Saturday, September 30, 2017

Nai baat Columns Nov 2015

Sohail Sangi Columns Nov 2015
Total 14 columns
1. Sindh Nama on 28-11-15

2. Any role of Functional league? 
http://naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/27-11-2015/details.aspx?id=p12_04.jpg

3. PPP defeat in Badin
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/24-11-2015/details.aspx?id=p12_06.jpg

4. Sindh Nama 
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/21-11-2015/details.aspx?id=p13_03.jpg

5. Sindh lacks governance and consesus
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/20-11-2015/details.aspx?id=p12_05.jpg

6. Whether opposition
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/19-11-2015/details.aspx?id=p12_04.jpg

7. Politician and copitition of Diwali 
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/15-11-2015/details.aspx?id=p12_05.jpg 

8. Sindh Nama 
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/14-11-2015/details.aspx?id=p13_03.jpg 

9.  Complaints of Sindh Govt 
 http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/11-11-2015/details.aspx?id=p12_04.jpg

10 First phhase of LB polls 
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/06-11-2015/details.aspx?id=p12_05.jpg

11. Local Bodies trends
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/03-11-2015/details.aspx?id=p12_04.jpg 

12. Sindh Nama
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/07-11-2015/details.aspx?id=p13_04.jpg 

13. LB polls first phase some questions: 
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/06-11-2015/details.aspx?id=p12_05.jpg

14. Some trends in Lb polls
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/03-11-2015/details.aspx?id=p12_04.jpg


سندھ میں موجود مدارس اور وزیر اعلیٰ سندھ : سہیل سانگی


سندھ میں موجود مدارس اور وزیر اعلیٰ سندھ
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے اس انکشاف نے حکومتی دعوﺅں کی قلعی کھول دی ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ حکومت اور ریساتی ادارے کس حد تک نیشنل ایکشن پلان پر عمل کر رہے ہیں۔ شاہ صاحب نے اس بات کو انکشاف قرار دیا ہے کہ صوبے کے دور دراز اور نہایت ہی پس ماندہ علاقہ جو آج کل قحط کی لپیٹ میں ہے وہاں بڑے پیمانے پر مدارس قائم ہو چکے ہیں۔ یہ ان کے لئے یا جو تھر کو دور ہی سے دیکھنے کے عادی ہیں ان کے لئے انکشاف ہو سکتا ہے لیکن جو اس علاقے کو جانتے ہیں یا یہاں کا سفر کرتے رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ مدارس گزشتہ چھ آٹھ سال سے قائم ہیں۔ کہیں پر یہاں کے سادہ لوگوں کو حج کی سہولیات دینے کے نام پر، کہیں پر قحط زدگان کی امداد کے نام پر ، تو کہیں پر تعلیم کے نام پر یہ مدارس کام کر رہے ہیں۔ تھر خواہ سندھ کے دیگر دیہی علاقوں میں کام کرنے والے ان اداروں کی بعض اور بھی خصوصیات ہیں۔ 
اول یہ کہ یہ مدارس نیٹ ورک کی صورت میں کام کر رہے ہیں۔ 
دوئم یہ کہ انہوں نے مدارس کے ساتھ کئی دیہی علاقوں میں دکانیں بھی کھول رکھی ہیں جہاں پر لوگوں کو کھانے پینے خواہ اشیاءصرف سستے داموں فراہم کی جاتی ہیں۔ 
سوئم یہ کہ ہر مدرسے میں لازمی طور پر بعض دور کے علاقوں کے بچوں کو بھی بحیثیت طالب علم لایا جاتا ہے۔ خواہ ان بچوں کے گاﺅں کی قریب ہی مدرسہ کیوں نہ ہو، لیکن ان میں سے بعض کو دور دراز مدارس میں داخل کیا جاتا ہے۔ ان میں اکثر مدارس کے مہتمین سندھ سے تعلق نہیں رکھتے۔ یقیننا یہ تمام امور وزیراعلیٰ سندھ کے لئے بھی انکشاف سے کم نہیں ہونگی۔ 

 سندھ کی فکری فائبر میں گزشتہ دو عشروں سے تبدیلی آرہی تھی۔ یہ تبدیلی نے کم از کم چار مراحل میں آئی ہے۔ پہلا مرحلہ اسی کے عشرے میں شروع ہوا تھا۔ اگرچہ اسی اور نوے کے عشرے میں مدارس قائم ہوئے تھے لیکن وہ شہروں یا پھر شاہراہوں تک محدود تھے۔ دیہات میں اس طرح سے ان کا نیٹ ورک نہیں بنا تھا۔ نوے کے عشرے میں سیاسی کارکنان وہ خواہ کسی بائیں بازو سے تعلق رکھتے ہوں یا قوم پرست گروپ سے جو پہلے بڑی باقاعدگی سے دیہات میں جایا کرتے تھے انہوں نے وہاں جاناا چھوڑ دیا۔ نتیجة سیاسی فکر اور روزمرہ کے حالات پر سوچ بنانے کا سیاسی عمل رک گیا۔ یوں یہ خلاءپیدا ہو چکا تھا۔
 نائین الیون کے واقعہ کے بعد ان مدرسوں کا دیہی علاقوں میں بھی پھیلاﺅ ہوا۔ ایک سرکاری سروے کے مطابق صوبے میں ساڑھے نو ہزار مدارس موجود ہیں۔ ان میں سے 74 فیصد شہری علاقوں یعنی صوبے کے تین بڑے شہروں کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ وغیرہ میں ہیں ۔ 

 اپیکس کمیٹی اور دیگر رکاری اداروں کی رپورٹس کے مطابق ان اداروں میں طلبہ کو جو تعلیم وتربیت دی جارہی ہے وہ مذہبی تعلیمات سے زیادہ انتہا پسندی کی دی جارہی ہے۔ سندھ حکومت کے اس دعوے پر تعجب ہوتا ہے کہ صوبے میں صرف ساڑھے نو ہزار مدارس ہیں۔ جن میں سے بیشتر کی نشاندہی کردی گئی ہے۔ ممکن ہے کہ ایک دو ہزار زیادہ ہوں ۔ صوبے کے حالات پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ سندھ میں پندرہ سولہ ہزار سے زائد ایسے ادارے ہونگے۔ جن میں سے کئی بغیر رجسٹریشن کے کام کر رہے ہیں جو کہ عمومی حالات میں بھی ضروری ہوتی ہے۔ تاحال سندھ حکومت دوسرے صوبوں کی طرح یہ اعدادو شمار جمع نہیں کر پائی ہے کہ ان کے صوبے میں کتنے مدارس ہیں۔ 

 دراصل نیشنل ایکشن پلان کے دو چار ہی نکات پر کام ہوسکا ہے۔ باقی وہ نکات جو اس تمام قصے کا باعث بنتے ہیں سیاسی خواہ نظریاتی نعرہ یا ذہنیت اور سوچ بناتے ہیں ، اس طرف توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس پلان میں وہ نکات شامل ہیں جس کے تحت انتہا پسندی سے متعلق لٹریچر، کی اشاعت، فروخت اور تقسیم پر پابندی، دوسرے نام سے کام کرنے والی تنظیموں اور، نفرت آمیز تقاریر، وال چاکنگ کو روکنا ، مدارس کی رجسٹریشن اور ان کا تفصیلی سروے جس میں مدارس کے مہتممین، اساتذہ، اور طلبہ کے بارے میں معلومات شامل ہے۔ یہ بھی شامل ہے کہ جو لوگ ماضی میں کسی شدت پسند کارروائی میں کسی طرح سے تعلق رہا ہو، ان کو شیڈیول چہارم میں شامل کرنا بھی شامل تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ایسے افراد پر نظر رکھی جائے۔ 

 سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے جو یہ دکھاوا دے رہی ہے کہ اس نے مدارس کی رجسٹریشن سروے اور نشاندہی کے بارے میں بہت سا کام کر لای ہے۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے حالیہ بلدیاتی انتخابات کے دوران بعض ایسی تنظیموں سے انتخابی اتحاد کای تھا جو ماضی میں کلعدم قرار دی گئی تھیں، لیکن اب دوسرے نام سے کام کر رہی ہیں۔ یہ خبریں جب میڈیا میں آئیں تو پارٹی نے یہ موقف اختیار کیا کہ مقامی سطح پر اگر کہیں ایسا ہوا ہے تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ لیکن تاحل اس ضمن میں کسی کے خلاف پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے کا بھی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے۔ 

وزیراعلٰی سندھ کو تھر کا قحط اور وہاں ہونے والی اموات نظر ہی نہیں آتی۔ لیکن اچانک مدرسے یاد آگئے۔ یہ اچھی بات ہے کہ اس طرح کے عوامل کو روکا جائے جن کے لئے نیشنل ایکشن پلان میں بھی کہا گیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سائیں کو اس وقت اپنے آبائی ضلع خیرپور اور گرد نواح کے اضلاع کے مدارس یاد نہیں آئے۔ چلو کوئی بات نہیں سائیں کو ترقیاتی منصوبوں، یونیورسٹیاں کھولتے وقت تھر کے بجائے صرف خیرپور ہی یاد رہتا ہے۔ مدارس کے حوالے سے ہی سہی تھر یاد تو آیا۔ 

