیہ طبقے کی اعلی ثقافت اور، نچلے طبقے کی نچلی ثقافت، جو مقبول بھی ہوتی ہے اور اس ثقافت لوک ثقافت مانا جاتا ان دونوں کے مابین طبقاتی امتیاز بھی پائے جاتے ہیں، اس کی وجہ ثقافتی سرمایے تک محدود رسائی ہے۔ عام بحث میں، ثقافت کا استعمال خاص طور پر نسلی گروہوں کے ذریعہ اپنے آپ کو جسمانی ترمیم، لباس یا زیور جیسے نمایاں طور پر ایک دوسرے سے ممتاز کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مارکسزم اور تنقیدی نظریہ جیسے فلسفے کے کچھ مکاتب کا یہ استدلال ہے کہ ثقافت کو اکثر اشرافیہ سیاسی ہتھیار کے طور پر نچلے طبقے میں غلط شعور پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے، اور ثقافتی علوم کے نظم و ضبط میں اس طرح کے نظریہ عام ہیں۔ ثقافتی مادیت کے نظریاتی تناظر میں یہ بات مانی جاتی ہے کہ انسانی علامتی ثقافت انسانی زندگی کے مادی حالات سے پیدا ہوتی ہے، کیونکہ انسان جسمانی بقا کے لئے حالات پیدا کرتا ہے، اور یہ کہ ثقافت کی بنیاد ارتقاء شدہ حیاتیاتی ماد ہ میں پائی جاتی ہے۔یعنی ہر ثقافت کو مطلوبہ وسائل کی دستیابی ضروری ہے۔
ثقافت کسی معاشرے یا برادری کے رسم و رواج، روایات، اور اقدار کا مجموعہ ہوتا ہے، جیسے نسلی گروہ یا قوم۔ ثقافت وقت کے ساتھ حاصل کردہ علم کا مجموعہ ہے۔ اس لحاظ سے، کثیر الثقافتی ایک ہی سیارے میں آباد مختلف ثقافتوں کے مابین پرامن بقائے باہمی اور باہمی احترام کی قدر کرتی ہے۔
سندھ کے اہل دانشو و فکر سمجھتے ہیں کہ انسانیت ایک عالمی ''تیز رفتار ثقافت کی تبدیلی کی مدت'' میں ہے، جو بین الاقوامی تجارت، ماس میڈیا، اور سب سے بڑھ کر، انسانوں کی آبادی میں ہونے والے دھماکے کو، دوسرے عوامل کے ساتھ پھیلانے سے کارفرما ہے۔ ثقافت کی تبدیلی کا مطلب معاشرے کے ثقافتی تصور کی تعمیر نو ہے۔
سندھی ثقافت کو کئی پہلوؤں سے مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ ایک طرف پرانا معاشی و سماجی نظام ٹوٹ رہا ہے، زراعت اور زرعی معیشت کی شکل تبدیل ہوگئی ہے۔ نئے طبقات اور ان کے ذیلی پرت وجود میں آئے ہیں۔جن کی سوچ، علم، ضروریات، خواہشات پہلے کے طبقات سے مختلف ہیں۔ بڑے پیمانے پر تعلیم یافتہ متوسط طبقہ وجود میں آیا ہے۔ بڑے پیمانے پر سندھ کا دیہی باشندہ مزدوری پر شہری علاقوں تک پہنچا ہے۔ سندھ میں ایک نئی اشرافیہ بھی وجود میں آئی ہے۔ جس کے اولادوں کا اٹھنا بیٹھنا رہن سہن پرانی اشرافیہ سے مختلف ہے۔ یہ اپنی سیاسی خواہ سماجی سوچ میں بھی مختلف ہے۔ یہ طبقہ جدیدت کی طرف جانا چاہتا ہے۔
سندھ کا بڑا حصہ اب شہری ہوگیا ہے۔ اگرچ ان نئے شہری آبادی بننے والوں کو شہری اطوار وعادات سیکھنا ابھی باقی ہے، لیکن وقت کے ساتھ وہ اس کو اختیار کر رہا ہے۔ ایک اور مسئلہ سماجی اور ثقافتی طور پر سامنے آیا ہے وہ ہے سندھ میں بڑے پیمانے پر دوسرے علاقوں اور ممالک سے مسلسل آبادکاری۔ جبکہ تقسیم ہند کے وقت جو آبادی سندھ میں آکر بسی تھی اس کے ساتھ مقامی آبادی کا لسانی، ثقافتی و سیاسی تضادات ابھی حل ہی نہیں ہوئے تھے کہ سندھ کے لوگوں کو ایک اور انسانی آبادی کے گروہ کا سامنا کرنا پڑا، اس وجہ سے سندھ کے لوگ اپنی زبان، ثقافت، اور وسائل کو خطرے میں محسوس کر رہے ہیں۔ اس نئے تضاد نیتقسیم ہند کے وقت آنے والوں کو مقامی آبادی کے ساتھ ضم ہونے میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ اب سندھ نئی ثقافتی یلغار کا سامنا کر رہا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ عالمی طور پر ثقافت اور جدید علوم کی روشنی میں خود کو آزادانہ طور پر ڈھلتا، وہ اپنے وجود اور انفرادیت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ دراصل سندھ کا ثقافتی اظہار سیاسی اظہار ہی ہے۔
No comments:
Post a Comment