سندھ میں موجود مدارس اور وزیر اعلیٰ سندھ
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے اس انکشاف نے حکومتی دعوﺅں کی قلعی کھول دی ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ حکومت اور ریساتی ادارے کس حد تک نیشنل ایکشن پلان پر عمل کر رہے ہیں۔ شاہ صاحب نے اس بات کو انکشاف قرار دیا ہے کہ صوبے کے دور دراز اور نہایت ہی پس ماندہ علاقہ جو آج کل قحط کی لپیٹ میں ہے وہاں بڑے پیمانے پر مدارس قائم ہو چکے ہیں۔ یہ ان کے لئے یا جو تھر کو دور ہی سے دیکھنے کے عادی ہیں ان کے لئے انکشاف ہو سکتا ہے لیکن جو اس علاقے کو جانتے ہیں یا یہاں کا سفر کرتے رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ مدارس گزشتہ چھ آٹھ سال سے قائم ہیں۔ کہیں پر یہاں کے سادہ لوگوں کو حج کی سہولیات دینے کے نام پر، کہیں پر قحط زدگان کی امداد کے نام پر ، تو کہیں پر تعلیم کے نام پر یہ مدارس کام کر رہے ہیں۔ تھر خواہ سندھ کے دیگر دیہی علاقوں میں کام کرنے والے ان اداروں کی بعض اور بھی خصوصیات ہیں۔
اول یہ کہ یہ مدارس نیٹ ورک کی صورت میں کام کر رہے ہیں۔
دوئم یہ کہ انہوں نے مدارس کے ساتھ کئی دیہی علاقوں میں دکانیں بھی کھول رکھی ہیں جہاں پر لوگوں کو کھانے پینے خواہ اشیاءصرف سستے داموں فراہم کی جاتی ہیں۔
سوئم یہ کہ ہر مدرسے میں لازمی طور پر بعض دور کے علاقوں کے بچوں کو بھی بحیثیت طالب علم لایا جاتا ہے۔ خواہ ان بچوں کے گاﺅں کی قریب ہی مدرسہ کیوں نہ ہو، لیکن ان میں سے بعض کو دور دراز مدارس میں داخل کیا جاتا ہے۔ ان میں اکثر مدارس کے مہتمین سندھ سے تعلق نہیں رکھتے۔ یقیننا یہ تمام امور وزیراعلیٰ سندھ کے لئے بھی انکشاف سے کم نہیں ہونگی۔
سندھ کی فکری فائبر میں گزشتہ دو عشروں سے تبدیلی آرہی تھی۔ یہ تبدیلی نے کم از کم چار مراحل میں آئی ہے۔ پہلا مرحلہ اسی کے عشرے میں شروع ہوا تھا۔ اگرچہ اسی اور نوے کے عشرے میں مدارس قائم ہوئے تھے لیکن وہ شہروں یا پھر شاہراہوں تک محدود تھے۔ دیہات میں اس طرح سے ان کا نیٹ ورک نہیں بنا تھا۔ نوے کے عشرے میں سیاسی کارکنان وہ خواہ کسی بائیں بازو سے تعلق رکھتے ہوں یا قوم پرست گروپ سے جو پہلے بڑی باقاعدگی سے دیہات میں جایا کرتے تھے انہوں نے وہاں جاناا چھوڑ دیا۔ نتیجة سیاسی فکر اور روزمرہ کے حالات پر سوچ بنانے کا سیاسی عمل رک گیا۔ یوں یہ خلاءپیدا ہو چکا تھا۔
نائین الیون کے واقعہ کے بعد ان مدرسوں کا دیہی علاقوں میں بھی پھیلاﺅ ہوا۔ ایک سرکاری سروے کے مطابق صوبے میں ساڑھے نو ہزار مدارس موجود ہیں۔ ان میں سے 74 فیصد شہری علاقوں یعنی صوبے کے تین بڑے شہروں کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ وغیرہ میں ہیں ۔
اپیکس کمیٹی اور دیگر رکاری اداروں کی رپورٹس کے مطابق ان اداروں میں طلبہ کو جو تعلیم وتربیت دی جارہی ہے وہ مذہبی تعلیمات سے زیادہ انتہا پسندی کی دی جارہی ہے۔ سندھ حکومت کے اس دعوے پر تعجب ہوتا ہے کہ صوبے میں صرف ساڑھے نو ہزار مدارس ہیں۔ جن میں سے بیشتر کی نشاندہی کردی گئی ہے۔ ممکن ہے کہ ایک دو ہزار زیادہ ہوں ۔ صوبے کے حالات پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ سندھ میں پندرہ سولہ ہزار سے زائد ایسے ادارے ہونگے۔ جن میں سے کئی بغیر رجسٹریشن کے کام کر رہے ہیں جو کہ عمومی حالات میں بھی ضروری ہوتی ہے۔ تاحال سندھ حکومت دوسرے صوبوں کی طرح یہ اعدادو شمار جمع نہیں کر پائی ہے کہ ان کے صوبے میں کتنے مدارس ہیں۔