حکومت سندھ مدارس کی تعداد اور ان کے سروے کے حوالے سے متضاد بیانات دیتی رہی ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں اینٹی ٹیررام اتھارٹی کو حکومت سندھ نے بتایا تھا کہ وبے میں دس ہزار کے لگ بھگ مدارس ہیں جن میں سے ساڑھے چھ ہزار کی جیو ٹیگنگ geo-tagging کی گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے محل وقع کی نشاندہی کردی گئی ہے جس کے ذریعے ان کی مانیٹرنگ کی جاسکے گی۔ صوبای حکومت نے کہا تھا کہ باقی کام آئندہ دو ہفتوں میں مکمل کردیا جائے گا۔ اس بات کو تقریبا چار ماہ ہو چکے ہیں۔ لیکن ابھی بھی یہ موقف سمانے آرہا ہے کہ کچھ کام باقی ہے۔ صوبے میں 40 سے زائد مدارس کے بارے میں تفصیلات اور ظبوت جمع کر لئے گئے تھے کہ ان کا کسی طرح سے دہشتگردی سے تعلق ہے۔ لیکن ان میں سے کسی کے خلاف بھی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہی معاملہ ان مدارس کی فنڈنگ کے حوالے سے بھی ہے۔ 

پنجاب میں تیرہ ہزار مدارس کی جیو ٹیگنگ کی گئی ہے۔ لیکن یہ نہیں معلوم کہ ملک کے اس بڑے صوبے میں کل کتنے مدارس ہیں اور جن کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے ان کی تعداد کیا ہے؟ حکومتی دعوے کے مطابق بلوچستان میں یہ کام مکمل ہو چکا ہے۔ جبکہ خیبر پختونخوا میں تین ہزار مدارس کی جیو ٹیگنگ کی گئی ہے۔ اس صوبے میں ڈیڑھ سو مدارس کو حساس قرار دیا گیا تھا۔صوبائی حکومت خاموش ہے کہ اس ضمن میں مزید کیا کارروائی کی گئی؟

 نیشنل ایکشن پلان سے ہٹ کر بات کی جائے، پتہ چلتا ہے کہ سندھ میں دوسرے صوبوں کی طرح مدارس کی رجسٹریشن کا قانون موجود ہے لیکن اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ سندھ حکومت خود اعتراف کرتی ہے کہ گیارہ سو سے زائد مدارس بغیر رجسٹریشن کے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تعداد اس سے زیادہ ہو۔ 

 جب عسکری حلقوں اور میڈیا کے ایک حصے کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے اکثر نکات پر عمل درآمد نہ ہونے کی بات نکلی تو پتہ چلا کہ اس میں اکثر چیزوں ک اتعلق وفاقی حکومت سے ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لئے وزیر اعظم کو ہی ذمہ دار قرار دیا جارہا تھا۔ لیکن وزیراعظم نے فوری طور پر اس کے لئے صوبائی حکومتوں کو مورد الزام ٹہریا۔ حالنکہ وفاقی حکومت کو ہی ایک مربوط اور مضبوط پالیس وضح کرنی تھی۔ 

 مذہبی تعلیم سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ ملک کے سرکاری خواہ نجی اسکولوں میں پہلی جماعت سے لیکر یونورسٹی سطح تک لازمی مضمون کے طور پر یہ تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی اسلامیات یا مذہبی تعلیم میں اسپیشلائزیشن کرنا چاہے تو وہ ایم فل یا پی ایچ ڈی بھی کر سکتا ہے۔ ان اداروں سے ہٹ کر اگر کوئی صرف دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لئے مدارس ہیں۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ان مدارس میں بھی یسی تعلیم ی جانی چاہئے جس کا مذہبی یا روحانی عنصر کے علاوہ بھی کوئی صرف یا افادہ ہو۔ جس طرح سے کسی بھی تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اس طالب علم کو واپس معاشرے میں آنا ہے اور یہاں پر اپنی معاشرتی زندگی شروع کرنی ہے۔

 پاکستان ایک ملک ہے جس میں آئین اور قانون موجود ہے جس کی روءسے جو بھی کام ہونا ہے اس کی ریاست اور عوام کو آگاہی ضروری ہے۔ اگر مدارس کی رجسٹریشن ہوتی ہے جس میں یہ معلومات بھی آتی ہے کہ کتنے اور کون کون یہ فرائض  انجام دے رہے ہیں۔ یہ نیک کام
 کون کون کر رہے ہیں ان کی پذیرائی ہونی چاہئے۔ یہ خوشی کی بات ہوگی کہ ہمیں پتہ چلے کہ ہم مذہبی حوالے سے اچھے عالم فاضل پیدا کر رہے ہیں۔ لیکن حالات اور واقعات نے کچھ اور بتایا۔ جس کی گواہی ریاستی اداروں نے بھی دی، کہ بعض مدارس میں اصل مذہبی تعلیم یا مذہبی عالم پیدا کرنے کے بجائے کچھ اور ہو رہا تھا۔ اسی بنیاد پر نیشنل ایکشن پلان بنا۔ 

 حکومت خواہ مجموعی طور پر معاشرے کو اور خصوصا اہل فکر ونظر جس میں روشن خیال مذہبی علماءبھی شامل ہیں وہ اپنا کردار ادا کریں۔

تھر کول پروجیکٹ پر مقامی آبادی کے تحفظات اور احتجاج : سہیل سانگی


Dec 7, 2016 Nai Baat

تھر کول پروجیکٹ پر مقامی آبادی کے تحفظات اور احتجاج 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
تھر کول پروجیکٹ جس انداز سے شروع کیا گیا تھا، اس پر مقامی آبادی کو روز اول سے ہی تحفظات اور تشویش تھی۔ کیونکہ اس میں سے بحالیات اور مقامی آبادی کے سہولیات کے منصوبے غائب تھے۔ مقامی آبادی کی تشویش کا ثبوت گزشتہ دو سال کے اخبارات میں شایع ہونے والے مواد سے بھی ملتا ہے۔ لیکن اس طرف نہ حکومت نے کوئی توجہ دی اور نہ متعلقہ کمپنی نے۔ 



یہ تحفظات اور تشویش ا س وقت پھٹ کر سامنے آئی جب اسلام کوٹ کے قریب کوئلے کی کھدائی کے دوران نکلنے والے پانی کی نکاسی اور ذخیرہ کرنے کا منصوبہ سامنے آیا۔ گاؤں گوڑانو کے مقام پر ایک ڈیم تعمیر کیا جارہا ہے۔ جہاں پر کئی سو کیوسکس پانی جمع کیا جائے گا اور بقول کمپنی کی انتظامیہ کے بجلی گھر شروع ہونے کے بعد اس کے بوائلرز کو ٹھنڈا کرنے کے لئے دوبارہ استعمال کیا جائے گا۔ فوری طور پر اس منصوبے لپیٹ میں آنے والے گاؤں کے باشندے احتجاج پر مجبور ہو گئے۔یہ احتجاج اسلام کوٹ، حیدرآباد اور کراچی میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہے۔ پسماندہ اور ہر دو سال بعد قحط کی لپیٹ میں آنے والے تھر کے لوگ ہر مصیبت اور آفت کو رضائے الاہی سمجھ کر مقابلہ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ انہوں نے اپنی آنکھون سے دیکھا کہ یہ ان کی تباہی کا کام اللہ کے بندے کر رہے ہیں۔ تو وہ سراپا احتجاج ہوگئے۔ 


احتجاج کرنے والی مقامی آبادی اور ان کی جدوجہد اتنی جائز تھی کہ کمپنی کے پاس اس کی مخالفت کے لئے کوئی دلیل یا منطق نہیں تھی۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس نے متاثرہ آبادی کے لئے کوئی ٹھوس پلان نہیں بنایا ہوا ہے۔ ایسے میں کمنی اور اس کے تخواہ داروں نے تھر کے لوگوں پر یہ ٹھپہ لگا دیا کہ ’’وہ ترقی کے دشمن ‘‘ ہیں۔ یہ ٹھپہ بالکل اسی طرح سے لگا دیا گیا جس طرح سے ہر حق مانگنے والے حقوق تسلیم کرنے اور حق دینے کے بجائے اسے ’’غدار‘‘ کے لقب سے ناوازا جاتا ہے۔ تھر کے لوگ عرصہ دراز سے چاہ رہے ہیں کہ وہاں ترقیاتی کام جو ساٹھ سال تک رکے ہوئے تھے وہ شروع ہوں۔


کمپنی اور اس کے ماہرین کی اس سادگی پر قربان جائیں جب وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم مقامی آبادی کے کالف کچھ نہیں کر رہے ہیں‘‘۔انہیں صرف بے گھر کیا جا رہا ہے۔ ان سے زرعی زمین چھینی جارہی ہے۔ وہ زمین بھی لی جارہی ہے جہاں وہ مال مویشی چراتے تھے۔ لاکھ دو لاک روپے معاوضہ دے کر انہیں تمام اثاثوں سے محروم کیا جارہا ہے۔ بے گھر کرنا، جینے کے وسائل چھیننا، ان کو معمول کی بات لگتی ہے۔ لیکن آج کے دور میں سب سے بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عالمی برادری دنیا میں بھر بے گھر ہونے والے کروڑوں افراد کے مسائل میں پھنسی ہوئی ہے۔ ایسے میں ترقی کا خواب دکھا کر تھر میں بھی ہزاروں افراد کو بے گھر اور مہاجر کیا جارہا ہے۔ہم ترقیاتی منصوبے اس طریقے سے شروع کر رہے ہیں کہ لوگوں کی زبردستی نقل مکانی کرا رہے ہیں ان کے روزگار کے وسائل چھین رہے ہیں۔ 
قدرت نے بعض علاقوں میں ذخائر زمین کے اوپر دیئے ہیں تو تھر جیسے علاقوں میں یہ وسائل زیر زمین ہیں۔ اب جب ان وسائل کے استعمال کا وقت آیا ہے تو انہیں ان وسائل سے محروم کرنے کے لئے بے گھر کیا جارہا ہے۔ 



اینگرو کمپنی کے سربراہ شمس الدین شیخ صاحب کی انجنیئرنگ میں کوئی شک نہیں کر رہے ہیں لیکن جب غلط طریقے سے اس ڈیم کے حق میں اور اپنی کمپنی کی حمایت میں بیانات دے رہے ہیں اور مضامین لکھ رہے ہیں ان میں عوام دوستی کی خوشبو نہیں آتی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ڈٰم نہیں بلکہ تالاب ہے۔ ڈیم کی انجنیئرنگ اور ڈکشنری میں موجود معنیٰ کو ہی وہ اگر دوبارہ دیکھ لیتے تو شاید وہ اس طرح سے بات نہیں کرتے۔ ڈیم پانی کا ایسا ذکیرہ ہے جہاں دریائے بہاؤ روک کر یا پانی ذکٰرہ کر کے بعد میں پینے یا صنعتی یا بجلی پیدا کرنے کے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ضلع سانگھڑ کا چوٹیاری ڈیم، اور بعض دیگر چھوٹے ڈٰم اس زمرے میں آتے ہیں۔ بقول کمپنی کے کھدائی کے دوران نکلنے والا پانی پہلے یہاں جمع کیا جائے گا۔ اور بعد میں واپس وہاں سے بہا کر بجلی گھر کے بوائلرز ٹھنڈے کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ گوڑانو ڈیم کے تین طرف ٹیلے ہیں اور چوتھے طرف کمپنی دیوار کھڑی کر رہی۔ اور اس ڈیم کی تہہ کو نہ پکا کیا جارہا ہے اور نہ وہاں پتھر بچھایاجارہا ہے، تاکہ سیپج نہ ہو۔ 


کمپنی کا یہ موقف بھی عجیب ہے کہ صرف 25 کیوسکس پانی چھوڑا جائے گا۔ یہاں یہ یادہانی ضروری ہے کہ بہتے ہوئے پانی کو کیوسکس میں ناپا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسکوئلے کی کان میں صرف پچیس کیوسکس پانی ہے؟ یا پانی کا بہاؤ روزانہ پچیس کیوسکس ہوگا۔؟ جب پانی کی مقدار رفتار میں ناپی جاتی ہے تو وقت کا تعین انتہائی اہم ہے۔ اس لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ مجوزہ ڈیم جس کو کمپنی تالاب کہنا پسند کرتی ہے، وہاں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ پانی کتنا ہوگا؟ کھڑے ہوئے پانی کو ملین ایکڑ فٹ میں ناپا جاتا ہے۔ لیکن اس حوالے سے کمپنی خاموش ہے۔ 


یقیننا کھدائی سے پہلے علاقے کا جیو ہائیڈراجیکل سروے کیا گیا ہوگا۔ جس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کا اندازہ لگایا جاچکا ہوگا۔۔ ماہرآبپاشی ادریس راجپوت کا کہنا ہے کہ کوئلے تک راسئی کے لئے پانی کے تین تہیں ہیں۔ پہلی تہہ 164 فٹ کی گہرائی پر ہے۔ ان تین تہوں میں یقنینی طور پر پچیس تیس کیوسکس پانی نہیں ہوگا۔ کمپنی کا یہ بھی دعوا ہے کہ فیزیبلٹی ماہرین سے بنائی گئی ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ بجلی گھر کے لئے کتنے عرصے بعد واپس پانی اس ڈیم سے لیا جائے گا اور کتنا عرصہ اور کتنا پانی اس ذخیرے میں کھڑا رہے گا؟ کیا مسلسل بڑی مقدار میں کھڑا پانی ریت کے ٹیلے برداشت کر سکیں گے؟ 


ماہر آبپاشی ادریس راجپوت کا کہنا ہے کہ یہاں 15 سے 20 کیوسکس پانی جمع ہوگایہ پانی آسپاس کی آبادی اور زیر زمین پانی کے کنوؤں کو کتنا خراب کرے گا؟ یہ امر اس لئے بھی ضروری ہے کہ کوئلے تک رسائی کے دوران جو پانی نکالا جائے گا اس میں کئی مضر صحت اجزاء اس پانی میں حل ہو جائیں گے۔ جو یقیننا مجموعی طور پر ذکٰرہ کی جگہ اور اس کے قریبی پانی کے زیر زمیں ذخائر کو بھی خراب کریں گے۔ 


جو حضرات یہ دلیل دیتے ہیں کہ ذخیرے کا پانی آسپاس کی زمینوں اور پانی کو خراب نہیں کرے گا وہ برائے مہربانی سانگھڑ کے چوٹیاریوں ڈیم اور نگرپارکر کے پاس تعمیرکئے گئے رانپور ڈیم کا ایک بار پھر معائنہ کریں اور دیکھیں کی ان ڈیموں نے قریبی علاقوں میں کتنی زمین خراب کی ہے۔ 


گوڑانو کے مقام پر کمپنی کو 1500 ایکڑ زمین چاہئے جس میں سے 532 ایکڑ نجی زمیں ہے ۔ اس میں سے صرف 125 ایکڑ زمیں کے معاوضے کی ادائگی کی گئی ہے۔ یعنی ایک چوتھائی زمین کی ادائگی پر کمپنی نے پوری زمین پر قبضہ کرلیا جبکہ یہ معاملہ تاحال عدالت کے پس زیر سماعت بھی ہے۔ کمپنی نے عدالتی فیصؒ ے کا انتظار ہی نہیں کیا۔ اس کے علاوہ ایک ہزار ایکڑ زمین سرکاری ہونے کے باوجود اس گاؤں کی ہے۔ یہ پوری آبادی ان 532 ایکڑ زمین کی وجہ سے یہاں بسے ہوئے تھے۔ بلکہ اپنے مال مویشیوں کے چارے اور دیگر ضروریات کے لئے باقی زمین استعمال ہوتی تھی۔ یہ مال مویشی تھر کے لوگوں کا اہم ذریعہ معاش ہے۔ جو زمین براہ راست ڈیم کی ایراضی میں نہیں آتی وہ کھیت بھی اس ذخیرے کی وجہ سے متاثر ہونگے۔ 


کمپنی کی طرف سے یہ بتایا جارہا ہے کہ منصوبے کے لئے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کیا اس کے socio economic impact کا بھی جائزہ لیا گیا؟ اور جو عوامی شنوائی ہوئی اس میں کتنے حقیقی لوگ شریک ہوئے تھے؟ مزید یہ کہ شرکاء تمام معاشی۔ سماجی اور ماحولیاتی اثرات سے کتنے آگاہ تھے؟ کیا انہیں بتایا گیا تھا کہ اس منصوبے کی وجہ سے کیا کیا نقصان دہ اثرات مرتب ہونگے؟ ظاہر ہے کہ پسماندہ علاقے کے دیہیاتی مستقبل کے اثرات سے ناواقف ہوتے ہیں۔ 


کمپنی مسلسل دباؤ کے باوجود بحالیات کی نہیں دے سکی ہے۔ جب کہ دنیا میں جہاں کہیں بھیء اس طرح کے منصوبے شروع کئے جاتے ہیں وہاں پہلے بحالیات کی پالیسی مرتب کی جاتی ہے اور عوام اور حکومت سے اس کی منظوری لی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مقصد کے لئے پالیسی ہی نہیں بلکہ قانون بنایا جائے۔ کیونکہ اپلیسی کی خلاف ورزی پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ 
ایک اور تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ زمین لئنڈ ایکیوزیشن ایکٹ مجریہ 1884 کے تحت حاصل کی گئی ہے۔ یہ ایکٹ انگریز حکومت نے تب بنایا تھا جب یورپی سامراجی ممالک دنیا بھر میں مختلف ممالک اور ان کے وسائل پر قبضہ کر رہے تھے ان کے حقوق سلب کر رہے تھے۔ مگر ایکسیوں صدی تو لوگوں کے حقوق کی صدی ہے اس صدی میں حقوق سلب کرنا انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ 
معالہ صرف گوڑانو ڈیم کا نہیں بلکہ تھر کے 9000 مربع کلومیٹر کا ہے جہاں بتدریج کوئلے کی کھدائی شروع ہونے والی ہے۔ اگر اینگرو کمپنی گوڑانو کے مقام پر پانی کی نکاسی کرتی ہے تو اس کے قریبی کول بلاک کی کمپنیاں بھی اس ڈیم کو استعمال کریں گی۔ جو کمپنیاں ایسا نہیں کریں گی تو انہیں ایسے آٹھ دس گوڑانو ڈیم بنانے پڑیں گے۔ 


ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور کمپنیاں لوگوں کے حقوق کو تسلیم کریں۔ ان کے نقصانات کا معاوضہ آج کے جدید تقاضوں کے مطابق کریں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ تھر کے لوگ ترقی کے مخالف ہیں۔ تھر کے لوگ شیاد کسی اور علاقے کے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ترقی کے خواہان ہیں کیونکہ یہاں پر نصف صدی تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ یہ لوگ ملک کی ترقی کو اپنی ترقی سمجھتے ہیں۔اور حکومت سے بھی یہ فرمائش کرتے ہیں کہ وہ بھی ان کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھے اور اس کا عملی مظاہرہ کرے۔ وہ صرف ترقی میں اپنا حصہ مانگتے ہیں۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں رعیا نہیں شہری تسلیم کر کے حقوق دیئے جائیں۔


http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/39682/Sohail-Sangi/Charcoal-Project-Par-
Maqami-Abadi-Ke-Tuhafzaat-Aur-Ehtijaj.aspx