دراصل نیشنل ایکشن پلان کے دو چار ہی نکات پر کام ہوسکا ہے۔ باقی وہ نکات جو اس تمام قصے کا باعث بنتے ہیں سیاسی خواہ نظریاتی نعرہ یا ذہنیت اور سوچ بناتے ہیں ، اس طرف توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس پلان میں وہ نکات شامل ہیں جس کے تحت انتہا پسندی سے متعلق لٹریچر، کی اشاعت، فروخت اور تقسیم پر پابندی، دوسرے نام سے کام کرنے والی تنظیموں اور، نفرت آمیز تقاریر، وال چاکنگ کو روکنا ، مدارس کی رجسٹریشن اور ان کا تفصیلی سروے جس میں مدارس کے مہتممین، اساتذہ، اور طلبہ کے بارے میں معلومات شامل ہے۔ یہ بھی شامل ہے کہ جو لوگ ماضی میں کسی شدت پسند کارروائی میں کسی طرح سے تعلق رہا ہو، ان کو شیڈیول چہارم میں شامل کرنا بھی شامل تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ایسے افراد پر نظر رکھی جائے۔
سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے جو یہ دکھاوا دے رہی ہے کہ اس نے مدارس کی رجسٹریشن سروے اور نشاندہی کے بارے میں بہت سا کام کر لای ہے۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے حالیہ بلدیاتی انتخابات کے دوران بعض ایسی تنظیموں سے انتخابی اتحاد کای تھا جو ماضی میں کلعدم قرار دی گئی تھیں، لیکن اب دوسرے نام سے کام کر رہی ہیں۔ یہ خبریں جب میڈیا میں آئیں تو پارٹی نے یہ موقف اختیار کیا کہ مقامی سطح پر اگر کہیں ایسا ہوا ہے تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ لیکن تاحل اس ضمن میں کسی کے خلاف پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے کا بھی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے۔
وزیراعلٰی سندھ کو تھر کا قحط اور وہاں ہونے والی اموات نظر ہی نہیں آتی۔ لیکن اچانک مدرسے یاد آگئے۔ یہ اچھی بات ہے کہ اس طرح کے عوامل کو روکا جائے جن کے لئے نیشنل ایکشن پلان میں بھی کہا گیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سائیں کو اس وقت اپنے آبائی ضلع خیرپور اور گرد نواح کے اضلاع کے مدارس یاد نہیں آئے۔ چلو کوئی بات نہیں سائیں کو ترقیاتی منصوبوں، یونیورسٹیاں کھولتے وقت تھر کے بجائے صرف خیرپور ہی یاد رہتا ہے۔ مدارس کے حوالے سے ہی سہی تھر یاد تو آیا۔
حکومت سندھ مدارس کی تعداد اور ان کے سروے کے حوالے سے متضاد بیانات دیتی رہی ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں اینٹی ٹیررام اتھارٹی کو حکومت سندھ نے بتایا تھا کہ وبے میں دس ہزار کے لگ بھگ مدارس ہیں جن میں سے ساڑھے چھ ہزار کی جیو ٹیگنگ geo-tagging کی گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے محل وقع کی نشاندہی کردی گئی ہے جس کے ذریعے ان کی مانیٹرنگ کی جاسکے گی۔ صوبای حکومت نے کہا تھا کہ باقی کام آئندہ دو ہفتوں میں مکمل کردیا جائے گا۔ اس بات کو تقریبا چار ماہ ہو چکے ہیں۔ لیکن ابھی بھی یہ موقف سمانے آرہا ہے کہ کچھ کام باقی ہے۔ صوبے میں 40 سے زائد مدارس کے بارے میں تفصیلات اور ظبوت جمع کر لئے گئے تھے کہ ان کا کسی طرح سے دہشتگردی سے تعلق ہے۔ لیکن ان میں سے کسی کے خلاف بھی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہی معاملہ ان مدارس کی فنڈنگ کے حوالے سے بھی ہے۔