خطے میں نئی صف بندی اور پاکستان : سہیل سانگی

خطے میں نئی صف بندی اور پاکستان
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
جن سے کبھی نظریاتی اور جغرافیائی حدود کو خطرہ سمجھا جاتا تھا، اور لوگوں کے ذہنوں میں سالہا سال تک یہ زہر بھرا گیا، اب انہی سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا جارہا ہے۔ ریاست نے یو ٹرن لیا ہے۔ اور روس کے ساتھ نئی صف بندی کی طرف جارہی ہے۔ دیر آید درست آید۔ روسی افواج نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کی۔ جبکہ ماسکو کی جانب سے افغانستان میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں بھی ایک اہم فریق کے طور پر پاکستان شرکت کرنے جا رہا ہے۔


قیام پاکستان سے فوری بعد امریکہ سے دوستی ہی نہیں کی بلکہ اس کے کیمپ میں جاکر اسی کی عالمی حکمت عملی کا کل پرزہ بنا رہا۔ ہم نے اپنی سیاست معیشت، خارجہ پالیسی سب کچھ اس کے ماتحت کردیا۔افغان جنگ پراکسی جنگ کے طور پر لڑی جس کے نتیجے میں آگے چل کر پاکستان میں جہادی قوم پیدا کر لی۔ اور تمام تر توانائیاں افغانستان میں انقلاب کو روکنے پر صرف کی گئیں۔ آج کی صورتحال اسی کا نتیجہ ہے۔ جب ترقی پسند اور روش خیال لوگوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ گئی ہے۔ اور شدت پسندی ہزاروں سے لاکھوں ذہنوں تک پہنچ گئی ہے۔ اب امریکہ کی وجہ سے پیدا کی گئی شدت پسندی کی حکمت عملی کے باعث دہشتگردی کو نمٹنے کے لئے ہم ملک بھر میں آپریشن پر آپریشن کئے جارہے ہیں۔ لیکن اس سے جان نہیں چھوٹ رہی۔ پہلے پاکستان امریکہ کے ساتھ ملک میں روس کا اثر ختم کرنا چاہتا تھا۔ اور اب اسی روس کے ساتھ چین کی مدد سے امریکہ کا اثر روکنے اور ختم کرنے کا خواہشمند ہے۔ اگر شروع میں ہی ہم اپنی پالیسیاں غیر جاندارانہ رکھتے تو شاید یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔


شروع کے دنوں کے بعد بھی کئی مواقع آئے جب ہم اس امریکی کھورکھ دھندے سے نکل سکتے تھے، لیکن کوئی حکمت عملی اور دوراندیشی کے فقدان یا پھر چھوٹے چھوٹے مفادات آڑے آتے گئے اور ہم ایڈہاک ازم کی بنیاد پر کوئی آزادانہ موقف نہیں اختیار کر سکے۔
افغانستان ایک ایسی دلدل بن چکا ہے کہ اب امریکہ خود اس سے نکل بھی نہیں پارہا۔ اور ایک طرح سے اسے مزید طو دے کر اپنے مفادات حاصل کر رہا ہے۔ میں قیام امن کے لئے امریکی کوششوں کی ناکامی کے بعد سفارتی سطح پر روس کا یہ پہلا قدم ہے۔ تشویش کا اظہار اس لئے بھی کیا جارہا ہے کہ جنگ زدہ اس ملک میں داعش کے گروپ کا خطرہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تین ممالک جو اس بحران کو اپنے کئے بھی خطرہ سمجھتے ہیں اس کا علاقائی حل تلاش کرنے کی کوش کر رہے ہیں۔ پہلے ان مشاورتی اجلاسوں میں کابل کو دعوت نہیں دی گئی تھی جس پر افغانستان نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا،لیکن آئندہ کانفرنس میں افغان حکومت کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ امریکہ کو ماسکو کی پہلکاری پر شروع کئے گئے اس عمل میں امریکہ کو نہیں شامل کیا گیا ہے۔


اس سے قبل چار ملکی فورم جس میں امریکہ، چین، افغانستان اور پاکستان شامل تھے قیام امن کے لئے کوششیں لے چکا ہے۔ شدت پسند افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ناکامی کے بعد یہ مذاکرات گزشتہ ایک سال سے معطل ہیں۔ ممکن ہے کہ ماسکو کے حالیہ تجویز چار رکنی فورم کی جگہ لے لے۔ گزشتہ سال دسمبر میں روس، چین اور پاکستان کے درمیان تین مشاورتی اجلاس ہو چکے ہیں۔ جس میں اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ افغان بحران خطے میں پھیل سکتا ہے۔


ابھی تک یہ طے نہیں کہ افغانستان کے طالبان بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ افغان اور امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں افغان طالبان کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ پاکستان کا یہ موقف ہے کہ وہ افغانستان میں قیام عمل کے لئے کوشاں ہے اور خیرسگالی کے طور پر افغان سرحد کھول دی ہے۔افغانستان پر زور دے رہا ہے کہ وہ سرحد کی انتظام کاری میں تعاون کے۔


افغانستان، ایران، انڈیا، وسطی ایشیا کی بعض ریاستوں کو ماسکو میں ہونے والی اس کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے جبکہ امریکہ نے روسی دعوت مسترد کردی ہے ۔ دو ہفتے قبل پاکستانی حکام نے متعدد افغان طالبان رہنماؤں کو اسلام آباد دعوت دے کر بلایا تھا۔ اور شدت پسندوں پر زور دیا تھا کہ وہ ماسکو کے امن مذاکرات میں شرکت کریں۔


افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے گزشتہ ہفتے اپنے واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکہ سے فرمائش کی کہ وہ افغانستان میں مزید فوج بھیجے کیونکہ ان کے ملک میں طالبان کے حملوں میں شدت آگئی ہے۔ اور اسلامک اسٹیٹ گروپ بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت 8400 امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ امن مذاکرات کے لئے تیار ہیں تاہم انہیں شبہ ہے کہ جب تک پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر صفایا نہیں کرتا مشکل ہے کہ طالبان ان مذاکرات میں شرکت کریں۔ یہی پڑوسیوں کے درمیان تلخی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
ماسکو کی حالیہ کوششیں امریکہ کی شرکت کے بغیر کیسے نتیجہ خیز ثابت ہونگی؟ یہ ایک سوال ہے۔ کیونکہ اس وقت بھی افغانستان میں امریکہ کی تقریبا دس ہزار فوج موجود ہے۔ جو شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔


سوال یہ ہے کہ افغان حکومت یہ دعوت قبول کرتی ہے یا ماسکو میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں اپنے نقط نظر میں نرمی پیدا کرتی ہے۔ ماسکو کی سہ فریقی اجلاس نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شدت پسند رہنماؤں کی سفری پابندیاں ختم کی جائیں ۔ یہ مطالبہ دراصل طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے مشروط کر کے رکھا ہے۔ لیکن سفری پابندی ہٹانے کے لئے امریکہ کی رضامندی ضروری ہے۔
طالبان اس صورت میں کابل کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھ سکتے ہیں جب تک وہ میدان جنگ میں قابل قدر کامیابی حاصل نہیں کر لیتے۔
افغان امن مذاکرات کو سرد خانے سے نکالنے کے لئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان خوشگوار تعلقات ضروری ہیں۔
اس ضمن میں کچھ بات آگے بڑھی ہے لیکن وہ کافی نہیں۔


طالبان ماسکو کے اس اجلاس سے خوش ہیں کہ ان کا مطالبہ ایک بڑے فورم پر زیر بحث آیا ہے۔ چین اور روس اقوام متحدہ سے یہ مطلابہ کر رہے ہیں کہ بعض افغان طالبان لیڈر جن کو دہشتگردوں کی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے ان کے نام اس لسٹ سے خارج کئے جائیں تاکہ امن مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔


چین گزشتہ کچھ عرصے سے افغان امن کوششوں میں سرگرم ہے۔ جو کہ کان کنی اور انفرااسٹرکچر کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کار ہے اس کے طالبان اور افغان حکومت دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ طالبان نے بعض مواقع پر جنگ میں پھنسے ہوئے فریقین کے درمیان مذاکرات کرانے میں مدد بھی کی ہے۔ بیجنگ کو افغانستان میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام اور وہاں داعش کی سرگرمیوں کی اطلاعات پر گہری تشویش ہے۔


افغانستان کے منظر میں روس کی آمد نئی ہیں۔ اس کی کوشش ہے کہ داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لئے تبدیل شدہ منظر نامے میں نئے اتحاد اور نئی صف بندی کی ضرورت ہے۔ ماسکو میں افغانستان پر اجلاس کے بعد ایک اور سہ فریقی مذاکرات ہوئے یہ شام کے بحران سے متعلق تھی اور اس میں ترکی اور ایران بھی شریک ہوئے۔ اس سہ فریقی اجلاس میں بھی امریکہ کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو افغنا اور شام کے بحرانوں میں آگے بڑھ رہا ہے ۔اس کے نتیجے میں عالمی طور پر طاقت کے توازن میں تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ شمالی افغانستان میں شدت پسندوں کی بڑھتی یوئی سرگرمیوں کی وجہ سے وسطی ایشیا کے ریاستوں کو خطرہ ہے۔ ماسکو کو یہ بھی تشویش ہے کہ وسطی ایشیا کی مسلم آبادی خاص طور پر چیچینیا میں داعش اپنا اثر بڑھا رہی ہے۔ عراق اور شام کی جنگ میں غیر ملکی شدت پسندوں کی سب سے زیادہ تعداد چیچینیا کی ہے ۔ لہٰذا اس صورتحال نے بھی روس کو مجبور کای کہ وہ افغان طالبان سے رروابط بڑھائے۔ جو کہ افغانستان میں داعش کے گروپوں کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔


اس حوالے سے چین اور پاکستان کی تشویش کی ساجھے داری ہوگئی۔ اور انہوں نے نئی علاقائی صف بندی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کو امید ہے کہ وہ اس ترکیب کے ذریعے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لے آئے گا۔ لیکن صورتحال کی پیچیدگی کے پیز نظر یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں۔ اس ضمن میں کابل حکومت کو افغان طالبان اور پاکستان کے حوالے سے تحفظات ہیں۔یہ تحفطات دور کر کے پاکستان نئے فارمیٹ میں اپنی جگہ پیدا کر سکتا ہے۔ بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں اب حکمت عملی کے طور پر اضافہ ہوچکا ہے۔ پاکستان کے لئے کسی طور پر بھی ممکن نہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں وہ جگہ لے سکے جو بھارت حاصل کر چکا ہے۔ایسے میں بہتر ہے کہ ہم مشرق وسطیٰ یا مغرب کی طرف دیکھنے کے بجائے خطے پر ہی اپنی نظریں مرکوز رکھیں۔


خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے نئے چیلینجز اور نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان ایک بار خطے میں موجود قوتوں کا ساتھ دیتا ہے یا اپنی روایتی پرانی پالیسی پر گامزن رہتا ہے؟


گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

سندھ میں آہستہ آہستہ انتخابات کے موڈ میں جا رہا ہے۔ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے سربراہوں کے دورے کے بعد صوبائی سطح پر بنے ہوئے اتحاد میں دوبارہ جان ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 

تقریبا دو سال پہلے سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف جماعتوں ، شخصیات اور گروپوں نے پیپلزپارٹی کے خلاف گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے ایک اتحاد بنایا تھا۔ پیپلزپارٹی مخالف اتحاد میں پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو چھوڑ کر باقی تمام گروپ شامل تھے البتہ قوم پرستوں میں سے ایاز لطیف پلیجو، اور ممتاز بھٹو شامل ہوئے تھے۔ 
ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کی اتحاد میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے یہ اتحاد صوبے کی شہری آبادی، وہ کواہ اردو بولنے والے ہو یا سندھی، اس سے خالی تھا۔ وسیع تر اتحاد ایک اایسے موقعہ پر بنا تھا جب پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کت درمیان کشیدگی تھی۔ خاص طور پر سندھ میں رینجرز کو پولیسنگ کے اختیارات دینے کا تنازع بحران کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ 
نیب نے سندھ کے وزراء اور بعض اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائیاں شروع کردی تھی۔ چوہدری نثار علی خان اس وقت وزیر داخلہ تھے۔ انہوں نے سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ منظر نامہ یہ بن رہا تھا کہ اسٹبلشمنٹ پیپلزپارٹی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے والے ہے۔

اس اتحاد میں نواز لیگ کے اسماعیل رہو بھی شامل تھے جنہوں نے ڈیڑھ سال بعد پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ سابق وزیراعلیٰ لیاقت جتوئی، سیدغوث علی شاہ بھی پہلے اجلاس میں موجود تھے۔ لیاقت جتوئی نے بھی رواں سال تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ سید غوث علی شاہ جو بنیادی طور رپ مسلم لیگ کے ہی ہیں، نواز لیگ کے قسمت کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

اس اتحاد کے رہنماؤں نے پیپلزپارٹی کے خلاف کرپشن اور سیاسی انتقامی کارروایوں اور بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کا الزام عائد کیا۔ اس وقت سندھ میں مقامی طور پر گنے کی قیمتوں کا معاملہ گرم تھا۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر یہ محسوس کرایا گیا کہ کسی کا اشارہ ملا تھا کہسندھ میں پیپلزپارٹی سے ہٹ کر کوئی سیٹ اپ بن رہا ہے۔


اگرچہ اس اتحاد میں نواز لیگ بھی شامل تھی، لیکن اتحاد کے سربراہ پیر صبغت اللہ راشدی پیر پاگارا نے مئی 2016 میں حیدرآباد میں اتحاد کے ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد کے سربراہ پیر پاگار انے فوج سے اپیل کی کہ وہ ملک میں اقتدار میں آئے اور فوجی حکومت آٹھ دس سال تک رہے تاکہ ہر طرح کے لوٹ مار اور جرائم کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے پرویز مشرف کی حمایت کی تھی۔ پیر صاحب جو ماضی میں نواز لیگ کے اتحادی بھی رہے ہیں انہوں نے شکوہ کیا کہ ہم نے 2013 میں نواز شریف کی غیر مشروط طور پر حمایت کی تھی لیکن وہ انتخابات کے بعد سندھ کو بھول گئے۔
اس اتحاد کی واحد سرگرمی 2016 کے ماہ مئی میں نکالے جانے والی حیدرآباد سے عمرکوٹ تک ریلی تھی۔ پاناما لیکس نے ملک میں نئی صف بندی کردی۔
ستمبر 2016 میں اس اتحد میں دراڑیں پڑا شروع ہو گئی۔ سمتبر کے آخری ہفتے میں لیاقت جتوئی نے کہا کہ یہ اتحاد سو گیا ہے۔ انہوں نے نے کہا کہ اس اتحاد کی باقاعدگی سے اجلاس ہی نہیں ہو پارہے ہیں۔


ماضی میں پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ سطح کے اتحاد بنتے رہے ہیں۔ جس کا اہم عنصر قوم پرست رہے۔ 1988 کے عام انتخابات سے قبل جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید نے سندھ قومی اتحاد بنایا ۔لیکن یہ اتحاد کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ مشرف دور میں پیپلزپارٹی سے باہر بااثر شخصیات ارباب غلام رحیم، امتیاز شیخ اور دیگر نے اتحاد بنایا۔ اس اتحاد کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ حکومت سے باہر رکھنا تھا۔ ان بااثر افراد اور ایم کیو ایم کی مدد سے سندھ میں حکومت بنی۔


پیر پاگارا کی قیادت میں 2013 کے انتخابات کے لئے ۹ جماعتی اتحاد بنایا۔ نواز

 شریف اس کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ میں ہی مصرورف رکھنا اور پنجاب کے لوگوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ آپ لوگ کیوں پیپلزپارٹی کی حمایت کر رہے ہو، اسے تو اپنے گھر یعنی سندھ میں بھی شدید مخالفت کا سامناہے۔ اور سندھ کے بعض حلقوں کو اقتدار میں حصہ پتی کرانا تھا۔ لیکن بعد میں یہ سب کچھ نہیں ہو سکا۔ جس کا شکوہ پیر پاگارا کی مذکور بالا تقریر سے ہوتا ہے۔ 

گرینڈ الائنس نے نومبر میں حیدرآباد سے لاڑکانہ تک اور پھر سکھر سے حیدرآباد تک بیداری ریلی نکلانے کا فیصلہ کیا ہے۔اور پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں ہر نشست پر اپنے امیدوار کھڑے کریگا۔ اس مقصد کے لئے ابھی سے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو امیدواروں کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انتخابی الائنس ہی ہے۔ 


اب ایک بار پھرسندھ میں گرینڈ الائنس کو اتارا گیا ہے۔ اس کے پاس صوبے سماجی یا معاشی ترقی کے حوالے سے کوئی پروگرام نہیں۔ اور صرف اپنے نعرے میں پیپلزپارٹی مخالف ہے۔ گرینڈ الائنس دو سال قبل بنا تھا لیکن اس اتحاد نے صوبے میں پیدا ہونے والے مختلف مسائل پر کوئی رائے عامہ نہیں بنائی اور نہ ہی آواز اٹھائی۔ 

موجودہ حالات میں گرینڈ لائنس میں انتے گروپ اورشخصیات موجود نہیں جتنی اس اتحاد کے قیام کے وقت تھی۔ ممتاز بھٹو اب اس اتحاد سے الگ کھڑے ہیں۔ لیاقت جتوئی تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں۔ اسماعیل راہو پیپلز پارٹی میں چلے گئے ہیں۔ اتحاد کے بڑے محرک فنکشنل لیگ اور ارباب غلام رحیم ہیں۔ ارباب فیملی کا ایک حصہ ارباب لطف اللہ کی قیادت میں پیپلزپارٹی میں شامل ہو چکا ہے۔

فنکشنل لیگ کی صورتحال بھی گزشتہ الیکشن کے زمانے جیسی نہیں۔ پیپلزپارٹی
 نے لیگ کے قلعہ سانگھڑ ضلع میں پاؤں جما لئے ہیں۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے جلال محمود شاہ اپنی الگ شناخت کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ جن کے لئے کہا جارہا ہے کہ وہ اس مرتبہ سندھ قوم پرستوں کو الگ شناخت کے ساتھ ووٹ بینک کھولنا چاہ رہے ہیں۔قوم پرستوں سے تجزیہ نگاروں کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ انہوں پارلیمانی سیاست سے دور رہے یا پھر انہوں نے کبھی الگ سے اپنا ووٹ
 بینک نہیں کھولا۔