پنجاب میں تیرہ ہزار مدارس کی جیو ٹیگنگ کی گئی ہے۔ لیکن یہ نہیں معلوم کہ ملک کے اس بڑے صوبے میں کل کتنے مدارس ہیں اور جن کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے ان کی تعداد کیا ہے؟ حکومتی دعوے کے مطابق بلوچستان میں یہ کام مکمل ہو چکا ہے۔ جبکہ خیبر پختونخوا میں تین ہزار مدارس کی جیو ٹیگنگ کی گئی ہے۔ اس صوبے میں ڈیڑھ سو مدارس کو حساس قرار دیا گیا تھا۔صوبائی حکومت خاموش ہے کہ اس ضمن میں مزید کیا کارروائی کی گئی؟
نیشنل ایکشن پلان سے ہٹ کر بات کی جائے، پتہ چلتا ہے کہ سندھ میں دوسرے صوبوں کی طرح مدارس کی رجسٹریشن کا قانون موجود ہے لیکن اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ سندھ حکومت خود اعتراف کرتی ہے کہ گیارہ سو سے زائد مدارس بغیر رجسٹریشن کے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تعداد اس سے زیادہ ہو۔
جب عسکری حلقوں اور میڈیا کے ایک حصے کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے اکثر نکات پر عمل درآمد نہ ہونے کی بات نکلی تو پتہ چلا کہ اس میں اکثر چیزوں ک اتعلق وفاقی حکومت سے ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لئے وزیر اعظم کو ہی ذمہ دار قرار دیا جارہا تھا۔ لیکن وزیراعظم نے فوری طور پر اس کے لئے صوبائی حکومتوں کو مورد الزام ٹہریا۔ حالنکہ وفاقی حکومت کو ہی ایک مربوط اور مضبوط پالیس وضح کرنی تھی۔
مذہبی تعلیم سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ ملک کے سرکاری خواہ نجی اسکولوں میں پہلی جماعت سے لیکر یونورسٹی سطح تک لازمی مضمون کے طور پر یہ تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی اسلامیات یا مذہبی تعلیم میں اسپیشلائزیشن کرنا چاہے تو وہ ایم فل یا پی ایچ ڈی بھی کر سکتا ہے۔ ان اداروں سے ہٹ کر اگر کوئی صرف دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لئے مدارس ہیں۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ان مدارس میں بھی یسی تعلیم ی جانی چاہئے جس کا مذہبی یا روحانی عنصر کے علاوہ بھی کوئی صرف یا افادہ ہو۔ جس طرح سے کسی بھی تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اس طالب علم کو واپس معاشرے میں آنا ہے اور یہاں پر اپنی معاشرتی زندگی شروع کرنی ہے۔
پاکستان ایک ملک ہے جس میں آئین اور قانون موجود ہے جس کی روءسے جو بھی کام ہونا ہے اس کی ریاست اور عوام کو آگاہی ضروری ہے۔ اگر مدارس کی رجسٹریشن ہوتی ہے جس میں یہ معلومات بھی آتی ہے کہ کتنے اور کون کون یہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یہ نیک کام
کون کون کر رہے ہیں ان کی پذیرائی ہونی چاہئے۔ یہ خوشی کی بات ہوگی کہ ہمیں پتہ چلے کہ ہم مذہبی حوالے سے اچھے عالم فاضل پیدا کر رہے ہیں۔ لیکن حالات اور واقعات نے کچھ اور بتایا۔ جس کی گواہی ریاستی اداروں نے بھی دی، کہ بعض مدارس میں اصل مذہبی تعلیم یا مذہبی عالم پیدا کرنے کے بجائے کچھ اور ہو رہا تھا۔ اسی بنیاد پر نیشنل ایکشن پلان بنا۔
حکومت خواہ مجموعی طور پر معاشرے کو اور خصوصا اہل فکر ونظر جس میں روشن خیال مذہبی علماءبھی شامل ہیں وہ اپنا کردار ادا کریں۔