ابھی تک یہ طے نہیں کہ پنجاب میں اور وفاق کی سطح پر انتخابات کے حوالے سے کیا صورت بنتی ہے۔نواز لیگ اپنے اندرونی بحران اور پنجاب کے معاملات میں مصروف ہے اس کو فی الحال سندھ آنے کی فرصت بھی نہیں۔ عمران خان نے سندھ کا دورہ کیا لیکن انہوں نے ان شخصیات اور گروپوں سے رابطہ نہیں کیا۔ وہ آئندہ انتخابات کے پلان میں اپنی حیثیت منوانا چاہ رہے ہیں۔اور یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی سے ہٹ کر ان کے پاس بھی الیکٹ ایبل ہیں۔ گرینڈ الائنس کو بہر حال ایسی وفاقی پارٹی کی تلاش ہے جس کو سندھ میں الیکٹ ایبل کی ضرورت ہو۔ یہ اتحاد وفاقی پارٹیوں کے لئے کتنا پر کشش ہو سکتا ہے؟ اس کے بارے میں ابھی تک کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم یہ سمجھا جارہا ہے کہ یہ لوگ تحریک انصاف کے لئے اتنے پرکشش نہیں ہو سکتے۔ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ یہ اتحاد پیپلزپارٹی کو اتنا پریشان نہیں کر سکتا۔

Nai Baat Sep 26
Grand Democratic alliance

Thursday, September 21, 2017

بڑی مسلم لیگ یا نواز لیگ؟

بڑی مسلم لیگ یا نواز لیگ؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی 

لاہور کے ضمنی انتخاب مریم نواز کی سخت جدوجہد کے نتیجے میں نواز لیگ نے جیت لیا۔ لیکن سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خانداں خواہ خود ان کی پارٹی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے نے میڈیا کو بتایا کہ جب تک اپنا گھر ٹھیک نہیں کریں گے، تب تک پارٹی کے اور حکومت معاملات درست نہیں ہونگے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے لندن میں سابق وزیراعظم سے ملاقات کے بعد یہی بات دہرا کر خواجہ آصف کے موقف کی تائید کی۔ اس کے بعد ایک کابینہ کے ایک اور رکن احسن اقبال نے بھی یہی موقف اختیار کیا۔ 
نواز لیگ پارٹی کے اندر اختلافات لاہور کی ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران کھل کر سامنے آئے۔ چوہدری نثار علی خان نے کھل کر اختلافات کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض لیگی رہنما جو نواز لیگ کی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تصادم کی حالیہ پالیسی سے متفق نہیں، ان کی جانب سے بھی اختلاف رائے اگرچہ میڈیا میں بطور موقف کے سامنے نہیں آیا لیکن ذاتی محفلوں اور ملاقاتوں وہ اس کا اظہار کر رہے ہیں۔ 

شہباز شریف نے ضمنی انتخاب میں کلثوم نواز کی انتخابی مہم سے خود کو دور رکھا۔مریم نواز شریف خاندان کی اکیلی میمبر ہیں جو صورتحال کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ پارٹی کے بعض انتہائی وفادر اور میاں صاحب کے قریبی ساتھی ان کے ساتھ ہیں۔ سمجھا یہی جارہا ہے کہ فیصلہ سازی کا اختیار انہی کے پاس ہے۔ جس سے فیصلہ سازی جلد تو ہورہی ہے لیکن مشاورت کا عمل کم ہے۔پارٹی کی قیادت مریم نواز کے پاس آنے کی وجہ سے پارٹی کے بعض سنیئر رہنما خود کو بے چین سمجھ رہے ہیں۔ 

جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کی جسٹس کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے وزیراعظم نواز شریف کو ناہل قرار دینے کے فیصلے کے خلاف نواز شریف خاندان کی نظر ثانی کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔ نیب نے نہ صرف میاں نواز شریف کے خلاف چھ ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کئے ہیں بلکہ عدالت میں یہ درخواست بھی دائر کی ہے حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کی اجازت طلب کی ہے۔یوں نواز شریف خاندان کی کشتی جلتی نظر آتی ہے۔ س اس مقدمہ کا فیصلہ شاید نواز خاندان کی سیاسی تاریخ پر آخری مہر ثبت کردے۔ 
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی گرفتاری کے لئے چھاپ مارا۔تاہم نیب کا کہنا ہے کہ ٹیم اسحاق ڈار پر نوٹیس تعمیل کرانے گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد وزیر خزانہ جو کہ اس وقت بیرون ملک ہیں، فی الحال ضمانت قبل از گرفتاری منظور نہ ہونے تک وطن نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس تمام تر واقعات کے بعد سابق وزیراعظم بھی فی الحال وطن نہیں آرہے ہیں۔ویسے بھی ان کی بیگم کا ایک اور آپریشن ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ لندن میں ہی ہیں۔ گزشتہ دنوں رو ز ان کے بھائی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی لندن گئے تھے۔ وزیراعظم شہاد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک ہوئے لندن میں میاں نواز شریف سے ملاقات کی۔ شہباز شریف اور وزراعظم شاہد خاقان عباسی نے میاں صاحب کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم ان مقدمات سے شاید ہی بچ سکیں۔

ہواؤں کا رخ یہ بتاتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ شریف خاندان اور نواز لیگ کے ساتھ وہی سلوک کرنے جارہی ہے جو کبھی پیپلزپارٹی کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا پارٹی اور شریف خاندان کی پارٹی قیادت اس کشیدہ صورتحال میں خود کو برقرار رکھ سکے گی؟ نواز لیگ بچ بھی سکتی ہے۔ ایک زمانے میں پیپلزپارٹی کو بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا تھا۔ بھٹو خواتین میدان میں تھیں۔ 

بینظیر ور مریم نواز کا کئی حوالوں سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ مگر پھر بھی صورتحال یکساں ہے۔پہلے قیادت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پھر پارٹی کمزور رکنے کی اور اس کے بعد پارٹی کو توڑنے کی کوششیں کی گئیں۔ بینظیر بھٹو بیگم بھٹو کی چھتری کے نیچے فیصلہ سازی کرتی تھیں۔مریم نواز کی طرح محترمہ کو بھی اپنے انکلز کا سامنا تھا۔ لیکن بینظیر بھٹو اور مریم نواز کی عمر اور تجربے میں فرق تھا۔ 
بینظیر نے پارٹی اور اس کی قیادت بھٹو خاندان کے پاس رکھنے میں کامیاب ہو گئیں۔ بینظیر کو ضیاء الحق جیسے بدترین آمر کا سامنا تھا۔ خطے میں صورتحال قطعی طور رپ بینظیر بھٹو اور پیپلزپارٹی کے حق میں نہیں تھی۔ ایک مدت تک سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی کے خلاف صف آراء رہیں۔ یہ سلسلہ ایم آرڈی بننے تک رہا۔ مریم نواز کو بعض اضافی سہولیات حاصل ہیں۔ نواز لیگ ابھی تک حکومت میں ہے۔وزیراعظم ابھی تک میاں صاحب کے سحر میں ہے۔ 
اسٹبلشمنٹ کی طرف سے یہی ا شارے مل رہے ہیں کہ یہ صورتحال 2018 کے انتخابات (اگر ہوئے تو) تک جاری رہے گی۔ پارلیمنٹ کے علاوہ عسکری حلقوں میں نواز لیگ کی حمایت موجود ہے۔ سیاسی صورتحال ملک میں واحد حکمران طبقہ نہیں۔ ایک سے زائد طبقات ہیں۔ اور نواز شریف جس طبقات کی نمائندگی کرتے ہیں وہ کلی طور پر حکمران اتحاد سے خارج نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض نکات پر سیاسی جماعتیں نواز لیگ کے موقف کے قریب بھی ہیں۔ 

ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آرمی چیف نے پارلیمنٹ کی ڈفینس کمیٹی کے اراکین سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات صورتحال کے حوالے سے اور جو کچھ آرمی چیف نے کہا اس حوالے سے بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ آرمی چیف کی بات چیت کو تین نکات میں سمویا جاسکتا ہے ۔ 
اول یہ کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاناما کیس میں آرمی کا کوئی رول ہے۔ 
دوئم یہ کہ آرمی چیف نے یقین دہانی کہ وہ ہمیشہ جمہوریت کے متعرف اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے حامی رہے ہیں۔ 
سوئم یہ کہ وہ پارلیمنٹ یا اسکے کمیٹی کے سامنے سوالات کے جوابات دینے کے لئے کسی بھی وقت پیش ہونے کے لئے تیار ہیں۔ چوتھا یہ کہ اراکین پارلیمنٹ اور آرمی کے درمیان باہمی روابط ہونے چاہئیں۔ آرمی چیف کی جانب سے یہ باتیں ایک ایسے مرحلے پر کی گئی ہیں جب ملک میں یہ تاثر حاوی ہے کہ پاناما کیس یعنی میاں نواز شریف کو ہٹانے میں آرمی کا کوئی کردار ہے۔ سویلین بالادستی کم ہو رہی ہے اور عسکری بالادستی بڑھی ہے۔ نواز لیگ مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ ان کے خلاف سازش ہورہی ہے۔

خطے کی صورتحال بھی پہلے کے مقابلے میں تبدیل ہے۔ چین ، ایران اور انڈیا خطے کی طاقتوں کے طور پر موجود ہیں، یہ تینوں 80 کے عشرے میں اس طرح اہمیت کی حال نہیں تھی، جس طرح اب ہیں۔ جبکہ امریکہ کا بھی وہ رویہ اور موقف نہیں جو بھٹوز کے ساتھ ساتھ۔ پیپلزپارٹی کا اضافی نقطہ یہ تھا کہ عوام اس کے ساتھ تھے۔ جو اپنے طور پر بھی سڑکوں پر آ تے رہے۔ یہ صورتحال نواز لیگ کے ساتھ نہیں۔ نواز لیگ کے ساتھ ووٹرز ضرور ہیں۔ سڑکوں والے نہیں۔
 پنجاب کی سیاست اور سیاسی معیشت پر گہری نظر رکھنے والے ایک حلقے کا خیال ہے کہ ایک بات کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ دنیا کو اب ہماری اسٹبلشمنٹ کی ضرورت نہیں رہے۔ 
امریکہ کا حالیہ پالیسی اور نوے کے عشرے میں افغان جنگ کے خاتمے کے بعد جوہری بم کے دھماکے سے پہلے کی صورتحال دو بڑی مثالیں ہین جب امریکہ نے پاکستان سے مکمل طور پر ہاتھ نکال لیا تھا۔ لہٰذا پنجاب کی ترجیحات بھی بدل گئی ہیں۔ پنجاب تجارت چاہتا ہے۔ پنجاب کی معیشت نے مواقع پیدا کردیئے ہیں کہ لوگ فوج م کی ملازمت پر اپنے کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

نواز شریف یا انکے خاندان کے بغیر نواز لیگ اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے؟ نواز شریف اور ان کے سا تھیوں کا موقف نفی میں ہے وہ سمجھتے ہیں کہ پینتیس سال تک کی مسلسل کوششوں کے بعد ایک پارٹی میچوئر ہوئی ہے، جو کسی اور کی بیساکھی کے بغیر کھڑی ہو سکتی ہے۔اس کی بڑی وجہ ییک ہی قیادت کا تسلسل اور پارٹی کے لئے مسلسل وسائل کی فراہمی اور اتنے بڑے اسٹیک ہیں۔ یہ کوئی نظریاتی پارٹی نہیں۔پاکستان کے مخصوص حالات میں پارٹی کو برقرار رکھنے کے لئے یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ چوہدری نثار علی خان اور بعض دیگر رہنما اس آئیڈیا کو بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 
اس آئیڈیا کی یہ بھی معنی لی جاسکتی ہیں کہ اگر چوہدری نثار علی اور اس آئیڈیا کو پروان چڑھانے والے اس پارٹی میں نہیں ہیں، ایسے میں یہ پارٹی وجود رکھتی ہو یا نہیں ان کے کسی کام کی نہیں۔ ایسے میں چوہدری شجاعت کا فارمولا آزمایا جاسکتا ہے۔ وہ یہ کہ پھر سے 80 کے عشرے کے نقطے سے شروع کریں۔ یعنی ایک اور مسلم لیگ بنائیں جس میں اس نام کے ساتھ کام کرنے والی تمام پارٹیوں اور گروپوں کو ملا کر بڑی مسلم لیگ بنائیں۔ وہ اس کا نعم البدل ہو سکتی ہے۔ 

یہ کوشش کبھی جنرل مشرف نے بھی کی تھی۔ لیکن یہ نسخہ کامیاب نہیں ہوا۔ کیونکہ تب نواز لیگ متحدہ تھی اور مشرف نئی لیگ کو اپنی چھتری کے نیچے رکھنا چاہتا تھا۔ چوہدری شجاعت حسین نے اس فارمولا پر ابتدائی ہوم ورک بھی کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے نواز لیگ خود کو بچا پاتی ہے یا ایک بڑی مسلم لیگ سامنے آتی ہے۔

سندھ میں عمران خان کی کتنی گنجائش ہے ؟




سندھ میں عمران خان کی کتنی گنجائش ہے ؟

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کہتے ہیں کہ پنجاب کے بعد اب سندھ کی باری ہے۔نواز شریف حکومت کے خلاف عمران خان کی مہم پاناما مقدمے کے عدالتی فیصلے کے بعد اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ عدلیہ نی میاں صاحب کو امین اور صادق نہیں سمجھا اور انہیں نااہل قرار دے دیا ۔ عدلیہ نے ان کی نظر ثانی کی درخواست بھی مسترد کردی ہے۔ لیکن سابق وزیراعظم لندن میں ہیں جہاں ان کی بیگم کلثوم نواز زیر علاج ہیں۔ جبکہ نیب نے نواز شریف کے خلاف کرپشن کے الزامات میں احتساب عدالت میں چھ مقدمے دائر کر دیئے ہیں۔ جن کی ابھی سماعت ہونا باقی ہے۔ 



عمران خان گزشتہ انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات میں تمام تر احتجاجوں اور دھرنوں کے باوجود نواز شریف کو نہیں ہٹا سکے۔ لیکن پاناما لیکس کی صورت میں نواز شریف کے خلاف انہیں پکا پکایا مسالہ مل گیا۔نواز حکومت کے خلاف مہم میں جان پڑ گئی۔ ایک بار پھر دھرنے اور احتجاج ہوئے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ تمام تر احتجاج نواز حکومت کو ہٹا نہ سکے۔ البتہ ان احتجاجوں کے نتیجے میں یہ ضرور ہوا کہ عدلیہ نے خاص طور وفاقی دارالحکومت میں امن ومان اور انتظام کاری کا نوٹس لیا۔ یوں یہ معاملہ عدالت میں چلا گیا۔عدالت نے جے آئی ٹی کے ذریعے ثبوت کٹھے کئے، اور انہیں نااہل قرار دے دیا۔ 


پہلے یہ جنگ صرف پنجاب میں یعنی جی ٹی روڈ پر لڑی جارہی تھی۔ اب عمران خان نے اعلانیہ طور پر سندھ کے حکمرانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اگرچہ پیپلزپارٹی پہلے بھی عمران خان کے نشانے پر رہی ہے۔ لیکن ان مین ٹارگیٹ نواز شریف تھے۔ عمران خان بیک وقت دو جھگڑے کرنا نہیں چاہتے تھے۔ 
عمران خان نے 2016 میں سندھ میں مہم کا آغاز یہ کہہ کر کای کہ ’’ سندھ کے عوام کوحکمرانوں پر اعتماد نہیں۔‘‘ اور اب ان کی تال اونچی ہے۔انہوں نے سندھ کے عوام سے براہ راست اپیل کی ہے کہ وہ ’’سڑکوں پر آئیں اور فرعونوں کو مار بھگانے میں ان کا ساتھ دیں۔ ‘‘



سال رواں کے ماہ اپریل میں عمران خان نے لاڑکانہ، دادو اور بدین کا اور اگست میں سکھر کادورہ کیا تھا۔ لاڑکانہ ذوالفقار علی بھٹواور بینظیر بھٹو کا آبائی ضلع ہونے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کا قلعہ اور اہم مورچہ سمجھا جاتا ہے۔ ایم آرڈی تحریک کے دوران دادو ، بدین، ٹھٹہ،اور نواب شاہ میں بھرپور مزاحمت ہوئی۔ دادو بھرپور جمہوری روایات کا حامل رہا ہے۔ضیاء کے مارشل لاء دور میں میہڑ اور دوسرے مقامات پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والوں کے درمیاں جھڑپیں بھی ہوئی تھی جس میں مظاہرین مارے بھی گئے تھے۔ اس لئے اس کو لٹل ویت نام دیاگیا۔ 1983 میں جب ایم آرڈی کی تحریک چلی، میہڑ ایک چھوٹا قصبہ تھا۔ مارشل لاء کے خلاف اتنی شدت دیکھ کر وقت کے آمر ضیاء الحق کو اس چھوٹے شہر میں کرفیو لاگو کرنا پڑا۔ 


پیپلز پارٹی ماضی میں دادو میں ایک بڑی سیاسی قوت رہی ہے ۔ دادو کی دوسری شناخت جیئے سندھ کے بانی جی ایم سید ہیں ۔جن کے قوم پرستی کے فکر نے سندھ کو متاثرکیا۔ ان کا تعلق بھی اس ضلع سے تھا۔ لیکن سیاسی طور پراس وقت تبدیلی آئی جب عبدالحمید جتوئی نے پہلے ضیاء کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیکر قومی اسمبلی میں اپنی شناخت پیدا کی۔ اور بعد میں جی ایم سید کی آشیرواد سے وہ سندھ کے قوم پرستوں کے اتحاد سندھ قومی اتحاد کے چیئرمین ہو گئے۔ 1983 یعنی ایم آرڈی کی تحریک کے بعد یہاں بہت کچھ تبدیل عبدالحمید جتوئی خاندان نے ضیاء، جونیجو اور بعد میں نواز شریف کے دور میں دادو کے ذریعے سندھ کی سیاست کو اسٹبلشمنٹ کی سیاست سے جوڑنے کا کامیاب تجربہ کیا ۔


عمران خان کا اپریل کا دورہ سندھ کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔اس دورے کے دوران لیاقت جتوئی جو گزشتہ انتخابات کے موقع پر نواز شریف کے ساتھ تھے، انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ لیاقت جتوئی گزشتہ سال پیپلزپارٹی میں شامل ہوتے ہوتے رہ گئے، کیونکہ مقامی سطح پر ان کی مخالفت کی گئی۔دادو شہر میں ضیاء کے دورے کے دوران گدھے پر ضیاء الحق کا نام لکھ کر ان کے کارواں کے سامنے چھوڑ دیا گیا تھا۔ اسی دادو شہر میں گزشتہ انتخابات میں صرف 724 ووٹ اٹھانے والی تحریک انصاف کے لئے اتنی گنجائش نکل آئی کہ عمران خان کے دورے کے دوران شہر کے ٹھیلوں، رکشاؤں اور بجلی کے کھمبوں پر تحریک انصاف کے جھنڈے نظر آئے۔ 


اس عوامی منظر سے ہٹ کر صورتحال کچھ اس طرح ہے ۔ گزشتہ انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ 232 میں پیپلزپارٹی کے امیدوار رفیق جمالی نے 76 ہزار ووٹ لئے جبکہ ان کے مدمقابل لیاقت جتوئی کے بیٹے کریم جتوئی نے 56 ہزار ووٹ اٹھائے۔ دادو ضلع کی دوسری نشست پر لیاقت جتوئی نے 65 ہزار ووٹ لئے تھے اور پیپلزپارٹی کے امیدوار نے ایک لاکھ دس ہزار ووٹ لئے۔
سابق وزیراعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی کی تحریک انصاف میں شمولیت کو بڑا واقعہ
 قرار دیا گیا تھا۔ لیکن ان کی تحریک انصاف میں شمولیت بھی صوبے میں پارٹی کو سرگرم نہیں کر پائی۔ 



عمران خان پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کو ہٹانے کے معاملے میں کتنے سنجیدہ ہیں؟ اس کا اندازہ سیاسی بیانوں سے نہیں لگایا جاسکتا۔آصف زرداری اور پارٹی کی دوسری قیادت کے بارے میں صرف عمران خان کی سنجیدگی کافی ہیں۔ بلکہ اصل مقتدرہ حلقے کیا چاہتے ہیں وہ اہم ہے۔ بہرحال تحریک انصاف کی سندھ میں اس مہم کو پیپلزپارٹی اپنے اوپر سیاسی حملہ سمجھتی ہے ۔ اور اب دادو سمیت دیگر حساس مقامات پر سرگرم ہو گئی ہے۔ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دادو میں ایک بڑا جلسہ کیا۔ 


سندھ کی صورتحال کو پیپلزپارٹی کچھ اس طرح سمجھتی ہے کہ سندھ کسی بھی طور پر اس کے ہاتھ سے جانے نہ پائے۔ کوئی الیکٹ ایبل پارٹی سے باہر نہ رہ پائے۔ اس کے لئے مختلف آپشنز اختیار کئے گئے۔ پرانے سیاسی ورکر اور سیاسی وابستگیوں رکھنے والے افراد پرانی سیاسی جماعتوں یا گروپوں کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ ماضی میں مختلف تحریکوں کا حصہ رھنے کی وجہ سے ان کی اپنی سیاسی سوچ اور فکر ہے۔ اس لئے وہ خود کو تحریک انصاف کے خانے میں فٹ نہیں سمجھتا۔ البتہ 18 سے 35 سال کی عمر رکھنے والوں کے لئے تحریک انصاف میں کشش ہو سکتی ہے۔ یہ وہ حلقہ ہے جس کو سیاسی زبان میں نوجون ووٹر کہا جاتا ہے۔ 


سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ پنجاب، اور خیبر پختونخوا میں یہ تاثر بنا ہے کہ عمران خان نوجوان اور نئے طبقے کا نمائندہ اور رہنما ہے۔ جو کہ سیاسی طور کنوارا یا سیاست میں ترجمانی سے محروم ہے۔ اس کے توڑ کے طور پر آصف علی زرداری نے یہ بیانیہ بنایا کہ عمران خان نہ نوجوان ہیں اور نہ ہی نوجوانوں کے لیڈر۔ نوجوانوں کے لیڈر بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ انہوں نے ایسا بیان بھی دیا۔ اوراس اعلان کے بعد سندھ کے شہروں میں نوجوانوں کے لیڈر بلاول بھٹو کے پینافلیکس لگ گئے۔ ان پر بلاول بھٹو کی تصویر کے ساتھ مقامی قیادت کے فوٹو بھی چپکادیئے گئے۔ 


پیپلزپارٹی نے دوسری چال یہ چلی کہ سندھ اسمبلی میں عمران خان کے خلاف قرارداد مظور کرالی۔ اگرچہ یہ قرارداد نواز لیگ کی سورٹھ تھیبو نے پیش کی تھی، اور اس پر شور ایم کیو ایم نے کیا تھا، لیکن منظور پیپلزپارٹی نے کی۔ اس قرارداد کے ذریعے پیپلزپارٹی یہ پیغام دینے میں کامیاب ہو گئی کہ صوبے کی مین اسٹریم پارٹیاں تحریک انصاف کے خلاف ہیں۔ 


ماضی میں عمران خان کا محور رکراچی رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کراچی کا نان ایم کیو ایم ووٹ اور ایم کیو ایم کے اندر توڑ پھوڑ کے نتیجے میں یہ خلاء وہ بھر لیں گے۔ مگر انہیں باقی سندھ سے نمائندگی بھی چاہئے اور حوالہ بھی چاہئے۔ عمران خان کی حکمت عملی یہ بنی ہے کہ جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے وہ سندھ کے نوجوان اور نئے طبقے کو سڑکوں پر لے آئے اور سیاسی شو کرے۔ اس شو کی بنیاد پر پیپلزپارٹی باہر یا اس سے ناراض اور مخالف الیکٹ ایبل کوپارٹی میں لے آئے۔ فی الحال وہ سندھ کے قوم پرستوں سے بات کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔عمران خان سندھ کا دورہ کرتے ہیں تو سرگرمی ہے ورنہ پارٹی خاموش ہے۔ یہاں تک کہ صوبائی اور مقامی قیادت کسی صوبائی یا مقامی مسئلے پر سرگرمی دکھانے کے لئے تیار نہیں۔ 


نواز شریف اور عمران خان دونوں کی سندھ میں دلچسپی کی سطح ایک جیسی ہے البتہ حکمت عملی میں تھوڑا فرق ہے۔ دونوں اس پر متفق ہیں کہ پیپلزپارٹی سے باہر ایلکیٹ ایبل کوپارٹی میں لے آئیں یا اپنی چھتری کے نیچے جمع کریں، صوبائی یا مقامی سطح کے مسائل پر خاموشی رہیں۔ ناز شریف نے کبھی بھی لوگوں کو سڑکوں پر آنے کی اپیل نہیں کی، اور نہ ہی کبھی سندھ کے لوگوں سے براہ راست مخاطب ہوئے۔ اس کے برعکس عمران خان نے لوگوں کو فرعون بھگانے کے لئے سڑکوں پر آنے کی اپیل کی ہے۔ عمران خان کی یہ اپیل دراصل متوسط طبقے کے لئے ہے۔ سندھ کے متوسط طبقے کا کردار گزشتہ پانچ سات برسوں سے زیر بحث ہے۔ اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ سندھ کا متوسط طبقہ اور کراچی کو چھوڑ کر باقی شہری آبادی کیا سیاسی رویہ رکھتی ہے۔


سندھ میں ایک اور بڑی تبدیلی آئی ہے۔ کراچی کے قصے کو ایک طرف رکھ کر باقی سندھ میں بھی شہری آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے شہر بڑے ہو گئے ہیں ۔یہاں تک کہ بیس پچیس سال پہلے جو سائیز ضلع ہیڈکوارٹر کا تھا اسی سائیز کے پانچ سات شہر ہر ضلع میں بن گئے ہیں۔ لوگ دیہی علاقوں سے شہرو میں منتقل ہوئے ہیں۔ یہ آبادی جو شہری شمار ہوتی ہے لیکن یہ نیا شہری طبقہ ابھی تک اپنی سیاسی شناخت نہیں بنا سکا ہے۔وہ ابھی تک اپنی پرانی سوچ پر ہی کھڑا ہے۔ جس پر دیہی اپر کلاس ھاوی ہے۔ شہروں کو دیہی اپر کلاس کی چھاپ اور حاوی ہونے نے سندھ کے مجموعی رول کو کم کردیا ہے۔پیپلزپارٹی نے اس چھاپ اور بالادستی کو مزید مضبوط کردیا ہے۔


سندھ کے تعلیم یافتہ طبقے یا بیس پچیس سال قبل بڑے شہروں میں منتقل ہونے والے طبقے کی سوچ اور رول کرپشن کی طرف مائل ہے۔ وہ ہر حکمران کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور اور کرپشن میں اپنی حصہ داری کرتا ہے۔ 


اس منظر میں پیپلزپارٹی مخالف رائے اور ووٹ کو یکجا کرنا ناممکن نہ سہی ، پر مشکل ضرور ہے۔ عمران خان کے وقفے کے ساتھ سندھ کے دورہ کرنے یا ایلیکٹ ایبل کو اپنے ساتھ کرنے سے سندھ کی بنیادی سیاست ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے گی۔ 


Space for Imran Khan in Sindh 
Sohail Sangi Column 
Nai Baat Sep 19, 2017
PTI, Nawaz Sharif, Panama Case, MRD, PPP, Liaquat Jatoi, G M Syed, MQM

Saturday, September 16, 2017

Sindh MPAs development funds





Voting pattern -Sindhi



Turkey and Pakistan




Sindh LB heads



Operation V/S System



Why new provinces




Nawaz Sharif game



Murad Ali Shah miracle


12 May




Jamhooryet ka khasara




Sindh cosmetic changes


Edhi ka ulta salam




Budget and common man -Sindhi


Humary muntakhib numaendy


Afwa gardi